Stories


ڈکیٹ۔ریپ سیکس

ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺧﺒﺮﯾﮟ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﺑﺴﺘﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮒ ﺟﺎﺋﮯ، ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺳﮯ ﻧﺎﻃﮧ ﺗﻮﮌ ﻟﮯ، ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺷﺤﺎﻝ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﮮ۔ ﻧﻮ ﻋﻤﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﭼﻠﻮ ﮐﻢ ﻋﻘﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺳﻤﺠﮭﯽ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﮬﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺷﺎﺩﯼ ﺷُﺪﮦ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺟﻮ ﺗﯿﻦ ﭼﺎﺭ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﯾﮧ ﭘﮍﮪ ﮐﮯ ﯾﺎ ﺳُﻦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﺮﺍﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺑﮩﺖ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮕﺘﺎ۔ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺗﻮ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﻨﮕﯿﻦ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﺮﺩ ﺳﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯾﺘﯽ۔ ﺍﯾﺴﯽ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺟﯿﺴﯽ ﻣﻠﺘﯽ ﺟُﻠﺘﯽ ﺧﺒﺮﯾﮟ ﺁﺋﮯ ﺩﻥ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﺧﺒﺎﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺯﯾﻨﺖ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺧﺒﺮﯾﮟ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﻥ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﻌﻦ ﻃﻌﻦ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺑُﺮﮮ ﺑُﺮﮮ ﺍﻟﻘﺎﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺗﯽ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﻗﺎﺑﻞِ ﻧﻔﺮﺕ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ 26 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً 5 ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻮ ﭼُﮑﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮈﯾﮍﮪ ﺳﺎﻝ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﮐُﻞ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﺍﭼﮭﯽ ﺟﺎﺏ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﯿﻨﮉﺳﻢ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺳﺎﺱ ﺳُﺴﺮ ﻧﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻮﺭ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐُﻞ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮨﯿﮟ ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﮭﮕﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮍﯼ ﺳﮩﻞ ﺍﻭﺭ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮔُﺬﺭ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﮨﺮ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﮑﻤﻞ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﻠﺐ ﮐﮯ ﻣُﻄﺎﺑﻖ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﻣِﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺐ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺮﺕ ﻣﮩﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔُﺬﺍﺭﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺟﻮ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﻭﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮯ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﯽ ﻧﮧ ﻃﻠﺐ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺎ ﺳﻮﭼﺎ ﺗﮭﺎ۔ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩُﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﻟﮍﮐﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﺮﺗﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﻮﺍ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺩﮬﺎﺭﺍ ﮨﯽ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ۔ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻮﭺ ﮐﻮ ﺑﺪﻻ ﺑﻠﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺩﻭﮨﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺟﯽ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﺱ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﺧُﻔﯿﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺯ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺭﺍﺯ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﮞ۔ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﺭﻭﺯ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺗﮭﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻨﺪ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﺌﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺳﺎﺱ ﺳُﺴﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﯾﻮﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﮈﯾﮍﮪ ﺑﺠﮯ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻭﻗﺖ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﺎﺯﻭ ﺳﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍُﭨﮭﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﻓﺘﺎﺩ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﯿﺦ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ۔ ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﺟﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺑﻠﻨﺪ ﮐﯽ ﺗﻮ , ﯾﮩﯿﮟ ﮈﮬﯿﺮ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ , ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺠﺎﻧﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﻥ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺑﻨﺪﻭﻕ ﮐﯽ ﻧﺎﻝ ﻣﯿﺮﯼ ﮔﺮﺩﻥ ﺳﮯ ﺁ ﻟﮕﯽ۔ ﺍﯾﮑﺪﻡ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻭﺳﺎﻥ ﺧﻄﺎ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﻟﺮﺯ ﺍُﭨﮭﯽ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻭﺍﺯ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﻠﻖ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﭨﮏ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﻭﻗﺖ ﺑﻮﻝ ﻧﮧ ﭘﺎﺗﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﺳﭻ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻧﭗ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﭼﻠﻮ ﺍُﭨﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﻮ۔ ﻭﮨﯽ ﻏﺼﯿﻠﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﭘﮭﺮ ﺳُﻨﺎﺋﯽ ﺩﯼ۔ ﻣﯿﮟ ﮐُﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﻧﮑﻠﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍُﭨﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺳُﺴﺘﯽ ﮐﯽ ﺗﻮ ﻭﮨﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﻧﺠﯽ " ﺍُﭨﮭﺘﯽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﮔﮭﻮﮌﺍ ( ﭨﺮﯾﮕﺮ ) ﮐﮭﯿﻨﭽﻮﮞ،؟ ﺍﺗﻨﺎ ﻓﺎﻟﺘﻮ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ۔ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﻏﺼﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻑ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺑﮩﺖ ﺑُﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﮐﺎﻧﭗ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮈﺭﺍﺋﻨﮓ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﺱ ﺳُﺴﺮ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻮﺭ ﮐﻮ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﻻ ﭼُﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﮐُﻞ ﭼﺎﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﻨﺪﻭﻗﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﯾﺎ۔ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﯾﺮﻏﻤﺎﻝ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﺮﺍ ﮈﯾﮍﮪ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺑﯿﮉ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﯿﻼ ﺳﻮﯾﺎ ﭘﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﮐﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐُﭽﮫ ﻣﺪﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻥ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﻧﻘﺎﺏ ﺗﮭﮯ۔ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﺗﻮ ﺳﻮﺍﻝ ﮨﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﺳﮩﻤﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﺗﮭﮯ ﮐﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﮨﯽ ﻣﺎﺅﻑ ﮨﻮ ﭼُﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻥ ﭼُﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﮨﻢ ﻟُﭩﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮯ ﮨﻢ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻟُﭩﺘﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﻮ ﺍُﻥ ﮐﺎ ﻟﯿﮉﺭ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺳُﺴﺮ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﺯﯾﻮﺭ ﭘﯿﺴﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺍﺷﯿﺎﺀ ﮐﮩﺎﮞ ﭘﮍﯼ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺩﮬﻤﮑﺎ ﺑﮭﯽ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﻮﺷﯿﺎﺭﯼ ﺩﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻓﺎﺋﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺩﯾﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮨﯽ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ ﺟﻮ ﮐﮯ ﺷﺎﺋﯿﺪ ﻧﯿﻨﺪ ﺳﮯ ﺑﯿﺪﺍﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺍُﺳﮯ ﺗﮭﭙﮏ ﮐﺮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﮯ ﺳُﻼ ﺩﯾﺘﯽ، ﺟﺐ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻭﮨﯽ ﻟﯿﮉﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﮔﮭﻮﻣﺎ , ﺗﯿﺮﺍ ﺑﭽﮧ ﮨﮯ؟ ﭼﻞ .. ﭼﻞ ﺍُﭨﮫ ﺍﺳﮯ ﭼُﭗ ﮐﺮﺍ ﻭﺭﻧﮧ ﮨﻢ ﭼُﭗ ﮐﺮﺍ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﺍُﺳﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺟﮭﺮﺟﮭﺮﯼ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﯾﻮﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﭘﺮ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﺱ ﺳُﺴﺮ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻮﺭ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﺎﻧﮩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﻻ ﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺑﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ۔ " ﺍﺳﮯ ﭼُﭗ ﮐﺮﺍ ﻭﺭﻧﮧ " ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﮭﺮ ﻏُﺼﮯ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ۔ " ﺍﺳﮯ ﺑﮭﻮﮎ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ " ﻣﯿﮟ ﺳﮩﻤﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ " ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻼ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪﯼ ﺳُﻼ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺳُﻼ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﺍﺳﮯ " ﻭﮦ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮬﻤﮑﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﻤﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ " ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻭﺩﮪ ﻧﯿﭽﮯ ﻓﺮﯾﺞ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ " ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻭﺍﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ " ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ " ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮈﺍﮐﻮ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻏُﺼﮯ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻢ ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﮭﺎﺗﯽ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻼﺅ۔ ﮐﭽﮫ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﮈﺍﮐﻮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﮭﺎﺗﯽ ﻧﻨﮕﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﺻﺎﻑ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺭﻭﻧﺎ ﺑﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺭ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻼﺅﮞ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﻤﯿﺾ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﻣﻤﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﭼُﻮﺳﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﻮﺭ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﮈﺍﮐﻮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﻡ ﺳﮯ ﮈﻭﺏ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺰﯾﺰ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﻧﯿﭽﯽ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻼﺗﯽ ﺭﮨﯽ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﻤﯿﺾ ﮨﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﻮﺭﮮ ﭘﯿﭧ ﮐﯽ ﺟﮭﻠﮏ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻤّﺎ ﺍﺱ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮈﺍﮐﻮ ﮐﻮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﻭﮨﯿﮟ ﭨﮑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺷﺮﻡ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ اچانک مجھے لگا جیسے وہ میرے قریب کھڑا ہے میں نے سر اٹھایا تو وہ واقعی میرے ساتھ کھڑا تھا۔اگرچہ وہ نقاب پہنے تھا لیکن اس کی ننگی آنکھوں سے مجھے واضح ہوس ٹپکتی نظر آئی۔ اس سے پہلے کے میری چیخ نکلتی اس کا ہاتھ میرے منہ پر تھا۔ "اگر اپنے بیٹے کی زندگی چاہتی ہو تو جیسے میں کہوں کرتی رہو اور ذرا بھی آواز نکلی تو سمجھ لو تمہارے بیٹے کی آواز ہمیشہ کیلئے بند کر دوں گا۔" اس کا منہ میرے کان کے قریب تھا۔ لفظوں کی ادائیگی کے ساتھ مجھے اس کی گرم سانسیں بھی اپنی گردن پر محسوس ہوئیں۔ ایک لمحے میں ہزاروں خیالات میرے دماغ میں ابھرے لیکن ہر سوچ دم توڑ گئی کیونکہ میرے بیٹے کی زندگی میرے عمل سے وابستہ تھی اور اس کی زندگی میرے لیئے ہر چیز سے اہم تھی۔ میں نے خود کو حالات کے حوالے کر دیا۔ اس نے میرے بیٹے کو میرے ہاتھوں سے لے کر بیڈ کے قریب پڑے جھولے میں ڈال دیا۔ میں بُت بنی بیٹھی تھی کہ مجھے اس کا ہاتھ اپنے پیٹ پر محسوس ہوا، میں ایکدم سے سمٹ گئی۔ خوف سے میرا بدن لرز رہا تھا۔ اور آنکھوں سے آنسووں کا سیلاب اُمڈ آیا۔ میں چیخنا چاہتی تھی۔ اپنی مدد کیلئے زور زور سے پُکارنا چاہتی تھی لیکن میرے بیٹے کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے تھا۔ جو مجھے کوئی بھی ایسا قدم اُٹھانے سے باز رکھ رہا تھا۔ میں نے دونوں گھُٹنے سکیڑ کر اپنی چھاتی سے لگا لیئے۔ مجھے اس ڈاکو کا یوں میرے پیٹ پر ہاتھ لگانا بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔ بلکہ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں اُس کو اس حرکت پر اتنے تھپڑ مارتی کے وہ دوبارہ سے کبھی یوں کسی کو ہاتھ لگانے کی ہمت نہ کرتا۔ لیکن اس نے میرے بیٹے کی زندگی کی دھمکی دے کر مجھے بےبس کر دیا تھا۔ "مجھے تُمہارا تعاون درکار ہے، کیونکہ میں ارادہ کر چکا ہوں اور اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، چاہے مجھے زبردستی کیوں نہ کرنی پڑے، اور زبردستی کے دوران کچھ بھی ہو سکتا ہے کوئی بھی جان سے جا سکتا ہے تُم یا تُمہارا بیٹا۔" وہ تنبیہہ کرنے کے انداز سے بات کر رہا تھا۔ میں نے کانپتے ہوئے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے اور اُسے اس کے ارادوں سے باز رکھنے کی آخری کوشش کی لیکن اُس کی حالت جنون کی سی ہو گئی تھی وہ مجھے مسلنے لگا اس کا ہاتھ میرے جسم پر پھسل رہا تھا اور میں سمٹ رہی تھی۔ وہ میرے پیٹ اور میرے مموں کو اپنے ہاتھ سے مسل رہا تھا۔ میں بچاؤ کے لیئے ہاتھ پاؤں تو مار رہی تھی لیکن منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ شائید اس ڈر سے کے اگر میری آواز نکل گئی تو وہ کہیں بھڑک کر میرے بیٹے کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔ وہ مسلسل میرے جسم کو نوچ رہا تھا۔ آخر میری مزاحمت دم توڑ گئی۔ مجھے ڈھیلا پڑتا دیکھ کر اس نے بندوق ایک طرف رکھی اور دونوں ہاتھ میرے مموں پر رکھ دیئے۔ وہ کسی وحشی درندے کی طرح میرے اوپر چڑھ آیا۔ میں مکمل اس کے رحم و کرم پر تھی۔ اس نے دونوں ہاتھ میری قمیض کے اندر ڈال دیئے اور اپنی انگلیوں سے میری نپلز کو چھیڑنے لگا۔ کسی بھی لڑکی اور عورت کو اگر سب سے زیادہ کسی چیز کا خوف ہوتا ہے تو وہ اس کی عزت جانے کا۔ اس کے بچاؤ کیلئے کوئی بھی لڑکی یا عورت اپنی جان تک گنوا سکتی ہے اور ایسا ہوتا بھی ہے۔ لیکن اگر یقین ہو جائے کے وہ کسی صورت اپنی عزت نہیں بچا پائے گی تو اس کا خوف ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر لڑکی یا عورت ماں ہو تو اس کیلئے اولاد ہی سب کچھ ہوتی ہے۔ اور ایسے بہت سے قصے آپ نے بھی سُنے ہونگے جب کسی لڑکی یا عورت نے اولاد کیلئے اپنی عزت تک گنوا دی ہو۔ میں بھی اگر عام لڑکی ہوتی تو شائید مر جاتی لیکن کسی ڈاکو کے ہاتھوں یوں عزت نہ گنواتی لیکن میں ایک ماں تھی اور اس ڈاکو نے مجھے میرے بیٹے کی زندگی کی مجھے دھمکی دی تھی۔ یہی وجہ تھی کے وہ میرے جسم کو بھنبھوڑ لینا چاہتا تھا اور میں اسے روک نہیں پا رہی تھی۔ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اب بچاؤ ناممکن ہے اور یہی وجہ تھی کے مجھے خوف بھی نہیں رہا تھا۔خوف تب تک ہی رہتا ہے جب تک بچاؤ کی کوئی صورت نظر آتی رہے لیکن مجھے کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ ان لمحوں میں جب میں خوف کی حدود سے نکل رہی تھی ایک مرد میرے بدن سے لذت لے رہا تھا۔ یعنی خوف کا اختتام لذت کی شروعات پر تھا۔ اور میں بھی اس ڈکیت کے ساتھ لذت کے اس گہرے سمندر میں غرق ہونے لگی۔ اس کا میری نپلز کو مسلنا مجھے میٹھے درد کے ساتھ لذت بھی دے رہا تھا۔ میرے گول مٹول خوبصورت ممّے تن گئے۔نپلز اکڑ کر سخت ہو گئے۔بدن میں جیسے سرور چھانے لگا۔ مجھ پر مستی چھانے لگی تھی جس کا اظہار میں نے اس ڈاکو کی کمر پر ہاتھ پھیر کر کیا۔ میرے ہاتھ بھی اب اس کی کمر پر گردش کر رہے تھے۔وہ مجھے پر جھکا ہوا تھا اس طرح کا ردِعمل دیکھ کر وہ پورا میرے اوپر لیٹ گیا جس سے اس کا لن میری رانوں کے درمیان رگڑ کھانے لگا۔ میری عجیب حالت ہو رہی تھی۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا ساتھ دینے لگی۔ میں اس کے لن کو محسوس کرنے کیلئے اپنی گانڈ ہلا رہی تھی۔ جس سے اس کا لن میری رانوں کے درمیان رگڑ کھا رہا تھا۔ میں نے ہاتھ اس کے نقاب پر ڈال کر اس کا نقاب اتارنا چاہا تو اس نے فوراً میرے ہاتھ کو پکڑ لیا اور میرا بازو موڑ کر میرے ہاتھ کو میرے سر تک لے گیا پھر اس نے دوسرے ہاتھ کو بھی ویسے ہی موڑ کر میرے سر کے پیچھے کر دیا۔ اور میرے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑ لیئے۔ وہ نقاب پہنے ہوئے ہی میرے مموں پر کاٹ رہا تھا۔ اس کے یوں کاٹنے سے مجھے درد تو ہو رہی تھی لیکن جو لذت مل رہی تھی اس کو بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس کا جنون میرے لیئے نیا تھا۔ میرے شوہر سیکس کے دوران کبھی ایسی جنونی کیفیت میں نہیں گئے تھے۔ ان کی میرے بدن سے چھیڑ چھاڑ بڑی شائستہ ہوتی تھی۔ وہ ٹھہر ٹھہر کر اور بڑے سنبھل سنبھل کر ہاتھ لگاتے تھے۔اُن کا کسنگ کرنے کا انداز بھی بڑا سوفٹ تھا۔ وہ سیکس کے دوران مجھ سے ایسے برتاؤ کرتے جیسے میں کانچ کی بنی ہوں اور اُن کی بے احتیاطی سے کہیں ٹوٹ نہ جاؤں۔ لیکن اس ڈاکو کا انداز بالکل بے رحمانہ تھا۔ اس کے ہاتھ بےدردی سے مجھے مسل رہی تھے۔ وہ اب میرے گالوں اور ہونٹوں پر کاٹ رہا تھا۔لیکن یہ کاٹنا کسی حد تک پیٹ اور ممّوں پر کاٹنے کی نسبت تھوڑا سوفٹ تھا۔ میں اس کے ہونٹوں کا لمس اپنے ہونٹوں پر محسوس کرنا چاہتی تھی لیکن اس کا نقاب ایسا نہیں ہونے دے رہا تھا۔ مجھے نقاب سے اُلجھن ہونے لگی تو میں نے اسے کہہ دیا کہ مجھے اس کے نقاب سے الجھن ہو رہی ہے۔ اسے لگا شائید میں اس کا نقاب اُتروا کر صرف اس کا چہرہ دیکھنا چاہتی ہوں تو اُس نے نقاب اُتارنے سے انکار کر دیا۔ لیکن میرے چہرے پر بیچینی اور الجھن کے تاثرات دیکھ کر اس نے نقاب اُتار پھینکا۔وہ ایک مضبوط جسم کا مالک تھا اور چہرے مہرے سے بھی ایک خوبرو جوان تھا ۔نقاب اُتارتے ہی وہ مجھے بڑی بے رحمی سے چومنے چاٹنے لگا۔ اُسے بھی شائید نقاب میں مزہ نہیں آ رہا تھا۔ اسی لیئے اُس نے نقاب اُتار پھینکا تھا۔ اُس کے ہونٹ میرے ہونٹوں سے لگتے ہی جیسے دھماکہ ہوا اور آگ جیسے بھڑک اُٹھی۔اس کے دونوں ہاتھ میرے ممّوں کا مساج کر رہے تھے جبکہ میرے ہونٹوں کو چُوس رہا تھا۔ اس کا بے رحم انداز اور جارحیت مجھ پر نشہ طاری کر رہے تھے۔ وہ جب بھی دانتوں سے میرے ہونٹوں پر کاٹتا یا پھر میری نپلز کو مسلتا مجھے ایک میٹھا سا درد محسوس ہوتا جس پر میں سسک جاتی۔ اور میرا سسکنا شائید اسے بھی لذت دے رہا تھا کیونکہ میری ہر سسکی اسکا جوش بڑھا دیتی اور وہ مزید جارحانہ انداز سے مجھے مسلنے لگتا اس کے بوسوں کی رفتار اور تیز ہو جاتی۔ اس کا آہستگی سے میرے ہونٹوں کو کاٹنا مجھے بھی بہت اچھا لگ رہا تھا۔ وہ اب ایسے ہی میرے ممّوں اور پیٹ پر بھی کاٹ رہا تھا۔ پھر اس نے میری شلوار کھول دی اور اس کے ہاتھ نے جیسے ہی میری چوت کو ٹچ کیا تو جیسے میرے پورے بدن کو آگ لگ گئی میں جو پہلے سے ہی اس کا ساتھ دے رہی تھی اور گرمجوشی کیساتھ اس سے لپٹنے لگی۔ میں بھی اس کو چوم رہی تھی۔ میں نے زور سے اسے بازؤوں میں اسطرح بھر لیا جیسے مجھے ڈر ہو کے وہ مجھے اس حالت میں چھوڑ کر بھاگنے والا ہے۔ اس نے میری شلوار کھینچ کر مکمل اُتار دی اور خود کی بھی اس کا سخت اکڑا ہوا لن میری آنکھوں کے سامنے تھا وہ لمبائی میں میرے شوہر کے لن سے کوئی زیادہ بڑا نہیں تھا لیکن موٹائی میں وہ یقیناً زیادہ موٹا تھا۔ میرے خیال میں تھا کے وہ ابھی اسے میری چوت کے اندر ڈالے گا لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا۔ وہ ابھی کچھ اور کھیلنا چاہتا تھا۔ وہ میری ٹانگوں کے بالکل بیچ میں آیا اور اپنے سر کو میری رانوں کے درمیان رکھ دیا اس کے ہونٹوں نے میری چوت کو چھُوا تو بے اختیار میری سسکیاں نکل گئیں۔ میرے شوہر نے کبھی ہونٹوں سے میری چوت کو نہیں چوما تھا وہ بس ہاتھ سے ہی میری چوت کا مساج کیا کرتے تھے۔ میں اس لذت سے نا آشنا تھی جو اس ڈکیت کے میری چوت کو چومنے سے حاصل ہوئی تھی۔ اس نے یہیں پر بس نہیں کیا تھا بلکہ وہ باقاعدہ زبان کو میری چوت کے اندر باہر کرنے لگا اس نے دونوں انگوٹھوں سے میری چوت کے ہونٹوں کو قدرے کھول رکھا تھا تاکہ اس کی زبان زیادہ سے زیادہ میری چوت کے اندر جا سکے۔ وہ میری چوت چاٹنے کے درمیان کبھی کبھی چوت کے قریب میری رانوں پر کاٹ بھی رہا تھا جو مجھے اور دیوانگی کی حد تک پاگل کر گیا۔ میں گانڈ ہلا ہلا کر اس کے منہ پر اپنی چوت رگڑ رہی تھی۔ میرا دل چاہ رہا تھا کے وہ اسی طرح میری چوت کو چاٹتا رہے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کے میرے شوہر کے علاوہ کوئی غیر مرد اس طرح سے مجھے چودے گا اور میں اس سے لذت حاصل کروں گی۔ مجھے ایسے خیال سے بھی گھِن آتی تھی لیکن آج میں نہ صرف ایک غیر مرد سے لذت پا رہی تھی بلکہ پورے طریقے سے اس کھیل میں شریک ہو گئی تھی۔میں اب چاہ رہی تھی کے وہ مجھے اسی بے رحمی سے چودے۔ اور ایسا میں اس شخص سے چاہ رہی تھی جو اس گھر کے مال واسباب کے ساتھ عزت کو بھی لُوٹ رہا تھا۔ اور یہ وقت کبھی بھی ختم نہ ہو۔ آخر اس کا لن میری چوت کے دھانے تک آ ہی گیا اس نے اپنے لن کا سر میری چوت کے سوراخ پر رکھ کر دھکا دیا تو مجھے لگا کے وہ مجھے لے کر اُڑنے لگا ہے۔ اس کا لن دوسرے ہی دھکے میں اندر تک پہنچ چکا تھا۔ مجھے لگا کوئی لوہے کا راڈ میری ٹانگوں کے بیچ میری چوت میں ٹھونک دیا گیا ہو۔ میں کراہ کر رہ گئی۔ لیکن اسے میرے سسکنے یا کراہنے کی پرواہ کب تھی اور میں چاہتی بھی نہیں تھی کے وہ میری کوئی پرواہ کرے۔ اس کا جنونی پن ہی تو تھا جس نے مجھے ذہنی طور پر اس کے ساتھ سیکس پر آمادہ کر لیا تھا۔ سیکس میں یہ جنون میرے لیئے نیا تھا۔ اور میں پوری طرح اس جنون سے لُطف اندوز ہو رہی تھی۔ مجھے اپنے شوہر کے ساتھ سیکس میں بھی بہت مزہ آتا تھا لیکن اس ڈکیت نے لذت کی جو نئی وادیاں مجھے گھُمائیں تھیں میں نے ان کی سیر پہلے کبھی نہیں کی تھی۔اور اب جب اس کا لن میری چوت میں غرق ہوا تو اس نے ایسے دھکے دینے شروع کیئے کے جیسے وہ اپنے لن کی قوت سے میرے جسم کو دو حصوں میں چیر دینا چاہتا ہو۔ میری چوت لوہار کی بھٹی کی طرح گرم ہو گئی تھی۔ اور اس کا لن ہتھوڑے کی طرح چوٹ پہ چوٹ لگا رہا تھا۔ میری سسکیاں آہوں میں تبدیل ہو کر چیخوں میں ڈھلنے لگیں تو میں نے تکیے کا کونا منہ میں لے کر دانت سختی سے بھینچ لیئے تاکہ آواز نہ نکلے۔ میری چوت نے پانی چھوڑا تو مجھے کچھ راحت ہوئی لیکن وہ مسلسل مشین بنا ہوا تھا۔ اس کی نہ سختی کم ہوئی نہ ہی رفتار میں کوئی کمی آئی۔ لن کی مسلسل رگڑ سے جو پانی چوت نے چھوڑا تھا وہ سوکھ گیا۔میری چوت اس کے لن سے جیسے چپک گئی تھی وہ لن باہر کو کھینچتا تو مجھے لگتا کہ جیسے میری انتڑیاں بھی وہ کھینچ کر چوت کے رستے باہر نکال لے جائے گا۔ اور جب وہ لن کو اندر لے جاتا تو مجھے لگتا جیسے اس کا لن میرا پیٹ پھاڑ کر باہر نکل جائے گا۔ تکلیف ہو رہی تھی لیکن جو لذت حاصل ہو رہی تھی اس کے سامنے اس سے ہزار گنا زیادہ تکلیف ہوتی تو میں تب بھی برداشت کر لیتی۔ جو لذت میں نے آج پائی وہ میں نے کبھی پہلے نہیں پائی تھی۔ حالانکہ میرے شوہر سیکس میں کمزور نہیں تھے لیکن ان کا انداز ان سٹائل الگ تھا اور اس ڈاکو کا اپنا ہی انداز تھا۔ میں اپنے شوہر سے بھی لذت پاتی تھی ۔لیکن آج کچھ جُدا تھا۔ مجھے آج احساس ہو رہا تھا کے عورتیں کیوں اپنے گھر بار اپنے خاوند اور بچے چھوڑ دیتی ہیں۔ اپنی پُر آسائش زندگی چھوڑ کر کسی کنگال اور مُفلس کو کیوں اپنا لیتی ہیں۔ میں حیران ہوا کرتی تھی کے عورتیں شادی شُدہ ہونے کے باوجود باہر یارانے کیوں گانٹھ لیتی ہیں۔ وہ کیوں اپنی عزت و ناموس کو یوں داؤ پر لگا دیتی ہیں۔ لیکن آج میرے لیئے یہ راز راز نہیں رہا تھا۔ میں نے اپنے سوال کا جواب پا لیا تھا۔ مجھے اپنے شوہر سے لذت اور راحت مل رہی تھی اور میں اس پر خوش بھی تھی کیونکہ میرے لیئے وہی لذت کی انتہا تھی۔
 میرا جسم جھٹکے لے رہا تھا۔ اور وہ چوٹ پر چوٹ لگائے جا رہا تھا۔ لگتا تھا وہ نہ تھکے گا اور نہ بس کرے گا لیکن میری ہمت جواب دے رہی تھی۔ میری آنکھوں سے برسات جاری تھی اس کا لن میری چوت کی اندرونی دیواروں کو چیر رہا تھا۔ میں پانچ سال سے اپنے شوہر کے ساتھ سیکس کر رہی تھی اور میں ایک بچے کو جنم بھی دے چُکی تھی لیکن پھر بھی میرے لیئے اب برداشت مشکل ہو رہی تھی۔ میں یقین سے کہتی ہوں کے اگر ایسا شخص ایک کنواری یا نوجوان لڑکی کے ساتھ سیکس کر لے تو وہ لڑکی زندگی بھر کسی دوسرے مرد سے ایسی خوشی نہیں پائے گی۔ اور اپنی ساری زندگی ایسے شخص کی غلامی میں ہی بسر کر دے گی۔ میں مشکل سے اپنی چیخوں کو کنٹرول کر پا رہی تھی۔ اگر حالات مختلف ہوتے تو میں شائید زور زور سے چیخ رہی ہوتی۔ میں ایک بار پھر ہیجانی انزال ( orgasm) کے قریب تھی اُس کا مجھے پتہ نہیں تھا کے وہ مزید کتنا وقت لے گا۔ میرا پورا بدن تناؤ میں تھا مُٹھیاں سختی سے بند تھیں جسم پر کپکپاہٹ اور لرزہ طاری ہو گیا۔ اور پھر چوت سے پانی کا فوارہ چھوٹ پڑا میرا پورا جسم جھٹکے لے رہا تھا اور ہر جھٹکے پر چوت سے پانی اُبل کر نکل آتا اُس ڈاکو نے جلدی سے لن چوت میں سے نکال کر خود کو بچایا اور وہ اب اپنے ہاتھ سے ہی لن کو تیزی سے رگڑ رہا تھا اور اس کے لن سے بھی گاڑھا زرد پانی نکل آیا۔ میں ابھی بھی جھٹکے لے رہی تھی۔ میری ٹانگیں اور بستر چوت سے نکلنے والے پانی نے بُری طرح گیلے کر دیئے۔ میں زخمی فاختہ کی طرح بیڈ پر گری پڑی تھی۔ میں نے پہلے کبھی اتنا انزال نہیں پایا تھا۔ اُس نے اپنے لن کو پہلے میرے پیٹ پر صاف کیا پھر بیڈ شیٹ کو کھینچ کر میرا پیٹ ٹانگیں اور چوت کو اچھی طرح سے صاف کرنے کے بعد لن کو بھی صاف کیا۔ مجھے چوت میں میٹھا میٹھا درد محسوس ہو رہا تھا لیکن میں خود کو بڑا ہلکا پھُلکا اور ریلیکس محسوس کر رہی تھی۔ چوت سے نکلنے والے سیلاب نے چوت میں لگی آگ کو بجھا دیا تھا۔ میں ویسے ہی بستر پر پڑی اس ڈاکو کو دیکھے جا رہی تھی ۔ میں اس کے چہرے کو زندگی بھر کے لیئے اپنے دماغ میں محفوظ کر لینا چاہتی تھی۔ کیونکہ میں جانتی تھی کے آج کے بعد ہماری مُلاقات نہیں ہونے والی۔ جس لذت سے میں نا آشنا تھی اس سے مجھے روشناس کرانے والے کا اتنا تو حق بنتا تھا کے اُسے یاد رکھا جائے۔ اُس نے خود شلوار پہنی اور میری شلوار مجھے دی۔ میرے ہونٹوں کو چومتے ہوئے کہا "کاش وقت کم نہ ہوتا تو تجھے اتنا خوش کرتا کے تُو خود مجھے اپنی ساری دولت تھما دیتی۔ " وہ مجھے تجسس میں ڈال گیا۔ مجھے اس سے زیادہ اور کیا خوش کرتا؟ یہ سوال میرے دماغ میں ڈال کر وہ جانے والا تھا۔ اس کے ساتھیوں نے اسے آواز دے دی تھی کے کام مکمل ہو گیا ہے۔ یہاں اس کا کام بھی مکمل ہو گیا تھا۔ وہ دروازے کی طرف لپکا دروازے کے قریب پہنچ کر واپس آیا۔ میرے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر اوپر اُٹھایا اور ہونٹ چوم لیئے۔ نقاب پہنا اور اس سے پہلے کے وہ دروازے سے باہر نکلتا پلٹ کر پھر مجھے دیکھا اور کہا " جہانگیر نام ہے میرا, یاد رکھنا۔وہ جا چُکا تھا اور میں یونہی بُت بنی بیٹھی تھی۔ اچانک جیسے میں خواب سے بیدار ہوئی۔ سب سے پہلے میں نے اپنے کپڑے تبدیل کیئے بیڈ شیٹ بھی تبدیل کی فرش پر گری گندگی کو صاف کیا اور بھاگ کر نیچے گئی جہاں میری ساس سُسر اور دیور ابھی تک بندھے تھے۔ میں نے اُن سب کو کھولا بعد میں میرے سُسر نے پولیس سٹیشن فون کیا اور تقریباً ڈیڑھ دو گھنٹوں کے بعد ایک پولیس وین آئی جنہوں نے موقع چیک کیا۔ ہم پولیس کے آنے سے پہلے تمام کمرے دیکھ چُکے تھے۔ ہر چیز بکھری ہوئی تھی لگتا تھا انہوں نے گھر کے ہر کونے کی تلاشی لی تھی۔ پولیس نے ہم سب کے الگ الگ بیان قلمبند کیئے۔ میں نے بھی اپنا بیان دیا لیکن میں نے سیکس والا حصہ چھُپا لیا۔ میرے بیٹے کے رونے تک جو ہوا وہ میں نے ویسے کا ویسا ہے بتایا اور میں نے اپنے بیان میں کہا کہ جب میں بیٹے کو دودھ پلا چُکی تو اس ڈاکو نے مجھے یہیں بیڈ پر میرے دوپٹّے سے باندھ دیا تھا اور خود اپنے ساتھیوں سے مل گیا تھا۔ اور میں نے یہ بھی اپنے بیان میں لکھوایا کے مجھے جب گھر میں خاموشی لگی تو تب میں نے بڑی مُشکل سے خود کو کھولا تھا اور بعد میں میں نے باقی گھر والوں کو کھولا تھا۔ پولیس اپنی ضروری کاروائی کے بعد ہمیں تسلی دلاسہ دے کر چلی گئی اور ہمیں یہ یقین دہانی کرائی کے وہ جلد ان ڈاکؤوں کو پکڑ لیں گے ۔ میں نے اپنے شوہر کو فون کرکے واقعے کی اطلاع کر دی تھی۔ اگلے دن بہت سے لوگ ہمارے ساتھ ہوئے اس واقعے کا غم بانٹنے آئے۔ ہر کوئی تسلی دلاسے دے رہا تھا۔ میری ساس اس غم سے مری جا رہی تھی کے عمر بھر کی پونجی لُٹ گئی اور مجھے یہ غم کھائے جا رہا تھا کہ میں اس ڈاکو سے دوبارہ کبھی نہیں مل پاؤں گی۔ پولیس اپنی تفتیش میں مجھے بھی مُلزم کی حیثیت سے دیکھ رہی تھی۔ انہیں اس بات پر شق تھا کے مجھے الگ کمرے میں کیوں لے جایا گیا اور میں آزاد کیسے ہوئی انہیں اس بات پر بھی شق تھا کے مجھے باندھا بھی گیا تھا کے نہیں۔ لیکن میرے شوہر اور میری ساس اور سُسر کے بیانات میرے حق میں تھے۔ اور سچ بھی یہی تھا۔ میں ہر گز اس ڈکیتی کی واردات میں گھر بھیدی کا کردار ادا نہیں کر رہی تھی۔ پولیس اپنے طریقے سے تفتیش کر رہی تھی اور مجھے اُن کے طریقہ کار پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔رفتہ رفتہ ہمارے گھر میں ہوئی واردات پر شہر میں ہونے والی اور بیسیوں وارداتوں کی دھول نے گرد ڈال دی۔ سب گھر والے بھی اس واقعے کو بُرے خواب کی طرح بھولنے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں بھی اسے بھول جانا چاہتی تھی لیکن وہ ڈکیت ہر وقت میری نظروں کے سامنے رہتا۔ اس کے ساتھ گُذرے چند پل میرے دماغ سے نکل ہی نہیں رہے تھے۔ سب کا خیال تھا کے اس واقعے نے مجھ پر بُرا اثر ڈالا ہے جس کی وجہ سے میں اکثر کھوئی رہتی ہوں ۔لیکن میں جانتی تھی کے میں اس لذت اور سرور کے نہ ملنے کی وجہ سے کھوئی رہتی ہوں۔ میں اپنے شوہر کے ساتھ اب بھی سیکس کرتی تھی۔ پہلے ہی کی طرح اُن کا پورا ساتھ دیتی تھی اور اُن کو ہر ممکن طریقے سے خوش کرنے کی کوشش کرتی تھی لیکن میری خود کی خوشی کہیں کھو گئی تھی۔ میرے شوہر میرے بدن سے جتنی بھی چھیڑ چھاڑ کرتے وہ مجھے عجیب بچگانہ سی حرکات لگتیں۔ جب تک اس ڈاکو نے میرے جسم کو مسلا نہیں تھا تب تک میرے شوہر میرے ساتھ جو کچھ کرتے تھے وہی میرے لیئے سیکس کی انتہا تھی لیکن اس ڈاکو نے مجھے سیکس کے نئے انداز اور نئے ذائقے متعارف کرائے تھے۔ میں وہی لذت وہی ذائقہ وہی جنون چاہتی تھی لیکن میرے شوہر سے تو ایسا سب ملنا مشکل تھا۔ ان کی شخصیت ہی جُدا تھی اور میں جانتی تھی کے انہیں ان کی شخصیت کے اس خول سے نکالنا آسان نہیں۔ ہمارے گھر ہوئی ڈکیتی کی واردات کو ہوئے تقریباً آٹھ ماہ ہو چُکے تھے۔ پولیس واردات کا سُراغ لگانے میں بالکل ناکام ہو چُکی تھی اور ہم سب بھی قُدرت کا لکھا سمجھ کے بھول چکے تھے۔ زندگی واپس اپنے نارمل شب و روز کی طرف لوٹ آئی تھی۔ میں نے لذت کے حصول کیلئے گندگی کی طرف گرنے کے بجائے پاک صاف زندگی کو ترجیح دی۔ میں کوشش کرتی کے سیکس کے دوران میرے شوہر مجھ سے جارحانہ برتاؤ کریں۔ وہ مجھے نوچیں مجھے مَسلیں اور مجھے کاٹیں وہ میری گانڈ کو سہلانے کے بجائے تھپڑوں سے لال کر دیں اس کیلئے میں مختلف حیلوں بہانوں سے انہیں اُکسانے کی کوشش بھی کرتی لیکن وہ بھی اپنی ڈگر کے پکّے تھے۔ وہ کہتے اتنی ملائم گانڈ کو میں تھپڑ کیسے مار سکتا ہوں۔ ان گلاب کی پنکھڑی جیسے ہونٹوں کو میں کیسے کاٹ سکتا ہوں، ان خوبصورت کشمیری سیب جیسے پستانوں کو مسل کر مجھے کیا انہیں خراب کرنا ہے۔ وہ بہت پیار سے میرے ہونٹوں کو چومتے۔ اتنی نرمی سے میرے ممّوں پر ہاتھ پھیرتے کے جیسے اُن کی ذرا سی بے احتیاطی سے یہ کہیں خراب نہ ہو جائیں۔ وہ میری چوت کو اپنے ہاتھ سے بڑے آرام سے سہلاتے تھے۔ اور کبھی کبھی ہی وہ اپنی اُنگلی میری چوت میں داخل کرتے تھے۔ ان کا سیکس بس اتنا ہی ہوا کرتا تھا کے ٹانگیں اُٹھائیں لن کو سیدھا کر کے چوت میں ڈالا اور دس پندرہ منٹ کی چُدائی اور پھر باقی رات خراٹے۔ پہلے میں اتنے کو ہی بہت سمجھا کرتی تھی لیکن اب میں جان گئی تھی کے اصل لذت اس سے آگے کی منزل ہے۔ اس دن میری ساس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اسی لیئے میں انہیں ڈاکٹر کو دکھانے ہسپتال لے گئی۔ ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد کچھ ادویات لکھ کر دیں۔ جنہیں خریدنے کیلئے میں ایک میڈیکل سٹور میں داخل ہوئی تو کاؤنٹر پر جو شخص کھڑا تھا اسے دیکھ کر دنگ رہ گئی۔ یہ وہی شخص تھا جس نے مجھے اپنا نام جہانگیر بتایا تھا اور چند ماہ پہلے میرے گھر سے نہ صرف مال و اسباب لوٹ لایا تھا بلکہ میرا سُکھ چین بھی لوٹ لایا تھا۔ وہ بھی ایکدم سے گھبرا گیا۔ اس کا رنگ زرد پڑ گیا لیکن پھر اُس نے خود کو سنبھالا اور بولا " جی میم کیا خدمت کروں آپ کی؟ میں یک ٹُک اس پر نظریں جمائے کھڑی تھی۔ اس نے پھر پوچھا تو میں نے بنا بولے دوائیوں کی پرچی اس کی طرف بڑھا دی۔ وہ میرے لیئے دوائیاں نکال رہا تھا جبکہ میں اسی کی طرف نظریں جمائے کھڑی رہی۔ وہ بھی چوری چوری نظریں بچا کر میری طرف دیکھ رہا تھا۔ اس نے دوائیاں بیگ میں ڈالیں اور حساب کر کے مجھے پیسوں کا بتایا، وہ سر جھکائے تھا اور مجھ سے نظر نہیں ملا رہا تھا۔ میں نے اسے پیسے ادا کیئے تو اس نے دوائیوں کا بیگ مجھے تھماتے ہوئے ایک کاغذ پر کچھ لکھ کر وہ بھی میرے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ اس کا ڈرا سہما اور شرمسار چہرہ مجھے کچھ کہنے یا کرنے سے روک رہا تھا یا پھر میرے اندر کی قوت تھی جو مجھے کوئی بھی قدم اٹھانے سے روک رہی تھی۔ بہرحال جو کچھ بھی تھا میں خاموش رہی اور ادویات کا بیگ اُٹھا کر سٹور سے باہر نکل آئی۔ راستے میں میں نے اُس کی دی ہوئی پرچی کو کھول کے پڑھا جس پر بس اتنا لکھا تھا۔ " آپ کا مُجرم ہوں جو سزا تجویز کریں گی قبول ہے لیکن ایک دفعہ مجھ سے بات کر لیں، نیچے اُس کا فون نمبر تھا۔ میں کشمکش میں تھی کے کیا کروں اس کی اطلاع پولیس کو دوں یا خود اس سے پہلے بات کروں۔ میری اس کے لیئے جو خواہش تھی وہ بھی اسے دیکھتے ہی بیدار ہو گئی تھی۔ میں عجب الجھن میں تھی ایک طرف گھر سے لُوٹی دولت اور دوسری طرف میرا کھویا ہوا سکون۔ میں سوچ رہی تھی کہ کس چیز کو ترجیح دوں میرے لیئے زیادہ اہم کیا ہے دولت یا پھر میرے وجود کی تسکین؟ پھر اس خیال نے مجھے آخری فیصلہ کرنے میں مدد کی کے مال و دولت کیلئے تو سب نے قسمت کا لکھا سمجھ کر خود کو مطمئن کر لیا ہے پر میں اس دن کے بعد آج تک جنسی تسکین نہیں پا سکی اور میرا وجود آج تک مطمئن نہیں ہو پایا۔ یہی سوچ کر میں نے اسے فون کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس کی طرف کی کہانی بھی جان سکوں کے وہ کیا سوچ رہا ہے اور مجھ سے کس برتاؤ کی امید رکھتا ہے۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺗﻤﺎﻡ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺎﻡ ﻧﺒﭩﺎﺋﮯ ﻏﺴﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻓﺎﺭﻍ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﺸﻤﮑﺶ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ۔ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐُﻦ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍُﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﻤﺒﺮ ﮈﺍﺋﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﻤﺒﺮ ﮈﺍﺋﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﻧﺮﻭﺱ ﺗﮭﯽ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺘﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﺑﯿﻞ ﺑﺠﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍُﺩﮬﺮ ﺳﮯ ﻓﻮﻥ ﺍُﭨﮭﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ " ﮨﯿﻠﻮ ... ﺟﯽ ﮐﻮﻥ؟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﮔﻼ ﺧﺸﮏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﻭﺍﺯ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﭨﮏ ﮔﺌﮯ، ﺍُﺱ ﺭﻭﺯ ﮐﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﮈﯾﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻣﺤﺒﺖ، ﺍﺱ ﮐﻮ ﺳﺰﺍ ﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﺟﺰﺍ۔ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﺎﺭ ﮨﯿﻠﻮ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻮﻥ ﮐﺎﭦ ﺩﯾﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺗﺬﺑﺬﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﻋﺠﯿﺐ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﯽ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﻣُﺠﺮﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺳﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﮐﯿﺌﮯ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻣﻠﻨﯽ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺎ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﭩﮑﺎﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺟﯽ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺑﮯﻣﻌﻨﯽ ﮨﮯ۔ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﺗﻮ ﻟُﻄﻒ ﺗﺐ ﮨﯽ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺻﻞ ﺭﻧﮕﯿﻨﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻟُﻄﻒ ﺍﻧﺪﻭﺯ ﮨﻮﺍ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻢ ﻋﻘﻞ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﻭﻗﺖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﭘُﺮﻟُﻄﻒ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﺲ ﯾﮩﯽ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﺳﯿﮑﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﻭ ﺳﺮﻭﺭ ﮨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﭘُﺮﻣﺴﺮﺕ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺩﻏﺮﺿﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺱ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺳﻮﭺ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﻢ ﻟﮯ ﭼُﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﺭﻧﮧ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍُﺱ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺷﮕﻮﺍﺭ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺲ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍُﺱ ﺩﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﮯ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﮩﺮﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﮧ ﻧﮑﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﯽ ﻟﺬﺕ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﻭﺭ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻧﻤﺒﺮ ﮈﺍﺋﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺏ ﮐﯽ ﺑﺎﺭ ﻓﻮﻥ ﺍُﭨﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﯾﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﮨﯽ ﮔﮭﻨﭩﯽ ﭘﺮﮨﯿﻠﻮ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﻮﻥ ﺭﯾﺴﯿﻮ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ " ﮐﻮﻥ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ " ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﯿﻠﻮ ﮨﺎﺋﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ " ﺟﯽ ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ... ﺁﭖ ﮐﻮﻥ " ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﺎ۔ " ﻣﯿﺮﮮ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺟﺎﻥ ﭼُﮑﮯ ﮨﻮ ﮔﮯ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﮯ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺑﮭﯽ ﺗُﻢ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ " " ﺟﯽ .... ﻣﯿﮟ ... ﻭﮦ ،، ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺍﭨﮏ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺑﻼ ﮐﯽ ﺍﯾﮑﭩﻨﮓ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ " ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﺍﯾﺴﺎ ... ؟ " ﻣﯿﺮﮮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﯾﺎ ﻭﺟﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺷﺎﺋﯿﺪ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﺌﮯ ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﻮ ﺗﻮﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍﺋﯽ ' ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣُﺠﺮﻡ ﮨﻮﮞ، ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮩﺖ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﺁﭖ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﺣﻖ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﮟ ﮐﮯ ﺟﻮ ﮐُﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﮨﯽ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﻇﺎﻟﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻣﻈﻠﻮﻡ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﮓ ﻭ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ " ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺎﺩﯼ ﻣُﺠﺮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮈﺍﮐﮧ ﺯﻧﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﯿﺸﮧ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﯾﮑﺴﯿﮉﻧﭧ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﭘﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﺼﻮﻝ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﮨﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﭩﮑﮭﭩﺎ ﭼُﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﻣﺎﺗﮭﺎ ﺭﮔﮍ ﭼُﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﯾﺎ۔ ﮨﻢ ﺩﻭ ﮨﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﭖ ﺩُﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﮞ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ ﺗﮍﭖ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﮍﭘﻨﺎ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎﻡ ﮐﺎ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﺳﻮﺍﻟﯿﮧ ﭼﮩﺮﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﺍﺱ ﮔﮭﻨﺎﺅﻧﮯ ﺟﺮﻡ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮈﺍﮐﮧ ﮈﺍﻻ۔ ﯾﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﻃﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﺁﭖ ﮨﯽ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮈﺍﮐﮧ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮐﮩﮧ ﻟﯿﮟ ﮐﮯ ﮨﻢ ﺟﺲ ﮔﮭﺮ ﮈﺍﮐﮧ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﯼ ﮈﺍﮐﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﺘﺎ ﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺟﻮ ﺑﻨﺪﻭﻗﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﺻﻠﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻋﺎﻡ ﺳﯽ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﯿﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﮭﻠﻮﻧﺎ ﺑﻨﺪﻭﻗﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﻘﺼﺪ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ..... ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﺑﻮﻝ ﭘﮍﯼ " ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺗُﻢ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻮ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺟُﺮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، ﺗُﻢ ﺻﺮﻑ ﮈﺍﮐﮧ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺟُﺮﻡ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ۔ ﺩﻭﻟﺖ ﻟُﻮﭨﻨﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺟُﺮﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺗُﻢ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺰﺕ ﺗﺎﺭ ﺗﺎﺭ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺟُﺮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ؟ " ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﭘﺮ ﺑﺮﺱ ﭘﮍﯼ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﺎﭦ ﺩﯼ " ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺟُﺮﻡ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﺎﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮩﮧ ﭼُﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣُﺠﺮﻡ ﮨﻮﮞ۔ ﮨﻢ ﮈﺍﮐﮧ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﻣﻨﺼﻮﺑﮧ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﺟﺘﻨﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺳﻤﯿﭩﻨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﺑﮕﺎﮦ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍُﭨﮭﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺐ ﮨﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﻣﭽﻞ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺁﭖ ﺍﺱ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﯼ ﺳﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﮏ ﺟﺎﺗﺎ۔ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﭘﺮ ﺟﺒﺮ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺣُﺴﻦ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺧﻠﺶ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺴﺘﺮ ﺳﮯ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﻘﺼﺪ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺿﺒﻂ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺁﭘﮑﯽ ﺧﻮﺍﺑﮕﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﭼُﭗ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮍﺍ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻧﺮﻡ ﮔُﺪﺍﺯ ﭘﯿﭧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭘﺴﺘﺎﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺿﺒﻂ ﻗﺎﺋﻢ ﻧﮧ ﺭﮐﮫ ﺳﮑﺎ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﮦ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﻗﻮﺕ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﮐﻮ ﭼﮭُﻮ ﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ۔ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮨﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺸﺶ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻧﻨﮕﮯ ﭘﯿﭧ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍﯾﺎ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﯾﺎ۔  ,  

Posted on: 02:35:AM 14-Dec-2020


3 0 316 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com