Stories


ساس میری سہیلی از سیما ناز

دوسرے دن میرے ابو اور امی نے ارمان اور سردارنی صاحبہ سے پوچھا کہ نوشین کو ہم کب لینے آئیں تو ارمان ایک لسٹ اٹھا کر لے آے اور ابو کو تھماتے ہوئے بولے " ابو جان مجھے یورپ جانا تھا کچھ دنوں تک مگر میں نہیں جا پاؤں گا . آپ یہ شیڈول دیکھ لیں یہ ایسی دعوتیں ہیں جو بہت ضروری ہیں . ان کو ہم انکار نہیں کر سکے اور یہ کوئی ٣٥ کے قریب ہیں ان کو بھگتاتے ٢ ماہ تو لگ جایئں گے . کیونکہ آخری دعوت پچاسویں دن بنتی ہے - ان دعوتوں میں نوشین کا موجود ہونا لازم ہے یہ ہمارا کلچر ہے مجبوری ہے . سردارنی نے کہا کہ ارمان کی پیدایش کے بعد یہ ہمارے گھر کی پہلی خوشی ہے . جن لوگوں نے ہماری دعوتیں کھائی ہوئی ہیں وہ اب کھلانا چاہتے ہیں . ان کو انکار کرنا نا ممکن تھا , جن کو ہم انکار کر سکتے تھے ان سے معذرت کر چکے ہیں - اس کے بعد ارمان کا پروگرام یہی ہے کہ نوشین کے ساتھ آپ کے ہاں آے اور وہاں سے یورپ چلا جاۓ نوشین ایک ٢ ماہ رہ کر واپس آ جاۓ . امی ابو نے کہا کوئی بات نہیں نوشین کا یہاں رہنا ضروری بنتا ہے - امی ابو دوسری صبح واپس چلے گئے میرے لئے سب کچھ نیا تھا مگر ارمان کا ساتھ اور ساس کی دلجوئی نے میرے لیے کچھ آسان کر دیا . نئی تہذیب رسم و رواج ملنے ملانے والے یہ سب کچھ ہی تو نیا تھا . پہلی رات جن ٢ لڑکیوں نے کمپنی دی تھی وہ گھر کے کام کاج نبٹاتی ہیں ان سے بھی وہاں کے لوگوں کو سمجھنے میں کافی مدد ملی - میری ساس سردارنی کی غیر حاضری میں انکو سردارنی کہا جاتا مگر ان کے سامنے بیگم صاحبہ کہتے تھے سب . بیگم صاحبہ دکھنے میں سردارنی بہت رعب داب والی نظر آتیں مگر انکی طبیعت بڑی نرم ملنسار اور ہمدرد ٹائیپ تھی - غریب پرور ہر ایک کی مدد کرنے کو تیار رہتیں - اسی لئے گھر میں ہر وقت کوئی نہ کوئی سوالی آیا هوتا - ارمان بھی د کھنے میں بڑے رعب داب والی پرسنالٹی ہیں دل کے بہت صاف , نرم اور سادہ مزاج ہیں - ٢ ماہ میں ایک بار بھی غصہ میں انہیں نہیں . دیکھا سیکس میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتے نہ ہی اپنے آپ کو ماچو سمجھتے ہیں - شادی کرنے کے بعد جس طرح نئے جوڑے دن رات لگے رہتے ہیں وہ اس طرح کے نہیں ہیں . ہم لوگ ہر رات ہی سیکس کرتے تھے مگر وہ ہر رات پہلے میری رضا جانتے اور 5- ٧ بار ہم نے 2-٢ بار ایک رات میں کیا اس کے علاوہ صرف ایک بار تک ہی رہتے - دن میں میری ترغیب پر ٣ بار ٢ ماہ میں کیا - ہنی مون کے لئے ٹائم ہی نہیں مل سکا ایک رات ہم نے اپنی ہی زمینوں میں کمپنگ کی تھی - ایک بار سیکس کر کے بھی مجھے پورا مزہ ملتا ارگسم بھی کافی بار ہوا . میں محظوظ ہوتی رہی انکی کمپنی کا لطف ہی الگ تھا میں خوش رہی مگر کسی کمی کا احساس رہتا جیسے کوئی تشنگی پیاس سی ہو یا یہ میرا اپنا احساس جرم مجے ستاتا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں . خیر ٢ ماہ کے قیام بہت مصروفیت میں جلد ہی گزر گیا ارمان کو یورپ جانا تھا انہوں نے مجھے کہا کہ ہم وڈیرے اپنی پہلی اور من باپ کی من پسند بیوی کو اپنے ساتھ پھرانے نہیں لے جاتے اور آؤ میری پہلی بیوی ہو اس لئے میں چاہتے ہوے بھی آپکو ساتھ نہیں لے جاسکتا اس لئے دل میں کوئی خیال نہ رکھیں یہ بھی ہماری تہذیب کا ہی حصہ ہے . ہمارے ہاں پہلی بیوی کی پورا خاندان عزت بھی کرتا ہے اور ووہی اصل مالکن ہوتی ہے امی کے بعد اب آپ ہی اس گھر بار زمین جایئداد کی ملک ہو - میں انکی بات سمجھ گئی تھی اس لئے آمنا و صدقنا کہا - مری ساس نے مجھے کہا جتنا چاہو اپنے میکے رہ لینا یا جب ارمان آئیں تب آجانا ویسے جب بھی دل کرے یہ آپ کا اپنا گھر ہے گھر آجانا - ارمان مجھے میرے میکے چھوڑ گئے وہ ٢ دن اور ایک رات وہاں رہے - میرے والدین کے سامنے مجھے انہوں نے کہا نوشین میری امی ساری عمر تنہا رہیں ہیں , اب آپ ہی ان کو کمپنی بھی دے سکتی ہیں ان کی ہیلپ بھی کر سکتی ہو . اس لئے میں چاہتا ہوں آپ ایک ماہ سے زیادہ نہ رہیں اور واپس گھر چلی جایئں . مجھے واپسی میں ٦ ماہ بھی لگ سکتے ہیں اس سے پہلے بھی آسکتا ہوں اس لئے امی کو آپکی ضرورت رہے گی - میں نے اور میرے والدین نے ارمان سے کہا آپ فکر نہ کریں آج سے ایک ماہ بعد میں وہاں ہونگی ................... اور آج ماہ پورا ہونے میں ٢ دن رہ گئے ہیں , مجھے کل جانا ہے - ابو کے ساتھ ٹرین پر جا رہی ہوں گھر پہنچتے پہنچتے ٢٤ گھنٹے تو لگیں گے ہی . جرنی بذریعہ ٹرین میرا ایک اور خواب پورا ہونے جا رہا ہے " نوشین ؛ نوشین ؛ نوشی , کدھر ہو , امی مجھے بلا رہی تھیں ؛ مگر ان کی بات سننے کے لئے ان کے پاس جانے سے معذور تھی . کیونکہ میں غسل خانے میں ہیئر ریموور ( بال صفا کریم ) لگا کر بیٹھی تھی . ابھی ہی تو ان کو بتا کر آئ تھی کے میں غسل کے لئے باتھ روم جا رہی ہوں . شاید وہ بھول گئی ہوں . میں اپنی ہر طرح سے صفائی اور غسل کرنے کے بعد امی کی جانب جانے لگی تو میری طرف ہی آ رہی تھیں . کیوں امی کیا بات ہے ؟ اپ مجھے بلا رہی تھیں میں نے اپنے بھیگے بالوں کو تولئے سے خشک کرتے ہوئے پوچھا . نوشین ؛ تمھارے ابو کا فون آیا تھا . بات کرنا چاہ تھے .
جب میں نے بتایا کہ تم غسل خانے میں ہو تو انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں کوئی فوتیدگی ہو گئی ہے اس لئے وہ کراچی نہ جا پائیں گے ؛ ان کو گاؤں جانا ہوگا میں بڑی خوش ہوئی کہ اب میں اکیلے سفر کر سکوں گی مگر امی نے یہ کہہ کر میری ساری خوشی غارت کر دی کہ انہوں نے تمہارے لئے پیغام چھوڑا ہے کہ یا تو پلین سے چلی جاؤ اگر ٹرین سے ہی جانا ہے تو پھر بابا دینو تمھیں چھوڑ ائیگا , میں بہت سٹپٹائی اور میں نے امی سے شدید احتجاج کیا کہ یہ بلکل نا انصافی ہے ؛ میں نے لاکھ پاؤں پٹخے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا - مگر ابا جان کے حکم کے سامنے میرا احتجاج بے سود تھا , مجھے چار و ناچار ان کی ہدایت کے مطابق ہی جانا تھا یا پلین پر جاتی یا اگر ٹرین پر جانا ہے تو پھر اپنے خاندانی ملازم بابا دینو کو ہمراہ لے جانا ہوگا - میں نے بھی اپنی ضد نباہی اور ٹرین پر جانے کا ہی فیصلہ کیا . اور بابا دینو کا ساتھ میں جانا برداشت کر لیا . دینو با با ہمارا آبائی تعلق علاقہ پوٹھوہار میں چکوال کے مضافات سے ہے - یہاں کی اکثریت آرمی میں سروس کرتی ہے . ہمارے آباؤ اجداد بھی آرمی سے منسلک رہے مرے والد آرمی افیسر ہی ریٹائر ہوئے تھے اسی طرح ان کے والد اور دادا بھی آرمی میں اچھی پوسٹس سے ریٹریڈ ہوئے اور انہیں ان کی خدمات کے پیش نظر جنوبی پنجاب میں کچھ اراضی زمینیں ملیں ہونگی . آج کل تو پلاٹ بھی ملتے ہیں ابا جانی کو جو ٢ پلاٹ ملے انہوں نے ایک بیچ کر دوسرے پر اسلام ابا د میں رہایش کے لئے ٹھکانہ تعمیر کر لیا جس میں آج کل ہماری رہایش ہے . چونکہ ہماری رہایش آبائی علاقے چکوال میں تھی . اس لئے جنوبی پنجاب میں اراضی ملی اس کی دیکھ بھال کے لئے وہاں کے ایک لوکل شریف با اعتماد خاندان کی خدمات لی گئیں جو کہ سہو کہلاتا ہے دینو بابا کے باپ دادا نے یہ ذمہ داری لی تھی اور ابھی تک وہی فیملی یعنی سہو فیملی ہمارے ہمارے لئے کام کر رہی ہے . دینو بابا بھی اسی فیملی سے ہے . ابا جانی سال میں ایک ٢ بار وہان جاتے رہتے ہیں - پانچ سال قبل جب ہماری رہایش اسلام آباد میں ہوئی تو گھر کے کام کاج کے لئے ایسے آدمی کی ضرورت محسوس کی گئی جو پکی عمر کا اور شریف النفس آدمی ہو ابا جانی گئے اور دینو کو لے آئے جس کی بیوی فوت ہو چکی تھی وہ ٦٠ سال سے اوپر ہے - محنت مزدوری بھی نہیں کر سکتا تھا - اس لئے ابو جانی نے دینو کا انتخاب کیا اپنے گیراج کے بازو میں اس کے لئے ایک کمرہ ود اٹیچڈ باتھ کے بنایا گیا کھانا وغیرہ اس ہمارے ساتھ ہی تھا . یہاں اکے وہ بہت خوش رہا کیونکہ وہاں اس کی بھابھیاں اس کا خیال نہ رکھتی تھیں - میں دنوں ہوسٹل میں رہ رہی تھی اس لئے میں ذاتی طور پر اسے بلکل نہیں جانتی ہماری اپس میں کوئی بات نہیں ہوئی ہوگی . اور آج اس کے ساتھ جانا ہے . ٹرین کا سفر میں نے نہ چاہتے ہوے بھی دینو بابا کے ساتھ جانے کا والدین کا فیصلہ مانتے ہوے اس کے لئے ا یک بیگ میں اس کے استمعال کے لیے کپڑے وغیرہ رکھواۓ اور سب کچھ تیار ہونے کا امی کو بتا دیا اب گھر سے نکلنے میں ٢ گھنٹہ رہ گئے تھے اور ابو کا انتظار تھا تاکہ ریلوے سٹیشن کی طرف نکلیں شام ٥ بجے ایکسپریس ٹرین کا وقت تھا . تھوڑی دیر بعد ابو آ گئے . دینو بابا نے سامان گاڑی میں رکھا . ابو نے ساتھ نہ جا سکنے کی مجبوری بتائی اور دینو بابا کو میرا خیال رکھنے کی ہدایت کی . اور امی ابو بھی ریلوے سٹیشن تک مجھے چھوڑنے آئے - راولپنڈی سٹیشن پر ٹرین کھڑی تھی دینو بابا نے قلیوں کی مد د سے سامان کمپارٹمنٹ میں رکھا . ہم سب کچھ دیر پلیٹ فارم پر ویٹنگ روم میں بیٹھے گپ شپ لگاتے رہے . امی ابو میں ہم سب ہی اداس تھے مگر اس کا اظہار نہ ہونے دے رہے تھے - امی تو بمشکل اپنے آنسو روکے ہوئے تھیں - ٹرین کی روانگی سے پندرہ منٹس پہلے ہم کمپارٹمنٹ میں آ گئے , ٢ برتھ سلیپر بڑا آرامدہ لگا , امی نے باتھ روم استمعال کرنے کے بعد بتایا کہ بہت صاف ستھرا اور اچھا بڑا ہے . اور لمبے سفر کے لئے انتہائی مناسب ہے . ١٠ منٹس کے بعد ٹرین نے تیاری پکڑی تو امی ابو مجھے مل کر روتے ہوئے ٹرین سے اتر گئے اور ٹرین رینگنے لگی میں کھڑکی میں بیٹھ گئی اور امی ابو دور تک ٹرین کے ساتھ ساتھ چلتے رہے . ٹرین نے سپیڈ پکڑی اور میں دور تک دھندلائی نظروں سے انکے ہلتے ہاتھ دیکھتی رہی ٹرین پلیٹ فارم چھوڑتے ہی تیز گام بن گئی - کافی دیر تک یونہی میں باہر خلاؤں میں گھورتی رہی اندھیرا پھیل چکا تھا - ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے مجھے اپنے گالوں پر نمی کا احساس دلایا تو آنکھوں سے آنسو اک بار بہہ نکلے . میں نے کمپارٹمنٹ میں نظر دوڑائی تو دینو بابا کو دیکھ کر چونکی , میں تو بھول ہی گئی تھی کہ کمپارٹمنٹ میں کوئی اور بھی ہے - دینو بابا سامنے والی برتھ کی بجاۓ دور ایک بکسے پر بیٹھا ہوا تھا . . میں نے کہا " بابا دینو ادھر برتھ پر آ کر بیٹھ جاؤ " مگر اس نے جواب دیا " نہیں جی میں یہیں ٹھیک ہوں " بی بی جی .؛ میں نے بھی اصرار نہیں کیا اور اک میگزین لے کر اسے دیکھنے لگی . اپنے ساتھ مطالعے کے لئے کافی میگزینز لے آئ تھی تاکہ راستے میں بور نہ ہوتی رہوں ٹرین سے انے کا مقصد تو خود کو ٹائم دینا اور تنہا رہنا تھا مگر ابو نے اپنا ساتھ پروگرام بنا ڈالا پھر بابا دینو کو ساتھ بھیج کر میرے پروگرام کو یکسر بدل دیا . میں تقریبن ایک گھنٹہ کے بعد اٹھی اور باتھ روم میں داخل ہو گئی تاکہ کچھ فریش ہو جاؤں . دینو بابا باتھروم کے سامنے ہی بیٹھے تھے - میں نے اسے کہا " بابا چاہے لینی ہے تو لے لو " اور میں باتھ روم میں داخل ہوگئی . دروازے کے سامنے ہی ایک ہاتھ منہ دھونے کے لئے سنک اور اس کے اوپر بڑا سا آئینہ لگا ہوا تھا اور ساتھ ہی ٹایلیٹ اور اسکے ساتھ ہی ایک باتھ روم تھا سب کچھ صاف ستھرا دیکھ کر مجھے بہت اچھا فیل ہوا . میں باھر نکل کے روزمرہ شام کا لباس ( جو کہ پاجامہ اور ٹی شرٹ پر مشتمل تھا ) لے کر باتھروم میں آگئی اور فریش اپ ہو کر پنٹ اور شرٹ اتار کے برہ اور پینٹی رہنے دی اور اوپر پاجامہ اور ٹی شرٹ پہن لی کپڑے چینج کر کے میں باہر نکلی اور بیگ سے کومب کنگھا لے کر آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی زلفیں سنوارنے لگی آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی زلفیں سنوارنے لگی - زلفیں سنوارتے سنوارتے یونہی آئینہ میں دیکھنے لگی کہ اچانک میرا دھیان آئینہ میں اپنے پیچھے کی طرف گیا جہاں بابا دینو ایک باکس کو کرسی بنا کر بیٹھ ہوا تھا . مجھے کچھ حیرت سی ہوئی کہ بابا میری ہی طرف دیکھ رہا تھا اور اسکی نظروں کا نشانہ میری پیٹھ اور گانڈ کی گولائیآں تھیں . میں نے سوچا دروازہ بند کر دوں مگر اس کی اشتیاق بھری نظروں کو دیکھ کر سوچا کچھ دیر دیکھوں تو سہی حضرت کس سوچ میں ہیں . . میں آئینے میں چوری انکھیوں اسے دیکھ رہی تھی مگر وہ نظارے میں گم تھا اسی لئے اس کو احساس ہی نہ ہوا کہ میں اس کی چوری پکڑ چکی ہوں میں اس کی طرف پیٹھ کر کے کھڑی تھی مگر آئینہ میں اسے ہی جانچ رہی تھی . وہ اپنی دھن میں مگن میرے کولہوں کے نشیب و فراز میں پلک جھپکے بنا گم تھا - چائے کا کپ اس کے ہاتھ میں تھا مگر وہ سپ لینا بھی بھول چکا تھا کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا بابا دینو ایسی حرکت کر سکتا ہے مگر اب میں خود دیکھ رہی تھی کہ بابا کس حرکت کا مرتکب ہو رہا ہے . خیر میں اسے الزام نہ دونگی کیونکہ مجھے علم ہے کہ میرے بٹس جان لیوا ہیں کالج یونیورسٹی میں بہت کچھ ان کے بارے سنا تھا اور کمپلمنٹس وصول کئے ہر لڑکا میرے کولہوں کا شیدائی تھا . عاطف تو خیر دیوانہ تھا ان کا مگر دینو سے ایسی کوئی امید نہ تھی - میرے والدین نے اس پر اعتماد کر کے میرے ہمراہ کیا تھا . میں آئینے میں ہی بابا دینو کا جائزہ لینے لگی سچ تو یہ ہے آج تک میں نے کبھی دھیان ہی نہ دیا تھا کیونکہ ان سے کوئی واسطہ تھا نہ کوئی غرض . میں وہیں آئینہ کے سامنے کھڑے بابا کو غور سے دیکھنے لگی - ٦٠ -٦٥ کے لپیٹے میں گندمی رنگت مضبوط شانے اور کشادہ پیشانی کسرتی تقریبا ٦ فٹ قد سفید مونچھوں اور ٹریمڈ داڑھی لمبا ناک اور قدرے موٹے ہونٹ کے ساتھ اک نئی شخصیت میرے سامنے تھی اپنے عاجزانہ اور مؤدبانہ رویہ کی بدولت اس نے میرے والد کا اعتماد حاصل کیا ہوگا - میں سوچوں میں ڈوب گئی - سیانے کہتے ہیں اک کمرے میں عورت مرد اکیلے ہوں تو شیطانی گمانوں اور نفسانی تراغیب سے اپنے اپ کو مشکل سے بچا پاتے ہیں - اب کافی دیر ہو گئی تھی ٹرین کسی جنکشن پر رکی تو میں نے بابا دینو کو بولا کہ نیچے جا کر کھانا گرم کرا لاے . امی نے بہت کچھ بنا کر ساتھ دے دیا تھا کہیں پلیٹ فارم سے جنک فوڈ ہی نہ کھاتی رہوں . کھانے کے بعد ہم نے چائے لی - چا ہے پی کر میں ٹیبل پر کپ رکھا تو دینو نے اپنا اور میرے والا کپ اٹھایا اور باتھروم میں لے جا کر انکو صاف کر کے واپس بیگ میں رکھا تو میں نے دینو کو بولا کہ " بابا پانی بہت اچھا نیم گرم ہے آپ نہا لو اور سو جاؤ " تو وہ بولے کہ " بی بی جی میں گھر سے نہا کر ہی چلا تھا " تو میں بولی اچھا میں تو نہانے لگی ہوں تاکہ نیند اچھی آئے . اور باتھ روم میں چلی گئی , ویسے تو کھانے کے بعد میں شاور نہیں لیتی مگر آج یونہی موڈ بن گیا تھا اک نامعلوم سی الجھن سی تھی جسے میں سلجھا نہیں پا رہی تھی - یوں شاور کے نیچے کھڑی میں ٹائم پاس کرنے لگی - مجھے کوئی بھی الجھن پریشانی ہوتی ہے تو میں شاور لینے لگتی ہوں تو کوئی نا کوئی حل نکل آتا , مگر آج بیچینی کا سبب ہی سمجھ نہیں آ رہا تھا تو حل کیا نکلتا - میں نے خیال کیا کہ کہیں دینو ہی میری پریشانی کا سبب تو نہیں - آج شام کے بعد بابا دینو کو اپنی جانب دیکھنا ہی غضب ڈھا گیا تھا شاید . عورت توجہ کی بھوکھی ہوتی ہے ایک ٢ کمپلیمنٹس عورت کے دل میں گھر کر جاتے ہیں , عورت چاہے جانے کی محتاج ہوتی ہے اور اگر کوئی توجہ دینے والا نہ ہو تو عورت دلبرداشتہ ہو جاتی ہے اور دنیا اور زندگی میں اسکی دلچسپی براۓ نام رہ جاتی ہے . جیسے ارمان کے ساتھ ٢ ماہ رہنے کے دوران ہر دوسرے تیسرے دن جسم کے غیر ضروری بال میں ضرور صاف کرتی رہی کیونکہ کسی کی توجہ درکار تھی . مگر ارمان کے دور جانے کے بعد ایک مہینہ کے بعد مجھے انہیں صاف کرنے کا خیال آیا اور آج ہی لنچ سے پہلے میں انکو ریموو کر سکی . بابا دینو کا اپنی طرف غور سے اور بڑی دلچسپی سے دیکھنا اور اسکی ستائشی نگاہوں نے میرے اندر کی عورت کو نادانستگی میں جگا دیا تھا اور اب میری تمنا تھی کہ وہ مجھے توجہ دیے رکھے . اب شاور کی بدولت الجھن کا سبب تو جان چکی تھی اب آگے کیا کرنا ہے کہ دینو مجھ میں دلچسپی لیتا رہے یہ سوچنے کی بات تھی - میں کوئی غلط حرکت کی مرتکب نہیں ہونا چاہتی تھی کہ ارمان کے جذبات کو ٹھیس لگے , میرے دل میں اسکا احترام تھا اور رہے گا . - عاطف سے مجھے محبت تھی اس کے ساتھ گزرا وقت مجھے اکثر بچیں کر دیتا ہے مگر ارمان کے ساتھ گزرے وقت کو میں کبھی مس نہ کر سکی . پہلے پہلے مجھے لگا کہ ارمان سے محبت کرنے لگی ہوں مگر وہ محبت نہیں احترام ہے جو کہ میرے دل میں اس کے لئے ہے اور یہ تو ہمیشہ رہے گا . انہی سوچوں نے مجھے اک دوراہے پر لا کھڑا کیا دل چاہتا کہ کچھ دل لگی ہو جاۓ اور کچھ نہیں تو تھوڑا بہت فن ہی سہی مگر میرا ضمیر اس قسم کے فن کے لئے اجازت دینے پر بلکل تیار نہ تھا . ہزاروں اخلاقی دلائل اس نے دے ڈالے اس سے پہلے کہ میں اس کی مان لیتی مرے دل نے اپنے دلائل کے ساتھ میرے خیلوں پر حملہ کر دیا - دل کی مان لیںنے کا سوچنے لگی کہ ضمیر صاحب پھر آ وارد ہوئے میں کنفیوز سی ہو گئی کہ کیا کروں کیا نہ کروں - میں نے شاور بند کیا اور سوچنا بند کر دیا میں نے پینٹی برا کو رہنے دیا اور بھیگے بدن پر پاجامہ اور ٹی شرٹ پہنی اور باتھروم کا دروازہ کھول کے آئینہ کے سامنے کھڑے تولئے سے بال خشک کرنے لگی آئینہ میں دینو بابا نظر آ رہا تھا اور اسکی نظریں پھر میرے بٹس پر ٹکی تھیں اب کے اک تو پینٹی نہیں تھی دوسرا پاجامہ ہلکا ہلکا گیلا اور جسم کے ساتھ چمٹا ہوا تھا اس لئے اسکی آنکھیں کچھ زیادہ ہی پھیلی ہوئی تھیں میں دل ہی دل میں محظوظ ہونے لگی اور اسوچنے لگی اس عمر میں یہ دیکھ کے خوش ہو لیتے ہونگے کیونکہ کچھ کر سکنا تو ان کے بس کا روگ نہیں . مگر سنا ہے کہ مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھا نہیں ہوتے
 بابا ڈینو کچھ بچین سا لگنے لگا - میں جب ایک جانب جھک کر بالوں کو جھٹکتی تو وہ بھی اسی جانب شاید نادانستگی میں جھک جاتا اب کے میں نے اپنی زلفیں اپنے شانوں پر ڈالیں تو میں نے دیکھا اس نے ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ دی ہے - میرے ذہن میں فورا اک سوال کیا اس کا کھڑا ہو گیا ہے جسے یہ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے اس شیطانی سوچ کے آتے ہی میرے دل میں اسے دیکھنے کی امنگ اٹھی کہ کیسا ہوگا اس کا سائز کیا ہوگا سخت ہو گا یا ڈھیلا ؟ - کچھ خیال آتے ہی میں خود کو ملامت کرنے لگی کہ میں کیا سوچ رہی ہوں کچھ مان مریادہ ہوتی ہے . میں تھوڑا سا شرمندہ ہوئی اور باھر اکر اپنی برتھ پر بیٹھ گئی میں نے دینو کی طرف دیکھنے کی بجاۓ مگزیں اٹھایا اور اوراق پلٹنے لگی میں نے خود سے کہا بس بہت فن ہو گیا اب سونا چاہیے ؛ میں نے بابا دینو سے کہا " بابا اپنی برتھ پر آجاؤ اور سو جاؤ - وہ اٹھ کر باتھ روم چلا گیا اور میں پیٹ کے بل لیٹ کر مگزین پڑھنے لگی الٹا لیٹ کر مطالعہ کرنا میری عادت ہے کچھ دیر بعد دروازہ کھلنے کی آواز آئی - دینو کی انتظار کرنے لگی . کچھ دیر دینو برتھ پر نہ آیا تو اٹھ کے دیکھا تو مجھے ہی تا ڑ رہا تھا میں نے اس کو بولا " بابا دینو ادھر برتھ پر آ کے سو جاؤ اور خود پہلو کے بل لیٹ گئی جس سے میرا بٹ زیادہ نمایاں ہو گیا - میں نے کنکھیوں سے دیکھا تو دینو کی نظروں کو اپنے بووبز پر مرتکز پایا میں بنا برا ؛ بریزیر کے تھی ٹی شرٹ کے اوپر کا بٹن کھلا تھا اس لئے مرے ابھار کافی حد تک دیکھ رہے تھے جو کہ دودھیا کلر کے ہیں - اس کا یوں بے باکی سے دیکھنا مجھے حیران کر گیا . سوچنے لگی کوئی جوان ہوتا تو اب تک اس اکیلی لڑکی سے فیضیاب بھی ہو چکا ہوتا . میں نے دینو کی طرف دیکھا تو اس نے نظریں چُرا لیں اور اپنی برتھ پر بیٹھ گیا جو کہ میری برتھ سے بمشکل ٢ فٹ دور ہوگی - ہماری برتھز آمنے سامنے تھیں اور ان کا درمیانی فاصلہ ٢ فٹ ہوگا میں میگزین دیکھنے لگی اور میرا اک ہاتھ دانستہ یا نادانستہ میرے گریبان کے کھلے بٹن سے کھیلنے لگا . میں کبھی بٹن بند کر دیتی کبھی کھول دیتی جس سے میرے ابھار ہلتے میں نے دیکھا کہ دینو چور نظروں سے کبھی میرے بووبز کی طرف دکھتا کبھی میرے کولہے دیکھتا . میرا ہاتھ بٹن کو چھوڑ کر میرے کولہے پر رینگنے لگا . میں یہ ایسا کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ بے ساختہ لگے خود ساختہ نہیں یونہی ہاتھ پھیرتے پھیرتے میرا ہاتھ رانوں کی اندرونی طرف بھی پھر جاتا - میں نے بابا دینو کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں سمجھی کیونکہ اس کی سانسوں کی ہلچل مجھے سنائی دے رہی تھی . میں نے ٹانگیں ذرا کھول دیں انڈرویر یا پینٹی نہ ہونے کی وجہ سے دیکھنے والا کچھ نہ کچھ کر دیکھ کر اندازہ لگا سکتا تھا اور شاید دینو بابا کو کوئی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ فورا اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور میری نظر اس کے ابھار جا ٹکی . وہ جلدی سے باتھروم کی جانب بڑھا اور میں اسکی بے بسی پر مسکرا دی . پھر اپنے اپ کو سمجھانے لگی اب بہت ہوگیا لائٹ اف کر کے سو جاؤ اور کوئی شرارت نہیں ہوگی . ok بوس میں نے خود سے کہا اور مگزین ٹیبل پر رکھی اور چادر اپنے اوپر لے کر سونے کی تیاری کرنے لگی - اتنے میں دینو بابا باھر نکل آیا تو میں نے اسے کہا " دینو کمپارٹمنٹ کے دروازے کے باھر جو تختی لگی ہوئی ہے اسے الٹا کر کے دروازہ لاک کر آؤ . نہیں رہنے دو میں خود دیکھ لیتی ہوں .. سوچا کہیں ایسا نہ ہو ڈونٹ ڈسٹرب کو ہی الٹا آئے - شام کو ہمارے ٹکٹ چیک ہو چکے تھے - میں نے دروازہ کھولا اور ڈونٹ ڈسٹرب کا سائن سیدھا کر کے لائٹ آف کی اور اپنی برتھ پر لیٹ گئی - دینو بھی اپنی برتھ پر لیٹ گیا اور پیٹھ میری طرف کر کے سونے لگا . میں خود کو سمجھانے لگی اچھا کیا ہے بُرا کیا ہے ؛ ہر دلیل کے بعد میں ایک کروٹ لے لیتی آخر میں نے ہار مان لی اور خود سے وعدہ کر لیا اب سو جاؤنگی اور نو ہینکی پھینکی . میں نے کروٹ لی سونے کی try کرنے لگی مگر نیند آنکھوں میں ہوتی تو اتی ویسے بھی ٹرین کی کھٹ کھٹ کہاں سونے دیتی میں کروٹ پے کروٹ لیتی رہی رات کے گیارہ بج چکے تھے - میں اٹھ کر بیٹھ گئی دینو بابا پیٹھ کئیے ھوے لیٹا تھا . سویا ہوا وہ بھی نہیں لگتا تھا . میں اٹھ کر باتھ روم گئی مجھے پی لگا تھا - کرنے کے میں نے ٹشو سے صفا کیا تو نجھ ہونی پھدکنے لگی میں نے سوچوں کے دروازے بند کر دئے اور کچھ کر گزرنے کی ٹھان لی - سچ تو یہ ہے کہ میں خود کو دھوکھا دے رہی تھی ورنہ اندر اندر سے میں جسم کی بھوکھ اور پیاس بجھانے کا پختہ ارادہ کر چکی تھی . میں باھر نکلی تو دینو نے کروٹ لی ہوئی تھی اب اس کی پیٹھ دیوار کی جانب تھی اسکی آنکھیں بند تھیں مگر وہ سویا ہوا نہ تھا - میں اگے بڑھنے لگی پھر رک گئی "نوشی سوچ لو غلط قدم اٹھ جاۓ تو اسکی منزل نا معلوم ہی رہتی ہے " میں نے جیسے سنا ہی نہ ہو - کندھے اچکا کر آگے بڑھی اور میں اب دونو برتھز کے درمیان کھڑی فیصلہ کر رہی تھی کہ اپنی برتھ پر جاؤں یا دینو کے اگے جا کر لیٹ جاؤں میں اسی ادھیڑ پن اور شش و پنچ میں الجھی ہوئی کسی بھی فیصلے تک پہنچنے نہیں پا رہی تھی . میں یہ جانتے ہوے بھی کہ یہ ایک غلط قدم ہے جو ایک بار اٹھ گیا تو پھر رکنا مشکل ہوگا مگر میں ایسا کرنے پر مجبور ہوی کیونکہ میرا اپنا نفس مجھے میرے بدن کی ضرورت کا احساس دلا رہا تھا - میرے جذبات مرے قابو سے باھر ہو رہے تھے . میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں دل کی دھڑکنیں دور تک سنائی دے رہیں تھیں . میں نے اک نظر بابا دینو کی طرف ڈالی تو اسے اپنی جانب دیکھتے ہوے میں نے خجالت سی محسوس کی اور اپنے برتھ کی طرف بڑھی مگر دینو نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ؛ میں حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگی وہ مجھے ہی دیکھ رہا رہا تھا میں نے ہاتھ چھڑانے کی براۓ نام کوشش کی مگر اس نے ہاتھ نہ چھوڑا دینو " یہ کیا بدتمیزی ہے " میرے غصہ میں بناوٹ جھلک رہی تھی دینو خاموش رہا اس نے کوئی جواب نہ دیا میں اپنے برتھ کی جانب بڑھی تو اس نے مجھے ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں دیکھتے ہی دیکھتے اس کے اوپر جا گری مجھے ایسی حرکت کی دینو سے بلکل امید نہ تھی . ٢ چار پل یونہی گزر گئے میں دینو کے سینہ سے لگی ہوئی تھی میں نے اپنے آپ کو چھڑاتے ہوے سرگوشی میں دینو سے بولی " یہ کیا کر رہے ہو تم دینو بابا " مجھے چھوڑ دو " بیبی جی " چھوڑنے کے لئے تو نہیں پکڑا ؛ اور وہی تو کر رہا ہوں جو اپ چاہتی ہیں " میں کیا چاہتی ہوں ؟ میں ماتھے پر تیوڑی چڑھا کر بولی بببی جی " در اصل مجھے ٹھنڈ لگ رہی تھی سوچا آپ گر ساتھ سوئیں گی تو ہم دونوں ٹھنڈ سے بچ جایئں گے " دینو بات بناتے ہوے بولا ایسی بات تھی تو مجھ سے بولتے تمھیں کمبل نکال کے دے دیتی . تم نے تو گنواروں کی طرح مجھے اپنے پر گرا دیا " " جی بیبی جی "دینو ممنایا تو میں نے کہا ہاں دینو ٹھنڈ تو ہے مجھے بھی لگ رہی ہے "جی بیبی جی" یہی تو میں کہہ رہا ہوں دینو نے خوش ہو کے کہا " تو کمبل نکال دوں بابا دینو" میں نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا . " جی ٹھیک ہے مگر ٹھنڈ تو اپ کو بھی لگی ہے اور کمبل ایک ہے " دینو بولا ہاں دینو تم ٹھیک کہہ رہے ہو کمبل تو ایک ہی ہے . میں نے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا . اچھا دینو تھوڑا پڑے ہو میں بھی لیٹ جاؤں تمہارے ساتھ اسے بابا نہ کہتے ہوے میں بولی تو تھوڑا سا پیچھے کھسک گیا مگر برتھ اتنی زیادہ وائڈ ہوتی نہیں کہ دو جی آسانی سے ٹک جائیں . وہ پہلو کے بل لیٹا ہوا تھا اور میں بھی اسکی جانب پیٹھ کر کے لیٹ گئی . اس طرح میرے کولہے اسکی گود کے ساتھ جا لگے - میں نے دینو کو بولا اب آرام سے سو جاؤ رات کے بارہ بجنے والے ہیں . اور مجھے نیند آ رہی ہے "جی بیبی جی " - تھوڑی دیر کے بعد مجھے کولہوں پر کوئی چیز سرکتی ہوئی محسوس ہوئی . میں نے ایک گھٹنا موڑ کر آگے کی طرف کر دیا اور دینو بھی تھوڑا آگے سرکا شاید اس کا کھڑا ہو چکا تھا کیونکہ دینو کے آگے ہونے سے راڈ میری رانوں کے سنگم میں آن ٹکا - میں خاموش انجانے لطف کو ویلکم کہنے کے لئے تیار ہونے لگی . تھوڑی دیر بعد دینو نے ایک ہاتھ مرے کولہے پر رکھ دیا اور ہولے ہولے مساج سا کرنے لگا . میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک دیا اور اپنی ٹانگ ذرا زیادہ آگے کر لی تاکہ اس کا راڈ اور آگے بڑھے تو کچھ اندازہ ہو صاحب کتنے پانی میں ہیں - دینو تھوڑا اگے ہو کر اپنے ہتھیار کو میری ران پر رگڑنے لگا اسکی حرکت اور رگڑ سے اسکی اکڑ اور نارمل لمبائی کا اندازہ تو میں نے کر لیا دینو کے اطیمنان سے ظاھر ہوتا تھا کہ کھلاڑی ہے اناڑی نہیں - کیونکہ ٥ سال قبل رنڈوا ہونے کی بدولت اس کو اب تک میری ٹانگوں میں ہونا چاہیے تھا . میں چاہتی تھی وہ آگے قدم بڑھاۓ مگر وہ شطرنج کی بساط بچھا کر بیٹھ گیا تھا - " دینو یہ مجھے کیا لگ رہا ہے ؟ " یہ کہتے ہوئے میں نے اس کا لن ہاتھ میں لے لیا اس نے ایک جھرجھری سی لی اور میں اُف کر کے رہ گئی اسے تو فورا چھوڑ دیا مگر یہ جان کر کہ شئے ہے بڑی جاندار ؛ ہو سکتا ہے رنگ جما دے آج کی رات ؛ یہ سوچ کر میں د ل ہی دل میں مسکرانے لگی ادھر میری چوت کے لب کھلنے لگے . دینو " تم نے بتایا نہیں یہ کیا ہے " میں رمانٹک ہوتے ہوئے بولی " کیا بیبی جی " دینو نے بھی چیزا لیتے ہوئے پوچھا ؛ میں نے لن کو دبارہ ہاتھ میں لیا اور اچھی طرح دبا کر بولی یہ ؛ میں نے لن پر چٹکی لینے کی ٹرائی کی مگر وہ اتنا سخت تھا کہ مجھے ناکامی ہوئی . " اوہو یہ تو کھلونا ہے بیبی جی " دینو یہ کہہ کر تھوڑا سا ہنسا ؛ میں نے بھی ہنستے ہوئے پوچھا ؛ " دینو یہ کیا بات ہوئی کھلونے سے تو بچے کھیلتے ہیں " " بیبی جی یہ گڑیا رانی کے لئے ہے " وہ ترنت بولا " اچھا تو وہ گڑیا رانی ہے کہاں ؟ میں نے چسکا لیتے ہوئے پوچھا "جی وہ کھلونے کے سامنے ہی تو ہے " دینو بولا ارے کیوں مذاق کرتے ہو یہاں تو نہ کوئی گڑیا ہے نہ کوئی رانی . یہی تو ہے گڑیا بھی اور رانی بھی اس نے میری چوت کو ٹچ کرتے ہوئے کہا اور میرے منہ سے ایک لذت بھری سسکاری سی نکلی . میں نے ٹانگ سیدھی کر کے اس کے ہاتھ کو وہیں دبا لیا ظالم نے ہاتھ سے میری پھدی پر مساج شروع کر دی میں نے ٹانگوں کو مزید کھول دیا . اور پاجامے کو پاؤں کی طرف کھینچا تو دینو نے میری ہیلپ کرتے ہوئے پاجامہ اتار ہی دیا . اور اپنی انگلی سے چوت کی لکیر کو چھیڑنے لگا جو کہ مجھے بہت اچھا لگا میں اس کے لن کو ہاتھ میں لے کر اپنی چوت پر رگڑنے لگی لن اتنا بڑا تو نہ تھا مگر اچھا خاصا موٹا تھا وہ اپنے لن کو چوت پر پھسلانے لگا اور میں نے ٹانگیں بھینچ لیں . " بیبی جی " گڑیا رو رہی ہے " دینو نے میرے کان میں سرگوشی کی . "ارے وہ کاہے کو رونے لگی " میں نے فکر مند لہجے میں استفسار کیا " " بیبی جی " "گر آپکو اعتبار نہیں تو یہ دیکھ لیں " دینو نے میرے رس سے گیلی انگلی مجھے دکھاتے ہوئے کہا " اور پھر شاید اس نے وہ انگلی اپنے منہ میں لی اور مجھ سے کہا " بیبی جی" " اس کا تو سواد بھی آنسوؤں جیسا ہے " " یہ کیسے ہو سکتا میں کیسے مان لوں کہ گڑیا کے آنسو نکلے ہیں " میں بولی دینو نے فورا بڑی انگلی میری چوت میں ڈال دی اور میرے سامنے کر دی ابھی تک میری پیٹھ دینو کی طرف تھی - میں نے گیلی انگلی کو منہ میں لے لیا اور اس کی انگلی چوسنے لگی . اسکی انگلی موٹی اور لمبی تھی اپنا ہی رس انگلی سے چوستے مجھے خمار سا انے لگا . اس نے میری گردن پر بوسہ دیا تو میں نے بیقرار ہو کر اسکی طرف رخ کیا اور اسکی چھاتی سے لپٹ گئی اس کی چھاتی کے بال مرے بووبز کو لگنے لگنے تو میں نے اس کے ہونٹوں کو چوم لیا اس نے میرے ہونٹ ہونٹوں میں لے لئے اور چوسنے لگا اور مجھے بھینچ لیا , اس کے بازو اتنے مضبوط تھے کہ مجھے سانس لینا مشکل ہو گیا اس کا لن میری رانوں میں میری چوت کو سہلا رہا تھا رہا . مجھ سے اب رہا نہیں جا رہا تھا میں چاہتی تھی لن یونہی اندر پھسل جاۓ . میں دینو سے بولی . " تم تو کہتے تھے کہ گڑیا رو رہی ہے تو اس کو کھلونا کیوں نہیں دیتے " کھلونا تو اسی کا ہے ضرور دیں گے اس کو تھوڑا بھیگ جاۓ تو دینو نے مجھے چومتے ہوئے کہا میرے بووبز ہولے ہولے دبانے لگا . جب پاجامہ اتر چکا تھا میں بیٹھ گئی اور شرٹ بھی اتار کر اپنے برتھ پر پھینک دی .. اب میں ننگی دینو کے روبرو تھی اور وہ مجھے ہوسناک نظروں سے تا ڑ رہا تھا . میری زلفوں میں انگلیاں پھرتے ہوئے وہ میرے مموں کو چومنے اور مسلنے لگا کبھی میرے نیپلز کو انگلیوں سے مسلتا کبھی ان کو باری باری چوسنے لگتا . اس کے کھردرے ہاتھ جب جسم پر پھرتے تو میں لطف و انسباط کی وادیوں میں کھونے لگتی اس نے دوبارہ برتھ پر لٹا دیا میری پیشانی چوم کر مر ے گال سرخ کرنے لگا اور میری گردن پر بوسوں کی بارش کر دی ؛ میں اس سے چمٹ گئی وہ پھر میرے مموں کو چومنے چوسنے اور چاٹنے لگا مجھ سے اب برداشت نہیں ہو رہا تھا چوت کی کھجلی نے خوار کر رکھا تھا . دینو میرے مموں سے کھیلتا ہوا میری ناف تک پہنچ گیا زبان کو نوک سے مری ناف کو کھجانے لگا . اس کی انگلیاں میری چوت کے دانے کو مسل رہی تھیں اور میں چوتڑ کبھی اِدھر کبھی اُدھر کرتی - اس سے پہلے میں دینو کی منت کرتی مجھے چودو
 دینو برتھ سے نیچے اتر گیا اور شلوار اتار کر ایک طرف پھینکی اور مجھے دیکھنے لگا میں اس کے لہراتے ہوے لن میں مگن تھی بہت پیارا اور خوبصورت لگ رہا تھا مچلتا کھیلتا لہراتا لن اسے دیکھ میری چوت پُھدکنے لگی اس کے لب ِکھل کے اس کو اندر لینے کو بے تاب تھے . دینو برتھ کی پائنتی کی طرف بڑھا میں نے اپنی ٹانگیں اور پھیلا لیں کہ وہ ان کے بیچ بیٹھ کر کاروائی ڈالے مگر اس نے مجھے ٹانگوں سے پکڑ کر برتھ کی پائنتی کے کونے پر میرے بٹ پہنچا دئے میرے گھٹنے کھڑے تھے - دینو برتھ کے نیچے بیٹھ گیا - میں سمجھ نہ سکی دینو چاہتا کیا ہے . اس نے میرے گھٹنے کھولے اور میری مُلائم رانوں پر اپنے کھردرے ہاتھ پھیرنے لگا اور پھر رانوں کو چومنا شروع کر دیا وہ اپنے ایک ہاتھ سے میری چوت سہلاتے ہوئے کبھی دانے کو مسلتا کبھی لکیر کو چھیڑتا رانوں کو چومتے چومتے اس نے میری چوت کا بوسہ لے لیا اسکی سانسوں اور ہونٹوں کے ٹچ نے مجھے بے خود کر دیا - پہلی دفعہ کسی نے میری اس جگه کو چوما تھا . اس نے ایک دو بوسے لئے اور میری طرف دیکھا - میری آمادگی پا کر اس نے ہونٹ میری چوت پر رکھ دئے اور اسے زبان کی ٹپ سے کھجانے لگا - میں تڑپنے لگی سر کو بیخودی میں کبھی ادھر کبھی ادھر پھٹکتی - جب اس نے میری چوت کے دانے کو زبان کی نوک سے کھجایا تو میں سمجھی میرا سانس رک جایئگا . میں بیان نہیں کر سکتی اس سنسنی انگیز لطف مزے کا سواد . ایک تو مجھے دینو سے ایسی دلربائی کی توقع نہ تھی مگر اس نے مجھے نئی دنیا کی سیر کروا دی اف نہ جانے ظالم نے یوں ستانا کہاں سے سیکھا تھا جسے میں گنوار سمجھی تھی وہ تو آج کل کے لونڈوں کا استاد نکلا . عاطف اور ارمان نے مزے کی یہ کھڑکی تو کبھی کھولنے کی ٹرائی ہی نہ کی تھی وہ مجھے چاٹ رہا تھا میرا ہاتھ اسکے بالوں سے کھیل رہا تھا میرا دوسرا ہاتھ میرے نیپلز مسل رہا تھا , اور میں بے حال ہوتی جا رہی تھی میں چھوٹنے والی تھی دینو کی زبان اپنا کام کر رہی تھی اور اسکی دو انگلیاں میری چوت کے اندر کھجلی کرنے میں لگی ہوئی تھیں میں نے بے خودی میں ایک چیخ ماری اور اپنا رس دینو کے منہ میں انڈیلتے ہوئے میں نے اپنی ٹانگوں کو بھینچ لیا . دینو میرا رس سرکیاں لگا کر پینے لگا جس کی آواز مجھ تک پہنچ رہی تھی - اپنا تن من بدن سب کچھ دینو پر قربان کرنے کو من چاہنے لگا میں نے دینو کو سر کے بالوں پکڑ کے اپنے اوپر کھینچ لیا اور اس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنے لگی . { ہر عورت کو چاہیے جو اس کی خوشی کے لئے اسکی چوت کو چاٹے کم از کم اسکے ہونٹوں سے جوس چوس لیں تاکہ چاٹنے والا بعد میں خجالت نہ محسوس کرے } دینو کے ہونٹ میرے لبوں میں تھے وہ مجھ پر بچھ سا گیا تھا اسکا لن میری چوت کے دھانے پر دستک دے رہا تھا میں نے ہاتھ نیچے لے جا کر اسے پکڑا اور چوت کے منہ پر رکھ کر رگڑنے لگی . دینو میری گردن کے نیچے ایک ہاتھ ڈال کے اسے کھجانے لگا - ادھر اس کا لن اندر جانے کو بچیں ہونے لگا دینو اٹھ کر بیٹھ گیا اور لّن کو میری چوت پر رگڑنے لگا اس نے میری ٹانگوں کو اپنی ٹانگوں سے باہر کی سمت کیا تو میرا سب کچھ اس کے سامنے آگیا اس نے میری گردن میں ہاتھ ڈالا اور خود اپنے لن پر دباؤ ڈالنے لگا . میں نے ہاتھ بڑھا کر لن اندر جانے میں مدد کی - چوت میں تو آبشار آیا ہوا تھا لن پھسلتا گیا ادھر دینو نے ایک جھٹکا لگا یا تو وہ چوت چیرتا ہوا جہاں تک جا سکتا تھا گیا دینو میرے دونو ممے اپنے ہاتھوں سے دبانے لگا میں دینو کو بے ساختہ چومنے لگی میں پیار سے اسے دیکھتی اور چومتی جاتی سواد آج جو دینو دے رہا تھا پہلے ایسا مزہ نہ آیا تھا دینو نے میری ٹانگیں اٹھا کر اپنے شانوں پر رکھ لیں اور لن مزید پھنس پھنس کر جانے لگا جس سے مجھے مستی آنے لگی دینو زور زور سے دھکے مارنے لگا ہر جھٹکے پر یوں لگتا اس کا لن آگے جا کر کسی دیوار سے ٹکراتا ہے اور مجھے بہت زیادہ مزہ اتا . دینو کی سپیڈ بڑھنے لگی اور اسکی ضربوں میں شدت آنے لگی اس سے مجھے بھی محسوس ہونے کہ جھرنے لگی ہوں - دینو نے میری ٹانگیں کندھوں سے اتاریں تو میں نے اسکی کمر کے گرد لپیٹ لیں اب دینو دھکا لگاتا تو میں چوتڑ اٹھا کر دھکے کا جواب دیتی اسی طرح آخری دھکوں کا مقابلہ کرتے ہوے میری بس ہو گئی اور دینو بھی ڈکارتا ہوا اپنا سارا مواد میری چوت میں ڈالنے لگا گرم پرنالے سے گرم شیرہ نے میری گڑوی کو بھر دیا میں نہال ہو گئی . میں نے ایک سکھ کی سانس لی یوں لگا جو کمی محسوس ہوتی تھی اور تشنگی لگتی تھی نہ وہ کمی رہی نہ تشنگی جس کے لئے میں دینو کی ابھارن ہوں . میں دینو کو چومنے لگی جو کہ اب میرے پہلو میں لیٹا تھا - تھوڑی دیر بعد میں باتھروم گئی ٹرین رکی ہوئی تھی شاید روہڑی سٹیشن آگیا تھا - یہاں سے ہمارا گاؤں زیادہ نزدیک تھا مگر ابا جانی نے نہ جانے کیوں کراچی تک بکنگ کروائی تھی ہو سکتا ہے وہاں ان کو کوئی کام ہو . خیر اب تو آگے ہی جانا تھا میں پی کرنے لگی تو آج کی رات جو کچھ ہوا کے بارے سوچنے لگی , سچی اج بہت ہی زیادہ اینجوآئے کیا تھا پہلی بار کسی نے چوت چاٹ کر میرے چودہ طبق روشن کر دئے - سنا ہوا تو تھا کہ چٹوانے کا اپنا ہی مزہ ہے مگر کبھی چٹوائی نہ تھی . ارمان تو خیر کبھی ایسا نہ کریں گے اور عاطف نے کبھی ایسی ٹرائی نہیں کی . ویسے کالج میں جب کبھی لڑکوں کے گروپ کے پاس سے گزرتی تو دبے لفظوں میں ان کے ریمارکس تو سنائی دیتے . " یار کیا پٹاخہ ہے . اس کی تو میں چاٹ بھی لوں " " ارے میں تو سالی کی گانڈ بھی چاٹ سکتا ہوں دے تو سہی " " ارے جو بھی چودے گا وہ خوش قسمت ہوگا " " سالی کا تو پیشاب بھی لوں " اس قسم کے ریمارک تو سنتے ہی تھے ہم مگر ٢ لڑکیاں پیغام لیں لڑکوں کا مگر اپنی طرف شفارش کے طور کہنے لگیں ایک " نوشی فلاں لڑکا چوت چاٹنے میں بڑا ماھر ہے " دوسری " نوشین باجی " " فلاں لڑکا کے پاس جانے سے کسی قسم کا کوئی خطرہ ہی نہیں مال بھی بڑا دیتا اور چوت بھی مارتا چوت چاٹ کر گانڈ مارتا ہے مزے کا مزہ اور کنوار پن بھی نہیں جاتا ." یہ تو کالج کی باتیں تھیں . مگر میں تو اس سوچ میں پڑ گئی ایک چٹا انپڑھ دیہاتی نے جس طرح مجھے چآٹا اور چودہ , کیسے ممکن ہے میں نے اپنے اپ کو دھویا اور اٹھ کھڑی ہوئی میں ننگی آئ تھی واپسی پر تھوڑی شرمائ لجائی سی ایک ہاتھ چوت پر دوسرا ہاتھ مموں پر رکھے دینو کے ساتھ جا کر لیٹی اور لپٹ گئی وہ آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا . اس نے بھی بازؤں میں بھر لیا , میں نے چور آنکھوں سے لن کو دیکھا تو لیٹا ہوا تھا مگر ابھی جاگ رہا تھا .. میں دینو کا چما لیتے ہوئے بولی " دینو ایک بات پوچھوں " ناراض تو نہ ہو گے " پوچھو بیبی جی میں ناراض کیوں ہونے لگا " دینو نے کہا . " تم نے جس طرح میرے نیچے اپنی زبان سے پیار کیا تھا کیا ایسا اپنی بیوی سے بھی کرتے تھے . " " نہیں بیبی جی ہم نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا " دینو بولا "تو کیا تم نے آج رات پہلی بار میرے ساتھ ایسا کیا " میں نے پوچھا " نہیں بیبی جی ؛ ایک اور ہے جس نے مجھ کو چاٹنا سکھایا " " وہ کون ہے ؟

Posted on: 07:27:AM 13-Dec-2020


0 0 1102 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com