Stories


میرا فیس بک دوست از ایکسپرٹ 2

فرحان کے ساتھ میری گپ شپ فیس بک پر ہی شروع ہوئی تھی وہ ایک شادی شدہ اور نوکری پیشہ فرد تھا لیکن خود کو غیر شادی شدہ ہی ظاہر کرتا تھا چھ ماہ تک تو ہم فیسبک پر بات چیت کرتے رہے اس کے بعد وہٹ ایپ پر بھی رابطہ رہنے لگا جس میں زیادہ تر ہم ننگی تصاویر ہی ایک دوسرے کو بیجھتے تھے اور ہماری باتوں کا زیادہ تر موضوع بھی رومانس اور سیکس ہی ہوتا تھا وہ جب بھی مجھ سے شادی کا پوچھتا میرا ایک ہی جواب ہوتا میں اس لڑکی سے شادی کروں گا جو آزاد خیال ہو۔ جب کبھی میں پوچھتا تو ہنس دیتا اور کہتا مجھے نہیں لگتا میں اس سلسلے میں اپنی مدد کر پاوں گا خیر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا اور ہماری دوستی گہری ہوتی گئی کچھ عرصے سے میں محسوس کر رہا تھا کہ فرحان ایسی باتوں میں زیادہ دلچسپی لے رہا ہے جس میں اگر وہ اپنی بیوی کے سامنے کسی اور کی بیوی کے ساتھ سیکس کرے اور اس کی اپنی بیوی اسی عورت کے خاوند سے سیکس کرے تو یہ کیسا تجربہ ہو سکتا ہے اور اس سے بھی زیادہ اسے کیسا لگے گا اگر میں اپنے دوست کے ساتھ مل کر اپنی بیوی سے ہمبستری کروں تو ایسی گفگتو میں ہم کھل کر اپنے جزبات کا اظہار کرتے اور یہی سوچتے کہ ہم اپنی دوستی کو ضرور اتنا گہرا کریں گے کہ ہم ایک ساتھ ایک دوسرے کی بیویوں سے ہم بستری کر سکیں۔ ایک دن میں بہت پریشان تھا اور میں نے اپنی پریشانی کا ذکر فرحان سے بھی کر دیا اس نے مجھے دعوت دی کہ میں مری میں ہوں اگر تم چاہو تو ادھر آ جاو مل بھی لیں گے اور تمہارا دل بھی ہلکا ہو جائے گا میں نے بھی بغیر کسی دیر کے گاڑی نکالی اور مری پہنچ گیا مری پہنچ کر میں واقعی ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا وہاں فرحان سے مل کر اور بھی زیادہ مزہ آیا کھانے کا وقت تھا ہم ہوٹل میں ہی بیٹھے تھے میں نے آرڈر دینا چاہا تو اس نے صاف انکار کر دیا جس پر میں نے کہا مروت کیسی تو کہنے لگا مروت کی بات نہیں میرے ساتھ کوئی اور بھی ہے میں نے کہا پہلے کیوں نہیں بتا ابھی بلاو اسے۔ اس نے فون پر کسی کو نیچے ہوٹل کی لابی میں آنے کا کہا جس کے کچھ دیر بعد ایک لڑکی ہمارے میز پر آ کر بیٹھ گئی میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ ایسے کیسے کوئی لڑکی بلا ججھک ہمارے درمیان بیٹھ سکتی ہے تب فرحان گویا ہوا فواد یہ میری بیوی ہے الینہ اور الینہ یہ میرا گہرا دوست ہے فواد جس پر الینہ بولی واہ یہ کیسا گہرا دوست ہے جس کا نام بھی میں پہلی مرتبہ سن رہی ہوں۔ جس پر میں تھوڑا نروس ہوتے ہوے بولا دراصل ہم فیسک بکی دوست ہیں۔ خیر مل کر کھانا شروع کیا اور اس دوران گھومنے پھرنے کا پروگرام ترتیب دینے لگے فیصلہ ہوا کہ چونکہ فرحان کی گاڑی نئے ماڈل کی اس لیے میری گاڑی ادھر ہی کھڑی رہے ہم اس کی گاڑی میں گھومیں گے گھومتے گھومتے رات کے دس بج گئے اور ہمیں پتہ بھی نہ چلا اس دوران الینہ بھی کافی حد تک مجھ سے مانوس ہو چکی تھی واپسی پر فرحان نے کہا ہوٹل میں جا کے تھوڑا آرام کرتے ہیں۔ ہوٹل پہنچ کر میں اپنی گاڑی کی طرف لپکا تا کہ کہیں ٹھکانا ڈوھنڈ سکوں لیکن فرحان نے منع کر دیا اور اپنے ساتھ چلنے کو کہا الینہ نے بھی ہاں میں ہاں پلاتے ہوئے کہا بھائی آپ سے مل کے اچھا لگا آپ ہمارے ساتھ ہی آ جاہیں ادھر ہی کوئی خالی کمرہ آپ کے لیے بھی دیکھ لیں گے اور میں راضی ہو گیا۔ ہم تیوں ایک ہی بیڈ پر بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے باتوں ہی باتوں میں بات رومانس کی طرف مڑ گئی جو ہوتے ہوتے بیویوں کے تبادلے اور تھری سم ہر پہچ گئی۔ الینہ ہر ہر بات پر ہکا بکا ہو رہی تھی اور ایسے کسی بھی تصور کا ماننے سے ہی انکاری ہو رہی تھی۔ بھائی ایسا کیسے ہو سکتا ہے ایک دوست اپنے دوست کی بیوی سے ہمبستری کرے اور وہ بھی دونوں کی رضا مندی سے ؟ یہ جزبات کا کھیل ہے بھابھی میں نے جواب دیا فرحان نے الینہ کے گالوں پہ بوسہ دیا اور پوچھا اگر یہی بوسہ فواد نے دیا ہوتا تو تمہیں کیسا لگتا جس پر الینہ نے جواب دیا میں نے زور سے چمانٹ مارنا تھا۔ تو سمجھو یہ فواد نے بوسہ دیا مار لو چمانٹہ اسے فرحان نے کہا تو الینہ شرما گئی اب فرحان کبھی ہونٹوں پہ بوسہ دے رہا تھا کبھی گالوں پہ اور کبھی گردن پہ میں نے کہا فرحان بھابھی کو کان پہ بوسہ دو جس پر وہ بولا خود دے لو میں نے انکار کر دیا فرحان نے کہا الینہ تم فواد کو کہہ سکتی ہو وہ تمہیں جہاں سے مرضی چاہے چوم لے اور الینہ نے بھی انکار کر دیا جس پر فرحان نے کہا تم دونوں نے موقع ضائع کر دیا اور ساتھ ہی پستانوں پر بوسہ دیتے دیتے نیچے پیٹ پر بوسے دینا شروع کر دیے وہاں سے تھوڑا اور نیچے آتے ہوئے قمیض کا پلو ہٹا دیا اور زیر ناف بالوں پر اپنی زبان پھیرنا شروع کر دی الینہ مچل رہی تھی اور اس پر مستی چھا رہی تھی جب میں نے محسوس کیا کہ الینہ مکمل مستی میں ہے تو میں نے الینہ کو کان میں کہا بھابھی کیا ہم نے واقعی موقع ضائع کر دیا ہے جس پر النینہ نے کہا ایک موقع اور لے لو اور ساتھ ہی میں نے الینہ کے کان پر بوسہ دے ڈالا الینہ تڑپ اٹھی اور میرا مہنہ اپنے کان کے ساتھ دبا لیا، اس مستی میں اس نے فرحاںن کی شرٹ کھولنا شروع کر دی اور فرحان نے میری شرٹ جبکہ میں نے الینہ کی قمیض اتار دی ہم تینوں ہی مدہوش تھے اور ایک دوسرے کو چومے جا رہے تھے الینہ نے مستی بھری آواز میں کہا میں نے زیر جامہ نہیں پہنا میری شلوار گندی ہو رہی ہے جس پر فرحان نے فوری اس کی شلوار اتار دی اور میں نے فرحان کا ٹراوزر کھینچ لیا۔ فرحان مستی میں الینہ کی ٹانگوں کے درمیان مہنہ دیَے چاٹے جا رہا تھا اور الینہ سسکاریاں بھر رہی تھی میں نے اپنی پینٹ بھِی اتار دی اور ان کے نزدیک لیٹ گیا الینہ کی مجھ پر نظر پڑی تو بولی بھائی آپ کو کیا ہوا جس پر میں نے الینہ کو چوتڑوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور کہا بھابھی آپ میرے مہنہ پر بیھٹو اور اپنی پھدی میرے مہنہ پر زور زور سے رگڑو الینہ نے فرحان سے چھڑوایا اور میرے مہنہ پر اپنی پھدی کو رگڑنا شروع کر دیا الینہ کی گیلی ہوتی ہوئی پھدی مجھے بہت نشہ دے رہی تھی فرحان نے کہا الینہ فواد کا لن اپنے مہنہ میں لو اس سے پہلے کہ الینہ اس طرف ہوتی فرحان نے میرے لن پر اپنی زبان پھیرنا شروع کر دی۔ اس کی نرم اور گرم زبان جیسے جیسے میرے لن پر پھر رہی تھی میں مزید مستی میں ڈوبے جا رہا تھا۔ الینہ نے فرمائش کی کہ میں ایک ساتھ آپ دونوں کے لن کا نشہ کرنا چاہتی ہوں ہم نے اسے بیڈ پر بھٹایا اور خود ایسے کھڑے ہو گئے کہ ہم دونوں کے لن الینہ کے مہنہ کے قریب تھے ان سے نکلتا پانی الینہ نشے میں پی رہی تھی الینہ جہاں تک مکمن تھا میرا لن اپنے مہنہ کے اندر لے کے جا رہی تھی اور فرحان اپنے لن کو الینہ کے مموں پر رگڑ رہا تھا اور اس سے نکلتا پانی مموں پر مل رہا تھا اس سے پہلے کہ فرحان کے لن کا پانی الینہ کے مموں پر خشک ہوتا میں نے الینہ کے ممے چاٹنا شروع کر دیے یہ دیکھتے ہوئے فرحان نے مجھے بالوں سے پکڑا اور اپنے لن کی طرف کر لیا اور میں نے فرحان کا لن چوسنا شروع کر دیا الینہ نے مجھے اپنی طرف کھینچا اور کہنے لگی فواد پلیز میری برداشت ختم ہو رہی ہے میری پیاس بجھاو میں نے الینہ کو گھوڑی بنایا اور فرحان سے سامنے آنے کو کہا تاکہ وہ اپنا لن الینہ کے مہنہ میں ڈالے جب میرا لن الینہ کی پھدی کے اندر کی سیر کر رہا ہو مستی جوبن پر تھی اور الینہ کا سارا جسم بہت گرم ہو رہا تھا۔ پھدی کے اندر کی دنیا تو جیسے جہنم کی آگ بنی ہوئی تھی دو منٹ بھی نہیں لگے کہ الینہ کی پھدی نے میرے لن کو بھون کہ رکھ دیا ہم تینوں ڈھیر ہو گئے تو اسی حالت میں دراز ہو لیے صبح جب آنکھ کھلی تو فرحان نیچے لابی میں ناشتے کے لیے جا چکا تھا جبکہ میں اور الینہ ایک دوسرے سے چپکے ہوئے تھے پھر کیا تھا۔۔۔ ناشتے سے پہلے ناشتہ ہم پھر شروع ہو گئے جتنی دیر میں فرحان آیا ہم فارغ ہو کر نہانے کے لیے باتھ روم میں جا چکے تھے۔

Posted on: 01:04:AM 14-Dec-2020


2 1 125 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 1 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com