Stories


چاچی کا دیوانہ پارٹ ٹو

نامکمل ہے

 جب میں اسلام آباد اپنے گھر واپس آ گیا میرا دِل ہی نہیں لگ رہا تھا . کیونکہ مجھے شیخوپورہ میں گزارے ہوئے دن اور نورین عشرت آنٹی ثمینہ چچی سائمہ آنٹی اور بلال والی آنٹی سب یاد آ رہے تھے . لیکن میں کیا کر سکتا تھا مجھے واپس بھی آنا تھا اور آ کر اپنی اگلی پڑھائی کا کچھ کرنا تھا . خیر میں نے مہوش اور آسمہ آنٹی سے پہلے فوزیہ آنٹی اور حنا کے معاملے کو پہلے سیٹ کرنا ہے . میں نے حنا کے ساتھ ملنے کا پلان بنانے لگا . مجھے آئے ہوئے 4 دن ہو گئے تھے آج منگل تھا میں سوچا حنا لاہور سے واپس آ چکی ہو گی اور وہ پنڈی میں اپنی ڈیوٹی پے آ چکی ہو گی . میں صبح کے ٹائم یونیورسٹی کے لیے نکل گیا میں نے 3 یونیورسٹی کی انفارمیشن اکٹھی کر چکا تھا ٹائم دیکھا تو 1 بجنے والا تھا میں سیدھا گھر آ گیا اور آ کر نہا دھو کر كھانا کھایا اور اپنے بیڈروم میں گیا اور تقریباً 3 بجے کے وقعت میں نے اپنے نمبر سے حنا کا ایس ایم ایس کیا کے کیا حال ہے کیسی ہو راولپنڈی چلی گئی ہو . میں ایس ایم ایس بھیج کر جواب کا انتظار کرنے لگا . لیکن کوئی جواب نہیں آیا . میں نے اپنا لیپ ٹاپ لگا لیا اور کچھ سائیٹس دیکھنے لگا . کوئی 20 منٹ بَعْد مجھے ایس ایم ایس آیا میں دیکھا وہ حنا کا ہی تھا اس نے جواب دیا میں ٹھیک ہوں میں راولپنڈی میں ہوں ڈیوٹی پے ہی ہوں تم سناؤ کیسے ہو آج کیسے یاد کر لیا . میں نے جواب دیا آپ کوئی بھولنے والی چیز ہیں . آپ تو ہمیشہ دِل میں ہیں . وہ الگ بات ہے آپ ہی بھول جاتی ہیں . آپ نے کہا تھا میں راولپنڈی جا کر رابطہ کروں گی لیکن آپ نے نہیں کیا میں کل آپ کی کال یا ایس ایم ایس کا انتظار کرتا رہا تھا . آج خود کر دیا . تو آگے سے حنا کا جواب آیا سوری ڈیئر میں کل آ کر کافی مصروف تھی کل شام تک 2 آپْریشَن تھے اس کے لیے مصروف تھی ٹائم ہی نہیں ملا . پِھر میں نے حنا کے ساتھ کچھ یہاں وہاں کی باتیں کرتا رہا باتوں باتوں میں نے اس کے اسپتال کا نام اور کس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتی ہے کا پوچھ لیا . وہ اسپتال زیادہ دور نہیں تھا . خیر کچھ دیر گپ شپ لگاکر بائے بول دیا اِس طرح ہی میں نے اس سے جمه تک 2 اور مرتبہ ایس ایم ایس پے گپ شپ لگائی . لیکن میں نے اس کو اپنےبارے میں نہیں بتایا کے میں اسلام آباد میں رہتا ہوں . میں اصل میں اس کو سرپرائز دینا چاہتا تھا . اِس لیے ہفتے والے دن شیو وغیرہ کی پینٹ شرٹ پہنی اور موٹر بائیک نکالی اور پنڈی کی طرف نکل آیا . اور پِھر میں حنا کےبتا ے ہوئے اسپتال پہنچ گیا . موٹر بائیک کو پارکنگ میں کھڑا کر کے میں اسپتال کے اندر چلا گیا حنا گا  ئِینی ڈیپارٹمنٹ میں ڈیوٹی دیتی تھی . میں نے رسپشن سے حنا کے ڈیپارٹمنٹ کا پتہ کیا اس نے مجھے رستہ بتا دیا میں تلاش کرتا ہوا حنا کے ڈیپارٹمنٹ کے سامنے کھڑا ہو گیا میرے دِل دھک دھک کر رہا تھا کیوں مجھے یہ ڈر تھا کہیں حنا برا نا مانجائے . لیکن میں نے پِھر ہمت کی اورگیٹ کھول کر اندر چلا گیا اندر داخل ہوا تو دیکھا باہر ویٹنگ میں کافی اور خواتین مریض بیٹھی تھیں. . ان میں زیادہ تر پریگننٹ خواتین تھیں . میں نے یہاں وہاں دیکھا مجھے ایک سائڈ پے رسپشن نظر آیا . میں چلتا ہوا وہاں گیا وہاں ایک لڑکی منہ نیچے کر کے پیپرز پے کچھ لکھ رہی تھی . میں قریب پہنچ کر اس لڑکی سے بولی مجھے حنا سے ملنا ہے . جب اس لڑکی نے سر اٹھایا تو میں حیران رہ گیا وہ حنا تھی منہ نیچے کر بیٹھی کچھ لکھ رہی تھی . اس نے مجھے دیکھا وہ حیران ہو کر ہکا بقا رہ گئی اور حیرت سے میرا منہ دیکھتی رہ گئی . اور پِھر بولی کا شی آپ یہاں کب اور کیسے آئے ہیں . میں نے کہا دیکھ لیں دِل میں چاہت ہو تو بندہ کہیں بھی ہو آ ہی جاتا ہے . بس میں ب بھی آ گیا ہوں . وہ میری بات سن کر مسکرائی . اتنی دیر میں ایک اور نرس آئی وہ بھی کیا کمال کا چیز تھی ایک دم ٹائیٹ مال تھی یا 32 سال کی ایک گوری چیھ اور ایک دم سیکسی آنٹی ٹائپ تھی . ممے بھی کافی اچھے تھے اس کے بھرا ہوا جسم تھا اس کا . میں نے اس کی شرٹ پے لگے بیچ پر نام پڑھ تو شازیہ لکھا ہوا تھا . ابھی میں اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا تو حنا بولی شازیہ تم تھوڑا یہاں دیکھو میں ابھی آتی ہوں میرامہمان آیا ہے . میں تھوڑی دیر تک آتی ہوں . اور مجھے کہا کا شی آؤ باہر چلتےہیں . حنا رسپشن سے نکل کر آگے آگے چل پڑی میں اس کے پیچھے چل پڑا میں نے گیٹ کے قریب پہنچ کر مڑ کر دیکھا شازیہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی میں نے شرارتی سی سمائل پاس کی تو وہ بھی مجھے دیکھ کر مسکرا پڑی اور پِھر منہ نیچے کر لیا . میں پِھر وہاں سے حنا کے ساتھ کیفیٹیریا میں آ گئے حنا نے کچھ آرڈر کیا اور میں اور وہ جہاں اسٹاف کے لوگ بیٹھتے تھے وہاں آ کر بیٹھ گئے . پِھر حنا بولی کا شی تم یہاں کیسے اور کب آئے ہو تو میں نے آنکھ مار کے کہا حنا جی ابھی موٹر بائیک پے آدھا گھنٹہ پہلے آیا ہوں. تو میری بات سن کر حیران ہو ہوئی اور بولی میں سمجھی نہیں تم کیا کہہ رہے ہو . میں نے کہا حنا جی میں نے آپ کو سرپرائز دینا تھا اِس لیے آپ سے چھپا کر رکھا اصل میں میں اسلام آباد میں رہتا ہوں اور پِھر میں نے حنا کو اپنی ساری اسٹوری سنا دی . وہ کافی حیران بھی ہوئی اور خوش بھی ہوئی . میں نے کہا حنا جی اب تو ہم آپ کے دِل کے بہت قریب ہیں اب تو ملنے کا موقع دے ہی دیا کریں گی . تو وہ میری بات پے مسکرا نے لگی اور بولی ابھی بھی تو ملنے ہی آئے ہو . میں نے کہا ہاں یہ تو ہے ، ویسے آپ کو چھٹی کب ہوتی ہے . تو حنا نے کہا میری لگاتار ڈیوٹی ہوتی ہے میں مہینے کے آخر پے لے کر گھر چلی جاتی ہوں . میں نے کہا آپ یہاں کہا ںرہتی ہیں تو حنا نے کہا میرے اسپتال کے بالکل آخر پے اسپتال کا ہاسٹل ہے وہاں ہی رہتی ہوں . میں نے کہا حنا جی آپ کی ڈیوٹی ٹائم یہ ہی ہے تو وہ بولی 3 دن ڈے میں ہوتی ہے 3 دن نائٹ میں . جب نائٹ میں ہوتی ہے تو دن کو ہاسٹل میں سارا دن سوئی رہتی ہوں . جب دن کو ہوتی ہے تو رات کو سوئی رہتی ہوں .   میں نے آنکھ مار کر کہا چپلیں اچھی بات ہے جب نائٹ کی ڈیوٹی ہو گی تو دن کو کبھی کبھی ہمیں بھی اپنی خدمت کا موقع تو دیا کریں گی نہ تو حنا میری بات سن کر شرما گئی اور منہ نیچے کر لیا . پِھر کچھ دیر بَعْد ویٹر چائے اور کچھ کھانے پینے کی چیزیں لے آیا . ہم وہ بھی کھاتے پیتے رہے اور یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے . پِھر میں مزید کچھ دیر گپ شپ لگا کر واپس گھر آ گیا . اب میری حنا سے تقریباً ہر روز بات ہونے لگی اور درمیان میں میں جب وہ کہتی تو اس کو اسپتال میں مل آتا تھا . میں نے اس کے ساتھ کھلا مذاق شروع کر دیا تھا . سیکس کے موضوع پے بھی بات ہونے لگی لیکن میں نے ابھی تک اس کے ساتھ کچھ کرنے کا نہیں کہا تھا . ایک دن میں اس کے ساتھ رات کو ایس ایم ایس پے بات کر رہا تھا تو میں نے پوچھا حنا ایک بات سچ سچ بتاؤ گی تو وہ بولی ہاں پوچھ لو میں کوشش کروں گی . میں نے کہا حنا تم نے کہا تھا کے تم ابھی کنواری ہو اور کسی کے ساتھ چکر بھی نہیں رکھا لیکن پِھر یہ کیا بات ہے کے تمہاری بُنڈ پیچھے سے مست اور موٹی ہے تمہاری کمر کے حساب سے کافی باہر کی نکلی ہوئی ہے

. ایسی بُنڈ تو زیادہ تر شادی شدہ عورت کی ہوتی ہے . حنا میری بات سن کر خاموش ہو گئی تھی . میں نے پوچھا حنا جی اگر سچ نہیں بتانا چاہتی تو جھوٹ ہی بتا دیں . تو وہ بولی کا شی تم بہت تیز اور چالاک لڑکے ہو . میں نے جب ٹرین میں دیکھا تھا مجھے لگا تم ایک پڑھے لکھے لڑکے ہو ڈیٹ وغیرہ یا لڑکیوں سے دوستی کرتے ہو گے . لیکن مجھے نہیں پتہ تھا تم تو پکے کھلاڑی ہو . اور عورت کا پورا ایکسرے اُتار لیتے ہو . میں اس کی بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا حنا جی اب ایسا ظلم بھی نہیں کرو . میں اتنا بڑا بھی کھلاڑی نہیں ہوں . آج تک حقیقت میں پھدی کی شکل تک نہیں دیکھی ہے . انٹرنیٹ پے یا موویز وغیرہ میں ہی دیکھی ہے . تو وہ بولی کا شی جی میں انتی بھی سیدھی یا بچی نہیں ہوں جو تم جیسے کھلاڑی کو سمجھ نہیں سکتی . تم پکے شکاری ہو . اور مجھے یقین ہے تم نے نا صرف پھدی کی شکل دیکھی ہے بلکہ تم نے کتنی دفعہ ماری بھی ہوئی ہے اور تم نے کتنی دفعہ گانڈ بھی ماری ہوئی ہے . میں اس کی بات سن کر کھل کھلا کر ہنسا . میں نے کہا حنا جی اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے . ہاں 2 یا 3 دفعہ کیا ضرور ہے لیکن جس طرح آپ میری تعریف کر رہی ہیں . ایسا کچھ بھی نہیں ہے . حنا نے کہا اچھا یہ تو بتاؤ کون ہے وہ جس اب تک 2 یا 3 دفعہ کر چکے ہو . تو میں نے کہا حنا جی یہ باتیں فون پے بتانے والی نہیں ہوتی ہیں . تھوڑا صبر کریں جب آپ سے اکیلے میں ملاقات ہو گی اور پیار محبت کی بات ہو گی تو پِھر میں آپ کو اپنے پیار محبت کی اسٹوری بھی سنا دوں گا . حنا بولی آرام سے جناب ابھی مجھ سے پیار محبت والا کام تھوڑا لیٹ ہے . ابھی تو آپ کے بارے میں کچھ سمجھنا ہے دیکھنا ہے پِھر کچھ سوچوں گی . میں نے کہا حنا جی دِل توڑنرہی ہیں بندہ جھوٹی تسلی ہی دے دیتا ہے . . تو وہ ہنسنے لگی اور بولی میں نے کب دِل توڑا ہے میں نے بس یہ ہی کہا ہے تھوڑا صبر کریں . میں نے کہا چلو ٹھیک ہے حنا جی آپ کے لیے یہ بھی منظور ہے . پِھر میں نے کہا حنا جی آپ تو مجھے سے بھی زیادہ چالاک ہیں میں نے آپ کو کچھ پوچھا تھا آپ نے مجھے میری ہی باتوں میں الجھا کر رکھ دیا ہے . اب زیادہ ظلم نہ کریں اور بتا دیں یہ آپ کی مست اور اتنی سیکسی بُنڈ کا کیا راز ہے . پِھر میں نے یکدم پوچھ حنا جی آپ کے روم میں آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے تو وہ بولی نہیں میں اکیلی ہی ہوں میری روم میٹ کی آج نائٹ ڈیوٹی ہے اِس لیے میں اکیلی ہوں . آپ کیوں پوچھ رہے ہیں . میں نے کہا حنا جی آپ اور میں اتنی پرسنل اور گرم گرم باتیں کر رہے ہیں . کوئی سن نہ لے اِس لیے پوچھ رہا تھا . تو وہ بولی تم نے مجھے اتنا پاگل سمجھ رکھا ہے . کے میں کسی کے بھی سامنے تمھارے ساتھ اتنی کھلی کھلی باتیں کروں گی . میں نے کہا ہاں جی مجھے پتہ ہے آپ کافی سمجھدار ہیں . پِھر میں نے کہا اب بتا بھی دیں کیوں تڑپا رہی ہیں . حنا آگے سے بولی آپ جان کر کیا کریں گے وہ بات تو اب پرانی ہو چکی ہے . میں نے کہا حنا جی بات تو پرانی ہے لیکن اِس بات نے ہی تو آپ کے جسم کو چارچاند لگا دیا ہے آپ کو ایک مست اور سڈول جسم دے دیا ہے اِس لیے تو جاننا چاہتا ہوں آخر اِس مست اور سیکسی جسم کے پیچھے راز کیا ہے . کیونکہ آپ نے تو ابھی شادی بھی نہیں کی ہوئی ہے اور کنواری بھی ہیں پِھر یہ کیسے ممکن ہوا ہے . حنا آگے سے بولی آپ کو میرے جسم میں میری بُنڈ کے علاوہ اور کچھ اچھا نہیں لگا جو میری بُنڈ کے ہی عاشق ہو گئے ہیں . تو میں نے کہا حنا جی آپ کیا بات کر رہی ہیں . آپ تو سر سے لے کر پاؤں تک سراپا حسن ہیں آپ کی ایک ایک چیز بھرپور طریقے سے عیاں ہے . آپ کے ممے آپ کی بُنڈ آپ کا کسا ہوا پیٹ ہر چیز ہی مست ہے . حنا بولی واہ کیا بات ہے آپ کو میں سچ میں ایسی لگتی ہوں یا بس مجھ سے مزہ لینے کے لیے سب تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں اور ویسے بھی آپ نے پورے جسم میں ایک خاص حصے کا تو نام ہی نہیں لیا . میں نے کہا حنا جی سچ کہہ رہا ہوں تعریف کر کے اگر مزہ لینے کے موڈ میں ہوتا تو آج آپ سے بات کرتے ہوئے تقریباً 20 دن سے زیادہ ہو گئے ہیں میں پہلا ہفتہ ہی تعریفوں کے پل باندھ کر آپ سے کچھ نہ کچھ وصول کر چکا ہوتا اور اگر نہ کچھ ہو سکتا تو شاید آج آپ سے بات بھی نہیں کر رہا ہوتا . اِس لیے آپ کے ساتھ مخلص ہوں اور دِل سے عزت اور چاہت رکھتا ہوں تو آپ کی مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیں کر رہا آپ جب ملنے کے لیے بلاتی ہیں تو ہی آتا ہوں . اب مجھے نہیں پتہ آپ خود مجھ سے بس اچھے اور یادگار دوست کی حد تک تعلق بنانا چاہتی ہیں یاپكہ شادی کا رشتہ بھی بنانا چاہتی ہیں . اور آپ کے جسم کے خاص حصے کو میں بھلا کیسے بھول سکتا ہوں وہ ہی تو ایک یاد کرنے والی چیز ہے لیکن کیا کروں میں نے ابھی تک اس کا منہ تک نہیں دیکھا پِھر اس کی تعریف کیسے کرتا . یہ سب باتیں بول کر میں خاموش ہو گیا . پِھر حنا بولی کا شی جی ایک بات صاف صاف بتا دینا چاہتی ہوں . کہ شادی والے رشتے کا میں نہیں کر سکتی میری منگنی بہت پہلے ہی میرے کزن کے ساتھ ہو چکی ہے میں اس وقعت میٹرک میں تھی جب ہوئی تھی . میرا منگیتر انگلینڈ میں ہے وہ وہاں پڑھنے کے لیے گیا ہوا ہے . اس کی اگلے سال ڈگری مکمل ہو جائے گی . پِھر آ کر وہ شادی کرے گا . ہاں دوستی کا رشتہ میں آپ سے پکا بنا سکتی ہوں . شادی سے پہلے بھی رکھ سکتی ہوں اور شادی کے بَعْد میں بھی . یہ بات سچ ہے میں نے آپ کو جب ٹرین میں دیکھا تھا تو مجھے آپ پہلی ہی نظر میں پسند آ گئے تھے . اگر میری مجبوری نہ ہوتی شاید میں آپ سے ہی شادی کر لیتی . لیکن میری مجبوری ہے . میرے ابو فوت ہو چکے ہیں اس کے بَعْد گھر میں میں اور میری ا می اور ایک بڑی باجی ہیں جن کی شادی ہو چکی ہے وہ لاہور میں ہی رہتی ہیں اور میرا ایک چھوٹا بھائی ہے جس کی عمر ابھی صرف 12 سال ہے وہ ابھی میں پڑھ رہا ہے . میں اپنے گھر کا سب خرچہ خود چلاتی ہوں . میرا منگیتر میری خالہ کا بیٹا ہے میری خالہ کا ایک ہی بیٹا ہے اور میری ا می کی ایک بہن ہے اور کوئی بہن یا بھائی نہیں ہیں . اِس لیے میری ا می کی بس خواہش ہے کے میں اپنی خالہ کی بہو بنوں . میں اپنی ا می سے بہت پیار کرتی ہوں اِس لیے میں ان کو کبھی بھی نہ نہیں کر سکتی . کیونکہ میری بڑی باجی نے اپنی مرضی سے پھوپھی کے گھر شادی کی تھی لیکن اب وہ بھی اپنے میاں سے خوش نہیں ہے میں آپ کو پِھر کسی وقعت ان کی اسٹوری سنائوں گی اِس لیے اب میں ہی ہوں جس سے وہ اپنی خواہش پوری کر سکتی ہیں . اِس لیے میری مجبوری ہے . میں نے کہا حنا جی میں آپ کی مجبوری کو سمجھ سکتا ہوں اِس لیے میری طرف سے بے فکر ہو جائیں . آپ نے مجھے شادی سے پہلے اور بَعْد میں بھی اپنا دوست بنا لیا ہے تو مجھے یہ ہی بہت خوشی ہے . پِھر میں نے کہا اچھا حنا جی اب تو ہم دوست بن گئے ہیں اب تو وہ بات بتا دیں جو میں نے پہلے پوچھا تھا . تو حنا نے لمبی سی سانس لی اور بولی کہ آپ میری زندگی کے پہلے بدںے ہو جس کو میں اپنا راز اور اپنے دِل کی باتیں بتا رہی ہوں . پِھر اس نے کہا کا شی یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے میٹرک کے فائنل پیپر دینے تھے . میں دن رات تیاری کر رہی تھی . مجھے تھوڑا کیمسٹری اور میتھ میں مشکل آ رہی تھی . میں نے ا می کو کہا امی مجھے ان دو پیپرز کے لیے 1 مہینہ کے لیے ٹیوشن لینی ہے

تو ا می نے کہا میں دیکھتی ہوں محلے میں کون ایسی لڑکی ہے جو تمہیں پڑھا سکے پِھر ا می نے آگے پیچھے دیکھا تو کوئی لڑکی ٹیچر نہ ملی لڑکے ہی مل رہے تھے اِس لیے ا می کسی بھروسے کے بندے کی علاوہ یقین نہیں کرتی تھی . ا می نے خالہ سے بات کی تو خالہ نے ا می کو کہا کے باہر جانے کی کیا ضرورت ہے . عامر ہے نہ وہ حنا کو پڑھا دے گا . تو ا می خوش ہو گئی کیونکہ ا می کو بھروسہ بھی تھا اور دوسرا ا می نے میرے لیا عامر کو ہی شادی کے لیے چنا ہوا تھا . خالہ اور عامر بھی یہ بات جانتا تھے عامر شروع سے ہی مجھے بہت پسند کرتا تھا لیکن ہماری منگنی نہیں ہوئی تھی خالہ اور ا می نے آپس میں ہی بات پکی کی ہوئی تھی جس کا مجھے بھی اور عامر کو بھی پتہ تھا . عامر نے ایف س سی مکمل کر لی تھی . وہ اپنے رزلٹ کا انتظار کر رہا تھا . اِس لیے خالہ نے عامر کو بول کر مجھے پڑھانے کا بول دیا . وہ فارغ تھا اِس لیے وہ رازی ہو گیا اور اگلے دن ہی 3 بجے کے وقعت ہمارے گھر آ گیا ا می اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی اس کی کافی خدمت کی اور وہ مجھے اس دن 5 بجے تک پڑھا کر چلا گیا . ایسی طرح ہی 3 دن گزر گئے اور عامر آ جاتا اور مجھ پڑھاے کر چلا جاتا . ا می اور میرا چھوٹا بھائی تو دو پہر کو سو تھے ابو کام پے ہوتے تھے . اِس لیے عامر روز آ کر مجھے میرے کمرے میں ہی پڑھا کر چلا جاتا تھا . 5 سے 6 دن بَعْد کی بات ہے گھر میں سب سوئے ہوئے تھے میں عامر سے اپنے کمرے میں پڑھ رہی تھی . تو عامر نے مجھے کہا حنا تمہیں پتہ ہے تمہاری اور میری بات پکی ہوئی ہے اور تم سے میری شادی ہو گی . میں تھوڑا سا شرما گئی اور آہستہ آواز میں بولی جی عامر بھائی مجھے پتہ ہے . عامر نے کہا حنا تم پاگل ہو تمہاری اور میری شادی ہو گی اور تم میری بِیوِی بنو گی اور تم مجھے بھائی بلا رہی ہو . تو میں اس کی بات سن کر شرما گئی اور منہ نیچے کر لیا . تو اس نے کہا مجھے آئِنْدَہ سے بھائی نہیں کہنا مجھے بس میرے نام عامر سے بلا لیا کرو . تو میں بولی ا می اور خالہ میرے بارے میں کیا سوچے گی کے میں آپ کو نام سے بلاتی ہوں . تو عامر نے کہا پاگل کوئی بھی کچھ نہیں بولے  گا سب کو پتہ ہے تم سے میری شادی ہو گی اِس لیے کوئی بھی برا نہیں مناے گا بس تم مجھے میرے نام سے پکارا کرو . میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے . پِھر وہ مجھے پڑھا کر چلا گیا . اگلے دن پِھر جب میں پڑھ رہی تھی تو عامر نے کہا حنا ایک بات تو بتاؤ میں تمہیں کیسا لگتا ہوں تم مجھے پسند کرتی ہو یا نہیں . تو میں خاموش ہو گئی . اور پِھر عامر نے پوچھا بتاؤ نا حنا . میں نے کہا عامر آپ بہت اچھے ہیں . تو وہ بولا میں تمہیں پسند ہوں یا نہیں تو میں نے کہا آپ کیوں پوچھ رہے ہیں تو اس نے کہا پہلے تم بتاؤ نہ . میں نے کہا جی تو وہ بولا حنا میں بھی تمہیں بہت پسند کرتا ہوں . اور میرا ہاتھ پکڑ لیا میں نے فوراً اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور بولی عامر یہ آپ کیا کر رہے ہیں تو وہ بولا حنا تم کیوں ڈر رہی ہو میں تمھارے ہونے والا میاں ہوں تم میری بِیوِی بنو گی پِھر کیوں مجھ سےڈر رہی ہو . میں اس کی بات سن کر بولی عامر یہ ٹھیک نہیں ہے ابھی شادی ہوئی تو نہیں ہے نہ یہ سب کچھ شادی سے پہلے ٹھیک نہیں ہے . تو وہ خاموش ہو گیا اور مجھے پڑھا کر چلا گیا . اگلے 3 سے 4 دن تک وہ مجھے آ کر پڑھا کر چلا جاتا تھا . مجھے اندازہ ہو گیا تھا عامر مجھے سے ناراض ہے ایک دن میں نے کہا عامر مجھ سے ناراض کیوں ہیں . تو وہ بولا حنا تم مجھے اپنا نہیں سمجھتی ہو اور مجھے پتہ ہے تم مجھے پسند بھی نہیں کرتی ہو . تو میں نے کہا کس نے آپ کو کہا ہے میں آپ کو پسند کرتی ہوں . لیکن عامر شادی سے پہلے اِس طرح کا کوئی بھی کام غلط ہےاگر مجھے کچھ ہو گیا تو امی اور خالہ کیا سوچے گی خاندان میں سب لوگ برا بھلا کہیں گے . بدنامی ہو گی . تو وہ بولا حنا مجھے سب پتہ ہے . لیکن میں تم سے ایسا کوئی غلط کام نہیں کروں گا جس سے تمہیں کوئی برا بھلا کہے یا خاندان کی عزت خراب ہو . لیکن ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تو پکڑ سکتے ہیں پیار کی باتیں تو کر سکتے ہیں . میں اس کی بات سن کر شرما گئی اور میرا منہ لال سرخ ہو گیا اور میں نیچے دیکھنے لگی . تو عامر بولا حنا میرا یقین کرو میں کبھی بھی تمہیں کوئی نقصان نہیں دوں گا . میں دوسرا والا کام شادی کے بَعْد ہی کروں گا لیکن ہم ایک دوسرے سے پیار کی باتیں اور کس تو کر سکتے ہیں . میں پِھر شرما گئی اور کچھ نہ بولی . اس نے کہا حنا بتاؤ نہ جواب دو . میں نے آہستہ سے کہا میں سوچ کر جواب دوں گی . پِھر اس دن بھی وہ مجھے پڑھا کر چلا گیا اگلے 2 دن تک میں نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا پِھر 1 دن اس نے تھوڑا سا پڑھا کر مجھے پوچھا حنا تم نے کیا سوچا ہے میں نے کہا عامر اگر ا می نے یا کسی نے دیکھ لیا تو بہت مسئلہ بن جائے گا . تو وہ بولا حنا کچھ بھی نہیں نہیں ہو گا جب میں آتا ہوں سب سوئے ہوتے ہیں کسی کو کچھ بھی نہیں پتہ چلے گا خالہ کو تو پتہ ہے حنا اندر پڑھ رہی ہے اور ہم کون سا دوسرا والا کام کریں گے بس ویسے ہی باتیں کریں گے یا کس وغیرہ . میں اس کی بات سن کر خاموش ہو گئی تووہ بولا بتاؤ پِھر تم راضی ہو تو میں نے آہستہ سا اپنا سر ہاں میں ہلا دیا . پِھر اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا حنا تمہیں پتہ ہے شادی والی رات کو میاں بِیوِی کیا کرتے ہیں . تو میں اس کی بات سن کر شرم سے لال سرخ ہو گئی اور اپنے منہ نیچے کر لیا . اور کچھ نہ بولی . عامر نے دوبارہ پِھر پوچھا بتاؤ بھی اگر نہیں پتہ تو میں بتاؤں . تو میں نے سر ہلا کر کہا ہاں تو اس نے کہا حنا شادی والی رات کو سھاگ رات بولتے ہیں اس رات میاں بِیوِی ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں اور اس رات کو میا ںاپنی بِیوِی کے ساتھ وہ والاکام بھی کرتا ہے . مجھے اس کی بات سن کر بہت شرم آ رہی تھی . عامر پِھر بولا تم بھی کچھ بولو نہ تو میں نے کہا کیا بولوں تو وہ بولا کچھ بتاؤ اسکول کی سہیلیوں نےکچھ تو بتایا ہو گا . تو میں نے کہا کچھ خاص نہیں بتایا میری ایک ہی پکی سہیلی ہے اس کی باجی کی شادی ہوئی تھی تو اس نے مجھے اپنی باجی کا بتایا تھا کے شادی والی رات کو باجی اور ان کی میاں بہت پیار کرتے رہے ہیں اور سارے کپڑے اُتار کر وہ والاکام بھی کیا تھا . . پِھر میں خاموش ہو گئی . تو وہ بولا حنا تمہیں پتہ ہے پہلی دفعہ بہت درد بھی ہوتا ہے . تو میں نے کہا ہاں سنا تھا میری سہیلی بتا رہی تھی . پِھر عامر نے میرے ہاتھ کو چوم لیا اور بولا میں اب جا رہا ہوں پِھر کل باتیں کریں گے . پِھر اس دن کے بَعْد اکثر وہ میرا ہاتھ پکڑ لیتا اور باتیں کرتا رہتا پِھر درمیان میں وہ میری گالوں پے اور پِھر کچھ دن بَعْد میرے ہونٹوں پے کس کرنے لگا . اب میری بھی شرم کافی حد تک ختم ہو چکی تھی . میں اور وہ ایک دوسرے کو منہ میں منہ ڈال کر کس کرتے تھے .

 پِھر ایک دن عامر نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پے رکھ دیا میرے جسم میں کر نٹ دور گیا میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور بولی عامر یہ کیا ہے تو وہ بولا حنا یہ ہی تو ہے جو عورت کی وہ میری پھدی کی طرف اشارہ کر کے بولا اس کے اندر جاتا ہے تو میاں بِیوِی کو مزہ آتا ہے اور پِھر بچہ بھی پیدا ہوتا ہے . عامر نے پِھر میرے ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پے رکھ دیا اس کا لن شلوار کے  اندر تن کر فل کھڑا تھا میں نے تھوڑی دیر کوئی حرکت نہیں کی پِھر عامر نے ہی میرے ہاتھ پے اپنا ہاتھ رکھ کر اوپر نیچے کرنے لگا اور اپنے لن کو میرے ہاتھ سے سہلانے لگا . چند لمحوں بَعْد اس نے ہاتھ اٹھا لیا لیکن میں اپنے ہاتھ کو اوپر نیچے کرتی رہی اور عامر کا لن سہلا تی رہی . کافی دیر میرا سہلانے کی وجہ سے اس نے اپنی شلوار میں اپنی منی چھوڑ دی تھی اس کی شلوار کافی گیلی ہو گئی تھی میں نے پوچھا عامر یہ کیا ہے تو اس نے کہا حنا یہ ہی تو مال ہے جو عورت کی پھدی میں جاتا ہے تو عورت کو مزہ بھی آ تا ہے اور بچہ بھی پیدا ہوتا ہے . پِھر اس دن کے بَعْد وہ روز کچھ دیر پڑھا کر مجھے سے اپنا لن سہلوا تا تھا اس نے مجھے مٹھ مارنا سکھا دی تھی کچھ دن بَعْد تو وہ اپنی شلوار سے لن باہر نکال کر مجھ سے مٹھ مرواتا تھا . اور وہ میرے قمیض کے اوپر سے ہی میرے چھوٹے چھوٹے ممے پڑ  کر دباتا اور سہلاتا رہتا تھا اور میں اس کے لن کی مٹھ لگاتی تھی . کچھ دن تو ایسا ہی چلتا رہا پِھر ایک دن اس نے مجھے کہا حنا اپنی شلوار اُتار کر اپنی پھدی تو دکھاؤ تو میں نے منع کر دیا وہ مجھے بار بار کہتا رہا وہ لگاتار میری 2 دن تک منت سماجت کرتا رہا پِھر آخر کار میں نے ہار مان لی اور اپنی شلوار اُتار کر اس کو اپنی پھدی دیکھا دی میری پھدی ایک دم ٹائیٹ تھی ابھی اس پے اتنے بال بھی نہیں آئے تھے . وہ میری پھدی دیکھ کر پاگل ہو گیا اور آگے کو جھک کر میری پھدی کو کس کر دی . مجھے لذّت کا ایک شدید جھٹکا لگا . پہلی بار کسی نے میری پھدی کو ھواتھا . پِھر وہ آہستہ آہستہ میری پھدی کو اپنے ہاتھ کی انگلی سے سہلاتا رہا اور کچھ دیر بَعْد ہی میری پھدی سے پانی رَسنے لگا مجھے اس کی انگلی کی وجہ سے ایک عجیب مزہ مل رہا تھا میں جنت کی سیر کر رہی تھی . پِھر میں اس کے سامنے کھلتی گئی اور پِھر وہ مجھ روز پہلے آ کر میری پھدی کے ساتھ کھیلتا تھا میری پھدی کو اپنی زُبان کے ساتھ چومتا اور چاٹتا رہتا تھا اور جب میری پھدی اپنا پانی چھوڑ دیتی تھی تو وہ پِھر بَعْد میں اپنے لن کی مجھ سے مٹھ لگوا تا تھا . ہمارا یہ سلسلہ کافی دن تک چلتا رہا . پِھر میرے پیپر بھی ہو گئے تھے اور پیپر بہت اچھے ہوئے تھے تو میں نےامی کو بول کر خالہ کو بولا دیا کے عامر بھائی کو کہے کے وہ مجھے کالج کے لیے شروع سے ہی پڑھاناشروع کر دے کیونکہ کالج کی پڑھائی تیز اور مشکل ہے . امی اور خالہ مان گئی تھیں . مجھے آب عامر سے مزہ لینے کی عادت بن چکی تھی . عامر نے بھی آگے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیا تھا صبح جاتا اور دن کو آ کر مجھے کالج کا تھوڑا پڑھاکر پِھر مجھے پیار اور لذّت کا سبق دیتا تھا . لیکن اس نے مجھے کبھی بھی اندر کروانے کا نہیں کہا اور نہ ہی وہ کرنا چاہتا تھا . بَعْد میں تو میں اور وہ اور زیادہ کھل گئے تھے جب سب سوئے ہوتے تھے میں اور وہ کمرے کا دروازہ لاک کر کے پورے ننگے ہو کر مزہ کرتے تھے . وہ میرا 2 دفعہ پانی نکلوا دیا کرتا تھا ایک دفعہ میری پھدی کو اپنی زُبان سے سک کرتا تھا اور دوسری دفعہ وہ بیڈ پے ننگا بیٹھ جاتا تھا اور مجھے اپنی جھولی میں بیٹھا لیتا تھا اور اپنے لن اور میری بُنڈ کی لکیر میں تیل لگا کر اور کبھی کوئی لوشن لگا کر اپنا لن میری بُنڈ کی لکیر میں پھنسا کر مجھے آگے پیچھے کرتا رہتا اور اپنے دونوں ھاتھوں سے میری نپلز کو پکڑ لیتا تھا نیچے اس کا لن میری بُنڈ کی موری کے اوپر آگے پیچھے رگڑ تا رہتا تھا مجھے اتنا مزہ ملتا تھا کے میں بتا نہیں سکتی اور پِھر وہ ایسے ہی میری بُنڈ کے اوپر ہی اپنی گرم گرم منی چھوڑ دیتا تھا اور ایک دفعہ وہ میری پھدی چاٹتا تھا اور دوسری دفعہ جب مجھے اپنے لن پے بیٹھا کر میری بُنڈ میں لن کو تیل لگا کا رگڑ تا تھا تو میں 2 دفعہ پانی چھوڑ دیتی تھی میرا اِس طرح ہی عامر کے ساتھ 2 سال گزر چکے تھا . پِھر میں جب کے آخری سال میں تھی تو اس کا باہر انگلینڈ میں اسٹڈی ویزا لگ گیا اور وہ چلا گیا میں نے بھی نرسنگ کے3 سال مکمل کیے اور مجھے بَعْد میں سرکاری جاب مل گئی اور میں اس کے بَعْد سے یہاں اِس اسپتال میں تقریباً 2 سال ہو گئے ہیں نوکری کر رہی ہوں . اب اس کو گئے ہوئے 3 سال سے اوپر ہو گئے ہیں وہ اگلے سال واپس آئے گا تو میری اس سے شادی ہو جائے گی . بس اِس طرح ہی عامر سے مزہ لے لے کر میرے ممے اور میری بُنڈ بڑی ہو گئی ہے . میں حنا کی اسٹوری سن کر فل گرم ہو چکا تھا میرا لن ٹرا و زَر کے اندر ہی تن کر کھڑا ہو چکا تھا . پِھر حنا بولی کیا ہوا کا شی کہیں کچھ کام خراب تو نہیں ہو گیا . تو میں بولا ظالم اتنی مست اور سیکسی اسٹوری سنائی ہے وہ سن کر کس کافر کا کام خراب نہیں ہو گا . تو وہ بولی تو پِھر چلے جاؤ نہ اپنی اس والی کے پاس جس کے ساتھ 2 سے 3 دفعہ کر چکے ہو . تو میں نے کہا حنا ضرور چلا جاتا لیکن وہ بہت دور ہے وہ شیخوپورہ میں رہتی ہے. یہاں اسلام آباد میں کوئی نہیں ہے بس اپنے ہاتھ سے ہی گزارا ہے . اِس لیے تو آپ کی خدمت لینا چاہتا ہوں حنا میری بات سن کر ہنسنے لگی اور بولی ابھی تو نا ممکن ہے ہاں تھوڑا صبر کرو شاید بَعْد میں کچھ مل جائے . میں نے کہا ٹھیک ہے حنا جی جیسے آپ کی مرضی اور کچھ دیر مزید باتیں کی تو حنا نے کہا میں سونے لگی ہوں پِھر بات ہو گی . اور پِھر میں بھی سو گیا . اگلے 2 دن دوبارہ میرا حنا کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا . لیکن میں اگلے دن فوزیہ آنٹی کے گھر گیا فیصل سے بات ہوئی اور فوزیہ آنٹی کو جب میں نے دیکھا میرا لن جوش میں آ گیا کیا فوزیہ آنٹی کا غضب کا جسم تھا اور بلا کی خوبصورت بھی اور گوری چیک سمارٹ عورت تھی اس کا بل کھاتا ہوا جسم تھا . مجھے جب چچی کی باتیں یاد آنے لگی تو میں نے دِل میں سوچا فوزیہ آنٹی بھی کیا مال ہے اور یہ بھی کس گانڈو کے ساتھ سیٹ ہے . اگر کبھی میرے ساتھ سیٹ ہوگئی تو اِس کی گانڈ اور پھدی کو ایسا ٹھنڈا کروں گا کہ فیصل کو بھی بھول جائے گی . پِھر میں کچھ دیر فیصل کے ساتھ گپ شپ لگا کر واپس آ گیا مجھے فوزیہ آنٹی کی طرف سے کوئی مشکوک حرکت نظر نہیں آئی . لیکن مجھے پتہ تھا . و جو کچھ بھی کرے گی رات کے اندھیرے میں کرے گی . میں گھر واپس آ گیا . پِھر مزید 2 دن کچھ خاص نہ ہوا . لیکن پِھر ایک دن  دن کے 11بجے میں نے حنا کو ایس ایم ایس کیا کہاںہو کیسی ہو تو اس کا جواب آیا ڈیوٹی پے ہوں تو میں نے کہا لنچ کب کرو گی تو وہ بولی تو 1 سے 2 کے درمیان ہے . میں نے کہا کیا موڈ ہے میرا آج باہر کھانے کا موڈ ہو رہا ہے ساتھ چلو گی تو وہ بولی کہا ں جانا ہے تو میں نے کہاسیورفوڈ چلتے ہیں تو اس نے کہا ٹھیک ہے وہ نزدیک ہے

مجھے واپس بھی آنا ہے . میں نے کہا تم ریڈی رہنا میں 1 بجے تمہیں اسپتال کے گیٹ سے پک کروں گا . اور پِھر میں نہا دھو کر شیو کی کپڑے چینج کر کے 12:30پے گھر سے نکل آیا اور 1 بجے اسپتال کے گیٹ پے پہنچ گیا . 5 منٹ بَعْد حنا مجھے باہر آتی ہوئی نظر آئی وہ مجھے دیکھ کر مسکرا پڑی اور آ کر پیچھے بائیک پے بیٹھ گئی اور میں اس کو لے کرسیور فوڈ کی طرف نکل آیا . رستے میں اس نے اپنا ہاتھ میرے کاندھے پے رکھا تھا . میں نے کہا حنا جی میں آپ کا دوست ہوں بھائی تو نہیں ہوں کم سے کم دوست کی طرح تو بیٹھو . حنا میری بات سمجھ گئی اور اپنا ہاتھ آگے کر کے میرے پیٹ پے رکھ کر پکڑ لیا . میں نے آہستہ سے کہا زیادہ نیچے نہیں کرنا نیچےعلاقہ غیر ہے پِھر مشکل ہو جائے گی . میں نے سائڈ والے شیشےسے دیکھا وہ میری بات سن کر مسکرا رہی تھی . اور آہستہ سا میرے کان کے پاس منہ کر کے بولی کبھی تو علاقہ غیر دیکھنا ہی پڑے گا . مجھے اس کی بات سن کر مستی چڑھ گئی . اور میں خوش ہو گیا پِھر ہم سیورفوڈ پے آ گئے . یہاں ہم نے كھانا کھایا کھانے کے دوران میں نے کہا حنا جی آپ کی روم میٹ وہ ہی لڑکی ہے نہ جو اس دن رسپشن پے کھڑی تھی . شازیہ نام کی تو حنا بولی نہیں وہ نہیں ہے وہ تو پنڈی کی ہے اس کا اپنا گھر ہے شادی شدہ ہے اس کا 6 سال کا بیٹا ہے . میری روم میٹ گجرات کی ہے . اس کا نام فرزانہ ہے وہ اس دن روم میں سوئی ہوئی تھی اس کی نائٹ ڈیوٹی تھی . میں نے آنکھ مارتے ہوئے کہا حنا جی ویسے آپ کی سہیلی شازیہ شادی شدہ تو نہیں لگتی . حنا میری بات سن کر تھوڑا مصنوعی غصہ دیکھا کر بولی اب جناب کا اس پے بھی دِل آ گیا ہے . میں نے کہا نہیں ایسی بات نہیں ہے میں تو ویسے بات کر رہا تھا کے وہ شادی شدہ لگتی نہیں ہے . حنا مسکرا کر اور آہستہ سے بولی اکثر آنکھیں دھوکہ کھا جاتی ہیں . وہ بڑی کمینی اور تیز چیز ہے . میاں کے ہوتے ہوئے بھی گا  ئِینی کے ڈاکٹر سے روز چودا تی ہے . میں حنا کی بات سن کر حیران رہ گیا . میں نے کہا واقعہ ہی آپ سچ کہہ رہی ہو تو حنا بولی ابھی پوری بات نہیں بتا سکتی رات کو فون پے بات کریں گے تو اس کیا کہانی بتاؤں گی . ہم كھانا کھا کر وہاں سے نکلے اور پِھر میں نے حنا کو اسپتال چھوڑ کر گھر واپس آ گیا اور آ کر سو گیا شام کو اٹھ کر نہا دھو کرچائےپی اور اپنا لیپ ٹاپ آن کر کے بیٹھ گیا اور سائیٹس اوپن کر کے دیکھنے لگا مجھے پتہ ہی چلا رات کے 9 بج گئے میرا چھوٹا بھائی میرے روم میں بلانے آیا اور بولا کے بھائی آ کر كھانا کھا لو پِھر میں نے سب کے ساتھ مل کر كھانا کھایا اور کھانے کے کے بعد ابو نے پوچھ بیٹا پِھر کیا سوچا ہے تو میں نے کہا ابو میں 3 یونیورسٹیز کی انفو لی ہے پِھر ابو کے ساتھ اسٹڈی کے معاملے پے باتیں ہوتی رہیں اور پِھر ابو اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے میں نے ٹائم دیکھا تو 30:10 ہو گئے تھے میں بھی وہاں سے اٹھ کر دوبارہ اپنے بیڈروم میں آ گیا اور بیڈ پے آ کر لیٹ گیا . تقریباً 11بجے میں نے حنا کو ایس ایم ایس کیا اور پوچھ کے وہ کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے . تو اس نے بتایا وہ فارغ ہے اور اپنے روم میں ہے . پِھر میں نے اس کو کال ملا لی اور اس کے ساتھ باتیں کرنے لگا . باتوں ہی باتوں میں میں نے اس سے دن والی بات کا ذکر کیا کے وہ مجھے شازیہ والی بات کے اس کا کیا چکر ہے . حنا نے کہا کا شی جی ویسے آپ بہت ضدی ہو بات کو بھولتے نہیں ہو . میں اس کی بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا کے حنا جی بچہ جب تک ضد نہ کرے تو ماں دودھ بھی نہیں دیتی . اور آپ نے دن کو خود کہا تھا کے رات کو فون پے بتاؤں گی . آگے سے حنا نے کہا کا شی جی کبھی ماں کی دودھ کے علاوہ بھی کسی کا دودھ پیا ہے یا نہیں تو میں نے کہا حنا جی دودھ تو خیر نہیں پیا ہاں البتہ دودھ پلانے والی کے ساتھ مزہ کافی کیا ہے . پِھر میں نے پوچھا حنا جی آپ نے بھی کسی کو دودھ پلایا ہے تو بولی ہاں عامر روز پہلے میرے نپلز منہ میں لے کر کتنی کتنی دیر تک چوستا رہتا تھا اورسہلا تا بھی رہتا تھا اِس لیے تو یہ اتنی بڑے اور موٹے ہو گئے ہیں . میں نے کہا حنا جی آپ کی نپلز کیسی ہیں اور کس رنگ کی ہیں . تو حنا نے کہا نپلز کافی بڑی اور گول گول ہو چکی ہیں اور ان کا رنگ پنک ہے . میں نے کہا حنا جی مجھے پنک رنگ کی نپلز بہت پسند ہیں . پِھر میں نے حنا کو یاد دلایا حنا جی آپ مجھے مطلب کی بات بتاتی نہیں ہیں اور مجھے کہیں اور ہی الجھا دیتی ہیں . تو حنا میری بات سن کر ہنسے لگی . پِھر حنا نے کہا کا شی جی جس کی آپ بات کر رہے ہو وہ بہت کمینی اور تیز چیز ہے . اصل میں وہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی پرانی نرس ہے وہ سب کو جانتی ہے اور سب اس کو جانتے ہیں . مجھے تو بس اپنے ڈیپارٹمنٹ کی ڈاکٹر کا ہی پتہ ہے کیونکہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دونوں کو رنگے  ہاتھوں دیکھاتھا باقی سنا ہے کے اس کے کوئی 2 سے 3 لوگوں کے ساتھ چکر ہیں . ایک دن میری اور اس کی نائٹ ڈیوٹی تھی. میں جب رسپشن پے بیٹھی کام کر رہی تھی تو شازیہ نے کہا کے وہ رائونڈ پے جا رہی ہے . اور مجھے یہ کہہ کر وہ چلی گئی میں تقریباً وہاں آدھا گھنٹہ بیٹھی رہی لیکن وہ واپس نہیں آئی . اور اِس دوران ہی ایک مریض کے ساتھ کوئی اٹینڈڈ میرے پاس آیا اور بولا کے اس کے مریض کو دردہو رہی ہے آپ تھوڑا چیک کریں . میں حیران ہوئی کے شازیہ تو رائونڈ پے ہے پِھر یہ میرے پاس آیا ہے . خیر میں اس کے ساتھ چلی گئی اور جا کر اس کی وائف کو چیک کیا اور پین کلر کا انجیکشن لگا کر واپس آ گئی میں جس وارڈ میں گئی تھی وہ آخری وارڈ تھا اس سے پہلے 3 اور وارڈ بنے ہوئے تھے میں نے آتے ہوئے سارے وارڈ میں نظر ماری مجھے شازیہ نظر نہیں آئی میں حیران تھی وہ کہاںچلی گئی ہے . میں وہاں سے سیدھی رسپشن پے آئی تو وہاں بھی ابھی تک نہیں آئی تھی . میں رسپشن پے بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی . لیکن اور میرے مزید 15 منٹ انتظار کرنے کے بَعْد بھی نہ آئی . مجھے پیشاب آیا ہوا تھا میں اپنے اسٹاف روم کے باتھ روم میں چلی گئی وہاں پیشاب کر کے جب واپس آ رہی تھی تو اسٹاف روم سے اگلا ڈاکٹر کا روم تھا اس کے روم کی کھڑکی پے جو گلاس لگا تھا اس میں اگر باہر اندھیرا ہو اور اندر تھوڑی سی بھی روشنی ہو تو نظر آ جاتا تھا . میں نے کھڑکی سے آنکھ لگا کر دیکھا تو اندر کا منظر دیکھ کر میرے ہوش اڑ گئے تھے کیونکہ اندر ڈاکٹر اور شازیہ پورے ننگے ہوئے تھے اور ڈاکٹر اپنے صوفےپے بیٹھا تھا اور شازیہ اس کی گودھ میں دونوں طرف ٹانگیں کر کے نیچے سے ڈاکٹر کا لن اندر لے رہی تھی مجھے آواز تو نہیں آ رہی تھی . لیکن میں صرف دیکھ سکتی تھی . شازیہ پورے جسم کو ہوا میں اٹھا کر پِھر نیچے ہوتی تھی اِس سے ڈاکٹر کا پورا لن شازیہ کی پھدی کے اندر باہر ہو رہا تھا . میں یہ دیکھ کر خود گرم ہو گئی تھی میں اندر بھی دیکھ رہی تھی اور اپنے ایک ہاتھ سے اپنی پھدی کو بھی مسل رہی تھی . میں نے وہاں تقریباً آدھا گھنٹہ شازیہ اور ڈاکٹر کی چدائی دیکھی رہی تھی جس میں آخر میں شازیہ نے ڈاکٹر کا لن اپنی گانڈ میں بھی لیا تھا . ان کی چدائی دیکھ کر میں خود کافی گرم ہو گئی تھی اور اپنے ہاتھ سے ہی اپنا بھی ایک دفعہ پانی نکلوا دیا تھا . اور میرے پینٹی نیچے سے پوری گیلی ہو گئی تھی میں وہاں سے دوبارہ اپنے اسٹاف روم والے باتھ روم میں گئی اور اپنی پینٹی اُتار کر اپنے بیگ میں رکھ لی اور اپنی پھدی کو دھو کر دوبارہ رسپشن پے آ گئی اور آ کر دیکھا تو شازیہ میرے سے پہلے آ کر بیٹھی تھی مجھے سے پوچھنے لگا کے تم کہاں گئی تھی میں نے کہا میں رائونڈ پے گئی تھی

ایک مریض کو درد تھا چیک کرنے گئی تھی . میں نے اس کو پوچھا وہ کہاں تھی تو اس نے جھوٹ بول کر کہا وہ رائونڈ سے ہو کر باتھ روم میں چلی گئی تھی . خیر وہ دن گزر گیا اگلے دن رات کو تقریباً 1 بجے کا ٹائم ہو گا ہم دونوں رسپشن پے ہی بیٹھی تھیں میں نے اس کو کل دیکھا سارا واقعہ سنا دیا جو کچھ میں نے دیکھا تھا پہلے تو کافی جھوٹ بولنے کی کوشش کی پِھر میری طرف سے اعتماد ہونے کی وجہ سے اپنے ساری سٹوری مجھے سنا دی . اور مجھے یہ بھی کہا کے حنا ڈاکٹر تمہارا بہت دیوانہ ہے کہتا ہے حنا کی لے دو اگر تم راضی ہو تو میں تمہیں بھی مزہ کروا سکتی ہوں . وہ ڈاکٹر تمہارا اور تمہاری روم میٹ کا بہت دیوانہ ہے . باربار مجھے تم دونوں کے لیے کہتا ہے . میں نے شازیہ کی باتیں سن کر کہا مجھے نہیں لینا مزہ ڈاکٹر سے اور نہ مجھے دوبارہ کہنا خود جو مرضی کرو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے اور میں نہ ہی کسی اور تمہارا بتاؤں گی . پِھر اِس طرح ہی مجھے شازیہ کا پتہ چلا تھا . میں نے کہا حنا جی آپ نے 2 دفعہ ایک دفعہ اپنی فل گرم سٹوری اور دوسری شازیہ کی بتا کر میری آگ کو اور بھڑکا دیا ہے . آج میرا لن پِھر ایک دم ٹائیٹ ہو گیا ہے اِس کا کچھ کر دو . تو حنا نے کہا میں کیا کر سکتی ہوں . ابھی صبر کرو پِھر کبھی سوچوں گی . میں نے کہا حنا جی آپ بے شک آپ اندر ابھی نہیں کرواؤ لیکن اوپر اوپر سے مزہ یا عامر جیسا مزہ مجھے بھی دے دو . تو وہ میری بات سن کر خاموش ہو گئی . میں نے پِھر کہا حنا جی کیا سوچا ہے یقین کرو میں اندر نہیں کروں گا نہ ہی آپ کی مرضی کے بغیر کچھ اور کروں گا لیکن آپ عامر جیسا مزہ مجھے بھی کروا سکتی ہیں اِس میں میرے اور آپ کا دونوں کا فائدہ ہو جائے گا . حنا نے کہا چلو ٹھیک ہے مجھے کل تک سوچنے کا ٹائم دو میں تمہیں کل میسیج کر کے بتا دوں گی کے میں راضی ہو ں یا نہیں لیکن جو میں کہوں گی وہ ہی ہو گا اس سے زیادہ کے لیے مجھے ابھی ٹائم چاہیے میں ابھی اندر نہیں کروا سکتی . 

Posted on: 07:46:AM 07-Mar-2021


0 0 310 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 11 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 74 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com