Stories


پیزا ڈیلیوری از دیشا جی

کاشف۔۔۔۔ جی سر۔۔۔۔۔ یہ لو ادیڈریس ۔۔ اور آدھے گھنٹے میں تمہیں یہاں دلیوری دینی ہے۔ اور ہاں دیکھو اس بار لیٹ نہیں ہوناورنہ نوکری سے جاؤ گے ۔ جی سراس بار کوئی شکایت نہیں ہو گی۔۔۔۔ میں نے باس سے ایڈریس لیا اور کانٹر سے اپنا آڈر لینے لگا۔۔ میں بی کام کا طالب علم ہوں اور اپنی پڑھائی کا خرچہ اٹھانے کے لئے شام کو پیزا شاپ میں ڈیلیوری مین کا کام کرتا ہوں۔ آخری بار میں جب پیزاڈیلیور کرنے پہنچا تو لیٹ ہو گیا تھا جسکی وجہ سے باس نے مجھے اس بار واننگ دی تھی کہ ٹائم پر پہنچنا ورنا یہ نوکری چلی جائے گی۔۔۔ میں نے جلدی جلدی آڈر لیا اور بائیک اسٹارکر کے اپنی منزل کی جانب رواں دواں کو گیا۔۔باس نے جو ایڈریس دیا تھا وہ علاقہ امیروں کا علاقہ تھا جہاں لوگ زیادہ تر فاسٹ فوڈ کھاتے تھے۔ میں وقت سے پہلے ٹھیک ایڈریس پر پہنچ گیا اور دروازہ بجانے لگالیکن کوئی نہیں آیا۔ پھر میں نے سائد میں لگے بیل فون کی بیل بجائی تو اندر سے کسی لڑکی کی آواز آئی۔۔۔ who is thatکون ہے؟۔۔۔ میں نے کہا جی میں پیزا لے کر آیا ہوں جو آپ نے آڈر کیا تھا۔ میں نے ایڈریس کی سلپ پر نام دیکھا تو لڑکی کا نام انجلی تھا۔ میں نے پوچھا آپ مس انجلی ہیں۔۔ تو وہ بولی جی میں ہی ہوں ۔۔پھر مس انجلی نے اندر سے بٹن پریس کیا اور دروازہ کھل گیا۔ انھوں نے مجھے اندر آنے کا کہا اور ریسیور رکھ دیا۔ میں اندر گیا اور پھر اندر والا دروازہ بجایاتو ایک خوب صورت لڑکی نے دروازہ کھولا۔۔یہی انجلی تھی۔ اسنے مجھے اپنے ساتھ اندر آنے کو کہا ۔ میں اسکے پیچھے پیچھے اندر چلا گیا۔ وہ سیڑیوں سے مجھے نیچے انڈر گراؤنڈسوئیمنگ پول کی طرف لے گئی۔ ۔۔وہاں پہلے سو دو لڑکیاں سوئیمنگ سوٹ میں سوئیمنگ کر رہی تھیں۔۔۔ انکا سوٹ بہت ٹائٹ تھا جس پر سے انکے بریزر اور پینٹی کے نشانات نظرآرہے تھے۔۔میں تھوڑا گھبرا بھی رہا تھا کہ پیزا لینا تھا تو اوپر ہی ریسیو کر لیتیں مجھے یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔وہ مجھے پول کے کنارے پر بنے ایک کمرے میں لے گئی ۔ وہاں بھی پہلے سے ایک لڑکی موجود تھی جسکے ہاتھ میں پستول تھی۔میرے اندر جاتے ہی اسنے وہ میرے اوپر تان لی اور مجھے پیزا ٹیبل پر رکھنے کو کہا۔ میں نے پیزا رکھا اتنے میں دروازے سے وہ دو لڑکیاں بھی اندر آگئیں جو سوئیمنگ کر رہی تھیں۔۔اب مجھے A/Cکی ٹھنڈی ہوا میں پسینے آرہے تھے۔۔ میڈم ۔۔۔ میں نے کیا کیا ہے۔۔ میں تو پیزا لایاتھا جو آپ نے آڈر کیا تھا۔۔پلیز مجھے جانے دیں ورنہ میری نوکری چلی جائے گی۔۔ شٹ اپ۔۔۔خاموش کھڑے رہو اور جیسا ہم کہتے ہیں بس ویسا ہی کرو ورنا تمہاری لاش یہاں سے جائے گی۔۔۔ پلیز میڈم۔۔۔ مجھے جانے دیں۔۔۔ اتنے میں ایک لڑکی آگے آئی اور میرے ایک تھپڑ مارا۔۔ میں رونے لگا ۔۔پلیز جانیں دیں۔۔ پلیز میڈم۔۔۔ لیکن ان لڑکیوں کے ارادے کچھ غلط تھے۔۔جو لڑکی سوئیمنگ کر کے اندر آئی تھی۔ اسنے اپنا سوٹ اتارنا شروع کر دیا ۔۔میں یہ دیکھ کر حیران تھا۔ میں اور بھی گھبرانے لگا پتا نہیں میرے ساتھ کیا ہو گیا۔۔ اور آج تو میری نوکری بھی جائے گی۔ تھوڑی ہی دیرمیں دونوں لڑکیوں نے اپنے سوٹ اتار دیئے اور وہ دونوں اب صرف پینٹی اور بریزر میں تھیں۔۔ میں گھبراہٹ میں انہیں دیکھ رہا تھا۔۔ ایک لڑکی تو پتلی دبلی تھی اسکے ممے بھی چھوٹے چھوٹے تھے لیکن دوسری والی مجھے اتنی گھبراہٹ میں بھی سیکسی لگ رہی تھی۔۔اسکے ممے اسکے بریزر سے باہر نکلنے کو ہو رہے تھے۔ پھر وہ دوبارہ بولیں اب کیا ارادہ ہے ۔۔ ابھی بھی جانا چاہتے ہو۔۔۔۔ میں نے کہا ۔۔پلیز۔۔۔میڈم ۔۔۔ آپ لو گ مجھے سے کیا چاہتے ہو۔۔ پلیز مجھے جانے دو۔۔۔۔۔۔میں یہ بول ہی رہا تھا کہ وہ لڑکی جس نے تھپڑ مارا تھا پھر میرے پاس آئی اور میرے ہاتھ میری کمر پر موڑ کر پکڑ لئے اور دوسری لڑکی نے مجھے باندھنا شروع کیا۔۔ میں اچھلنے لگا لیکن جس کے ہاتھ میں پستول تھی اسنے مجھے کہا اگر زرا بھی ہلے تو گولی مار دوں گی۔۔میں اب سیدھا کھڑا ہو گیا اور انہوں نے میرے ہاتھ پیچھے کیئے لیکن پھر انہیں کچھ خیال آیا تو انہوں نے مجھے شرٹ اتارنے کو کہا۔۔ جب میں نے نہیں اتاری تو پستول والی لڑکی نے چیخ کر کہا تو میں نے فوراً اپنی شرٹ اتار دی ۔اب انہوں نے میرے دونوں ہاتھ پیچھے کر کے باند ھ دیئے۔۔ اتنے میں انجلی ایک گلاس میں پانی اور دو کیپسول لے کر آئی۔ ۔انجلی نے مجھے منہ کھولنے کو کہا لیکن میں نے نہیں کھولا تو پستول والی لڑکی میرے پاس آئی اور پستول میرے منہ میں گھسا دی۔ ۔اب میں بول بھی نہیں پا رہا تھا۔ اس نے کہا اگر یہ کیپسول نہیں کھائے تو یہ گولی کھانی پڑے گی۔۔۔۔یہ کہ کر اسنے پستول نکال لی۔ پھر انجلی نے میرے منہ میں دونوں کیپسول ڈال دیئے اور اوپر سے پانی پلا دیا۔۔ میں دونوں کیپسول پی گیا۔ مجھے نہیں پتا تھا یہ کس چیز کے کیپسول تھے۔۔میں اب بہت گھبرا رہا تھا۔ ۔۔ پھر وہ لوگ مجھے باہر سوئیمنگ پول کے پاس لے گئی اور بینچ پر بٹھا دیا۔۔۔ اب وہ چارو لڑکیاں میرے سامنے آگئیں ۔ ۔۔ اور جو دونوں پینٹی میں تھیں ایک دوسرے کے گلے لگ کر پیار محبت کرنیں لگیں۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے بریسٹ دبانے لگیں اور لپ تو لپ کر نیں لگیں۔۔ میں یہ سب دیکھ کر گھبرا تو رہا تھالیکن انکے سیکسی بدن میرے اندر بھی کچھ ہلچل مچا رہے تھے۔۔۔ پھر ان دونوں نے ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ ڈال کر ایک دوسرے کے بریزر کے ہک کھول دیئے۔ پھر دونوں نے اپنے اپنے بریزرپکڑ کر اتار دیئے ۔۔میں یہ سب بڑی حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔۔ میری پینٹ میں میرا لنڈ اکڑنے لگا تھا۔ لیکن انڈر ویئر کی وجہ سے وہ کھڑا نہیں ہو پا رہا تھا۔۔۔اب میری بیچینی بھی بڑھ رہی تھی۔۔۔ باقی کی دو لڑکیاں بھی آہستہ آہستہ اپنے کپڑے اتارنے لگیں ۔ وہ دونوں بھی پینٹی اور بریزر میں آگئیں اور ایک دوسرے کو پیار محبت کرنے لگیں۔ اب وہ چارو میرے سامنے تھی۔۔اور میری نظریں انکے سیکسی بدن کو گھورے جا رہی تھیں۔۔ ایک ساتھ چار چار لڑکیاں میرے سامنے باری باری ننگی ہو رہی تھیں۔۔اب میرا انڈر ویئر گیلا ہو رہا تھا۔۔۔ ان چاروں میں سے دو لڑکیاں ٹانگیں کھول کر کھڑی ہو گئی اور باقی دو اپنے اپنے گھٹنوں پر بیٹھ کر انکی چوت کو چاٹنے لگیں۔۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے تو ایسا لگ رہا تھا جیسے میں اندر ہی فارغ ہو جاؤں گا۔۔ اب مجھے سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔ آدھے گھنٹے سے زیادہ ہو گیا تھا۔ ۔۔ اب مجھے پتا چلا تھا کہ وہ کیپسول کس چیز کے تھے۔ میرا لنڈ میرے انڈر ویئر میں اکڑ کر بہت سخت ہو گیا تھااور آج تک وہ اتنا سخت نہیں ہوا تھا۔۔مجھے خود محسوس ہو رہا تھا جیسے میرا انڈر ویئر پھٹ جائے گا ۔۔۔۔ اب وہ مجھے دوسرے کمرے میں لے گئیں جو بیڈ روم تھا۔ انہوں نے مجھے بیڈ پر لیٹنے کو کہا تو میں لیٹ گیا۔۔ایک لڑکی نے میرے بندھے ہوئے ہاتھوں کو پیچھے بیڈ سے باندھ دیا اور دوسری لڑکی نے میری پینٹ اتار دی۔۔۔ میں بری طرح پھنس چکا تھا۔ مجھے پتا تھا اب میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ وہ لوگ زبردستی مجھ سے اپنی حوس پوری کرنا چاہتی تھیں۔ ۔ یہ بڑے گھر کی لڑکیاں ہوتی ہی ایسی ہیں ۔۔اور یہ تو مجھے کسی گندے خاندان کی لگ رہی تھیں۔۔۔ بہر حال میں اب کچھ نہیں کر سکتا تھا۔۔ میرے پاس دو راستے تھے یاتو میں خود باری باری سب کی خواہش پوری کردوں یا پھر وہ میرے ساتھ زبردستی کریں۔۔میری پینٹ اتارنے کے بعد میں اب صرف انڈر ویئر میں تھا۔۔اور میرا لنڈ انڈر ویئر میں ایک دم سیدھا کھڑا ہو گیا جسے دیکھ کر وہ ایک دوسری کی طرف مسکرا کر دیکھنے لگیں ۔ انکے کھلائے ہوئے کیپسول نے کام دکھا دیا تھا۔۔۔ میرا لنڈ فولاد کی طرح اکڑا ہوا تھا اور مجھے خود بھی یقین نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ اب ان میں سے وہ لڑکی جسکے ہاتھ میں پستول تھا بیڈ پر چڑھ گئی۔ ۔۔۔ وہ لڑکی سب سے خوبصورت تھی۔ اسکا گورا بند ایسا تھا اگر انگلی لگاؤ تو نشان پڑ جائیں ۔میں اسکے مموں پر فدا ہو رہا تھا۔۔ اسکے گلابی گلابی بریسٹ بھی سختی کے مارے سیدھے گھڑے تھے ۔۔۔۔۔وہ میرے اوپر آگئی اور اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے میرے ہونٹوں کو، میرے بدن کو، میرے نپل کو چھونے لگیں۔۔۔۔اور میں اسکے مموں کو گھورے جا رہا تھا۔۔ اسنے دیکھا تو مجھ سے بولی کیا انہیں چوسنا چاہتے ہو۔۔میں نے ہاں میں گردن ہلا دی۔۔ پھر وہ میرے قریب آئی اور اپنے ممے میرے منہ کے قریب لے آئی اور جیسے ہی میں نے منہ کھولا اسنے پیچھے ہٹا لیا۔۔۔ پھر وہ چاروں زور زور سے ہنسنے لگیں۔۔۔میں شرمندہ سا ہو گیا۔۔ پھر وہ میری ٹانگوں کے پاس آئی اور میرا انڈر ویئر نیچے کر دیا۔۔ میرا لنڈ جو کہ ایک راڈ کی طرح اکڑا ہوا تھا ۔۔ لہراتا ہوا باہر نکل آیا۔۔اب وہ لڑکی میرے لنڈ کو مسلنے لگی۔پھر اسنے دوسری لڑکی سے ایک بوتل لی جس میں کوئی تیل یا لوشن تھا۔۔جو اسنے بوتل میں سے نکال کر میرے پورے لنڈ پر مسل دیا۔ ۔۔ ۔ ادھر انجلی میرے پاس آگئی اور اپنے ممے میرے منہ کے آگے کردیئے لیکن میں نے انہیں نہیں چھوسا تو وہ بولی میں پیچھے نہیں ہٹاؤں گی ۔۔ لو چوسو انہیں ۔۔۔ پلیز۔۔۔ پھر اس نے خود ہی میرے منہ میں زبردستی اپنے ممے گھسا دیئے اور مسلنے لگی۔۔۔اب میں نے منہ کھولا اور انہیں چوسنے لگا۔۔۔ انجلی کے ممے میرے منہ میں تھے جنہیں میں مستی میں چوسے جا رہا تھا۔۔انجلی کی آہیں نکلنیں لگیں۔۔انجلی بیڈ پر کھڑی ہوئی اور میرے منہ پر اپنی چوت لے آئی۔۔ اسنے دونوں ہاتھوں سے اپنی چوت کھولی اب مجھے اسکی چوت نظر آئی۔۔ وہ اندر سے گلابی گلابی تھی۔۔ اسنے چوت کو میرے منہ پر مسلنا شروع کر دیا۔۔میں نہ چاہتے ہو ئے بھی اسکی چوت چاٹنے لگا۔ اسکا نمکین نمکین پانی مجھے اچھا نہیں لگا رہا تھا لیکن میں کچھ کر بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔ ادھر گوری لڑکی میرے لنڈ پر اچھل رہی تھی۔۔ اسکے ممے گیند کی طرح اچھل رہے تھے اور وہ دونوں ہاتھوں سے اپنے ممے پکڑ رہی تھی۔۔ وہ کافی دیر تک میرے لنڈ پر اچھلتی رہی لیکن میں فارغ نہیں ہوا تھا بلکہ مجھے تو محسوس ہی نہیں ہو رہا تھاکہ میرا لنڈ اسکی چوت میں جا رہا تھا۔میرا لنڈ ایک دم سن ہو چکا تھا۔ شاید وہ تیل اسی لئے لگایا تھا کہ میں دیر تک چاروں کو چود سکوں۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں انجلی کی آہیں تیز ہو گئیں۔۔ میں نے چاٹ چاٹ کر اسے فارغ کر دیا۔۔ وہ میرے منہ پر ہی جھٹکے لینے لگی۔۔۔وہ مستی میں اپنے ہاتھوں سے اپنے ممے دباتی رہی اور آآآآ۔۔۔۔ام م م م م م م۔۔۔ کرتی ہوئی اپنی چوت میرے منہ پر مسلتی رہی۔۔۔ اسنے میرا پورا منہ گندہ کردیاتھا۔۔۔ اب گوری والی لڑکی بھی تیز تیز اچھلنے لگی ۔۔ وہ بھی فارغ ہونے والی تھی۔۔ اور ایک زور دار آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔کے ساتھ وہ بھی فارغ ہو گئی۔۔۔ اسکی رفتار کم ہو گئی۔۔ اسکا پورا بند جھٹکے لے رہا تھا۔۔۔ میں دو لڑکیوں کو فارغ کر چکا تھا۔۔۔اب گوری لڑکی بیڈ سے اتر گئی۔ لیکن انجلی نہیں اتری۔۔ وہ میرے لنڈ پر بیٹھنے لگی۔۔ انجلی کی چوت ٹائٹ تھی۔۔ جب وہ اندر لے رہی تھی تب اسکی چیخ نکل رہی تھی۔۔۔ اور بڑی مشکل سے اسنے میرا لنڈ اندر لیا۔۔ وہ کچھ دیر ایسے ہی میرا لنڈ اندر لئے بیٹھی رہی۔ پھر اسنے ہلنا شروع کیا۔۔۔ اسکے ممے بھی اسکے اچھلنے کے ساتھ ساتھ ہلنے لگے۔۔وہ بھی دونوں ہاتھوں سے انہیں پکڑنے لگی۔۔۔ انجلی اب میرے اوپر جھک گئی۔۔ وہ مجھے لپ تو لپ کر کرنے لگی اور اپنے کولہے اچھال اچھال کر اپنی چوت کو میرے لنڈ پر مارنے لگی۔۔۔ وہ بری طرح مجھے کس کر رہی تھی۔۔ ۔ اسکی چوت کا پانی جو میرے ہونٹو پر لگا تھا وہ اب اسکے ہونٹو پر تھا۔۔ اور وہ زبان سے چاٹنے لگی۔۔۔پھر انجلی میرے لنڈ سے اتر گئی اور بیڈ کے پیچھے جا کر میرے ہاتھ کھول دیئے۔ ۔۔۔ وہ بیڈ پکڑ کر جھک گئی اور مجھے پیچھے سے چودنے کو کہا۔۔ میرے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔۔ میں انجلی کے پیچھے گیا اور گوری والی لڑکی نے میرے لنڈ کو پکڑ کر انجلی کے پیچھے والے سوراخ پر رکھ دیا اور مجھے جھٹکا مارنے کو کہا۔۔ میں نے جیسے ہی جھٹکا مارا انجلی چلا اٹھی۔۔۔ اسکی چیخ کمرے میں گونج گئی۔۔۔ میں نے فوراً اپنا لنڈ نکال لیا۔۔ انجلی نے سک کا سانس لیا اور پیچھے مڑ کر مجھے ایک تھپڑ مارا۔۔۔ اسنے مجھے پیچھے والے سوراخ میں ڈالنے کی وجہ سے مارا تھا۔۔ ۔ میں نے کہا میرے تو ہاتھ بندھے ہیں مجھے تو اس نے کہا تھا اندر ڈالنے کو۔ پھر انجلی نے گوری والی لڑکی کو گھور کر دیکھا۔۔ اور بولی ۔۔یہ کیا حرکت تھی۔تمہیں پتا ہے مجھے کتنا درد ہواہے۔۔۔ گوری والی لڑکی سوری کہنے لگی۔۔۔ پھر انجلی دوبارہ جھک گئی اور گوری لڑکی نے اس بار میرا لنڈ چوت پر رکھا ۔۔ میں نے جھٹکا نہیں مارا بلکہ آہستہ آہستہ اندر ڈالنے لگا۔۔ انجلی پھر سے آہیں بھرنے لگی۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ رفتار بڑہا دی ۔اب انجلی پاگل ہونے لگی۔۔ اسنے بیڈ کی چادر کو زور سے پکڑ رکھا تھا۔۔ جیسے وہ تڑپ رہی ہو۔۔۔۔۔ انجلی کچھ ہی دیر میں دوبارہ جھٹکے لینے لگی۔۔۔ اسکے منہ سے آہ ہ ہ ہ ۔۔۔ اوہ ہ ہ ہ ہ ۔۔ نکلنے لگی۔۔۔۔ میں نے رفتار تیز کردی۔۔ اور انجلی کا جسم اکڑنے لگا۔۔۔ وہ تھوڑی ہی دیر میں سرد آہیں بھرنیں لگی اور اسکا جسم ڈھیلا پڑ گیا۔۔۔وہ بیڈ پر اسی طرح جھکی رہی۔۔ اور میں نے اپنا لنڈ باہر نکا ل لیا۔۔۔ میں دو لڑکیوں کو چود چکا تھا۔۔ لیکن میرا لنڈ پہلے سے زیادہ اکڑ چکا تھا۔ میں فارغ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔ میرے ہاتھ بندھے ہوئے تھے ورنہ میں اسکی چوت کو سہلاتا۔۔۔انجلی نے صفائی نہیں نہیں کی ہوئی تھی۔ اسکے بالوں نے اسکی چوت کو چھپایا ہوا تھا۔۔ باقی کی دو لڑکیاں صوفے پر لیٹی ہو ئی ایک دوسرے کو پیار کر رہی تھیں۔۔وہ اپنی باری کا انتظار کر ہی تھیں۔۔ انجلی اب میرے اوپر میرے پیٹ پر بیٹھ گئی۔ مجھے کچھ گیلا گیلا محسوس ہو رہا تھا جو شاید انجلی کی چوت کا پانی تھا ۔ وہ بری طرح بے چین تھی۔۔ میں نے اسکے مموں کو چوس چوس کر پورا گیلا کر دیا تھا۔۔۔ ادھرگوری والی لڑکی نے میرے لنڈپر کنڈم چڑہایا اور میرے اوپر میرے لنڈ پر بیٹھنے لگی۔۔ اسنے اپنے ہاتھ سے میرا لنڈ پکڑ کر اپنی چوت کے سوراخ پر رکھا اور اپنے جسم کو نیچے کرنے لگی۔۔ میرا لنڈ سلپ ہوتا ہوا اسکی چوت میں چلا گیا اور اسکے منہ سے صرف آہ ہ ہ۔۔ نکلی۔۔۔ شاید یہ لڑکیاں یہ کام پہلے سے کرتی رہی ہیں۔۔کیونکہ اس لڑکی کی چوت سے خون نہیں نکلا اور میرا لنڈ بھی آسانی سے اندر چلا گیا۔۔ادھر انجلی پوری طرح بے چین تھی۔۔ اب باقی کی دو لڑکیوں کی باری تھی۔۔ ۔ ان دونوں نے مجھے صوفے کے پاس بلایا اور میں چلا گیا۔۔ وہ دونوں چدائی کے لئے تیار تھیں۔۔ انہوں نے آپس میں پیار محبت کر کے ایک دوسرے کو اتنا بے چین کر لیا تھا کہ بس اب انکو لنڈ کی ضرورت تھی۔۔۔ میں صوفے کے پاس گیا تو ایک لڑکی صوفے پر بیٹھ گئی اور اسنے اپنی ٹانگیں ہوا میں اٹھا لیں۔ اسکی چوت میرے سامنے تھی اور وہ مجھے چودنے کا کہ رہی تھی۔۔ میں اسکی ٹانگوں کے بیچ گیا اور دوسری لڑکی نے میرا لنڈ پکڑ کر اسکے سوراخ پر رکھا ۔۔ انجلی کا تھپڑ مجھے یاد تھا۔ اسی لئے میں آہستہ آہستہ ڈالنے لگا۔۔۔لیکن دوسر ی لڑکی کھڑی ہوئی اور میرے پیچھے سے مجھے دھکا مارا تو میرا پورا لنڈ اسکے اندر چلا گیا۔۔ وہ چلا اٹھی ۔۔۔آآآآآآآآآ۔۔۔۔۔۔کمینے۔۔۔۔بغیرت۔۔۔۔ اتنی زور سے ڈال دیا۔۔۔۔ اآآآآآآآآآ۔۔۔۔۔۔ میں نے فوراً کہا میں نے کچھ نہیں کیا اس لڑکی نے مجھے دکھا مارا۔۔۔ یہ سن کر دوسری لڑکی نے مجھے پیچھے سے کمر پر مارا اور بولی چل جھٹکے مار۔۔۔ ۔۔۔۔۔میں فوراً ہلنے لگا گیا۔۔۔ صوفے والی لڑکی آہیں لینے لگی ۔۔۔ اف ف ف۔۔ سالے۔۔۔۔میری چوت پھاڑ ڈالی۔۔۔اتنا موٹا لنڈ ہے تیرا۔۔۔۔ اف ف ف۔۔۔۔ام م م م م م ۔۔۔۔ وہ آہیں اور سسکیاں لے رہی تھی اور میں مسلسل جھٹکے مارے جا رہا تھا۔۔۔ اتنے میں میرے پیچھے والی بھی صوفے پر اپنی ٹانگیں اٹھا کر بیٹھ گئی اور مجھ سے کہا کہ اب مجھے چودو۔۔ میں نے لنڈ نکال کراسکی چوت میں ڈال دیا۔۔۔ لنڈ ایک ہی جھٹکے میں پورا اندر چلا گیا اور اس لڑکی کی ایک آہ۔۔ بھی نہیں نکلی۔۔۔ اسنے اپنے ہاتھ میری کمر میں ڈالے اور مجھے اپنے قریب کھنچا۔۔میرا پورا لنڈ اسکی چوت میں چلا گیا۔۔ وہ میرا لنڈ اندر لے کر اپنی چوت کو گھمانے لگی۔۔۔ مجھے بہت مزہ مل رہا تھا۔۔ میں بھی اور اندر کرنے لگا۔۔۔اب میری بے چینی بڑھ گئی تھی۔۔۔ میں نے اسکے ہاتھ ہٹائے اور زور زور سے جھٹکے مارنے لگا۔۔ ۔ میں اتنی زور سے جھٹکے مار رہا تھا کہ صوفے کے اسپرنگ کی وجہ سے وہ لڑکی اچھل رہی تھی۔۔ ۔۔ کچھ ہی دیر میں میرے منہ سے ایک زور دار آہ نکلی۔۔۔آآآآآآآآآآآآآآآآآآ۔۔۔ اور میں اسکی چوت میں ہی فارغ ہو گیا۔۔۔ میرا پانی کنڈم میں بھر گیا۔۔ ۔ لیکن میرا لنڈ ویسے ہی کھڑا تھا۔۔ میں فارغ ہونے کے بعد بھی جھٹکے مارتا رہا۔۔۔ میرا جسم تو ڈھیلا پڑ رہا تھا لیکن لنڈ ابھی تک اکڑا ہوا تھا۔۔ ۔۔اور میں چودتا رہا ۔۔کچھ ہی دیر میں وہ لڑکی بھی فارغ ہو گئی۔۔۔۔ اب برابر والی لڑکی کی باری تھی۔۔ میں نے کنڈم بدلنے کو کہا تو اسنے یہ والا اتار کر دوسرا پہنا دیا۔۔ اب میں اسے چودنے لگا۔۔۔ اسکی چوت سب سے ٹائٹ تھی۔۔ اسی لیئے اسے درد ہو رہا تھا۔ شاید اس لڑکی نے زیادہ بار نہیں چدوایا تھا۔۔۔۔میں اپنی رفتار سے اسے چودتا رہا۔۔۔ اسکے منہ سے آہیوں کے ساتھ ساتھ چیخیں بھی نکل رہی تھیں۔۔۔ او ۔۔۔ فک میں۔۔۔ فک میں۔۔۔ باسٹرڈ۔۔۔۔ وہ باقی لڑکیوں سے زیادہ سیکسسی تھی جس کی آوازیں مجھے پھر سے مدحوش کر رہی تھیں۔۔۔۔ اب یہ بھی اپنی منزل کے قریب تھی۔۔۔۔ اور کچھ ہی دیر میں جھٹکے لیتے ہوئے یہ بھی فارغ ہو گئی۔۔۔ اسکا جسم ڈھیلا پڑ گیا۔۔۔وہ مستی میں اپنے ممے دبانے لگی۔۔۔ میں نے لنڈ باہر نکلا لیا۔۔ اب میں چاروں کو خوش کر چکا تھا۔۔۔ میں اب جانا چاہتا تھا۔۔ مجھے دو گھنٹے ہو گئے تھے۔۔میرا باس مجھے فون کر رہا ہو گا لیکن میرا موبائل دوسرے کمرے میں تھا جہاں میرے کپڑے اتارے تھے۔۔۔میں نے انجلی سے کہا مجھے جانے دو۔۔پلیز۔۔۔ انجلی نے کہا ایک شرط پے یہاں سے جا سکتے ہو۔ اگر اس بات کا ذکر کسی سے کیا تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔۔۔ اور اگلی بار جب بھی پیزا آڈر کریں گے ۔۔تم ہی ڈیلیوری لانا۔۔۔ میں نے اس وقت تو انجلی کی ساری باتیں مان لیں۔۔۔ ایک لڑکی نے میرے کپڑے لا دیئے۔۔۔ اوردوسری نے میرے ہاتھ کھول دیئے۔۔ میں کپڑے پہنے لگالیکن میں پینٹ نہیں پہن سکا ۔۔ میرا لنڈ اکڑا ہوا تھا جو پینٹ میں نہیں جا رہا تھا۔۔۔انجلی میرے پاس آئی اور میرا ہاتھ پکڑ کر پھر سے بیڈ کے پاس لے گئی۔۔ وہ بیڈ پر جھک گئی اور بولی اب وہاں ڈالو جہاں پہلے ڈالا تھا۔۔ ۔میں سمجھا نہیں تواس نے میرا لنڈ پکڑ کر پیچھے والے سوراخ پر رکھا۔۔ اسنے مجھے کنڈم اتارنے کو کہا ۔۔ میں نے کنڈم اتارا اور لنڈ اسکے سوراخ پر رکھ کر اندر کرنے لگا۔۔ سوراخ بہت سخت تھا۔۔ وہ میرے لنڈکو بھیچ رہا تھا۔۔۔ میں آہستہ آہستہ پورا اندر چلا گیا۔۔ انجلی کی تو جیسے سانسیں رک رہی تھیں۔۔۔ وہ درد کو برداشت کر رہی تھی۔۔۔ اب میں آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا۔۔۔ انجلی درد سے کراہ رہی تھی۔۔شاید انجلی کے مزے سے زیادہ درد ہو رہا تھا۔۔۔ کچھ دیر اندر باہر کرنے کے بعدمجھے ایسالگنے لگا جیسے میں فارغ ہونے والا ہوں۔۔ میں نے اپنی رفتار بڑھا دی انجلی اب سکون میں آچکی تھی۔۔ وہ بھی میری تیز رفتار کو انجوائے کر رہی تھی۔۔۔ میں نے اچانک اپنا لنڈ باہر نکالا اور میرا سارا پانی انجلی کے کولہوں پر چلا گیا۔۔۔ انجلی کی سانسیں تیز تیز چل رہی تھیں۔۔ ۔ وہ بیڈ پر جھکی جھکی لیٹ گئی۔۔۔ اب میرا لنڈ بھی سکڑنے لگا تھا۔۔۔ میں نے ٹشو سے انجلی کے کولہے صاف کیئے او راپنے کپڑے پہنے۔۔ میں نے انجلی سے اب جانے کا کہا تو اسنے بھی کپڑے پہن لیئے اور میرے ساتھ باہر آگئی۔۔ باقی کی لڑکیاں بھی کپڑے پہن کر میرے ساتھ ساتھ دروازے تک آئیں۔۔ انجلی نے مجھے اپنا نمبر دیا کہ اگر کبھی یہاں سے گزرنا ہو یا ہم چاروں کے مزے دوبارہ لوٹنے ہوں تو آجانا۔۔۔میں نے اپنی بائیک اسٹارٹ کی اور شاپ کی طرف نکل پڑا۔۔ راستے بھر میری نظروں کے سامنے ان چاروں کا ننگا بدن آرہا تھا۔۔ مجھے اس بات کی زرا بھی فکر نہیں تھی کہ شاپ پر پہنچ کر میرا کیا حال ہو گا۔۔ میں شاپ پہنچا تو باس کا پارہ سر پر تھا ۔۔ وہ مجھے پر چیخنے چلانے لگا اور میرے لیٹ آنے کی وجہ پوچھے بغیر مجھ سے بائیک کی چابی لی اور مجھے نوکری سے نکال دیا۔۔۔ ۔۔۔ میں اپنا سامنہ لے کر وہاں سے چل دیا لیکن نوکری کا غم مجھے دکھی نہیں کر رہا تھا۔۔ مجھے تو بس ان چاروں کا ننگا بدن میری نظروں کے سامنے گھومتا نظر آرہا تھا۔۔۔

Posted on: 01:13:AM 14-Dec-2020


1 0 209 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com