Stories


جسم کی بھوک از علی خان لولائی

میں نے جب میسیج کھولا تب پتا چلا ماریہ نے میرے نام سےکسی لڑکے کا نمبر سیو کیا ہوا تھا تاکہ کبھی اسکی کال آئے تو اسکی امی کو شک نا پڑجائے۔میں بے خیالی میں اوپر اسکرول کیا تو تصاویر دیکھ کر میں بری طرح چونک گئی ماریہ نے اس لڑکے کو اپنی ننگی تصاویر بھیجی تھیں جس میں اسکے پستانوں اور چو ت کی تصاویر شامل تھیں۔لڑکے نے بھی اسکو اپنے لنڈ کی تصاویر بھیجی تھیں ۔ماریہ نے اپنے میسیجز میں اسکو اپنی چوت میں لینے کے لیے بے تابی کا اظہار کیا تھا۔ان سب کے علاوہ اور بہت سی انگلش ننگی تصاویر شا مل تھیں ۔میں نے سامنے سے ما ریہ کو آتے دیکھا تو جلدی سے موبا ئیل لاک کر دیا ۔ماریہ سموسے لے کرآئی تھی ۔میری اڑی ہوئی رنگت دیکھ کر اسکو کچھ شک پڑ گیا اس نے جیسے ہی موبا ئیل کو اوپن کیا تو سامنے وہی میسیجز کھل گئے کیونکہ میں نے گھبراہٹ میں واٹس ایپ کو بند کرنا بھو ل گئی تھی۔ میں سر جھکا کر بیٹھی تھی ہم دونوں کے بیچ کوئی بات نہیں ہوئی کافی دیر۔آخر کار ماریہ نے خاموشی کا پردہ چاک کیا ماریہ:تم نے میرے میسیجز پڑھ لیے ہیں کوئی بات نہیں ہم دوست ہیں ہم دونوں کے بیچ کوئی پردہ نہیں ہونا چا ہیے۔ میں :تم نے اپنی ایسی تصاویر کیوں اسکو بھیجی ہیں ماریہ:یار یہ سب چلتا ہے ۔ میں :تم شادی سے پہلے اس انجان لڑکے کے ساتھ سیکس کرنا چاہ رہی ہو ماریہ ہنستے ہوئے:جان سیکس بھی انسان کی بھوک کی طرح ایک ضرورت ہے۔ میں:تم کب سے اس لڑکے کے ساتھ یہ سب کر رہی ہو ماریہ:اس کے ساتھ فرسٹ ٹائم ہےپر اس سے پہلے دو اور لڑکے تھے۔جن کے ساتھ میرا تعلق تھا۔ میں:اگر تمہاری امی کو پتا چل گیا تو ماریہ:ان کو کیسے پتا چلے گا تم بس کوئی بھانڈا نا پھوڑ دینا میں:میں نہیں بتاؤں گی پر تمہارے خون والے کپڑے دیکھ کر امی سمجھ جائیں گی۔ ماریہ ہنستے ہوئے:پاگل خون کیوں نکلے گا میرا کونسا پہلی بار ہے۔ میرے منھ سے اچا نک نکل گیا پر میری امی کو تو پتا چل گیا تھا۔ ماریہ نے چونکتے ہوئے کہا:کیامطلب اسکا مطلب تم نے بھی کسی سےسیکس کیا ہے۔ میں نے دل ہی دل میں خود کو کوستے ہوئے کہا چلو کلاس کا ٹا ئم ہو گیا ہے۔ وہ میرے پیچھے پڑ گئی میں نے کہا اچھا کل بتاؤں گی ۔میں نے دل میں سوچا کل تک اسکے زہن سے بات نکل جائے گی۔ ہم کلاس میں چلے گئے چھٹی کے بعد میں اسکول سے نکلی تو ماریہ میرے پیچھے چل پڑی میں نے کہا تمہا را گھر اس سائیڈ تو نہیں ہے تو کہنے لگی میں کچھ دور تمھارے ساتھ چلوں گی جب کچھ لڑکیوں کا رش کم ہو جائے گا تو میں اپنے فرینڈ کی گا ڑی میں بیٹھ جاؤں گی۔جو کچھ فاصلے پر کھڑی ہے اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے بلیک کلر کی گاڑی دکھائی ۔میں خاموشی سے چل پڑی۔تھوڑی دور چلنے کے بعد جب کافی رش کم ہو گیا تو ماریہ نے فون پر اپنے فرینڈ کو کہا گاڑی لے آؤ۔گاڑی ہمارے نزدیک آکر رکی ماریہ دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی۔ ماریہ:آؤ تم کو گھر چھوڑ دیتے ہیں۔ میں:نہیں میں چلی جاؤں گی پیدل ماریہ:اچھا چلو جیسے تمہاری مرضی۔ ماریہ نے دروازہ بند کر دیا اور گاڑی چل پڑی۔اور میں سوچوں میں گم گھر کی طرف چل پڑی۔ گھر پوہنچی تو پتا لگا گاؤں سے میرا کزن ارشد آیا ہوا تھا۔ارشد میرے چاچا کا لڑکا تھا وہ فرسٹ ائیر میں پڑھتا تھا۔ااسکو دیکھ کر میں بہت خوش ہوئی کیونکہ میری اسکے ساتھ بہت جمتی تھی ۔میں نے اس کو سلام کیا ارشد:لگتا ہے آج کل بہت زورں سے پڑھائی جاری ہے۔ میں:جی ارشد بھائی پیپر جو سر پر آگئے ہیں۔ ارشد :اچھا جی اسکا مطلب ہے لڈو اب ہم پیپرز کے بعد کھیل سکیں گے۔ اصل میں ہم دونوں کی شرطیں لگا کرتی تھیں لڈو میں ۔کئی بار ہم لڑ پڑتے تھے۔ میں : نہیں ایسی با ت نہیں ہے ہم لڈو آج ہی کھیلیں گے ارشد:اس کا مطلب ہے تم نے تیاری خو ب کر لی ہے۔ ہم دونوں کی نوک جھوک دیکھ کر امی ہنس پڑی امی نے کہا ارشد بیٹے کو کھانا تو کھانے دو نا حال نا حوال بس آتے ہی لڈو کی پڑ گئی۔ ہم دونوں ہنس پڑے۔میں نے کمرے میں آکر یونیفارم تبدیل کیا اور اپنا موبائیل کو اٹھا لیا ۔ابھی موبائیل میں میسیجز پڑھ ھی رہی تھی کے ماریہ کی امی کی کال آ گئی ۔میں نے ان کو جھوٹ بول دیا کہ ماریہ میرے ساتھ ہے ہم پیپرز کی تیاری کر رہی ہیں ۔جیسے ہی انکا فون بند ہوا میں نے ماریہ کو میسج کر دیا کہ تم جتنا جلدی ہو سکے گھر پہنچ جاؤ۔ مجھے پریشانی رہی کہ دوبارہ ماریہ کی امی کا فون نہ آجائے پر ایسا کچھ نہ ہوا۔ صبح اٹھ کر تیا ر ہو کر اسکول کے لیے روانہ ہو ہوگئی اسکول پہنچ کر میری نطریں ماریہ کو ڈھونڈ رہی تھیں۔کلاس میں جیسے داخل ہوئی ماریہ کو سامنے دیکھ کر سکون کا سانس لیا۔آدھی چھوٹی جیسے ہوئی ہم دونوں اپنی پسندیدہ جگہ کی طرف چل دیے۔لان میں بیٹھ کر میرا پہلا سوال یہ تھا میں:تمہاری امی کو شک تو نہیں پڑا ماریہ:نہیں ان کو زرہ بھی شک نہیں پڑا۔اس کو چھوڑو تم بتاؤ اپنی اسٹوری کس نے تم کو کلی سے پھول بنا دیا میں:چھوڑو ایسی کوئی بات نہیں دل میں خود کو کوسنے لگ پڑی کہ کل خامخواہ منھ سے بات نکل گئی اب ماریہ کی بچی پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ماریہ:اگر مجھ پر اعتبار نہیں ہے تو مت بتاؤ اس نے زیادہ زور لگایا تو میں نے سب کچھ بتا دیا ماریہ مزے لے کر سب کچھ سن رہی تھی۔اور کرید کرید کر پوچھ رہی تھی۔ میں نے سب کچھ بتا نے کے بعد اس سے وعدہ لیا کہ کسی کو مت بتانا ماریہ:پاگل ہوں کیا اپنی سب سے پیاری سہیلی کا راز کسی کو بتاؤں گی۔ اسکے بعد میں نے اس سے اسکے کل والے واقعے کے بارے میں پوچھا۔ ماریہ نے اپنی سیکس کی اسٹوری مزے لے لے کر سنانا شروع کر دی تھی،اس آدھے گھنٹے میں اس نے مجھے سیکس کی اتنی نالیج دی ۔ٹپس دیں نیٹ سے سیکسی تصاویر دکھائیں نیٹ میرے موبائل میں بھی تھا میں نے آج تک ایسی کوئی تصاویر نہیں دیکھیں تھی کچھ ایسی تصاویر تھیں جن میں لڑکی نے مرد کا لنڈ منھ میں لیا ہوا تھا۔ میں:کتنی گندی لڑکی ہے مرد کا لن منھ میں لیا ہوا ہے ماریہ:پاگل اس کو اورل سیکس کہتے ہیں یہ سیکس کی جان ہےاس کے بغیر سیکس ادھورا ہےروکو ایک اور تصویر دکھاتی ہوں ماریہ نے موبائیل میں کچھ اور ٹائپ کیا۔اور ایک تصویر دکھائی جس میں مرد عورت کی پھدی کو چاٹ رہا تھا،دوسری تصویر میں دو لڑکیاں ایک دوسرے کی پھدیاں چاٹ رہی تھیں۔ میں:ایسا صرف انگریز کرتے ہوں گے۔ ماریہ:نہیں پاگل سب کرتے ہیں میں خود اپنے تمام بوائے فرینڈز کے ساتھ ایسا ہی کرتی ہوں میں:تم کرتی ہو تو اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے سب کرتے ہوں گے۔ ماریہ :یار سب کرتے ہیں اس کے بغیر سیکس کا کوئی مزہ نہیں ہے۔میرے ابو امی بھی اورل سیکس کرتے ہیں۔ میرا منھ کھلا رہ گیا میں:تم نے انکو کہا ں دیکھا ماریہ:میں نے چوری چھپے انکا سیکس کافی بار دیکھا ہے۔ میں حیران رہ گئی اسکی باتیں سن کرکہ کیسی اولاد ہے جو اپنے ماں باپ کو سیکس کرتے چوری چھپے دیکھتی ہے۔ماریہ کا باپ ایک مولوی تھا اسکو دیکھ کر نہیں لگتا تھا کہ وہ ایسا کرتا ہوگا۔ ماریہ:تم سوچ رہی ہو گی کہ میرا باپ مولوی ہے وہ ایسا کام کیسے کر سکتا ہے میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ماریہ:میرا باپ نے ہمارے گھر کام کرنے والی آتی ہے اسکو بھی نہیں چھوڑا ہے میں نے ان دونوں کو کافی بار پکڑا ہے، میں : تو تم اپنی ماں کو کیوں نہیں بتا تی اسکے بارے میں۔ ماریہ:جان یہ سیکس کی بھوک ہے جو ہر انسا ن میں ہوتی ہے اسکو حق ہے وہ اپنی بھوک مٹائے جیسے انسا ن کو کھانے پینے کی ظرورت ہوتی ہے ویسے ہی سیکس کی ظرورت ہوتی ہے۔ ہم کافی دیر تک باتیں کرتے رھے اتنے میں بیل بج گئی میں نے ماریہ کو کہا :باتوں میں ہم نے کچھ کھایا بھی نہیں ۔ ہم کلاس میں چلی گیں چھٹی کے بعد میں گھر پہنچی توامی کو پریشانی میں گھر سے نکلتے دیکھا مجھے دیکھ کر بولیں:شکر ہے تم آ گئیں زبیدہ کے بیٹے کو چوٹ لگ گئی ہے میں اسکے ساتھ ہسپتال جا رہی ہوں تم گھر کا خیال رکھنا۔ارشد آئے تو اسکو کھانا بنا کر دے دینا، زبیدہ ہمارے محلے میں رہتی تھی۔اسکا ایک ہی بیٹا تھا جو بہت شرارتی تھا ابھی اسکول جانا شروع کیا تھا5 سال کا تھا پر شرارتوں میں پورے محلے میں مشہور تھا۔ امی کے جانے کے بعد میں نے یونیفارم بدلا اور لیٹ کر ماریہ کی باتوں کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔اپنا موبائل اٹھا کر اس میں گندی تصاویر اور ویڈیوز سرچ کرنا شروع کر دیں ویڈیوز دیکھ کر میری چوت میں کچھ کچھ ہونے لگ پڑا۔کچھ دیر ویڈیوز دیکھنے کے بعد میں نے اپنی چوت پر ہاتھ لگایا تو کچھ گیلا پن محسوس کیا۔ماریہ نے مجھے بتایا تھا کہ جب عورت کو مزہ آنے لگتا ہے تو چو ت میں گیلا پن بڑھ جا تا ہے۔کچھ ویڈیوز میں لڑکی گھوڑے یا کتے کے ساتھ سیکس کر رہی تھی۔ماریہ کی بات زہن میں آگئی کہ سیکس کی بھو ک انسان یا جانور نہیں دیکھتی۔ایک ویڈیو میں لڑکی اپنے چوت کو مسل رہی تھی۔اور انگلی ڈال رہی تھی میں نے بھی ایسا کرنا شروع کر دیا ایک عجیب سی لزت میرے پورے جسم میں دوڑنے لگ پڑی۔میں نے موبائل سائیڈ پر رکھا اور ایک ہاتھ سے اپنے مموں کو دبا نے لگی دوسرے ہاتھ سے اپنی چوت کو مسلنے لگ پڑی ابھی ایک دو منٹ گزرے تھے کہ دروازہ کھڑکھڑایا میں گھبرا کر جلدی سے اٹھ پڑی مجھے ایسا لگا جیسے میری چوری پکڑی گئی ہو۔میں نے اپنے کپڑے ٹھیک کئے اور دروازے کی طرف چل دی۔دروازہ کھولا تو سامنے ارشد کھڑا تھا میں سائیڈ پر ہو گئی ارشد اندر آ گیا ۔ارشد اور میں بہت بار اکیلے گھر پر رہ چکے تھے اس لیئے میں نے اسکو اندر آنے دیا۔ارشد نے امی کا پوچھا میں نے بتا یا کہ امی ہسپتال گئی ہیں۔ارشد نے کہا یار بہت بھوک لگی ھے کیا پکایا ہے۔ میں نے کہا پکایا تو کچھ نہیں ہے چپس بنا لیتے ہیں تم الو چھیل دو ارشد:ٹھیک ہے تم آلو مجھے کمرے میں لا دو۔ میں نے کچن سے آلو لئے اور دھونے کے بعد کمرے میں گئی تو ارشد بیڈ پر لیٹا تھا مجھے اچانک اپنے موبائل کا خیال آیا اس میں گندی ویڈیوز والا پیچ کھلا ہوا تھا اور میرے موبائل کو پاسورڈ بھی نہیں لگا ہوا تھا۔میں نے آج تک اپنے موبائل کو پاسورڈ نہیں لگایا تھا۔ موبائل میں بیڈ پر رکھ کر گئی تھی پر وہ ٹیبل پر پڑا ہوا تھا۔میں نے جلدی سے موبائل کو اٹھا لیا ۔شائید ارشد نے بیڈ سے موبائل اٹھا کر ٹیبل پر رکھ دیا تھا تاکہ وہ بیڈ پر لیٹ سکے۔ میں نے آلو اسکو دیئے وہ آلو کاٹنے لگ پڑا میں ابھی موبائل کھول کر پیچ کو بند ہی کیا تھا تو ارشد اچانک تیز سسکاری مار کر اٹھ کھڑا ہوا آلو کاٹتے ہوے چھری اسکے انگلی پر لگ گئی تھی میں نے بے اختیار اسکی انگلی کو منھ میں ڈال کر چوسنا شروع کر دیا تھوڑی دیر بعد میری نظر اسکے ٹراؤزرپر پڑی وہاں ابھار محسوس ہوا میں سمجھ گئی کہ میرے انگلی چوسنے کی وجہ سے اسکا لنڈ کھڑا ہو گیا ہے۔میں نے منھ سے انگلی نکالی تو خون رک چکا تھا میں نے بینڈیج لا کر اسکی انگلی پر لگا دی،میں نے کہا پیچھے ہٹو تم کیا آلو کاٹو گے خود زخمی ہو گئے ہو۔ میں جھک کر آلو اٹھانے لگی تو مجھے پیچھے سے ارشد نے پکڑ لیا میرے ہاتھ سے آلو والی ٹوکری گر گئی ۔میں نے کہا ارشد بھائی چھوڑو مجھے۔ ارشد نے مجھے چھوڑ دیا میں جانے لگی تو میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا موبائل میں تو بہت کچھ دیکھ رہی تھی اب کیا ہو گیا
، ابھی میں کچھ بو لنے ہی لگی تھی کے اسنے مجھے اپنے گلے لگا لیا اور میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے۔اور میرے ہونٹ چوسنا شروع کر دئیے اسکے ہاتھ میرے سینے پر آزادانہ گھوم رہے تھے میں نے کوئی مزاحمت نہیں کی شائید میرے جسم کی بھوک کو مٹانےکا سو چ لیا تھا۔ میں نے بھی کسنگ میں اسکا ساتھ دینا شروع کر دیا میں نے اپنی زبان اسکے منھ میں ڈال دی جسکو اسنے چوسنا شروع کر دیا ۔اب اسکا ہاتھ میری قمیض کے اندر تھا میری نپلز کو مسل رہا تھا 3 4 منٹ کسنگ کرنے کے بعد اس نے مجھے بیڈ پر لٹا دیا۔اور میری قمیض اوپر کر کے میرے مموں کو باہر نکالا میرے گلابی ممے دیکھ کرارشد پاگل سا ہوگیاوہ بے تحاشہ میرے ممے چوسنے لگاچوسنے سے میں نشے میں مدہوش ہونے لگی تھی اور میری چوت پانی سے گیلی ہورہی تھی۔اسنے ممے چوستے ہوئے میری شلوار میں ہاتھ ڈال دیا۔اسکے ہاتھ نے جیسے ہی اسکی چوت کو چھوامجھے کرنٹ سا لگا اس نے میری چوت کے دانے کو مسلنا شروع کر دیا اور اپنی انگلی اندر باہر کرنے لگ پڑاتھوڑی دیر بعد مجھے ہاتھ سے پکڑ کر بٹھایا اور میرے سامنے کھڑا ھو کر اپنا ٹراؤزر نیچے کیااور اپنا 6 انچ لمبا لن باہر نکال لیا۔مجھے کہا اسکو چوسو میں نے کہا مجھے نہیں آتا۔ ارشد:جیسے تھوڑی دیر پہلے میری انگلی چو س رہی تھی۔ میں نے اسکے لنڈ کو اپنے ہاتھ سے پکڑا اور اپنی زبان نکال کر اسکی ٹوپی پر رکھ دی اسکی ٹوپی پر ایک لیس دار سا پانی لگا ہوا تھا جسکو میں نے زبان سے چکھا تو نمکین سا لگا میں نے آہستہ آہستہ اسکی ٹوپی کو منھ میں ڈال لیا۔اسکو قلفی کی طرح چوسنے لگ پڑی میرے چوسنے سے اسکے منھ سے آہ آہ کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں میں سمجھ گئی اسکو مزہ آرہا ھے میں اس کے لن کو اپنے منہ میں اندر باہر کرنے لگی۔۔۔۔ کچھ دیر تک ایسے ہی کرتی رہی۔ارشد نے میرے منھ سے لنڈ نکال لیا اور مجھ دوبارہ لیٹنے کو کہا میں لیٹ گئی تو اس نےمیری شلوار اتار دی اور خود میری ٹانگوں کے بیچ بیٹھ گیا اورمیری ٹانگوں کو کھول کر اچانک اس نے اپنا منھ میری چوت پر رکھ دیا اسکے چوت چوسنے سے مزے کی لہر پورے جسم میں پھیل گئی وہ بہت مزے سے میری چوت کو چاٹ رہا تھا اسکی زبان میری چوت کے اندر باہر ہو رہی تھی میری چوت سے جتنا رس نکل رہا تھا اسکو وہ مزے سے پی رہا تھا۔ میں بہت گرم ہو چکی تھی، زور زور سے سسکاریاں لے رہی تھی،میرے منھ سے مستی بھری آہیں نکل رہی تھی ارشد کے بالوں پر ہاتھ پھیر رہی تھی اسکے سر کو اپنی چوت پر زور سے دبا رہی تھی اور مزے کی شدت کی وجہ سے اپنے سر کو بیڈ پر بار بار پٹخ رہی تھی۔ ۔اب وہ کھڑا ہو گیا اور اپنا ٹراؤزر اتاردیااور میری ٹانگوں کو تھوڑا سا اوپر کر کے اپنے لنڈ کی ٹوپی کو میری چوت پر سیٹ کیا۔وہ لنڈ کو چوت کے سوراخ رگڑ رہا تھا. تبھی اس نے ایک زور دار دھکے کے ساتھ نصف سے زیادہ لنڈمیری چوت کی گہرائی میں اتار دیا میری چیخ نکل گئی وہ دو منٹ تک ویسے ہی پڑا رہا اورمجھےچومتا رہا. پھر دھیرے دھیرے جھٹکے شروع کئے اور تیز ہوتے گئے. اب درد بھی کم ہو گیا تھا اور مزا بھی آنے لگا تھا۔اس نے لنڈ ایک بار پھر باہر نکالا اور پھر ایک زوردار دھکے کے ساتھ پورا لنڈ میری چوت میں گھسا دیا میں زور سے تڑپ اٹھی اور میرے منھ سے بے اختیار نکلا ہائے میں مر گئی،درد تھوڑا کم ہوا تو راشد نے اپنا لنڈ ان آؤٹ کرنا شروع کر دیا۔مجھے بھی مزہ آنا شروع ہو گیا حیرت انگیز طور پر جب پہلی بار سیکس کیا تھا تو کوئی مزہ نہیں آیا تھا۔ارشد نے پوچھا درد ہو رہی ہے تو لن باہر نکالوں۔۔۔ لیکن میں نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ پھر سے جھٹکے مارنا شروع ہو گیا۔3 4 منٹ کے بعد اسنے اپنا لنڈ میری چوت سے نکالا اور ایک زور دار چنگھاڑ نکالی۔اسکے لنڈ سےگرم گرم منی نکل کر میرے پیٹ پر گرنا شروع ہو گئ اسکی منی سے میرا سارا پیٹ اور ممے بھر گئے۔فارغ ہوتے ساتھ ہی میرے ساتھ بیڈ پر گر گیا اس نے مجھے چومنا شروع کر دیا۔ہم دونوں کو سانس چڑھا ہوا تھامیں نے اٹھ کر اپنے ڈوپٹے سے اپنا پیٹ صاف کیا اور کپڑے پہننے لگ پڑی اس نے مجھے ہاتھ سے پکڑ کر دوبارہ گرا لیا اور کہنے لگا ابھی دل نہیں بھرا ہے ایک بار اور کرتے ہیں ۔ میں نے کہا امی آتی ہوں گی کپڑے پہن لو۔مجھے پتا تھا امی اتنی جلدی نہیں آنے والی پر میں خود اب تھوڑا آرام کرنا چاہتی تھی۔پر اسکی ضد کے آگے میں ہار گئی۔اسکے ساتھ میں لیٹ گئی وہ آٹھا اور کچن سے دو گلاس گرم دودھ کے لے آیا دودھ پی کر کچھ جسم میں جان آ گئی کچھ دیر ہم ننگے لیٹے باتیں کرتے رہے۔تھوڑی دیر بعد اس نے مجھے دوبارہ کسنگ کرنا شروع کر دی اب کی با رمیں کھل کر اسکا ساتھ دے رہی تھی میں اسکے ہونٹ اور زبان چوس رہی تھی ساتھ ساتھ میرا ہاتھ اسکے بالوں کو سہلا رہا تھا۔ کسنگ کرتے کرتے میں اسکے گردن اور چھاتی پر اپنے ھونٹ چلانے لگ پڑی میری کسنگ کرنے سے اسکا لنڈ دوبارہ کھڑا ہو چکا تھا۔کسنگ کرتی ہوئی میں نے ایک ہاتھ سے اسکا لنڈ تھام لیا ۔اب ا سکے لنڈ کو اپنے منھ میں لے کر چوسنا شروع کی۔اسکے لنڈ پر ابھی تک میری چوت کا رس اور اسکی اپنی منی لگی ہوئی تھی جسکا زائقہ میں اپنے منھ میں محسوس کررہی تھی۔ایک اچھا زائقہ لگ رہا تھا منی کا میں نے انگریز لڑکیوں کو مرد کی منی کو نگلتے ہوئے دیکھا تھا ویڈیوز میں۔ اس وقت اس کےلنڈ سے ہلکا ہلکا پانی نکل رہا تھا جسے میں چاٹ اور چوس کر صاف کرتی جا رہی تھی۔اسکے مزیدارنمکین پانی کے موٹے موٹے قطروں کو میں نے پینا شروع کر دیامیرے لن چوسنے سے دوسری طرف ارشد سسکیاں بھرتا جا رہا تھا۔اچانک باہر کا دروازہ کھٹکھٹایا میں نے جلدی سے اٹھ کر اپنی قمیض ٹھیک کی اور جلدی سے شلوار پہن کر اپنے بال وغیرہ سیٹ کئے اور جلدی سے کمرے سے نکل آئی۔ارشد نے اٹھ کر اپنے کپڑے پہننا شروع کر دئے تھے میں نے دروازہ کھولا تو کوئی مانگنے والا تھا میں نے دل میں اسکو کوستے ہوئے کہا بابا معا ف کرو اور دروازہ دوبارہ بند کر دیا۔میں کمرے میں داخل ہوئی تو ارشد نے پو چھا کون تھا۔ میں نے بتا دیا کہ کوئی فقیر تھا ۔اس نے کہا آؤ بیڈ پر دوبارہ کام شروع کرتے ہیں ۔ میں:نہیں امی آتی ہوں گی کافی دیر ہو چکی ہے۔ ارشد: اس کا کیا کروں اس نے اپنے کھڑے لنڈ کی طرف اشارہ کیا۔ میں:مجھے کیا پتا؟ ارشد:اچھا تم اسکا رس اپنے منھ سے ہی نکال دو اسکو آرام آجائے گا۔ یہ کہ کر اسنے اپنا ٹراؤزر تھوڑا نیچے کر کے اپنا لنڈ باہر نکال دیا۔ میں نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکے لنڈ کو منھ میں لے لیا اور چوسنے لگ پڑی اسکے لنڈ کو منھ میں آگے پیچھے کرنے لگ پڑی اور میرے لن چوسنے سے ارشد مزے کی وادیوں میں کھوتا جا رہا تھا ۔اب اس نے میرے بال پکڑ کر میرے منھ کو چودنا شروع کر دیا تھا۔آہستہ آہستا اسکے جھٹکے بھڑتے جا رہے تھے اس نے ایک زور دار جھٹکہ کھایا اور اپنی منی کو میرے منھ میں ہی نکال دیا میں نے اسکے لنڈ کو منھ سے نکلانے کی کوشش کی پر اسنے میر ے سر کو اپنے لنڈ پر دبائے رکھا جسکی وجہ سے اسکے منی میرے حلق کے اندر تک گئی مجھے ابکائی آنے لگی تو اس نے میرا منھ چھوڑ دیا ابھی میں اسکی منی منھ سے تھوکنے ہی لگی تھی کہ باہر دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا میں نے جلدی سے اسکی گرم گرم منی کو نگل لیا اور اسکو دروازہ کھولنے کا اشارہ دیا۔وہ دروازہ کھولنے چلا گیا میں نے جلدی سے منھ صاف کیا ڈوپٹے سے اور کمرے میں ایک جلدی سے نظر ماری کہ کوئی نشان رہ تو نہیں گیا ہے ۔جب سب کچھ ٹھیک ٹھاک ملا تو میں نے ائیرفریشنر نکال کر کمرے میں چھڑک دیا تاکہ امی منی کی بد بو نا سونگھ لیں۔اور خود کمرے سے باہر نکل آئی ۔دروازے پر امی ہی تھیں۔امی اندر آکر چارپائی پر بیٹھ گئی میں نے ان سے آنٹی زبیدہ کے بچے کا پوچھا تو انہوں نے بتا یا اس کے سر پر 3 ٹانکے لگے ہیں۔پھر امی نے مجھ سے پوچھا ارشد کو کچھ کھلایا ہے تو ارشد نے شرارتی لہجے میں کہا آنٹی اس نے مجھے آم کھلا دیے تھے ۔ امی نے کہا چلو اچھا ہے ۔ میں جا کر کمرے میں چلی گئی اور لیٹ گئی صبح کو اٹھ کر اسکول چلی گئی۔اسکول میں جیسے آدھی چھٹی ہوئی۔ماریہ مجھے لے کر لان میں جا کر بیٹھ گئی۔ ماریہ:آج بہت کھلی کھلی لگ رہی ہو خیر ہے۔ میں نے مسکرا کر اسکو کل والی بات بتا دی۔ماریہ نے خوشی سے مجھے چوم لیا اور کہا واہ کیا بات ہے پھر اس نے مزے لے لے کر مجھ سے سوالات پوچھنے شروع کر دئے۔ میں نے کہا یار وہ میرے بھائیوں جیسا تھا۔ ماریہ:ارے سیکس میں کوئی رشتہ نہیں ہوتا میرا بس چلے تو میں اپنے سگے باپ اور بھائی کو نا چھوڑوں تم کزن کی بات کرتی ہو۔ میں اُسکی بات سن کر حیران ہوگئی۔دل میں اُس پر لعنت بھیجی کہ کیسی بے شرم لڑکی ہے جو اپنے سگے باپ اور بھائی کے لئیے ایسی سوچ رکھتی ہے۔ اس کے بعد اس نے مجھے موبائل پر کلپ دکھانا شروع کر دئیے ۔چھٹی کے بعد گھر پہنچی تو پتا لگا ارشد واپس گھر چلا گیا ہے اسکی والدہ کی طبعیت خراب ہو گئی تھی ۔مجھے یہ جان کر تھوڑی مایوسی ہوئی۔میرا دل ابھی اور کر رہا تھا سیکس کی بھوک مٹانے کا۔میں نے کمرے میں جا کر موبائل اٹھا لیا۔سب سے پہلا کم یہ کیا کہ اس پر کوڈ لگایا کیونکہ ماریہ نے کہا تھا میں تم کو ڈیلی سیکسی ویڈیوز بھیجا کروں گی۔میرا موبائل گھر پر ہوتا تھا۔اس لئیے میں نے اسکو کوڈ لگا دیا تھا۔ ماریہ نے وعدہ کے مطابق مجھ کو ویڈیوز بھیج دیں۔جن کو دیکھ کر چوت میں آگ سی بھڑک اٹھی ۔میں نے شلوار میں ہاتھ ڈال کر چوت کو مسلنا شروع کر دیا ۔انگلی اندر ڈال کر چوت میں گھمانے لگی چوت کی آگ تھی کہ بجا ئے بھجنے کے بھڑکتی جا رہی تھی ہاتھ تھک گیا۔میں نے ایک ویڈیو دیکھی تھی جس میں لڑکی کھیرا کو چوت میں ڈال کر اندر باہر کر رہی تھی۔میں نے فریج میں جا کر دیکھا کھیرا تو نہیں ملا گاجر پڑی تھی ۔میں نے اسکو ہی غنیمت جانا اور کمرے میں آگئی گاجر کو چوت میں ڈال کر اندر باہر کرنے لگ پڑی۔کافی دیر بعد اچانک ایسا محسوس ہوا میرا سارے جسم کا خون سمٹ کر میری چوت کی طرف منتقل ہوگیا ہو خودبا خود میرے ہاتھ کی حرکت میں تیزی آگئی پورے جسم میں اکڑاہٹ شروع ہوگئ اور یک دم چوت سے پانی کا فوارہ نکلا ساتھ ہی پورے جسم میں مزے کی لہر سی دوڑگئی۔یہ ایک نیا تجربہ تھا میرے لیئے ۔میں نے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا تو ہاتھ پورا میری چوت سے نکلے ہوئے رس سے بھرا پڑاتھا میں نے اپنے ہاتھ کوچاٹ لیا۔اسکے بعد گاجر جس پر میری چوت کا رس لگاہوا تھا اسکو کھا لیا۔گاجر بہت مزے کی تھی نمکین رس اس پر لگا ہوا تھا۔اسکے بعد میں نے شلواراوپر کی اور لیٹ گئی پورے جسم میں سکون آگیا تھا۔یہ میرا معمول بن گیاتھا اسکول میں ہم دونوں ایک دوسرے سے سیکس کے ٹاپک پر بات چیت کرتے تھے۔گھر آکر میں اپنی چوت سے کھیلا کرتی تھی۔کبھی گاجر کبھی مارکر میری آگ بھجایا کرتے تھے۔ میں اور ماریہ ایک دوسرے سے بہت حد تک فری ہوچکی تھیں میں نے ماریہ کو ایک دن کہا یار کسی طرح کوئی لنڈ کا بندوبست کروادو اب گاجر وغیرہ سے کام نہیں چلتا۔ ماریہ:یار پیپرز ختم ہوجائیں پھر کچھ کراتی ہوں تیرا۔ پیپرز شروع ہو چکے تھے میرا پہلا پیپر انگلش کا تھا جو میں نے حسب معمول 2 گھنٹوں میں کر لیا تھا میری اسکی بہت اچھی تیاری تھی۔ویسے میرا معمول تھا میں پیپر حل کرنے کے بعد بھی کلاس میں بیٹھی رہتی تھی۔پر اگلے دن میرا میتھ کا پیپر تھا تو میں نے سوچا جا کر اسکی تیاری کر لیتی ہوں میں نے مس کو پیپر دیا اور اسکول سے نکل آئی ابھی10کا ٹائم ہوا تھا۔میرا پیپر ویسے 12 بجے ختم ہونا تھا۔میں اپنے گھر کی طرف چل دی جیسے ہی گلی میں داخل ہوئی تو میں نے امی کو سر ریاض کے گھر میں داخل ہوتے دیکھا۔ میں سمجھ گئی آج سر ریاض کی شامت آئی ہے اس نے اس دن جو کچھ میرے ساتھ کیا امی اج اسکی خوب بے عزتی کریں گی،کیونکہ اس دن امی نے کہا تھا تم اپنے ابو کو مت بتا نا میں خود اس ریاض کے بچے کو دیکھ لونگی۔ میں خود اس کی بے عزتی اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی تھی۔میں سر ریاض کے گھر کے سامنے پہنچ کر دروازے کو دھکا دیا تو وہ اندر سے بند تھا۔میں اپنے گھر آگئی،میں نے گیٹ پر لگے ہوئے تالے کو چا بی سے کھولا اور میں سیڑھیوں سے چھت پر چلی گئی وہاں سے سر کے صحن میں جھانکا پر وہاں بھی کوئی نہیں تھا۔میں نے سوچا امی نے اسکو کمرے میں لے جا کر بے عزت کرنے کا سوچا ہوگا تاکہ شور سن کر محلے والے اکھٹے نا ہوجائیں۔ہماری اور سر ریاض کی چھت ایک دوسرے سے ملی ہوئی تھیں بیچ میں 4 فٹ کی دیوار تھی جسکو پھلانگنا میرے لیئے کوئی مشکل کام نہیں تھا۔میں دیوار پھلانگ کر سر کی چھت پر آگئی ۔میرے دل میں سر کی بے عزتی دیکھنے کا شوق جاگ پڑا تھا۔میں سر کی سیڑھیوں سے ہوتی ہوئی سر کے صحن میں پہنچ گئی۔وہاں دروازے کی کِی ہول سے آنکھ لگا کر دیکھا تو اند کچھ نظر نہیں آیا۔اب سر کا بیڈ روم رہتا تھا میں سو چ میں پڑ گئی امی سر کے بیڈ روم میں کیوں گئی ہو نگی۔میں سر کے بیڈ روم کی کھڑکی کی طرف آگئی ۔ میں نے کوشش کر کے ایک سوراخ ڈھونڈ لیا میں نے جیسے اندر کا منظر دیکھا میرے چودہ طبق روشن ہو گئے ،سر ریاض ننگے لیٹے ہوئے تھے اور میری امی ان کا لنڈ مزے سے چو س رہی تھیں۔امی کی عمر 40 سال تھی پر وہ لگتی 30 کی تھیں جسم تھوڑا بھاری تھا۔سر کا لنڈ میرے اندازے کے مطابق کم از کم 9 انچ کا تھا کالا سیاہ ناگ کی مانند ۔میں نے جب سر کا لنڈ دیکھا تھا تو آدھا دھوتی میں تھا اور بعقول سر کے انھوں نے آدھا ہی میرے اندر گھسایا تھا۔اب سر کا پورا ننگا چمکتا ہوا موٹا تازہ لنڈ دیکھا تو میری چوت میں خارش شروع ہو گئی تھی۔سر نے امی کو کہا اب اپنے چوت کا رس بھی پلا دو ہمیں امی:جان یہ سارا رس تمھارے لیئے ہی ھے۔میرا دل تو نہیں کر رہا تھا تمہارے پاس آنے کو تم نے جو میری بچی کے ساتھ کیا پر اپنی چوت کی گرمی سے تنگ آکر آگئی تمھا رے پاس۔ ریاض:معاف کر دو اس دن میں نشے میں تھا میں ہوش کھو بیٹھا تھا۔ امی:میں جو اتنے سالوں سے تمہارے لنڈ کی آگ کو بجھاتی آئی ہوں تو لازمی میری بیٹی پر ہاتھ ڈالنا تھا شکر کرو فوزیہ کے ابو کو پتا نہیں چلا ورنہ بہت ہنگامہ ہونا تھا۔ ریاض:اچھا اب آؤ بھی ٹائم ضائع مت کرو۔ امی نے کپڑے اتار دئے اب امی بھی پوری ننگی ہو چکی تھیں ۔مجھے شرمندگی ہو رہی تھی امی کو ننگا دیکھتے ہو ئے پر چوت کی خارش مجھے ان کا سیکس دیکھنے پر مجبور کر رہی تھی۔امی اسکے منھ پر بیٹھ گئی دونوں 69 کی پوزیشن میں تھے امی سر کا لنڈ چوس رہی تھیں سر اسکی چوت کا رس۔کافی دیر تک وہ ایک دوسرے کے اعضاء کو چا ٹتے رہے سر نے امی کو نیچے اتارا اور انکو کہا چلو اب گھوڑی بن جاؤ۔امی جلدی بیڈ پر گھوڑی کی پوزیشن میں آگئی۔سر نے اپنے لنڈ کو امی کی چوت پر سیٹ کیا اور ایک جھٹکے سے پورا لنڈ امی کی چوت میں گھسا دیا۔امی کے جسم کو جھٹکا لگا امی: بہن چود آہستہ چود میں کہیں بھاگی جا رہی ہوں اپنا لنڈ دیکھ گھوڑے کی طرح ہے۔ ریاض ہنستے ہوئے :یار تم کونسا پہلی بار چد رہی ہو ۔ امی:تم نے میری بیٹی کا کیا حال کیا ہوگا وہ ابھی بچی تھی۔ ریاض:اس میں بھی صرف آدھا ہی ڈال سکا تھا۔ سر نے اب امی کی چوت کی ٹھکائی شروع کر دی تھی اور اس کے ساتھ ہی کمرہ ۔۔۔۔ چودائی کی مخصوص آوازوں سے گونجنے لگا۔۔۔۔۔۔۔جس میں اماں کی لزت آمیز سسکیوں کے ساتھ ساتھ سر کے زور داردھکوں کی آوازیں بھی شامل تھیں ۔۔۔کچھ دیر کے بعد سر نے اپنا لنڈ باہر نکال لیا ۔ امی کو کہا:جان اب یہ تمہاری گانڈ میں جانے کے لئے بے تاب ہے۔ یہ سن کر مجھے وہ منظر یا د آگیا جب سر کا لنڈ غلطی سے میری گانڈ میں چلا گیا تھا ،تکلیف سےمیں مرنے والی ہو گئی تھی۔ امی نےا پنے دونوں ہاتھ پیچھے کیئے اور اپنی انگلیوں کی مدد سے اپنی گانڈ کی دونوں پہاڑیوں کو الگ الگ کیا۔سر نے اپنے لنڈ پر کافی سارا تھوک لگایا اوراور پھر۔۔اس کے ساتھ ہی اس نے لن امی کی گانڈ پر رکھا اور د ھکا لگا دیا۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی سر کا لن پھلستا ہوا ۔۔۔ جڑ تک امی کی گانڈ میں چلا گیا۔امی نے مستی کے عالم میں اپنی گانڈ کو خود بخود آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا ۔یہ سب دیکھ کرمیری چوت میں مرچیں سی لگنا شروع ہو گیئں۔میں نے ایک ہا تھ اپنی شلوار میں ڈال دیا اور اپنی چوت کو مسلنے لگ پڑی کمرہ دھپ دھپ کی آوازوں سے گونجنا شروع ہو گیا۔امی کی اس نے جم کر چدائی کی امی تھک چکی تھیں پر سر اپنے پورے زور سے امی کی چدائی کر رہا تھا امی نے کہا مادر چود فارغ بھی ہو جا میرا برا حال ہو گیا ہے ۔تھوڑی دیر بعد سر کے دھکوں میں تیزی آگئی ۔میں سمجھ گئی سر فارغ ہونے لگے ہیں سر نےسپیڈ سے گھسے مارنے شروع کر دیئے۔۔۔ ادھر ان دھکوں کی تاب نہ لاتے ہوئے امی چلانے لگیں۔اور اس کے ساتھ ہی سر امی کے اوپر ڈھے گئے۔۔۔اس وقت اُن کا لن امی کی گانڈ میں پچکاری مار رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ سر کی ٹائمنگ کم از کم 30 منٹ تھی ۔ارشد تو بے چارہ 4 منٹ میں ہی فارغ ہو گیا تھا۔اس دن جب سر نے مجھے کیا تھا شائید میری چوت کی تنگی کی وجہ سے 15 منٹ میں فارغ ہو گئے تھے ۔پر وہ 15 منٹوں نے ہی مجھے بے حال کر دیا تھا۔ ان کی چودائی ختم ہوتے دیکھ کر میں بڑی آہستگی سے واپس مڑی۔۔۔۔۔ اور پھر دبے پاؤں چلتی ہوئی جدھر سے آئی تھی اسی سمت واپس چلی گئی اورچھت سے ہوتی ہوئی اپنےگھر میں داخل ہو گئی۔اوراپنے کمرے میں چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھٹکھٹایا میں نے دروازہ کھولا تو امی اندر داخل ہوگئی،امی نے پوچھا پیپر ہو گیا آج جلدی کیسے آگئی۔ میں نے دل میں سوچا اگر جلدی نا آتی تو آپ کی چوری کیسے پکڑتی پر میں نے کہا اگلے پیپر کی تیاری کرنی ہےاس لئے ۔ اب مجھے سمجھ آ گیا تھا امی روز سبزی لینے کے بہانے گھر سے نکلتی تھی اور ریاض صاحب کے گھر جا کر چدوا کر آجا تی تھیں۔اور یہ سلسلہ پتا نہیں کتنے عرصے سے چل رہا تھا۔ میں کمرے میں داخل ہو کر کنڈی لگا ئی اور بیڈ پر لیٹ کر بستے سے مارکر نکالا ۔میری چوت میں آگ لگی ہوئی تھی اسکو لنڈ چا ہیے تھا سر کا موٹا تازہ لنڈ میری آنکھوں کے سامنے آجا رہا تھا۔میں نے جم کر چوت میں مارکر سے اندر باہر کیا پر چوت کی آگ تھی کہ ٹھنڈی نہیں ہو رہی تھی۔تھک ہار کر میں نے مارکر کو رکھ دیا اور نہانے کے لئے چل پڑی۔نہا کر کچھ سکون مل گیا۔ شام کو ابا جلدی گھر آ گئے اور امی کو بتا یا ارشد کی امی کو ہا رٹ اٹیک ہوا ہے انکو ہسپتال لے کر گئےہیں ہم کو جانا پڑے گا ۔ ارشد والے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں رہتے تھے۔ امی:ہم کیسے جا سکتے ہیں صبح فوزیہ کا پیپر ہے اور اسکو گھر میں اکیلے بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ میں:امی آپ میری فکر نہ کریں میں ماریہ کو بلا لوں گی ہم دونوں مل کر پیپرز کی تیاری بھی کر لیں گی۔ امی:میرا دل تو نہیں مان رہا پر جانا بھی ضروری ہےورنہ خاندان والے باتیں بنائیں گے۔ میں:امی آپ میری فکر نہ کریں آپ آرام سے جائیں،میں ابھی ماریہ کو فون کر دیتی ہوں۔ میں کمرے میں چلی آئی ۔میرا ارادہ ماریہ کو بلانے کا نہیں تھا میرے دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا تھا۔ میں تھوڑی دیر میں کمرے سے باہر نکل آئی امی نے پوچھا: کیا کہا ماریہ نے میں:ماریہ کا بھائی آجائے وہ اسکو چھوڑجا ئے گا آپ پریشان نہ ہوں۔ امی کا دل تو نہیں مان رہا تھا انہوں نے بہرحال تیاری کر لی اورساتھ ساتھ مجھے نصیحتیں اور تاکیدیں کرتی جا رہی تھیں۔جنکو میں ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالتی جا رہی تھی ۔تھوڑی دیر بعد ابو اور امی گھر سے بس اسٹینڈ کی طرف چل دیئے ۔اور میں تیار ہو نے لگ پڑی میرا ارادہ آج سر ریاض کے لنڈ کا مزہ چکھنے کا تھا۔میں خوب تیا ر ہو کر شام7 بجے کا انتطا ر کرنے لگ پڑی۔ایک تو مجھے یہ کنفرم کرنا تھا کہ امی والے کوچ پر بیٹھ گئے ہیں۔دوسری وجہ یہ تھی کہ سر 6 بجے تک ٹیوشن پڑھاتے تھے۔تھوڑی دیر کے بعد امی کا فون آگیا امی کا پہلا سوال ماریہ کے بارے میں تھا میں نے جھو ٹ بول دیا کہ ماریہ آگئی ہے آپ پریشا ن نہ ہوں پھر امی نے بتایا ہم کوچ میں بیٹھ گئے ہیں۔امی کے فون بند ہونے کے بعد میں شدت سے 7 بجنے کا انتظا ر کرنے لگ پڑی۔جیسے 7 بجے میں نے تھوڑا انتظار کیا کہ باہر تھوڑا اندھیرا ہو جائے۔جیسے رات کی تاریکی بڑھنا شروع ہوئی میں چھت پر آگئی اور اُسی طرح چھت پھلانگ کر سر کے گھر میں دا خل ہو گئی ۔سر کے گھر میں چوری چھپے داخل ہو کر میں سر کی بیٹھک میں آ گئی وہاں کوئی نہیں تھا میں نے سمجھ لیا سر بیڈ روم میں ہوں گے میں نے بیڈ روم کے دروازے کو ہلکا سا دھکا دیا تو کھل گیا۔میں آہستہ سے بیڈ روم میں داخل ہو گئی ۔سر بیڈ روم میں نہیں تھے سر شائید واش روم میں تھے کیونکہ واش روم میں پانی چلنے کی آوازیں آرہی تھیں ۔میں چپ چاپ جا کر بیڈ پر لیٹ گئی تھوڑی دیر بعد سر واش روم سے نکلے مجھے بیڈ پر لیٹا دیکھ کر بری طرح چونک گئے۔ سر:تم میرے بیڈ روم میں کیسے داخل ہوئی با ہر کا گیٹ تو لاک ہے میں:جس طر ح میں اُس دن داخل ہوئی تھی جب آپ اور میری ماں مزے لے رہے تھے۔ سر:اچھا تو تم نے سب کچھ دیکھ لیا تھا۔ میں :ہاں میں سب کچھ جا ن چکی ہوں۔ سر:اب تم کیا چاہتی ہو میں :کچھ نہیں بس اپنی جسم کی آگ کو بجھانا چاہتی ہوں جس کو تم نے بھڑکا یا ہے۔ یہ کہہ کر میں نے اپنی ٹانگوں کو تھوڑا کھول دیا۔ میرا یہ سیکسی انداز دیکھ کر تو سر جیسے پا گل سے ہو گئے سر نے ایک جھر جھری لی اور میرے پر ٹوٹ پڑے ،سر نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور مجھے کس کرنا شروع کر دیا میں نے بھی سر کا بھرپور ساتھ دینا شروع کر دیا کبھی سر کی زبان میرے منھ میں ہوتی تو کبھی میری زبا ن سر کے منھ میں ،ہم نے کافی دیر تک ایک دوسرے کو کس کی سر کا ہاتھ میرے مموں سے کھیل رہا تھا میں نے اپنی قمیض کو خود ہی اتار لیا سرمیرے مموں کو دیکھ کر پاگلوں کی طرح ٹوٹ پڑا اور نپلز پر کاٹنے لگ پڑا سر کا انداز وحشیانہ تھا ۔اس کے بعد سر میرے پیٹ پر کسنگ کرنے لگ پڑے پھرانہوں نے میری شلوار اُتا ر دی ۔اور پیٹ سے ہوتے ہوئے وہ میری چو ت پر آ ئے اور میری چوت کو چا ٹنے لگے۔چوت کے لب کھول کر اپنی زبان کو اندر ڈال دیا میں مزے کی دنیا میں جیسے کھو سی گئی تھی ۔واقعی ماریہ نے سہی کہا تھا جسم کی بھوک بہت ظالم ہو تی ہے یہ ہی وہ شخص تھا جس نے میری عزت کو تا ر تار کیا تھا پر میں اپنی جسم کی بھوک سے مجبور ہو کر اسکےسامنے لیٹی ہوئی تھی۔ سر میری چوت کو چا ٹتے جا رہے تھے ساتھ ساتھ میری چوت کے اوپر جو دانہ سا بنا تھا اسکو مسلتے جا رہے تھے ۔پھر انہوں نے اپنا منھ میری چوت کے اوپر لگے دانے پر رکھ دیا اور اس کو چوسنے لگے ۔ اس سے مجھے اتنا مزہ آیا کہ میں بیڈ پر بُری طرح تڑپنے لگی سر کو کبھی دائیں کبھی بائیں مارنے لگی ۔سر دوبارہ چوت کے اندر اپنی زبان ڈال کر مجھے زبان سے چودنے لگ پڑے سر کی زبان کو اندرباہر کرنے سے مجھے مزہ آرہا تھاکمرہ میری سسکیوں اور آہوں سے گونج رہا تھا ۔تھوڑی دیر کے بعد میرے جسم نے آکڑنا شروع کر دیا اورسانسوں تیز ہو گئیں۔میں سمجھ گئی میری چوت پانی چھوڑنے والی ہے میں نے ریاض کو پیچھے ہٹانا چا ہا پر وہ نہیں ہٹامیری چوت نے اچانک پانی چھوڑ دیا جسکو ریاض صاحب نے کچھ پی لیا اور کچھ منھ میں رکھ کر میرے منھ میں انڈیل دیا جسکو میں نے پی لیا۔اور زبان سے ریاض صاحب کے منھ پر لگے ہوئے اپنی چوت کے رس کوصاف کیا۔ سر میرے ساتھ ہی لیٹ گئے تھے میں نے سر کے ہونٹوں پر کسنگ شروع کر دی اور سر کی گردن سے ہوتی ہوئی سر کے پیٹ پر آئی سر نے حسب معمول دھوتی پہنی ہوئی تھی جس میں سے سر کا لنڈ باہر آنے کے لیے مچل رہا تھا ۔میں نے سر کی دھوتی کو اتارا تو اندر سے کالا شیش نانگ باہر آ گیا سر کا لنڈ میں نے اب قریب سے دیکھا تھا سر کا لنڈ تقریبا9 انچ کے لگ بھگ تھا اور اچھا خاصا موٹا تھا۔میری بازو کے جتنی موٹائی تھی۔میں نے سر ریاض کی لنڈ کی ٹوپی پر اپنی زبان کو گھمایا اور مزے سے اسکو چاٹنے لگ پڑی سر کے لنڈ کی ٹوپی اور ایک یا دو انچ میرے منھ میں جا سکا جیسے تیسے کر کے میں نے سر کے لنڈ پر اپنے منھ کو چلانا شروع کر دیا کبھی سر کے لنڈ کی ٹوپی پر اپنے دانت گاڑ دیتی تو سر مزے اور تکلیف سے تھوڑا کراہ اٹھتے۔سر کے لنڈ سے نکلنے والے لیس دار پانی کو میں پیتی جا رہی تھی۔سر کے لنڈ کو اچھی طرح اپنی زبان اور تھوک سے گیلا کیا اور سر کو لیٹنے کا کہا سر سیدھا لیٹ گئے سر کا لنڈ کسی بانس کی طرح سیدھا کھڑا تھا میں نے اوپر آکر اپنی چوت کو سر کے لنڈ کے اوپر سیٹ کیا اور آہستہ آہستہ اندر لینا شروع کیا تھوڑا سا اندرجانے کے بعد میں نے خود کو روک لیا اب آہستہ آہستہ درد ہونا شروع ہو گیاتھا۔میں نے دوبارا باہر نکالا اور پھر اندر ڈالا میں نے نیچے نظر ماری تو دیکھا ابھی تک آدھا ہی اند ر گیا تھا میں نے سر کے لنڈ پر اوپر نیچے ہونا شروع ہوگئی تھی میں مزے کی انتہا پر پہنچ چکی تھی میں نے بے اختیا ر سر کو کہا مجھے گالیاں نکالو

Posted on: 01:18:AM 13-Dec-2020


1 3 2938 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 11 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 74 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com