Stories


پنڈی کی گشتیاں از جاوید بانڈ

دوستو میرا نام سمیر قریشی ہے اور میں ملتان کا رہنے والا ہوں۔۔۔ آج میں اپنی زندگی کے ان لمحات کو آپ کے سامنے رکھنے جا رہا ہوں جو کہ میری زندگی کا حاصل ہیں۔۔۔تو دوستو یہ چند سال پہلے کی بات ہے کہ میرے پاپا کے ماموں جو پنڈی میں رہتے ہیں انہوں نے اپنے بڑے بیٹے جو کے رشتے میں میرے چچا لگتے ہیں ان کی شادی کے دن رکھے اور سب کو شادی کے کارڈز بھیجے ہم لوگوں کو بھی شادی کا کارڈ موصول ہوا اور ہم لوگوں نے شادی میں جانے کی تیاریاں شروع کر دیں۔یہ چچا لوگوں کے گھر کے دوسرے لڑکے کی شادی تھی اور تیاریاں فل زوروں پر تھیں میرے لیے بھی نئے کپڑے لیے گئے اور ساری تیاریاں مکمل ہو گئیں۔مقررہ دن سے 2 دن پہلے ہم لوگ میں پاپا اور ماما بذریعہ بس رات کو پنڈی روانہ ہو گئے۔صبح کے وقت اندازاً 10 بجے ہم لوگ پنڈی چچا کے گھر پہنچ گئے۔سب لوگوں سے ملنے کے بعد میں گھر سے باہر نکل گیا کیونکہ وہاں پہلے میری دوستی صرف چچا کے چھوٹے بھائی آفتاب سے تھی تو باہر اس کو ڈھونڈنے لگا۔جب کافی دیر تک اس کو نا ڈھونڈ پایا تو واپس گھر کیطرف چلا گیا۔گھر کا دروازہ اندر سے بند تھا میں نے بیل بجائی تو کچھ لمحات کے بعد دروازہ کھلا۔۔۔میں اندر داخل ہوا تو سامنے موجود ایک لڑکی نے میرا راستہ روکا اور پوچھا جی آپ کی تعریف۔۔۔؟میں نے اپنا تعارف کروایا تو جھٹ سے اس لڑکی نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور میرے ہاتھ سے ہاتھ ملا کر بولی میرا نام ماہین ہے لیکن سب لوگ مجھے مومو کہہ کر بلاتے ہیں۔۔۔میں گم صُم سا کھڑا رہا کہ پہلی ملاقات میں اتنی بے تکلفی تو اس نے اپنا دوسرا ہاتھ میری آنکھوں کے سامنے ہلاتے ہوئے کہا سمیر صاحب کہاں گم ہو گئے اور اپنا ہاتھ چھڑا کر ہنستی ہوئی اندر چل دی۔۔۔میں اس کی معصوم اور پیاری باتوں میں کھویا رہا یہاں یہ بتاتا چلوں کے میں عمر کے جس حصے میں تھا اس عمر میں ہر لڑکی پری اور مہ جبیں ہی دکھائی دیتی ہے لیکن جس بے تکلفی اور اپنے پن سے اس لڑکی نے اپنا تعارف کروایا تھا میں اس اپنے پن کے سحر میں کھویا سارا دن اس لڑکی کو ہی تاڑتا رہا اور وہ لڑکی بھی کچھ کچھ میری آنکھوں کی تپش کو سمجھنے لگی۔۔۔ (اب میں اس کو مومو ہی کہہ کر پکاروں گا) خیر سارا دن مومو میری آنکھوں کے سامنے آتی جاتی رہی اور میں بھی اس کو ہی دیکھتا اور تلاش کرتا رہا۔اسی طرح رات سر پر آگئی اور مومو غائب ہو گئی اور میں بے چینی سے اس کو ڈھونڈتا رہا کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتا تھا۔لیکن وہ نہ ملی۔رات کو آفتاب سے بھی ملاقات ہو گئی جو کہ بھائی کی شادی کیوجہ سے سارا دن گھر کے کاموں میں مصروف رہا تھا۔۔۔آفتاب نے مجھے پکڑا اور بولا چل یار سمیر تھوڑا کام ہے بڑی بھابھی کے گھر جانا ہے۔۔۔میں اس کے ساتھ ہو لیا۔اور بائیک پر ہم لوگ اس کی بھابھی کے گھر چل پڑے جو کہ وہاں سے 25 منٹ کی ڈرائیو پر تھا۔۔۔کچھ ہی دیر میں ہم لوگ ان کے گھر پہنچ گئے۔۔۔وہ لوگ کافی اوپن مانئڈڈ تھے۔۔۔اس لیے ہم سیدھا گھر کے اندر چلے گئے۔۔۔آفتاب کی بھابھی ایک بہت ہی پیاری اور متناسب جسم کی مالک لڑکی تھی۔۔۔ان سے ملاقات ہوئی اور وہ ہمیں اپنے کمرے میں لے گئیں۔۔۔ہم لوگ وہاں صوفے پر بیٹھ گئے دعا سلام کے بعد آفتاب نے کہا کہ بھابھی امی نے کہا ہے کہ آپ نے جو لہنگا برات والے دن پہننا ہے وہ تھوڑی دیر کیلئے دے دیں۔امی کے پاس کچھ خواتین بیٹھی ہیں ان کو دکھانا ہے۔۔۔آفتاب کی بات سن کر بھابھی بولیں۔۔۔آفتاب وہ تو ابھی ٹیلر کے پاس ہی پڑا ہے بلکل تیار ہے بس وہاں سے اٹھانا ہے آج دوپہر ٹیلر کی کال بھی آئی تھی پر میں جا نہیں سکی۔۔۔میرے بھائی بھاگ کر جاؤ اور لے آؤ۔۔۔میں اتنی دیر میں اس کا میچنگ سامان نکال لیتی ہوں۔۔۔ بھابھی کی بات سن کر آفتاب نے میری طرف دیکھا اور بولا چل بھائی اٹھ جا مفت کی بیگار ابھی اور کاٹنی پڑے گی۔۔۔ مگر بھابھی اس کی بات کاٹ کر بولیں۔۔۔تم اکیلے چلے جاؤ نا یہ تو مہمان ہے۔۔پہلی دفعہ آیا ہے کچھ خاطر مدارت تو کرنے دو۔۔۔اور آفتاب دانے پیستا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ایک تو بیچارہ صبح سے گھر کے کاموں میں پھنسا ہوا تھا اوپر سے بھابھی نے بھی اسے آگے بھیج دیا تو وہ تھوڑا چڑ گیا تھا۔۔۔ آفتاب کے جانے کے بعد بھابھی میری طرف متوجہ ہوئیں اور رسمی طور پر میرا نام پوچھا۔۔۔میں نے اپنا نام بتایا تو بھابھی نے مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھا دیا۔اور بولیں میرا نام سدرہ ہے۔۔۔میں نے حیران ہوتے ہوئے مصافحہ کیا۔۔۔بھابھی بھی کافی براڈ مائنڈڈ لگتی تھیں۔۔۔بھابھی نے کسی کو کولڈ ڈرنک لانے کا بولا تھا۔تو ایک بچہ کولڈ ڈرنک والا گلاس ٹرے میں رکھے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔مجھے گلاس دے کر ٹرے ایک سائیڈ پر رکھ کر بچہ چلا گیا۔۔۔اور میں گلاس اٹھا کر کوڈ ڈرنک کے سپ لینے لگا۔۔۔اور سناؤ سمیر پہلے کبھی نہیں دیکھا آپ کو کہاں سے آئے ہو آپ۔۔۔اور میں جو بھابھی کی بولڈنس سے کنفیوز ہو رہا تھا ہکلاتے ہوئے بولا بس وہ بھابھی میں ملتان میں رہتا ہوں اور پہلی دفعہ راولپنڈی آیا ہوں ساتھ ہی میں نے اپنے ابو کا نام بتایا۔۔۔بھابھی ہنس کر رہ گئیں اور ساتھ ساتھ کپڑوں کی الماری میں سے کچھ کپڑے نکال کر باہر رکھنے لگیں۔۔۔میں نے پہلی دفعہ بھابھی کے سراپے پر غور کیا۔۔۔بھابھی نے بہت ٹائٹ اور ماڈرن سٹائل کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔۔۔ان کی ٹائٹ قمیض میں پھنسے ہوئے بڑے بڑے ممے دیکھ کر تو میرا حال خراب ہو گیا۔۔۔میں اپنی دونوں ٹانگیں دبا کر اپنے کھڑے لن کو چھپانے کی تگ دو میں لگا رہا۔۔۔اور جب کامیابی نہیں ملی تو پاس پڑے کشن کو اٹھا کر گود میں رکھ لیا۔۔۔بھابھی الماری بند کر کے مڑیں اور میرے سامنے آ کر بیٹھ گئیں۔۔۔بھابھی نہایت کرید کرید کر مجھ سے میرے بارے اور میری فیملی بارے پوچھ رہی تھیں۔ان کے انداز میں ایک والہانہ پن تھا جو مجھے گھبرائے دے رہا تھا۔وہ اب ہنس ہنس کر مجھ سے باتیں کر رہی تھیں اور میں ہکلاتے ہوئے جواب دے رہا تھا۔میری ہکلاہٹ بھابھی سے چھپی نہیں تھی۔ بلکہ وہ میری اس کیفیت کو بھانپ کر جیسے مزہ لے رہی تھیں۔میری نظریں بار بار اٹھتیں اور سیدھا بھابھی کے جسم پر چپک جاتیں پھر میں گھبرا کر آنکھیں نیچے کر لیتا کہ کہیں بھابھی میری اس حرکت کو دیکھ نا لیں۔۔۔کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔۔۔اتنی دیر میں آفتاب واپس آ گیا اور بھابھی سے باقی سامان لے کر ہم لوگ اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔ ایک چیز میں نے نوٹ کی کہ آفتاب کے واپس آنے کے بعد بھابھی کی گفتگو میں ایک دم محتاط پن آ گیا۔۔۔ہم لوگ دعا سلام کے بعد وہاں سے نکلے اور گھر واپس پہنچ گئے۔۔۔اس رات میں بیٹھک میں ہی سو گیا اور ساری رات لڑکیوں کے سہانے خواب دیکھتا رہا اور دن چڑھے تک سوتا رہا نیند میں محسوس ہوا کوئی مجھے جھنجھوڑ رہا ہے۔آنکھ کھلی تو اس مہ وش مومو کو سامنے پایا جو بول رہی تھی کہ کب تک سوتے رہو گے بدھو اب اٹھ بھی جاؤ سب لوگ تیاریاں کر رہے ہیں۔میں جلدی سے اٹھا اور مومو کا ہاتھ پکڑ کر بولا یار تم رات کو کہاں چلی گئی تھی کافی دیر تک ڈھونڈتا رہا تو مومو میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی کیوں ڈھونڈتے رہے اور میں نے بے اختیار آنکھیں نیچے کر لیں۔اب اس کا جواب میں اس کو کیا دیتا اور بولا بس ایسے ہی تو وہ مسکراتی ہوئی بولی ارے میں یہاں تھوڑی نہ رہتی ہوں میں اپنے گھر چلی گئی تھی اور میرے پوچھنے پر بتایا کہ وہ میرے چچا لوگوں کے فیملی فرینڈز ہیں اور یہ بتا کر مومو کمرے سے باہر چلی گئی۔۔۔ مجھے یہ جان کر بہت اچھا لگا۔۔۔میں جلدی جلدی تیار ہو کر باہر نکلا تو پتا چلا امی لوگ ہم کو گھمانے کے لیے مری لیکر جانا چاہتے ہیں۔۔۔میں نے مومو کو پکڑا اور بتایا تو وہ بولی اب میں تو آپ لوگوں کے ساتھ جا نہیں سکتی۔۔۔انتظار کروں گی آپ کے آنے کا اور میں اس کی بات کو سن کر حیران رہ گیا کہ یار لڑکی کھلے ڈھلے الفاظ میں اظہار کر رہی ہے۔خیر ہم لوگ مری کے لیے روانہ ہوئے۔آفتاب بھی ساتھ تھا ہم لوگ مری پنڈی پوائنٹ گئے چئیر لفٹ لی ادھر ادھر گھومتے پھرے۔۔۔پھر مال روڈ پر کھانا کھایا۔۔۔کچھ تھوڑی بہت شاپنگ کی اور شام کو واپس گھر آ گئے۔۔۔واپس آتے ہی میری نگاہیں بے چینی سے مومو کو ڈھونڈنے لگیں لیکن وہ نہ ملی۔۔۔ اس رات آفتاب لوگوں نے پچھلی گلی میں موجود ایک فرنیچر فیکٹری کی چھت پر ہال نما کمرے میں مجرے کا پروگرام رکھا تھا۔۔۔بڑی خوبصورت لڑکیاں مجرہ کرنے آئی ہوئیں تھیں۔۔۔آٹھ بجے تک میں بھی تیار ہو کر وہاں ہال میں چلا آیا۔۔۔ہال میں پہنچا تو دیکھا کہ آفتاب اور اس کے بڑے بھائیوں ارمغان اور فاروق تینوں کے دوستوں سے ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا قریباً 20 کے قریب قریب لوگ تھے۔۔۔ یہاں میں بتاتا چلوں کے یہ سارا فنکشن فاروق کی شادی کا تھا۔۔۔جب کہ ارمغان کی شادی پہلے ہی ہو چکی تھی اور سدرہ ارمغان کی ہی بیوی ہے۔۔۔ہال میں نہایت ہی خوبصورت اور متناسب جسم کی مالک چار لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں۔آفتاب نے بتایا کہ یہ لڑکیاں ہی مجرہ کریں گی۔۔۔گورے رنگ۔۔۔مہکتے ہوئے بدن کی حامل یہ لڑکیاں نہایت بھڑکیلے اور سیکسی لباس پہنے ہوئے محفل میں چار چاند لگا رہی تھیں۔۔۔میں اپنی زندگی میں پہلی دفعہ اس قسم کی مخلوط محفل میں شامل ہو رہا تھا اور اس طرح کی مخلوق پہلی دفعہ میرے سامنے آئی تھی تو میرا برا حال تھا میں بار بار اپنے لن کو کھجاتا رہا۔۔۔میں ہی کیا وہاں سب لوگوں کا یہی حال تھا۔۔۔چونکہ یہ بیچلر پارٹی تھی تو ہر بندہ ہر حرکت کیلئے آزاد تھا۔۔۔شراب کا بھی بھرپور انتظام کی گیا تھا۔۔۔یہ مکمل ورائٹی شو ارمغان کے دوستوں کی طرف سے ارینج ہوا تھا۔۔۔ دوستوں کی پرزور فرمائش پر مجرے کا آغاز کیا گیا اور انڈین گانوں پر مجرہ شروع ہو گیا۔۔۔پھر چاروں طرف ایک طوفانِ بدتمیزی کا آغاز ہو گیا۔۔۔سب نے ہی شراب پینا شروع کر دی۔۔۔لڑکے جام لنڈھا لنڈھا کر اٹھتے۔جیب سے پیسے نکالتے اور لڑکیوں پر لٹاتے ہوئے ان کے ساتھ ڈانس کرتے۔۔۔ڈانس کیا لن کرنا تھا بس ہر بندے کو ایک ہی شوق تھا کہ لڑکی کے ہونٹ چوم لیں اس کے ممے دبا لیں یا پھر اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیر لیں۔۔۔مجھے یہ سب پروگرامِ بدتمیزی انتہائی گھٹیا لگ رہا تھا۔۔۔ ہاں البتہ ایک چیز جو مجھے اٹریکٹ کر رہی تھی وہ تھی ایک نیلی آنکھوں والی لڑکی کا بار بار مجھے دیکھنا۔بعد میں پتہ چلا اس نے کانٹیکٹ لینز لگائے ہوئے تھے۔۔۔میں بھی بار بار اسی کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔اب ان پیشہ ور لڑکیوں کے ہتھکنڈے تو میں نہیں جانتا تھا ناں۔۔۔تو اس کی آنکھوں کی اس کاروباری تپش کو سمجھ نا پایا۔۔۔میں نے باقی لوگوں کے رنگ میں خود کو رنگتے ہوئے شراب کا ایک پیگ اٹھا لیا۔۔۔جیسے ہی شراب کو حلق میں انڈھیلا تو اس کا ذائقہ نہایت ہی عجیب محسوس ہوا۔کچھ دیر ناچ گانا دیکھتا رہا اور پھر شوخی شوخی میں چار پانچ پیگ شراب کے لگا گیا۔۔۔شروع شروع میں تو یہی لگا کہ شراب اپنے لیے بھی پانی ہے لیکن آدھے گھنٹے میں ہی پھرکی گھوم گئی اور میں بھی اٹھ کر اس طوفانِ بد تمیزی کا حصہ بن گیا۔۔۔اب میں بھی سب کے ساتھ ملکر ناچ رہا تھا اور لڑکیوں کے جسم ٹٹول رہا تھا۔۔۔ان کی گانڈوں پر ہاتھ لگاتے لگاتے میرا لن فل اکڑ گیا۔۔۔اب وہی نیلی آنکھوں والی لڑکی میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے ساتھ لپٹائے نچا رہی تھی۔۔۔ اس کے ساتھ ناچتے ہوئے میں نے اپنا ہاتھ اس کی گانڈ پر رکھا تو اس نے مجھے کھینچ کر اپنے ساتھ چپکاتے ہوئے میرا لن پکڑ لیا۔۔۔میں نے ہڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھا تو سب لوگ اپنے اپنے حال میں مست تھے۔۔۔کچھ لوگ شراب اور چرس کے نشے میں تھے تو کچھ لوگ میری ہی طرح باقی لڑکیوں کے مموں اور گانڈوں کو دبا رہے تھے۔۔۔چند سیکنڈ اس لڑکی نے میرے لن کو سہلایا اور پھر چھوڑ دیا۔۔۔ان گشتیوں کا طریقہ واردات ہی یہی ہوتا ہے کہ بندے کو اکسا کر خود دو قدم پیچھے ہو جاتی ہیں تاکہ بندہ خود آگے ہو کر ان کی تمنا کرے اور یہ پیسے کی ڈیمانڈ کر سکیں۔۔۔ وہ لڑکی پھر پیچھے ہو کر ناچنے لگی اور وہاں موجود ایک اور لڑکے نے اسے پکڑ لیا۔۔۔اور اس کے ممے دبائے لیکن وہ چند سیکنڈ میں ہی ایک ادا دکھا کر اس کی گرفت سے بھی نکل آئی۔۔۔اتنی دیر میں سب لوگوں نے پیسے نکالے اور ان گشتیوں پر لٹانے شروع کر دیے۔۔۔میں نے بھی اپنی جیب ہلکی کی اور پیسے نکال کر اسی لڑکی پر لٹانے لگا۔۔۔غرض کے رات دو بجے تک یہی طوفانِ بدتمیزی برپا رہا۔۔۔دو بجے مجرے کا اختتام کر دیا گیا۔۔۔میں نے آفتاب کو پکڑا اور بولا یار آفتاب مجھے اس لڑکی کی لینی ہے۔۔۔آفتاب نے گھور کر مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔جانی پہلے کبھی یہ کام کیا ہے تو میں نے کہا نہیں یار آج پہلی دفعہ ہو گا تو وہ بولا پھر اس چکر میں مت پڑ میں کل تجھے ایک اعلیٰ سوسائٹی گرلز کے کوٹھی خانے پر لے جاؤں گا۔وہاں ایک سے ایک بڑھ کر حسینہ موجود ہے۔وہاں جو دل چاہے کر لینا لیکن ان کے چکر میں مت پڑ۔۔۔مگر میں جو اس ٹائم نشے میں تھا۔۔۔ضدی لہجے میں بولا نہیں مجھے ابھی اور اسی وقت اس کی لینی ہے۔۔۔تو وہ کندھے اچکا کر اس لڑکی کے پاس گیا اور کچھ بات کرنے کے بعد اس کا ہاتھ پکڑ کر لے آیا اور ہم دونوں کو چھت پر ہی موجود ایک کمرے میں دھکیل کر بولا عیش کر یارا لیکن جلدی آ جانا اور خود واپس چلا گیا۔۔۔میں نے کمرے کا دروازہ بند کر کے لاک کیا اور مڑا تو اتنی دیر میں اس لڑکی نے پیچھے سے آ کر مجھے جھکڑ لیا اور اپنے ممے میری کمر پر دباتے ہوئے ہاتھ آگے کر کے میرا لن پکڑ کر ہلانے لگی۔۔۔اور ساتھ ہی اس نے اپنے ہونٹ میری گردن پر رکھ دیے۔۔۔ اس کی اس حرکت سے مجھے جھٹکا لگا اور میں نے وہیں کھڑے کھڑے مڑ کر اس کے مموں کو دبوچا اور مسلنے لگا۔۔۔میری بے چینی دیکھ کر اس نے مسکراتے ہوئے اپنی قمیض اتار دی۔۔۔اس کے بڑے بڑے ممے جیسے ہی میری نظروں کے سامنے آئے تو میں پاگلوں کی طرح وہیں اس کے مموں پر ٹوٹ پڑا۔۔۔چند منٹ اس کے ممے چاٹنے اور نپلز چوسنے کے بعد اس نے مجھے پیچھے ہٹا کر میری شلوار پر ہاتھ ڈالا اور ازاد بند کھول کر میری شلوار اتار دی۔۔۔شلوار اتارنے کے بعد اس نے مجھے وہاں موجود صوفے پر بٹھایا اور خود میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کر اپنی زبان باہر نکالی اور میرے لن کی ٹوپی پر اپنی زبان پھیرنے لگی۔۔۔ایک ہاتھ سے اس نے میرے ٹٹے پکڑ لئے اور نرم نرم ہاتھوں سے ٹٹوں کا مساج کرتے ہوئے میرے لن کو چاٹتی رہی۔۔۔میں دوہرے مزے کی کیفیت میں تھا۔۔۔پہلی دفعہ میرے لن نے کسی زبان کا ٹچ محسوس کیا تھا۔۔۔اس لئے مسلسل جھٹکے کھاتے ہوئے مزی چھوڑ رہا تھا۔۔۔پھر اس نے میرا لن منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا اور دو منٹ کے جاندار چوپے لگانے کے بعد اس نے میرا لن منہ سے باہر نکالا اور میری ٹانگیں ہلکی سی اوپر اٹھا کر میرے ٹٹوں کو چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔میرے منہ سے مزے کی شدت سے سسکاری نکلی۔۔۔یہ دیکھ کر اس نے میرا ایک ٹٹہ اپنے منہ میں لیکر چوسا اور اپنی انگلی سے میری گانڈ کے سوراخ کو چھیڑا۔۔۔اس کی یہ حرکت مجھے بڑی عجیب لگی۔لیکن انتہائی مزے نے مجھے کچھ بھی بولنے سے عاری رکھا۔۔۔ میرا ٹٹہ منہ سے نکال کر اس نے اپنی زبان سے میری گانڈ کے سوراخ کو ٹچ کیا۔۔۔مجھے ایک عجیب سی سنسناہٹ جسم میں ابھرتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔اب وہ میری گانڈ کے سوراخ کو لپالپ چاٹ رہی تھی۔۔۔وہ اپنے منہ میں تھوک اکٹھا کر کے میری گانڈ کے سوراخ پر پھینکتی اور پھر زور و شور سے چاٹنا شروع کر دیتی۔۔۔چاٹ چاٹ کر اس نے میری گانڈ کا سوراخ نرم کر دیا۔۔۔پھر اس میرے ٹٹوں اور گانڈ کے درمیانی حصے پر زبان پھیری تو مزے کی شدت سے میرا جسم جھنجھنا اٹھا اور اسی جھنجھناہت کے دوران ہی اس نے اپنی انگلی میری گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر دباؤ ڈالا تو اس کی آدھی سے زیادہ انگلی میری گانڈ میں تھی۔۔۔میں تڑپ کر اٹھا اور جھٹکے سے اپنی گانڈ اوپر اچھال دی جس کیوجہ سے اس کی انگلی باہر نکل گئی۔۔۔پھر غصے سے بولا گشتیے۔۔۔میں ایتھے تیری پھدی مارن آیا بنڈ مران نئیں۔۔۔چل سیدھی ہو فٹافٹ تے شلوار لا اپنی۔۔۔ میری بات سن کر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی اور ہنستی گئی ہنستی گئی جیسے اسے ہنسی کا دوری پڑ گیا ہو۔۔۔ہنستے ہنستے اس کے منہ سے نکلا،،،،پھدی،،،،اور وہ پھر ہنسنے لگی۔۔۔جبکہ میں اس کا منہ دیکھ رہا تھا۔۔۔اس کی ہنسی ختم ہوئی تو وہ بولی کاکے بنڈ مار لویں گا۔۔۔میں نے کچھ نا سمجھنے کے انداز میں کہا بنڈ۔۔۔؟ تو وہ اپنے سر پر ہاتھ مار کر بولی اچھا تینوں ہن سب کچھ دکھانا پوے گا۔۔۔یہ کہہ کر اس نے منہ دوسری طرف کیا اور کھڑے کھڑے اپنی شلوار اتار دی۔۔۔نیچے اس نے کالے رنگ کا انڈر وئیر پہنا ہوا تھا۔۔۔وہ بھی اس نے اتار دیا اور آہستہ سے میری طرف گھوم گئی۔۔۔ میرے منہ سے نکلا ارے۔۔۔ اس کی ماں کی چوت۔۔۔اس کے اوپر بڑے بڑے ممے اور نیچے میرے لن سے بھی دگنا لمبا اور موٹا لن۔۔۔میرے دماغ نے کہا خطرہ۔نسو پین چود اے تاں منڈا نکل آیا۔۔۔میں نے فوراً اپنے پاؤں میں پڑی اپنی شلوار اٹھائی اور پہنتے ہوئے وہاں سے بھاگا۔۔۔صحیح معنوں میں مجھے آج پتہ چلا کہ لینی کی دینی پڑ جائے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔۔۔اس نے مجھے روکنے کی بہت کوشش کی اور اپنے پیسوں کا مطالبہ کیا لیکن میں وہاں سے جان چھڑا کر باہر نکلا اور سیدھا آفتاب کو جا پکڑا۔۔۔ارے یار اس پین چود کو پیسے دے اور میری جان چھڑوا۔۔۔آفتاب نے پوچھا کیا ہوا یار تو میں نے اسے بتایا یار وہ تو کھسرا ہے۔۔۔تو آفتاب بولا جگر تجھے منع کیا تھا میں نے کہ اس کو چھوڑ دے لیکن تو نہیں مانا۔۔۔اور یہ کھسرا نہیں مادر چود پورا لڑکا ہے۔۔۔شکل میں لڑکیوں جیسی شباہت تھی تو آپریشن کروا کر اس نے ممے بنوا لیے۔ باقی سارا کمال میک اپ اور اداؤں کا ہے۔۔۔یہ کہہ کر آفتاب باہر نکل گیا اور میں نے اپنا سر پیٹ لیا۔۔۔پھر ادھر ہال روم میں ہی بیٹھ کر سگریٹ سلگا لیا۔۔۔میرا لن بے شک بیٹھ چکا تھا لیکن دماغ پر ابھی تک منی سوار تھی تو وہاں سے نکلا اور سیدھا گھر جا کر واش روم میں گھس گیا اور مٹھ ماری تو دماغ کو تھوڑا سکون ملا۔۔۔پھر کچھ دیر بعد میں آفتاب کے کمرے میں جا کر سو گیا۔۔ اگلی صبح میری آنکھ آفتاب کے ہلانے پر کھلی۔۔۔ٹائم دیکھا تو دس بج رہے تھے۔۔۔ناشتہ کرنے کے بعد میں اور آفتاب گاڑی لے کر باہر نکل گئے اور مہندی کے فنکشن کا سامان خریدنے لگے۔۔۔اسی شاپنگ میں ہمیں دوپہر کے دو بج گئے۔۔۔دو بجے کا کھانا ہم لوگوں نے فوڈ اسٹریٹ سیور فوڈز میں کھایا۔۔۔کھانا کھانے کے بعد ہم سامان لیکر گھر پہنچ گئے اور سارا سامان آفتاب کی بہن کے حوالے کر کے ہم لوگ کمرے میں آ بیٹھے۔۔۔ تھوڑی دیر میں چائے بن کر آ گئی اور ہم چائے پینے لگے۔۔۔چائے پینے کے دوران آفتاب نے مجھ سے پوچھا ہاں جانی اب بتا کل رات کو کیا ہوا تھا۔۔۔میں نے کھسیاتے ہوئے اسے ساری سٹوری سنا دی۔۔۔چونکہ آفتاب بھی چدائی کا شوقین تھا۔۔۔اور میں اس کے بارے میں سب کچھ جانتا تھا اس لیے ہم دونوں آپس میں کھل کر بات کر رہے تھے۔۔۔باتیں کرتے کرتے اچانک میرے دل میں ایک خیال آیا۔۔۔میں نے آفتاب سے کہا یار رات کو وہ تم کہہ رہے تھے کہ یہاں کوئی ٹاپ سوسائٹی گرلز کا کوٹھی خانہ ہے۔۔۔ہاں نا یار بہت کمال کی جگہ ہے۔ایک سے ایک اعلیٰ۔۔۔کمال کی پوپٹ بچیاں ہیں وہاں۔آفتاب نے چسکے لے لے کر مجھے بتایا تو میرے دل میں کھلبلی مچنی شروع ہو گئی۔۔۔میں نے آفتاب کو کہا تو چل نا میرے بھائی ایک چکر لگاتے ہیں ویسے بھی کل رات میں کنوارہ ہی رہ گیا۔۔۔آفتاب کچھ سوچنے کے بعد اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔۔۔چل میری جان آج تو بھی پیسٹری کاٹ ہی لے۔۔۔ پھر کمینگی سے ہنستے ہوئے بولا کہ آج تم پیسٹری کاٹ لو کل رات کو فاروق بھائی بھی کاٹ لیں گے۔۔۔اور اس کی بات سن کے میں بھی کِھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔۔ ہم لوگ گھر سے نکلے اور گاڑی سٹارٹ کر کے وہاں سے چل پڑے۔۔۔کوئی تیس منٹ کی ڈرائیو کے بعد ہم لوگ اسلام آباد جی نائن سیکٹر میں داخل ہو رہے تھے۔۔۔آفتاب تو وہاں کا رہنے والا تھا اس لیے اسے وہاں کا ہر راستہ ازبر تھا لیکن مجھے گلیوں کی بھول بلیوں میں پتہ ہی نہ چلا کہ ہم لوگ کس جگہ پر جا رہے ہیں۔۔۔اور جان کر کرتا بھی کیا۔۔۔میرے دماغ پر تو پھدی سوار تھی اور میں راولپنڈی صرف چار دن کیلئے ہی آیا تھا۔۔۔کچھ دیر بعد ہی آفتاب نے گاڑی ایک بہت پیاری کوٹھی کے گیٹ کے سامنے لیجا کر روک دی۔ہارن مارنے پر گیٹ کی چھوٹی کھڑکی سے ایک آدمی باہر نکلا اور گاڑی کے پاس آیا۔۔۔پاس آ کر جیسے ہی اس نے آفتاب کو دیکھا تو اس کے چہرے پر شناسائی کے تاثرات ابھرے اور وہ واپس اندر چلا گیا اور ایک منٹ بعد ہی کوٹھی کا مین گیٹ بنا کسی آواز کے کھل گیا۔۔۔ آفتاب گاڑی کو اندر لے گیا اور پورچ میں گاڑی کھڑی کر کے باہر نکل آیا۔۔۔میں بھی اس کی تلقید میں گاڑی سے باہر نکلا اور آفتاب مجھے ساتھ لیکر سیدھا کوٹھی کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔اندر جا کر سامنے ہی گیسٹ روم میں ہم لوگ بیٹھ گئے۔۔۔مجھے احساس ہو رہا تھا کہ آفتاب یہاں آتا جاتا رہتا ہے تبھی تو وہ سارے سسٹم کو جانتا تھا اور اتنے اطمینان سے ہم لوگ اندر آ کر بیٹھ گئے۔۔۔اتنی دیر میں بغلی دروازہ کھلا اور ایک تیس بتیس سال کی عورت اندر داخل ہوئی اور چلتی ہوئی ہمارے پاس آئی ہم دونوں سے ہاتھ ملایا اور سامنے موجود صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔حال احوال پوچھنے کے بعد وہ آفتاب سے مخاطب ہوئی۔۔۔ آج تو کافی دنوں بعد درشن دیے آپ نے اور یہ آپ کے ساتھ نیا پنچھی کون ہے۔۔۔میں کافی نروس تھا۔اور یہ چیز اس عورت کی نگاہوں سے چھپی نہ رہ سکی۔۔۔آفتاب صوفے پر پاؤں پھیلاتے ہوئے بولا کیا بتاؤں خانم گھر میں بھائی کی شادی ہے اور پچھلے بیس دن سے گھِن چکر بنا ہوا ہوں۔۔۔یہ سمیر قریشی ہے۔میرا کزن ہے۔دوست ہے۔جگر ہے۔۔۔باہر سے آیا ہے۔بیچارہ پرسوں سے میرے ساتھ خجل ہو رہا تھا تو سوچا چلو خانم کے پاس چلتے ہیں ایک تو دیدارِ خانم ہو جائے گا دوسرا تھوڑی تھکاوٹ بھی اتر جائے گی۔۔۔ خانم جو کہ یقیناً وہاں کی نائیکہ تھی۔مسکرا کر بولی بلکل ذہنی آسودگی ہی اصل تھکان ہوتی ہے۔۔۔تو پھر بلاؤ لڑکیوں کو تھکاوٹ سے بدن ٹوٹ رہا ہے آفتاب بے چینی سے بولا اور خانم مسکراتے ہوئے اٹھ کر بغلی دروازے کی طرف چل دی۔۔۔ میں بغور خانم کاجائزہ لے رہا تھا اس نے جینز کی پینٹ اور بغیر بازوؤں کے ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔ان کپڑوں میں اس کا جسم بہت سیکسی لگ رہا تھا۔۔۔آفتاب نے مجھے خانم کو یوں بھوکی نظروں سے دیکھتے پایا تو مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔نہیں یار اس کی طلب مت کرنا یہ خانم خود کسی کے ہاتھ نہیں آئی آج تک۔۔۔بس لڑکیوں سے دھندا کرواتی ہے اور یہ الگ بات ہے کہ لڑکی ایک سے بڑھ کر ایک ہوتی ہے۔۔۔ابھی ہم باتیں کر ہی رہے تھے کہ بغلی دروازہ پھر کھلا اور خانم اندر داخل ہوئی۔اس کے پیچھے ایک لڑکی مشروبات کی ٹرے اٹھائے ہوئے وارد ہوئی۔خانم آ کر ہمارے سامنے ہی بیٹھ گئی جبکہ لڑکی نے ٹرے درمیان میں موجود ٹیبل پر رکھی اور ٹرے میں موجود بئیر گلاسوں میں ڈال کر ہمارے آگے سرو کر دی۔۔۔یہ لڑکی بھی قابلِ قبول تھی لیکن وہ رکی نہیں اور بئیر سرو کرنے کے بعد واپس اسی دروازے سے باہر نکل گئی۔۔۔خانم مسکراتے ہوئے اپنا گلاس اٹھا کر بولی لڑکیاں تیار ہو کر ابھی دس منٹ میں آتی ہیں اتنی دیر آپ لوگ شوق فرمائیں اور ہم دونوں نے اپنے اپنے گلاس اٹھا لئیے اور بئیر پینے لگے۔۔۔ ابھی بئیر کے گلاس ختم بھی نہیں ہوئے تھے کہ بغلی دروازہ دوبارہ کھلا اور چار لڑکیاں اندر داخل ہوئیں اور چلتی ہوئیں آ کر ہمارے سامنے کھڑی ہو گئیں۔۔۔میں ان سب کو غور سے دیکھ رہا تھا۔واقعی ایک سے بڑھ کر ایک تھی۔۔۔ آفتاب اور خانم بغور میری طرف ہی دیکھ رہے تھے۔جیسے ہی میں نے لڑکیوں سے نظر ہٹا کر ان کی طرف دیکھا اور انہیں خود کو ایسے گھورتے پایا تو ایک دم کھسیا سا گیا۔۔۔خانم ہنستے ہوئے بولی لگتا ہے آپ پہلی دفعہ ایسی جگہ پر آئے ہو۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا آفتاب نے فٹ سے جواب دیا۔۔۔ارے خانم جان یہ موصوف ابھی تک کنوارے ہیں۔۔۔لڑکی نام کی مخلوق کو ابھی تک ٹچ بھی نہیں کیا۔۔۔آفتاب کی بات سن کر خانم کی آنکھوں میں ایک لمحے کیلئے چمک سی ابھری اور فوراً ہی معدوم ہو گئی۔۔۔میں بھی چونکہ اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا اس لئے صرف میں ہی اس لمحاتی چمک کو نوٹ کر پایا۔۔۔آفتاب نے میری پیٹھ پر ایک ہاتھ جماتے ہوئے کہا چل جانی نکال لے اپنا پیس ان میں سے جو تجھے پسند آئے۔۔۔میں ہونقوں کی طرح منہ پھاڑے آفتاب کو دیکھنے لگا۔۔۔یہ ماحول میرے لیے بلکل نیا تھا۔تو تھوڑی جھجھک فطری تھی۔۔۔ میری جھجھک دیکھتے ہوئے خانم مسکرا کر اٹھی اور میرے پاس آ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔اس کے نرم ملائم ہاتھ کو محسوس کرتے ہی میرے دل میں کھلبلی سی مچ گئی۔۔۔خانم نے ہاتھ پکڑتے ہوئے زور لگا کر مجھے اٹھایا اور چلاتے ہوئے لڑکیوں کے پاس لے جا کر تعارف کرواتے ہوئے ان کے خواص بتانے لگی۔۔۔پہلی لڑکی کے پاس پہنچے تو اس لڑکی نے اپنا ہاتھ مصافحے کیلئے بڑھا دیا میں نے ہاتھ ملایا تو وہ میرے ہاتھ کو دبا کر مسکرانے لگی۔۔۔خانم کی کمنٹری جاری ہو گئی۔۔۔
 ریشم۔۔۔مساج بہت اچھا کرتی ہے اور بلکل پیار سے آپ کو سکون کی منزل تک پہنچائے گی۔۔میں نے خانم کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔آپ کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے تو خانم مسکرا کر بولی،،نہیں میں نہیں٬٬صرف ان میں سے کوئی ایک پسند کر لو۔۔۔یہ کہہ کر خانم کی کمنٹری پھر جاری ہو گئی۔۔۔ 2: نازنین۔۔۔سیکس کی ماہر۔گانڈ مروانے کی شوقین اور سکنگ میں بھرپور مہارت۔۔۔ یہ سنتے ہی میں نے اس لڑکی نازنین کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔خانم نے مسکراتے ہوئے میرا ہاتھ چھوڑا اور نازنین کو بولی ان کو اوپر ٹیرس والے کمرے میں لے جاؤ۔۔۔آفتاب نے بھی ایک لڑکی کا انتخاب کیا اور ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس ہی بٹھا لیا۔۔۔نازنین میرا ہاتھ پکڑے مجھے اسی بغلی دروازے سے اندر لے گئی۔۔۔اندر ایک راہداری تھی۔۔۔راہداری کے ساتھ ہی سیڑھیاں چڑھ کر ہم اوپر والے پورشن میں چلے گئے۔۔۔نازنین نے داہنی سائیڈ پر موجود کمرے کے دروازے کو ہلکا سا دبایا تو دروازہ کھل گیا اور وہ مجھے لیے کمرے میں داخل ہو گئی۔۔۔کمرے میں نہایت شاندار بیڈ موجود تھا اور بیڈ کے ساتھ ہی ایک بڑا کاؤچ نما صوفہ پڑا ہوا تھا۔۔۔ نازنین نے مجھے بیڈ پر بٹھایا اور ابھی پانچ منٹ میں آئی کا کہہ کر واپس باہر نکل گئی۔۔۔میں اس کوٹھی کی شان و شوکت اور اس منظم کاروبار کے بارے میں سوچ سوچ کر حیران تھا کہ یہ خانم کتنے منظم طریقے سے یہاں بیٹھی ہے ضرور اس کی پشت پر کوئی اثرورسوخ والا بندہ ہو گا۔۔۔نازنین کو گئے ہوئے دس منٹ ہونے کو آئے تھے ابھی تک وہ واپس نہیں آئی تھی۔۔۔میں اٹھنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور خانم اندر داخل ہوئی۔۔۔خانم نے ایک لمبا اور ڈھیلا ڈھالا سا لبادہ پہنا ہوا تھا۔۔۔خانم کو دیکھ کر میں تھوڑا کنفیوز ہوا۔۔۔میری حالت دیکھ کر خانم بولی ایزی بوائے ایزی میں سب سمجھاتی ہوں۔۔دراصل ہر کسی کا اپنا اپنا ٹیسٹ ہوتا ہے جیسے ابھی نازنین کے بارے میں تم نے چوپے اور گانڈ کا سن کر فوری اس کا ہاتھ پکڑ لیا اسی طرح لڑکیوں کی بھی اپنی اپنی چوائس ہوتی ہے۔۔۔وہاں نیچے کامن روم میں تم نے مجھے آفر کی تھی۔۔۔مجھے پہلے ہی کافی دفعہ آفتاب بھی کہہ چکا ہے لیکن میری بھی ایک چوائس ہے جس کی وجہ سے میں نے ہمیشہ آفتاب کو انکار کیا ہے لیکن تمہیں انکار نہیں کر سکوں گی کیونکہ تم میری چوائس کے عین مطابق ہو۔۔۔مگر خانم نیچے تو آپ نے مجھے انکار کر دیا تھا میں نے سوالیہ لہجے میں پوچھا تو خانم بولی یار نیچے آفتاب تھا نا اور میں اس کے ساتھ سیکس نہیں کر سکتی کیوں کہ وہ میری چوائس پر پورا نہیں اترتا۔۔۔ میں نے خانم پر آنکھیں گاڑتے ہوئے کہا کہ آخر کیا ہے آپ کی چوائس خانم کچھ بتاؤ تو سہی اس بارے میں۔۔۔تو چند لمحوں کی خاموشی کے بعد خانم اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنا رخ دوسری طرف پھیر لیا۔۔۔پھر آہستہ سے خانم نے اپنا لبادہ ہٹایا اور اپنا ایک کندھا ننگا کیا تھوڑا سا سر گھما کر میری طرف دیکھتے ہوئے خانم نے دوسرا کندھا بھی ننگا کر دیا۔۔۔کندھے ننگے کرنے کے بعد خانم میری طرف مڑی اور پرشوق نگاہوں سے دیکھتی ہوئی دو قدم آگے آئی اور اپنا لبادہ ایک جھٹکے سے کھول کر نیچے اپنے قدموں میں پھینک دیا۔۔۔خانم کا جسم دیکھ کر میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔۔کیا کمال کر فگر تھا۔۔۔یہ بڑے بڑے اور اکڑے ہوئے ممے۔۔۔خانم کی گول مٹول گانڈ اور بالوں سے پاک صاف پھدی جس کے ہونٹ تھوڑا باہر کی طرف نکلے ہوئے تھے۔۔۔خانم ایک بازو اٹھائے سر کے اوپر سے دوسرے کندھے کی طرف گزار کر دوسرے ہاتھ سے اس بازو کو پکڑے مجسمے کی طرح کھڑی تھی۔۔۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے کسی مجسمہ تراش نے حسن کی مورت بنا ڈالی ہو۔۔۔ خانم کو ایسے دیکھ کر میرا لن فل تن کر اکیس توپوں کی سلامی دینے لگا۔۔۔خانم مجھے دیکھتے ہوئے نشیلے لہجے میں بولی میری چوائس ہے کنوارہ پن۔۔۔اور اسی وجہ سے اب میں تمہارے سامنے ہوں۔۔۔یہ کہہ کر خانم آگے بڑھی اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر انہیں چوسنے لگی۔۔۔میں نے بھی خانم کو اپنی بانہوں میں کَس لیا اور ہم دونوں لپٹ کر کسنگ کرتے رہے۔۔۔خانم کی گرم جوشی دیدنی تھی۔۔۔وہ بڑی شدت سے میری زبان چوس رہی تھی۔۔۔اسے مجھ پر بڑا ہی پیار آ رہا تھا۔۔۔خانم نے مجھے کھڑا کر کے میرے کپڑے اتار دیے پھر دوبارہ مجھے لٹاتے ہوئے میرے اوپر آ گئی اور دیوانہ وار مجھے چومنے لگی۔۔۔اس نے میرے چہرے کو چوما۔۔۔ہونٹوں کو بے تحاشا چاٹا۔۔۔پھر وہ تھوڑا نیچے آ گئی۔جیسے ہی اس کی زبان کا لمس میں نے اپنی گردن پر محسوس کیا میرے جسم کو کرنٹ سا لگا اور میرا بدن کانپ گیا۔۔۔اب خانم اور نیچے جا رہی تھی۔۔۔اس نے میرے سینے پر بے تحاشا پیار کیا۔۔۔ مجھے اس کی یہ گرم جوشی بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔۔مزے کی لہریں میرے جسم میں سرایت کر گئیں۔۔۔اس وقت تو مجھے ایک جھٹکا لگا جب اس نے میرے چھوٹے سے دانے جیسے نپل کو منہ میں بھر کر چوسنا شروع کیا۔۔۔میں نے بے اختیار اسے روکنے کی کوشش کی پر وہ نہ رکی اور نپلز چوستی رہی۔۔۔میں اپنی آنکھیں بند کر کے مزے کے اس طوفان کو برداشت کرنے لگا۔۔۔۔کچھ دیر میرے نپلز چوسنے کے بعد وہ تھوڑا نیچے آئی اور میرے پیٹ پر اپنی زبان پھیرتے ہوئے اور نیچے جانے لگی۔۔۔میں سوچ رہا تھا کہ اب وہ میرا لن چوسے گی لیکن میرے زیرِ ناف حصے کو چاٹتے چاٹتے جیسے ہی وہ لن کے پاس پہنچی وہاں سے اس نے اپنا منہ ہٹایا اور میری رانوں کو چاٹنے لگی۔۔۔ہر لمحے ایک منفرد مزے کا احساس ہو رہا تھا۔میں خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔۔۔خانم آہستہ آہستہ سے میری پنڈلیوں پر زبان پھرتے ہوئے نیچے آئی اور میرے پاؤں تک پہنچ گئی یہاں خانم نے رک کر میری آنکھوں میں دیکھا اور میرے پاؤں کے انگوٹھے کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔میں پھر سے مزے کے ایک نئے جہاں میں غوطے لینے لگا۔۔۔مجھے نہیں پتہ تھا کہ اس چیز سے اتنا زیادہ مزہ ملتا ہے۔۔۔مزہ ہی اتنا تھا کہ برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔اب خانم میری دونوں ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھ گئی اور میرے لن کو پکڑ کر سہلانا شروع کر دیا۔۔۔پھر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے خانم نے اپنا سر نیچے جھکایا اور اپنی لمبی سی زبان باہر نکال کر میرے لن کی ٹوپی کو چاٹ لیا۔۔۔میرے لن نے ایک جھٹکا کھایا اور مزی کا ایک قطرہ لن کے سوراخ سے باہر نکل آیا۔۔۔خانم نے لن کے ارد گرد اپنی زبان پھیرنا شروع کر دی۔۔۔وہ مزے مزے سے لن کی ٹوپی سے لے کر نیچے ٹٹوں تک اپنی زبان پھیرتی۔ساتھ ہی دوسرے ہاتھ سے اس نے میرے ٹٹوں کو سہلانا شروع کر دیا۔۔۔میں دوہرے مزے کا شکار ہونے لگا۔۔۔خانم کی مستیاں مجھے دیوانہ بنا رہی تھیں۔۔۔دو منٹ تک ایسے ہی لن کی کیپ کو سائیڈوں سے چاٹنے کے بعد خانم نے میری ٹانگیں اٹھا کو ہلکی سی کھول دیں۔۔۔ ۔اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ہلکا سا مسکرائی اور اپنی لمبی زبان باہر نکال کر منہ نیچے جھکایا اور میرے ٹٹوں کی جڑ میں گانڈ کے سوراخ کے پاس اپنی زبان کی نوک پھیری۔۔۔وہاں سے زبان پھیرتے ہوئے خانم اوپر کی طرف آتے ہوئے ٹٹوں کو چاٹتی گئی۔۔۔ٹٹوں سے ہوتے ہوئے لن کی جڑ سے سیدھا لن کی ٹوپی تک ایک چاٹا لگایا اور میرے لن کو اپنے منہ میں بھر لیا۔۔۔مجھے ایک منفرد مزے کا احساس ہوا۔۔۔خانم بڑی رغبت سے میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔مجھے لگا کہ اگر کچھ دیر اور اس نے ایسے ہی لن چوسا تو میں چھوٹ جاؤں گا۔۔۔ اس لیے میں نے خانم کو روک دیا اور اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکال لیا۔۔۔خانم کے لبوں پر میری مزی کا قطرہ چمک رہا تھا جسے وہ زبان نکال کر چاٹ گئی۔۔۔ اب میں اگلے مرحلے یعنی چدائی کی طرف بڑھنا چاہتا تھا۔۔۔لیکن میرا لن ایسے جھٹکے کھا رہا تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ اگر میں نے لن کو پھدی کے اوپر بھی رکھا تو چھوٹ جاؤں گا۔۔۔خانم کی جاندار چسائی نے میرا حال برا کر دیا تھا۔۔۔میں نے خانم کو کندھوں سے پکڑا اور بیڈ پر لٹاتے ہوئے خود خانم کے اوپر آ گیا۔اس کے شربتی ہونٹوں پر حملہ کیا اور انہیں چوسنے لگا۔۔۔خانم بھی مزے سے میرا ساتھ دینے لگی۔۔۔میں بڑی شدت سے اس کے ہونٹ چوس رہا تھا کبھی اوپر والا ہونٹ کبھی نیچے والا۔۔۔پھر میں نے خانم کی زبان پکڑ کر اسے چوسنا شروع کر دیا۔اور خانم کی بے قراریاں بڑھنے لگیں۔۔۔وہ بے خودی میں ڈوبنے لگی۔۔۔مزے کی اک لہر تھی جو کہ اس کی زبان سے دل و دماغ تک جا رہی تھی۔۔۔اچھی طرح ہونٹ اور زبان چوسنے کے بعد میں نے پیچھے ہو کر خانم کے دونوں مموں کو پکڑ لیا۔۔۔اف کیا خوب نظارہ تھا سخت سخت ممے اور ان کی گولائیاں،،ممے کے درمیان میں براؤن رنگ کا دائرہ اور اس دائرے میں اکڑے ہوئے پیارے سے نپلز۔غرض کہ کمال کا نظارہ تھا۔۔۔میں خانم کے ممے دبانے لگا۔۔۔مجھے بہت مزہ آ رہا تھا یہ سب کرنے میں۔۔۔پھر میں نے اپنا منہ خانم کے ایک ممے پر رکھا اور اوپر اوپر سے چاٹنے لگا۔خانم سِسک سی گئی۔پھر میں نے جگہ جگہ سے دونوں مموں کو اتنے زور شور سے چوسا کہ نشان پڑھ گئے۔مگر پرواہ کسے تھی۔میں نے ایک نپل کو اپنے منہ میں بھر لیا۔۔۔کبھی نپل کو چوستا تو کبھی اس کے ارد گرد اپنی زبان گھماتا۔۔۔خانم کی سسکاریاں بلند ہونے لگیں۔۔۔اور خانم آہ:اوہ۔۔آہہہ۔۔آہہہ۔۔آہہہ کی آوازیں نکالنے لگی۔۔۔ میں بھی بلکل کسی بچے کی طرح ممے چوستا رہا۔میں دیوانہ وار خانم کے فل تنے ہوئے نپلز چوستا جا رہا تھا۔۔۔خانم نے بےخودی میں اپنا ہاتھ میں سر پر رکھا اور اسے دبانے لگی۔۔۔میں سمجھ گیا کہ خانم کو بھی فل مزہ آ رہا ہے۔تبھی میں نے اپنا ایک ہاتھ آہستہ سے نیچے لیجا کر خانم کی پھدی پر رکھ دیا۔اور اسے بھی ساتھ ساتھ مسلنے لگا۔۔۔خانم سے برداشت نہ ہوا تو اس نے ایک دم جھٹکا کھایا اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔۔۔میں نے خانم کی آنکھوں میں دیکھا وہاں خماری ہی خماری تھی۔۔۔خانم نے مجھے دھکیل کر ایک سائیڈ پر کیا اور مجھے لٹا کر خود میرے اوپر آ گئی۔۔۔ایک ہاتھ نیچے لیجا کر میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی پر سیٹ کیا۔۔۔ چونکہ خانم جانتی تھی کہ یہ میرا پہلی دفعہ ہے تو وہ بڑے صبر و تحمل سے پیار اور سکون سے سب کرنا چاہتی تھی۔خانم نے میرا لن اپنی پھدی کے نیچے اس انداز میں لیا کہ میرا لن میرے پیٹ پر لمبائی میں پیٹ اور اس کی پھدی کے درمیان پھنسا ہوا تھا۔۔۔خانم نے آہستہ آہستہ لن پر اپنی پھدی کو رگڑنا شروع کیا تو میرے منہ سے بھی سسکی برآمد ہوئی۔۔۔آہ۔۔۔اف۔۔۔ چند سیکنڈز ایسے ہی رگڑائی کے بعد خانم تھوڑا اوپر ہوئی اور ایک ہاتھ نیچے لیجا کے لن کو پکڑ کر پھدی کے لبوں کے درمیان رکھا اور آہستہ سے اپنا وزن بڑھاتی گئی۔۔۔اور دس سیکنڈز میں ہی پورا لن اندر غروب ہو چکا تھا۔۔۔خانم نے آہستہ سے ہلنا شروع کیا اور آگے پیچھے ہونے لگی۔۔۔اس انداز میں لن اندر باہر تو نہیں ہو رہا تھا بس وہیں پر پھدی کے اندر ہی تھوڑا ہل رہا تھا۔۔۔مجھے بس یہ احساس ہی مزہ دیے جا رہا تھا کہ پہلی دفعہ میرا لن پھدی کے اندر ہے۔۔۔اور پھدی بھی خانم جیسی حسین لڑکی کی۔۔۔کچھ دیر خانم ایسے ہی مزہ لیتی رہی اور میری بے چینی سے لطف اندوز ہوتی رہی۔۔۔پھر خانم اٹھی اور میری سائیڈ پر لیٹ کر بولی اب تم اوپر آ جاؤ۔۔۔ میں نے خانم کے اوپر آ کر اس کے ٹانگیں اٹھائیں اور اپنی بغلوں سے گزار لیں جس سے پھدی تھوڑا کھل کر سامنے آ گئی۔۔۔میں نے اپنا لن اس کی پھدی کے ہونٹوں کے درمیان رکھ کر دو چار رگڑے دیے تو آنکھیں بند کیے خانم مچل سی گئی۔۔۔ میرا لن اور خانم کی پھدی دونوں ہی فل گیلے تھے اس لیے لن بار بار پھسل رہا تھا۔میں نے لن کی ٹوپی کو پھدی کے منہ پر رکھ کر تھوڑا سا زور لگایا تو ٹوپی اندر چلی گئی۔۔۔میں دباؤ ڈالتا گیا اور کچھ دیر میں ہی پورا لن اندر تھا۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ سے گھسے مارنے شروع کیے۔۔۔لن خانم کی پھدی کی دیواروں سے رگڑ کھاتا ہوا اندر جا رہا تھا۔۔۔دونوں ہی مزے سے سرشار تھے۔۔۔میں نے اپنی رفتار تھوڑی سی بڑھائی تو کمرے میں پچک پچک کی آوازیں گونجنے لگیں۔۔۔ساتھ ہی کہیں کہیں خانم کی لذت آمیز سسکاریاں بھی گونجتی۔۔۔ کچھ دیر ایسے ہی چودائی کے بعد میں نے اپنا لن باہر نکال لیا۔۔۔اور خانم کو گھوڑی بنا کر خود پیچھے آ گیا۔۔۔اور اپنا لن اس کی پھدی پر رگڑتے ہوئے چوتڑوں کو دونوں ہاتھوں میں دبوچ کر ایک زور دار جھٹکا مارا تو گھپ سے پورا لن اندر چلا گیا۔۔۔خانم کے منہ سے اونچی آواز میں نکلا۔۔۔آہ۔۔۔۔ہائے رے کنوارے پن کی بے چینیاں۔۔آہہہ۔۔آہ۔۔۔ میں گھسے مارتے ہوئے بولا خانم جی بس آپ کو دیکھ دیکھ کر صبر نئیں ہو رہا۔

Posted on: 01:27:AM 13-Dec-2020


12 2 3489 3


Total Comments: 3

Irfan Ali: hlo.


Saeed Khan : uriii.


kasi: huuuum.



Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com