Stories


جسم کی بھوک از علی خان لولائی

جانی کے ساتھ ندیم تھا اس کا سر جھکا ہوا تھا میں نے جلدی سے اٹھ کر ندیم کو کہا پلیز مجھے یہاں سے لے چلو گھر۔ جانی نے قہقہہ لگایا اور کہا یہ میرا آدمی ہے میرا مال سپلائی کرتا ہے شوبز کی دنیا میں،تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھا کر اپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی ہے اُ س کی سزا ملے گی تم کو میں نے ہاتھ جوڑ دیئے اور جانی سے کہا تم جو چاہے میرے ساتھ کر سکتے ہو میرے جسم کو حاصل کرنا چاہتے تھے ۔مجھے معاف کر دو تم جانی:سالی میں جس کو چاہوں اس کا جسم حاصل کر سکتا ہوں تم جیسی لڑکیاں میرے پاؤں دھودھو کر پیتی ہیں۔آج کا دن تم نہیں بھول پاؤ گی میں تمہاری وہ حالت کروں گا کہ ساری زندگی تم جانی بھائی کا نام نہیں بھول سکو گی جانی نے آواز دی تو کمرے میں بہت سے آدمی داخل ہو گئے اور سب کمرے کے چاروں طرف بیٹھ گئےمیں ان کے بیچ میں موجود گدے پر پڑی ہوئی تھی۔جانی نے کہا شیرو کو بلاؤ تو ندیم اٹھ کر کسی شیرو کو بلانے چلا گیا۔اور کچھ دیر بعد ندیم شیرو کو بلا لایاشیروایک جن نما انسان تھا اس نے صرف دھوتی پہن رکھی تھی جسم بالوں سے بھرا ہوا تھا اور قد کاٹھ سے کوئی ریسلر لگ رہا تھا میں جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔ جانی نے کہا ہم سب تمہاری اور شیرو کی سہاگ رات دیکھیں گے اس کے بعد تمہارے شوہر بدلتے رہیں گے۔ اس نے پھر شیرو سے کہا دیکھ شیرو  ہم سب کو مزہ آنا چاہیے شیرو نے ہنس کر دانت نکال دیئے ۔اور کہا :جو حکم سرکار میں نے آگے بڑھ کر جانی کو کچھ کہنا چاہا پر شیرو نے زور کا مکا میرے پیٹ میں مارا میں درد کے مارے دوہری ہوگئی میری آنکھ میں درد کے مارے آنسو آگئے اس نے میرے بالوں سے پکڑ کر میرے سر کو اوپر اٹھایا اور مجھے گدے پر پٹخ دیا میں اس کے سامنے ایک بچی کی طرح لگ رہی تھی اس نے ایک تھپڑ میرے گال پر جڑ دیا میری آنکھوں کے سامنے جیسے تارے ناچنے لگ پڑے۔اس نے میرے گریبان پر ہاتھ ڈالا اور میری قمیض کو چیر دیا نیچے میرا برا سب کے سامنے ظاہر ہو گیا جسکو اس نے دوسری کوشش میں تار تار کر دیا ۔پھر اس نے میری شلوار کو اتار دیا سب کے سامنے میں ننگی ہو چکی تھی کمرے میں موجود کم از کم درجن کے قریب لوگ مجھے بھوکی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔میں نے مزاحمت چھوڑ دی تھی ۔پھر اس نے اپنی دھوتی کو اتار پھینکا اور اندر سے ایک کالا موٹا لنڈ نکلا جس کو دیکھ کر ہی میری حالت ٹائیٹ ہو گئی تھی۔آج تک جتنے بھی لن لئے تھے سب اس کے سامنے کم تھے شیرو کے پورے جسم پر بال تھے جس کی وجہ سے وہ گوریلا لگ رہا تھا۔پھر وہ مجھ پر ٹوٹ پڑا میرے ہونٹوں کو چوسنے اور کاٹنے لگا اس نے خوب کسنگ کی ساتھ ساتھ میرے مموں کو مسل رہا تھا بلکہ نوچ رہا تھا اس کے سیکس کا انداز پر تشدد تھا۔پھر اس نے میرے نپلز کو منھ میں لیا اور ان کو کاٹنے اور چوسنے لگا۔پھر اب اسکی اگلی منزل میری چوت تھی جس پر اس نے اپنے منھ کو رکھا اور میری چوت کا رس پینا شروع کر دیا اس کی زبان میری چوت کے اندر باہر ہو رہی تھی وہ کسی جانور کی طرح میری چوت کو چاٹ رہا تھا۔اس کے بعد وہ اٹھا اور میرے منھ کے پاس آیا اور مجھے کہا میرا لنڈ کو منھ میں لو۔ میں نے اس کے لنڈ کو منھ میں لے لیا اس کے لنڈ کی موٹی ٹوپی بڑی مشکل سے میرے منھ میں گئی میں نے اس کے لنڈ کو چوسنا شروع کر دیا کمرے میں موجود سب مرد مجھ پر آوازیں کس رہے تھے گندے گندے ریمارکس دے رہے تھے۔میں نے کسی پر دھیان نہیں دیا اور خاموشی سے شیرو کے ڈندا نما لنڈ کو چوس رہی تھی اس کا لنڈ لگ رہا تھا جیسے لوہے کا بنا ہو ،وہ حد سے زیا دہ سخت تھا اب اس نے میرے منھ کو چودنا شروع کر دیا اور میرے سر کے پکڑ کر اپنے لنڈ کے اوپر دبانا شروع کر دیا میرا سانس رکنے لگا تو اس نے چھوڑا اور مجھے زور سے دھکا دے کر پیچھے گرا دیا اور میری ٹانگوں کو دونوں اطراف میں پھیلا دیا اب اس نے میری چوت پر اپنے لنڈ کو رگڑنا شروع کر دیا اور ایک جھٹکے سے اپنا لنڈ میری چوت کی گہرائی میں اتار دیا اس کے لنڈ کی غیر معمولی موٹا ئی کی وجہ سے میرے منھ سے زور دار      چیخ نکلی مجھے لگا کسی نے میری چوت میں ڈنڈا ڈال دیا ہو چوت باقاعدہ چرتی ہوئی محسوس ہوئی۔اس نے میری چیخوں پر کو ئی دھیان نہیں دیا اور لنڈ کو میری چوت سے باہر نکال کر دوبارہ زور سے جھٹکا مارا اور پورا لنڈ جڑ تک میری چوت میں اتار دیا میں اس کے پہاڑ جیسے جسم کے نیچے تڑپنے لگی۔اس نے اب جم کر زور سے جھٹکے مارنے شروع کر دیے مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں کوئی کنواری لڑکی ہوں ،کچھ دیر بعد میری کچھ حالت سنبھلی اور اب چیخوں کی جگہ سسکاریوں نے لے لی تھی۔وہ جم کر چدائی کر رہا تھا اس نے میرے گلے میں لٹکی ہوئی میری قمیض کے ٹکرے کو بل دے کر میرا گلا گھونٹنا شروع کر دیا جب میری سانس روکنے لگتی تو وہ اس پھندے کو ڈھیلا کر دیتا جب دیکھتا میں سنبھل گئی ہوں تو دوبارہ میرے گلے کو پھندے سے گھونٹنا شروع کر دیتا۔اس کو تشدد پسند تھامیری حالت پتلی ہو چکی تھی  کمرے میں موجود سب انجوائے کر رہے تھے مجھ پر آوازیں کس رہے تھے ۔اتنی بے عزتی کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔پتا نہیں شیرو نے کیا کھایا ہوا تھا چھوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ،کبھی مجھ کو اپنے اوپر بٹھا لیتا کبھی مجھ کو گود میں اٹھا کر کھڑے ہو کر چود رہا تھا ۔اس میں جن جیسی طاقت تھی۔پھر اس نے گھوڑی بنایا اور میری چوت کو چودنے میں مصروف ہو گیا میں پتا نہیں کتنی بار فارغ ہو چکی تھی کوئی گھنٹے کی چدائی کے بعد اس نے ایک زور دار آواز نکالی اور اپنے دانت میرے کندھے پر گاڑ دئے اور اپنے ھاتھوں سے میرے مموں کو پکڑ کر دبا دیا۔مجھے ایسا لگا میری چوت میں سیلاب آ گیا ہو ،شیرو کے جسم کو جھٹکے لگ رہے تھےاور وہ مزے کی شدت سے میرے جسم کو اپنے دانتوں سے نوچ رہا تھا۔میں نڈھال ہو کر گر گئی شیرو نے مجھے چھوڑ دیا۔کمرے میں موجود سب نے زور زور سے تالیا ں اور سیٹیاں مارنا شروع کر دیں جیسےاس نے کوئی میدان فتح کر لیا ہو۔اب کمرے میں موجود تمام آدمیوں نے ایک دوسرے سے بحث کرنا شروع کر دی تھی ہر ایک کی یہی خواہش تھی کہ وہ میرے جسم کو حاصل کر لے پہلے۔میں ان تمام آدمیوں کا جنون دیکھ کر گھبرا گئی تھی اکیلے شیرو نے میری حالت خراب کر دی تھی،میں نے اٹھ کر جانی کے پیر پکڑ لئے اور کہا پلیز مجھے معاف کر دو میں مر جاؤں گی ۔ جانی نے مجھے ایک زور دار دھکا دیا اورکہا بہن چود تو خوش نصیب ہے دیکھ کتنے مرد ہیں تیرے،آج تم سب کو خوش کرو گی ۔ اس نے سب کو ڈانتا اور کہا بہن چودو ساری رات پڑی ہے دو دو کر کے اپنی آگ بجھا تے جاؤ۔ بس پھر کیا تھا ان میں سے دو آدمی اگے بڑھے اور اپنے کپڑے اتارکر میرے پاس آ گئے اور مجھے بالوں سے گھسیٹ کر دوبارہ گدے پر لے آئے۔بس پھر ایک نا رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا دو آدمی آتے ایک میری چوت اور دوسرا میری گانڈ کو چودتا فارغ ہونے والے کی جگہ دوسرا آدمی سنبھال لیتا۔اس طرح کوئی رات کے 12 بجے تک مسلسل چدنے کی وجہ سے میری چوت اور گانڈ سن ہو چکی تھی پورے جسم میں درد کی لہریں دوڑ رہی تھیں جسم میں زرا سی بھی جان نہیں بچی تھی اور کمرے میں موجود تمام آدمی ایک ایک باری لگا چکے تھی اور دوسری باری لینے کے لئے تیار تھے،جانی کو شائید مجھ پر رحم آگیا اس نے رکنے کا کہا اور کہنے لگا ایک گھنٹے کا ریسٹ دو اس کو اس نے اپنی نوکرانی کو آواز دی اور کہا اس کے لئے گرم دودھ اور کچھ کھانے کو لاؤ۔ دودھ پینے کے بعد کچھ جسم میں جان آئی اور یہ سوچ کر دل دہل گیا کہ دوبارہ ان جنگلیوں کو خوش کرنا پڑے گا۔ میں نے جا کر شاور لیا اور کمرے میں آکر بیٹھ گئی پہننے کو کپڑے تو تھے نہیں ،گھنٹے کے بعد جانی کمرے میں داخل ہوا اس کے پیچھے باقی لوگ تھے جانی نے دوآدمیوں کو مجھے پکڑنے کا کہا اور اس نے ایک انجکشن میرے بازو پر لگا دیا کچھ دیر بعد مجھے ایسا لگا جیسے میں ہواؤں میں اڑ رہی ہوں جسم پھولوں سے بھی ہلکاہو چکا تھا میں سمجھ گئی مجھے نشے کا انجکشن لگایا ہے۔اور بس پھر ان سب نے مل کر مجھے کتوں کی طرح نوچنے لگ پڑے انجکشن کی وجہ سے میں مزے کی بلندیوں پر پہنچ چکی تھی رات پوری مجھے چودتے رہے صبح میری حالت خراب ہونے پر مجھے ایک اہسپتال کے سامنے پھینک کر چلے گئے جہان مجھے ایڈمٹ کر لیا گیا ہوش آنے پر میں نے اپنےبہنوئی کا نمبر اہسپتال والوں کو دیا ، بہنوئی کے آنے پر میں نے رو رو کر سب کچھ ان کو بتا دیا  بہنوئی کے منع کرنے پر بھی پولیس کو میں نے جانی کا نام بتا دیا اور سارا بیان دیا ۔2 دن بعد مجھے اہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا میں گھر آگئی ۔پولیس ایک دو بار مجھ سے  بیان لینے آتی رہی پر انہوں نے جانی کےخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا ایک دن میں گھر میں اکیلی تھی تو جانی ایک آدمی کے ساتھ میرے گھر داخل ہوا اور اس نے زبردستی مجھے پکڑ کر دوبارا وہی انجکشن لگایا اور مجھے نشے میں چھوڑ کر گھر سے نکل گیا کچھ دیر بعد پولیس میرے گھر آئی اور ان کو میں نشے کی حالت میں ملی میرے کمرے سے ان کو ڈرگ اور انجکشن ملے جو جانی نے جاتے ہوئے شائد میرے کمرے میں رکھ دئے تھے۔ پولیس نے میرے خلاف ڈرگ بیچنے ،یوز کرنے اور جسم فروشی کا مقدمہ بنایا ۔میں بہت چیخی چلائی پر میرے خلاف  ثبوت اتنے تھے میں کچھ نہیں کر سکی ۔تفشیشی افسر سے لے کر سپاہی تک نے میرےجسم سے اپنا اپنا حصہ وصول کرتے رہے ۔ایک دو پیشیوں کے بعد ہی جج نے مجھے 7 سال قید کی سزا سنا دی تھی ۔مجھ سے میرے بہنوئی اور بہن نےپولیس کے گرفتار کرنے کے بعد سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔مجھے جیل منتقل کر دیا گیا ۔جہاں کی دنیا ہی الگ تھی میرے کمرے میں موجود دو پکی عمر کی عورتیں رہتی تھیں میری صورت میں ان کو ایک نوکرانی مل گئی تھی سارا دن مجھ سے اپنی ٹانگیں دبواتی تھیں۔اور رات کو میرے جسم کے ساتھ کھیلتی تھیں انکار کی صورت میں مجھے ان کی مار برداشت کرنی پڑتی تھی۔جیل میں جیلر بھی آئے روز مجھے اپنے کمرے میں بلا لیتا تھا جہاں کبھی خود کبھی اس کے مہمان مجھ سے سیکس کرتے تھے۔جیل میں موجود کوئی لڑکی ہوگی جو ان سے بچی ہوگی۔جیسے جیسے میں جیل میں پرانی ہوتی گئی میری حاضری میں وقفہ آتا گیا۔میں نے رو پیٹ کر 5 سال گزار لئے میرے اچھے چال چلن کی وجہ سے مجھے 5 سال میں جیل سے آزاد کر دیا گیا۔جیل سے باہر آنے کے بعد میں   بہنوئی کے گھر گئی جہا ں جا کر پتا لگا وہ شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں ان کے سب نمبرز بھی آف تھے۔ندیم بھی اپنا فلیٹ بیچ کر چلا گیا تھا۔جانی ایک پو لیس مقابلے میں مارا گیا تھا ۔میں کراچی سے لاہور اپنے گھر کی طرف چلی گئی ۔وہاں جا کر ایک قیامت خیز خبر میرا انتظا ر کر رہی تھی۔میرے جیل جانے اور مجھ پر لگنے والے الزامات کی وجہ سے میرے والد کو دل کا اٹیک ہوا اور وہ  وفات پاگئے ابو کی وفات کے بعد امی نے لوگوں کے تانوں سے بچنے کے لئے مکان بیچ کر سر ریا ض سے شادی کی اور کسی اور شہر چلے گئے ،میں ماریہ کے گھر گئے تو پتا لگا اسکی بھی شادی ہو چکی ہے اور اسکی امی نے مجھے گھر میں داخل ہونے نہیں دیا ۔اس کے بعد میں نے ارشدسے فون پر رابطہ کیا تو اس نے بھی روکھے منھ بات کی اور کہا اسکی شادی ہو چکی ہے اور وہ میری وجہ سے مصیبت میں نہیں پڑنا چاہتا۔سب سے مایوس ہو کر میں نے دوبارہ کراچی جانے کا فیصلہ کیا اور بچے کچھے پیسوں سے جو مجھے جیل سے رہائی پر ملے تھے ان سے بس کی ٹکٹ لی اور کراچی پہنچ  کرایک دارالامان کا پتا پوچھتے پوچھتے پہنچ گئی۔دارالامان ایک عورت چلاتی تھی۔دارالامان میں موجود 2  مردوں کا کام دن میں عورتوں کے لئے کھانا بنانا تھا اور رات میں عورتوں سے سیکس کرنا۔اور دارالامان بس نام کا تھا ان کا اصل دھندہ جسم فروشی تھا ۔یہ عورت ایک این جی اوز چلاتی تھی ۔اور اس کے تعلقات بڑے بڑے لوگوں سے تھے جو اس سے عورتیں منگواتے تھے اور جو لڑکی بھاگنے کی کوشش کرتی اس کو ایسی سزا دی جاتی کہ باقی موجود کسی عورت کی ہمت نہیں ہوتی بھاگنے کی۔ میں نے بھی خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا تھا میں بھی بہت سے ٹرپ لگاتی تھی مجھے اسی طرح بہت سے بڑے بڑے بزنس مین اور سیاستدانوں سے ملنے کا موقع ملتا تھا ۔ایسے ہی ایک پارٹی میں میری ملاقات اس کہانی کے رائیٹر سے ہوئی ۔کچھ بات چیت میں ہم دونوں گھل مل گئے اس نے اصرار کر کے مجھ سے میری کہانی سنی میں نے اس کے سامنے اپنی زندگی کے تمام حالات رکھ دئے اس نے وعد ہ کے مطابق میری کہانی کے کرداروں کے نام اور جگہ کو تبدیل کر دیا  ۔میں اب اپنی زندگی اسی دارالامان میں گزار رہی ہوں ۔کبھی کبھی سوچتی ہوں میری زندگی تباہ کرنے میں کون زیادہ قصوروار ہے ۔میں ،سر ریاض،ندیم یا جانی پر میں کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پاتی۔

ختم شد

Posted on: 01:20:AM 13-Dec-2020


0 0 1561 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 75 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com