Stories


انتقام از گرے ڈون

یہ تقریباً دس سال پہلے کا واقعہ ھے۔ میرا نام کمال ھے اور اس وقت میری عمر 21 سال تھی۔ میں دیکھنے میں کافی ہینڈسم ھوں۔ ہمارا تعلق پنجاب کی ایک زمیندار فیملی سے ھے۔ گھر کے افراد کچھ اس طرح تھے۔ میری والدہ، بڑا بھائ جمال عمر 30 سال،اسکی بیوی مومنہ عمر 28 سال۔ اور پھر میں۔ میرے والد وفات پا چکے تھے۔ بھائ کا ایک سال کا بیٹا بھی تھا بلال۔ ان کے علاوہ ایک اور بڑا اہم اور دلکش کردار۔مہ وش عمر 19 سال جو کہنے کو تو ہماری نوکرانی تھی مگر بچپن سے یعنی 5۔6 سال کی عمر سے ہمارے گھر ہی رہ رہی تھی۔ اس کے علاوہ ماسی ساجدہ اور ڈرائور چاچا نواز بھی ہمارے گھر رہتے تھے۔ یہ دونوں میاں بیوی ادھیڑ عمر تھے اور ماسی کا کام کچن سنبھالنا تھا۔آپ سوچ رھے ھوں گے جتنے افراد اتنے نوکر تو زمیندار گھرانوں میں یہ عام سی بات ھے۔ ہمارالاہور والا گھر ایک کنال کا خوبصورت سا بنگلہ تھا۔ نیچے کی منزل میں ایک بیڈ میری والدہ رہتی تھیں اور دوسرا گیسٹ بیڈ تھا جو گائوں سے آے مہمان استعمال کرتے تھے۔ ماسی نیچے ماں جی کے قالین پر ہی سویا کرتی تھی اور چاچا پیچھے بنے سرونٹ کوارٹر میں۔ اوپر بھی دو بیڈ تھے۔ایک میرا اور ایک بھائ بھابھی کا۔ اور مہ وش کا کام چونکہ زیادہ تر بلال کو سنبھالنا تھا اس لئے وہ اوپر ٹی وی لاونج میں ہی سوتی تھی اور اکثر ٹی وی چلتا ہی چھوڑ دیتی تھی۔ مہ وش ایک چلتی پھرتی قیامت تھی۔ جوانی کا بانکپن اس کے انگ انگ سے عیاں تھا۔ قد پانچ فٹ چھ انچ۔گورا چٹا رنگ اور فیگر 36۔26۔34 تھا۔ نازک نین نقش اور گھنے بالوں جو اس کی کمر پر ایک ناگن چوٹی کی شکل میں کھیلتے رہتے۔ اس کی سرکش چھاتیاں مسحورکن تھیں تو کولہوں کا ابھار مست انگیز۔ اور وہ تھی کہ اپنی نوخیز جوانی سے بےخبر۔ میں ان دنوں بی اے کے پیپر دے کے فارغ تھا۔اکثر دوستوں کے ساتھ دیر رات تک اسنوکر کھیل کر ایک دو بجے گھر آتا تو دروازہ اسی کو کھولنا پڑتا اور وہ مجھے کہتی جلدی آ جایا کرو۔ جمال بھائ ایک ائرلائن میں کام کرتا تھا اور اکثر گھر سے دنوں غائب رہتا تھا۔ میری بھابی بھی نہایت حسین تھی۔ اس کی ماں ایرانی تھی اور مومنہ پاکستانی اور ایرانی حسن کا ایک دلکش امتزاج تھی۔ گلابی رنگت، نیلی آنکھیں، بھورے بال ،36 سائز کے ممے، پتلی کمر اور کافی پیچھے کو نکلی ہوئی گانڈ۔وہ اس قدر سیکسی تھی کہ کہ راہ چلتے مرد اسے دیکھ کر رک جاتے اور عورتوں کے سینے پر سانپ لوٹنے لگتے۔شادی کے بعدابتدائی دنوں میں تو جمال اسے باقاعدگی سےجم کر صبح دوپہر شام چودا کرتا تھا لیکن پھر گزرتے وقت کے ساتھ سیکس کم سے کم ہوتا گیا اور بلال کی پیدائش کے بعد تو بالکل ہی نہ ہونے کے برابر رہ گیا۔ ویسے بھی جمال کا پانچ انچ کا لن مومنہ جیسی گرم عورت کی تسلی نہ کروا سکتا اور ہمیشہ مومنہ پیاسی ہی رہ جاتی۔ یہ بات تو مجھے بہت بعد میں پتا چلی۔ویسے میرا کمرہ ان کے کمرے کے بالکل ساتھ تھا تو جب جمال اس کو چودا کرتا تو مجھے صاف سنائی دیا کرتا اور پھر مجبوراً مجھے اپنےہاتھ سے کام چلانا پڑتا۔ ایسے ہی ایک دن کی بات ہے کہ میں ان کی آوازیں سن کرفل خوار ہو چکا تھا۔ رات کا ایک بجا تھا اور مجھے بہت گرمی چڑھ چکی تھی۔ میں نے سوچا فریج سے کوک نکال کر پی جائے۔جب میں لاؤنج میں گیا تو وہاں وہ غارت گرِ ایمان یعنی مہ وش سو رہی تھی۔ بےترتیب لباس اور اس کے سینے کا زیروبم سے میرے قدم وہیں گڑ گئے اور میں کسی سحر زدہ انسان کی طرح اس کی جانب بڑھتا گیا۔ اس کی قمیص کا گلا کافی کھلا تھا اور اس سے ادھ نکلے ممے مجھ پر قیامت ڈھا رہے تھے۔ نجانے مجھ میں اتنی ہمت کہاں سے آ گیئ یا شاید اس وقت میں گرم ہی اتنا تھا کی جرات کر بیٹھا۔ اور آہستہ سے میں نے اس کے مموں پر ایک انگلی سے چھو لیا۔وہ ہلکا سا کسمسائی اور میں نے ہاتھ پیچھےکھینچ لیا۔ آج تک وہ لمحہ اور وہ لمس نہیں بھولا۔ ایسا لگا جیسے کیسے بجلی کے تار کو چھو لیا ہو۔ کچھ دیر بعد ڈرتے ڈرتے میں نے اب کے پھراس کے ممے کو ہلکا سا ٹچ کیا مگر وہ سویی رہی۔ پھر میں نے اس کے ادھ کھلے ہونٹوں پر ایک انگلی ٹچ کی۔ اس کے ہونٹ بالکل سوکھے ہوئے تھے مگر مجھے تو کمال کا مزا آیا۔ تھوڑی دیرکے بعد میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر ایک سیکنڈ کے لیے رکھے اور واپس کھینچ لئے۔ کیا بتاوں دوستو اس وقت دل خشک پتے کی طرح لرز رہا تھا اور میں وہاں سے واپس کمرے میں آ گیا اور جو کر آیا تھا اسی بارے میں سوچنے لگا۔ اس کے ہونٹوں کا لمس رہ رہ کے یاد آتا اور دل کرتا پھر اس کے ساتھ تھوڑی دل لگی کی جائے۔ حالانکہ اس سے قبل میرے دل میں ایسا کوئی خیال بھی نہیں تھا بس اچانک ایک آگ لگ گئی تھی جس میں میں جل رہا تھا اور آگ تھی کہ بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ خوبصورت تو وہ شروع سے ہی تھی لیکن کبھی توجہ ہی نہیں دی تھی۔ خیر کچھ دیر بعد میں ایک بار پھر اس کی جانب کھنچا چلا گیا اور میں نے دیکھا کہ کہ وہ کروٹ بدل کر سو رہی تھی۔ اس کی قمیص گانڈ سے ہٹی ہوئی تھی وہ سفید شلوار اس طرح اس کی گانڈ سے چپکی تھی کہ جیسے پینٹ کی گیئ ہو۔ میں اس کے نزدیک بت بنا کھڑا اس کی طرف دیکھی جا رہا تھا اور میرے بدن میں جو بھی حرکت تھی وہ یا تو سانس لینے پر ہلتا سینہ تھا یا ٹراوزر میں اکڑ کر جھٹکے کھاتا میرا سات انچ کا لوڑا۔ میں نے آہستگی سے اس کی شلوار کے اوپر سے اس کی چکنی گانڈ پر ہلکا سا ہاتھ پھیرا۔ ملائم اور ریشمی گانڈ پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے مجھے ہوش ہی نہ رہا۔ اور وہ اس طرح کسمسائی جیسے جاگ ہی جائے گی۔ میں ایکدم پیچھے ہوا اور بجلی کی تیزی سے فرج کھول کے پانی پینے لگا۔ اس نے ایک بھرپور انگڑائی لی آنکھیں کھول دیں اور اٹھ کے بیٹھ گئی۔ اف کیا توبہ شکن انگڑائی تھی۔ ابھرتے ممے دیکھ کر میرا لن جو پہلے ہی کھڑا تھا ایکدم جوش سے جھٹکے مارنے لگا۔ ٹراوزر کے سامنے کا ابھار اس کی نظروں کے سامنے تھا۔ میں اس کی نظروں کی تپش اپنے لن پر محسوس کر رہا تھا۔اس کا چہرہ لال بھبھوکا ہو رہا تھا اور آنکھوں میں نیند کا خمار تھا۔پھر جو اس نے کیا وہ میرے لیے انتہائی حیران کن تھا۔ جی ہاں اس نے تقریباً بیس سیکنڈ میرے لن کو دیکھنے کے بعد نظر اٹھایی اور میری آنکھوں میں دیکھ کر ہلکا سا مسکرایی اور پھر لیٹ گیئ۔ مگر اب وہ چت لیتی تھی۔ میں وہاں سےچپ چاپ اندر کمرے میں آ گیا۔ مجھے اس کی مسکراہٹ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ انہی سوچوں میں کب نیند آیی پتا ہی نہیں چلا۔ اگلے دن میں رات گیارہ بجے جب اسنوکر کھیل کر آیا توجمال بھائی اور مومنہ بھابھی کہیں جا رہے تھے۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ اس وقت بھابھی کی بہن ہسپتال میں ہے۔اس کے بچہ ہونے والا تھا اور آپریشن ہونا تھا۔ ان دونوں نے رات وہیں رکنا تھا۔خیر میں اوپر کی جانب چل پڑا۔ دل میں کل والا منظر ہی چل رہا تھا مگر یہ کیا مہ وش اپنی جگہ یعنی لاؤنج میں نہیں تھی۔ تبھی میں نے دیکھا بھائی کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور وہ بلال کی وجہ سے اندر تھی۔ بلال تو بیڈ پڑ لیٹا تھا اور وہ نیچے قالین پر یوں پڑی تھی کے اس کا منہ دروازے کی جانب ہی تھا۔ ایک بار تو میں رک گیا اور سوچنے لگا کہ کیا کیا جائے۔ پھر سوچا کچھ دیر ویٹ کر کے تھوڑی دل لگی کی جائے جب تک یقین نہ ہو کہ وہ سو رہی ہے۔ خیر کوئی آدھا گھنٹہ گزرا ہو گا کہ میں اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ اس وقت اس نے قالین پر بستر بچھایا ہوا تھا۔ میں کچھ دیر اسے دیکھتا رہا کہ جاگ تو نہیں رہی مگر وہ بے سدھ پڑی تھی۔ آج اس میں کوئی چینج لگ رہا تھا مگر کیا۔ ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ یکدم میری نظر اس کے ہونٹوں پر پڑی جہاں لپ سٹک لگی ہوئی تھی۔ اب جو میں نے بغور جائزہ لیا تو لگا کہ اس وقت وہ سونے کی کامیاب ا یکٹنگ کر رہی ہے۔ تبھی میرے کھڑے لن میں خیال آیا۔ جی ہاں لن کھڑا بھی تھا اور اس عمر میں سوچنے کا کام بھی وہی کرتا تھا۔ خیر خیال یہ تھا کہ اس تبدیلی کی وجہ کیا ہے۔ اور باس فوراً ہی جواب ذہن میں آیا کہ شاید وہ خود بھی یہی چاہتی ہے اور میں آہستہ سے اس کہ ساتھ لیٹ گیا۔ اور میں نے اس کے چہرے پر آیی بالوں کی لٹ کو پیچھے کیا اور اس کے تپتے رخسار پر ہلکا سا چوم لیا۔ اس کا بدن ہولے ہولے لرز رہا تھا اور اس کے گال لال ہوتے جا رہے تھے۔ میں نے ایک ہاتھ اس کے سینے پر پھیرا اور اس سے مزید برداشت نہ ہوا۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور بولی کیا کر رہے ہو۔ میری تو گانڈ ہی پھٹ گئی تھی اور آواز گلے میں بند ہو کے رہ گئی۔ اس نے پھر کہا یہ کیا کر رہے تھے۔ بتاؤں ابھی ماں جی کو۔ میں ہوش میں آتے ہوئے بولا نہیں مجھے معاف کر دو۔ تم اتنی پیاری لگ رہی تھی کے میں خود کو روک نہیں سکا۔ آئندہ ایسی غلطی نہیں ہو گی۔ میرا ہاتھ ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے کہا کہ کیوں۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ کیا جواب دوں۔ پھر اس نے کہا کہ کیا میں آیندہ پیاری نہیں لگوں گی یا چھیڑو گے نہیں۔ میں نے کہا چھیڑوں گا نہیں۔ خوبصورت تو اس قدر ہو تم کہ میں بتا ہی نہیں سکتا۔ اچھا مثلاً کیا خوبصورت ہے مجھ میں۔ میں نے کہا سب کچھ۔ سر سے پاؤں تک ایک قیامت ہو تم۔ میں تو تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں اور ساتھ ہی میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنی طرف کھینچ لیا اور بولی دوستی بھی کرنی ہے اور دوست کو چھوڑ کر بھی جا رہے ہو۔ میں نے ابھی کچھ بولنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کے مہ وش نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے جوڑ کر مجھے گلے لگا لیا۔ ایکدم تو مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا لیکن پھر میں بھی اس کا بھرپور ساتھ دینے لگا۔ ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے چوستے میں اس کی کمر پر ہاتھ پھیر رہا تھا کہ اس نے مجھے اپنی بانہوں میں زور سے جکڑ لیا۔ میں سمجھ گیا کے یہ بھی فل گرم ہو گیئ ہے۔ میرا ایک ہاتھ اس کی کمر پر تھا اور دوسرا اس رک مموں پر اور وہ میرا لن سہلا رہی تھی۔ میں نے ہاتھ جیسے ہی اس کی قمیص میں ڈالا یکدم سے کمرہ بلال کے رونے کی آواز سے گونج اٹھا اور ہم دونوں علیحدہ ہو گئے ۔ اس نے کہا میں اسے سلا کر آتی ہوں۔ تم اپنے کمرے میں جاؤ۔ میں اپنے کمرے میں آ کر اس کا انتظار کرنے لگا۔ کوئی آدھے گھنٹے کے بعد وہ میرے پاس آ گیئ اور کمرہ کا دروازہ بند کر کے مجھ سے لپٹ گیئ۔ اب ہم دیوانہ وار ایک دوسرے کو چوم رہے تھے۔ ہمارے ہونٹ آپس میں گتھم گتھا تھے اور کبھی میری زبان اس کے منہ میں داخل ہوتی جسے پیچھے دھکیل کر وہ اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دیتی۔ ساتھ ہی ساتھ ہم ایک دوسرے کے بدن پر ہاتھ پھیر رہے تھے۔ کچھ دیر اسی مستی میں گزری اور پھر میں نے اس کی قمیض اوپر کی جانب کھینچی اور اس نے اپنے دونوں بازو اٹھا کر گویا رضامندی کا اظہار کیا اور میں نے اس کی قمیض اتار دی۔ ہاۓ کیا نظارہ تھا۔ اس کا کالے رنگ کا بریزیر اور اس میں سے نظر اتے ممے مجھے مدہوش کر گیے۔ بریزیر میں نے کھول کر ایک سائیڈ پر پھینک دیا اور اور میں ان نوخیز چھاتیوں پر بھوکوں کی طرح ٹوٹ پڑا اور کبھی ایک مما چوستا تو کبھی دوسرا۔ گورے مموں پر براؤن نپل دیکھ کر میرےذہن میں پہلا خیال یہی آیا ملک چاکلیٹ اور جو ممے چوستے چوستے میں ہلکا سا کاٹ لیتا تو مہ وش کے منہ سے بے اختیار سسکاری نکل جاتی جو میرے جوش کو بڑھا جاتی۔ میں نے اس کی شلوار نیچے کی تو الاسٹک والی شلوار آسانی سے اتر گیئ۔ اور اب وہ صرف ایک سیاہ پینٹی میں میرے سامنے کھڑی تھی۔اس نے میری شرٹ کے بٹن کھول کر میری شرٹ اتار دی۔ پھر اس نے میری پینٹ کی بیلٹ کھول دی اور اسے بھی اتار دیا۔ میں نے اس کی پینٹی کو پکڑ کر نیچے کی جانب کھینچا اور اتار کر ایک سائیڈ پر پھینک دیا۔ اب اس کی کنواری پھدی میرے سامنے تھی۔ اس کی پھدی پر بالکل ایک بال بھی نہیں تھا۔
 میں ابھی تک انڈر ویئر میں تھا جسے مہ وش نے کھینچ کر نیچے کر دیا اور میرے لن کو ہاتھوں میں لے کر سہلانے لگی۔ اس کے ہاتھوں میں لن اور بھی زور پکڑتا جا رہا تھا اور اس طرح سخت ہو رہا تھا کہ جیسے لوہے کا بنا ہو۔ میں نے مہ وش کو بیڈ پر لٹایا اور اس کے سارے جسم کو سر سے پاؤں تک چومنے لگا۔ اس کی آنکھوں کو چوم کر ہونٹوں کا رس چکھا۔ پھر اس کی گردن سے چومتا چومتا نیچے کی جانب آیا اور دیر اس کے ممے چوستا رہا۔وہ مزے میں اس قدر ڈوبی ہوئی تھی کہ اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔ میری زبان اور ہونٹ نیچے کی طرف سفر کر رہے تھے اور جب میں نے اس کی ناف میں زبان ڈالی تو وہ بری طرح مچل گیئ۔ میں اور نیچے چومتا ہوا اس کی کنواری پھدی پر پہنچ گیا۔ اور کیا حسین پھدی تھی وہ۔ ایک بھی بال نہ تھا اس پر اور ہلکے گلابی رنگ کی آدھے انچ کی ایک لکیر تھی۔اس کی چھوٹی سی اور بہت ملائم پھُدی گیلی ہو چکی تھی میں نے اسے کپڑے سے خشک کیا اور اپنے ہونٹ پھُدی کے ہونٹوں پر رکھ دیئے۔ میرا ایسا کرنا تھا کہ مہ وش کی ایک تیز سسکی نکل گئی۔ میں نے زبان کے نوک مہ وش کی پھُدی کے ہونٹوں کے درمیان رکھ کر اسے چاٹنا شروع کیا تو اس کا سارا جسم جھٹکے لینے لگا۔ اس کی سسکیاں تیز تر ہو گئیں۔ وہ نیچے سے گانڈ ہلا ہلا کر پھُدی کو میرے منہ پر رگڑنے لگی۔ وہ کچھ کہہ رہی تھی، لیکن الفاظ بے ربط تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کے وہ کیا کہہ رہی ہے۔ تھوڑی دیر پھُدی چاٹنے کے بعد میں نے اسےکندھوں سے پکڑ کر بیڈ پر بٹھایا اور خودفرش پر کھڑا ہو کے لن مہ وش کے ہونٹوں پر رکھ دیا۔ اس نے میری طرف دیکھا تو میں نے کہا، میں نےتمہاری پھُدی چاٹی ہے تو تمہیں میرا لن منہ میں لینے سے ہچکچاہٹ کیوں؟ ایسا کرنا ضروری ہے کیا؟ مہ وش میرے چہرے پر نظریں جمائے بولی۔ تو میں نے لن اس کے ہونٹوں پردباتے ہوئے کہا چُوس کر دیکھو مزہ آئے گا۔ اس کے ہونٹوں پر لن کا دباؤ پڑا تو اس نے منہ کھول دیا۔ میرا لن اس کے منہ میں گھستاچلا گیا۔ وہ پہلے جھجھک رہی تھی لیکن بعد میں مزے لے لے کر چوسنے لگی۔ مجھے لگا کے میں نے اگر اس کو روکا نہیں تو میرا لن لاوا اُگل دے گا۔ میں نے لن اس کے منہ سے نکالا تو وہ ناگ کی طرح پھنکار رہا تھا۔ میں اس کے ساتھ لیٹ گیا اور اس کے ہونٹ چوسنے لگا۔ ساتھ ہی میں نے ایک انگلی اس کی پھدی میں ڈال دی اور آگے پیچھے کرنے لگا۔ وہ تڑپ اٹھی اور اس کا جسم جھٹکے لینے لگا۔ وہ مزے کی انتہا پر تھی اور جب اس نے نیچے سے پھدی اٹھا کر میری انگلی پوری اندر لینی چاہی تو میں سمجھ گیا کہ لوہا گرم ہے اور میں نے انگلی نکال لی۔ اس نے چونک کر میری طرف دیکھا تو میں نے کھڑا ہو کر اس کی ٹانگیں پھیلا دیں۔ اب مہ وش بیڈ پر اس طرح لیٹی تھی کہ اس کی گانڈ اور اس سے اوپر کا جسم بیڈ پر تھا اور ٹانگیں میرے ہاتھوں میں اور میں اس کی ٹانگوں کے درمیان فرش پر کھڑا تھا۔ میرا لن اس کی چھوٹی سی چوت دیکھ کر اکڑ رہا تھا۔ پھر وہ وقت آیا کہ میں نے زرا سا اگے ہو کر لن اس کی مخملیں چوت کے ساتھ رگڑا۔ اس کے منہ سے سسکی نکل گیئ۔ میں نے تھوڑا زور لگایا تو لن نیچے سلپ ہو گیا۔ کنواری پھدی تھی اور انتہا کی ٹائٹ۔ خیر تھوڑا سا تھوک لگا کر میں نے سنبھل کر نشانہ لگایا تو ٹوپا اس کی چوت میں پھنس گیا۔ مہ وش کے منہ سے ایک تیز سانس خارج ہوئی اور مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے میرا لن شکنجے میں جکڑ لیا ہو مگر قدرت کے کھیل عجب ہیں کر دنیا کے کسی شکنجے میں یہ نرمی یہ گرمی ہو ہی نہیں سکتی۔اس کی چوت کسی بھٹی کی طرح تپ رہی تھی مگر ساتھ ہی ساتھ اس قدرنرم و ملائم تھی جیسے ریشم کی بنی ہو۔ سرور کی انتہا تھی جہاں میں پہنچ چکا تھا۔ میں نے ہلکا سا زور دیا تو میرا لن پھنستا پھنستا کوئی دو انچ کے قریب اندر چلا گیا اور مجھے ایسا لگا جیسے اس کی پھدی بس اتنی ہی گہری ہے اور میں دل میں اپنے خیال پر ہنسا کیونکہ یہ اس کا پردہ ءِ بکارت تھا۔ میں اپنے لن کو اتنا ہی اگے پیچھے کرنے لگا اور مہ وش مزے میں سسکیاں لے رہی تھی۔ یہ تو میں اچھی طرح جانتا تھا کہ سیل ٹوٹنے پر بہت درد ہوتا ہے اس لیے میں نے اس کے ہونٹوں پر کی کس کرنی شروع کی اور اس کے منہ کو اپنے منہ سے اچھی طرح بند کر دیا اور ایک زوردار جھٹکا لگایا۔میرا لن ہر رکاوٹ کو چیرتا ہوا جڑ تک اس کی چوت میں گھس چکا تھا۔ وہ یکدم تڑپ اٹھی اور اس کا سانس رک سا گیا۔ اگر میں نے اس کے منہ کو جکڑا نہ ہوتا تو یقیناً اس کی چیخیں سارے گھر میں گونج اٹھتیں مگر منہ بند کرنے کی وجہ سے بس غوں غوں کی آواز ہی آیی۔ اس کی آنکھوں کے گوشوں سے آنسو بہ کر اس کے پھول سے رخساروں کو بھگو گیے۔اس نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر مجھے پیچھے دھکیلنا چاہا لیکن میں نے اس کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر اسے اس طرح جکڑا ہوا تھا کہ اس کے لیے مجھے پیچھے کرنا ممکن نہیں تھا۔ میں جانتا تھا کہ اگر اب لن باہر نکل گیا تو دوبارہ اندر نہیں لے گی۔ میں اس کے اوپر ساکت پڑا ہوا تھا اور اس کے ہونٹ چوس رہا تھا۔ اس کی پھدی انتہا کی ٹائٹ تھی جس کے اندر میرا لن جگہ بنا تو چکا تھا مگر بمشکل۔یعنی اندر پھنس چکا تھا۔ کچھ دیر بعد میں نے لن کو ہلکا سے پیچھے کر کے پھر آگے کی جانب دھکیلا تو مہ وش کے منہ سے ایک کراہ نکل گیئ۔ میں نے پھر بھی انتہائی آہستگی سے لن کو آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا۔ میرے ہر دھکے پر وہ کراہ کر رہ جاتی مگر اس کی پھدی اندر سے گیلی بھی ہوتی جا رہی تھی اور لن بھی اب روانی سے آگے پیچھے ہو رہا تھا۔ مہ وش کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور اس کی آنکھوں میں گلابی ڈورے تیر رہے تھے۔ میں نے اسی طرح آہستہ رفتار سے دھکے لگا رہا تھا اور لن اس کی چوت کی دیواروں سے رگڑ کھاتا ہوا اندر باہر ہوتا ہوا مجھے مزے کے ساتویں آسمان کی سیر کروا رہا تھا۔ پھر مجھے محسوس ہوا کہ مہ وش بھی اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر میرا ساتھ دے رہی ہے۔ میں نے اپنی رفتار تھوڑی سی تیز کر دی۔اس کے منہ سے اب مزے میں آوازیں نکلنے لگیں۔ جب لن اندر جاتا تو وہ رک جاتی اور جب میں پیچھے کھینچتا تو وہ گانڈ اچکا کر جیسے کہتی کہ لن اندر ہی رکھو۔ وہ بھرپور انداز میں اب میرا ساتھ دے رہی تھی اور کمرے میں میرے تیز سانسوں اس کی مزے بھری سسکاریوں اور پچ پچ اور تھپ تھپ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جو ہم دونوں کے جسموں کے ٹکراؤ پر پیدا ہو رہی تھیں۔ اب اس نے ٹانگیں میری کمر کے گرد لپیٹ رکھی تھیں اور جب میں لن اندر دھکیلتا تو مجھے اپنی ٹانگوں سے اپنی جانب کھینچتی۔ مجھے لگ رہا تھا کے جیسے میرے سارے جسم سے مزے کی ایک لہر اٹھ کر میرے لن کی جانب سفر کر رہی ہے اور میں سمجھ گیا کہ میرا لاوا نکلنے لگا ہے۔ مہ وش کی بے ترتیب سانسیں اور جھٹکے کھاتا جسم بتا رہا تھا کہ وہ بھی منزل کے قریب ہے۔ اب میرے دھکے طوفانی رفتار سے جاری تھے۔ ایکدم اس نے ایک چیخ ماری اور ہاے کی آواز کے ساتھ اس کے جسم نے کانپنا اور جھٹکے کھانا شروع کر دیا اس نے بری طرح سے مجھے جکڑ لیا اور وہ جھڑنے لگی۔ اس کا گرم گرم پانی مجھے اپنے لن پر محسوس ہوا تو میرے بھی لن نے لاوا اگلنا شروع کر دیا۔ اور میں بیدم سا ہو کر اس کے اوپر ڈھے گیا۔ ہم دونوں کے سانس دھونکنی کی طرح چل رہے تھے اور دھڑکنیں انتہائی تیز چل رہی تھیں۔میرا لن تھا تو ابھی تک مہ وش کی چوت میں ہی مگر اس کی اکڑ تیزی سے ختم ہوتی جا رہی تھی اور میں نے اسے باہر نکال لیا۔ لن منی اور خون سےلتھڑا ہوا تھا۔ مہ وش کی پھدی بھی سرخ اور کچھ سوجی ہوئی لگ رہی تھی۔ خون دیکھ کر وہ گھبرا گیئ اور کہنے لگی یہ کیا کر دیا۔ میں نے اسے تسلی دی کہ پہلی بار ایسا ہر لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے اور فکر کی کوئی بات نہیں۔ اس نے کہا مجھے درد ہو رہا ہے اور ہلا بھی نہیں جا رہا تو میں نے اسے بانہوں میں اٹھا لیا اور واش روم میں لے گیا۔ نیم گرم پانی سے اس کی چوت کو دھویا تو اسے کچھ سکون محسوس ہوا۔ پھر ہم بیٹھ کر باتیں کرنے لگے اور اس نے کہا کہ تم نے میری جان ہی نکال دی تھی اتنا درد تو میری سوچ سے بھی باہر تھا۔ آرام سے نہیں کر سکتے تھے۔ میں نے کہا اب درد نہیں ہوا کرے گا اور مزے ہی مزے ہوں گے۔ اور اگر آرام سے کرتا تو زیادہ درد ہوتی اس لیے ایک دم گھسا دیا کہ ایک بار جو درد ہونی ہے ہو جائے۔ وہ بولی کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی لوہے کا ڈنڈا گھس گیا ہو اور مرچیں بھی لگ رہی تھیں مگر بعد میں مزا بھی بہت آیا۔ لیکن اگلی بار آرام سے کرنا۔ میں دل میں خوش ہوا کہ اگلی بار بھی کرنا چاہتی ہے اور میں نے کہا ہاں اگلی مرتبہ بالکل آرام سے کروں گا تمہیں ذرا بھی درد نہیں ہو گا۔ ویسے میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ ہم اس قدر قریب آ جائیں گے۔ مہ وش نے بڑے آرام سے کہا مگر میں نے تو ہزار بار سوچا تھا اور جب میں جمال اور مومنہ کی چدائی کی آوازیں سنتی تو میرے خیال میں تم مجھے چود رہے ہوتے تھے۔ میں نے کہا تو تم نے پہلے کیوں نا بتایا اور وہ ہنس کر کہنے لگی کہ خود سے کیسے کہتی۔پہل تو لڑکے ہی کرتے ہیں۔ میں نے تو جب سے ماسی ساجدہ اور چاچا نواز کو چدائی کرتے دیکھا تھا میرے اندر آگ لگ گئی تھی اور میرا دل کرتا تھا کہ کوئی مجھے بھی اس طرح کرے مگر تمہارے علاوہ کوئی اچھا ہی نہیں لگا کبھی۔ میں بولا اچھا مگر ان دونوں کو کہاں دیکھ لیا تم نے۔ تو مہ وش نے مجھے بتایا کہ رات کو ویسے تو ماسی اندر ماں جی کے ساتھ سوتی ہے مگر ہر تین چار دن میں چدوانے کے لیے آدھی رات کو سرونٹ کوارٹر میں چلی جاتی ہے۔ایک رات میں کوارٹر کے ساتھ بنے واش روم میں جانے لگی تو کھڑکی سے میں نے ان دونوں کو دیکھ لیا کیوں کہ پردہ ایک کونے سے ہٹا ہوا تھا اور ماسی نے چاچے کا لن منہ میں ڈال رکھا تھا۔ میں نے پھر ان کی پوری چدائی دیکھی تھی اور دو تین دفعہ اس کے بعد بھی جب ماسی نکلی تو میں پیچھے پیچھے جا کر دیکھ لیتی۔
 مہ وش کی باتیں سن کر میرا لن پھر سے کھڑا ہونے لگا تھا۔ میں اسے دوبارہ چودنا چاہتا تھا لیکن اس نے کہا کہ مجھے درد ہو رہا ہے۔ پہلے ہی تم نے میری پھدی اتنی سجا دی ہے ایک بار اور سے تو میں مر ہی جاؤں گی۔ کمال کچھ تو رحم کر میرے یار۔ میرا تو منہ بن گیا۔ مہ وش نے اپنی بانہیں میرے گرد لپیٹ دیں اور میرے ہونٹ چوسنے لگی۔ پھر اس نے میری گردن پر کس کی اور چومتے چومتےاس کے ہونٹوں نے نیچے کی جانب سفر شروع کر دیا۔ جب اس نے میرے سینے پر کس کرتے ہوئے میرے نپل کو منہ میں لے کر چوسا تو ایسا مزا آیا کہ بیان سے باہر ہے۔ اس وقت مجھے ایسا لگا جیسے میرا لن ابھی پانی چھوڑ دے گا۔ مگر کچھ دیر تک نپل چوسنے کے بعد وہ اور نیچے کس کرتی ہوئی میرے لن کی جڑ پر زبان پھیر رہی تھی۔ پھر مہ وش نے بلا جھجھک میرے ٹوپے پر زبان پھیری اور مزی کا قطرہ چاٹ لیا۔ پھر اس نے میرے لن کو اپنے ہونٹوں کے شکنجے میں کسنا شروع کیا اور منہ میں ڈال لیا اور اس پر زبان پھیرنےاور چوسنے لگی۔ میں اس وقت مزے کی انتہائی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ وہ اس قدر مہارت سے چوس رہی تھی کہ بے اختیار میں پوچھ بیٹھا مہ وش تم نے اس طرح چوسنا کہاں سے سیکھا تو وہ بولی کچھ تو چاچے نواز اور چاچی ساجدہ کی چدایئ دیکھ کر اور کچھ فلموں سے۔ میں تو حیرت سے بت بن گیا۔ کہ ایسی فلموں تک اس کی رسائی کیسے ممکن ہوئی کیونکہ اس وقت تک موبائل اتنا عام تو تھا نہیں اور نہ ہی مہ وش کو کمپیوٹر کا استعمال آتا تھا۔ خیر اس وقت میرا پانی نکلنے والا تھا تو میں نے اس کے سر کی دونوں جانب ہاتھ رکھ کر اس کے سر کو تیزی سے آگے پیچھے کرنے لگا۔ میرا لن اس کے حلق کی سیر کر رہا تھا اور وہ بھی چوسے جا رہی تھی۔ لن کا ٹوپا پھولنے لگا تو میں نے کہا میرا پانی نکلنے والا ہے مگر اس نے منہ سے نکالنے کی بجاے اور تیزی سے چوسنا شروع کر دیا اور میں اس کے منہ میں جھڑتا گیا جھڑتا گیا۔ اس قدر پانی تو میرا کبھی نہیں نکلا تھا اور اس کے منہ سے کافی سارا پانی باہر بھی آ گیا تھا جسے اس نے ٹشو سے صاف کر دیا اور بولی اتنا بھی مزے کا نہیں جتنا فلموں والی لڑکیاں پی کر دکھاتی ہیں۔ میں نے پوچھا تم نے کہاں دیکھی ایسی فلم۔ تو وہ بولی میں نہیں بتا سکتی۔ میں نے کہا نہیں مجھے تو بتانا پڑے گا اور اس نے پھر انکار کیا۔ میں نے کہا تجھے میری قسم بتا دو نا۔ میں کون سا کسی کو بول رہا ہوں۔ میرے بہت مجبور کرنے پر مہ وش نے کہا کہ مومنہ بھابھی کی الماری میں کپڑوں کے نیچے کچھ ڈی وی ڈی چھپا کر رکھی ہوئی تھیں تو ایک دن جب گھر پر کوئی نہیں تھا تو میں نے چلا کر دیکھ لیا تھا۔ میں مچل گیا اور اس کو بولا میں نہیں مانتا۔ اس نے کہا میں ابھی لا کر تمہیں دکھا دیتی ہوں۔ میں نے کہا اچھا جاؤ لے کر آؤ ذرا۔ وہ گیئ اور تین چار ڈی وی ڈی اٹھا کر کے آیی ۔ میں نے ایک پلے کی تو واقعی وہ ایک ٹرپل ایکس فلم تھی۔ فلم شروع ہوئی تو ایک بہت کمسن یعنی انیس بیس سال کی لڑکی ایک حبشی کا لن چوس رہی تھی۔ میں نے فلم بند کی اور دوسری چلا دی۔ یہ ایک بہت ہی گرم لزبین فلم تھی جس میں دو گوریاں ایک دوسرے کے ساتھ سیکس کر رہی تھیں۔اور مہ وش نے میرے سے پوچھا ہاۓ کمال یہ لڑکیاں آپس میں کیسے کر رہی ہیں تو میں نے اس کو سمجھایا کہ لزبین سیکس کیا بلا ہے۔ میں نے وہ فلمیں کمپیوٹر پر کاپی کر لیں اور اس کو کہا کہ جاؤ انہیں واپس رکھ آؤ۔ میں سوچ میں پڑ گیا تھا کہ بھابھی دیکھنے میں کتنی شریف اور معصوم لگتی ہے اور اندر سے ایسی ہے۔ پھر خیال آیا کہ جسمانی ضروریات تو سب کی ہوتی ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب پہلی بار میرے دل میں مومنہ کے بارے میں کوئی گندہ خیال آیا۔ اور میں نے سوچا کہ مومنہ کے ساتھ سیکس کا کیا مزا ہو گا۔ وہ ان فلموں کو دیکھ کر کیا کیا سیکھی ہو گی اور کس کس پوزیشن میں سیکس کرتی ہو گی۔ میرے ذہن میں ایک فلم سی چل رہی تھی جس میں میں مومنہ کو ہر طرح سے چود رہا تھا۔ یکدم مہ وش کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ وہ واپس آ گیئ تھی۔ مگر میں نے کہا کہ بھائی بھابھی اب آنے والے ہوں گے کیوں کہ صبح کے ساڑھے چار بج رہے ہیں اور تم تھوڑی دیر سو بھی لو۔ مجھے بھی ہلکی ہلکی نیند آ رہی ہے تو مہ وش سونے چلی گئی اور میں بھی مومنہ کے خیالوں میں کھویا نجانے کب سو گیا۔ اگلے دن اٹھا تو مومنہ کے بارے میں میرا نظریہ بدل چکا تھا اور اس کو چودنا میرا جنون بن چکا تھا مگر میں جانتا تھا کہ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ میں ابھی بستر پر ہی تھا کہ مہ وش ناشتہ کے لیے بلانے آ گیئ۔ میں نیچے گیا تو ماں جی اور بھابھی بیٹھے تھے۔ میں نے بھابھی سے پوچھا جمال بھائی کدھر ہے تو پتا چلا کہ وہ تو اپنی ایئر لائن کی فلائٹ کے ساتھ لندن جا چکا ہے اور ایک ہفتے تک نہیں آے گا۔ میں بھابھی کو اب کسی اور ہی نظر سے دیکھ رہا تھا۔ وہ تھی ہی اس قدر سیکسی کہ کوئی بھی ہوش کھو دے۔ گلاب رنگت ہلکے بھورے بال نیلگوں آنکھیں نازک نین نقش خوش نما ہونٹ گول مٹول پستان انتہائی پتلی کمر بھاری بھر کم کولہے۔ وہ سر سے پاؤں تک قیامت تھی۔ اور میں اسے چوری چوری دیکھ رہا تھا۔ مومنہ گھر میں بغیر دوپٹے کے ہی رہتی تھی اور نجانے کیوں مگر کپڑے ہمیشہ بہت فٹنگ والے اور تنگ پہنتی تھی اور اس کی اس عادت نے تو انے والے دنوں میں میرے بہت عیش کروائے۔ میں کافی دیر تک وہیں بیٹھا رہا اور مومنہ کے چست لباس میں کسے ہوئے ممے دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا رہا۔ کچھ بھی کہیں مگر ماننا پڑے گا کہ عورتوں کی چھٹی حس اس معاملے میں بہت تیز ہوتی ہے۔ اس کو کچھ ہی دیر بعد پتا چل چکا تھا کہ میں اس کو گھور رہا ہیں اور اس نے مجھ سے پوچھ لیا کیا بات ہے کمال آج بڑے چپ چاپ ہو۔میں نے کہا نہیں بھابھی بس ویسے ہی۔ وو بولی خیر کچھ تو ہے ورنہ تم اور اتنے خاموش۔ ایسا تو کبھی نہیں دیکھا۔ لیکن چلو کر لیں گے پتا کہ تمیں کیا ہوا ہے۔ اب میں اسے کیا بتاتا کہ مسئلہ کیا ہے سو ٹال گیا۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہوئے گزری اور میں وہاں سے اٹھ آیا۔ دن تو یونہی گزر گیا۔ رات ہوئی تو میں اپنے کمرے میں مہ وش کا انتظار کرنے لگا مگر وہ بھابھی کے کمرے میں گھسی ہوئی تھی۔ میں کافی دیر تک انتظار کرتا رہا اور پھر میری آنکھ لگ گیئ۔ مجھے خواب میں ایسا لگا جیسے میں مہ وش کے ساتھ ہوں اور وہ میرے لن کو منہ میں لے کر خوب چوس رہی ہے۔ خواب اس قدر حقیقت سے قریب تھا کہ میری آنکھ کھل گیئ۔ اور میں نے دیکھا کہ در حقیقت میرا لن مہ وش کے منہ میں تھا اور وہ کسی قلفی کی طرح چوس رہی تھی۔ میں مزے کے ساتویں آسمان پر تھا۔ پھر اس نے اپنے کپڑے اتارے اور میری نیکر کھینچ کر نیچے کر دی۔پھر وہ اوپر ہوئی اور اپنی چوت میرے کھڑے لن پر سیٹ کر کے بیٹھ گیئ۔ اس کی چوت حد سے زیادہ گیلی تھی اور لن پھنستا پھنستا اندر داخل ہونے لگا لیکن اس نے آدھا ہی اندر لیا تھا۔ اور پھر اس نے کسی ماہر سوار کی طرح سے میرے گھوڑے پر سواری شروع کر دی۔ اس نے اپنے دونوں گھٹنے موڑ کر میری رانوں کی سائیڈ پر رکھے تھے اور آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہو رہی تھی۔ مجھے اس پوزیشن میں کمال کا سرور آ رہا تھا۔ میں بھی اس کے چوتڑوں کو پکڑ کر نیچے سے جھٹکے دے رہا تھا اور جب لن اس کی انتہائی تنگ پھدی کی دیواروں سے رگڑ کھاتا ہوا اندر باہر ہوتا تو میری نس نس کو مزے سے سرشار کر جاتا۔ اس کی پھدی سے پانی کسی آبشار کی طرح بہ بہ کر میرے ٹٹوں اور رانوں کو بھگو رہا تھا اور مہ وش بھی بڑے جوش و ولولے سے لن کی سواری کر رہی تھی۔ یقیناً اس کو بھی مزا آ رہا تھا۔وہ بھی اب اپنی گانڈ کو ہلا ہلا کر اُچھل رہی تھی۔ اُس کے منہ سے نکلنے والی آہہہہ اووو ھمممم ممممممم کی آوازیں پتہ دے رہیں تھیں کے وہ اب پوری طرح سے مزے کی وادی میں اُتر چُکی ہے۔ میں نے بھی جھٹکے دینے کی رفتار تیز کر دی۔ مہ وش بےخود ہو رہی تھی اُس نے مجھے چُومنا چاٹنا شروع کر دیا۔ اُس کے اس عمل نے مزہ دوگنا کر دیا۔ میں بھی پورے جوش سے جھٹکے دے رہا تھا۔ اچانک مجھے اُس کے جسم میں کُچھ تناؤ لگا میں نے اُس کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہ سانس روکے آنکھیں بند کیئے ہوئے تھی۔ پھر اُس نے آہستہ آہستہ سانس چھوڑنا شروع کی اور اس کا تنا ہوا بدن بھی ڈھیلا پڑنے لگا۔ وہ چُھوٹ رہی تھی اُس کی پھُدی سے نکلنے والا سیلاب مجھے بری طرح بھگو گیا۔ میرا لن اُس کی پھُدی کے پانی سے پورا تر تھا۔ اور میں اب پُوری رفتار سے لن کو اندر باہر جھٹکے دے رہا تھا۔ مہ وش کے منہ سے نکلنے والی اُممممم ممممم آہہہہہ اووووو کی آوازیں بدستور جاری تھیں۔ اس کی پھُدی سے نکلنے والا پانی رگڑ کھا کھا کر پگھلی آئس کریم کی طرح گاڑھا ہو گیا تھا۔ میرے جھٹکے اپنی پوری رفتار سے جاری تھے مہ وش بھی میرا ساتھ دے رہی تھی۔ کُچھ دیر بعد مجھے لگا کہ میرا لن بھی پانی چھوڑ دے گا۔ میں نے جھٹکے روک دیے۔ کیونکہ میں ابھی اور مزا چاہتا تھا۔ تھوڑی دیر رک کر میں دوبارہ شروع ہو گیا۔ مہ وش کی آوازیں مجھے جوش دے رہی تھیں اور وہ میرے لن کے ہر ہر جھٹکے پر اپنی پھُدی سے واپس جھٹکے دے رہی تھی۔ مجھے لگا کے وہ دوبارہ سے چھُوٹنے والی ہے تو میں نے بھی اُس کے ساتھ چُھوٹنے کا فیصلہ کیا۔ میں پوری قوت سے تیز تیز جھٹکے دینے لگا- مہ وش کی آوازیں عجیب غیر انسانی سی محسوس ہو رہی تھیں۔ میں مسلسل اُس کے مموں پر ہاتھ پھیرے جا رہا تھا۔ مہ وش نے بھرپور رفتار سے لن کے اوپر تیز تیز اُچھلناکر دیا۔ اس کی تنگ پھدی بری طرح میرے لن کو بھینچ رہی تھی۔ مجھے لگا کہ وہ دوبارہ چھُوٹنے لگی ہے۔ میں نے بھی جھٹکے لگانے کی رفتار تیز کر دی۔میرے لن کی رگیں پھولنےلگی تھیں۔میرا پانی بس نکلنے والا تھا۔ اچانک مہ وش میرے سینے پر گر سی گئی ۔ اس کا جسم بری طرح کانپ رہا تھا۔ اس کی سانسیں دھونکنی کی طرح چل رہی تھیں۔ اس کی پھدی میرے لن سے شکست کھا کر رونے لگی تھی اور اس کی چوت نے گرم پانی کا دریا بہا دیا۔ وہ دوبارہ فارغ ہو چُکی تھی۔ اس کا پانی سے شرابور ہو کر میرے لن نے یکدم اس طرح اپنا پانی خارج کیا کہ جیسے کوئی آتش فشاں پھٹ پڑا ہواور میری آنکھوں کے آگے کچھ سیکنڈ کے لیے اندھیرا چھا گیا۔ اور مجھے ایسا لگا کہ جیسے میرے سارے جسم میں سکون کی لہر دوڑ گئی ہو۔
 مہ وش نے جو میرے اوپر لیٹی تیز تیز سانس لے رہی تھی کچھ دیر بعد اپنا سر اٹھایا اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے پیوست کر دیے اور میرے نیچے والے ہونٹ کو چوسنے لگی۔ میں بھی اس کا ساتھ دینے لگا۔ کچھ دیر کے بعد میں نے اپنی زبان اس کے منہ میں ڈال دی اور گھمانے لگا تو مہ وش نے اپنی زبان کو میری زبان سے رگڑنا شروع کر دیا۔ مزے کی انتہا نے مجھے بے حال کر دیا۔ میرا لن جو ابھی تک مہ وش کی چوت میں سکڑ کر پڑا تھا اس نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ حالانکہ کچھ دیر پہلے ہی میں اپنا لاوا نکال چکا تھا لیکن مہ وش نے اس طرح اپنی کسنگ سے مجھے مست کیا کہ لن مہاراج نے پھر سے اکڑنا شروع کر دیا۔ ہماری کسنگ میں اور بھی شدت آتی جا رہی تھی۔ چدایئ کے بعد عام طور پر مجھے دوبارہ دس پندرہ منٹ لگ جاتے ہیں کھڑا کرنے میں لیکن اس وقت تو لن ایسے کھڑا ہو گیا تھا جیسے لوہے کا ہو۔ میرا لن اب پورے جوبن پر آ چکا تھا اور اس کی پھدی کی اندرونی دیواروں کو ادھر ادھر دھکیل کر اپنی جگہ بنا چکا تھا۔ میں نے مہ وش کو اپنی بانہوں کے حلقے میں کس کر پکڑ لیا اور اس کو گھما کر اپنے نیچے کر دیا۔ اور اس طرح گھمایا کہ لن باہر نکل نہ سکے۔ اب وہ میرے نیچے تھی اور میں اس کے اوپر۔ مگر اینگل مزے کا نہ لگا تو میں نے لن باہر نکال کر ایک تکیہ اس کے نیچے رکھ دیا اور اس کی چوت اوپر کو ابھر آیی۔ میں نے لن اس کی گیلی پھدی کے اوپر رکھ کر رگڑنا شروع کیا تو مہ وش بولی نا تڑپا کمال اندر ڈال دے۔ میں نے ٹوپا اس کی چوت کے لبوں کے درمیان سیٹ کر کے ایک زوردار جھٹکا لگایا اور میرا آدھے سے زیادہ لن اس کی پھدی کے اندر داخل ہو گیا۔ اس کے منہ سے بےاختیار ایک چیخ نکل گیئ۔ میں نے ایک اور جھٹکا لگایا اور جڑ تک لن اس کی چوت کے اندر ڈال دیا۔ اس کے منہ سے ایک اور چیخ نکل گیئ مگر میں نے آہستہ آہستہ لن آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا۔ اس کی انتہائی چکنی اور تنگ چوت اس طرح تپ رہی تھی جیسے کوئی تندور ہو۔ میں نے اپنی سپیڈ بہت دھیمی رکھی تھی کیونکہ میں چدایی کا پورا مزا لینا چاہتا تھا۔ مہ وش نے اپنی ٹانگیں میری کمر کے گرد لپیٹ لیں اور میرے ہر دھکے پر اپنی ٹانگوں سے مجھے اپنی طرف کھینچتی اور ساتھ ہی ساتھ نیچے سے اپنی گانڈ اٹھا کر میرا ساتھ دیتی۔ اس کے منہ سے ہر دھکے کے ساتھ ایک سسکی نکل جاتی۔اس کی چوت مزید گیلی ہوتی جا رہی تھی اور وہ چاہتی تھی کہ میں تیز رفتار سے اس کو چودوں مگر میں بدستور آہستہ آہستہ چدایی جاری رکھے ہوئے تھا۔مہ وش مزے سے چور تھی اور کمرے میں اس کی کراہیں اور سسکیاں گونج رہی تھیں۔ آہ آہ آہم۔ ہاے ہاے۔ کمال تیز تیز کر۔چود مجھے۔ ہاے پھاڑ دے میری۔ آہ آہ ہاں۔ اویی کمال۔ ہاں میں گیئ اور اس نے مجھے زور سے جکڑ لیا۔ اس کا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا اور ایک ہلکی سی کراہ کے ساتھ وہ فارغ ہو گیئ۔ مگر میں ابھی منزل سے کافی دور تھا۔ میں دھیرے دھیرے دھکے لگا رہا تھا۔ مہ وش اب فارغ ہو کر ساکت پڑی تھی۔ اس کی چوت پانی چھوڑ کر بہت گیلی ہو رہی تھی اور میرا لن اس کی چوت کی دیواروں سے رگڑ کھاتا آگے پیچھے ہو رہا تھا۔ دھیرے دھیرے میری رفتار بڑھتی جا رہی تھی۔ کچھ دیر بعد مہ وش کی پھدی مجھے سوکھتی ہوئی محسوس ہوئی تو میں نے لن باہر نکال کر تھوک سے تر کیا اور پھر سے اندر داخل کر کے دھکے لگانے لگا۔مہ وش نے بھی اب میرے ہر جھٹکے کا جواب گانڈ اٹھا اٹھا کر دینا شروع کر دیا۔ اور جب ہمارے بدن ٹکراتے تو تھپ کی آواز آتی اور مہ وش کے منہ سے عجب سی آوازیں نکل رہی تھیں۔ میرے جھٹکے اب طوفانی ہو چکے تھے۔ مہ وش کی آوازیں مجھے اور جوش دلا رہی تھیں اور میں کسی مشین کی طرح کمر کو حرکت دے رہا تھا۔ مہ وش کی چوت ایک لیس دار رطوبت خارج کر رہی تھی جو کہ ایک قدرتی نظام ہے ورنہ ہر چدایی پر لن اور پھدی دونوں چھل جایا کرتے۔ بہرحال اس چکناہٹ سے لن آسانی سے آگے پیچھے حرکت کر رہا تھا اور مہ وش کی تیز ہوتی سانسوں سے لگ رہا تھا کہ وہ دوسری بار منزل ہونے والی ہے۔ میں بھی اس کے ساتھ ہی پانی چھوڑنا چاہتا تھا کیونکہ سیکس کا اصل مزا یہی ہے کہ دونوں فریق ایک ساتھ فارغ ہوں۔ یکدم اس کا بدن اکڑنے لگا اور اس نے میری کمر کے گرد بازو کس لیے۔ اس کا بدن ہولے ہولے لرز رہا تھا اور اس کے منہ سے نکلا ہاے کمال اور اس کی چوت میں سیلاب آ گیا۔ میں آگے کو ہوا اور اس کے سیکسی ہونٹ چوس لیے اور میرے لن سے ایک جھٹکے کے ساتھ منی نکلنا شروع ہو گئی۔ ہم دونوں اس قدر بےحال ہو چکے تھے کہ ایک دوسرے کی بانہوں میں ہی سو گیے۔ صبح ساڑھے چھ بجے ایک آواز سے میری آنکھ کھلی جو کہ مومنہ بھابھی کی تھی اور وہ مہ وش کو پکار رہی تھی۔ میری تو بنڈ ہی پھٹ گئی تھی اور میں نے مہ وش کو اٹھایا۔ہم دونوں نے جلدی جلدی کپڑے پہنے اور میں نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر دیکھا تو بھابھی مہ وش کو آواز دیتے ہوئے سیڑھیاں اتر رہی تھی۔ میں نے مہ وش کو باہر نکالا اور وہ مومنہ بھابھی کے کمرے میں چلی گئی۔ادھر میں سوچنے لگا کہ کہیں مومنہ کو میرے اور مہ وش کے بارے میں پتا نہ چل جائے۔ مومنہ کو جب مہ وش نیچے نہ ملی تو وہ اوپر آ گیئ اور یہ دیکھ کر دنگ رہ گیئ کہ مہ وش اس کے کمرے میں موجود ہے۔ مہ وش اس کے بیڈ کے نیچے اس طرح لیٹی تھی کہ اس کا آدھا دھڑ بیڈ کے نیچے تھا اور آدھا باہر۔ اس نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وہ اسی کمرے میں ایک سائیڈ پر سوئی ہوئی تھی لیکن مومنہ کو شک پڑ چکا تھا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ اب وہ کوئی دودھ پیتی بچی تو تھی نہیں مگر اس وقت وہ مصلحتاً خاموش ہو گیئ لیکن اس نے مہ وش پر نظر رکھنے کی ٹھان لی۔پھر سارے دن میں مہ وش کا میرے آگے پیچھے پھرنا من ہی من میں مسکرانا اور میرا کوئی کام کرتے ہوئے اس کی خوشی مومنہ کو بہت کچھ جتا گیئ۔ اس رات جب مہ وش میرے کمرے میں آیی تو نہ وہ جانتی تھی نہ میں کہ مومنہ جاگ رہی ہے اور مہ وش کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

Posted on: 02:01:AM 14-Dec-2020


1 0 346 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 2 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 72 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com