Stories


ساس میری سہیلی از سیما ناز

میں اسکی چھاتی کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی مزے کی وادی میں بھٹکنے لگی . دینو نے اچانک کہا سنبھل کے بیبی جی اور لن کو ایک ہی جھٹکے سے اندر کرتے ہوئے نہ جانے کس جگه جا چوٹ لگائی کے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گیں اور مزے کا ایک اور در کھلتے ہوئے میں محسوس کرنے لگی . اس کی اس چوٹ پر میں مچل مچل اٹھی . دینو نے دھکوں اور جھٹکوں کی بارش کر دی اور وہ لگا تار بنا رکے جم کر مجھے چودنے لگا جہاں تک ممکن ہوتا میں بھی دھکوں کا جواب دیتی . دینو میری آنکھوں میں دیکھتے دھکا مارتا اور رک کے مجھے آنکھ مارتا اور میں نظریں چرا لیتی وہ بدمعاشی پر اترا اور شرارتی موڈ میں مجھے بہت پیارا لگا . میں بھی اسے کبھی انگوٹھا اپ کر کے داد دیتی کبھی زبان باہر نکال کے اسے چڑاتی . کچھ ہی دیر بعد مجھ پر لذت اترنے لگی اور میرے سانس بے ترتیب ہونے لگے . دینو اور زور سے لگا دھکے . اپنے آخری جھٹکے کاری اور سوادی سے لگا کر مجھے لذتوں کے سمندروں میں ڈبو دے آواز کا خمار میں خود محسوس کرنے لگی اور اس کا اثر دینو پر بھی ہوا اور وہ برجوش ہو کر ظلمی دھکے مارتے ہوے خود بھی ہانپنے لگا . میری اور اسکی سانسوں اور لذت سے بھری سسکیوں نے کمرے کو عجیب طلسماتی سا بنا دیا . چوت اب مزید سواد کے شاور کو روک نہ پائی اور میں نے دینو کے ساتھ ہی منزل ہو کر اپنا رس بھی دینو کے گرم لاوے میں مکس کر دیا . میں نے ٹانگیں دینو کی کمر کے گرد کس لیں اور دینو کے لن کو چوت کے مسلز سے دبانے لگی اسکا لن آہستہ آہستہ ڈھیلا ہونے لگا اور میں چوت کے مسلز دبا دبا کر اس کا رس نچوڑنے لگی . آخر دینو کا لن پھدی سے نکل آیا اور دینو میرے پہلو میں دراز ہو گیا اسکے سانس ابھی تک تیز چل رہے تھے اور میں اسے باہوں میں لے کر دبانے لگی اور اسے چومنے لگی . میں بہت خوش اور مطمین تھی میرے انگ انگ میں سرور دوڑ رہا تھا . دینو میری جان تم جوانوں سے بھی زیادہ جوان ہو میں نے دینو کے کان میں سر گوشی کی تو مسکرا دیا . تم دو چار دن اور رہ کیوں نہیں جاتے دینو . آپکے ابو نے کہا تھا کہ زیادہ نہیں رہنا . ہو سکتا ہے اپک سسرال والے پسند نہ کریں . دینو ایک تو اب آپ کہنا چھوڑو میں ویسے بھی تم سے چھوٹی ہوں . مجھے اچھا نہیں تم مجھے آپ بولو . دوسرا میری سسرال میں صرف ساس ہی تو ہے بیگم صاحبہ وہ تو بہت اچھی ہیں وہ کبھی بھی مہمان کے چند دن رہنے کا برا نہیں منا سکتی . اگر تم چاہو تو بیگم صاحبہ سے کہلوا دوں کہ دینو جب تک شیرو نہیں اتا یہیں رہ لے . میں جانتی تھی کہ بیگم صاحبہ سن رہی ہوگی . دینو کہنے لگا جیسے آپ چاہو ؛ پھر وہی آپ . جی جیسے تم چاہو کرو . وہ تو خیر میں صبح بیگم صاحبہ سے بات کر لونگی امید ہے ان کو کوئی اعتراض نہ ہوگا فجر کا ٹائم ہونے والا تھا اور میں چاہتی تھی کہ اندھیرے اندھیرے ہی شیرو کے گھر سے نکل جاؤں تاکہ گھر جاتے ہوے کوئی دیکھ نہ پاۓ . میں نے دینو کی باہوں سے نکل کر پاجامہ پہنا اور شرٹ ڈھونڈنے لگی ادھر ادھر دیکھتے میری نظر کھڑکی کی طرف گئی تو وہاں بیگم صاحبہ کا سایہ غائب تھا , چارپائی کی دوسری شرٹ پر تھی اسے اٹھا کر پہنتے ہوے میں دینو کے پاس آئ اور اسے ہونٹوں پر بوسہ دے کر کمرے سے نکل ائی . میں جلدی جلدی جوگنگ کرتے ہوئے گھر آ گئی . اور سیدھا کمرے میں جا کر اپنے بیڈ پر اپنے آپ کو گرا دیا . میں تھکی ہوئی تھی مگر اس تھکن میں مٹھا س تھی بدن درد کر رہا تھا مگر آسودہ بھی تھا کافی عرصہ بعد دینو نے جم کر میری چدائی کی تھی اور میرے انگ انگ میں ایک میٹھا میٹھا سرور دور رہا تھا . پرسوں شام شیرو نے جو آگ لگائی تھی رات کو دینو نے اسے سرد کر دیا تھا . میں چاہتی تھی ایک ٢ بار دینو سے پھر چٹوا اور چدوا لوں اور بیگم صاحبہ بھی اگر دینو سے چٹوا لے تو کیا کہنے مگر بیگم صاحبہ کا صبح موڈ کیسا ہوگا کون جانے . کیونکہ ساری رات کھڑے ہو کر مجھے چدواتے اور چٹواتے دیکھتی رہی تھی . میں جلد ہی نیند کی وادی کی سیر کرنے لگی اس وقت آنکھ کھلی جب زلیخا نے میرا دروازہ ناک کیا . لنچ کا وقت ہو چکا تھا . میں جلدی سے باتھ روم میں جا کر غسل سے فارغ ہو کر باھر نکلی تو لنچ ٹیبل پر بیگم صاحبہ کو بھی موجود پایا . میں تھوڑی نروس سی ہو گئی . اور تھوڑا آہستہ آہستہ چلتے ہوئے لنچ ٹیبل کے نزدیک پہنچ کر بیگم صاحبہ کو ماتھے پر ہاتھ کر سلام کیا " آداب بیگم صاحبہ " میں انکی تیکھی مسکراتی کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا . جیتی رہو بیٹی جیتی رہو . خوش رہو , او ادھر میرے پاس بیگم صاحبہ نے پاس والی کرسی کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا . اور میں ان کے پاس کرسی پر جا کر بیٹھ گئی . میں تھوڑا تھوڑا شرمندہ تو تھی مگر پچھتاوا محسوس نہیں کر رہی تھی اس لئے پر اعتماد تھی . اور ہر قسم کی صورت حال سے نمٹنے کو تیار تھی . " نوشی بیٹی رات کو دیر سے سوئی تھی کہ آج ناشتہ بھی نہیں کر سکی ہو . طبیعت تو ٹھیک ہے آپکی " جی بیگم صاحبہ رات کو دیر سے سوئی اس لئے صبح جلد بیدار نہ ہو سکی . میں بولی تو انہوں نے کہا . دینو آج ہی جانے کو تیار تھا مگر میں نے اسے آج کے لئے روک لیا ہے کیونکہ کل تو شیرو واپس آ جایئگا تو دینو کو دوسرے کوارٹر میں جانا پڑتا تو یہ مناسب نہیں لگتا کہ مہمان کو کبھی ادھر کبھی ادھر ٹہرایا جاۓ . کیا خیال ہے بیٹی . میں نے کہا جی جیسا اپ مناسب سمجھیں . وہی بہتر ہے اور دل میں سوچا ایک رات اور دینو کے ساتھ مل رہی ہے اور مسکرانے لگی . بیٹی آپ خوش تو ہو نا بیگم صاحبہ مے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے پوچھا تو میں نے نظریں چراتے ہوئے کہا جی بیگم صاحبہ میں بہت خوش ہوں . بس میں یہی تو چاہتی ہوں میری بیٹی ہمیشہ خوش رہے بیگم صاحبہ نے میری پیشانی اپر بوسہ ثبت کرتے ہوئے کہا تو میرے دماغ میں جو خدثات پل رہے تھے وہ دور ہو گئے اور میں مطمین ہو گئی . اور میرے دل میں بیگم صاحبہ کی عزت مزید بڑھ گئی . بیٹی دینو کتنے عرصہ سے آپ لوگوں کے ہاں ہے "جی یہی کوئی پانچ ٦ سال سے پہلے یہ ہماری زمینوں پر کام کرتا تھا پھر ابو اسے اپنے ساتھ لے آئے تب سے یہ وہیں ہے" . " اس کا مطلب ہے قابل بھروسہ آدمی ہے " بیگم صاحبہ نے کہا " جی جی آپ اس پر بھروسہ کر سکتی ہیں . یقین رکھیں آپ مایوس نہ ہونگی . میں نے زو معنی بات کی اور بیگم صاحبہ کی طرف دیکھا تو وہ زیر لب مسکرا رہی تھیں . مدیرے خیال می ان کے دماغ میں کوئی کھچڑی پک رہی تھی . ہو سکتا ہے شیرو کے وہاں نہ ہونے کا فائدہ اٹھانے کا سوچ رہی ہوں . اگر ایسا ہو بھی تو میں ان کو بلیم نہ دونگی . بیگم صاحبہ : بیٹی کافی عرصہ ہوا پنجاب نہیں گئی ؛ مصروفیات نے ایسا جکڑا کہ اب تو کبھی کبھار ہی خیال اتا ہے ویسے بھی میرے میکے میں اب صرف ایک بھائی ہی ہے جو گاہے بگاہے چکر لگا جاتا ہے . یہ کہتے هوئے انہوں نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور رنجیدہ سی نظر آنے لگی . میں انکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اس پر ہاتھ پھیرنے لگی . میری آنکھیں بھی نم ہو گیں تھیں . کہ ہم بیٹیوں کے نصیب میں جنم دینے والوں سے دوری ہی لکھی ہوتی ہے . بیٹی میں سوچ رہی ہوں میں پنجاب کا چر لگا ہی ہوں اور ہمیشہ پلین سے جاتی ہوں . جیسا کہ ا تم نے بتایا تھا کہ ٹرین میں سفر کا مزہ ہی اور ہے . ٹرین چل رہی ہو بھی تو آپ ہر طرح کے مناظر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں . تو تمہارا کیا خیا ل ہے میں بھی کیوں نہ دینو کے ساتھ چلی جاؤں تمہارے والدین کے پاس ایک ٢ دن رہ کر سرگودھا اپنے بھائی کے ہاں ایک ہفتہ رہ کر آ جاؤن اور واپسی میں اگر ٹرین پر ہی ائی تو دینو مجھے چھوڑ جایئگا ان کے پروگرام سے میں کافی متاثر ہوئی . دل ہی دل میں انکی ذہانت کا اعتراف کرتے ہوئے میں نے ان سے کہا . یہ تو بہت ہی اچھا ہوگا . اس طرح کافی اچھا محسوس کریں گی یکسانیت سے ہٹ کر چینجنگ سے طبیعت ہشاش بشاش ہو جاتی ہے , آپ ضرور جائیں اور سفر انجوائے کرنے کے لیے ٹرین بہترین ذریعہ ہے . دینو ایک ا اچھا ہم سفر ثابت ہوگا اور آپ سارا سفر انجواے کریں گی . جب میں دینو کے ساتھ ائی تھی پنجاب سے تو اس سے پہلے میں دینو کا نام جانتی تھی اور اتنا معلوم تھا کہ ہمارے ہاں کام کرتا ہے . مگر بیگم صاحبہ ٹرین میں اسکی صلاحیتیں مجھ پر آشکار ہوئیں تب سے میں اسکی کارکردگی کی معترف ہوں . آپ گر چاہیں تو میں اسے بول دینگی کہ وہ آپ کا خاص خیال رکھے . ویسے وہ طبیعت کا مسکین ہے آپکو خوش کر دے گا اور آپکو کو شکایت کا موقع نہ دے گا . میری ذومعنی باتیں بیگم صاحبہ سمجھ رہی تھیں اور ان کا چہرہ شرم سے گلنار ہو رہا تھا . ہم دونو ایک دوسرے کو دیکھنے سے اجتناب برت رہی تھیں . ٹھیک ہے نوشی بیٹے اگر تم مطمین ہو تو ریلوے سٹیشن فون کر کے بکنگ کروا دو . اور پھر دینو کو بھی بتا دینا کہ آج نہیں وہ میرے ساتھ جاۓ گا . بیگم صاحبہ کے کہنے کے مطابق میں نے ٹرین میں بکنگ کروا دی اور زلیخا سے کہا کہ جا کر دینو کو بلا لاۓ تو بیگم صاحبہ نے کہا نہیں بیٹی دینو مہمان ہے تم خود جا کر اس سے بات کرو اور اسے سمجھا دینا ہو سکتا ہے تھوڑی دیر بعد میں بھی چکر لگاؤں . ٹھیک ہے بیگم صاحبہ میں خود ہی چکر لگا اتی ہوں اور شیرو کے مکان کی طرف چل پڑی . راستے میں میں نے دینو کو اصطبل میں گھوڑے کے پاس کھڑا پایا مگر میں وہاں رکے بنا سیدھا شیرو کے کمرے میں آگئی تھوڑی دیر بعد دینو بھی آگیا . اس نے دروازہ لاک کرنا چاہا تو میں نے اسے روکتے ہوئے کہا " نہیں دینو صرف کواڑ بھیڑ دو لاک نہ کرو " اور اس کے پاس پہنچی تو اس نے مجھے باہوں میں گھیر لیا اور میرے ہونٹوں پڑ اپنے ہونٹ رکھ دے جنہیں میں سوغات سمجھ کر چوسنے لگی . اس نے میرے چوتڑوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کے اپنی طرف کھینچا تو اس کا لن شریف میری ناف کے کچھ نیچے ٹکرایا
 میں چاہنے کے باوجود اس وقت اسے اپنے اندر سمو لینے کی پوزیشن میں ہر گز نہ تھی کیونکہ بیگم صاحبہ کے آنے کا پروگرام بھی تھا . میں نے دینو کو کرسی پر بیٹھا دیا اور خود اس کے گلے میں باہیں ڈال کے اسکی آغوش میں بیٹھ گئی اسکی گردن پر بوسہ دیتے ہوئے کہا دینو تم آج نہیں کل واپس جا رہے ہو . دینو : "نہیں نوشی جی میری تو ٹرین پر آج شام کو سیٹ بک ہے" میں : دینو ہم نے تمھارے لئے کل شام کی سیٹ بک کرا دی ہے . دینو : مگر کیوں بیبی جی . میں تو یہی بتا کر آیا تھا . میں : وہ میں نے فون کر دیا ہے ابو امی سے بات ہو گئی ہے . دینو : ٹھیک ہے بیبی جی اگر اسی میں آپ خوش ہیں تو میں بھی خوش . میں : خوش تو میں رات سے ہوں اور آنے والی رات بھی ہونگی . یہ سنتے ہی دینو کے لن نے انگڑائی لی تو مجھے بہت اچھا لگا . میں دینو کی آغوش میں بیٹھی تھی اور لن پر ہولے ہولے گانڈ سے دباؤ بھی ڈال رہی تھی . میں نے دینو کو چوم کر کہا : " دینو اس بار نہ تم اکیلے سفر کرو گے نہ میں تمہاری ہم سفر ہونگی . بلکہ تم کسی اور کے ساتھ جاؤگے . دینو : بیبی جی اگر آپ نہیں تو اور کون جائیگا پنجاب. میں : دینو ؛ بیگم صاحبہ نے جانا ہے اور وہ بھی ٹرین میں تمہارے ساتھ جائیں گی . میں یہی تمھیں کہنے ائی ہوں کہ راستے میں بیگم صاحبہ کا پورا پورا خیال رکھنا وہ میری ساس ہیں مجھے امید ہے تم شکایت کا کوئی موقع نہ دوگے . یہ سنتے ہی ڈینو کے لن نے اتنی شدت سے سر اٹھایا کہ مجھے اپنی گانڈ کو اوپر اٹھا کر اس کے لئے راستہ بنانا پڑا . اتنے میں دروازے پر ناک ہوئی میں جلدی سے ڈینو کی آغوش سے اٹھی مگر بیگم صاحبہ اندر آ چکی تھیں اور مجھے دینو کی آغوش چھوڑتے ہویے انہوں نے دیکھ لیا تھا . مگر وہ اگنور کر کے انجان سی بن گئیں . دینو بھی اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا , بیگم صاحبہ کی نظریں دینو کی تنبو بنی قمیض پر جم کر رہ گئیں , میں شرمندہ سی ہو گئی کیونکہ دینو کے تنبو کی وجہ تو میں ہی تھی . بیگم صاحبہ نے سر کو جھٹکا جیسے وہ کسی خیال سے چوکیں ہوں . اور مجھ سے بولیں بیگم صاحبہ : نوشی جان تم نے دینو کو پروگرام بتا دیا , اسے میرے ساتھ جانے پر کوئی اعتراض تو نہیں . میں : نہیں بیگم صاحبہ ؛ بھلا دینو کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے کیوں دینو تمھیں بیگم صاحبہ کے ساتھ ٹرین میں سفر کرنے میں کوئی مشکل تو نہیں . دینو : نہیں جی مجھے تو خوشی ہوگی ان کی خدمت کر کے . بیگم صاحبہ نے ڈینو کے تنبو پر اچٹتی نظر ڈالتے ہوئے مسکرا دی , بیگم صاحبہ : ٹھیک ہے دینو کل شام کی ٹرین میں ہم دونوں پنجاب جاینگے . آج تم آرام کرو . مجھ سے مخاطب ہو کر ؛ نوشی تم اگر چاہو تو دینو سے گپ شپ کے لئے رک جاؤ میں تھوڑا قیلولہ کرتی ہوں . میں : نہیں بیگم صاحبہ میں بھی آپکے ساتھ چلتی ہوں . دینو سے جو کچھ کہنا تھا وہ اچھی طرح سمجھ گیا ہے . . یہ کہتے ہوئے میں بھی بیگم صاحبہ کے ساتھ ہو لی . گھوڑوں کے اصطبل کے پاس سے گزرتے ہوے بیگم صاحبہ نے کہا کل شام تک شیرو آ جائیگا اور مجھے امید ہے جب میں پنجاب سے واپس آؤنگی تم اچھی گھڑ سوار بن چکی ہوگی ؛ میں : جی بیگم صاحبہ میری پوری کوشش ہوگی کہ گھوڑے کی سواری سیکھ جاؤں اور آپکے آنے تک خوب سواری کر چکی ہوں . بیگم صاحبہ : نوشی مشکی گھوڑا بہت اچھا گھوڑا ہے اس پر سواری تم ہمیشہ یاد رکھوگی جی بیگم صاحبہ میری بھی یہی خواہیش ہے . میں نے دل میں خوش ہوتے ہوئے کہا بیگم صاحبہ : نوشی دینو ہمارا مہمان ہے مگر وہ تمہارے میکے سے آیا ہے اس لئے اسکی مہمانداری پر تمہارا زیادہ حق بنتا ہے . اس لئے اسکا خاص خیال رکھنا میں : جی بیگم صاحبہ شکریہ . میں انکا مطلب سمجھتے ہوئے شرم سے جھینپ گئی . باتیں کرتے کرتے ہم گهر آ گئیں . اور بیگم صاحبہ آرام کرنے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیں . میں برآمدے میں زلیخا کو دیکھ کر اسکی طرف پلٹی تو بیگم صاحبہ نے اپنے کمرے کے دروازے پر پہنچ کر مجھے آواز دی تو میں جلدی سے ان کے پاس گئی , بیگم صاحبہ : نوشی گپ شپ کے لئے رات کو شیرو کے کمرے میں جانے کی بجاۓ دینو کو اپنے کمرے میں ہی بلا لینا . اسس سے پہلے کہ وہ میرے شرم سے گکنار ہوتے رخسار وہ کمرے میں داخل ہو چکی تھیں . میں کچھ دیر یونہی شرمندہ سی کھڑی رہی پھر واپس زلیخا کی طرف ائی . میرا پروگرام تو یہی تھا کہ د بیگم صاحبہ کو گهر چھوڑ پھر دینو کے پاس آ جاؤنگی . مگر اب یہ جان کر کہ پوری رات دینو سے گپ شپ چلے گی میں نے زلیخا سے آرام کا کہ کر اپنے بیڈ پر آ کر دراز ہوگی . اور آنے والی رات ہونے والی کاروائی کے لئے خود کو تیار کرنے لئے میں جلد ہی سو گئی . شام گئے اٹھی اور غسل سے فارغ ہو کر می اصطبل کی طرف نکلی تو وہاں دینو کو کھرے دیکھا اس کے قریب جا کر میں نے اس سے کہا کہ رات گیارہ بجے کے بعد میرے کمرے میں آجانا اتنے میں زلیخا آ گئی اور ہم دونوں کھیتوں کی طرف چہل قدمی کے لئے نکل گئیں . کچھ دیر بعد آ کر فریش اپ ہونے کے بعد بیگم صاحبہ کے ساتھ ڈنر میں شرکت کی . کافی دیر تک بیگم صاحبہ کے ساتھ گپ شپ لگائی . آج انکے سفر اور پنجاب میں مصروفیات پر ہی بات چیت ہوئی . بیگم صاحبہ بہت خوش تھیں . میں انکو خوش دیکھ کر خوش ہو رہی تھی . دس بجے میں اپنے کمرے میں آ گئی اور ساڑھے گیارہ کے قریب دینو کو حویلی میں آتے دیکھ کر اس کے استقبال کے لئے میں دروازہ کھول کھڑی ہوگئی . اس کے دروازے میں قدم رکھتے ہی دروازہ بند کیا اور پلٹ کر اس کے گلے سے لپٹ گئی . اس رات ہم دونوں نہ سوئے نہ ایک دودرے کو سونے دیا وہ رات یادگار بن کر رہے گی ہماری یادوں میں ہمیشہ . اگلے دن دینو اور بیگم صاحبہ دوپہر کا کھانا کھا کر سکھر چلے گئے جہاں سے انہوں نے ایکسپریس ٹرین لے کر پنجاب جانا تھا پورے ١٦ گھنٹہ کا سفر ان دونو نے تنہا ہی طے کرنا تھا اور اس دوران کونسی کونسی منزلیں طے کرنی تھیں اس کا اندازہ تو سب ہی کر سکتے ہیں . مجھے خوشی تھی بیگم صاحبہ کی تمنا پوری ہو جایئگی اور دینو اسکی کی ایک ایک حسرت نکال دے گا . کیونکہ میں نے دینو کو بیگم صاحبہ کے متعلق جو ہدایات دی تھیں ان کے مطابق دینو کوئی کسر نہ چھوڑے گا . شیرو نے آج شام آنا تھا وہ نہیں ایا میں بھی پچھلی رات کی تھکی ہوئی تھی چارپائی پر لیٹتے ہی ایسی آنکھ لگی کہ دوسرے دن سورج نکلنے کے بعد ہی کھلی . دوپہر کے وقت اصطبل میں مشکی کے ساتھ تھی کہ زلیخا نے کہا لندن سے فون ہے . میں حیران ہو گئی کیونکہ ارمان حیات فون رات کو کرتے تھے میں جلدی جلدی گھر آئ اور فون پر ہیلو کہا تو آگے سے کسی نے پوچھا کیا میں مسز ارمان سے مخاطب ہوں جی میں مسز ارمان ہی بول رہی ہوں آپ کون ؟ میں ارمان صاھب کا دوست نوید خان بول رہا ہوں . جی جی وہ آپ کا ذکر کیا کرتے تھے . مسز ارمان مجھے افسوس ہے کہ میرے پاس آپ کو بتانے کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے مگر میں مجبور ہوں کہ یہ فریضہ مجھے ہی ادا کرنا ہے . وہ یہ کہ کر خاموش ہو گیا ؛ میرا دل ڈوبنے لگا تو میں ساتھ پر تپائی پر ہی بیٹھ گئی نوید صاحب کیا ہوا ارمان خریت سے تو ہیں نان ؛ جی سوری ارمان صاحب نہیں رہے ان کا چند گھنٹے پہلے اکسیڈنٹ ہوا جس میں وہ زندگی کی بازی ہار گئے . اب کوشش ہے کہ جلد سے جلد انکی باڈی پاکستان پہنچائی جے اور میں بھی ساتھ ہی آ رہا ہوں . مجھ سے بولا ہی نہ گیا کہ اس سے پوچھ سکوں یا کچھ کہہ سکوں زلیخا سے کہ بیگم صحبہ راولپنڈی پہنچ ہونگی انہیں خبر کر دو وہ میرے میکے میں ہی گئی ہونگی . پھر جیسے جیسے لوگوںکو معلوم ہوتا گیا وہ ڈیرہ پر اکٹھا ہوتے گئے اور خواتین ہمارے گھر رونے پیٹنے لگیں . مجھے ابھی تک اعتبار ہی نہیں آ رہا تھا . کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے مگر وہ ہو چکا تھا میں اب ارمان کی بیوہ تھی میں نے زلیخا کے کہنے پر رسم کے مطابق کانچ کی چوڑیاں توڑ ڈالیں اور بال کھول کے مانگ میں راکھ بھر لی اور رونے والوں کے گلے لگے کے رونے لگی . یہ ایک بہت کٹھن گھڑی تھی . بیگم صاحبہ ہوتیں تو وہ اس اچھی طرح سے ڈیل کرتیں . ارمان اپنے قبیلہ کے سردار تھے . مجھے ایسے موقع کا کوئی تجربہ نہ تھا خدا خدا کر کے ٦ گھنٹہ میں بیگم صاحبہ بھی پہنچ گیں وہ پلائیں سے آئ تھیں . مگر انکا حال مجھے سے خراب تھا . اکلوتے جوان بیٹے کی موت کا سننا اور وہ بھی اچانک ایسے حالات میں والدین جان سے گزر جاتے ہیں . وہ مجھے کیا سنبھالتیں مجھے انکو سنبھالنا پڑ گیا شکر ہے میرے والدین اسکے ساتھ ہی آے تھے جس کی بدلوت مجھے سہارا مل گیا , بیگم صاحبہ حواس باختہ تھیں کبھی کچھ کہتیں کبھی کچھ کئی بار تو ایسا لگا کہ ان کو حادثے کا علم ہی نہیں , خاندانی ڈاکٹر ان کو ہر گھنٹہ دیکھ رہا تھا اور چیک کر رہا تھا . ڈاکٹر کو ڈر تھا انکے دماغ پر کوئی اثر نہ ہو گیا ہو کیونکہ انکی بہکی بہکی باتیں کسی کے پلے نہ پڑ رہی تھیں . دوسرے دن میت پہنچ گئی تو پورا علاقہ ہی اکٹھا ہو گیا . بیگم صاحبہ کو کچھ ہوش آیا تو ان سے جنازہ کے بعد دفنانے کی اجازت ملتے ہی ارمان کو سپرد خاک کر دیا گیا . پورا علاقہ اک سوگ کی لپیٹ میں آیا ہوا تھا . بیگم صاحبہ کی طبیعات سنبھل نہیں پا رہی تھی تو سیاسی پارٹی جس میں ارمان اور انکے والد اور بیگم صاحبه تھیں نے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھ سے پارٹی میں شمولیت کے لئے کہا . کیونکہ سیاسی حمایت کے بغیر ارمان کی جایئداد اور علاقے کی قیادت مجھے نہیں مل سکتی تھی بیگم صاحبہ کی علالت کی وجہ سے خاندان میں پارٹی بازی کا خطرہ تھا . اس لئے سیاسی پارٹی کے چیئرمین کے کہنے پر میں پارٹی میں شمولیت کر کے علاقے کی قیادت سنبھال لی اور کچھ دنوں کے بعد بیگم صاحبہ کی طبیعت بھی سنبھال گئی تو انہوں نے بھی میری مدد کی جس کی بدولت ہر چیز میرے نام ہونا آسان ہو گیا . مگر بد قسمتی سے بیگم صاحبہ اپنے بیٹے سے زیادہ وقت دور نہ رہ سکیں اور ٢ ماہ بعد وہ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئیں . ٤ ماہ بعد میں نے شیرو سے نکاح پڑھا لیا اور زندگی پھر سے رواں دواں ہوگئی .

ختم شد

Posted on: 07:34:AM 13-Dec-2020


2 1 377 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 75 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com