Stories


منہ بولی بہن بنی بیوی از رابعہ رابعہ 338

چاہے لڑکا ہو یا لڑکی 16 سے 21، اسی عمر میں جنسی کی طرف سب بڑھتے ہیں. میرا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا. جب میں 18 سال کا تھا تب مجھے بھی کچھ کچھ ہوتا تھا. اکثر رات کو سوتے وقت میرا ہاتھ میرے انڈرویر کے اندر چلا جاتا تھا. میں انجانے میں ہی کافی دیر تک اپنا لںڈ سہلاتا رہتا تھا. جوان لڑکیوں کو دیکھ کر اکثر تن جاتا. پھر رات کو انہیں یاد کرکے اپنا لںڈ سہلایا کرتا تھا. شادی کی رات تھی. میرے ماما کے بیٹے کی شادی تھی. وہ لڑکی بھی آئی تھی بہت بن-ٹھن کے. عمر اس کی قریب 18 یا 19 سال تھی. پر وو مجھ سے ایک کلاس آگے تھی، بولے تو ایک سال بڑی تھی، نام تھا رچا. اس کی خوبصورتی ایک دم غضب کی تھی. گورا رنگ، کسا ہوا جسم، تنی ہوئی چوچیاں زیادہ بڑی نہیں تھی پر اتنی مست تھی کہ میرا لںڈ اسے دیکھتے ہی پھنپھنانے لگتا تھا. میں اسے اپنے دل کی بات بتا چکا تھا پر وو کبھی اس کا ڈھنگ سے جواب نہیں دیتی تھی. میرے ماما کی ایک لڑکی ہے سافٹ. میں نے سافٹ کو رچا سے بات کرنے کو کہا، سافٹ میری ہم عمر تھی اسی لئے ہم دونوں ایک دوسرے سے کھل کر بات کرتے تھے. کوئی بات نہیں چھپاتے تھے. اس لئے میں نے رچا کو لے کر اپنے دل کی بات سافٹ کو بتا دی، اور اس سے کہا کی وہ میری اس معاملے میں مدد کرے. شادی کی رات تھی، ناچ گانا ختم ہونے کے بعد سب سونے کی جگہ تلاش کر رہے تھے. جس کو جہاں جگہ ملی، وہ وہیں لیٹ گیا. پر میری نظر تو رچا کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی تھی، میں صرف اس کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا. سافٹ میرے پاس آئی اور بولی "میں اور رچا اوپر والے سٹور روم میں سونے جا رہے ہیں، آپ کو بھی وہیں پر سونے آ جانا." مجھے میرا کام کچھ بنتا نظر آ رہا تھا. میرے دماغ میں ایک بات آئی اور میں ان سے پہلے ہی سٹور روم میں جا کر لیٹ گیا. تبھی آواز کے ساتھ رچا اور سافٹ سٹور میں آئی. دونوں کسی بات پر زور زور سے ہنس رہی تھی. آپ کو ایک بات بتانا تو میں بھول ہی گیا وہ یہ کہ سافٹ رچا سے بھی زیادہ سیکسی تھی. وہ زیادہ گوری تو نہیں تھی پر اس کا پھيگر بہت مست تھا. ایک دم تنی ہوئی رچا سے بڑی چوچیاں تھی سافٹ کی. پر کیونکہ وہ میری بہن جیسی تھی تو کبھی اس کے بارے میں نہیں سوچا تھا. کمرے میں آتے ہی دونوں باتیں کرنے لگی. سٹور روم میں لائٹ تو تھی پر میں نے آن نہیں کیا تھا. کچھ دیر کے بعد سافٹ رچا کو بولی کہ تم نے تو کپل (میں) پر جادو کر دیا ہے تمہارا پاگل دیوانہ بنا پھرتا ہے، اور تم ہو کہ اسے بھاو نہیں دے رہی ہو. رچا- "یار، کپل پسند تو مجھے بھی ہے پر وہ مجھ سے عمر میں چھوٹا ہے. کل اگر شادی کی بات آئے گی تو سب انکار کر دیں گے." شيتل- "یار تو بھی نہ کہاں شادی تک پہنچ گئی، ابھی تو محبت لینے اور دینے کی عمر ہے شادی میں تو بہت وقت باقی ہے. ابھی تو آپ صرف محبت کرو اور زندگی کے مزے لو. ایک بات بتا، اگر کپل تمہیں چومنا چاہے تو تم چومنے دوگی؟ " رچا- "سوچنا پڑے گا، اور تو کہہ رہی ہے اس کے بارے میں تو کل سوچتی ہوں اس کے بارے میں، اب مجھے سونے دے. ناچ ناچ کر بدن کی لگ گئی اے. ایک کام کر، میرا بدن دبا دے." اتنا اس کے منہ سے سنتے ہی سافٹ رچا سے لپٹ گئی اور دونوں ایک دوسرے کا بدن دبانے لگے. جسے دیکھ کر میرا اور میرے لنڈ کا برا حال ہو رہا تھا.میں بھی اپنے انڈرویر میں جھٹ سے ہاتھ ڈال کر اپنا لںڈ ہلانے لگا.تھوڑی دیر بعد وہ دونوں سو گئی. کمرے میں بہت اندھیرا تھا. ہم تینوں کی علاوہ کمرے میں کوئی نہیں تھا. جب لگا کہ وہ سو گئی ہیں تو میں ان کے سوا جاکر لیٹ گیا. دونوں لپٹ کر سو رہی تھی. اندھیرے کی وجہ کا پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ کون رچا ہے اور کون سافٹ ہے. دونوں ایک عمر کی اور تقریبا ایک ہی پھگر کی تھی اور آج دونوں نے کپڑے بھی ایک جیسے پہنے ہوئے تھے. میں کافی دیر لیٹا سوچتا رہا، میں کیا کروں کیا نہ کروں! پھر میں نے ہمت کرکے دونوں میں سے ایک کی چوچیوں پر ہاتھ رکھ دیا. مجھے کچھ نگاپن سا محسوس ہوا جب ہاتھ کو مکمل سرکا کے دیکھا تو پتہ لگا کہ پوری چوچی باہر تھی. زندگی میں پہلی بار کسی کی نںگی چوچی کو چھو لیا تھا. میری تو حالت خراب ہو رہی تھی. پر ہمت کرکے میں نے اس ننگی چوچی کو سہلانا شروع کر دیا. وہ تھوڑا سا كسمساي پر میں نے چوچی کو سہلانا چالو رکھا کیونکہ میں اپنے آپ کو قابو نہیں کر پا رہا تھا. تھوڑا اور اس کے قریب گیا اور جا کر میں نے اس کے ہونٹوں پر اپنی انگلی پھیرنا شروع کر دیا. اچانک اس نے میری انگلی اپنے منہ میں لے لی اور چوسنے لگی. پہلے تو میں تھوڑا گھبرايا پر جب وہ میری انگلی کو چوسنے لگی تو میرا ڈر نکل گیا. میں نے اس کی چوچی کو جور جور سے دبانا شروع کر دیا. اس کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھی. میں پوری مستی میں تھا، میں نے آواز پہچاننے کی کوشش بھی نہیں کی. اگر کرتا تو پتہ چل جاتا کہ وہ رچا نہیں سافٹ تھی. پر میں تو مستی میں اس کی چوچیاں دبا رہا تھا، وہ بھی تو مست ہو کر دبوا رہی تھی. میری ہمت آہستہ آہستہ اور بدنے لگی تو پھر میں نے اس کی چونچی کو منہ میں لے لیا اور چوسنے لگا. وہ اور بھی مست ہوئی جا رہی تھی اور میں بھی پاگلو کی طرح چسے جا رہا تھا، پہلی بار کسی کی چوچی کو مسل مسل کے چوس رہا تھا. اچانک رچا نے اںگڈائی لی تو مجھے پتا چل گیا کی جسے رچا سمجھ کر میں مستی کر رہا تھا وہ میری اپنی بہن جیسی تھی. مجھے بہت شرم آئی اور میں وہاں سے اٹھ کر بھاگ گیا. اگلی صبح مجھے بہت شرمندگي محسوس ہو رہی تھی کہ میں اپنی بہن کے ساتھ ہی مستی کر رہا تھا رات کو. ایک طرف مجھے گندا لگ رہا تھا مگر دوسری طرف مجھے اس کی چوچیاں بھی یاد آ رہی تھی. تبھی سافٹ میرے پاس آئی، اسے دیکھ کر تو میں کچھ بول نہیں پا رہا تھا. سافٹ میرے پاس بیٹھ گئی. اس کے بیٹھنے کے بعد مجھے گندا لگ رہا تھا تو میں اٹھ کر جانے لگا تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے بیٹھنے کے لئے کہا. میں خاموشی کسی چور کے طرح سر جھکا کر اس کے باج میں بیٹھ گیا. اچانک وہ ہوا جو میں نے کبھی سوچا نہ تھا، سافٹ میرے نزدیک آئی اور میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے. اچانک میرے اوپر یہ حملہ میری شرم پر بھاری پڑ گیا اور میں بھی سافٹ کے ہونٹ چوسنے لگا. کوئی پانچ منٹ ایک دوسرے کے ہونٹ چوسنے کے بعد سافٹ مجھ سے دور ہوئی اور بولی کپل تمہیں کسی بات پر شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. میں خود یہی چاہتی تھی کہ تم میرے ساتھ یہ کرو جو کل ہوا. سافٹ کے منہ سے یہ بات سننے کے بعد رہی سہی شرمندگي اور جھجھک کی فکر بھی چلی گئی. میں نے سافٹ کو پکڑا اور ایک کونے میں لے گیا اور اس کی چوچیاں دباتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے. اگر کسی کے آ جانے کا ڈر نہیں ہوتا ہو شاید میں اسے وہی نںگی کر دیتا، میں اتنا پاگل ہو چکا تھا. کسی طرح شادی نمٹ گئی، اور رات ہو آئی. رات ہونے سے پہلے جب بھی موقع ملا سافٹ اور میں لپٹ لپٹ کر ایک دوسرے کو پیار کرتے رہے. رات کو کافی دیر تک سافٹ کی چوچیاں چوسی، ہونٹ چوسے، صرف چوت نہیں ماری. رچا آج ہم دونوں کے ساتھ نہیں تھی، آج کمرے میں ہم دونوں اکیلے تھے. دو دن ایسے ہی نکل گئے. تیسرے دن بھابھی کے مایکے میں بیداری کا پروگرام تھا. سب لوگوں کو وہاں جانا تھا کہ اچانک سافٹ کے سر میں درد ہونے لگا. اس نے جانے سے انکار کر دیا. اسے اکیلے نہیں چھوڑ سکتے تھے اس لئے میں نے بھی رک گیا. اب گھر میں میں جانب سافٹ اکیلے تھے. ان لوگو کو گئے پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے تھے کہ سافٹ کے سر کا درد ٹھیک ہو گیا. مجھے سب سمجھ میں آ گیا کہ کون سا درد تھا اس سر میں تھا. میں سافٹ کے پاس آہستہ آہستہ گیا تو وہ مجھ سے لپٹ گئی اور بولی "میری جان کپل، میں کئی دنوں سے ایک عجیب سی آگ میں جل رہی ہوں. پلیج میری آگ کو آج ٹھنڈا کر دو." اتنا کہتے ہی اس نے اپنے گرم گرم اور نرم نرم ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دئے. میں خود ایک آگ بن کر جل رہا تھا. میں نے بھی اس کے ہونٹ چوسنے لگا. آج پوری رات تھی ہمارے پاس اکیلے رہنے کے لئے کیونکہ سب صبح ہی آنے والے تھے. میں نے سافٹ کو گود میں اٹھا لیا اور بھیا کے کمرے میں لے گیا. اس کمرے میں میں نے سافٹ کو بھیا کے نئے بیڈ پر لٹا دیا. اسی بستر پر بھیا اپنی نئی بیوی کے ساتھ سہاگرات منا چکے تھے. آج میری سہاگرات تھی اپنی بہن کے ساتھ. ہم پھر ایک دوسرے کے ہونٹ چوسنے لگے میرے ہاتھ سافٹ کی چوچیاں کے ساتھ کھیل رہا تھا. تبھی سافٹ اٹھی اور پانچ منٹ میں آنے کا کہہ کر چلی گئی، اور دس منٹ کے بعد آئی. جب وہ آئی تو میں سافٹ کو دیکھتا ہی رہ گیا. اس نے بھابھی کی نئی ساڑھی پہن رکھی تھی اور پردہ بھی تھا. میں نے اسے پھر گود میں اٹھایا اور بیڈ پر لے آیا. آتے ہی میں نے اس کا پردہ اٹھایا اور اس کے رسیلے هوٹھو پر اپنے ہونٹ رکھ دیا. اس نے مجھے گلے سے لگا لیا اور مجھے کس کے جکڑ لیا، میں نے پھر اسکی چوچیوں پر اپنا ہاتھ رکھا اور انہیں آہستہ دھير سے مسلنے لگا. پھر کچھ دیر کے بعد شروع ہوا کپڑے اتارنے کا سلسلہ. پہلے میں نے اس کی ساڑی اتاری. پرٹيكوٹ اور بلاج میں سافٹ بہت مست لگ رہی تھی. میں نے اس کے چچوك کو بلاج کے اوپر سے ہی چومنے لگا. سافٹ کے منہ سے سسکاریاں نکل پڑی. میں سمجھ گیا کہ سافٹ اب پوری گرم ہو چکی ہے. دقت یہ تھی کہ نہ تو سافٹ نے اور نہ ہی میں نے اس سے پہلے کبھی سیکس کیا تھا. پر میں نے ایک بار بلیو فلم دیکھی تھی. اسی تجربے کے دم پر میں نے سافٹ کے سارے کپڑے اتار دئے. اب سافٹ میرے سامنے بالکل ننگی کھڑی تھی.میں نے سافٹ کو لٹا دیا اور اس کی ٹانگیں کھول کر دیکھا تو پہلی بار ایک کںواری چوت میرے سامنے تھی. زندگی میں آج پہلی بار چوت کے درشن کر رہا تھا. چھوٹا سا سوراخ جسے ریشم کی تار جیسے جھانٹوں نے ڈھک رکھا تھا. میں جھک گیا اور اس کے چوت کو چومنے لگا. سسکاری اور آہیں کمرے میں سنائی دی لگی. میں کچھ دیر اس کی چوت چاٹتا رہا. سافٹ تب تک اتنی گرم ہو چکی تھی کہ وہ میری جیب کی چدائی ہی جھڑ گئی. اس کا گرم گرم پانی میرے منہ میں پھیل گیا. وہ اب ٹھنڈی ہو گئی تھی. پھر سافٹ اٹھی اور میرے کپڑے اتارنے لگی. کچھ ہی دیر میں میں ہی اپنے چھ انچ کے لںڈ کے ساتھ سافٹ کے سامنے ننگا کھڑا تھا. سافٹ میرے تن کر کھڑے چھ انچ کے لںڈ کو گھور-گھور کے دیکھ رہی تھی. میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لںڈ پر رکھ دیا تو سافٹ اپنے آپ اسے آہستہ آہستہ سہلانے لگی. میرا لںڈ اتنا کڑک ہو گیا تھا کہ مجھے درد سا ہونے لگا تھا. میں نے سافٹ کو اپنا لںڈ چوسنے کے لئے کہا تو وہ بغیر کچھ بولے میرے لںڈ کو منہ میں لے کر چوسنے لگی. میں نے پہلے کبھی جنسی نہیں کیا تھا اور کافی دیر سے پریشر بھی زیادہ ہو رہا تھا تو میں اپنے اوپر قابو نہیں رکھ پایا اور ایک موٹی دھار کے ساتھ سافٹ کے منہ میں جھڑ گیا. پھر کچھ دیر کے بعد ہم دونوں اٹھے اور باتھ روم میں جا کر شاور کے نیچے کھڑے ہو گئے اور ایک دوسرے کو چومنے لگے. پھر کچھ دیر کے بعد دونوں بدن پھر سے سیکس کی گرمی میں جلنے لگے. میرا لںڈ پھر کھڑا ہو چکا تھا. میں نے سافٹ کے گیلے جسم کو اپنی گود میں اٹھایا اور پھر سے بیڈ پر لٹا دیا. سافٹ تڑپ رہی تھی، وہ بولی - "آؤ میری جان، اب اس سوراخ کی کھجلی کو مٹا دو." میں نے اپنا ٹنٹنايا ہوا لںڈ سافٹ کی چوت پر رکھا اور ایک جم کر دھکا دے دیا. لںڈ کا سپارا زور سے پھک کی آواز نکلتے ہوئے اندر چلا گیا. سافٹ درد کے مارے چھٹپٹا اٹھی. پہلے تو میری پھٹ گئی، میں نے سوچا کی آج سافٹ مر جائے گی کیونکہ اندر کا کوئی حصہ اس کا پھٹ گیا. پھر مجھے یاد آیا کی بھیا کی شادی سے پہلے بھیا کے دوست بھیا کو یہی بتا رہے تھے کی بھابھی کتنا بھی درد سے تڑپے پر تم بھابھی پر رحم مت کرنا کیونکہ پہلی بار تمام لڑکیوں کو درد ہوتا ہے. لیکن اگر تم نے اس کے درد کو دیکھ کر اسے چھوڑ دیا تو وہ پھر کبھی تمہارے نیچے نہیں آئے گی، اور وہ پھر کبھی نہیں چدوایگی تم. پھر ساری عمر لںڈ ہاتھ میں لیکر چلنے. یہ بات یاد آتے ہی میں نے ایک اور زور دار دھکا لگا دیا. لںڈ تقریبا آدھا چوت میں گھس گیا. شيتل- "کپل میں مر گئی .... مجھے بہت درد ہو رہا ہے. پلیج اپنا لںڈ باہر نکالو .... میں اسے اور نہیں شریک سکتی ........................ يييييييي اااا ... يييي مررر ... گي." پر میں نے پھر بھی رحم نہیں کیا اس پر اور ایک دھکا اور لگا دیا. سافٹ کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے. دھکا اتنا زوردار تھا کہ لںڈ سافٹ کی مہر توڑتا ہوا چوت کے گہرائی تک گھس گیا. اگلے ہی دھکے میں پورا لںڈ سافٹ کی چوت میں تھا. سافٹ تڑپ رہی تھی، اس کی آواز بھی نہیں نکل رہی تھی درد کے مارے. اس کی کسی چوت میں لںڈ گھساتے-گھساتے میں بھی تھک گیا تھا. میں نے کچھ دیر لںڈ کو اسی کے چوت کے اندر رکھ کر انتظار کیا اور پھر دھیرے دھیرے لںڈ اندر-باہر کرنے لگا. سافٹ تھوڑی كسمساي، پھر آہیں بھرنے لگی. آہستہ آہستہ سافٹ کا درد کم ہوتا دکھائی دے رہا تھا مجھے. پھر وہ مجھے اپنی طرف کھینچنے لگی. میں نے بھی دھکوں کی رفتار بڑھا دی. پانچ منٹ کی ہلکی چدائی کے بعد سافٹ نے بھی اپنے گاںڈ اچھالني شروع کر دی جو اس کے مست ہونے کی نشانی تھی. سافٹ اپنی گاںڈ بری طرح اچھال-اچھال کے میرے لںڈ کو اپنے اندر لے رہی تھی. بستر کے نئے نئے توشک نیچے سے ہمیں اچھال رہے تھے. وہ سافٹ جو دو منٹ پہلے درد سے تڑپ رہی تھی اب مستی سے گاںڈ اچھال رہی تھی، پورا لںڈ اپنی کسی چوت کے اندر-باہر ہو رہا تھا. سافٹ جور جور سے چللا رہی تھیاهههههههههه همممممم اييي ااهههههههه آہ مجا آ گیا چودو! جور سے چودو مجھے.بیس منٹ چدائی کے بعد وہ ریلیز ہوئی لیکن کیونکہ میرا ایک بار پانی نکل چکا تھا اس لئے میں نے اسے چودتا رہا اور قریب تیس منٹ کے بعد میں اور سافٹ پھر ایک ساتھ جھڑ گئے. کیا مست چدائی تھی. سافٹ دو بار جھڑی چکی تھی. اس لیے وہ ایکدم سست بیڈ پر پڑی تھی. میں نے بھی اسے دیکھ کر اس کے اوپر چپک کر لیٹا رہا. بیس منٹ کے بعد ہم دونوں بستر سے اٹھے تو چادر پر لگے خون کے دھبوں کو دیکھ کر ہم دونوں کی جان نکل گئی. اس مست چدائی کے بعد پھر باتوں باتوں میں سافٹ نے مجھے بتایا کہ اس نے بھیا - بھابھی کی سہاگرات دیکھی تھی، تبھی سے اسے چدوانے کی اچھا ہو رہی تھی. وہ مجھ سے چدوا کر بہت خوش دکھائی دے رہی تھی. اس کے بعد ہم دونوں کافی دیر آرام ریٹویٹ اور کھا پی کر پھر سے اس رات ہم دونوں نے تین بار اور چدائی کی. پھر تھک کر سو گئے.

Posted on: 01:19:AM 14-Dec-2020


5 0 585 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 63 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com