Stories


مجھے پاس ہونا تھا از مناہل

سلام دوستو امید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہو نگے آج میں جو کہانی پیش کرہی ہوں وہ میرے ساتھ کالج میں پیش آیا تھا میں تھرڈ ائیر کے ایگزام کے بعد بوہوت فکر مند تھی کیوں کہ میرے پیپرز بہت برے ہوے تھے اس کی وجہ بھی میں تھی مجھے صرف اپنے بواۓ فرینڈ سے چدوانا یاد رہتا تھا میں صرف اپنی ہوس کے لئے کالج جاتی تھی ایگزام کے بعد میں نے اپنی سہیلی کرن کو بتایا تو اس نے مجھے مس سلمیٰ سے ڈسکس کرنے کا بولا مس سلمیٰ ہماری ٹیچر تھیں بہت خوبصورت لیکن نک چڑی تھیں انکا کالج میں بہت رعب تھا ہم ان سے ڈرتی تھیں میں نے کرن کو بولا یار وہ بات نہیں کرتیں کسی سے میری بات کہاں مانیں گی کرن بولی جو لڑکیاں فیل ہونے والی ہوتی ہیں ان کی بات سنتی ہیں وہ میں نے کرن کو بولا تم بھی چلو وہ بولی نہیں تم خود جاؤ میں نے دل پر پتھر رکھا اور ان کے سے ملنے سٹاف روم میں چلی گئی جب سٹاف روم پہنچی تو مس سلمیٰ اور دوسرے ٹیچرز باتوں میں مصروف تھے انہوں نے ٹرانسپیرنٹ سوٹ پہنا ہوا تھا اور انہوں نے برا بھی اتاری ہوئی تھی اور انکا دوپٹہ بھی نہیں تھا جس کی وجہ سے ان کے بریسٹ نظر آرہے تھے لیکن وہ بےپرواہ ہوکر باتوں میں لگی ہوئی تھی میں نے اندر جانے کے لئے اجازت مانگی تو ایک ٹیچر نے بولا جی کیا مسلہ ہے تو میں نے کہا سر مس سلمیٰ سے کام تھا مس سلمیٰ بولی یہاں بات کرنی ہے یا باہر میں بولی اگر آپ باہر این تو مہربانی ہوگی تو مس اپنی جگہ سے اٹھیں اور بیگ اٹھا کر دوپٹہ لیا اور باہر آگئیں مجھ سے پوچھا کیا مسلہ ہے مینن:مس میرے پیپرز خراب ہوے ہیں مجھ کو در ہے کہ میں فیل ہوجاؤں گی مس:تو پڑھنا تھا اب میں کیا کرسکتی ہوں میں:مس آپ مجھے پاس کرنے میں میری مدد کریں پلیز مس : وعدہنہیں کرتی کوشش کروں گی تم کل میرے گھر آسکتی ہو میں: ہاں مس کیوں نہیں پھر انھوں نے مجھے اپنے گھر کا ایڈریس دیا اگلے دن میں صبح انکے گھر پہنچ گئی ان کے فلیٹ کو ڈھونڈھنے میں کوئی خاص دشواری نہیں ہوئی میں نے بیل دی تو اندر سے آواز آئی مس کی کون میں بولی میں ہوں مس فضیلہ تو انہوں نے دروازہ کھول دیا انہوں نے نائٹی پہنی تھی انہوں نے مجھے اندر آنے کو بولا میں اندر گئی تو انھوں نے مجھے بٹھایا پھر میرے لئے چاۓ بنائی میں نے ان سے پوچھا مس آپ کے بچے کہاں ہیں تو وہ ہنس کر بولی جان میری شادی نہیں ہوئی میں بولی کیا میں پوچ سکتی ہوں تو انہوں نے بولا کہ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے تو میں نے سوری کہا پھر وہ بولی تمہارے کتنے پیپرز خراب ہوے ہیں میں بولی سب ہی مس تو انہوں نے کہا کوئی خاص وجہ میں بولی نہیں مس بس دل نہیں کیا تو مس بولی میرے گھر میں مجھے سلمیٰ بولو یہاں ہم دوست ہیں میں بولی ٹھیک ہے سلمیٰ تو پھر پڑھائی چھوڑ دو جب دل نہیں کرتا میں:سلمیٰ آئندہ پڑھوں گی میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں اس بار آپ میری مدد کریں پلیز سلمیٰ : تمھارے ابو کیا کرتے ہیں میں:وہ بزنس کرتے ہیں سلمیٰ:کیا نام ہے میں: شکیل نام ہے انکا سلمیٰ امی کیا کرتی ہیں میں: سوشل ورکر ہیں سلمیٰ کیا نام ہے امی کا میں: زرینہ نام ہے سلمیٰ : کہاںرہتی ہو میں: گلشن میں سلمیٰ :لگتا ہے تم میری دوست کی بیٹی ہو کیا تمھارے چچا کا نام ندیم ہے میں: ہاں سلمیٰ بلکل سلمیٰ : تمھارے پاپا گارمنٹس کا بزنس کرتے ہیں۔ پھر وہ میرے قریب ہوگئیں اور بولی تمھارے ابو اور امی میرے دوست رہ چکے ہیں اب تو لازمی میں تم کو پاس کراؤں گی میں خوش ہوتے ہوئے شکریہ سلمیٰ اس وقت ١٠ بج رہے تھے سلمیٰ بولی میں نے کپڑے دھونے ہیں میں نے کہا میں بھی آپ کے ساتھ مدد کروں سلمیٰ بولی کیوں نہیں انہوں نے مشین نکالی اور بولی تم کپڑے اتار دو خراب ہوجائیں گے میں سلمیٰ کیا پہنوں وہ ہنس کر بولی ننگی رہو میں کونسا مرد ہوں پھر انہوں نے اپنی نائٹی اتار دی اور بولی اصل میں گھر کے اندر میں ننگی رہتی ہوں جب کوئی آتا ہے تو یہ پہن لیتی ہوں شاباش تم بھی اتارو میں بولی مجھے شرم آتی ہے سلمیٰ بولی اتارو تمہاری ماں نے کی بار میرے سامنے اتارے ہیں کپڑے پھر انہوں نے آگے بڑھ کر میری قمیض اتاری پھر برا بھی پھر شلوار بھی اتاردی نیچے میں نے کچھ نہیں پہنا تھا پھر انہوں نے مجھے بولا تم میرے روم سے میرے کپڑے لاؤ میں گئی ان کے روم میں تو دیواروں پر ہر طرف ننگی فوٹو لگے ہوے تھے اکثر صرف لنڈوںکی تصویریں تھی خیر میں نے ان کے بد سے کپڑے لئے اور چلی گئی میں نے انکو مشین میں ڈالا اور مشین کو سٹارٹ کیا اور سلمیٰ کے پاس چلی گئی ان کی چوت پر ہلکے ہلکے بال تھے جبکہ میری چوت بلکل صاف تھی لیکن انکے ممے اور گانڈ بہت بڑی تھی میں نے بولا سلمیٰ آپ نے اپنے روم میں کتنی گندی فوٹو لگاۓ ہیں انہوں نے مجھے بولا اکیلی عورت کیا کرے جب کوئی مرد نہیں ملتا تو ان کو دیکھ کر دل خوش کرتی ہوں پھر وہ اٹھیں اور میری ٹانگوں کو کھولا اور بولی ورجن تو تم بھی نہیں ہو میں بولی ہاں سلمیٰ میں ورجن نہیں ہوں سلمیٰ کون ہے وہ میں افروز میرا کلاس فیلو اس سے کیا ہے تین بار سلمیٰ :کب کیا میں جب ہم ٹور پر سوات گئے تھے سلمیٰ :تم بلکل زرینہ پر گئی ہو اس نے بھی ایک ٹور پر شکیل سے کیا تھا فرسٹ ٹائم میں:آپ نے کیا ہے تو سلمیٰ نے واپس اپنی جگہ آکر بولی بہت لوگوں سے کیا ہے کل بھی جب تم آئی تھی تو اس سے پہلے میں نے چدوایا تھا میں:سلمیٰ پہلا سیکس کس سے کیا تھا سلمیٰ: اپنے کزن سے میں :اور کس کس سے کیا سلمیٰ : شکیل سے اور بہت لوگوں سے کالج میں تو سب ٹیچرز سے ہی چدی ہوں میں کچھ سٹوڈنٹس نے بھی مجھے چودا ہے میں: ابو سے کتنی بار سیکس کیا؟ سلمیٰ:تین بار میری چوت گیلی ہورہی تھی پھر ہم نے کپڑے دھوے بارہ بجے ہم فارغ ہوے ہم دونو بہت فری ہوچکے تھے پھر انہوں نے مجھے بولا فضیلہ تم پاس ہونا چاہتی ہو میں بولی ہاں سلمیٰ کیوں نہیں تو وہ بولی تمکو میرے ایک دوست جو انورستے میں پروفیسر ہے اسکو خوش کرنا ہوگا کیوں کے یہ اس کا کام ہے میں یہ مشکل ہے سلمیٰ بولی کونسا تمہارا پہلی مرتبہ ہے اس کے بغیر مشکل ہے جان تم کل تک مجھے بتانا میں بولی ٹھیک ہے میں ڈر رہی تھی کہ معلوم نہیں وہ میرا کیا حال کرے گا میں نے کہا سلمیٰ میں ڈرتی ہوں وہ بولی کچھ نہیں ہوگا اب تم کھلا ہوا پھول ہو ہر طرف اپنی خسبو پھیلاؤ میں بولی امی نے پھیلایا ہے کیا؟ وہ بولی بہت زیادہ میں بولی اس سے کہاں اور کتنی بار کرنا ہوگا بولی میرے گھر یہاں سب محفوظ ہوگا پھر میں اپنے گھر چلی گئی پھر ایک دن کالج میں سلمیٰ نے مجھے سنڈے کو اس کے گھر آنے کا بولا میں نے ہاں کہ دی پھر ہفتے کو سلمیٰ نے مجھے کال کی اور پوچھا تم کل آرہی ہو میں بولی ہاں تو اسنے مجھے اگلے دن گیارہ بجے آنے کا بولا میں نے کہا سلمیٰ میں آجاؤں گی اگلے دن میں صبح میں نو بجے اٹھی تو پاپا جاچکے تھے اور امی کہیں جانے کی تیاری کر رہی تھیں میرے نہانے تک وہ جاچکی تھیں نوکرانی نے مجھے ناشتہ دیا پھر میں اپنی گاڑی میں سلمیٰ کے گھر گئی وہ مجھے بہت پیار سے ملیں ہم باتیں کرنے لگے وہ بولی تم سیکس کے لئے تیار ہو میں بولی ہاں بلکل پھر ہم امی کی سیکس کے بارے میں باتیں کرنے لگے ان کے بواۓ فرینڈز اور ان کی چدائی کی باتیں کرتے رہے پھر یکدم بیل بجی تو سلمیٰ بولی شاید ہمارا ٹوکو آگیا ہے میں ہنس دی میرا دل دھڑکنے لگا تھا وہ اندر آیا تو سلمیٰ کے گلے لگا اور اس کے گال پر چمی لی۔ وہ پکاس سال کا ہٹا کٹامرد تھا میں نے اس کو سلام کیا اس نے جواب دیا سلمیٰ نے اس کو بولا یہ لڑکی ہے جسکا مسلہ میں نے آپ کو بتایا تھا اس نے میرا نام رول نمبر پوچھا میں نے بتایا پھر اس نے سلمیٰ کو پاس بیٹھا یا اور آنکھوں آنکھوں میں اشارے کئے پھر سلمیٰ نے ہم کو چاۓ دی چاۓ پینے کے دوران اس کی نظر بار بار میرے مموں پر پڑتی چاۓ کے بعد وہ بولا میں باتھ روم سے ہوکر آتا ہوں وہ گیا تو سلمیٰ میرے پاس ای اور بولی یار خود کو تھوڑا ایکسپوز کرو میں بولی کیسے تو اس نے بولا مجھے دیکھو اس طرح وہ صوفے پر یوں بیٹھی کہ اس کی گانڈ دیکھنے لگی تو میں بھی اس سٹائل میں بیٹھ گئی میری گانڈ بھی قیامت ڈھا رہی تھی پھر سلمیٰ نے میری قمیض کے دو بٹن کھول دیے اورقمیض کو کچھ فولڈ کیا جس سے میرے ممے کچھ دکھنے لگے پھر وہ بھی آگۓ سلمیٰ نے ان کو میرے قریب بٹھایا تو اس نے میرے مموں کو دیکھکر آمنے ہونٹوں پر زبان پھیری اور مجھ سے میری عمر پوچھا اور اپنا ایک ہاتھ میری گانڈ کے قریب رکھا اور سہلانے لگا مجھے بھی مزہ آنے لگا پھر اس نے اپنا ہاتھ میری چوتکی طرف بڑھایا اور چوت کو ھلکے سے ٹچ کرنے لگا میری حالت خراب ہونے لگی میری چوت گلی ہوگی تھی اس نے مجھے قمیض اتارنے کا بولا تو میں نے اتاردی اس نے بولا پہلے بھی چد چکی ہو یا نہیں تو سلمیٰ بولی ہاں اپنے کزن سے پھر اس نے اپنی قمیض اتاری اور میری برا کو اتارنے کے بعد مجھے کس کرنے لگا میرے ہونٹوں کو چوسنے لگا میں بھی اس کا ساتھ دینے لگی سلمیٰ نے آگے بڑھ کر میری شلوار اتار دی میں نے کوئی مزاحمت نہیں کی اور کرتی بھی کیوں میں خود آج اپنی مرضی سے آئی تھی پھر جگر نے میری ننگی چوت پر اپنا ہاتھ پھیرا تو میرے منہ سے سسکاری نکل گئی اس نے مجھے بولا تم میری شلوار اتارو میں نے اس کے ناڑے کو کھینچا تو ایک دم میں دم بخود رہ گئی اسکا لنڈ کھڑا نہیں تھا لیکن بہت موٹا لگ رہا تھا سلمیٰ نے آگے بڑھ کر اسکی شلوار اتار دی جگر نے مجھے نیچے کیا اور بولا اسکو چوسو میں نے سلمیٰ کو دیکھا تو اس نے اشارے سے مجھے سمجھایا میں نے جھک کر اس کے لنڈ کو منہ میں لیا میں ڈوگی سٹائل میں تھی سلمیٰ نے بھی اپنی نائٹی اتار دی اور بلکل ننگی ہوگئی اور میرے پیچھے آکر میری چوت چاٹنے لگی اسکا لنڈ پھنس کر میرے منہ میں جا رہا تھا میں اور جگر دونوں مزے میں تھے اسکا لنڈ کھڑا ہورہا تھا میں مزے سے چوپا لگا رہی تھی اور سلمیٰ مجھے اپنی زبان سے چود رہی تھی پھر جگر نے مجھے اٹھایا اور نیچے زمین پر لٹادیا میں لیٹی ہوئی تھی تو سلمیٰ نے اسکو بولا جان آہستہ سے چودنا یہ ابھی تک عادی نہیں ہے جگر بولا تم چپ رہو پھر وہ میری ٹانگوں کے بیچ میں آیا میری چوت میں زبان پھیری اور پھر اپنے موٹے لنڈ کو میری چوت پر رکھا اور ایک زبردست جھٹکے سے میری چوت میں داخل کیا میں چیخ اٹھی ہاۓ ماں مر گئی جان آہستہ کرو درد ہورہا ہے وہ بولا چپ رنڈی کی بچی میری آنکھوں میں آنسو آگۓ تھے کیوں کہ افروز نے ہمیشہ مجھے پیار سے چودا تھا لیکن جگر نے مجھے پچھاڑ کر رکھ دیا تھا اس کے تیز جھٹکے جاری و ساری تھے کچھ ہی دیر میں مجھکو مزا آنے لگا سلمیٰ میرے مموں سے کھیل رہی تھی پھر وہ ایک دم میرے مونہ کے قریب اپنی چوت لے آئی اور بولی چوسو میری چوت کو میں نے لنڈ تو منہ میں لیا تھا لیکن چوت پہلی بار چاٹ رہی تھی جگر کے جھٹکے زور زور سے جاری تھے میرے منہ سے آوازیں بھی نکل رہی تھیں مممممہ آہ اوی اوہ چودو مجھے ہاہ کیا دلکش لنڈ ہے آپ کا وہ بول رنڈی چیز تو تم بھی نایاب ہو کتنی تنگ چوت ہے تیری کاش میں تیری سیل توڑتا سالی کتیا سلمیٰ ہماری آوازوں کی وجہ سے فارغ ہوگئی اسکا پانی میرے منہ میں آگیا تھا جو کہ بہت نمکین سا تھا وہ اتر گئی تو جگر نے خوب میرے مموں کو دبایا میں ہواؤں میں اوڑھ رہی تھی جیسے پھر اس نے مجھے ڈوگی بنایا اور پھر سے چودنا شروع کیا سلمیٰ اپنی ٹانگیں کھول کر بیٹھی ہوئی تھی اسکی چوت کسی کھلی ہوئی گلاب کی ترہ نظر آرہی تھی جگر نے میری گاند میں اپنی ای ڈالی اور آگے پیچھے کرنے لگا جس سے مجھے اور مزا آنے لگا اسکے زوردار جھٹکوں سے میں چھوٹنے لگی تھی تو میں بولی ہا ہا آااہ او زوووور سے چووودووو میں گئی ی ی ی ووی آہ جاااان اتنے میں میری چوت نے اپنا پانی چھوڑ دیا دو منٹ بعد اس نے میری چوت سے لنڈ نکالا اور بولا چوسو میری جان میں نے اس کا لنڈ منہ میں لیا تو اس سے ہلکی ہلکی بو آرہی تھی جو کہ میری چوت اور میرے پانی کی تھی ایک منٹ بعد اس نے ساری منی میرے مموں پر ڈال دی سلمیٰ نے اس کو چاٹنا شروع کیا پھر میں نے تلے سے اپنے مموں کو صاف کیا تو جگر بولا میرے لنڈ کو بھی صاف کرو میں نے ہنست ہوی اسکو صاف کیا اور پیار سے اس کو منہ میں لیا اس کا لنڈ سکڑ رہا تھا سلمیٰ نے بولا کیا خیال ہے کھانا کھالیں باقی کا کام پھر کریں گے جگر بولا نیکی اور پوچھ پوچھ۔میں کپڑے پہننے لگی تو جگر نے کہا مت پہنو میں نے واپس کپڑے رکھ دیے پھر ہاتھ دھوکر جگر کے ساتھ بیٹھ گئی تو اس نے بولا کے سامنے بیٹھو میرے میں اس کے سامنے بیٹھ گئی سلمیٰ بھی میرے ساتھ تھی اس نے ہم کو بریانی دی ہم ننگے ہی بےشرم ہوکر کھا رہے تھے پھر سلمیٰ بولی جان تمکو معلوم ہے فضیلہ کے ابو نے مجھے تین بار چودا ہے جگر بولا کب سلمیٰ بولی کالج کے وقت میں ہم کلاس فیلو تھے تب اور اس کی ماں اور میں نے بہت بار ایک ہی بیڈ پر دوستوں سے چدوایا ہے کئی بار آج ان کی بیٹی بلکل ماں باپ کے نقش قدم پر ہے مجھے یہ بات تو بری لگی لیکن خاموش رہی.میں اور سلمیٰ التی پالتی مار کر بیٹھیں تھیں تو جگر بولا سالیو تم اپنی چوتوں کا نظارہ تو کراؤ پہلے سلمیٰ نے ٹانگیں کھول دیں پھر میں نے بھی. جگر کھاتے ہوے دونوں کی چوت کو باری باری دیکھتا پھر بولا فضیلہ تمھاری چوت بہت خوب صورت ہے میں مسکرا دی اور پھر سلمیٰ کو بولا چیز تو تم آج بھی ویسی ہو جیسے آج سے پندرہ سال پہلے تھی سلمیٰ بولی جان تمھارے لوڑے میں بھی طاقت ویسی کے ویسی ہے ہے جیسے پہلے تھی کھانے کے بعد میں اور جگر صوفے پر بیٹھ گئے اور سلمیٰ اپنے کمرے سے آئل کی بوتل اور ایک ٹاٹ لے کر آگئی اور ایک ادا سے پیٹھ ہماری طرف کی اور اور جھک کر ٹاٹ کو بچھایا تو اسکی گانڈ اور چوت نظر آگئی پھر وہ لیٹ گئی اور مجھے بولا کہ تم مجھے تیل لگاؤ میں نیچے اتری اور تیل اک کے جسم پر ڈالا اور اس کے بدن پر ملنے لگی اتنے میں جگر اٹھا اور اس نے مجھے ٹل لگانا شروع کیا مجھے مزا آنے لگا تقریباً پانچ منٹ میں ہم دونوں چکنی ہوگئیں تیل سے پھر سلمیٰ اٹھی اور اس نے جگر کو آئل لگانا شروع کیا میں بھی اس کا ساتھ دینے لگی ہم نے ملکر اسکو خوب تیل میں بھگویا میں نے اس کی ٹانگوں کو ٹٹوں کو لنڈ کو اور اسکی گانڈ کو تیل سے خوب چکنا کیا سلمیٰ نے اسکو اوپر سے تیل لگایا پھر اس نے ہم دونوں کو اپنی رکھیل کی طرح سینے سے لگایا اور ہم دونوں کی گانڈ کو دبانے لگا اور سلمیٰ کے ہونٹوں کو چوسنے لگا میں سلمیٰ کی چوت کو مسل رہی تھی ہمارے پھسلتے جسم بہت ہاٹ ہورہے تھے پھر جگر نے ہم کو اپنے سے الگ کیا اور سلمیٰ کو ڈوگی سٹائل میں کیا اور اسکی گانڈ کے سوراخ میں تھوکا اور مجھے بھی ڈوگی بننے کا بولا پھر اس نے سلمیٰ کی گانڈ میں اپنا لند ایک زور دار جھٹکے سے ڈال دیا تو سلمیٰ تقریباً چیخ اٹھی اف آااہ میرے جگر میری گاااانڈ پھٹ گئی رے وہ پورے زور سے اسکی گانڈ کو چود رہا تھا میں نے ایک ہاتھ سے اپنی چوت کو مسلنا شروع کیا تو جگر نے ایک ہاتھ میری گانڈ پر پھیرنی شروع کی پھر اپنی انگلی میری گانڈ میں دہلی اور آگے پیچھے کرنے لگا وہاں سلمیٰ بول رہی تھی چود میرے راجہ میری گانڈ میں تیری پکی رنڈی ہوں پندرہ سال سے تیری رکھیل ہوں آہ ووئی ممممممممممّہ پھر اس نے سلمیٰ کی گانڈ سے لنڈ نکالا اور میرے قریب آیا اور تیل کو میری گانڈ پر لگایا میں ڈرنے لگی تھی کیوں کہ میں نے کبھی لنڈ گانڈ میں نہیں لیا تھا میں بولی سر پلیز میری چوت میں ڈالو سلمیٰ بولی کچھ نہیں ہوگا مجھے دیکھا کیسے مزے سے چدوا رہی تھی گانڈ میں. میں نے مجبوری میں ہاں کہ دیا تو سلمہ بولی جان اب کچھ آہستہ سے کرنا بچی ہے پکی گانڈو نہیں جگر بولا فکر نہیں کرو میں پیار سے اس کی گانڈ ماروں گا پھر اسنے میری گانڈ کے سوراخ پر اپنا لند رکھا اور آہستہ سے ڈالنے لگا میں نے آنکھیں بند کرلی تھیں اس کا لنڈ بہت تکلیف دے رہا تھا اور پھنس کر جارہا تھا پھر جب لنڈ آرام سے نہیں گیا تو اس نے ایک زوردار جھٹکا دیا تو اسکا لنڈ میری کنواری گانڈ میں آدھا گیا تو اس نے ایک اور جھٹکا دیا اسکا لنڈ پورا سما گیا میری گانڈ میں.ایسا لگا کہ کوئی لوہے کا دہکتا راڈ میری گانڈ کو پھاڑکر گھس گیا ہو میں درد سے دوہری ہوگئی اور روتے ہوۓ بولی پلیز سر نکالو میں مر جاؤں گی میری پھٹ گئی چھوڑ دو مجھے ہونے دو مجھے فیل ہاۓ ماں میں درد کو برداشت نہیں کر پارہی تھی لیکن وہ ظالم نہیں رکا برابر میری گانڈ کو چودرہا تھا۔میرے آنسو دھڑا دھڑ بہہ رہے تھے پر وہ بیدرد بنا رہا سلمیٰ نے میری چوت کو سہلانا شروع کیا آخر میں نے اس کی منتیں کرنی بند کردیں کیوں کہ میں جان گئی تھی کہ اب وہ نہیں چھوڑے گا اسکے چودنے سے میری حالت خراب ہوچکی تھی بلآخر اس کا جسم اکھڑنے لگا اور پھر مجھے ایسا لگا کہ گرم سا لاوا میری گانڈ میں آگیا ہو وہ میری گانڈ میں فارغ ہوا پھر اس نے میری گانڈ سے لنڈ نکالا میں نے اس کے ظالم لنڈ کو دیکھا تو اس ممن کچھ خون لگا ہوا تھا میں اٹھ کر بیٹھ گئی میری گانڈ میں بہت درد ہورہا تھا ہاتھ لگایا تو سوراخ بہت بڑا لگا پھر سلمیٰ نے مجھے جوس دیا میں نے سلمیٰ کو بولا یہ تو بہت ظالم ہے پھر انہوں نے میری گانڈ پر کریم لگائی پھر میں واش روم گئی مجھ کو چلنے میں تکلیف ہورہی تھی پھر ہم کچھ در کے لئے سو گۓ ایک گھنٹے بعد سلمیٰ نے مجھے اٹھایا اور بولی نہانا چاہو گی میں بولی ہا تو بولی چلو واش روم وہاں پہنچی تو جگر بھی موجود تھا اور مجھے اپنی باہوں میں لیا اور بولا ناراض ہو جان میں بولی تم کو ترس نہیں آتا تو بولا جان یہ سیکس ہے ہر طرح سے انجواے کرنا چاہیے پھر اس نے پیار سے مجھے چوما اور بولا سوری جان میں معافی ماگتا ہوں پھر ہم تینوں نھاۓ وہاں بھی ایک ٹریپ چلا پھر ہم نے نہانے کے بعد کپڑے پہنے اور جگر نے مجے چوما اور رخصت ہوکر چلا گیا میں نے بھی اجازت لی اور گھر چلی گئی گھر میں امی نہیں آئی تھیں پاپا کا پوچھا تو نوکرانی نے کہا کہ وہ دو دن کے لئے لاہور چلے گئے ہیں میں تھک چکی تھی لہٰذا سونے چلی گئی میری گانڈ میں بھی درد ہورہا تھا رات کو سوکر اٹھی تو امی بھی آچکی تھیں مجھے چلنے میں تکلیف سی ہورہی تھی انہوں نے جب مجھے دیکھا تو بولی کیا ہوا بیٹا کیا مسلہ ہے میں بولی کچھ نہیں ویسے ہی کھانے کے بعد امی نے مجھے بولا آج تم میرے کمرے میں سوؤگی کیونکہ تمھارے ابو نہیں ہیں میں بولی ٹھیک ہے گیارہ بجے میں امی کے کمرے میں گئی تو امی نے نہایت باریک کپڑے پہنے تھے ان کی برا نہیں تھی ان کے ممے صاف دیکھ رہے تھے مجھے کوئی فرق نہیں تھا کیونکہ میں نے امی کو کی بار اس حالت میں دیکھا تھا امی نے مجھ سے پوچھا کہ آج تم سارا دن کہاں تھی میں نے بولا اپنی شیلی کے گھر.آپ کیوں پوچ رہی ہیں تو امی نے کہا تم نے آج سکس کیا ہے نا سچ بولو میں بولی نہیں تو امی نے کہا مجھ سے جھوٹ مت بولو تمھاری چال بول رہی ہے جو کرنا ہے کرو لیکن خیال سے کہیں بدنام نا ہوجاؤ اس کے بعد سمجھو مجھ کو لائسنس مل گیا تھا چھدوانے کا اور پھر جب رزلٹ آؤٹ ہوا تو میں کلاس میں سب سے زیادہ نمبروں سے پاس ہوئی تھی

Posted on: 12:47:PM 14-Dec-2020


1 2 325 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 1 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com