Stories


بہن چارہ از رانی بتول

بھائی چارا سے مطلب آپس میں محبت ہوتا ہے مگر یہاں اس کا مطلب بہن کو چارے کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ جس طرح شیر کے شکار کے لئے بکری چارا ہوتی ہے۔نینا اور بینا بہنیں تھیں۔ نینا 18 سال کی جب کہ بینا 22 سال کی تھی۔ نینا ایک دبلی پتلی اور خوبصورت نین نقش والی لڑکی تھی جبکہ بینا بھرے ہوئے گداز جسم کی مالک تھی۔اس کے جسم کی غضب کی تراش خراش اس کی دلکشی میں اضافہ کرتی تھی، اس کی پتلی کمر، بھاری چھاتی اور کولہے مردوں کی نگاہوں کو لبھاتے تھے۔ نینا بھی خوبصورت تو تھی مگر اپنی بہن کی طرح اس میں وہ بےتحاشا جنسی کشش نہ تھی۔ امید کی جا سکتی تھی کہ مزید کچھ عرصے میں نینا بھی اسی طرح خوشبدن ہو جائے۔ یہ بات نینا بڑی شدت سے محسوس کرتی تھی کہ اس کی بہن کے سراپے کے آگے اس کی تمام تر رعنائی ماند پڑ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ جو چیز دونوں میں مختلف تھی وہ تھی مزاج، سوچ اور عادات۔ نینا کسی قدر بولڈ اور خودعرض لڑکی تھی مگر بینا خاموش طبع، نرم فطرت اور باکردار لڑکی تھی۔ اپنی اس قدر جسمانی خوبصورتی سے آگاہی کے باوجود وہ خاصی شریف لڑکی تھی۔ کسی بھی مرد کو اس نے کبھی کوئی حوصلہ افزا رسپانس نہیں دیا تھا۔ جوانی کی ابتدا سے ہی وہ مردوں کی نگاہوں میں چھپی طلب جان چکی تھی اور اس سے بچتی آئی تھی۔ نینا خود تو خیر بہن کے جسم سے متاثر تھی ہی، جب اسے یہ پتہ چلا کہ اس کے اردگرد کا ہر لڑکا بس بینا کے ہی خواب دیکھتا ہے تو وہ حسد کرنے لگی۔ نینا نے جوانی میں قدم رکھا تو اس نے بڑی شدت سے اپنے اندر جنسی طلب محسوس کی۔ اس کی تسکین کے لئے اس نے نیٹ پر ایسا مواد دیکھنا شروع کر دیا۔نیٹ پر وہ سب موجود ہے جو کنوریوں کو بیاہتاؤں سے زیادہ آگاہی دیتا ہے۔ مگر جلد ہی اس سے اکتا گئی اور اب خود بھی اس تجربے سے گزرنے کے لئے تڑپنے لگی۔ گھر میں دو دو جوان بیٹیوں کے ہوتے ہوئے گھر والے بےحد محتاط تھے، کوئی بھی جوان رشتہ دار یا مرد ان کے گھر نہیں آتا تھا۔ مگر چور راستے ہر جگہ ہوتے ہیں۔ ان کی ایک کزن اسی شہر میں بیاہی تھی، وہ کبھی کبھار ان سے ملنے چلی آتی۔ عام طور پر اس کے ساتھ اس کا دیور جمال ہوتا۔ جمال ایک خاصا خوش شکل اور فلرٹ قسم کا لڑکا تھا۔اس کی عمر 29 سال تک ہو گئی تھی مگر وہ ابھی تک غیرشادی شدہ تھا جس کی وجہ اس کی بری عاداتیں تھیں۔ اس کی رال بینا کو دیکھ عرصے سے ٹپک رہی تھی مگر بینا اور اس کے گھر والے دونوں ہی ایسے حالات نہ آنے دیتے کہ جمال اس پر ڈورے ڈال سکتا۔ جمال کی یہ فطرت نینا سے چھپی نہ رہ سکی کیونکہ وہ خود اسی کشتی کی مسافر تھی۔ اس نے جمال سے راہ و رسم بڑھائے اور کسی قدر بےتکلفی قائم کر لی۔ عام حالات میں اگر نینا ایسا کرتی تو جمال پھولا نہ سماتا مگر یہاں وہ جنبیلی کے ان کھلے بھول کی نہیں گلاب کے کھلے پھول کی آس میں تھا۔ جمال فطرتا" بزدل تھا اور اسی لئے کبھی کسی کنوری پر ہاتھ نہیں ڈالتا تھا۔ویسے بھی وہ زیادہ تر شادی شدہ عورتوں کو اپنا نشانہ بناتا تاکہ مزا پورا ہو، کوئی شک نہ ہو اور بچے کا باپ بننے کے لئے کوئی اور موجود ہو۔ وہ نینا کو بینا کی بہن کے طور پر خوش کرنے لگا، مگر اس کی زیادہ تر باتیں ایسی ہوتیں جو نینا سے بینا کی پسند نا پسند پر مبنی ہوتیں۔ بہت جلد ہی نینا سمجھ گئی کہ وہ بینا تک پہنچنے کی سیڑھی ہے، جمال کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔ انھی دنوں بینا کا رشتہ طے ہوا اور چند ہی دنوں میں شادی طے ہو گئی۔ گھر میں افراتفری مچ گئی۔ جمال بھی اپنی بھابھی کے ساتھ اب قریبا" روز آنے لگا اور کئی کاموں کو نپٹانے کے بہانے بہت سا وقت ان کے بیچ بتانے لگا۔ شادی کے دن قریب آ گئے۔ گھر میں کافی مہمان اکٹھا ہو گئے جس میں لڑکیاں اور لڑکے بھی شامل تھے۔ ایک رات نینا کسی کام سے گھر کے سٹور میں آئی تو ایک سرگوشی سے چونک گئی۔ کنوری ہونے کے باوجود وہ اتنا جانتی تھی کہ ایسی سرگوشی جنسی تعلق کے دوران ہوتی ہے۔کوئی سٹور میں سامان کے پیچھے تھا، وہ دبے پاؤں پہنچی تو دھک رہ گئی۔ سٹور کے آخری کونے میں جمال، نینا کی کزن ریما جو جمال کی بھابھی کی چھوٹی بہن بھی تھی کے ساتھ تھا۔ ریما دیوار کی طرف منہ کئے جھکی کھڑی تھی، اس کی شلوار گھٹنوں تک اتری تھی، جمال اس کے کولہے تھامے، پیچھے سے اس کو چود رہا تھا۔ جمال کا لمبا اور موٹا لن ریما کی چھوٹے چھوٹے بالوں والی کالی اور کھلی سی چوت میں آرام سے جا رہا تھا۔ نینا کے دل میں ٹھیس سی اٹھی، باہر سب لڑکیاں گا بجا رہی تھیں، اور 25 سالہ ریما جسے آئے دو دن نہیں ہوئے تھے، شادی شدہ ہو کر جمال سے یوں چدوا رہی تھی۔ نینا سمجھ گئی کہ ریما اور جمال کا یہ تعلق نیا نہیں ہے، ریما اپنی بہن کے دیور کے ساتھ بہت عرصے سے منہ کالا کر رہی ہے۔ نینا خاموشی سے لوٹ آئی۔ جمال اسے اپنے لئے ہر لحاظ سے موزوں لگا کیونکہ وہ بعد میں بھی اس کی چوت مار سکتا تھا۔ رات کو سب ہنگامہ ختم ہو گیا تو نینا نے جمال کو بلایا: وہاں سٹور میں آؤ کچھ کام ہے۔ جمال کوئی کام سمجھ کر آ گیا، مگر سٹور میں نینا کے تیور دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ نینا نے اپنے قمیض کا گریبان کھول کر قمیض سینے تک نیچے کر دی اور اپنے سینے کی لکیر جمال کے سامنے کر کے بولی:کیا ہے ریما میں جو مجھ میں نہیں۔ جمال سب سمجھ گیا اور بولا:" ریما میں جو ہے وہ تم میں واقعی نہیں۔ ریما ایک بھرپور عورت کا جسم رکھتی ہے جبکہ تم ابھی بچی ہی ہو۔ اس کے علاوہ ریما اکیلی نہیں ہے، اس کے ساتھ اس کی دو دو نندیں بھی ہیں، جو میرے ساتھ مزے کرتی ہیں۔یہ سب ریما ارینج کرتی ہے، بدلے میں میں اسے بچے دیتا ہوں جو اس کا شوہر نہیں دے پایا۔" نینا کے لئے یہ سب حیران کن تھا کہ ریما کے دونوں بچوں کا باپ جمال ہے، اور اس کی دونوں شادی شدہ نندیں بھی جمال سے چدواتی ہیں۔وہ خاموش رہی پھر بولی: تم چاہتے کیا ہو۔ جمال بولا: چاہتا جو تھا وہ کسی اور کا ہو گیا ہے، تم کبھی بھی وہ جگہ نہیں پا سکتی جو بینا کی ہے۔بینا جب تک یہاں تھی کوئی تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوا اور جب وہ چلی جائے گی تو اس کے بعد بھی لوگ اس کا مقابلہ تم سے کریں گے اور تم ہمیشہ اسی طرح رہو گی۔ شراب کے سامنے پانی کون پیتا ہے، شراب نہ ہو تو لوگ اسے یاد کر کر مزے لیں گے مگر پانی کو نہیں چھوئیں گے۔ نینا یہ سب جانتی تھی، اس کے اندر ایک آگ جلنے لگی۔ زندگی میں پہلی بار اسے احساس ہوا کہ وہ کنوری ہو کر خود ایک مرد کو اپنا جسم دے رہی ہے مگر وہ اس کو اس کی بہن کی وجہ سے ہاتھ نہیں لگا رہا۔نینا کے دل میں بینا کے لئے نفرت پیدا ہوئی۔ وہ سوچنے لگی کہ کیا میں اتنی گئی گزری ہوں کہ ننگی ہو کر بھی مرد کو نہ لبھا سکی۔ جمال بولا: اب کپڑے صحیح کرو اور باہر چلو، میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ تمھیں چودوں گا، اگر کبھی تم اس قاپل لگیں تو ٹھیک ہے تمھاری آگ بھی بجھا دونگا۔ جمال باہر کی طرف مڑا تو نینا بولی: ٹھہرو! تمھیں بینا کو چودنا ہے، ٹھیک ہے میں تمھیں بینا کی لے کر دوں گی، اس کے بعد تم مجھے ہمیشہ چودتے رہو گے۔ بولو منظور۔ جمال ہکا بکا رہ گیا اور بولا: تم لے کے دو گی مگر کیسے، پرسوں تو اس کی شادی ہے میرا مطلب۔ ۔ ۔ نینا بولی: ہاں یا نہ۔ جمال بولا: ہاں۔ہاں بالکل نینا بولی: ٹھیک ہے تم پہلے مجھے ابھی چودو پھر میں بینا کی کوشش کرتی ہوں۔ جمال بولا: نہیں ڈیل از ڈیل، میں تمھیں بینا کی پھدی مارنے کے بعد ہی چودوں گا، مگر یاد رہے، یہ کام تم اپنی ذمہ داری پر کرو گی۔میں تمہارے یا تمہارے بہن کے پیٹ کا ذمہ دار نہیں،کیونکہ تم کنوری ہو اور وہ بھی اتنی جلدی ماں بنی تو کسی کو بھی شک ہو سکتا ہے۔ نینا نے اپنی قمیض صحیح کی اور باہر نکل گئی۔ جب اپنا ہی دشمن ہو تو انسان کیسے بچ سکتا ہے۔ بینا کو کیا پتہ تھا، کہ اس کی سگی بہن نے اپنی چوت مروانے کے لئے اس کی چوت بیچ دی ہے۔ رات کو بینا کے دودھ میں نینا نے نشہ آور گولی ملا دی اور اسی کے کمرے میں سو گئی۔ آدھی رات کو نینا نے جمال کو کمرے میں بلا لیا۔ جمال کمرے میں آیا تو اسے بینا بےہوش پڑی نظر آئی۔ نینا بولی: لو اب تم ساری رات اپنی من مرضی کر سکتے ہو یا کوئی شک ہے۔ جمال جو خوشی سے بےقابو ہوا جا رہا تھا، بولا: ہاں ہاں کوئی شک نہیں اور بینا کے جسم کو ٹٹولنے لگا تو نینا نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور بولی: بینا یہیں ہے صبح تک، تم پہلے میری پھدی مارو، پھر بینا کو ہاتھ لگانا۔ جمال سمجھ گیا کہ نینا کو چودے بغیر وہ اپنی خواہش پوری نہیں کر سکتا۔ وہ بولا؛ ٹھیک ہے، مگر تم بینا کو پہلے پورا ننگا کرو، میں اسے چوموں گا مگر پھدی تمہاری ماروں گا۔ تھوڑی پس و پیش کے بعد نینا مان گئی اور بینا کا پیلا مایوں کا جوڑا اتار دیا۔ کپڑے اترتے ہی وہ جسم جو کپڑوں میں آگ لگاتا تھا آزاد ہو گیا۔ جمال دیوانگی سے اس کے مموں کو چوسنے لگا۔ نینا نے اپنے کپڑے بھی اتار دئیے اس کا اندازہ صحیح نکلا جمال سے صبر کرنا مشکل ہو گیا۔ جمال نے جلدی سے اپنے کپڑے اتارے اور نینا کو لیٹنے کو کہا۔ جمال اوپر لیٹ کر اس کے ہونٹوں اور گالوں کو چومنے لگا۔ جمال کا لمبا لن جو نینا پہلے بھی ریما کی چوت میں دیکھ چکی تھی نینا کی چوت پر پڑا تھا۔ جمال نے جلد ہی لن ڈالنے کی کوشش کی تو نینا بولی: ایڈیٹ میں کنوری ہوں، مجھے مارنا ہے کیا۔ جمال اس کے گورے مگر بینا کی نسبت چھوٹے مموں کو چوسنے لگا اور دل میں بینا کے مموں کا سوچنے لگا۔ تھوڑی دیر میں جمال کو بھی مزا آنے لگا۔ وہ بھی اب دل سے نینا کو چومنے لگا۔ نینا کو جمال کے لن کا اپنی چوت کے لبوں سے ٹکرانا اچھا لگ رہا تھا، وہ کافی انجوائے کر رہی تھی۔ نینا کے بالکل بغل میں بینا بےہوش پڑی تھی۔ نینا کو معلوم تھا کہ جمال بینا کی خاطر اسے چود رہا ہے۔ ایک بار وہ بینا کو چود لیتا تو شاید اپنی بات سے مکر جاتا۔ جمال نے نینا سے کہا: اب تو چوت گیلی ہو گئی ہے، اب لن ڈالوں کیا۔ نینا بولی: ہاں ڈالو، مگر یاد رہے جان چھڑانے کے انداز میں مت چودنا۔ جمال ہنس کر بولا: میری جان ایسا چودوں گا کہ یاد کرو گی، تمہیں بھی اور تمھاری بہن کو بھی۔ نینا نے اپنی ٹانگیں کھول دیں، جمال اس کی چھوٹی اور کنوری گلابی چوت دیکھ کر مسکرایا اور بولا: آج تک اتنی چھوٹی پھدی کبھی نہیں ماری، ہر لڑکی میری ہم عمر ہی تھی۔ بس آج دونوں مجھ سے 5 اور 9 سال چھوٹی لڑکیاں ہیں۔ مزا آ جائے گا۔ جمال نے لن اس کی چوت پر رگڑا اور بولا: واہ آج تو خون کی ندیاں بہیں گی۔ چوت کے سوراخ پر لن کی ٹوپی رکھی۔ ٹوپی سوراخ سے کہیں بڑی تھی۔نینا ڈر رہی تھی، پھدی مروانے کے درد کا اس نے سنا تھا، آج تجربہ کرنا تھا، جبکہ جمال کا لن کافی بڑا تھا۔ جمال اپنا غصہ اس کی چوت پر نکالتا تو کیا ہوتا۔ وہ جمال سے آرام سے ڈالنے کا بھی نہیں کہہ سکتی تھی۔ اس کی چوت دیکھ کر جمال بھی ذرا پریشان ہو گیا۔ وہ کچھ بھی کرتا مگر نینا کو بہت درد ہوتا، ویسے بھی وہ اسے پوری طاقت سے چودنا چاہتا تھا۔جمال بولا: نینا بہت درد ہو گا، چیخنا مت کوئی آ جائے گا۔ نینا نے سر ہلا دیا۔ جمال نے اپنی انگلی سے نینا کی چوت کا بہتا پانی ذرا اکٹھا کیا، لن کی ٹوپی پر لگایا اور آرام سے لن گھسایا۔ لن گیلا ہو گیا تھا، مگر گیا نہیں،نینا بولی: اسے میرے منہ میں دو میں اسے گیلا کرتی ہوں۔ جمال نے لن اس کے منہ میں ڈال دیا، وہ کسی منجھی ہوئی گشتی کی طرح چوسنے لگی۔ لن اتنا بڑا تھا کہ منہ میں آدھا ہی جا سکا۔ جمال اپنے لن کی لمبائی پر خوش تھا مگر نینا کا ڈر بڑھتا جا رہا تھا۔ 5 منٹ بعد بولی: اب ڈالو۔ ٹوپی کا سرا جاتے ہی نینا تڑپ اٹھی، درد بہت زیادہ تھا، ٹوپی کی موٹائی سے چوت کی دیواریں کھل رہی تھیں۔ نینا نے بستر کی چادر جکڑ لی، جمال نے اس کی کمر پکڑ اور کندھے پکڑ کر زوردار جھٹکا دیا تو نینا کی چیخ نکل گئی۔ خاموشی میں چیخ زور سے سنائی دی۔ جمال سہم گیا اور کچھ وقت انتظار کیا۔ کسی کو نہ پا کر دوبارہ نینا کی طرف متوجہ ہوا۔ لن اندر چلا گیا تھا مگر تنگ چوت میں لن پھنس گیا تھا۔جمال نے لن باہر کھینچا، تو خون کے قطرے بستر کی چادر کو رنگین کر گئے۔ نینا کی آنکھوں سے پانی بہنے لگا۔ نینا اور جمال دونوں کو اپنی رانوں پر نینا کا گرم گرم خون محسوس ہونے لگا۔ نینا شدید درد کے باوجود کسی طور پر چدائی سے دستبردار ہونا نہیں چاہتی تھی، جمال بھی کنوری اور کم عمر لڑکی کو چود کر خوش تھا اور مزے لے کر لن کو ہلانے لگا۔ تنگ اور جوان گرم گرم چوت کا مزا اسے باقیوں سے بہت بہتر لگا۔ جمال تیزی سے نینا کی چوت میں لن اندر باہر کرنے لگا۔ نینا شدید درد سے بےحال ہوئی جا رہی تھی مگر پورا لن اندر لئے برداشت کر رہی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ یہ درد جلد ختم ہو جائے گا پھر یہی کام مزا دے گا۔ جمال نینا کو تکلیف دینے کے لئے اس کی ٹانگیں اٹھا کر چودنے لگا۔ خون اور نینا کی چوت کا پانی مل کر ہر جھٹکے سے باہر بہتا جا رہا تھا اور ٹانگیں اٹھانے کی وجہ سے گانڈ کے سوراخ کی طرف جانے لگا۔ جمال نے نینا کو مموں کو مٹھی میں پکڑا اور انھیں کے سہارے چوت مارنے لگا۔ جمال کے ھاتھوں میں نینا کے ممے پورے آ گئے تھے، اور اس طرح نوچنے سے نینا کو بہت تکلیف ہونے لگی۔ جمال اس کی تکلیف محسوس کر کے بولا: بیٹا ! اگر چاہو تو کہہ دو میں تمہاری بہن کی پھدی مار لوں۔ نینا جو درد اور تکلیف سے رونے والی ہو چکی تھی پھنسی ہوئی آواز میں بولی: پہلے تم میری تو صحیح طرح چود لو، بینا کی بات بعد میں کرنا، ابھی میں برداشت کر سکتی ہوں۔ اگر جمال اسے نہ چھیڑتا تو شاید وہ جلد ہی رو پڑتی اور لن نکالنے کا کہتی۔ جمال نے تکیہ رکھ کر اس کے کولہے اونچے کئے اور چوت کا رخ اوپر کر لن گہرائی تک پہنچانے لگا۔ پہلے دو تین جھٹکوں پر نینا درد سے چلائی مگر پھر اتنے لمبے لن نے چوت کو آخری حد تک کھول دیا۔ جتنا درد ہونا تھا ہو چکا تھا، نینا کی چوت اب سن ہو گئی تھی اور اسے اب اچھا لگنے لگا۔ تنگ چوت اور زوردار چدائی سے جمال بھی کسی حد تک فارغ ہونے کی کنڈیشن میں تھا۔ نینا کو اب لن گہرائی میں اچھا لگنا لگا، وہ مزے سے چدوانے لگی، جبکہ جمال اب چھوٹنے والا تھا۔ نینا کو مزا آنے لگا تو اس نے چوت کو سکیڑنا شروع کر دیا، جس سے جمال کی ٹوپی زیادہ رگڑ کھانے لگی، وہ ذرا سا رکا تو نینا نے نیچے لیٹے لیٹے چوت آگے پیچھے ہلائی، اس سے پہلے کہ جمال روکتا، نینا لن چوت میں زور سے بھینچا اور چوت آگے پیچھے کی، جمال کا لن ایک جھٹکے سے چھوٹ گیا۔ جمال نے روکنے کے لئے لن باہر کھینچا اور اس کی نچلی نس کو دبایا مگر منی کا فوارہ نینا کی چھاتی پر جا گرا۔جمال نینا کے پہلو میں جا گرا اور گہری سانسین لینے لگا۔ جمال کو دوبارہ لن کھڑا کرنے میں ایک گھنٹا لگ گیا۔ اس نے بینا کی جسم کو دیکھا، اس نے سوچا کہ بینا کی صرف پھدی مار دیتا ہوں باقی پھر کبھی موقع ملا تو کروں گا ابھی اتنی سکت نہیں، حرامزادی نے اپنی چوت مروانے میں ساری جان نکال دی۔ نینا کی چوت پھوڑے کی طرح دکھ رہی تھی، اس نے پہلے پانی سے چوت کو اچھی طرح دھویا پھر پین کلر اور مانع حمل گولی کھائی۔ نہا دھو کر بستر پر آئی تو جمال دوبارہ لن کو کھڑا کر چکا تھا، وہ جونہی بینا کی طرف جھکا نینا بولی: ٹھہرو! ابھی میں پوری طرح مطمئن نہیں ہوئی۔ جمال غصے سے پلٹا اور بولا: سالی کتنی پھدی مروائے گی۔ نینا بھی غصے سے بولی: چیخو مت اگر میں چیخی تو مہنگا پڑے گا۔ جمال فورا" ہی سہم گیا اور بولا: دیکھو ایک بار میں اس کی چوت میں بس لن ڈال دوں پھر تمہیں دوبارہ چودتا ہوں۔ نینا بولی: ٹھیک ہے مگر لن پہلے میں چوسوں گی پھر تم ڈالنا۔ نینا نے جمال کو لن منہ میں لے لیا اور اسے زور سے چوسنے لگی، جمال ایک بار پھر بیوقوف بن گیا۔ نینا نے لن اس وقت چھوڑا کہ جونہی منہ سے نکل وہ بینا کی چوت سے ٹکرایا جمال چھوٹ گیا، سارا منی بینا کی ٹانگوں کے بیچ بہہ گیا۔ نینا کھکھلا کر ہنس پڑی اور بولی: اب چودو میری بہن کو، کیا ہوا۔ جمال نینا کو گالیاں دیتا ہوا کھڑا ہو گیا۔ اب وہ کم از کم آج کی رات تو بینا کو نہیں چود سکتا تھا۔ اس نے خوشامندانہ انداز میں نینا سے کہا: کل کی رات ہے، کیوں نہ کل بھی اسی طرح۔ ۔ نینا بولی: بس جمال، اب اور نہیں۔ تم نے بینا کی وجہ سے مجھے انکار کیا، لو میں تم سے چدوا بھی لیا اور اتنے پاس آ کر بھی تم بینا کی پھدی نہ مار سکے۔ اگر تم ایک بار مجھے چود کر کہتے تو میں خود بینا کو تم سے چدواتی ،مگر مجھے منع کر کے تم نے میری بےعزتی کی یہ اس کا بدلہ ہے۔ جمال مرے مرے قدموں سے باہر نکل گیا اور نینا بینا کو کپڑے پہنانے لگی۔

ختم شد۔

Posted on: 12:45:PM 14-Dec-2020


6 3 831 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com