Stories


سویرا ندیم کی چدائی از ساگر دل

قصہ کچھ یوں ہے کہ سویرا ندیم اور امی کی آپس میں گہری دوستی ہے۔ دونوں پرانی سہیلیاں ہیں۔ ایک دوسرے سے نہ صرف اچھی خاصی گپ شپ ہے بلکہ ایک دوسرے کے کئی رازوں سے بھی واقف ہیں۔ اسی تعلق کی وجہ سے مجھے بھی اکثر آنٹی سویرا سے ملاقات کا موقع ملتا تھا۔ میں ان کے سیکسی جسم کا دیوانہ تھا اور اکثر ان کے ممے اور گانڈ دیکھ کر اپنی آنکھیں سینکتا تھا۔ وہ میری فیورٹ آنٹی تھیں۔ ان کے گھر جانے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا تھا اور کبھی وہ ہمارے گھر آتی‍ں تو ان کے لیے بھاگ بھاگ کر سارے کام کرتا۔ ان کے گھر جا کر واپس آنے کا دل نہ کرتا اور وہ ہمارے گھر سے واپس جاتیں تو میرا دل اداس ہو جاتا۔ ایک مرتبہ یہ ہوا کہ امی نے لاہور سے اسلام آباد بذریعہ ہوائی جہاز جانا تھا مگر موسم کی خرابی کی وجہ سے جہاز اڑ نہ سکا اور فلائٹ کم از کم ایک روز یعنی چوبیس گھنٹے کے لیے مؤخر ہو گئی۔ اسی فلائٹ میں سویرا ندیم بھی امی کے ساتھ تھی۔ اب امی چاہتی تھیں کہ خالہ کے گھر چلی جائیں کیونکہ وہ ایئرپورٹ کے قریب بھی تھا اور پھر عثمان سے ملنے کا موقع بھی مل جاتا۔ سویرا ندیم نے تو کسی ہوٹل میں ہی رہنا تھا۔ اس نے امی سے بھی اصرار کیا کہ وہ بھی اس کے ساتھ ہی رہیں۔ کیونکہ اسے پہلے بھی اچھے ہوٹلز میں رہنے کی ہی عادت تھی۔ اس کے اصرار پر امی مان گئی‍ں اور وہ دونوں مال روڈ پر ہوٹل ون آ گئے جو کہ خالہ کے گھر کے قریب ہی واقع ہے۔ امی نے اپنے کمرے میں آ کر اپنا سامان رکھا اور شب بسری کا لباس زیبِ تن کیا ۔ امی نے سوچا کہ خالہ کے گھر جا کر تو شاید عثمان سے ملاپ کا موقع نہ ملتا اور اگر ملتا بھی تو محدود سی مستی ہی ہو پاتی جیسے ہاتھ پھیرنا یا چوما چاٹی وغیرہ اور ان دونوں کے جذبات کا بہترین اظہار نہ ہو سکتا ، مگر یہاں ہوٹل کے کمرے میں تو ان کے پاس عثمان کے ساتھ مستی کرنے کا پوراپورا موقع تھا اور وہ بھی مکمل رازداری کے ساتھ۔ انہوں نے عثمان کو فون کیا اور اسے ہوٹل کا نام بتا کر وہاں جلدی آنے کا کہا۔ عثمان کی خوشی سے باچھیں کھل گئیں کیونکہ اسے بہت دن سے مستی کا موقع نہیں ملا تھا اور اب اس کے گھر سے کچھ دور ہی اس کی مستی ، تسکین ، عیاشی اور راحت کا سامان موجود تھا۔ وہ موسم کی خرابی کا خیال کیے بنا گھر سے نکل پڑا گو کہ دھند کی وجہ سے اسے ہوٹل پہنچتے پہنچتے کافی وقت لگنا تھا۔ اور پھر اسے راستے سے کچھ پینے پلانے اور حفاظتی اقدامات کا سامان بھی لینا تھا۔ اسی اثناء میں یہ ہوا کہ امی شب بسری کے لباس میں ہی ٹہلتے ٹہلتے ہوٹل کی لابی میں آ گئیں تاکہ وہ عثمان کے آنے تک کیفے میں کچھ وقت گزار سکیں۔ مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ وہاں ایک بہت بڑی حیرت ان کی منتظر تھی۔ وہ لفٹ کے آگے سے گزرتے ہوئے ہوٹل کی مین انٹرنس کی طرف آئیں تو وہاں آگے سے میں اپنے کچھ کولیگز کے ساتھ چلتا ہوا آ رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر امی کو ایک جھٹکا لگا کیونکہ تب تک وہ عثمان کو فون کر کے مع سامان ہوٹل میں بلا چکی تھیں۔ عثمان کا آنا تو جسٹیفائے ہو جاتا مگر سامان کے بارے میں وہ کیا جواب دیتیں۔ اس پریشانی سے ان کے چہرے کی ہوائیاں اڑ گئیں مگر انہوں نے اپنے حواس پر قابو رکھتے ہوئے اپنے چہرےسے پریشانی ظاہرنہ ہونے دی۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں دفتر کے کسی کام کے سلسلہ میں ہوٹل آیا ہوں اور اب واپس جانے لگا تھا کہ آپ نظر آ گئیں میں اور امی کمرے میں آ گئے۔ امی کو یہی فکر ستا رہی تھی کہ اگر اسی دوران عثمان آ گیا تو کیا ہوگا۔ اب وہ میرے سامنے عثمان کو آنے سے منع بھی نہیں کر سکتی تھیں کیونکہ اس طرح ان کا پول فوراََ کھل جاتا۔ یکا یک امی کے شیطانی اور تیز طرار دماغ میں ایک آئیڈیا آیا۔ انہوں نے مجھے کہا: "بیٹا تم سویرا آنٹی سے ملے؟ وہ بھی میرے ساتھ ادھر ہوٹل ہی میں ہیں کیونکہ ان کی بھی فلائٹ میرے والی ہی تھی۔ " یہ سن کر میری باچھیں کھل گئیں اور من میں خوب لڈو پھوٹے، مگر میں نے بھی اپنے جذبات پر قابو رکھا اور کہا، " نہیں امی، کہاں ہیں وہ؟" جواب ملا، "کمرہ 47 میں"۔ "مگر امی وہ کہیں سو نہ گئیں ہوں۔" میں نے کہا۔ "نہیں بیٹا، وہ اتنی جلدی نہیں سوتی، ٹھہرو میں ابھی اس سے فون پر پوچھتی ہوں۔" یہ کہہ کر امی نے سویرا کو فون کیا اور کہا ، "سویرا وہ یہاں روکی مل گیا، تم جاگ رہی ہو کیا؟ کہہ رہا ہے آنٹی کو ملنا ہے۔" "ہاں بھیج دو میرے پاس، جاگ رہی ہوں میں۔ " سویرا نے جواب دیا ۔ "ٹھیک ہے ۔" امی نے کہا ۔ اور پھر مجھے کہا کہ جاؤ بیٹا چلے جاؤ آنٹی کے کمرے میں۔ میں یہ سن کر کمرے سے باہرچلا گیا۔ مگر امی اور سویرا کے درمیان ابھی بھی لائن کٹی نہیں تھی بلکہ فون کال جاری تھی۔ سویرا نے کہا ،"بات سنو، تمہارا آج اس ہینڈسم کے ساتھ مستی کا موڈ ہے نا جو اپنے معصوم بیٹے کواس طرح کمرے سے نکال رہی ہو؟" "چل دفع ہو ، تجھے کتنی مرتبہ کہا ہے کہ میرے ہینڈسم پر نظر نہ رکھا کر۔ خود تو تیری اتنی پہنچ ہے اور میرے ہینڈسم پر پھر تیری نظر ہے۔اب رات بھی تو کسی طرح گزارنی تھی نا، اس لیے اسے بلا لیا۔ " "بہت گرمی ہے تیرے اندر!" سویرا نے ہنس کر کہا۔ "چل بے غیرت بکواس نہ کر، تیرے پاس اپنا بیٹا بھیجا ہے نا، نکال لے اس پر گرمی" امی نے بھی جواباََ ہنس کر کہا۔ اور اس کے بعد لائن کٹ گئی۔ مگر امی کے کہے ہوئے آخری جملے کو پہلے تو سویرا نے مذاق سمجھ کر نظر انداز کیا مگر پھر کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ میرے کمرے سے نکلنے کے کچھ ہی لمحات بعد امی کے کمرے پر دستک ہوئی تو امی نے دروازہ کھولا۔ سامنے عثمان موجود تھا ۔وہ کمرے میں آیا تو امی فوراََ اس سے لپٹ گئیں اور اس کے گلے میں بازو ڈال کر اس کے ہونٹوں سے آسودگی کشید کرنے لگ گئیں، جیسے وہ صدیوں کی پیاسی ہوں! اسی اثناء میں میں سویرا آنٹی کے کمرے میں پہنچ گیا۔ دروازہ ناک کیا تو انہوں نے اندر آنے کی اجازت دی۔ اور ہمیشہ کی طرح میں اس مرتبہ بھی سویرا آنٹی کو دیکھ کر دم بخود رہ گیا۔ لال شلوار قمیص میں ملبوس وہ قیامت ڈھا رہی تھیں۔ تاثرات سے بھرپور چہرہ، اٹھے ہوئے ممے، خوب صورت فگر، تیکھے نین نقش اور ایک قیامت خیز گانڈ کے ساتھ سویرا کا سراپا کسی نامرد کو بھی مرد بنا دینے والا تھا۔ انہیں دیکھ کر میرے عضو نے فوراََ اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ میں آنٹی سے گلے بھی ملا، جیسے اکثر ملتا تھا، اور یوں ان کی چھاتیاں میرے سینے کے ساتھ مس ہوئیں۔ ہم نے کافی دیر بیٹھ کر ادھر ادھر باتیں کیں مگر اس دوران میری نظریں ان کے سراپے کا طواف کرتی رہیں اور اس بات کو انہوں نے بھی خوب اچھی طرح محسوس کیا۔ میری نظریں ان کی چھاتیوں پر گڑی ہوئی تھیں، مگر حیران کن طور پرانہوں نے اپنے مموں پر ڈوپٹہ ٹھیک نہ کیا بلکہ ویسے ہی رہنے دیا۔ رات کا شاید دوسرا پہر تھا جب سویرا آنٹی اٹھیں اور کہاکہ چلو اب کچھ دیر آرام کر لیں ۔ مجھے لگا کہ شاید یہ اس بات کا اعلان ہے کہ میں کمرے سے چلا جاؤں مگر ان کا ارادہ اس سے سوا تھا۔ میں کمرےسے جانے لگا تو انہوں نے مجھے ادھر ہی روک لیا اور کہاکہ میں ادھر ان کے کمرے میں ہی سو جاؤں ۔ "مگر آنٹی یہاں تو صرف ایک ہی بیڈ ہے۔میں نیچے امی کے پاس جا کر سو جاتا ہوں۔"میں نے کہا " کوئی بات نہیں بیٹا۔تم میر ےبیٹے جیسے ہو، تم میرے ساتھ اسی بیڈ پر سو جاؤ۔ رات بہت ہو گئی ہے۔ تمہاری امی سو گئیں ہوں گی اور اس وقت انہیں جگانا مناسب نہیں۔" آخری بات کہتے ہوئے سویرا زیرِ لب مسکرائی۔"تم یہاں بیڈ پر لیٹو، میں ذرا کپڑے بدل کر آئی۔ "سویرا نے کہا "مگر آنٹی۔۔۔۔" میں نے انہیں ٹوکا جب وہ واش روم کی طرف ایک قدم بڑھا چکی تھیں۔ "اب کیا ہے بیٹا؟" سویرا نے کہا "آپ اور امی تو سفر پر جا رہے تھے ، اس لیے آپ کے پاس ہر قسم کے کپڑے موجود ہیں، مگر میں اس وقت جینز میں ہوں، میں بھلاکیسے ان کپڑوں میں رات گزاروں گا۔ " میں نے کہا۔ "ہمم۔۔ یہ بات تو ہے۔ تم ایسا کر و ایک کام کرو۔ میں واش روم میں جاتی ہوں۔ تم میرے پیچھے اپنی جینز اتارو اور انڈرویئر پہن کر اپنی رضائی میں گھس جاؤ، ایسے تم ایزی رہو گے۔" "ہمم آنٹی،یہ ٹھیک ہے۔" میں نے دل ہی دل میں آنٹی کو داد دی ۔ پھر وہ واش روم میں گھس گئیں۔ میں نے اپنی جینز اتار کر صوفے پر پھینکی۔ شرٹ بھی اتار دی اور بنیان اور انڈرویئر میں ملبوس رضائی میں گھس کر آنٹی کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔ آنٹی جب باہر آئیں تو میری نظران پر پڑ ی اور میرے رہے سہے ہوش بھی جاتے رہے۔ آنٹی نے ایک بڑی زبردست نائٹی پہن رکھی تھی جس کے بازو نہیں تھے اور اس کی لمبائی بمشکل ان کی تھائی تک تھی۔ میں نے ان کا سراپا کمرے میں موجود بڑے شیشے میں دیکھا تو مجھے پتہ چلا کہ ان کی نائٹی صرف ان کے آدھے ہپس کو ڈھانپ رہی تھی اور ان کی خوب صورت گانڈ کا زیادہ حصہ اس میں سے ننگا نظر آ رہا تھا۔ یہی حال ان کے مموں کا تھا ۔ مموں کے ملاپ سے بننے والی لکیر اور دونوں مموں کا بہت سا حصہ ننگا تھا۔ میرے عضوِ مخصوص میں ایسی سختی آئی کہ بیان سے باہر ہے۔ اور اس مرتبہ میں اپنے تاثرات چھپا نہ سکا۔ میرے چہرے پر موجود اضطراب اور بے چینی کو سویرا نے با آسانی محسوس کر لیا اور ہنس کر کہا، "کیا ہوا بیٹا، اس سے پہلے کبھی کوئی خوب صورت عورت نہیں دیکھی؟" "دیکھی تو بہت ہیں، مگر آپ سی خوب صورت کوئی نہیں دیکھی۔ " میں نے بھی ہنس کر جواب دیا۔ "چل بدمعاش، لائن مت مار۔" سویرا نے ہنس کر کہااور خراماں خراماں چلتے ہوئے بیڈ پر آ کرمیرے بائیں طرف لیٹ گئی۔ کچھ ہی دیر بعد وہ سو گئی۔ مگر مجھے نیند کیسے آ سکتی تھی! میں بہت دیر تک اپنے پہلو میں لیٹی سویرا ندیم کے ادھ ننگے جسم کو نہارتا ہوا اپنے عضو کو ہلاتا رہا۔ مجھے اپنی قسمت پر رشک بھی آ رہا تھا کہ اس خوب صورت عورت کو اس حالت میں دیکھنا بھلا ہر کسی کانصیب کہاں ۔ یہ تو قسمت والوں کی بات ہے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ یہ احساس بھی دل میں موجود تھا کہ اس قدر قریب ہو کر بھی میں اس بلا کے خوب صورت جسم سے تسکین حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں اور یہ شاید سب سے بڑی بدقسمتی بھی ہے کہ اتنے قریب جا کر بھی اصل مزے سے دور رہا جائے۔ یکایک مجھ پر یہ کیفیت شدید ہوئی اور میں نے ارادہ کیا کہ میں کچھ نہ کچھ ضرور کروں۔ یہ سوچ کر میں نے اپنا بایاں ہاتھ سویرا کی طرف بڑھایا اور اس کے دائیں ممے کو ہلکا ہلکا دبانا شروع کر دیا۔ پھر تھوڑا سا ہاتھ بڑھایا اور یہی کام بائیں ممے کے ساتھ بھی کیا۔ سویرا کا جسم ہلکا ہلکا ہلا، مگر میں نے احتیاط سے کام لیا۔ اس دوران میں اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے عضوِ مخصوص کو ہلاتا رہا جو اب سخت سے سخت تر ہو رہا تھا۔ اتنی دیر میں سویرا نے دوسری طرف کروٹ لی۔ اب مجھے اپنے ہاتھ تو اس کے مموں سے ہٹانا پڑ ے مگر اچھی بات یہ ہوئی کہ اس کی سیکسی صحت مند ادھ ننگی گانڈ میرے سامنے آ گئی، جسے دیکھنا میرے لیے بہت بڑی بات تھی۔ ان کی گانڈ تو شلوار کے اندر سے ہی تھرک تھرک کر قیامت ڈھاتی تھی ۔ اب تو میرے سامنے ادھ ننگی موجود تھی۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر باقی گانڈ سے بھی ان کی نائٹی ہٹا دی اور یوں ان کی گانڈ میرے سامنے فل ننگی ہوگئی۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر ان کی پوری گانڈ پر جی بھی کر ہاتھ پھیرا اور ساتھ ساتھ اپنے عضو کو سہلاتا رہا۔ نہ جانے کب تک یہ عمل جاری رہا۔ یکایک نہ جانے مجھے کیا ہوا کہ میں نےرضائی پیچھے کی اور انڈرویئر بھی اتار پھینکا۔ مجھ پر شدید مستی طاری تھی اور اسی کیفیت کے زیرِ اثر میں نے زور زور سے اپنے عضو کو ہلانا شروع کر دیا۔میری آنکھیں بند تھیں۔ میرے عمل میں اتنی شدت آئی کہ بیڈ زور زور سے ہلنے لگ گیا مگر میں اس بات سے بے نیازاپنے کام میں لگا رہا۔۔۔ مگرپھر وہ ہوا جس کا میں نے تصور نہ کیا تھا۔ میرے کانوں میں ایک مخصوص آواز گونجی، "بیٹا یہ کیا کر رہے ہو؟" یہ سن کر مجھ پر بم گر پڑا۔ میں نے اپنی آنکھیں بند رکھتے ہوئے اپنی حرکت کو روکا۔ آنکھیں کھولیں تو سامنے دیکھا کہ سویرا ندیم سپاٹ چہرہ مگر چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لیے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی اور مجھے اپنے عضو کو ہاتھ میں پکڑے دیکھ رہی تھی۔"تم یہاں بیڈ پر لیٹو، میں ذرا کپڑے بدل کر آئی۔ "سویرا نے کہا "مگر آنٹی۔۔۔۔" میں نے انہیں ٹوکا جب وہ واش روم کی طرف ایک قدم بڑھا چکی تھیں۔ "اب کیا ہے بیٹا؟" سویرا نے کہا "آپ اور امی تو سفر پر جا رہے تھے ، اس لیے آپ کے پاس ہر قسم کے کپڑے موجود ہیں، مگر میں اس وقت جینز میں ہوں، میں بھلاکیسے ان کپڑوں میں رات گزاروں گا۔ " میں نے کہا۔ "ہمم۔۔ یہ بات تو ہے۔ تم ایسا کر و ایک کام کرو۔ میں واش روم میں جاتی ہوں۔ تم میرے پیچھے اپنی جینز اتارو اور انڈرویئر پہن کر اپنی رضائی میں گھس جاؤ، ایسے تم ایزی رہو گے۔" "ہمم آنٹی،یہ ٹھیک ہے۔" میں نے دل ہی دل میں آنٹی کو داد دی ۔ پھر وہ واش روم میں گھس گئیں۔ میں نے اپنی جینز اتار کر صوفے پر پھینکی۔ شرٹ بھی اتار دی اور بنیان اور انڈرویئر میں ملبوس رضائی میں گھس کر آنٹی کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔ آنٹی جب باہر آئیں تو میری نظران پر پڑ ی اور میرے رہے سہے ہوش بھی جاتے رہے۔ آنٹی نے ایک بڑی زبردست نائٹی پہن رکھی تھی جس کے بازو نہیں تھے اور اس کی لمبائی بمشکل ان کی تھائی تک تھی۔ میں نے ان کا سراپا کمرے میں موجود بڑے شیشے میں دیکھا تو مجھے پتہ چلا کہ ان کی نائٹی صرف ان کے آدھے ہپس کو ڈھانپ رہی تھی اور ان کی خوب صورت گانڈ کا زیادہ حصہ اس میں سے ننگا نظر آ رہا تھا۔ یہی حال ان کے مموں کا تھا ۔ مموں کے ملاپ سے بننے والی لکیر اور دونوں مموں کا بہت سا حصہ ننگا تھا۔ میرے عضوِ مخصوص میں ایسی سختی آئی کہ بیان سے باہر ہے۔ اور اس مرتبہ میں اپنے تاثرات چھپا نہ سکا۔ میرے چہرے پر موجود اضطراب اور بے چینی کو سویرا نے با آسانی محسوس کر لیا اور ہنس کر کہا، "کیا ہوا بیٹا، اس سے پہلے کبھی کوئی خوب صورت عورت نہیں دیکھی؟" "دیکھی تو بہت ہیں، مگر آپ سی خوب صورت کوئی نہیں دیکھی۔ " میں نے بھی ہنس کر جواب دیا۔ "چل بدمعاش، لائن مت مار۔" سویرا نے ہنس کر کہااور خراماں خراماں چلتے ہوئے بیڈ پر آ کرمیرے بائیں طرف لیٹ گئی۔ کچھ ہی دیر بعد وہ سو گئی۔ مگر مجھے نیند کیسے آ سکتی تھی! میں بہت دیر تک اپنے پہلو میں لیٹی سویرا ندیم کے ادھ ننگے جسم کو نہارتا ہوا اپنے عضو کو ہلاتا رہا۔ مجھے اپنی قسمت پر رشک بھی آ رہا تھا کہ اس خوب صورت عورت کو اس حالت میں دیکھنا بھلا ہر کسی کانصیب کہاں ۔ یہ تو قسمت والوں کی بات ہے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ یہ احساس بھی دل میں موجود تھا کہ اس قدر قریب ہو کر بھی میں اس بلا کے خوب صورت جسم سے تسکین حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں اور یہ شاید سب سے بڑی بدقسمتی بھی ہے کہ اتنے قریب جا کر بھی اصل مزے سے دور رہا جائے۔ یکایک مجھ پر یہ کیفیت شدید ہوئی اور میں نے ارادہ کیا کہ میں کچھ نہ کچھ ضرور کروں۔ یہ سوچ کر میں نے اپنا بایاں ہاتھ سویرا کی طرف بڑھایا اور اس کے دائیں ممے کو ہلکا ہلکا دبانا شروع کر دیا۔ پھر تھوڑا سا ہاتھ بڑھایا اور یہی کام بائیں ممے کے ساتھ بھی کیا۔ سویرا کا جسم ہلکا ہلکا ہلا، مگر میں نے احتیاط سے کام لیا۔ اس دوران میں اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے عضوِ مخصوص کو ہلاتا رہا جو اب سخت سے سخت تر ہو رہا تھا۔ اتنی دیر میں سویرا نے دوسری طرف کروٹ لی۔ اب مجھے اپنے ہاتھ تو اس کے مموں سے ہٹانا پڑ ے مگر اچھی بات یہ ہوئی کہ اس کی سیکسی صحت مند ادھ ننگی گانڈ میرے سامنے آ گئی، جسے دیکھنا میرے لیے بہت بڑی بات تھی۔ ان کی گانڈ تو شلوار کے اندر سے ہی تھرک تھرک کر قیامت ڈھاتی تھی ۔ اب تو میرے سامنے ادھ ننگی موجود تھی۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر باقی گانڈ سے بھی ان کی نائٹی ہٹا دی اور یوں ان کی گانڈ میرے سامنے فل ننگی ہوگئی۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر ان کی پوری گانڈ پر جی بھی کر ہاتھ پھیرا اور ساتھ ساتھ اپنے عضو کو سہلاتا رہا۔ نہ جانے کب تک یہ عمل جاری رہا۔ یکایک نہ جانے مجھے کیا ہوا کہ میں نےرضائی پیچھے کی اور انڈرویئر بھی اتار پھینکا۔ مجھ پر شدید مستی طاری تھی اور اسی کیفیت کے زیرِ اثر میں نے زور زور سے اپنے عضو کو ہلانا شروع کر دیا۔میری آنکھیں بند تھیں۔ میرے عمل میں اتنی شدت آئی کہ بیڈ زور زور سے ہلنے لگ گیا مگر میں اس بات سے بے نیازاپنے کام میں لگا رہا۔۔۔ مگرپھر وہ ہوا جس کا میں نے تصور نہ کیا تھا۔ میرے کانوں میں ایک مخصوص آواز گونجی، "بیٹا یہ کیا کر رہے ہو؟" یہ سن کر مجھ پر بم گر پڑا۔ میں نے اپنی آنکھیں بند رکھتے ہوئے اپنی حرکت کو روکا۔ آنکھیں کھولیں تو سامنے دیکھا کہ سویرا ندیم سپاٹ چہرہ مگر چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لیے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی اور مجھے اپنے عضو کو ہاتھ میں پکڑے دیکھ رہی تھی۔پھر میں اوپر سے اٹھا اور سویرا کو بیڈ پر گھوڑی بنایا۔ اس کے پیچھے آیاا ور پھر پیچھے سے اس کی شرمگاہ (یعنی اگلے مقام ہی) میں دخول کیا۔ اب میرے ہاتھ اس کی گانڈپر تھے اور میں زور زور سے اس کے اندر جھٹکے ما ر رہا تھا۔ اس دوران میں کبھی کبھی جھک کر سویرا کی کمر بھی چوم لیتا۔ میرے جھٹکوں سے اس حسینہ کے ممے زور زور سے ہل رہے تھے ، اور دعوت دے رہے تھے کہ کوئی آ کر ان سے رس کشید کرے۔ بہت دیر تک سویرا کے اندر جھٹکے مار مار کر میری ہمت اب جواب دے گئی تھی۔ اور شاید سویرا کی بھی۔ اس کے جسم نے جھٹکے لیے اور وہ فارغ ہوتے ہوئے زیادہ دیر گھوڑی نہ بنی رہ سکی اور بیڈ پر لیٹ گئی۔ اسی وجہ سے میرا عضو اس کی شرمگاہ سے باہر نکل آیا۔ وہ جب فارغ ہو چکی تو میں نے اسے سیدھا کیا اور اس کے اندر دخول کر کے اس کے اوپر لیٹ کر جھٹکے مارنے لگا، گو کہ اب جھٹکوں کی رفتار قدرے کم تھی۔ کچھ لمحات بعد میں بھی اپنی منزل کو پہنچ گیا اور میں نے سویرا کی فرمائش کے عین مطابق اپنا پانی اس کے اندر ہی نکال دیا۔۔۔۔۔ ہم دونوں نے باری باری باتھ روم جا کر اپنے آپ کو دھویا اور واپس آ کر ایک ہی لحاف میں گھس کر ایک دوسرے کے ساتھ لپٹ گئے۔ہم دونوں ایک دوسرے کو چوم رہے تھے، ہاتھ پھیر رہے تھے۔۔۔۔ ہلکا ہلکا شہوت بھرا رومانس ہم دونوں کے درمیان جاری تھا۔۔۔۔پھر سویرا نے میرا سر اپنے مموں پر رکھا اور آنکھیں بند کر لیں اور مجھے بھی سونے کا کہا۔ میں نے اپنا سر اس کے مموں پر رکھا اور سو گیا۔ صبح ہوئی تومیں نے کپڑے پہنے ۔ امی اور سویرا کی فلائٹ چونکہ دوپہر کی تھی ، اس لیے وہ دونوں نہ اٹھیں۔ سویرا نائٹی میں مبلوس سوئی رہی۔ امی کے کمرے پر کافی مرتبہ دستک تھی مگر شاید وہ بھی سو رہی تھیں۔ پھر میں دفتر کے لیے نکل پڑا۔ وہ رات شاید زندگی کی بہترین رات تھی!

Posted on: 12:34:PM 14-Dec-2020


6 2 567 1


Total Comments: 1

m nasim: hello guys how to copy that .



Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com