Stories


ثناء کی اکیڈمی میں چدائی از بالاج پی کے

جو کہانی میں آج اپکو سنانے جا رہا ہوں یہ میرے ساتھ تین سال پہلے پیش آئی جب میں نے اور میرے دوست نے مل کر شام کے وقت اکیڈمی چلانے کا ارادہ کیا۔ ویسے میں اور میرا دوست صبح کے وقت ایک سرکاری محکمہ میں نوکری کرتے تھے لیکن شام کے وقت فارغ ہونے کی وجہ سے ہم نے سوچا کہ کیوں نا شام کے وقت کوئی جگہ کرائے پر لے کر اکیڈمی چلائی جائے تو پھر بس میں نے اور میرے دوست عامر نے مل کر اکیڈمی کے لیے جگہ ڈھونڈنا شروع کیا اور کچھ ہی دنوں میں ہمیں ہماری ضرورت اور کرائے کے مطابق اکیڈمی کے لیے مناسب جگہ مل گئی۔ شروع میں ہمارے پاس پڑھنے کے لیے آنے والے سٹوڈنٹس کافی کم تھے مگر کچھ ہی دنوں کی مخنت اور ہم دونوں کے پڑھانے کے طریقہ کار سے متاثر ہو کر ہمارے اسی محلے سے کافی بجے آنے لگے جہاں ہم نے اکیڈمی کے لیے جگہ کرایہ پر لے رکھی تھی۔ اب بجوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے ہمیں مزید کچھ ٹیچرز کی ضرورت تھی لہذا میں نے اور عامر نے اپنی اکیڈمی کے باہر ضرورت لیڈی ٹیچرز کا اشتہار لگا دیا۔ جیسے ہی ہم نے اکیڈمی کے باہر اشتہار لگایا اگلے دن ہی کافی لڑکیاں ٹیچنگ کے لیے خاضر ہو گئیں۔ میں نے اور عامر نے مل کر باری باری لڑکیوں کے انٹرویو لیے انہی لڑکیوں میں سے ایک لڑکی جو انٹرویو دینے کے لیے آئی اس کا نام ثناء تھا اب میں آپ کو کیا بتاوں کہ ثناء کیا چیز تھی بالکل دھماکہ تھی کوئی یقین ہی نا کر پاتا کہ وہ ہمارے ہاں ٹیچنگ کرنے کے لیے آئی ہے اسے دیکھ کر ایسا لگتا جیسے وہ کسی فلم کی ہیروین ہو۔ اس کے جسم کی ہر جیز بری تناسب سے بنائی گئی تی ممے بڑے بڑے اور گول گول کمر پتلی سی، چوتر موٹے موٹے اور بھرےبھرے۔ اور شکل بہت خوبصورت اور معصومیت سے بھری ہوئی۔ آنکھوں کا رنگ بلو تھا اور اس پر گورا رنگ اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہا تھا۔ خیر میں نے اور عامر نے ثناء کا بھی انٹرویو لیا اور ہم دونوں ہی ثناء کو اور دو اور لڑکیوں کو ٹیچر رکھنے کے لیے راضی ہو گئے۔ اگلے دن ثناء اور دوسری لڑکیاں اکیڈمی میں پڑھانے کے لیے پورے ٹائم پر آ گئیں دو لڑکیوں جن میں ثناء بھی شامل تھی پڑھانے کا تجربہ نہ تھا جب کہ ان میں سے ایک لڑکی پہلے اکیڈمی میں پڑھا چکی تھی اب ایک طے یہ پایا کہ ثناء کو میں اور دوسری لڑکی جس کا نام کومل تھا اس کو عامر پڑھانے کے بارے میں چیدہ چیدہ چیزیں بتا دیں اب میں ثناء کو لے کر چوتھی کلاس میں آ گیا اور عامر کومل کو لے کر دوسری کلاس میں چلا گیا۔ میں نے ثناء کو بتایا کہ بچوں کو کیسے کنٹرول کرتے ہیں۔ پڑھاتے کیسے ہیں۔ ہوم ورک کیسے چیک کرتے ہیں اور بچوں کو مارنے کی بجائے ان پر روب کیسے رکھتے ہیں۔ جب میں ثناء کو یہ سب باتیں سمجھا رہا تھا تو میں نے غور کیا کہ ثناء میری باتوں کو بڑے غور سے سن رہی ہے۔ پھر ثناء نے مجھ سے پوچھا کہ سر اگر مجھے کوئی مسئلہ ہو تو کیا میں آپ سے پوچھ سکتی ہوں تو میں نے کہا ہاں کیوں نہیں۔ پھر میں نے ثناء سے کہا اب آپ ان بچوں کو میرے سامنے پڑھاو۔ تو ثناء نے بچوں کو کتاب کھولنے کو کہا مگر میں نے محسوس کیا کہ وہ بچوں کہ پڑھانے کے ساتھ ساتھ تھوڑا تھوڑا گھبرا بھی رہی ہے۔ شائد وہ مجھ سے شرما بھی رہی تھی۔ میں نے ثناء کو کہا پلیز اگر آپ میری موجودگی کی وجہ سے گھبرا رہی ہیں یا شرما رہی ہیں تو آپ سب سے پہلے گھبرانا اور یہ شرمانا چھوڑیں۔ووی آر جسٹ لائیک اے فیملی یہ سن کر وہ مسکرانے لگی اور اس نے کہا او کے سر ۔ میں نے کہا نو سر مائی نیم از ثاقب اور آپ مجھے ثاقب ہی کہہ سکتی ہو۔ اور اور مزید ہنسنے لگی اور اس نے کہا ٹھیک ہے سر اور پھر میں بھی ہنسنے لگا اسی طرح میں نے تین دن ثناء کو بجوں کی کلاس لینے کا طریقہ بتایا اور پھر وہ لگاتار ہماری اکیڈمی میں تین ماہ تک پڑھاتی رہی جبکہ ثناء کے ساتھ پڑھانے کے لیے آنے والی لڑکیاں ایک ماہ بعد ہی اکیڈمی چھوڑ کر چلی گئیں مگر ثناء لگاتار آتی رہی۔ ان تین ماہ کے عرصے کے دوران میری اور ثناء کی دوستی اور فرینکنیس بھی کافی ہو چکی تھی یعنی اب ہم ایک دوسرے سے بالکل ایسے ہی بات کرتے جیسے ہم کافی پرانے دوست ہوں۔ ایک دن جب میں اکیڈمی پڑھانے کے لیے گیا تو مجھے پتہ چلا کہ عامرکی طبعیت خراب ہے لہذا وہ اکیڈمی نہیں آ رہا کچھ ہی دیر میں ثناء بھی اکیڈمی آ گئی اس نے عامر کا پوچھا تو میں نے اسے بتایا کہ اس کی طبعیت ٹھیک نہیں اس لیے وہ آج اکیڈمی نہیں آ رہا۔ ثناء میرے پاس اس آفس روم میں روزانہ بیٹھتی تھی مگر میں اسے اتنے غور سے نہیں دیکھتا تھا آج پتہ نہیں کیوں مجھ پر ایک شیطان سا سوار تھا اور دل چاہ رہا تھا کہ آج تو عامر بھی نہیں ہے تو کیوں نہ کسی طرح ثناء کو چود دوں پھر اپنے جذبات کو بڑی مشکل سے کنٹرول کیا۔ پھر ثناء بجوں کو پڑھانے کے لیے کلاس روم میں چلی گئی۔ جیسے ہی وہ اپنے کلاس روم میں گئی تو میری نظر اس صوفے پر پڑی جہاں ثناء بیٹھی ہوئی تھی میں نے دیکھا ثناء اپنا بیگ تو اپنے ساتھ لے گئی ہے مگر اس کے ساتھ پڑی اس کی ڈائیری وہیں صوفے پر ہی رہ گئی ہے۔ میں نے اس کی ڈائیری اٹھائی اور اسے پڑھنا شروع کر دیا۔ اس میں اس کی زندگی کی ساری اہم باتیں لکھیں تھیں میں نے پہلے شروع سے ڈائیری پڑھنا شروع کی مگر پھر سوچا کہ کہیں وہ آ نہ جائے تو میں نے اس تاریخ سے ڈائیری کو پرھنا شروع کیا جس دن سے وہ اکیڈمی میں پڑھانے کے لیے آ رہی تھی اس میں کچھ اس طرح لکھا تھا آج میں نے اکیڈمی پڑھانے کے لیے جوائن کی ہے۔ اکیڈمی میں میرے علاوہ دو اور لڑکیاں پڑھانے کے لیے آتی ہیں اکیڈمی کے مالک اور انتظامات عامر بھائی اور ثاقب کے ہاتھ میں ہیں۔ پھر اگلے دن کا صفحہ شروع ہو رہا تھا وہاں اسطرح لکھا تھا کہ آج میری پہلی کلاس تھی میں بہت ڈر رہی تھی مجھے آج کلاس کس طرح لیتے ہیں اس بارے میں ثاقب سر نے سکھایا۔ ثاقب سر بہت اچھے ہیں بلکہ آج انہوں نے کہا ہے کہ میں سر نہیں ان کا دوست ہوں۔ اگلی تاریخوں میں بھی ڈائیری کے صفحوں پر زیادہ تر میرا ہی ذکر تھا۔ پڑھتے پڑھتے میں نے ایک صفحہ کھولا تو اس میں لکھا تھا کہ آج میں نے رات کو خواب دیکھا جس میں ثاقب میرے پاس ہے ثاقب نے پوری رات مجھے سونے نہیں دیا اور ساری رات وہ میرے ساتھ سیکس کرتا رہا مگر صبح آنکھ کھلی تو میں بہت پچھتائی کہ کاش میری انکھ نہ کھلتی اور ثاقب مجھے ایسے ہی پیار کرتا رہتا۔ ڈائیری کے اگلے سفحوں پر بھی ایسی ہی فیلنگز کا اظہار تھا ۔ تھوڑی ہی دیر میں ثناء کلاس لے کر واپس آفس میں آ گئی میں نے کہا چائے پیو گی تو اس نے کہا ہاں منگوا لیں تو میں نے ایک بچے کو سموسے اور چائے لینے بھیج دیا اب میں اور ثناء پھر دونوں آفس میں اکیلے تھے میں نے ثناء سے خود ہی بات شروع کی اور اس سے کہا کہ ثناء میں نے آپکی اجازت کے بغیر آپ کی ڈائیری پڑھ لی ہے۔ یہ سن کر وہ ایک دم سے گھبرا گئی اور میں اپنی جگہ سے آٹھا اور اسے کے سامنے آ کر زمیں پر بیٹھ گیا اور اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا کہ ثناء جو فیلنگز تمہاری ہیں وہی فیلنگز میری بھی ہیں اس لیے تم گھبرا کیوں رہی ہو۔ میں نے اس کے ہاتھوں پر ایک بوسہ دیا اور میرے بوسہ لیتے ہی وہ شمرماتے ہوئے مسکرانے لگی۔ میں نے ثناء کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کے ہونٹوں پر بھی ایک زور دار کس کر دی ابھی کس اپنے جوبن کو بھی نہ پہنچی تھی کہ ثناء نے اپنا چہرا جلدی سے چھڑا لیا اور بولی پلیز کوئی آ جائے گا۔ مگر مجھ پر تو اب شیطان سوار تھا لنڈ تھا کہ پورے 90 کی ڈگری پر کھڑا ٹھا اور جو پینٹ پھاڑ کر پاہر آنے کو بھی تیار تھا کیونکہ اپنے لنڈ نے بھی کبھی چوت کا مزا نہیں لیا تھا مگر آفس میں ایسا کرنا مناسب نہ تھا اتنی دیر میں بچہ چائے اور سموسے لے کر بھی آ گیا ہم دونوں نے چائے پی اور سموسے کھائے اس دوران جب بھی میری اور ثناء کی نظریں ملتیں وہ مسکرا دیتی جس سے ظاہر ہوتا کہ وہ بھی چدائی کے لیے بالکل تیار ہے جیسے ہی سموسے اور چائے ختم ہوئے میں ثنائ کو ساتھ لے کر اوپر والی کلاس میں چلا گیا جو کہ ابھی خالی پڑی تھی کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے کمرے کو چٹکنی لگا دی اور بڑی بے تابی سے ثناء کو دوبارہ کس کرنے لگا آج پہلی بار اسکے ممے میرے ہاتھ میں تھے مجھے سچ میں یقین ہی نہ آ رہا تھا کہ آج میں ثناء کو چودنے والا ہوں جیسے ہی میں نے ثناء کو کس کرنا شروع کیا ثناء بھی بے قابو اور میرے سیکس کے نشے میں مدہوش ہونے لگی اب مجھ سے بھی رہا نہیں جا رہا تھا میں نے ثناء کی قمیض اوپر اٹھا دی نیچے ثناء نے پلیک کلر کا برا پہن رکھا تھا میں نے ثناء کے جسم کو چومنا شروع کر دیا اس کا چاندی جیسا صاف ستھرا جسم بہت ہی پیارا لگ رہا تھا دل چاہ رہا تھا کہ باس اسے چومتا ہی جاوںپھر میں نے ثناء کا برا بھی اوپر اٹھا دیا اب اس کے بڑے بڑے ممے میرے سامنے چوسے جانے کے لیے تیار تھے میں نے ایک ہاتھ سے ایک مما پکڑا اور اسے دبانا شروع کردیا جب کہ دوسرے ممے کو اپنے منہ سے چوسنا شروع کر دیا ثناء کا مما میرے منہ میں جانے کی دیر تھی اس نے وہیں مچلنا شروع کر دیا۔ مچلتے مچلتے اس نے میرا لنڈ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ میرے لن کے لیے ترس رہی ہے میں نے اس کی چاہت اور اپنے لن کی خواہش کو دیکھتے ہوئے اس کی شلوار اتار دی اب ثناء کی گوری چٹی چوت میرے لن سے چدنے کے لیے بالکل تیار تھی۔ میں نے پہلےاپنے ہاتھ کی انگلی کو ثناء کی چوت میں ڈالا تو اس کی چوت پہلے سے گیلی ہو چکی تھی میں اب وقت کو مزید ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا اور ثناء کو کلاس میں پڑی کرسی پر ہاتھ رکھ کر آگے کو جھکنے کو کہا۔ کیونکہ کلاس میں کوئی بیڈ یا کارپٹ نہ تھا اس لیے چدائی کے لیے یہی طریقہ مناسب تھا جیسے ہی ثناء میرے لن کے لیول کے مطابق جھکی میں نے اپنے لن سے اس کی چوت کا سیدھا نشانہ لگایا اور اپنا لن اپنے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے ایک دم سے اس کی چوت میں گھسا دیا۔ لن اس کے چوت میں گھسنے کی دیر تھی ثناء نے ایک ہلکی سی چیخ ماری ثاقب پلیز اسے نکال لو میری تو جان نکل رہی ہے درد سے میں نے ثناء کو کہا جان ایک منٹ ٹھرو یہ درد ابھی انجوائے منٹ میں بدل جائے گا اور پھر میں نے اپنے لن سے ثناء کی چوت کو ہلکے ہلکے جھٹکے دینا شروع کر دیے۔ثناء کو میں جیسے جیسے اب جھٹکے دے رہا تھا وہ ویسے وسیے مدہوش ہو رہی تھی اور ایک وقت آیا کہ ثناء نے کہا ثاقب تھوڑا زور سے کرو نا۔جیسے ہی ثناء نے تھوڑا اور زور سے کرنے کو کہا میں نے ثناء کو اور مزا دینے کے لیے زور زور سے جھٹکے دینے شروع کر دیے یہاں پھر میں نے ثناء کی چوت میں سے لن کو باہر نکال لیا ثناء کا ابھی بھی وہی سٹائل تھا یعنی وہ اپنے ہاتھ سامنے پڑی کرسی پر رکھ کر جھکی ہوئی تھی جبکہ اس کی گانڈ بالکل میرے سامنے اور چوت تھورا سا نیچے صاف نظر آ رہی تھی میں نے اب اپنا گیلا لن جو کہ ثناء کی چوت کے پانی سے صاف طور پر گیلا محسوس ہو رہا تھا ثناء کی گانڈ پر رگڑنا شروع کر دیا پھر میرا لنڈ خشک ہو گیا تو میں نے ثناء کی گانڈ پر تھوک پھینکی اور دوبارہ اپنا لنڈ اس کی گانڈ پر رگرنا شروع کر دیا۔ جیسے ہی میں نے محسوس کیا کہ اب ثناء کی گانڈ بھی میرے لنڈ سے چدنے کے لیے تیار ہو گئی ہے تو میں نے جلدی سے اپنے لن کا اگلا حصہ جسے عام طور پر ٹوپہ کہا جاتا ہے ثناء کی گانڈ میں گھسا دیا۔ جیسے ہی میرے لن کا ٹوپہ ثنا کی گانڈ میں گھسا اس نے بہت ہی زور دار چیخ ماری پورا کلاس کا خالی کمرہ گونج اٹھا۔ پہلے تو میں بھی ڈر گیا کہ اتنی اونجی آواز کسی نے سن ہی نہ لی ہو مگر مجھ پر تو چدائی کا شیطان سوار تھا ثناء نے کہا ثاقب پلیز یہاں سے مت کرو مگر میں نے اس کی ایک نہ سنی اور میں لگاتار جھٹکے دیتا رہا ۔ ثناء نے بہت منت سماجت کی کہ میں اس کے ساتھ پیچھے سے مت کروں مگر میں بعض نہ آیا اور میں زور زور کے جھٹکوں کے ساتھ ثناء کی گانڈ کی چدائی کرتا رہا مجھے اتنا پتہ چل رہا تھا کہ ثناء درد کی وجہ سے رو رہی ہے مگر میرا ثناء کی موٹی سی بھری بھری گانڈ سے اپنا لن باہر نکالنے کو دل ہی نہیں چاہ رہا تھا میں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں ثناء کے چوتروں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ رکھا تھا اب میں نے اپنے ہاتھ چوتروں سے اٹھا کر مموں کی جانب بڑھا دیئے۔ جیسے ہی دوبارہ میرے ہاتھوں نے ثناء کے مموں کو چھوا ثناء کو جیسے گانڈ کا سارا درد ہی بھول گیا۔ وہ پھر دوبارہ ہلکی ہلکی سسکیاں لے لے کر مجلنے لگی۔ کچھ دیر ثناء کی گانڈ چودنے کے بعد ثناء کی ہمت ختم ہو گئی۔ اب وہ مزید کرسی کے سہارے نہِں جھک پار رہی تھی تو وہ اب سیدھی کھڑی ہو گئی۔ ثناء ہلکا ہلکا مسکرا رہی تھی اور ساتھ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی کمر کو بھی پکررکھا تھا مگر میرا لن ابھی ایک بار بھی ڈسچارج نہیں ہوا تھا اس کی وجہ یہ تھِی کہ میں خود بھِی ابھی ڈسچارج نہیں ہونا چاہتا تھا کیونکہ میں تو ابھی انجوائے کرنا چاہتا تھا میں جب بھی ڈسچارج ہونے لگتا تو میں اپنی چدائی کی سپیڈ کم کر دیتا۔ اب میں نے ثناء کو کرسی پر بیٹھ کر آرام کرنے کو کہا تو وہ کرسی پر بیٹھ گئی میں بھی اس کے ساتھ پڑی کرسی پر بیٹھ کر اس سے باتیں کرنے لگا میں نے اسے کہا کہ تم صرف خوبصورت ہیں نہیں گرم بھی بہت ہو تمھارے ساتھ سیکس کا بہت مزا آیا وہ شرمانے لگی تو میں نے اسے پھر کس کرنا شروع کر دیا۔ اب میں نے ثناء کی ٹانگوں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا اور اس کی ٹانگوں کو اوپر اٹھاتے ہوئے اپنے کندھوں پر رکھ لیا اور اسی پوز میں ثناء کی چدائی شروع کر دی ۔ اب میں کچھ ہی دیر میں ڈسچارج ہو گیا۔ ثناء کی چدائی کے بعد میں نے اگلے ہفتے ثناء کو چودنے کے لیے ایک ہوٹل میں کمرہ بک کروایا کیوں کہ میں ثناء کے ساتھ اطمنان سے چدائی کرنا چاہتا تھا۔

Posted on: 01:25:AM 14-Dec-2020


1 1 195 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 1 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com