Stories


ساس میری سہیلی از سیما ناز

نہیں امی نہیں میں پلین سے نہیں جانا چاہتی " میں ٹرین سے سفر کرنا چاہتی ہوں میں نے منہ بسورتے ہوے امی کو بتایا جب انہوں نے کہا کہ تم ٹرین سے نہیں پلین سے کراچی جاؤ ؛ مگر کیوں , نوشی تم کو معلوم ہے ٹرین میں سفر کرنا آسان نہیں ہوتا اور پھر ١٨ گھنٹے اور وہ بھی تنہا اور کیا گارنٹی ہے کہ ٹرین ٹائم پر پہنچاۓ گی . ١٨ گھنٹوں کے ٢٨ گھنٹے نہ ہونگے ؛ امی مجھے کنونس کرتے ہوے بولیں . امی یہ میری دیرینہ خواہش ہے . ٹرین میں تنہا ایک لمبا سفر کرنا آپ اسے میری فنٹیسی سمجھ لیں پلیز آپ نہ مت کریں اور ابو کو بھی آپ نے ہی منانا ہوگا میں نے امی سے منت کرتے ہو کہا . ٹھیک ہے تم اپنی ضد نہ چھوڑو گی تو یہ بھی سن لو تمہارے ابو تمھیں اکیلا تو نہ جانے دینگے . انہوں نے کہا ہے کہ تمھیں بتا دوں کہ بائی ایئر نہ جاؤگی تو وہ ٹرین میں تمہارے ساتھ جا کر تمھیں اپنے سسرال چھوڑ کر آئیں گے . امی نے میری فنٹیسی کی ایسی کی تیسی کرتے ہوے بتایا . میں اپنے کو کچھ ٹائم دینا چاہتی ہوں خود اپنے ساتھ کچھ وقت رہنا چاہتی ہوں . یہ ایک المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ہم اپنوں پرایوں غیروں بیگاونوں سب سے ملتے پھرتے ہیں مگر ہم خود آپنے آپ کو نہ ٹائم دیتے ہیں نہ کبھی ملتے ہیں نہ جانے کیوں میں خود اپنے آپ کے لئے اداسی فیل کر رہی تھی . چونکہ کراچی تو میں نے جانا ہی تھا تو کیوں نہ ٹرین پر ہی کراچی تک جاؤں اور 16- ١٨ گھنٹے اپنے ساتھ گزاروں . اسی لئے میں چاہتی تھی کہ ٹرین سلیپر میں جاؤں اور تنہا اپنے آپ سے ملوں - مگر مرے والدین بھی دوسرے والدین کی طرح وہم و گمان میں مبتلا رہتے ہیں ان کو اپنی اولاد کا زیادہ فکر رہتا ہے چاہے اولاد شادی شدہ ہی کیوں نہ ہو؛ کیونکہ میں اپنے ابو جانی کو اچھی طرح جانتی ہوں اس لئے مجھے ہار ماننا پڑی اور میں نے یہی بہتر سمجھا کہ گر ابو ساتھ جانا چاہیں تو بھی پلین سے میں نہیں جاؤنگی . میری شادی سکھر سندھ کے مضافات میں ٣ ماہ پہلے ہوئی تھی -٢ ماہ وہاں قیام کے بعد ایک ماہ پہلے میرے خاوند مجھے اپنے میکے میں چھوڑ گئے تھے . ہم لوگ پنجاب میں چکوال کے پاس ایک گاؤں میں رہتے ہیں اور میرے سسرال سندھ میں ہیں . میرے خاوند سردار ارمان حیات کے والد سردار کامران حیات اور میرے والد ملک نوازش علی آرمی آفیسر تھے اور دونوں میں اچھی دوستی ہو گئی میں اور ارمان نے ایک ٢ سال کے وقفہ کے ساتھ جنم لیا دودستی کو رشتہ داری میں بدلنے کے لئے انہوں نے ہم دونوں کی منگنی کر دی . جس کا مجھے علم نہیں تھا نہ ہی گھر میں کبھی اسکا ذکر ہوا . میں شروع ہی سے بیباک اور آزاد خیال و سوچ رکھتی تھی . میں ریٹای ڈ آرمی آفیسر کے گھر کے ڈسپلن سے تنگ تھی اور کالج جا کر میں باغی ہو گئی اور اپنی من مانی کرنے لگی- میں بے باک ہونے کے ساتھ ساتھ حسن و شباب میں بھی کم نہ تھی . کالج میں میرا شمار خوبصورت لڑکیوں میں ہوتا تھا اور دبے الفاظ میں مجھے سیکسی بھی کہا جاتا تھا . میں ہر کسی کے ساتھ فری نہیں ہوتی مگر مغرور نہیں ہوں حسین ہوں اور حسن پرست ہوں مجھے ادب سے بھی لگاؤ ہے اور شعر و شاعری سے بھی دلچسپی ہے . کالج کی بزم ادب میں اور دوسرے فنکشنز میں حصہ لینے کی بدولت میں جلد ہی اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہو گئی . میری شوخ طبیعت اور فطری دوستانہ رویے نے کئی لڑکوں کو غلط فہمی میں ڈال دیا - ہر کوئی مجھے اپنی دوست سمجھتا یا بنانا چاہتا مگر میں عاطف جو کہ سینئر سٹوڈنٹ تھا کی چاہت کا شکار ہو گئی اس کھلنڈرے سے خوبصورت نوجوان کو میں خوابوں کا شہزادہ بنا بیٹھی اور عاطف بھی میری طرف مائل اور میرا سائل نکلا . ہم میں دوستی ہوئی جو کہ محبّت میں تبدیل ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے کالج میں نوشی ملک اور عاطف کی کہانیاں آئے روز کا ٹاپک بن گئیں - عاطف لاہور کا رھنے والا تھا جب کہ ہم راولپنڈی کلج میں زیر تعلیم تھے ایک بار وہ مجھے اپنے والدین سے ملوانے لاہور لے گیا اور اس کے والدین کا برتاؤ بہت حوصلہ افزا تھا - اور میں اپنے آپ کو اس گھر کی بہو سمجھنے لگی - لاہور جانے سے پہلے عاطف نے کئی بار تنہائ میں کچھ زیادہ بے تکلف ہونے کی کوشش کی مگر میں نے ہمیشہ اسکی حوصلہ شکنی کی تھی ہمیشہ ایک حد تک ہی اس کا ساتھ دیتی ؛ بوس و کنار لپٹنا لپٹانا تک ہی ہم رہتے وہ بھی اس لئے کہ یہ سب مجھے اچھا لگتا مگر اس کے والدین سے مل کر لاہور سے واپسی پر میں محتاط نہ رہ سکی اور ہم لذت و مزے کی لکیر کراس کر بیٹھے فورتھ ایئر سمر میں جب گھر اپنے پنڈ گئی تو امی نے بتایا گریجویشن کے بعد تمہاری شادی قرار پائی ہے - اس لئے محنت کرنا تاکہ کامیاب ہو جاؤ کیونکہ تمہارے ابو جلد سے جلد تمہارے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں . - امی نے جب میری منگنی کا بتایا تو میرا سانس اوپر کا اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا . میں نے امی کو صاف صاف بتا دیا کہ میں شادی عاطف سے کرونگی ورنہ مر جانا پسند کرونگی . ارمان حیات کو نہ میں جانتی ہوں نہ ہی میں اس سے شادی کر سکتی ہوں کیونکہ میں عاطف کو پسند کرتی ہوں . امی نے سمجھانے کی کوشش کی مگر میں بھی اپنے باپ کی اولاد تھی یہ کیسے ممکن تھا کہ میں اپنے پیار کو صرف اس لئے کھو دوں کہ میرے والد نے ٢٠ سال پہلے اپنے دوست سے کوئی وعدہ کیا تھا . امی نے میرا دو ٹوک فیصلہ جاننے بعد بولا دیکھو ابھی کچھ کہنے کی ضرورت نہیں میں کوشش کرونگی کہ تمہارے والد کو سمجھا سکوں . مگر زیادہ پر امید نہ رہنا - میں سمر میں عاطف کے اپنے گاؤں میں آنے کی منتظر تھی کیونکہ عاطف نے بولا تھا کہ وہ اپنی امی کے ساتھ ہمارے گاؤں سیر کرنے آئیگا اور کچھ دن رہیگا . وہ علاقے کے مشھور مقامات کلر کہار کٹاس ٹمپل ؛ چوا سیدن شاہ ؛ دھربی ڈیم وغیرہ مگر عاطف نے پورے سمر کوئی رابطہ ہی نہ کیا . کالج کھلنے پر سب طالبعلم کالج میں آ گئے نیا سمسٹر سٹارٹ ہو گیا - مگر عاطف نہ آے یہ عاطف کا لاسٹ سمسٹر تھا - مگر اسکی کوئی خبر نہی کہ کس حال میں ہے کہاں ہے ؛ کسی کو بھی اس بارے کوئی علم نہ تھا میں کافی پریشان ہوئی اسکی خیر و عافیت کے متعلق میرے وہم و گمان پریشان کرنے لگے میں نے نیکسٹ ویکینڈ میں لاہور جانے کا پروگرام بنایا اور ٢ راز دار سہیلیوں کے ساتھ عاطف کے گھر لاہور گئی - تو اس کی امی نے بتایا کہ عاطف تو اپنے ماموں کے پاس لندن چلا گیا ہے کیونکہ اس کے ماموں کی بیٹی سے اسکی شادی ہو رہی ہے اس لئے اس کے ماموں نے اسے وہیں بلا لیا ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو سمجھ سکیں اور عاطف وہیں کالج میں ایڈمٹ ہو گیا ہے . . میرے پاؤں کے نیچے سے جیسے کسی نے ذمیں سرکا دی ہو . میری سہیلیوں کو میری اور عاطف کی محبت کا علم تھا وہ مجھے واپس راولپنڈی لے آئیں ؛ میں ایک ٢ روز تک کالج نہ جا سکی میں کافی پریشان تھی مگر عاطف کو میں کوئی الزام بھی نہ دے سکتی تھی کیونکہ ہمارے درمیان شادی کی کوئی بات ہی نہ ہوئی تھی اس نے مجھے نہ کبھی پروپوس کیا تھا نہ کوئی پرامس کیا تھا . بس وہ میرے حسن کی تعریف کرتا میرے انگ انگ پر اپنے ہونٹوں کے نشان ثبت کرتا اور میں مستقبل کے سہانے خواب دیکھتی رہتی . مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا . مجھے افسوس صرف یہ تھا کہ جانے سے پہلے عاطف مل کے تو جاتا یا اک چٹھی لکھ دیتا میرا ایڈریس تو اس کے پاس تھا - صرف اس وجہ سے مجھے عاطف پر غصہ آ جاتا . ورنہ میرے دل میں اب بھی اس کی محبت براجمان تھی . وہ صرف میرا محبوب ہی نہیں تھا بلکہ میرے جسم کی طلب بھی تھا . آہستہ آہستہ میں تعلیم میں دلچسپی لینے لگی اور آخری سمسٹر کے بعد میں اپنے گھر آئ تو میری شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں . نہ میں نے پھر امی سے اس بارے کوئی بات کی نہ امی نے عاطف کے بارے کچھ پوچھا . میں نے اپنے اپ کو حالات کے دھارے کے سپرد کر دیا احساس غم و خوشی سے بے نیاز ہو چکی تھی میری شادی ہوتی ہے یا پھانسی لگتی ہے مجھے کوئی فرق نہیں پڑنے والا اس سوچ کے ساتھ میں خاموش رہی . ٢٩ نومبر کو ارمان حیات کی برات بزریعہ پلین حیدرآباد سے راولپنڈی آئ . ہم نے اسلام آباد میں ان کے لئے انتظام کیا تھا اسی دن نکاح ہوا اور دوسرے دن میں ایک اجنبی کے ساتھ فلایٹ سے حیدرآباد پہنچی وہاں کسی وڈیرے نے برات کے لئے ظہرانہ رکھا تھا وہاں سے گاؤں جو کہ سکھر کے مضافات میں تھا آتے آتے رات کے ١٠ بج گئے . پروگرام کے مطابق ایک میٹنگ رکھی گئی جس میں میرا تعارف اہل خاندان سے کروایا جانا تھا ؛ سب سے پہلے تو میری ساس نے مجھے خوش آمدید کہنے کے لئے اور استقبالیہ جملے کہنے کے لئے لمبی تمہید باندھی اور سب خاندان والوں کو بتایا کہ ارمان کے مرحوم والد سردار کامران اور نوشین ملک کے والد ملک نوازش علی دونوں جگری دوست تھے . ارمان کے ابو اسکی پیدایش سے بہت پہلے ہی ریٹائرمنت لے لی تھی کیونکہ ان کے والد ارمان حیات کا انتقال ہو گیا تھا . مگر نوشین کے والد اور ارمان حیات کے والد کی دوستی میں کوئی فرق نہ آیا , ارمان حیات ہماری شادی سے ١٠ سال بعد پیدا ہوے اس کے ٢ سال بعد نوشین پیدا ہوئی تو دونوں دوستوں نے دوستی کو رشتہ داری میں بدلنے کا فیصلہ کیا - اس فیصلے کا خاندان میں مجھے علم تھا یا پھر نوشین ملک کے والدین جانتے تھے . ہم رابطے میں تو تھے ہی - جب مجھے معلوم ہوا نوشیں بیٹی گریجویٹ ہونے والی ہے تو میں پچھلے سال ان کے ہاں گئی اور بیٹے کی امانت مانگی تو اس طرح میں آج میں اپنے مرحوم سردار کی نظر میں سرخرو ہو گئی ہوں اور آج میں بہت زیادہ خوش ہوں پہلے میں بیٹے کی ماں تھی آج ایک بیٹی کی ماں بھی بن گئی ہوں . یہ کہتے ہوے وہ میری طرف بڑھیں تو میں اٹھ کر کھڑی ہوگئی اور آگے بڑھ کر ان کے پاؤں چھوئے تو انہوں نے مجھے بازو پکڑ کر سیدھا کیا اور میری پیشانی چوم کر ڈھیر ساری دعائیں دیں اور مجھے پھر ارمان کے پہلو میں صوفہ پر بیٹھا دیا . انکی تقریر سے میری معلومات میں کافی اضافہ ہوا . اس کے بعد ایک ٢ بزرگوں نے تہنیتی الفاظ کے ساتھ موہے خوش آمدید کہا اور پورے خاندان کو شادی کی مبارک دی - اخیر میں میرے خاوند سردار ارمان حیات نے سب کا شکریہ ادا کیا اور اپنی امی کی علاقے اور خاندان کے لئے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور میرے لئے استقبالیہ جملوں کے بعد مجھے مخاطب ہو کر کہا کہ نوشین ملک حقیقت یہی ہے کہ ہم والدین کی خوآہش کی بدولت ایک ہوے ہیں اب اس کو ہمیں نبھانا ہے . میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے خاندان کی اور خصوصاً امی کی عزت اور مقام کا خیال رکھیں . آج سے اپ بھی اسی خاندان کا حصہ ہیں - گر کوئی شکایت ہو تو مجھ سے کہیں . میری طرف سے کوئی قدغن نہیں ہوگی . مگر امی جان کسی بات کو کرنے یا نہ کرنے کا کہیں تو ویسا ہی کرنا ہوگا . آج آپ میری بیوی اور عزت ہو . کل تک ہم ناواقف تھے آپ کون تھیں یا کیا کرتی تھیں اس سے مجھے کوئی غرض نہیں . میں کوئی روایتی وڈیرہ نہیں ہوں اور تعلیم یافتہ اوپن مائینڈ آزاد خیال ہوں . امید ہے ہم دونوں اس گھر خاندان اور علاقہ کو امی جان کے زیر سایہ مزید سنواریں گے - اس کے بعد محفل برخواست ہوئی اور مجھے میری ساس ٢ لڑکیوں کے ہمراہ ایک سجے سجاۓ کمرے میں لے گئیں اور میری پیشانی چوم کر کہا بیٹی آج ہم سب ہی تھک گئے ہیں اس لئے آرام کریں . پرسوں ولیمہ رکھا ہے . یہ کہ کر وہ چلی گئیں مگر میرے ساتھ میری ہم عمر ٢ لڑکیاں رہیں . جن سے مجھے کافی معلومات ملیں کہ میرے سسر علاقے کے بڑے زمیندار تھے مگر وہ بھی ارمان کے بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے اس وقت ارمان حیات ٥ سال کے تھے , اب سردار ارمان حیات علاقے کے سردار ہیں مگر وہ روا یتی وڈیروں سے ہٹ کر ہیں نہ وہ سیاست میں حصہ لیتے ہیں نہ ہی زمینداری میں ان کو کوئی دلچسپی ہے . نہ ہی انکو کچا گوشت کھانے کا شوق ہے وہ بزنس مائینڈ رکھتے ہیں اور پاکستان امارت یورپ ؛ افریقہ میں ان کا بزنس پھیلا ہوا ہے . جس کی بدولت انکو زیادہ تر باہر ہی رہنا پڑتا ہے . اصل میں زمینوں اور علاقے کو ان کی والدہ سردارنی خورشید بیگم سنبھالتی ہے اور علاقے میں ان کا ہی نام چلتا ہے . سردارنی خورشید بہت رعب داب والی خاتون ہیں جوانی ہی میں بیوہ ہو گئیں مگر اپنے اکلوتے بیٹے سردار ارمان حیات کی وجیہ سے دوسری شادی نہ کی اور یہی وجہ ہے کہ سردار ارمان حیات کے رشتہ داروں سے نہ صرف اسکی زمین جایئداد بچ گئی بلکہ سردار ارمان حیات کا وقار بھی قائم رہا . جس کے لئے بیٹا اپنی ماں کا ممنون بھی ہے اور احسان مند بھی اور اپنی ماں کی ہر بات کو حکم کا درجہ دیتا ہے . یہ سب مجھے ان لڑکیوں سے ہی معلوم ہوا جن کے نام زلیخا اور سمیرا ہیں . ورنہ میرے سسرال کے بارے ہمارے گھر میں کبھی کوئی ذکر نہیں کرتا انہی باتوں میں صبح ہوگئی - رات کو دیر سے سونے کی بدولت ناشتہ اور لنچ اکٹھا ہی ہوا انہی باتوں میں صبح ہوگئی - رات کو دیر سے سونے کی بدولت ناشتہ اور لنچ اکٹھا ہی ہوا اتنے میں امی ابو بھی آگۓ جس سے مجھے کافی حوصلہ ملا پھر کافی سے زیادہ ملنے والے آتے جاتے رہے . میری ساس سردارنی خورشید بیگم صاحبہ سب سے میرا تعارف کرواتی رہیں یوں شام ہو گئی - شام کے بعد مجھے پھر دلہن بنایا گیا , آج کی رات سہاگ رات تھی اور میں ڈر رہی تھی . نہ جانے سردار ارمان حیات مجھ میں کچھ نہ پا کر کیا قدم اٹھا بیٹھیں مجھے اپنے والدین کی عزت کا خیال تھا کہ ان سے کوئی ایسی ویسی بات نہ کر بیٹھے . جس طرح ارمان نے کل رات کو باتیں کی تھیں ان سے انکی شخصیت بڑی میچور بردبار اور مہربان ٹائپ کی لگی تھی - اس سے میں حوصلہ میں تھی - مجھے تھوڑی دیر بعد حجلہ عروسی میں لایا گیا - جس کو دیکھ کر میں ششدر رہ گئی . میرے ساتھ رات والی دونوں لڑکیاں کمرے میں رہ گئیں . میری امی اور ساس بھی کمرے سے چلی گئیں تھیں . کمرے کو دیکھ کے مجھے احساس ستانے لگا کاش میں اپنے آپ کو اس آنے والی گھڑی کے لئے بچا کر رکھتی . کاش ( کاش میں میرا جسم میری مرضی ) پر عمل کرنے کی بجاۓ میرا جسم جس کی امانت ہے اس کے حکم کے مطابق حقدار کے لئے بچا رکھتی . مجھے آج احساس ہو رہا تھا جسے میں اپنا سمجھ کر کسی اور کو لطف اندوز ہونے کا موقعہ دیتی رہی وہ کسی کی امانت تھی جس میں خیانت کی میں مرتکب ہوئی جس کا حساب مجھے آج دینا ہے - کاش میں نے آج کے لئے کچھ بچایا ہوتا تو میں غرور اور فخر سے بیٹھی ان گھڑیوں کا انتظار کرتی جن کے آج آنے سے میں خوفزدہ تھی . " مگر اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت " آنے والا وقت مجھے ڈرا رہا تھا اور میں کافی سٹریس میں تھی
 وہ دونو لڑکیاں میرا دل بہلانے کے لئے جوک سناتی ؛ سہاگ رات کے بارے لطیفے سنا رہی تھیں اور خود ہی ہنس رہی تھیں . مگر صرف پھیکی مسکراہٹ ہی دے پاتی - رات کے ١١ بجے دروازہ نوک کیا گیا تو لڑکیاں دروازہ کھول کے باہر نکل گئیں . پھر تھوڑی دیر بعد ایک لڑکی دودھ کا جگ گلاس مٹھائی کا ڈبہ میز پر رکھ کر چلی گئیں . میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں میں سوچنے لگی اس سے پہلے کہ مجھ سے پوچھا جاۓ یہ کیا ہے کاش اس سے پہلے مجھے موت آ جاۓ . میرا دل فیل ہو جاۓ - میں رو ئی تو نہیں میرا دل آنسو بہا رہا تھا - ہر لڑکی کو اس وقت کے لئے اپنے آپ کو بچا کے رکھنا چاہیے مگر جذبات کے ہاتھوں مجبور جھوٹھی تعریفوں کے آگے ہم لڑکیان بے بس ہو جاتی ہیں - سہاگ رات تو دل میں لڈو پھوٹتے ہیں نئی نئی امنگیں جسم میں جاگتی ہیں - مگر یہ ان دلہنوں کے لئے ہوتا ہے جنہوں نے اپنے ارمان پورے کرنے کے لئے اس وقت کا انتظار کیا ہوتا ہے اور اپنے ہونے والوں کی امانت کی حفاظت کی ہوتی ہے - کاش میں بھی ان میں شامل ہوتی تو آج میں اپنے خاوند سردار ارمان کو بڑے فخر سے شادی کا گفٹ دیتی . ان ہی سوچوں میں تھی سردار ارمان نے سلام کہا اور میرے ساتھ مسہری پر بیٹھ گئے . میں نے جب لڑکیاں گئی تھیں گھونگھٹ اتار دیا تھا . ویسے بھی کل رات سردار ارمان مجھے دیکھ چکے تھے اور باتیں بھی کر چکے تھے . میں تھوڑا سکڑ گئی تو انہوں نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور میری ٹھوڑی اٹھا کر حال احوال پوچھنے لگے ان کی مسکراہٹ بہت خوبصرت تھی , میں نے آنکھیں جھکا لیں . وہ بولے . ارے نوشین ملک صاحبہ سب ہی بول رہے تھے دلہن بہت خوبصورت ہے مگر آپ تو ........ اتنا کہہ کر وہ رک سے گئے اور پھر کہنے لگے آپ خوبصورت نہیں چشم بد دور بہت خوبصورت ہو اس کے ساتھ ہی میرے ہاتھ کی پشت پر انہوں نے بوسہ دیا جس کی حرارت مجھے سارے جسم میں محسوس ہوئی . میری پیشانی کو بوسہ دینے کے لئے وہ میرے قریب کھسک آئے اور میرے رخسار چومنے لگے . تمہاری آنکھیں بہت پیاری ہیں یہ کہہ کر میری دونوں آنکھوں پر انہوں نے بوسہ دیا اور انگھوٹے سے میرے نچلے ہونٹ کو کھجانے لگے پھر " بولے آپ اتنی حسین ہونگی کبھی سوچا نہ تھا " کہتے ہوئے انہوں نے اپنے دہکتے لب میرے ہونٹوں پر رکھ دئے ان کی گرم سانسیں میرے چہرے کو چھو رہی تھیں انہوں نے میرے ہونٹوں کو چومنا جاری رکھا اور میرے شانوں پر ہاتھ پھیرنے لگے . میں اپنی ہی سوچ میں تھی ڈر رہی تھی کہ آگے دیکھیں کیا ہوگا . سردار صاحب بہت رومانٹک لگتے تھے آج تو خیر انکی رات تھی ان کا حق بنتا تھا - کاش میں انکا ساتھ دے سکتی مگر میری کم مائیگی اور میرے دل کا چور مجھے آگے بڑھنے سے روک رہا تھا . میرے کانوں کے جھمکوں سے کھیلتے ہوئے انہوں نے میرا دوپٹہ میرے شانوں پر ڈال دیا اور میرے پراندے کو میرے اک ابھار پر ڈال دیا ؛ اور میری گردن کی پشت پکڑ کے میری گردن چومنے لگے مجھے اچھا تو بہت لگ رہا تھا مگر میرے اندر کا چور بے چین کر رہا تھا - میری ٹھوڑی اٹھا کر بولے " میری جان چپ کیوں ہو کوئی بات تو کرو" , میں نے ان کی طرف دیکھا تو انکی آنکھوں میں طلب کا سندیسہ پایا . میں نے شرما کر نظریں جھکا لیں اور ان کا ہاتھ ہاتھ میں لے کر بولی . آپ باتیں کر جو رہے ہیں : میں باتیں کر رہا ہوں , کب کونسی باتیں! جان وہ حیر انگی سے بولے" . تو میں بولی . یہ جو کچھ بھی آپ کر رہے ہیں باتیں ہی تو ہیں " ا وہ تو کیا خیال ہے یونہی بولتا رہوں آپ روکیں گی تو نہیں ". نہیں جی آپ کو میں روکون یہ کیونکر ممکن ہے - بس آپ یونہی باتیں کرتے رہیں " اب وہ مسہری پر پوری طرح بیٹھ گئے اور میرے ہاتھ کو ہاتھ میں لے کر بولے "میری طرف دیکھیں ؛ نوشی جی" میں نے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا تو سٹپٹا کر رہ گئی اف انکی نظروں کی تپش مجھے ریڑھ کی ہڈی تک محسوس ہوئی میں نے نظر وں کو جھکا لیا تو انہوں نے میری ٹھوڑی کو پکڑ کر اوپر اٹھایا اور میرے ہونٹوں کو چوم کر بولے . نوشی جان میری آنکھوں میں دیکھو . انکی آنکھیں مجھ سے کچھ چاہا رہی تھیں ان کی طلب اتنی شدید تھی کہ میں شرما گئی اور اپنے آپ کو انکے بازوؤں میں گرا دیا وہ مجھے اپنے سینہ کے ساتھ لگا کر بھینچنے لگے مجھ پر جھک کر مجھے چومتے چومتے انہوں نے میرا دوپٹہ کھینچ کے الگ کر دیا اور گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دئے اُف ان کے گرم ہونٹ مجھے خوار کرنے پر تلے ہوے تھے . وہ آہستہ آہستہ مجھے زیورات سے آزاد کرنے لگے جو زیور اتارتے اس جگہ کو چومتے پھر دوسرا اتارتے میں یونہی ان سے چمٹی ہوئی لطف اندوز ہوتی رہی انکا پیار کرنے کا انداز اچھا لگا - آہستہ آہستہ انہوں نے سب زیور اتار کر ایک طرف رکھا اور مجھے بولے فریش ہو کرآتا ہوں یہ کہہ کر وہ اٹھے اور اٹیچد باتھروم میں چلے گۓ . میں نے بھی باتھروم میں جانا تھا اس لئے دوپٹہ لے کر بیٹھ گئی وہ واپس آئے تو پاجامہ اور بنیان میں تھے مجھے دیکھ کر وہ سمجھ گئے میں فریش ہونے کے لئے بیٹھی ہوں تو باتھ روم کی طرف اشارہ کر کے بولے آل فار یو مائی سویٹ لیڈی اور میں تھینک یو کہہ کر باتھروم میں داخل ہوگئی . نوشی بانو اب بھگتو ؛ وقت آ پہنچا ہے جب سائیں حساب لیں گے . تو کیا جواب دوگی میں اندر ہی اندر خود سے سوال جواب میں لگی ہوئی تھی . میرے پاس مسئلے کا کوئی حل نہ تھا . جو چیز میں گنوا چکی تھی اسے کہاں سے لے کے آتی - میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ میری کوشش ہوگی نارمل رہوں کوئی اوور اکٹنگ نہ کروں - گر کچھ محسوس ہو تو تکلیف کا اظہار کروں میرا خیال تھا ہو سکتا ہے ارمان کا مال اسباب کچھ زیادہ بڑا ہوا تو ہو سکتا ہے کچھ درد تکلیف کا اظہار کر سکوں ورنہ میں ارمان کو بے وقوف بنانے کے لئے تکلیف یا درد وغیرہ کا تاثر نہ دونگی . باتھروم میں نائیٹی لٹکی ہوئی تھی میں نے پہن لی اور کمرے میں آگئی . سامنے ارمان باہیں پھیلاۓ کھڑے تھے سامنے ارمان باہیں پھیلاۓ کھڑے تھے میں مسکراتی شرماتی ان کے بازوؤں میں جا سمائی ارمان نے مجھے اپنے بازوؤں میں بھینچ لیا اور جھٹ سے مجھے اپنی گود میں اٹھا کر مسہری پر لٹا کر میرے ساتھ ہی خود بھی لیٹ گئے . مجھے اپنی جانب کھینچتے ہوے ارمان نے مجھ پر بوسوں کی بارش کر دی - آس پاس پھول ہی پھول بکھرے پڑے کمرے میں بھینی بھینی خوشبو سے فضا معطر تھی سماں بڑا رومانٹک تھا ارمان کا موڈ ارمان نکالنے کا دکھ رہا تھا میں اپنے انجام سے ڈری سہمی ارمان کا ساتھ دینے کا فریضہ ادا کر رہی تھی . ارمان نے میری نائیٹی کو کھولنا شروع کیا تو میں کسمسائی ارمان مسکرا کے بولے پلیز ؛ میں نے آنکھیں موند لیں میری نائیٹی اتار کے انہوں نے نیچے ڈال دی اب میں ایک باریک سی تھرو شمیض برہ اور پینٹی میں ارمان کی دسترس میں تھی . ارمان کی نظریں میرے سراپے پر اٹک کر رہ گئیں . میں نے انکی نظروں کو پڑھنے کی کوشش کی تو مجھے ان کی نظروں میں اپنے لئے چاہت پسندیدگی نظر آئی . ارمان مجھ پر جھکے اور میرے لبوں پر بوسے دینے لگے ان کے ہاتھ اب میرے جسم کو چھیڑنے لگے تھے اور میرے لب کو اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنے لگے ان کا ایک ہاتھ مری گردن پر اپنی انگلیوں سے کھجاتا میرے ابھاروں کو چھونے لگا اور ہولے ہولے انہیں دبانے لگا وہ کبھی میرے ایک ابھار کو دباتے تو کبھی دوسرے کو پھر انکا ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے سرکنے لگا انہوں نے مری شمیض کو اوپر میرے پیٹ کی جانب اٹھانا شروع کیا تو میں نے اپنے بٹس اوپر اٹھاۓ تو قمیض اوپر کھنچ گئی اور ارمان میری ناف کو چومنے لگے وہ ناف کے ارد گرد میری بیلی پیٹ کو چومتے اور پھر اپنی زبان سے میری ناف کو کھجانا شروع کر دیتے مجھے یہ سب کچھ بہت اچھا لگ رہا تھا ؛ انکا ایک ہاتھ میرے مموں سے کھیل رہا تھا - انہوں نے میری ناف سے اوپر چومنا شروع کیا اور پھر شمیض اوپر کی جانب اٹھائی تو میں نے شمیض کو اپنے شانے اور تھوڑا سا سر اٹھا کر کھینچ کے اتار دیا میں اب صرف برہ اور پینٹی میں تھی . ارمان کی نظریں اپنے بووبز پر جمے دیکھ کر میں شرما گئی اور ان سے چمٹ گئی اس طرح انکو میری برہ اتارنے کا جواز مل گیا . وہ میرے مموں کو دیکھ رہے تھے اور ان کے ہونٹ انہیں چومنے کے لئے لرز رہے تھے . انہوں میرے ایک نپل کو چوما پھر دوسرے کو چوم کر اسے چوسنے لگے ان کا دوسرا ہاتھ میرے دوسرے ممے کو مسلنے لگا وہ کبھی ایک مما دباتے کبھی دوسرا انہیں چومتے چاٹتے . میں بے خود ہونے لگی مجھے بہت مزہ آ رہا تھا ان کا ہاتھ اب نیچے سرکنے لگا اور میری پینٹی کے اوپر ٹانگوں کے سنگم میں مساج کرنے لگا . میں نے ان سے سرگوشی کی کہ لائٹ آف کر دیں پلیز مجھے شرم آ رہی ہے ؛ ارمان فوراً اٹھے اور لائٹ آف کر دی واپس بیڈ پر آئے تو وہ اپنے پاجامے اور بنیان سے آزاد تھے کمرے میں کھڑکیوں کی درزوں سے آتی روشنی نے مکمل اندھیرا نہیں ہونے دیا تھا . ارمان آئے تو مجھے چومنے لگے میرے ہونٹوں کو چوستے انکا ایک ہاتھ میری پینٹی کے اندر گیا تو مجھے ایک جھٹکا سا لگا تو ارمان ہنس دئے ؛ پوچھنے لگے نوشی جان کیا ہوا ؛ میں خاموش رہی تو اپنے ہاتھ سے میری پینٹی کو نیچے کی طرف کرنے لگے جبکہ ان کے ہونٹ میرے ہونٹوں کو چوسنے میں مگن تھے , میں نے انکی مدد کی اور پینٹی کو کھینچ کر پاؤں کی مدد سے اتار پھینکا ان کا ہاتھ میری چوت پر گیا میں بے خودی سے ان سے چمٹ گئی انکی چھاتی کے بال میرے بووبز کو لگے تو مجھے بہت مزیدار جلول سی ہونے لگی میں اور شدت سے ارمان کے سینہ سے لپٹ گئی ان کا لن میری ران سے ٹکرا رہا تھا میں چاہ رہی تھی کہ اسے ہاتھ لگا کے دیکھوں انہوں نے شاید میری مراد جان لی تھی انہوں نے دھیرے سے میرے ہاتھ میں اپنا لن پکڑا دیا میری خواہیش کے برعکس وہ نارمل سا تھا میں چاہتی تھی کہ گر بڑا تگڑا اور موٹا ہوا تو میرا بھرم رہ جائیگا اسکی ٹوپی بھی اتنی موٹی نہ تھی کہ اندر لیتے کوئی تکلیف ہوتی ؛ میرے ارمانوں پر اوس پڑ گئی مگر کیا ہوسکتا تھا یہی میرا نصیب تھا . میری اس وقت ایک ہی خواہیش تھی کہ یہ وقت گزر جاۓ اور کسی طرح میرا بھرم رہ جاۓ . ارمان کی انگلیاں میری چوت سے چھیڑ جاری رکھی ہوئی تھیں شاید ارمان کو نازک اور مُلائم سی گڑیا کچھ زیادہ ہی اچھی لگی تھی تبھی تو جب سے اسے چھوا اس کے بعد ایک ہاتھ مسلسل اس پر ٹکا ہوا تھا کبھی اسکی مساج کرتا کبھی اس کی انگلیاں اس لکیر کو تھپتھپاتیں اس کا ایک ہاتھ میرے مموں کو مسل رہا تھا اور اسکے ہونٹ میری گردن گالوں ہونٹوں اور آنکھوں کو چومنے میں لگے ہوئے تھے اس کے والہانہ پیار کرنے کے انداز نے میری رہی سہی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا کیونکہ میں چاہتی تھی میں گیلی نہ ہوں تو کچھ بچت ہو سکتی ہے مگر اس کے ہاتھوں اور ہونٹوں نے مجھے صرف گیلا ہی نہ کیا بلکہ مجھے ایسا لگنے لگا جیسے میں ٹپکنے لگی ہوں - ارمان نے میرا ہاتھ پکڑ کے دوبارہ اپنے لن پر رکھ دیا . اسس بار میں نے لن کو ہاتھ میں لے کر ہولے دبایا تو ارمان کے منہ سے لذت بھری اف سی نکلی میں لن کو ہولے ہولے دباتی اس کی ٹوپی کو انگھوٹھے مسلنے لگی لیس دار مادہ میرے انگھوٹے سے چپک سا گیا میں نے انگھو ٹھے اور ساتھ والی انگلی سے اسے پونچھ ڈالا . اندھیرا ہونے کی وجہ سے لن کا رنگ تو نظر آیا مگر اسکی گرمی اور سختی سے ظاھر ہوتا کہ لن انگارے کی طرح سرخ ہو گا . چھوٹا تو تھا پر کھوٹا نہیں لگتا تھا . ارمان پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے انہوں نے مجھے اپنے سینہ سے لگا کر بھینچا اور میرے ہونٹوں کو چومنے کو ان کا لن میری رانوں میں جا ٹکا میرے چوت کے دانے سے مستی کرنے لگا ابھی تک میں نے ارمان کو خود سے نہ چوما تھا مگر لن جا چوت کے دانے سے ٹکڑایا تو مجھے مدہوش کر گیا میں بے اختیار ارمان کے بوسوں کا جواب دینے لگی . ارمان کے ہاتھ میری گانڈ کے ابھاروں پر پھر رہے تھے بہت محسووس ہو رہا تھا ارمان نے سر اٹھایا میرے آنکھوں میں دیکھتے ہو ئے شرارت سے مسکراۓ میں نے انکا پیغام دیکھ کر شرماتے ہوئے آنکھیں موند لیں انہوں نے میری پیشانی پر اپنے جلتے ہوے لبوں سے پیار کی ُمہر ثبت کی اور میری آنکھوں پر بوسے دیتے رخساروں کو گلنار کرنے لگے ان کا ایک ھاتھ میری چوت کے دانے کو مسلنے لگا میرا بدن مچلنے لگا وہ میری گردن کو چومتے ہوئے میرے مموں کو چومتے اور دباتے میری ناف کی جانب بوسے دیتے بڑھے پھر اپنی زبان کو میری ناف کے اندر گھمانے کے ساتھ چومنا شروع کر دیا . اب تک میں یہ نوٹ کیا تھا شاید ناف میں ارمان کو زیادہ دلچسپی ہے یا ناف ان کی کمزوری ہے - وہ ناف میں انگلی ڈالتے پھر پیار کرتے . ان کا دوسرا ہاتھ جو میری چوت کے دانے سے کھیل رہا تھا اب چوت کی لکیر سے کھیلنے لگا ارمان میری ناف کو چوم رہا تھا اب ساتھ ساتھ میری چوت کی لکیر کو دبانے لگا چوت کی لکیر تو کب سے رس رہی تھی اس کی انگلی اندر دھنس گئی ؛ ارمان نے آہستہ آہستہ انگلی کو چوت میں ڈال دیا اور آگے پپچھے کرنے جس سے میں بے قابو ہو کر مچلنے لگی میری برداشت کی قوت جواب دینے لگی . ارمان میں کافی صبر دکھتا تھا ابھی تک اس نے کوئی جلدی نہ دکھائی تھی - جس نے میری حالت پتلی کر دی تھی اب میں چاہتی تھی جو کچھ ہونا ہے جلد ہو جو آگ میرے بدن اور تن من لگ چکی تھی وہ جلدی سے کسی طرح ٹھنڈی ہو جاۓ ارمان اٹھ کر بیٹھے اور ساتھ ٹیبل پر رکھے دودھ سے بھرے جگ سے ایک گلاس میں دودھ ڈال کر مجھے دیا . میں نے کہا اپ لیں تو بولے نہیں آپ لو . اس طرح آپ حوصلہ میں رہین گی ., میں سمجھ گئی کہ ارمان کا خیال ہے کہ پہلی بار چدائی میں عورت کو درد ہوتا ہے اس لئے دودھ میرے لئے اچھا رہے گا - ہمارے معاشرے میں مختلف طرح کی سوچ اور خیالات ہیں سہاگ رات کے لئے . ارمان نے میرے سر کے نیچے سے ہاتھ ڈال کے مجھے اوپر اٹھا یا اور دودھ میرے منہ سے لگا دیا میں نے تھوڑا سا پیا مگر انہوں نے تھوڑا اور لینے کو کہا میں نے آدھا گلاس پیا اور گلاس ان کے ہاتھ سے لے کر ان کے منہ سے لگا دیا جو کہ ارمان نے بڑے شوق پی لیا . انہوں نے گلاس میز پر رکھا مجھے گلے سے لگا کر چومنے لگے اب وہ اپنے اپ کو روکنے سے قاصر لگ رہے تھے میں لیٹ گئی اور وہ میرے اوپر ہی آ گئے . بولے نوشی جان کیا خیال ہے اب کریں ؟. میں انجان بنتے ہوئے بولی کیا ؟ تو مسکرا کے بولے " وہی جو میاں بیوی کرتے ہیں " تو میں نے کہا کہ جب ہم میاں بیوی ہیں اس میں حرج ہی کیا ہے اور یہ کہہ کر میں نے اپنا بازو اپنی آنکھوں پر رکھ دیا . وہ مجھ پر لیٹے تھے مگر انہوں نے مجھ پر اپنا وزن نہیں ڈالا ہوا تھا . میرا بازو آنکھوں پر سے اٹھاتے ہوئے بولے " نوشی جان ؛ گھبرانا نہیں مجھے بتا دینا میں جب رک جاونگا میں نہیں چاہتا تم درد برداشت کرتی رہو ؛ اس کے ساتھ مجھے چومنے لگے . میں نے کہا میں نے سہیلیوں سے سنا ہے درد تھوڑی دیر ہی ہوتا ہے اور اتنا زیادہ بھی نہیں ہوتا اس لئے میں اپ کو نہیں روکوں گی یہ کہتے ہوئے میں نے انہیں جپھی ڈال کر انہیں چومنے لگی
 اس لئے میں اپ کو نہیں روکوں گی یہ کہتے ہوئے میں نے انہیں جپھی ڈال کر انہیں چومنے لگی ان کا لن میری رانوں میں ہی تھا انہوں نے میری ٹانگوں کو کھولا اور ان کے درمیان بیٹھ گئے . اور لن میری پھدی پر رکھ دیا مجھے یقین سا ہو گیا گرچہ وہ یورپ تک ہو آے ہیں مگر ابھی تک وہ اناڑی ہیں ممکن ہے پہلی بار کرنے لگے ہیں . وہ نروس سے لگ رہے تھے ؛ ان کے دل کی دھڑکن سنائی رہی تھی ان کی سانسیں الجھی ہوئی اور بے ترتیب تھیں . ان کا لن چوت کے دھانے پر تھا مگر وہ اسے اندر نہ کر پا رہے تھے - میں تھوڑا سا اوپر دباؤ ڈال کے لن اندر لے سکتی تھی ؛ میں نے اسے مناسب نہ سمجھا گرچہ میری چوت اسے اندر لینے کو بے تاب تھی - مگر میں کوئی ایسی حرکت کر کے اپنے لئے مزید مشکلات کھڑا کرنا نہ چاہتی تھی . وہ میرے ہونٹوں کو چبا رہے تھے اور میرے بازو ان کے شانوں پر تھے انہوں نے اٹھ کر اپنے لن کو ہاتھ میں لیا اور چوت پر پھسلانے لگے چوت کی رس نے لن کو بھی گیلا کر دیا انہوں نے لن کو چوت ا منہ رکھ کر دبایا تو لن کی ٹوپی اندر ہو گئی میں نروس سی ہو گئی انہوں نے میری جانب دیکھا تو مجھے گھبرایا ہوا پا کر لن چوت سے باہر نکال لئے اور مجھ پر جھک کر مجھے چومنے لگے میں بھی انہیں چومنے لگی لن اب بھی چوت پر ہی دھرا تھا انہوں نے یہ سمجھا تھا کہ میں اس لئے گھبر گئی تھی ٹوپی کے اندر جانے سے مجھے درد ہوا تھا .. مجھے خوشی کا احساس ہوا کہ مجھے اتنا کئیرنگ خاوند ملا ہے مگر اس احساس نے میری خوشی ملیا میٹ کر دی اس بیچارے کو کیسی بیوی ملی - ارمان نے تھوڑی دیر بعد پھر لن کو چوت پر رکھ کر دبایا مگر اس بار بڑے تحمل اور آہستگی سے اور لن کی ٹوپی اندر ہو گئی . میں نے ان کے ناف کے قریب ہاتھ رکھ کر روکا تو رک گئے - تھوڑی دیر بعد انہوں نے ہولے سے اور اندر کر لیا اور میں نے پھر ان کو رکنے کا اشارہ کیا تو انہوں نے لن تھوڑا پیچھے کھینچ لیا اور میرے ممے منہ میں لے کر چوسنے لگے - میری چوت میں لن نے ایک آگ سی لگا دی تھی ؛ کھجلی اسکی شدید رگڑ کی متمنی تھی - مگر میں بے بس تھی . ارمان بہت محتاط لگ رہے تھے . اور میں اسے اپنے حق میں بہتر سمجھ رہی تھی . اسی طرح وہ تھوڑا آگے کرتے اور میں انکی ناف کے پاس ہاتھ رکھ کے ان کو رکنے کا اشارہ دیتی اور رک جاتے . ان کا لن ٥ ساڑھے ٥ انچ کا ہی تو تھا کتنی دیر لگنا تھی . آخر کار پورا لن اندر کرنے میں وہ کامیاب ہو گئے اور مجھے چومنے لگے - میں انہیں چومنے لگی انہوں نے لن کو ہلانا چاہا تو میں نے سرگوشی کی تھوڑی دیر رک جایئں . وہ مسکراتے ہوے مجھے چومنے لگے وہ کبھی میرے ہونٹ چوستے کبھی میرے مموں کو ہاتھ میں لے کر نیپلز چوستے . تھری دیر کے بعد میں نے محسوس کیا مجھے لن کی ہلچل کی شدید ضرورت ہے کیونکہ چوت کی کھجلی نے مجھے خوار کر رکھا تھا میں نے ارمان کے بٹس گانڈ کو تھوڑا سا اپنے ہاتھوں سے دبایا تو ارمان نے لن کو ہولے ہولے پیچھے کھینچا لن کی ٹوپی جب رہ گئی تو میں نے پھر ہاتھوں سے ارمان کی گانڈ کو اپنی طرف کینچھا تو ارمان وہیں رک گئے اور پھر لن آہستہ آہستہ آگے کرنے لگے پھر تھوڑا رک کر ارمان نے لن کو ریورس کیا اور چوت کے دھانے پر آ روکا . مجھے مزہ تو آ رہا تھا مگر اب مجھے اچھے گہرے اور زور کے دھکوں کی ضرورت تھی میں چاہتی تھی ارمان کا لن میری چوت کو چیرتا پھاڑتا رگڑتا ہوا تیزی سے آگے پیچھے ہو کر چوت کو کھجآئے کیونکہ میری اب بس ہونے والی تھی . میں نے ارمان کی کمر کے گرد اپنی ٹانگیں جکڑ لیں اور اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اسے دیکھتے ہوے مسکرا دی . یہ ارمان کو بتانے کی کوشش تھی کہ درد کا دور گزر گیا اب کچھ کر گزر . ارمان نے بڑی تیزی لن کو اندر کیا اور پیچھے ہٹا تو میں نے اسکی کمر پر اپنی ٹانگوں سے دباؤ ڈالا . تو اس نے بڑی تیزی سے اگے دھکا لگا دیا یہ پہلا دھکا تھا جس نے میرے مزے کو دوبالا کر دیا میں چاہتی تھی ایسے چند ایک دھکے اور لگیں تو مجھے منزل پر پہنچا دیں گے . میں ارمان کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی جب بھی وہ دھکا لگا کر پیچھے جاتا تو میری ٹانگیں اس پر اگے دھکا لگانے کے دباؤ ڈالتین . اب ارمان نے چدائی سیکھ لی تھی اس لئے اس کے دھکے اور جھٹکے مجھے مزہ دینے لگے - ان کی سانسوں کی بے ترتیبی سے معلوم ہونے لگا کہ اب وہ آنے والے ہیں میں بھی قریب ہی تھی ان کے آنے کا سوچ کر میں بھی فارغ ہو گئی میری لذت بھری آوازوں نے ارمان کو مست کر دیا جس کی وجہ سے ان کی سپیڈ کافی سے زیادہ تیز ہو گئی آخر انہوں نے چند ایک جاندار جھٹکوں کے ساتھ ہتھیار پھینک دئے اور ان کا گرم لاوا میرے اندر گرا اور گرتا ہی گیا اس گرما گرم چھڑکاؤ نے میرے اندر جیسے ٹھنڈ ڈال دی ہو پہلی بار یہ تجرنہ بھی ہوا - عاطف ہمیشہ کنڈوم لگاتے تھے اس لئے پہلی بار اس گرم مواد کا مزہ ہی انوکھا لگا . عاطف پہلے تو مجھے دیکھتے رہے پھر میرے پہلو میں آ گرے انکی سانسیں میرے مموں کو ٹچ کر رہی تھیں اور آنکھیں موندے میں سوچ رہی تھی کہ نہ جانے ارمان میری خیانت جان پاۓ ہیں کہ نہیں . ارمان کے ہاتھ تھوڑی در بعد میرے مموں پر رینگنے لگے میں آنکھیں کھولیں تو ان کو مسکراتے ہوئے اپنی طرف دیکھتے پایا "جان اپ ٹھیک تو ہو ناں انہوں نے مجھ سے بڑے ہمدرد لہجے میں پوچھا " تو مجھے ان پر بے ساختہ پیار آگیا . جی شکریہ " میں نے تشکر آمیز لہجے میں جواب دیا . وہ مجھے گلے سے بھینچ کر پیار کرنے لگے میرے لب گال آنکھیں ٹھوڑی گردن پر بوسوں کی بارش کرتے ہوے انہوں نے پوچھا جان خوش تو ہو ناں " . جی جانی بہت خوش بہت بہت خوش . " اپ اتنے مہربان رہے ؛ ٹن اف تھینکس فار یور کائنڈ نس " میں نے دل کی اتھاہ گہرایوں سے کہا تو بہت خوش ہوئے . مجھے کچھ کچھ تسلی ہونے لگی میں ان سے لپٹ کر اپنے پیار کا اظہار کرنے لگی وہ بھی میرا ساتھ دینے لگے . میرا خیال تھا دوسری بار تھوڑا کھل کر مزہ لونگی میں اٹھی اور ایک کپڑے سے جو بیڈ کی پائنتی پڑا ہوا تھا سے ارمان کا صاف کرنے لگی ان کا پہلی بار دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ گر عاطف کا نہ دیکھا ہوتا تو میرے لئے یہ بھی مونسٹر ہی هوتا . اچھا لگا ناٹ بیڈ ا ٹ آل . ان کا مواد چادر کو گلا کر چکا تھا میں نے اسی کپڑے سے اپنی چوت کو صاف کیا اور نائنٹی کو خود پر لے کر اسے اٹھاۓ باتھ روم گئی اور وہ کپڑا لونڈری کے کپڑوں میں ڈال دیا . پیشاب کر کے باھر نکلی تو الارم ہو رہا تھا ارمان نے اپنے پر چادر لی ہوئی تھی الارم ہوتے ہی وہ اٹھنے لگے تو ان کو اپنے برھنہ ہونے کا احساس ہوا وہ وہیں رک گئے رات کو انہوں نے اپنا پاجامہ نیچے ہی گرا دیا تھا مجھے دیکھ کر انہوں نے پاجامے کی جانب دیکھا تو میں سمجھ گئی اور پاجامہ اٹھا کر ان کو دیا . انہوں نے پاجامہ پکڑتے ہوئے میرا ہاتھ بھی پکڑ لیا اور کھینچ کر اپنے اپ پر گرا دیا میں ان کی گود میں جا پڑی وہ بیٹھ چکے تھے مجھے دیکھ کر انہوں نے میری پیشانی چوم کر کہا یو آر سو سویٹ اور میرا ہونٹ اپنے لبوں میں لے کر چوسنے لگے . میں نے بھی بھرپور ساتھ دیا دھیرے سے اپنی زبان میرے منہ میں ڈال کے میری زبان کو ڈھونڈنے لگے میں انکی زبان کو چوسنے لگی اچانک انہوں نے جھرجھری سی لی اور زبان میرے منہ سے نکال لی مجھے بوسہ دیتے ہوئے بولے اس سے پہلے کہ ہم بہک جایئں . الارم ہو چکا نماز کا ٹائم ہونے والا ہے میں فجر مسجد میں ادا کرتا ہوں یہ کہہ کر مجھے حیران چھوڑ کر وہ باتھ روم میں جا گُھسے - میں 100% تو مطمین نہ تھی پھر بھی مجھے یقین تھا کہ ارمان نے یا تو پردہ بکارت کو اگنور کیا ہے یا وہ سمجھ نہیں سکے یا ممکن ہے ان کو اس کی کوئی پرواہ ہی نہ ہو . بہر حال مجھے کچھ تسلی ہوئی تھی میں قدرت کی شکر گزار ہوئی جس نے پردہ پوشی کی اور میری لاج رکھ لی سوچا کہ ارمان کے مسجد جانے کے بعد میں بھی غسل کر کے سجدہ شکر بجا لاؤنگی . ارمان غسل کر کے نکلے اپنے کپڑوں کی الماری سے کپڑے نکال کے بدل کر مجھے دوسری الماری کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ اس میں آپ کے ڈریس ہونگے اور مجھے لپٹا لیا میں تو اب بہت خوش تھی .. بہت بڑا درد سر جو ختم ہوا تھا . ار ماں بولے آج ولیمہ ہے سارا دن مہمانوں اور دوستوں یاروں میں گزرے گا ار ماں بولے آج ولیمہ ہے سارا دن مہمانوں اور دوستوں یاروں میں گزرے گا دن میں بھی ملاقات تو ہوگی مگر رات کو ہم اکیلے مل سکیں گے - ارمان مسجد سے واپس آئے ان کو اسی روم میں بلا لیا گیا کیونکہ آج کا ناشتہ ہم دونوں کے لئے امی جان نے بنایا تھا . ناشتہ پر ارمان بڑے خوش گوار موڈ میں تھے خوشی ان کی باتوں سے باڈی لینگویج سے عیاں تھی - انکی باتیں کرنے کا انداز اور طبیعت بہت اچھی لگی انکی مسکراہٹ بڑی ظالم اور دل موہ لینے والی تھی .. ولیمہ کے دوران سارے خاندان کی پارٹی میں انکی ملنساری اور دوسروں کی آؤ بھگت کا انداز دل کو بہت بھایا - ولیمہ پارٹی کے درمیان ایک آدمی کا تعارف شیر خان سومرو کہ کر کروایا گیا - ارمان نے مجھے بتایا کہ ان کو اپ میرا گارڈین انکل یا رہبر سمجھیں ان کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی قسم کی کبھی فکر لاحق نہیں ہوئی - وہ چالیس کے پیٹے میں ایک مضبوط کسرتی جسم کا مالک گندمی رنگت کے ساتھ ساتھ بڑی بڑی مونچھوں کے سندھ کا نمایندہ نظر اتا تھا - اس کے چہرے پر اس کی مونچھیں اور سرخ آنکھیں قابل ذکر تھیں اس نے ایک بزرگ کی طرح میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور ارمان سے اجازت لے کر چلا گیا . بعد میں ٢ ماہ میں نوٹ کیا کہ شیر خان ہمارے گھر میں اچھی پوزیشن رکھتا ہے ایک طرح سے زمیندارہ کا انچارج وہی تھا , ڈیرہ داری اسی کے ذمہ ہے . سردارنی اور ارمان کے بعد اسی کی چلتی ہے اسی لئے علاقے میں بھی اس کی مانی جاتی ہے اور اسکی واہ واہ ہے . ولیمہ ہو گیا .

Posted on: 07:25:AM 13-Dec-2020


123 8 3722 3


Total Comments: 3

Asad: 03065864795


Asad: Ager koi girl ya aunty mujh se apni felling share karna chahti hai.ya Good Friendship Love and Romantic Chat Phone sex Ya Real sex karna chahti hai to contact kar sakti hai 0306_5864795


Asad: Ager koi girl ya aunty mujh se apni felling share karna chahti hai.ya Good Friendship Love and Romantic Chat Phone sex Ya Real sex karna chahti hai to contact kar sakti hai 0306_5864795



Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 75 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com