Stories


میں اور میرا جیٹھ از سیما ناز

میری منگنی بچپن میں ہی میرے چچا کے بیٹے سے کردی گئی تھی ۔ یہ میرے دادا جانی کی خواہش تھی۔ میرے ابو اور چچا جان دادا جان کی بات کو ٹال نہیں سکتے تھے ۔ ہمارے گھر میں ہر طرح کی آسائشات کی فروانی تھی. دادا جان 4 مربعوں کے مالک تھے ۔ دادا کے بڑے بیٹے شیر خان یعنی میرے ابو آڑھت کرتے تھے اور چھوٹے بیٹے بہادر خان زمینوں کی دیکھ بھال کرتے تھے. گھر میں آسائشات کی فروانی کے باوجود ماحول بہت سخت تھا ۔میں نے ہائی سکول کے بعد کالج جانا چاہا تو دادا جان نے یہ کہ کر منع کردیا کہ بیٹیوں کے لئے اتنی تعلیم کافی ہے ۔ میرے ارمانوں پر اوس پڑگئی اور میں گھر میں امی اور چاچی کا ہاتھ بٹانے لگی۔ میرا منگتیر عمیر مجھ سے دو سال بڑآ ٹھا اور شہر کالج میں پڑھتا اور ہاسٹل میں رہتا تھا ۔ میرے دو بڑے بھائی جمال خان اور کمال خان بھی اسی کالج میں پڑھتے اور ہاسٹل میں رہتے تھے ۔ اب دادا جان کو میری شادی کی فکر لگ گئی ۔مگر میرے منگتیر کا خیال تھا کہ وہ پہلے تعلیم مکمل کرلے ۔ اس لئے اس نے اپنے والدین کے ذریعے 4 سال کا وقت لے لیا اور پڑھائی میں مصروف ہوگیا ۔مگر ہونی کو کون ٹال سکا ہے. ابھی دو سال ہی گزرے تھے کہ دادا جان کا انتقال ہوگیا ۔ اور جائیداد کی تقسیم پر میرے ابو اور چچاجان میں جھگڑا اسقدر بڑھا کہ مکانوں کے بیچ دیوار اٹھادی گئی اور بول چال بند ہوگئی . میں اسوقت 22 سال کی ہوچکی تھی۔میرے والدین کو امید تھی کہ کچھ بھی ہوجائے میرے اور عمیر کے متعلق دادا جان کی بات نبھائی جائے گی ۔ اس لیے میں عمیر کی منگتیر ہی رہی ۔ چاچا جان کے گھر والے کیا سوچ رہے تھے ہمیں بلکل معلوم نہیں تھا ۔ میرے والد صاحب سخت طبعیت مگر دل کے نرم اور چچاجان تو بہت ضدی مشہور ہیں ۔ خیر عمیر نے جب اپنی تعلیم مکمل کی اسوقت میں 24 سال ہوچکی تھی ۔ عمیر یونیورسٹی سے جب تعلیم مکمل کرکے واپس گھر آیا تو میرے والدین کو امید تھی کہ اب وہ لوگ شادی کی بات کرینگے اس لیے میرے والدین نے شادی کی تیاری شروع کردی مگر ایک دن ہم لوگوں نے سنا کہ عمیر کی تو اگلے ماہ پھپھو کی بیٹی سے شادی ہورہی ہے تو ہم لوگوں نے چپ سادھ لی ۔ میرے والد ین نے سوچا کہ ہماری بھانجی بھی تو ہماری ہی بیٹی ہے اب ان سے کیا گلہ کریں ۔ انہوں نے اب میرا رشتہ تلاش کرنا شروع کردیا ۔ ابا چاہتے تھے بھلے میری شادی عمیر کی شادی کیساتھ نہ ہوسکے تو کچھ عرصہ کے بعد ہوجائے ۔منڈی میں میرے والد کی آڑھت کیساتھ ایک اور آڑھتی جوکہ اچھے کاروباری تھے کیساتھ ابا نے میرے متعلق بات کی ۔ ان کے دوبیٹے تھے بڑا بیٹا 39 سال کا اور رنڈوا تھا اسکی ایک بیٹی بھی تھی ۔وہ شریف آدمی شیر بہادر اسکا رشتہ لیکر آگیا ۔ میرے والدین نے اس رشتہ کے لیے انکار کردیا کیونکہ ایک تو وہ عمر میں بڑادوسرا ایک بیٹی کا والد بھی تھا۔ مگر میں انکی وائف کو پسند آگئی تھی اس لیے ایک ہفتہ بعد وہ لوگ دوبارہ اپنے چھوٹے بیٹے جو کہ 27 سال کا تھا ور دوبئی میں ہوتا تھا کے لیے رشتہ مانگنے آگئے ۔میرے والدین نے سوچنے کے لئے وقت مانگ لیا ۔ کیونکہ انکی رہائش شہر سے باہر گاؤں میں تھی ۔معلومات حاصل کرنے میں دوہفتہ لگ گئے ۔ انکی ریپوٹیشن اچھی تھی ۔ دو مربعہ زمین کے علاوہ آڑھت کااچھا کاروبار تھا ۔ ایک ہی بیٹی سمیرا جو کہ بیاہی جاچکی تھی ۔بڑے بیٹے سمیر کی ایک بیٹی اریبہ ہے ۔ تین سال پہلے سمیر کی بیوی فوت ہوگئی تھی اور اریبہ اب آتھ سال کی ہے ۔ چھوٹا بیٹا صیغیر 27 سال کا ہے اور دوبئی میں ملازم۔ہے ۔میرے والدین کو یہ لوگ کھاتے بیتے اچھا خاندان لگا اور رشتہ کے لیے ہاں کردی دو ماہ بعد میں صغیر حسن سے بیاہ دی گئی۔ اور دوماہ چھٹی گزار کر وہ دوبئی واپس چلے گئے ۔دو ماہ کے بعد میرے شوہر واپس اپنے کام پر دوبئی چلے گئے اور میں ایک ماہ کے لئے اپنے میکے آگئی ۔ ایک ماہ گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ ایک ماہ بعد میں اپنی سسرال واپس پہنچ گئی ۔ جہاں پر ساس سسر ،میرے جیٹھ اور اسکی آٹھ سالہ بیٹی اریبہ کیساتھ ہی مجھے رہنا تھا ۔ جب تک میرے شوہر گھر پر تھے اسوقت مصروفیات اور مشاغل اور تھے جن میں دل لگارہتا تھا ۔مگر اب ایک سی روٹین تھی ۔ شکر ہے کہ اریبہ کو گرمیوں کی تعطیلات تھیں جس کی وجہ سے گھر میں کچھ رونق اور مصروفیت تھی اریبہ بہت پیاری اور خوبصورت بچی ہے جس کی ماں نہیں رہی اور اسکو دیکھ کر پیار آجاتا ہے ۔وہ بہت معصومانہ شرارتیں کرتی جن سے بہت مزہ آتا ہے ۔اریبہ مجھ سے بہت گھل مل گئی اور مجھے بھی اس بن ماں کی بچی سے انس ہوگیا ہے . میری کوشش ہوتی کہ اریبہ کو ماں کی کمی محسوس نہ ہو۔ اریبہ کو اپنے ابو سے بہت لگاؤ تھا اور وہ بھی اریبہ سے بے انتہا پیار کرتے تھے ۔ دونوں باپ بیٹی یک جان دوقالب والی بات تھے سچ پوچھیں تو مجھے دونوں باپ بیٹی کا پیار دیکھ کر ان پر رشک آتا ہے ۔ہمارے گھر کا ماحول بہت سخت تھا ۔ میرے ابو نے مجھے کبھی ایسے پیار نہیں کیا تھا جیسے اریبہ کے ابو اس سے کرتے تھے ۔ کبھی کبھی تو مجھے اریبہ سے حسد محسوس ہوتا کیونکہ مجھے یاد آجاتا کہ جب میں چھوٹی تھی تو دل کرتا تھا کہ اپنے ابو کی گود میں بیٹھوں انکے سینے پر چڑھ کر کھیلوں ۔ ۔۔۔۔۔ اریبہ کا تو روز کا معمول تھا کہ وہ صبح ناشتہ اپنے ابو کی گود میں بیٹھ کر کرتی اور شام کو جب اسکے ابو صحن میں چارپائی پر لیٹے ہوتے تو انکے سینے پر چڑھ کر کھیلنا ۔ گرمیوں کے موسم میں اسکے ابو صحن میں چارپائی ڈال کر تہمبند باندھے اوراوپر کے حصہ میں بغیر کچھ پہنے لیٹے ہوتے تو اریبہ انکے سینے کے بالوں سے کھیلتی کبھی انکی مونچھ پکڑ لیتی تو اس کے ابو کھلکھلا کر ہنستے رہتے ۔ ویسے بھی انکی طبعیت ہنس مکھ تھی. مسکراہٹ ہروقت انکے چہرے پر سجی رہتی. میرے خاوند چھوٹے قد کے سنجیدہ طبعیت کے مالک ہیں جبکہ ان کے بڑے بھائی دراز قد کشادہ پیشانی کشادہ چھاتی اور مضبوط جسم کے مالک ہیں جب میں انکو اپنی بیٹی کیساتھ کھیلتا دیکھتی تو سوچتی کے انکا بھی رشتہ میرے لئے آیا تھا کیا تھا جو ہماری عمروں میں فرق تھا وہ مجھ سے چودہ سال بڑے ہیں تو کیا ؛ رہتے تو پاس ہی ؛ ہم اریبہ سے ملکر بھی کھیل سکتے تھے ۔ مگر میرے شوہر دوسال بڑے تو ہیں اور اپنی جوانی اب امارات میں گنوارہے ہیں اور میں یہاں انکو یاد کرکے ٹھنڈی آہیں بھررہی ہوں. خیر جو ہونا تھا ہوچکا تھا۔۔۔۔۔ میری ساس بہت نرم طبعیت کی ہیں اور مجھ سے تو ہمیشہ پیار ہی کیا انہوں نے ۔ سسر ہفتہ میں دوہی راتیں گھر پر گزارتے باقی دن آڑھت پر رہتے ۔ میرے جیٹھ سمیر خان صبح سویرے کھیتوں میں چلے جاتے وہاں مزارعوں سے کام لیتے اور انکے کام کی نگرانی کرتے. دوپہر کا کھانا گھر پر ہی کھاتے ۔ کھانا کھاکر بیٹھک میں اہنے دوستوں سے ملکر تاش کھیلنے لگ جاتے ۔اور شام کو ایک چکر پھر زمینوں کا لگاتے اور شام ہوتے ہی گھر آجاتے ۔ گھر میں ایک خادمہ تھی جو کہ صفائی ستھرائی کاکام کرتی اور مجھے صرف کھانا پکانا ہوتا تھا. باقی سارے کام خادمہ سرانجام دیتی ۔ اریبہ کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد جب سکول کھلے تو معمول کچھ تبدیل ہوگیا اب صبح اریبہ کو ناشتہ کرواکر اسکے ابو کیساتھ سکول بھیجنا شام کو اسکی ہوم ورک میں مدد کرنا شامل ہوگیا ۔ یہ روزانہ کا معمول تھا. دن تو جیسے تیسے گزر جاتا مگر رات کو جب چارپائی پر لیٹتی تو خیالات میں پتہ نہیں کہاں کہاں بھٹک جاتی ۔ صغیر کو گئے ہوئے چارماہ ہوچکے تھے اور اب اسکی کمی محسوس ہونے لگی تھی. گھر میں اب کچھ تبدیلی سی محسوس ہونے لگی تھی یا پھر مجھے محسوس ہوتی تھی جب میں بیاہ کر آئی تھی تو اجنبیت کا احساس تھا ساسو ماں تو شروع سے ہی مہربان تھیں ۔ مگر میرے جیٹھ پہلے مجھ سے بہت کم مخاطب ہوتے تھے کوئی ضروری کام ہوتا تو بات کرتے یا پھر جب اریبہ کوئی ضد کررہی ہوتی تو مدد کے لیے کہتے ۔ مگر اب وہ مسکرانےبھی لگے تھے اور میرے پکے پکوان کی تعریف بھی کردیتے تھے ۔ سسر تو ہفتہ میں دودن ہی آتے تھے اور انکا ریویہ مشفقانہ ہی ہوتا. اریبہ سے میری پکی دوستی ہوچکی ہے ۔ کہنے کا مطلب یہ کہ اب میں خود کو اس گھر کا فرد محسوس کرنے لگی ہوں ۔اب بھی میکے کی یاد آتی ہے مگر اس کی شدت میں کمی آچکی ہےگھر میں اریبہ کی وجہ سے کافی رونق تھی ۔ چونکہ وہ سب کی لاڈلی تھی اور اس کی شرارتوں سے سب لطف اندوز ہوتے تھے ۔ ابھی وہ آٹھ سال کی تھی اور اس کو زیادہ سمجھ نہیں تھی کہ کیا بات کرنی ہے اور کیا نہیں کرنی. ایک بار وہ اپنے ابو سے ناراض ہوکر میرے کمرے میں آگئی( وہ اکثر اپنے ابو سے روٹھ کر میرے ہی پاس آتی) اور اپنے ابو کی شکایت لگانے لگی. میں نے اس کا دل صاف کرنے کی غرض سے اس کے ابو کی تعریف کردی ۔ کہ دیکھو بیٹی وہ تو بہت اچھے ہیں تم سے پیار کرتے ہیں ۔ تم کو اپنی گود میں بٹھاکر اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتے ہیں تمہاری ہربات مانتے ہیں ۔ ایسے ناز اٹھانے والے ابو توکسی کسی کو ملتے ہیں ۔ تو وہ پوچھنے لگی کہ آنٹی آپ کے ابو کیا آپ کو گود میں نہیں بٹھاتے تھے تو میں نے کہا کہ نہیں وہ ایسا نہیں کرتے تھے ۔ تھوڑی دیر بعد اس کے ابو آئے اور وہ ان کے ساتھ سونے کے لیے چلی گئی ۔ وہ اپنے ابو کے کمرے میں ہی سوتی تھی ۔ اگلی صبح جب میں دونوں باپ بیٹی کا ناشتہ لیکر ان کے کمرے میں گئی تو اریبہ اپنے والد کی گود میں بیٹھی سوال و جواب کررہی تھی ۔ مجھے دیکھتے ہی اریبہ کھڑی ہوگئی اور میِں نے ناشتہ ٹیبل پر رکھ دیا۔ اریبہ مجھ سے پو چھنے لگی آنٹی آپ کے ابو آپ کو گود میں نہیں بٹھاتے تھے ناں۔۔۔ میں نے بات ٹالنے کی کوشش کی اور کہا بیٹی ، آؤ ناشتہ کرلو پھر سکول کی بھی تیاری کرنی ہے ۔ مگر اس نے پھر وہی تکرارکی اور کہنے لگی آنٹی آپ آج میرے ابو کی گود میں بیٹھ جاؤ ۔ میں یہ سن کر ہکا بکا ہوگئی اس کے ابو نے جلدی سے کہا اریبہ کیا اول فول بک رہی ہو مگر اریبہ کے سرپر یہی دھن سوار تھی اس نے مجھے اپنے ننھے ہاتھوں سے کرسی کی طرف دھکیلنا شروع کردیا مگر میں اس کو پکڑتی اور ادھر ادھر ہوجاتی ۔ وہ پھر میرے گھٹنوں کو دبادیتی ۔ اس کشمکش میں میرا پاؤں میز کے پایا سے ٹکرا گیا اور میں لڑکھڑا گئی اور سیدھی سمیر بھائی کی آغوش میں جاگری ۔ انہوں مجھے سنبھالا تو انکا ایک ہاتھ میری کمر پر ایک میرے ابھاروں پرجا ٹکا۔ میں نے سمیر بھائی کیطرف دیکھا تو انکی نگاہیں مجھ پر جمی ہوئی تھیں ۔ میں جلدی سے اٹھی اور روہانسی ہوکر کمرے سے نکل گئی اور اپنے کمرے میں جاکر چارپائی پر گرگئی۔ میرے دل کی دھڑکن بہت تیز ہوچکی تھی اور جسم کانپ رہا تھا ۔ سارا جسم پسینہ پسینہ ہورہا تھا ۔ میں کچھ دیر لیٹی رہی کچھ حواس بحال ہوئے تو اٹھ کر بیٹھ گئی اور سوچنے لگی کہ یہ کیا ہوگیا ۔ اریبہ تو بچی تھی بچے ضد تو کرتے ہی ہیں ۔ غلطی کسی کی بھی نہیں تھی. مگر جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا. میں اب اریبہ کے ابو کا کیسے سامنا کرونگی. انکا خیال آتے ہی مجھے ان کے ہاتھوں کالمس اپنی کمر اور ممے پر محسوس ہونے لگا ۔ انہوں نے جب مجھے اپنے بازوؤں میں تھاما تھا تو مجھے انکی آنکھوں میں حیرانگی اور ستائشی جذبات نظر آئے تھے. میں یہ سوچ کر شرماگئی اتنے میں اریبہ آگئی اسکو سکول کے لیے تیار کیا اور وہ تیار ہوکر اپنے ابو کیساتھ سکول چلی گئی ۔ میں نے اپنی ساس جن کو میں اماں کہتی ہوں کو ناشتہ دیا وہ ناشتہ کرکے پھر سوجاتی ہیں اور دوبارہ ظہر سے پہلے اٹھتی ہیں۔اماں کو ناشتہ کروانے کے بعد میں نے اپنے اور اریبہ کے ابو کے لئےچائے کا پانی چولہے پر چڑھادیا ۔ کیونکہ وہ اریبہ کو سکول چھوڑنے کے بعد آکر چائے کا کپ لیتے تھے۔ حسب معمول وہ اریبہ کو سکول چھوڑنے کے بعد گھر آکر غسل سے فارغ ہوکر کچن میں آگئے ۔ میں نے جھکی ہوئی نظروں سے انکو چائے کا کپ پکڑایا اور کہا بھائی جان کچن کا سودا سلف بھی منگوانے والاہے ۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے مجھے لسٹ بنادو میں شہر جاکر لے آتا ہوں ۔ میں نےلسٹ تیار کی تھوڑی دیر بعد انکو لسٹ پکڑادی اور وہ شہر چلے گئے ۔ شہر جانے کے لئے وہ موٹر سائیکل استعمال کرتے تھے. میں نے سکون کا سانس لیا ایک مشکل مرحلہ تھا جو میں نے عبور کیا. صبح سے یہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہی تھی کہ اب اریبہ کے ابو کا سامنا کیسے کرونگی مگر اب میں نے ہمت سے کام لیکر انکو کام بھی بول دیا ۔ وہ شہر سے واپسی پر کھتیوں میں نہیں گئے ۔ میں دوپہر کا کھانا بنا چکی تھی ۔ خادمہ کو کہیں کام تھا وہ چھٹی لیکر چلی گئی تھی. میں نے ان سے پوچھا بھائی جان کھانا لے آؤں تو انہوں نے کہا لے آؤ اور اپنے کمرے میں چلے گئے ۔ میں نے کھانا لے جاکر انکی ٹیبل پر رکھ دیا اچانک انہوں نے میرا ہاتھ پکڑلیا . میں نے گھبرا کر انکی طرف دیکھا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے مجھے اپنی طرف کھینچا تو میں ڈگمگا گئی اور انکی آغوش میں جاگری ۔ مجھے بہت شدید غصہ آیا اور میں نے ایک جھٹکے سے اپنا آپ چھڑایا اور بھائی جان یہ کیسی بے ہودگی ہے کہتے ہوئے دوڑتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی اور چارپائی پر اوندھے منہ گر کر رونے لگی ۔۔ مجھے بہت غصہ آرہا تھا کہ انہوں مجھے کیا سمجھ کر ایسی گری ہوئی حرکت کی. مجھے رونا بھی آرہا تھا اور غصہ بھی ۔ میں اونچا اونچا رونے لگی شکر ہے میری ساس سوئی ہوئی تھی اور خادمہ پہلے سے ہی چلے گئی تھی ورنہ انہوں نے میرے رونے کی آواز ضرور ان کو سنائی دیتی ۔۔ پتہ نہیں کتنا ٹائم گزرا ۔ میرا رونا اب سسکیوں میں ڈھل چکا تھا ۔ رونے سے کافی سکون ملا۔دفعتا میں نے اپنے شانوں پر کسی کا ہاتھ ٹکا محسوس کیا اور میرا بدن کانپ گیا ۔ مجھے جھر جھری سی آگئی اسی کے ساتھ وہ ہاتھ میرے شانوں پر سے ہٹ گیا۔انیلہ پلیز مجھے معاف کردو۔ مجھ سے غلطی ہوگئی ۔ سمیر کی آواز سن کر مجھے اور غصہ اور رونا آگیا ۔ غصہ اس لیے کہ جیسا بھی ہو میں اس کے چھوٹے بھائی کی بیوی ہوں ۔ اس کو ہمت کیسے ہوئی میرا ہاتھ پکڑنے کی ۔ میں اسکو بھائی جان کہ کر مخاطب کرتی ہوں ۔ اریبہ کیساتھ ملکر ہنسی مزاق کرنا اور بات ہے اور مجھ پر اکیلے میں حملہ کرنے کا مجھے بہت رنج والم ہورہا تھا انیلہ دہکھو میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہا ہوں ۔ مجھے پتہ نہیں کیا ہوگیا تھا ۔ میں وعدہ کرتا ہوں آئندہ ایسا نہیں ہوگا ۔ تم ایک بہت اچھی لڑکی ہو میرے دل میں تمہارے لئے بہت احترام ہے ۔ دیکھو پلیز اب تو مجھے معاف کردو یہ کہتے ہوئے ان کے ہاتھوں نے میرے پاؤں پکڑ لئے ۔میں نے تڑپ کر اپنے پاؤں کھینچ لئے اور ان سے کہا پلیز آپ جائیں یہاں سے ۔۔مجھے تنہا چھوڑ دیں ۔ انہوں نے جواب دیا میں اس وقت تک نہیں جاؤنگا جب تک تم مجھے معاف نہیں کروگی ۔ یہ کہ کر انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور بالوں میں انگلیاں پھیرنی شروع کردیں ۔میں نے ان کا ہاتھ جھٹک دیا اور ان سے جانے کو کہا ساتھ ہی میری سسکیاں اور اونچی ہوگئیں ۔مگر انہوں نے پھر میرے پاؤں پکڑلئے ۔ مجھے ان کا بار بار پاؤں چھونا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ وہ برابر منت کئے جارہے تھے. میں چاہتی تھی کہ وہ جائیں وہاں سے. جو ہونا تھا وہ ہوچکا تھا ۔ معافی تلافی سے کیا ہوگا ۔ مگر انہوں نے میرے پاؤں پر اپنا سر رکھ دیا ۔ میں تو اوندھی لیٹی ہوئی تھی ۔ میں تڑپ کر اٹھی اور بھائی جان یہ آپ کیا کررہے ہیں کہ کر انکا سر اٹھایا ۔ وہ چارہائی پر میرے برابر ہی بیٹھ گئے اور ہاتھ جوڑتے ہوئے پھر معافی کی گردان شروع کردی ۔ انکے اس طرح معافی مانگنےسے مجھے اور بھی رونا آگیا ۔ میں اور اونچا اونچا رونے لگی ۔ مجھے یوں بلکتے دیکھ کر انہوں نے میرا چہرہ اہنے ہاتھوں میں تھام لیا ۔ میری آنکھیں بند تھیں اور گال آنسوؤں سے تر ہوچکے تھے انہوں نے میری بھیگی اور بند آنکھ پر اپنے لب رکھ دئیے میرے سارے بدن میں بجلی سی کوند گئی ۔ عجیب سا احساس ہونے لگا ۔ انہوں نے یہی عمل دوسری آنکھ پر بھی کیا ۔ میں پگھل کر رہ گئی ۔ میں نے محسوس کیا میں ہاررہی ہوں میرے ہونٹ ادھ کھلے سے ہوگئے جیسے وہ بھی اس کے ہونٹوں کے پیاسے ہوں ۔ میں اس طرح کبھی بے بس نہیں ہوئی تھی۔ شکر ہے اس نے میرے ہونٹوں کی طرف دھیان نہیں کیا ورنہ ڈر تھا کہیں میں بھی انہیں جواب میں چومنے لگتی۔ میں نے انہیں دیکھا تو مجھے انکی آنکھوں میں بھی نمی نظر آئی ۔ میں نے روتے ہوئے انکے شانوں پر اہنا سر رکھ دیا اور میری ہچکیاں بندھ گئیں ۔ انکا ہاتھ میری کمر پر آیا اور انہوں نے مجھے بھینچ کر اپنے سینے سے لگالیا ۔ میں کتنی ہی دیر بے بے خود ہوکر انکے سینے سے لگی رہی ۔ احساس ہونے پر ان سے الگ ہوئی ۔ انہوں نے پھر میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا اور میری طرف دیکھ کر مسکرائے تو میں نے جلدی سے اپنا چہرہ ان کے ہاتھوں سے چھڑایا اور کہا کھلے ہوئے دروازے کطرف دیکھتے ہوئے ان سے کہا بھائی جان اب آپ جائیں کسی نے دیکھ لیا تو طوفان آجائے گا۔ تم نے مجھے معاف کروگی تو میں جاؤنگا۔ میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ کو معاف کیا ۔ اب آئندہ ایسی حرکت نہ ہو تو انہوں نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر پرامس کیا کہ آئندہ ایسی حرکت نہیں ہوگی۔ اور میری پیشانی پر بوسہ دیکر کمرے سے چلے گئے ۔میں پریشان سی ہوکر سوچنے لگی آج صبح سے یہ کیا ہونے لگا ہے ۔۔۔۔ خیر میں اٹھی اور اماں کو ظہر کی نماز کے لئے وضوکروایا اورخود بھی وضو کرکے نماز ادا کی ۔ اریبہ کے سکول سے آنے کا انتظار کرنے لگی. اریبہ کے سکول سے آنے پر کھانا کھایا ۔ کھانے کے بعد اسکو کچھ ٹائم کھیلنے کے لئے دیا ۔ پھر اسکو ہوم ورک پر لگاکر شام کے کھانے کی تیاری میں مشغول ہوگئی ۔ رات کو کھانا کھاکر سونے سے پہلے اپنی ساسو ماں کے پاؤں دبائے اور دعائیں لیتی ہوئی اپنے کمرے میں سونے کے لئے آگئی ۔ رات کو سونے کے لئے میں ہلکا لباس استعمال کرتی ہوں ۔ ایک سوتی ٹراؤزر اور اوپر ایک ہاف بازو کرتہ نما شرٹ ۔۔ اپنے آپ کو اس طرح آئینے میں دیکھنا اچھا لگتا ہے اس لئے تو کہتی ہوں مجھے کسی اور سے نہیں خود سے محبت ہے ۔ رات کو برا اور پینٹی نہیں پہنتی ۔ البتہ سوتے ہوئے اوپر کوئی کپڑا اوڈھ لیتی ہوں ۔ ۔ بستر پر دراز ہوکر خیالوں میں کھوگئی ۔ آج دن کا آغاز ہی ایسا ہوا تھا کہ ہربات ناقابل یقین لگتی تھی. مگر یہ حقیقت میں واقعات ہوچکے تھے ۔ پہلے اریبہ کی وجہ سے میرا لڑکھڑانا سمیر بھائی کا مجھے سنبھالنا پھر سمیر بھائی کا مجھ بازو سے پکڑ کر اپنی گود میں گرانے کی کوشش کرنا ۔ یہ معمولی واقعات نہیں تھے جن کو نظر انداز کیا جاتا ۔ یہ حقیقت ہے میری کئی کلاس فیلوز ہائی سکول میں ہی محبت کے چکر میں مبتلا ہوچکی تھیں. مگر میں اس بیماری کے وائرس سے محفوظ ہی رہی تھی. حتی کہ شادی کے بعد بھی میرا دل کسی کے لئے نہ دھڑکا تھا۔ شادی فریضہ سمجھ کر والدین کی رضامندی کی خاطر ہوئی جس کا نہ ہی شوق تھا اور ناہی چاہت تھی ۔ سہاگ رات کے بارے بہت کچھ کہاجاتا ہے میں نے اسکو بھی ایک مشکل وقت سمجھ کر برداشت کیا خاوند کیساتھ زیادہ فرینکنس نہ ہوسکی نہ وہ زیادہ دلچسپی دکھاتے ۔ سیکس ہم کرتے تھے مگر مجھے اس میں کوئی خاص چارم محسوس نہ ہوتا ۔ میں سوچتی کہ شاید میں ٹھنڈی عورتوں میں سے ہوں ۔خاوند بھی جیسے کوئی مجبوری نبھارہے ہوتے محسوس ہوتے ۔ سچ تو یہ ہے کہ میرا دل آج تک کسی کے نام پر نہ دھڑکا تھا مگر آج صبح گرتے ہوئے جب سمیر بھائی نے مجھے سنبھالنے کی کوشش کی تو انکے ہاتھ لگتے ہی میرے جسم میں ایک کرنٹ ساڈوڑتا محسوس ہوا اور کافی دیر تک مجھے بدن کے ان حصوں پر انکا لمس محسوس ہوتا رہا جہاں جہاں وہ لگے تھے ۔ پھر دوپہر کو جب سمیر بھائی منانے آئے اور جب انہوں نے میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی اپنے نے ہمدردی سے مجھے چھو لیا ہو ۔ پھر سمیر بھائی کا باری باری میری آنکھوں کو چومنا اور میرے آنسو پی جانا مجھے بہت خوار کرگیا مجھے محسوس ہوا کہ انیلہ تو تو لگی گئی میں چاہتی تھی وہ مجھے چومے مجھے گلے سے لگا کر میرا سارا درد کرب سارا غصہ اپنے اندر منتقل کرلے ۔ میں خود اس کے گلے لگ جاتی دل تو کررہا تھا کہ اپنے آنسوؤں سے گیلے ہوئے اس کے ہونٹ اہنے ہونٹوں میں لیکر انکا ذائقہ چکھوں ۔ مگر میں سمیر کو کمرے سے جانے کا کہ کر اپنا بھرم رکھنے میں کامیاب ہوگئی تھی ۔ میں سمجھنے لگی ہوں کہ میرا دل سمیر بھائی پر مائل ہونے لگا ہے اور یہ پہلی بار میرے ساتھ ایسا ہواورنہ انیلہ کب کسی کی پروا کرنے والی تھی نیند میں جانے سے پہلے میں نے کئی بار اپنی آنکھوں کو چھوا جن پر سمیر بھائی نے اپنے بوسے ثبت کئے تھے ۔حسب معمول صبح اٹھ کر اماں کو وضوا کرواکر خود بھی نماز ادا کی ۔اس کے بعد کچن میں آگئی اور ناشتہ تیار کرنے لگی۔ سمیر بھائی صبح کی سیر سے واپس آکر غسل کرنے لگے. اتنے میں اریبہ بھی جاگ گئی میں ناشتہ تیار کرچکی تھی اریبہ کو سکول کے لئے تیارکیا اتنے سمیر بھائی غسل سے فارغ ہوگئے میں ناشتہ لیکر ان کے کمرے میں گئی تو مجھے کل والی واردت یاد آگئی ۔ میں نے چور نظروں سے سمیر بھائی کی طرف دیکھا تو وہ میری ہی طرف دیکھ رہے تھے ۔ ان کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا کہ ایک دفعہ تو میں ڈگمگاگئی مگر پھر سنبھل کر ناشتہ کی ٹرے میز پر رکھنے کامیاب ہوگئی مگر اریبہ پھر اپنے والد کی گود سے اتر کر کھڑی ہوگئی کہ آنٹی کل تو آپ میرے ابو کی گود میں نہیں بٹھیں تھی آج تو آپ کو ضروور بٹھاؤنگی ۔ اف یہ افتاد میں نے بے چارگی سے سمیر بھائی کو دیکھا تو انکو مسکراتے پایا اس سے پہلے کہ مجھے غصہ آتا انہوں نے چارپائی سے ایک تکیہ اٹھا کر گود میں رکھ لیا اور کہنے لگے کہ انیلہ تم تھوڑی دیر کو اس تکیہ پر بیٹھ جاؤ تاکہ اریبہ کی ضد پوری ہو جائے میں نے بناوٹی غصہ والا چہرہ بنایا اور سمیر بھائی کی گود میں کرسی پر اس طرح بیٹھ گئی جیسے عورتیں موٹرسائیکل پر پیچھے ایک طرف ٹانگیں کرکے بیٹھتی ہیں ۔ چونکہ میرے نیچے تکیہ تھا اور میں کرسی کے ہتھے سے کچھ اونچی تھی سمیر بھاٰئی کے ہاتھ میرے کندھوں کو چھو رہے تھے اور انکا منہ میرے ابھاروں کے برابر آرہا تھا اور مجھے انکی سانسوں کی گرم ہوا محسوس ہورہی تھی ۔ ایک یا دو منٹ بیٹھ کر میں اٹھ گئی۔اور اریبہ کو اپنے ابو کی گود میں بٹھاکر کمرے سے نکل آئی میں پریشان ہونے لگی کہ یہ روز کا گود میں بیٹھنا اچھی بات نہیں اریبہ بچی ہے کبھی کسی سے ذکر کردیا تو پھر کیا عزت رہ جائیگی ۔میں نے سوچا دوپہر کو کھانا دینے جاؤنگی تو سمیر بھائی سے بات کرونگی ۔ کل سمیر بھائی آپ نے پرامس کیا تھا کہ کوئی غلط قدم نہیں اٹھائینگے ۔ مگر آج میں چاہتی تھی کہ سمیر بھائی اپنا پرامس پورا نہ کریں ۔ دوپہر کو کھانا دینے گئی تو سمیر بھائی اسی کرسی پر براجمان اخبار پڑھ رہے تھے میں ہولے سے کھانسی تو وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گئے کل جب سے وہ معافی مانگ کر آئے تھے تو ہم دونوں کی تنہائی میں پہلی ملاقات تھی میں نے کھانا رکھا اور کھڑی ہوگئی انہوں نے ٹرے اہنے سامنے کی تو میں نے پوچھا ۔۔ جناب جاؤں یا آپ نے ہاتھ پکڑ کر اپنی آغوش میں بٹھانا ہے یہ سن کر سمیر بھائی حیران ششدر ہوگئے ۔ان کا چہرہ فق ہوگیا اور ہلکلاتے ہوئے بولے. انیلہ میں نے معافی مانگ لی تھی ۔ مگر میں نے تو حضور معاف نہیں کیا. یہ کہتے ہوئے میں اچانک کر انکی گود میں بیٹھ گئی ۔ انکی حالت دیکھنے والی تھی. اور مجھ میں نجانے کہاں سے انکو ستانے کی ہمت آگئی ۔ پھر ان سے فرمائش کی اپنی لاڈلی بھرجائی کو کھانا نہیں کھلاؤگے ۔ تو جلدی سے ایک نوالہ بناکر میرے منہ میں ڈالتے ہوئے کہنے لگے. زہے نصیب. میں نے بھی ایک نوالہ بنایا اور انکے منہ میں ڈال دیا ۔ اب مرد آخر مرد ہوتا ہے میری تھوڑی سی حوصلہ افزائی سے وہ مجھے جہاں وہاں ٹچ کرنے لگے ۔ اتنے تک مجھے محسوس ہوا کہ انکا ناگ سر اٹھانے لگا ہے ۔ تو میں جان بوجھ کر اچھل کر کھڑی ہوگئی اور انکی شلوار کی اٹھان کی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی کہ یہ کیا سمیر بھائی آپکی تو نیت خراب دکھتی ہے وہ شرمندہ سے ہوئے اور میں کمرے سے نکل گئی ۔ پہلے تو خالی برتن خادمہ لےآتی تھی مگر آج میں کچھ دیر بعد برتن اٹھانے گئی تو سمیر بھائی چارپائی پر لیٹے سگریٹ کے کش لگارہے تھے ۔ وہ کھانے کے بعد ایک یا دو سگریٹ پیتے ہیں یہ تو مجھے معلوم تھا اس لئیے مجھے کوئی حیرانگی نہیں ہوئی ۔ مگر سمیر بھائی مجھے دوبارہ دیکھ کر حیران ہوئے ۔ میں اسی کرسی پر بیٹھ گئی جس کرسی پر بیٹھ کر وہ کھانا کھارہے تھے ۔ میں نے ان سے کہا سمیر بھائی آپکی گود میں بیٹھ کر آپکی خواہش پوری کردی ۔ یہ اریبہ کے کہنے پر روز آپکی گود میں بیٹھنا مجھے برا نہیں لگے گا مگر یہ اریبہ کے لئے غلط مثال بن جائے گا
 اریبہ بچی ہے مگر آپکی گود میں میرا بیٹھنا اسکی یاداشتوں میں رہ بھی سکتا ہے ہوسکتا ہے یہ سب کچھ اسکی ضد کا نتیجہ تھا یہ اسکو یاد نہ رہے ۔مگر میرا آپکی گود میں بیٹھنا اسکو یاد رہے گا اور جوان ہوکر وہ پتہ نہیں ہمارے بارے کیا سوچے اس لئے آپ بھی اسے سمجھائیں اور میں بھی اسے سمجھاؤنگی ۔ وہ بولے ٹھیک کہ رہی ہو ہمیں اریبہ کو سمجھانا ہوگا ۔ میں نے کہا کہ میرے خیال میں آپ اپنے کمرے میں ناشتہ کرنے کی بجائے کچن میں ناشتہ کریں وہاں کافی کرسیاں ہیں بیٹھنے کے لئے ۔ ٹھیک ہے انیلہ کل سے ہم کچن میں ہی ناشتہ کرینگے مگر ایک شرط پر جی بولیں کونسی شرط میں نے پوچھا تو کہنے لگے تم ہمارے ساتھ کچن میں ناشتہ کروگی. اٹس اوکے نوپرابلم ڈن میں نے کہا ۔ ٹھیک ہے کل سے ناشتہ کچن میں ۔۔ میں اٹھنے لگی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ۔ تو میں نے انہیں اپنا پرامس یاد دلایا تو کہنے لگے کل تمہارا غصہ دیکھ کر ڈرگیا تھا اور آج تو تمہیں دیکھ کر پیار آرہا ہے ۔ اچھا جی یہ پیار سنبھال کر رکھو مجھے ضرورت نہیں یہ کہ کر میں ہاتھ چھڑانے لگی مگر انہوں نے ہاتھ بڑی مضبوطی سے پکڑرکھا تھا میں پورا زور لگانے لگی تو انہوں نے ایک ہی جھٹکے کیساتھ مجھے اپنے اوپر گرالیا اب میں انکے سینے پر گری ہوئی تھی اور میرا نچلا حصہ چارپائی سے نیچے تھا انہوں نے مجھے بھینچ لیا اور میرے گال پر بوسہ دیا تو میں بولی ۔۔ سمیر بھائی مجھے جانے دیں کوئی آجائے گا تو انہوں نے ہاتھ ڈھیلا کیا تو میں نے ہاتھ کھینچا اور تیزی سے کمرے سے نکل آئی ۔ مجھے اپنی سانس بحال کرنے میں کچھ دیر لگی میں اپنی نیم رضامندی دکھا آئی تھی اب آگے سمیر صاحب کا کام تھا کہ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہیں یا گنواتے ہیں اپنے قمیض کی سلوٹیں ٹھیک کرکے کچن میں آئی تو خادمہ کھانا کھارہی تھی ۔۔شام تک روز کے معمولات میں لگی رہی. رات کو اماں کے پاؤں دباکے سونے سے پہلے میں نے غسل کیا ۔ مجھے قوی امید تھی سمیر بھائی رات کو ضرور میرے پاس آئینگے ۔ کیونکہ میں دانہ ڈال چکی تھی ۔ ٹانگوں کے بال دودن پہلے ہی صاف کئے تھے اس لئے میں اس طرف سے مطمئن تھی ۔ یہاں وہاں اپنے خوشبو لگائی اور دروازے کی چٹخنی لگائے بغیر بند کرکے بستر پر لیٹ گئی ۔ دل میں کافی تشویش اور گھبراہٹ سی تھی کیونکہ میں پہلے کبھی اسی طرح سے کسی سے نہیں ملنے گئی اور نہ ہی کو ئی مجھے ملنے آیا تھا ۔ اور آج میں سمیر بھائی کو خاموش دعوت نامہ دے آئی تھی ۔ وہ آئے نہ آئے کچھ کہ نہیں سکتی تھی ۔ کل سے پہلے اس نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی تھی جس سے ظاہر ہوتا کہ ان کے دل میں میرے لئےکچھ ایسے جزبات ہیں ۔ میں جانتی تھی کہ وہ آیا بھی تو کافی دیر بعد ہی آئیگا ۔ اریبہ کے سونے سے پہلے انکا آنا ناممکن تھا ۔ اماں کا کمرہ درمیان میں پڑتا یے. انکو ایک تو سنائی اونچا دیتا ہے اور رات کو وہ کبھی باہر نہیں نکلتیں ۔ انکے کمرے میں زیرو واٹ کا بلب جلتا رہتا ہے۔جس سے انکے سونے یا جاگنے کا اندازہ ہوسکتا ہے ۔ میں انہی سوچوں میں گم خود سے کہتی وہ آئے گا. وہ نہیں آئے گا وہ آئے گا شاید نہیں آئے گا انہی سوچوں میں مجھے نیند آگئی ۔ رات کا جانے کونسا پہر تھا مجھے اپنے کولہوں پر کسی کا ہاتھ پھرتا محسوس ہوا میں چونک سی گئی پھر فورا سمیر بھائی کا خیال آیا تو سوتی بن گئی ۔ سمیر بھائی میرے کولہے پر ہاتھ پھیر رہے تھے ۔ اور معلوم ہوتا تھا وہ میرے برابر میں پیٹھ کے پیچھے لیٹا ہوا ہے میں یونہی لیٹی رہی تاکہ دیکھوں وہ کیا کرتا ہے ۔ میری پوزیشن ایسی تھی کہ میرے کولہے باہر کی جانب نکلے ہوئے تھے اور کمر اندر کی جانب ۔ سر تکیہ سے نیچے اور گھٹنے پیٹ کی طرف سکڑے ہوئے تھے ۔کیونکہ میں اسی طرح سوتی ہوں ۔ سمیر بھائی میرے کولہے کی گولائیوں پر ہاتھ پھیر رہے تھے ۔جب میری طرف سے انکو کوئی رسپانس نہ ملا تو انکے ہاتھ کولہوں سے اوپر کمر پر آگئے اور انہوں نے کمر اور پیٹ پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا ۔ مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا. انکا چھونا تو نارمل حالات میں بھی مجھے ناپسند نہیں تھا اور آج تو میں سپیشلی چاہتی تھی کہ وہ بے دھڑک ہوکر مجھے چھوئے اور مسلے ۔ میں یونہی سوتی بنی رہی ۔ سمیر نے میرے گال چھوئے اور تھوڑا سا اٹھ کر دیکھا کہ میں سوئی ہوئی ہوں یا نہیں ۔ اب اس نے کھینچ کر مجھے اپنے ساتھ لگا لیا اور میرے ابھاروں پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔ میرے جسم میں ایک عجیب سنسنی خیز حرارت اٹھنے لگی. جو آج سے پہلے کبھی محسوس نہ کی تھی ۔ اس نے تھوڑی دیر مجھے یونہی لپٹائے رکھا ۔ پھر اپنا ایک ہاتھ میرے نیچے سے گزار کر مجھے بلکل ساتھ چپکالیا ۔ اور دوسرا ہاتھ میرے چوتڑوں کو سہلاتا سہلاتا میری ٹانگوں کے درمیان جانے لگا. میں نے اپنی ایک ٹانگ تھوڑی سی اور موڑ لی جس سے اس کا ہاتھ میرے اندرونی حصے تک آسانی سے جاسکتا تھا. مجھے وہ چپکائے ہوئے تو پہلے ہی تھا ۔ اب اس نے اپنا نچلا دھڑ میرے پچھلے حصہ کیساتھ لگایا تو اسکا اکڑا ہوا ہتھیار میرے کولہوں کے بیچ ٹکرایاتو مجھے ایک جھرجھری سی آگئی ۔ اس نے جان لیا کہ میں جاگ رہی ہوں ۔ انیلہ تم جاگ رہی ہو اس نے سرگوشی کی تو میں نے سرگوشی میں ہی جواب دیا جی جاگ رہی ہوں مگر آپ یہ کیا کررہے ہو میں نے اپنا ہاتھ انکے کولہے پر رکھتے ہوئے پوچھا ۔۔ پیار کررہا ہوں انیلہ سمیر بھائی نے جواب دیا. ایسے پیار کیا جاتا ہے سمیر بھائی میں نے پوچھا تو اور کیسے پیار کیا جاتا ہے سمیر بھائی بولے ۔ میں نے کروٹ لی اور اس کے سینے سے لپٹ گئی اور اسکے قمیض کے اوپر سے کندھے پر بوسہ دیکر کہا ایسا کیا جاتا ہے پیار ۔ تو اس نے زور سے مجھے چمٹالیا اور میری گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے وہ گردن کو چومتے رہے اور میں مستی کی فضاؤں میں گم ہونے لگی ۔ سمیر کے ہاتھوں میں کوئی جادو سا تھا ۔ میرے انگ انگ میں مستی چھانے لگی ۔ سمیر بھائی ہم جو کررہے ہیں کیا ہمیں یہ کرنا چاہیے میں نے پوچھا تو وہ بولے کرنا چاہیے یا نہیں اس کا مجھے نہیں علم مگر جو ہورہا ہے بہت اچھا ہورہا ہے مجھے یقین ہے تمہیں بھی اچھا لگ رہا ہوگا۔۔۔۔ مگر میں نے کہنا چاہا. اگر مگر چھوڈو جان یہ کہتے ہوئے انہوں نے میرے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں جکڑ لئے ۔ میں اب اس کے بلمقابل تھی تو اسکا راڈ میری رانوں سے ٹکرا رہا تھا ۔ میں نے تھوڑی سی ٹانگیں کھلی کیں تو وہ بدمعاش جھٹ رانوں کے درمیان گھس گیا اور میں نے رانوں کو بھینچ کر اس کو جکڑلیا ۔ ادھر سمیر کی ہاتھ میرے پورے جسم کی سیر کرنے لگے انہوں نے اپنی زبان میرے ہونٹوں پر پھیری تو میں نے اپنے ہونٹ تھوڑے سے کھول دئیے تو اور اپنی زبان اسکی زبان سے ملانے لگی تو وہ میری زبان کو چوسنے لگا ۔ میں مزے لے رہی تھی اس نے اپنے راڈ کو میری رانوں کے درمیان رگڑنے کی کوشش کی تو میں نے رانیں ڈھیلی کردیں تو اسکا راڈ میری منی سے ٹکرا کر آگے پیچھے ہونے لگا ۔ میں نے اس کے کولہے پر ہاتھ رکھ کر آگے کی طرف دبایا اور خود بھی تھوڑا آگے ہوئی تو اسکا راڈ میری منی پر جاٹکا جو پہلے ہی گیلی ہوچکی تھی میں نے اسکا ازار بند کھول دی ا اور اس کے راڈ کو اپنے ہاتھوں آزاد کرلیا اور اسکو اپنے ہاتھ میں لیا تو مجھے اس پر بے تحاشا پیار آیا ۔ اس کی لمبائی اور موٹائی کسی بھی عورت کی نیت خراب کرنے کے لئے کافی سے بھی کافی زیادہ تھی ۔سمیر نے ہاتھ بڑھا کر میری شلوار کو کھینچا تو وہ نیچے کھنچتی چلے گئی ۔ کیونکہ میں الاسٹک پہنتی ہوں ۔ میں اب اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنی شمیض اتار کر نیچے پھینک دی اب ہم دونوں ننگے تھے ۔ دروازے کی کنڈی لگائی تھی یا نہیں میں نے سرگوشی کی تو سمیر اٹھا اور دروازے کا کنڈا لگاکر واپس آیا تو اسکے لہراتے لن کو دیکھ کر میرے منہ میں پانی آگیا وہ جب چارپائی کے قریب پہنچا تو میں نے اسکے لن کو ہاتھ میں لیکر اچھی طرح جانچ تول کر دیکھا تو وہ ظالم بہت کام کی چیز نکلا ۔ میں اس کے موٹے ٹوپے کو چومنے لگی ساتھ ساتھ اس ہاتھ سے سہلاتی اور مساج بھی کرتی رہی ۔ سمیر اب کھڑا ہی رہا اور میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہا ۔ میں نے اسے قریب کھینچا اور اسکی ناف چومنے لگی ۔۔ اس کا لن میرے مموں سے ٹکراتا تو مستی کی ایک لہر اٹھتی جو میری چوت کے گیلے پن میں اور اضافہ کا موجب ہوتی اور رس لیکرسے نکل کر میری رانوں کو بگھونے لگتا ۔ سمیر کے چوتڑوں پر ہاتھ رکھ کر اسکو مزید اپنے قریب کیا اور اپنے بوبز کو سمیر کے لن کیساتھ رگڑنے لگی. سمیر سے برداشت نہ ہوسکا تو اس نے میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس پر بوسوں کی بارش کردی. مجھے لٹا کر ساتھ ہی لیٹ گیا سمیر نے اپنا ہاتھ میری بلی پر رکھا پھر ہاتھ کو انچ انچ کرکے نیچے لے جانے لگا ۔ مجھے عجیب سا محسوس ہوا ۔ سمیر کا ٹچ میرے لئے مقناطیس جیسی تاثیر رکھتا ہے تو جب اسکی انگلی نے میر دانے کو چھوا تو میں تڑپ اٹھی اور اسکا ہاتھ سختی سے پکڑ لیا اور اسے سرگوشی کی کہ نہیں سمیر یہ گندی ہے اسے مت ٹچ کرو آپکے ہاتھ گندے ہوجائینگے ۔ تو اس نے میرا ہاتھ ہٹا کر سیدھا میری رستی چوت کے دانے پر رکھا اور مساج کرنے لگا ۔ اسکی ایک انگلی لیکر کے اوپر پھری تو یوں لگا جانے کب سے اس لمحے کا انتظار تھا ۔ اسکی انگلی اندر گئی تو میں اچھل پڑی میرے چوتڑے اوپر اٹھے اور میری کمر ہچکولے کھانے لگی ۔ جیسے جیسے اسکی انگلی اندر باہر ہوتی ویسے ویسے میرے چوتڑے اوپر اٹھتے اور نیچے گرتے ۔میں بدحال ہونے لگی ۔ اسکی ایک انگلی میری چوت کی لیکر کراس کرکے پوری اندر تھی اور انگوٹھے سے وہ میری چوت کے دانے کو سہلارہا تھا ۔ کمرے میں میری تیز سانسوں کی گونج سنائی دینے لگی سمیر کی دوسری انگلی کا پہلی انگلی کیساتھ اندر جانا تھا میں برداشت نہ کرسکی اور سمیر کیساتھ بے اختیاری میں چمٹ گئی اور اف ظلمی کہتے ہوئے سمیر کے ہاتھوں میں چھوٹ گئی
 اتنا رس پہلے کبھی نہیں بہا تھا جتنا رس میری چوت نے آج بہایا تھا ۔ میں نے سمیر کا ہاتھ روکا اور اسکی انگلی کو زبان لگا کرچکھنے لگی ۔ مجھے ٹیسٹ اچھا لگا تو میں اس کی دونوں انگلیوں کو چومنے چاٹنے لگی باری باری ۔ میں ان انگلیوں کی احسان مند تھی جنہوں نے مجھے تڑپا تڑپا کر ڈسچارج کردیا تھا تو میں کیوں نہ ان انگلیوں کو چومتی چاٹتی ۔۔۔۔۔سمیرمیرے مموں کو ہاتھ سے دبانے سہلانے میں لگاہوا تھا ایک مما اس کے منہ میں تھا دوسرے کو وہ ہلکے دباتا اور مسلتا تو میری رگ رگ پر نشہ طاری ہونے لگتا تھا ۔ میں اس کے لن کو ہاتھ میں لیکر مسلنے لگیپیار سے ۔ اس پر تو بہت پیار آرہا تھا ۔ وہ تھا ہی بہت پیارا ۔ میں جانتی تھی کہ اب یہی میری راتوں کو سہارا اور دن کو خیالوں کا مرکز رہیگا ۔ سمیر میرے مموں کو چومتے دباتے کچھ اطاولے(دیوانے)سے ہورہے تھے میں نے انکے لن پر مساج تیز کردیا اور ساتھ ساتھ اسے دبابھی دیتی ۔ سمیر اٹھے اور میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گے انکا لن میری چوت کو سلامی دینے لگا تو میں نے پوچھا سمیر کیا کرنے لگے ہو تو کہنے لگے پیاسے کو سیراب کرنے لگا ہوں پیار کی ندیا میں میں غوطے لگائے گا تو اس کی جنم جنم کی پیاس بجھ جائیگی ۔۔۔۔ سمیر چمنی اتنی گرم ہے کہ یہ بےچارہ اندر جل جائے گا کیوں نا آج اسکو کنارے کنارے بھگولو اور پھر کسی رات اسے اندر ڈبکی لگانے کا موقع دینا ۔سمیر یہ سن کر مایوس تو ہوا مگر میں نے ٹھانا تھا کہ آج کی رات تو باہر باہر سے ہی مزے کرینگے ۔ سمیر نے کچھ کہے بغیر میری ٹانگیں اپنی کمر کے گرد لیں اور اپنا لن میری چوت کے اوپر عمودا رکھ کر رگڑنے لگا ۔ وہ شاید برداشت نہیں کرپارہا تھا اسکا لاوا باہر نکلنے کوبے تاب تھا کسی بھی وقت سیلاب بند توڑ کر باہر نکل سکتا تھا ۔تو میں نے کہا سمیر آپ لیٹ جاؤ اور میں نے پہلو بدل کر اس کی جانب اپنی پیٹھ کرلی اور اسکا لن پکڑ کر اپنی رانوں میں لے لیا ۔ میری رانیں تو گیلی تھیں پھر بھی میں نے لن کو تھوک سے خوب گیلا کیا اور رانوں کے اندر بھینچ لیا ۔ سمیر نے ہلنا اور دھکے لگانا شروع کیا ۔ اسکا لن آتے جاتے میری چوت کو بھی مسل رہا تھا ۔ سمیر نے ایک بازو میری کمرکے نیچے سے گزار کر میرے ایک ممے کو پکڑلیا اور اسے دبانے لگا اور اسکا دوسرا ہاتھ میرے چوتڑے سہلارہا تھا سمیر زور سے رگڑو میری چوت کو مسل ڈالو

Posted on: 02:45:AM 14-Dec-2020


3 0 280 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com