Stories


محبت کے بعد از شاہ جی

دوستو آج جو کہانی میں آپ لوگوں کےساتھ شئیر کرنے جا رہا ہوں۔اس کے بارے میں عرض ہے کہ یہ کہانی میں بہت عرصہ قبل ہی آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تھا لیکن بوجہ ایسا نہ کر سکا کہ بیچ میں کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور آن پڑتی تھی کہ نا چاہتے ہوئے بھی میں اس کہانی کو ادھورا چھوڑ کر کسی دوسری کہانی کی طرف متوجہ ہو جایا کرتا تھا ۔۔۔لیکن اس کہانی کو ۔۔کہ جو دراصل مجھ پر گزرے ہوئے ایک رئیل واقعہ پر مشتمل ہے میں نے ہر صورت لکھنا تھا – چنانچہ آج کچھ فرصت ملی تو میں نے اس کو لکھنا شروع کر دیا ہے ۔ یوں تو یہ کہانی مجھ پہ بیتا ہوا ایک واقعہ ہےیعنی کہ کہانی کا مرکزی خیال بلکل اصلی ہے ۔۔۔لیکن سیکس فورم ہونے کی وجہ سے اور آپ لوگوں کے منورنجن کے لیئے میں نے اس میں کافی سارے سیکس سین بھی ڈال دیئے ہیں تا کہ آپ کو مزہ آئے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔کہانی کو شوق سے پڑھیں ۔۔۔ ۔۔۔۔ دوستو! اس کہانی کا ایک ایک لفظ ،ایک ایک کردار مجھے آج بھی کل کی طرح یاد ہے کیونکہ یہ ایک ایسی داستان ہے جسے جب بھی میں یاد کرتا ہوں تو کبھی خوشی کبھی غم کا امتزاج بن جاتا ہوں ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ یہ تو آپ کو کہانی پڑھ کر ہی پتہ چلے گا۔۔۔۔ ہاں ایک درخواست کہ کہانی کے بارے میں مجھے اپنی رائے سے ضرور نوازیئے گا۔ تو آیئے کہانی شروع کرتے ہیں۔۔۔ دوستو اردو کا ایک محاورہ ہے بندر کی سزا طویلے کے سر ۔۔۔یا اسی قسم کا ایک محاورہ پنجابی میں بھی بولا جاتا ہے۔۔ کھان پی نوں رحمتے ۔۔۔ تے کُٹ کھان نوں جمعہ ( ویسے بعض لوگوں سے میں نے کُٹ کھان کی جگہ بُنڈمروان نوں جمعہ بھی سنا ہے ) یا پھر ایک اور پنجابی کا محاورہ بھی یاد آ رہا ہے کہ یےن والے نس گئے تو نہان والے پھنس گئے ( مطلب یہ کہ چودنے والے بھاگ گئے اور جو ویسے ہی نہا رہے تھے وہ چودنے کے الزام میں پکڑے گئے) اس کہانی میں مجھے بھی کچھ اسی قسم کی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا ہے یہ میری بے روزگاری کے عروج کے دن تھے ۔۔۔۔اور خاص طور پر جس وقت کا یہ واقعہ ہے اس وقت مجھ پر بے روزگاری کا سورج اپنے نصف النہار پر تھا ۔۔۔بہار کا موسم تھا لیکن ہم پہ خزاں چھائی ہوئی تھی وہ ایسے کہ ہم نے جیسے تیسے اپنے پڑھائی والے دریا کو تو عبور کر لیا تھا لیکن اس سے آگے جو دریا پڑتا تھا وہ مجھے ناقابلِ عبور لگ رہا تھا ۔۔۔اور وہ دریا نوکری والا تھا ۔۔۔۔۔یعنی کہ پڑھائی کے بعد اب ما بدولت نوکری کی تلاش میں تھے ۔۔۔ لیکن نوکری تھی کہ مل ہی نہیں رہی تھی ۔۔۔ اس لیئے دن بدن اپنے حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے جا رہے تھے ۔۔ میری اس بات کا مطلب وہ لوگ اچھی طرح سے سمجھ گئے ہوں گے کہ جنہوں نے بے روزگاری کا چلہ کاٹا ہے یا جو کاٹ رہے ہیں۔۔یہ وہ دن ہوتے ہیں کہ جب ہر طرف آپ کے لیئے صرف اور صرف " نو" کا بورڈ ہی لگا ہوتا ہے بندہ سارا دن مختلف دفتروں میں نوکری کی تلاش میں جوتیاں چٹخانے کے باوجود بھی جب شام کو گھر آ کر یہ اطلاع دیتا ہے کہ کام نہیں بنا ۔۔۔تو اس وقت جو گھر والوں سے جلی کٹی سننا پڑتی ہیں ۔۔۔۔ وہ بندے کا مزید دماغ خراب کرنے کے لیئے کافی ہوتی ہیں ۔لیکن مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق ۔۔۔ یہ باتیں سننی اور برداشت کرنا ہی پڑتی ہیں ۔۔مجھے ابھی تک یاد ہے کہ میری یہ موجودہ سروس مجھے کم از کم سو (محاورتاً نہین بلکہ حقیقتاً نجی و سرکاری ) محکموں میں ( جی ہاں سچ مچ سو مختلف جگہوں پر ) درخواستیں دینے اور ذلیل و خوار ہونے کے بعد ملی ہے ۔ (اسی لیئے مجھے اس نوکری کی بڑی قدر ہے ) ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ دن کے غالباً گیارہ بجے تھے اور میں لمبی تان کر سویا ہوا تھا کہ میرے کانوں میں امی کی غضب ناک ڈانٹ گونجی کہ اگر تم اب بھی نہ اُٹھے تو میں تم پر پورا جگ پانی کا ڈال دوں گی ۔۔۔چنانچہ امی کی غضب ڈانٹ سن کر میں شرافت سے اُٹھ بیٹھا ۔۔۔اور چونکہ آج کسی جگہ ٹیسٹ انٹرویو کے لیئے بھی نہیں جانا تھا اس لیئے ۔۔۔۔۔ ناشتہ کرنے کے بعد۔۔۔میں نے اپنے پرانے رجسٹر سے ڈھونڈ کر ایک سفید کاغذ پھاڑا اور اسے احتیاط سے تہہ کر کے اپنی جیب میں ڈال کر گھر سے باہر نکل گیا میری منزل لیاقت باغ راولپنڈی کے ساتھ واقع میونسپل لائیبریری تھی ۔۔جب میں وہاں پہنچا تو ۔۔۔ مجھ سے پہلے ہی وہاں پر انجمنِ بے روزگاراں کے نوجوان لائیبریری کی کرسیوں پر بیٹھ کر اپنے سامنے مختلف اخبارت پھیلائے بڑے ہی انہماک سے " آسامیاں خالی ہیں " کے اشتہار ات نوٹ کر رہے تھے ابھی میں وہاں جا کر بیٹھا ہی تھا کہ اصغر نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا ڈان کا ایک صفحہ میری طرف بڑھایا اور سرگوشی کرتے ہوئے بولا ۔۔۔ اس میں تمہارے مطلب کی ایک اسامی کا اشتہار موجود ہے ۔۔۔۔اس کی بات سن کر میں نے جلدی سے اخبار کو اس کے ہاتھ سے پکڑا اور جیب سے کاغذ نکال کر متعلقہ اسامی کے کوائف وغیرہ نوٹ کرنے لگا۔۔۔ پھر اس کے بعد جب ہم نے سارے اخبارات کو اچھی طرح کھنگال کر دیکھ لیا تو ہم لوگوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو اُٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔ اور کچھ ہی دیر بعد ہم لوگ لیاقت باغ کے پارک میں بیٹھے ایک دوسرے کے ساتھ آج کے اخباروں میں دیئے ہوئے " آسامیاں خالی ہیں " کے اشتہارات کے بارے میں ڈسکس کر رہے تھے۔۔ کچھ دیر بعد گھاس پر بیٹھے بیٹھتے فہیم نے بڑی بے زاری کے ساتھ انگڑائی لی اور کہنے لگا۔۔ یار یہاں تو نوکری کے حالات بہت پتلے ہیں ۔۔۔ میں تو سوچ رہا ہوں کہ کیوں نہ کسی باہر کے ملک چلا جاؤں کہ روز روز گھر اور دفتروں میں ہونے والی بے عزتی برداشت نہیں ہوتی ۔۔ فہیم کی بات سنتے ہی اصغر نے اسے ایک موٹی سی گالی دیتے ہوئے کہا کہ سالے یہاں پاکستان میں رہ کر تو تم کو نوکری ملی نہیں اور تم باہر جانے کے خواب دیکھ رہے ہو۔۔ پھدی کے باہر جا کر کیا لن پکڑ لو گے؟ ۔۔۔۔۔پھر اس نے فہیم کی طرف دیکھ کر اسے ایک نہایت ہی فُحش اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یاد رکھ بیٹا ۔۔۔ جیہڑے ایتھے بھیڑے ۔۔۔او لاہور وی بھیڑے (مطلب یہ کہ جو اپنے ہوم ٹاؤن میں ناکام ہیں وہ ہر جگہ ناکام ہی ہوں گے )۔۔۔اصغر کی بات سن کر ہم سب دوستوں نے ایک فرمائیشی سا قہقہہ لگایا ۔۔۔ ادھر اصغر کے منہ سے گالی ۔۔۔ اور اس کا فحش اشارہ دیکھ کر فہیم ۔۔۔۔۔۔۔زرا بھی بے مزہ نہ ہوا بلکہ اسی قہقہہ کے دوران اس نے اپنی گھڑی کی طرف دیکھا اور پھر با آوازِ بلند ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ اوکے دوستو۔۔۔میں چلا کہ میری معشوق کی چھٹی کا ٹائم ہو گیا ہے شام کو ملیں گے یہ کہتا ہوا وہ اپنی جگہ سے ا ُٹھا اور وہاں سے غائب ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے جانے کے تھوڑی دیر بعد اصغر مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا یار شاہ کافی دنوں سے تمھارا پڑوسی امجد نظر نہیں آ رہا ۔ خیریت تو ہے نا ؟؟؟؟ ۔۔ اصغر کی بات سن کر میں نے چونک کر اس کی طر ف دیکھا اور بولا ۔۔۔ یار کہہ تو ۔۔۔تُو ٹھیک ہی رہا ہے واقعی کافی دنوں امجد کہیں دکھائی نہیں دے رہا ۔۔۔ کہیں بیمار شمار نہ ہو گیا ہو۔۔۔پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے میں تشویش بھرے لہجے میں بولا۔۔ چلو یار آج واپسی پر میں اس کے گھر سے ہوتا ہوا جاؤں گا ۔۔۔ میری بات سن کر پاس بیٹھے ہوئے اکرم نے برا سا منہ بنایا اور کہنے لگا ۔۔۔ کوئی ضرورت نہیں اس کے گھر جانے کی وہ مادر چود بلکل ٹھیک اور فِٹ ہے تو میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا گانڈو تجھے کیا الہام ہوا ہے کہ وہ بلکل ٹھیک ہے ؟؟۔۔۔ یا تینوں کی ُبنڈ تار آئی سی؟ ۔میری بات سن کر وہ مسکرایا اور کہنے لگا۔۔۔یار اس میں بنڈ تار والی کون سی بات ہے ۔۔مجھے ویسے ہی اس کے بارے میں پتہ ہےکہ ۔۔۔ اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ مزید کہتا ۔۔ میں اس کی بات کو درمیان سے ہی اُچک کر بولا ۔۔اور اگر بالفرض وہ تمہارے مطابق ٹھیک بھی ہے تو اتنے دنوں سے ہمیں نظر کیوں نہیں آ رہا ؟؟؟؟ ۔۔تو اکرم نے میری طرف دیکھتے ہوئے بڑے ہی طنزیہ لہجے میں کہا۔۔اعلیٰ حضرت اس کے نظر نہ آنے کی دو وجوہات ہیں۔۔۔ نمبر ایک یہ کہ وہ ہماری طرح سے کوئی ویلا اور بے روزگار نہیں ہے ۔۔اور دوسری وجہ اس کے یہاں نہ آنے کی یہ ہے کہ موصوف کو آج کل عشق بخار چڑھا ہوا ہے۔۔ اکرم کی دوسری بات سن کر ہم سب دوست ایک دم سے چونک گئے ۔۔۔پھر میں نے بڑی حیرانی سے اکرم کی طرف دیکھتے ہوئے سے کہا ۔۔ ہتھ ہولا رکھو یار۔۔۔۔۔۔۔۔ امجد جیسے شریف بچے کے بارے میں اتنی ڈس انفارمیشن اچھی نہیں ہے ۔۔۔جبکہ ہم سب یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ امجد ایسا لڑکا ہر گز نہیں ہے ۔ میری بات سن کر اکرم نے باری باری ہم سب کی طرف دیکھا اور کہنے لگا۔ بین یکو ( بہن چودو) مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ اس محفل کے سارے گانڈو میری بات کا ہرگز یقین نہیں کریں گے۔۔لیکن یہ بات سچ ہے دوستو کہ شاہ جی کا بیسٹ فرینڈ اور ہماری مجلس کا سب سے شریف بچہ مسٹر امجدآج کل ایک لڑکی کے ساتھ بھونڈی کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے وہ روز صبع اس کے ساتھ گھر سے نکلتا ہے اور لیاقت باغ تک اس کے ساتھ ساتھ آگے پیچھے چلتا ہے اور موقعہ دیکھ کر بات بھی کرلیتا ہے ۔۔۔ پھر لیاقت باغ سے وہ اپنے کالج (گورڈن) کی طرف چلا جاتا ہے اور وہ لڑکی اپنے کالج یعنی کہ وقار النساء کی طرف چلی جاتی ہے اس لیئے گھر سے وہ لیاقت باغ تک اس کے ساتھ آتا ہے۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے اکرم کو ایک موٹی سی گالی دی اور کہنے لگا ۔۔پھدی کے ۔۔۔ تمہیں اچھی طرح سے معلوم ہے کہ وہ گورڈن کالج میں پڑھتا ہے اس لیئے تم نے اسے گھر سے آتے ہوئے بائی چانس کسی لڑکی کے پیچھے دیکھ کر اتنا بڑا اسکینڈل بنا لیا ہے ۔۔۔۔ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ سامنے سے امجد آتا ہوا دکھائی دیا اسے دیکھ کر ہم سب ایک دم چُپ ہو گئے اور ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے اتنے میں امجد بھی ہمارے پاس آ کر بیٹھ گیا اور پھر جلد ہی اس نے ہماری خاموشی کو محسوس کر لیا اور ہم سب سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ۔۔ کیا بات یارو ۔۔۔ یہ تم لوگ میرے آنے پر ایک دم چُپ کیوں ہو گئے ہو ؟اس پر میں نے اس سے کہا ہم لوگ تمہارے ہی بارے میں باتیں کر رہے تھے ۔۔۔ اور پھر اسے کڑی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ سنا ہے کہ آج کل تم کسی لڑکی کے ساتھ گُل چھڑے اُڑا رہے ہو۔۔پھر اس کے بعد میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ۔ کیا یہ بات سچ ہے؟ میرا جارحانہ مُوڈ دیکھ کر امجد ایک دم گڑ بڑا سا گیا ۔۔۔ اور اپنی نظریں نیچی کر کے کہنے لگا جی بھائی یہ بات سچ ہے۔۔۔ امجد کی بات سنتے ہی اکرم نے ایک نعرہ لگایا اور خاص کر میری طرف دیکھ کر بولا ۔۔۔ لے بیٹا۔۔۔ اب تو میری بات کا تم کو یقین آ گیا ہے نا ۔۔۔میں نے اکرم کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے امجد سے پوچھا کہ ۔۔۔ ہاں تو بتا یار وہ کون سے ایسی پری ہے جس کی وجہ سے تم نے ہماری محفل میں آنا چھوڑ دیا تھا۔۔۔ میری بات سن کر امجد نے بڑی مجروح سی نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا۔۔۔۔ ایسی بات نہیں ہے بھائی۔۔۔۔ وہ اصل میں میرے کچھ ٹیسٹ آ گئے تھے اس لیئے میں کچھ دنوں سے آپ کی کمپنی کو جوائین نہ کر سکا۔۔۔۔۔ امجد کی بات ختم ہوتے ہی اصغر نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔ چلو مان لیتے ہیں کہ تم ٹھیک کہہ رہے ہو ۔۔۔۔۔ پر یہ بتا وہ لڑکی ہے کون؟؟ اور اس کا حدود دربہ کیا ہے؟ اس پر امجد نے ایک نظر ہم سب پر ڈالی اور کہنے لگا اس کا نام نبیلہ ہے اور وہ وقار النساء کالج (اب یونیورسٹی) میں پڑھتی ہے اس پر میں نے اس سے پوچھا کہ وہ رہتی کہاں ہے؟ تو امجد نے میری طرف دیکھ کر کہا وہ سنیاروں کے محلے میں رہتی ہے۔۔۔ امجد کی بات ختم ہوتے ہی اکرم کہنے لگا۔۔۔۔۔۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ شیدے سنیارے کی بہن ہے۔۔۔ اور یہ بات کرتے ہوئے اس نے امجد کی طرف دیکھا تو امجد نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔ شیدے سنیارے کا نام سنتے ہی ہم سب کو ایک دم شاک سا لگا ۔۔۔ کیونکہ ہم شیدے کو اچھی طرح سے جانتے تھے عمر میں وہ ہم سب سے بڑا اور ایک نمبر کا حرامی لڑکا تھا جو کام کاج تو کچھ نہیں کرتا تھا بس سارا دن آوارہ گردی کرتا رہتا تھا ۔۔ اس کے باپ کی صرافہ بازار میں دکان تھی اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے تین چار بھائی اور بھی تھے اور وہ بھی صرافہ بازار میں ہی بیٹھتے تھے ۔۔ شیدے سمیت ۔۔۔ باپ بیٹے سب حرام کے تخم تھے ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔چونکہ ان لوگوں کے پاس پیسہ بہت تھا اس لیئے رشید سنیارا حرامی سے حرامی تر ہوتا جا رہا تھا اور اب تو وہ اپنے محلے کا ایک چھوٹا موٹا ڈان بن گیا تھا ۔۔ نبیلہ اسی حرامی کی سب سے چھوٹی اور اکلوتی بہن تھی ۔۔۔۔۔۔اور امجد کے بقول اپنے گھر والوں کے برعکس وہ بہت ہی اچھی اور ان سے الگ تھلگ اور بہت ہی ڈیسنٹ لڑکی تھی۔۔۔ ہمیں یوں پریشان دیکھ کر امجدبھی پریشان ہو گیا اور کہنے لگا۔۔ یہ آپ سب کو کیا ہو گیا ہے ؟ شیدے سنیارے کا نام سن کر آپ لوگوں کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے ؟؟۔۔۔۔ امجد ہم لوگوں کا رویہ دیکھ کر ٹھیک ہی حیران ہو رہا تھا اور وہ اس لیئے کہ ہماری طرح امجد اس لائین کا بندہ نہیں تھا بلکہ وہ ایک سیدھا سادھا اور پڑھاکو قسم کا لڑکا تھا ۔۔۔ اور دوسری بات یہ کہ ان کو ہمارے محلے میں آئے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہی ہوئے تھے۔۔۔ جبکہ ہم لوگ تو انہی محلوں میں کھیل کود کر جوان ہوئے تھے اور ایک دوسرے کو بڑی اچھی طرح سے جانتے تھے۔۔۔۔ امجد کے بارے میں تھوڑا مزید بتا دوں کہ وہ ہمارا ہمسایہ تھا ۔۔۔اس کا والد اسلام آباد کی کسی منسٹری میں سیکشن آفیسر ٹائپ کا خاصہ کڑک بندہ تھا۔۔۔۔ کہنے کو تو امجد کی چار بہنیں تھیں لیکن اس وقت ان کے ساتھ دو ہی رہتی تھیں ۔۔۔ایک اس سے بڑی مہرالنساء جسے سب مہرو باجی کہتے تھے جو کہ شادی شدہ تھی جس کی عمر تیس بتیس سال ہو گی مہرو باجی کا خاوند سپین میں ہوتا تھا۔۔ان کی شادی کو چھ سات سال ہو گئے تھے لیکن ابھی تک ان کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی تھی ۔۔۔ اس لیئے وہ اپنے سسرال کے طعنوں سے بچنے کے لیئے زیادہ تر اپنے میکے میں ہی پائی جاتی تھی ۔۔ جبکہ امجد کی دوسری بہن اس سے چھوٹی تھی جس کا اصل نام تو مجھے معلوم نہ تھا لیکن سب اسے مینا مینا کہتے تھے۔۔۔۔۔ وہ میٹرک کی سٹوڈنٹ تھی۔۔۔۔ اور خاصی شوخ و شنگ قسم کی لڑکی تھی۔۔۔۔ دونوں بہنیں بہت حسین تھیں ۔۔۔۔ لیکن مجھے ذاتی طور پر ان کی والدہ بہت اچھی لگتی تھی ان کی عمر فورٹی پلس یا اس سے زیادہ ہو گی ۔۔۔ لیکن وہ اپنی عمر سے بہت ہی کم دکھتی تھیں ۔ تینوں ماں بیٹیوں کی رنگت بہت صاف اور سینہ درمیانہ تھا یعنی ان کی چھاتیاں نہ بہت بڑی اور نہ ہی بہت چھوٹی تھیں ۔ اگر تینوں کہیں آ جا رہیں ہوں تو ایسا لگتا تھا کہ وہ سب آپس میں بہنیں ہیں۔۔۔۔تینوں ماں بیٹیاں خاصی تیز تھیں لیکن ان کے بر عکس امجد بہت ہی شریف اور ۔۔۔۔۔ سیدھا سادھا سا لڑکا تھا۔اور ان خواتین سے خاصہ دب کر رہتا تھا ۔جبکہ یہ تینوں ماں بیٹیاں امجد کے والد سے بہت دبتی تھیں ۔۔۔امجد اتنا شریف اور اچھا لڑکا تھا کہ اس کے عشق کا سن کر ہم سب کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اس حضرت کو بھی عشق ہو سکتا ہے یہاں میں ایک اور بات واضع کرتا چلوں کہ دل کرنے کے باوجود بھی ابھی تک میں نے امجد کے گھر کی کسی خاتون پر کوئی ٹرائی نہیں ماری تھی ۔۔۔۔اور اسکی وجہ یہ تھی کہ اس کے باپ نے مجھے لارا لگایا ہوا تھا کہ جیسے ہی اس کی منسٹری میں کوئی ویکینسی نکلی تو وہ مجھے کہیں ایڈجسٹ کروا دے گا ۔۔۔ اس کے علاوہ بھی جب میں کسی جگہ انٹرویو وغیرہ کے لیئے جاتا تھا تو بعض اوقات وہ متعلقہ جگہ پر فون بھی کروا دیتا تھا ۔۔۔ لیکن شاید میری قسمت میں ہی کچھ گڑ بڑ تھی کہ ابھی تک میرا کام نہ بنا تھا ۔۔۔۔ اور میں اس لالچ میں کہ کبھی تو میری بات بنے گی ۔۔۔بڑی ہی شرافت سے ان لوگوں ۔۔۔ خاص کر اس کے ابا اماں کے آگے پیچھے پھرا کرتا تھا ۔ اس کے ساتھ ساتھ امجد چونکہ ایک پڑھاکو اور برگر ٹائپ کا بچہ تھا اس لیئے اکثر ان کے گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی میں ہی کر دیا کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔ اور اسی نوکری کے چکر میں ۔۔۔ میں نے امجد کی ماں بہنوں پر ابھی تک کسی قسم کی کوئی ٹرائی نہیں ماری تھی ۔۔۔ اور ایک طرح سے یہ چیز میرے حق میں بہت اچھی گئی تھی کہ میرے دوستانہ اور شریفانہ رویے کی وجہ سے میرا خاص کر امجد کے والد اور والدہ پر بہت اچھا اثر پڑا تھا ۔۔۔اور ان کی نظروں میں۔۔۔ ۔۔۔۔ میں ایک بہت شریف اور اچھا لڑکا تھا اسی لیئے وہ امجد کی طرح مجھے بھی اپنے بچے کی طرح ٹریٹ کرتے تھے۔۔۔ سوری امجد لوگوں کا تعارف تھوڑا لمبا ہو گیا ۔لیکن چونکہ اس کہانی سے ان کا گہرا تعلق ہے اس لیئے میں نے مناسب سمجھا کہ تھوڑا ان کا بھی تعارف کروا دوں ۔۔۔ ۔۔۔۔ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ جب امجد نے ہم سے سوال کیا کہ کیا ہوا ؟؟؟؟ شیدے کا نام سُن کر آپ لوگوں کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے؟ امجد کے سوال کرنے کی دیر تھی کہ اصغر جو پہلے ہی کافی بھرا بیٹھا تھا ایک دم امجد پر چڑھ دوڑا ۔۔۔اور کہنے لگا ۔۔۔ سالے تم کو بھی دل لگانے کے لیئے اور کوئی لڑکی نہیں ملی تھی؟ پھر پھنکارتے ہوئے بولا ۔۔۔تم کو پتہ ہے کہ یہ شیدا مادر چود ہے کون؟ اور یہ کس قدر حرامی اور کمینہ آدمی ہے۔۔۔اور پھر اس کے بعد اس نے شیدے کے حرامی پن کے بارے میں کافی لمبی چوڑی تقریر کی ۔اور اس کے ساتھ ساتھ بے چارے امجد کو بھی خوب سنائیں ۔۔۔۔۔۔۔ امجد حسبِ معمول کسی سعادت مند بچے کی طرح اصغر کی جلی کٹی باتوں کو سر جھکا کر چُپ چاپ سنتا رہا ۔۔۔۔ پھر جب تقریر ختم کر کے اصغر کا پارہ کچھ کم ہوا ۔۔۔تو امجد نے سر اُٹھا کر ہم سب کی طرف بغور دیکھا اور کہنے لگا ۔۔۔۔۔سوری دوستو۔۔ میں تو آپ لوگوں سے اپنی داستان شئیر کرنے اور کچھ مدد لینے آیا تھا ۔۔۔ لیکن یہاں آ کر مجھے پتہ چلا کہ شیدا بڑا حرامی اور کمینہ آدمی ہے اور آپ سب اس سے بہت ڈرتے ہیں ۔۔ اس لیئے میں سمجھ گیا ہوں کہ اس کھیل میں ۔۔ مجھے ۔ شیدے یا کسی اور کے ساتھ جو کرنا ہو گا اکیلے کو ہی کرنا ہو گا اور میرے دوستوں میں سے میرے کوئی کام نہیں آئے گا۔۔۔ یہ کہہ کر امجد اپنی جگہ سے اُٹھا ۔۔۔۔۔ اور جیسے وہ ہی چلنے کے لیئے آگے بڑھا ۔۔۔ میں نے اسے بازو سے پکڑ کر دوبارہ اپنی جگہ پر بٹھا لیا اور اس سے بولا ۔۔۔ کس بہن چود نے تم کو کہا ہے کہ ہم لوگ شیدے ۔۔۔مادر چود سے ڈرتے ہیں؟؟؟ ۔۔۔۔ میری بات سن کر امجد نے میری طرف دیکھا اور بڑی تلخی سے کہنے لگا ۔۔ابھی جو اصغر بھائی نے اتنا لمبا لیکچر دیا ہے اس سے تو یہ بات صاف ظاہر ہو رہی تھی کہ آپ سب اس سے بہت ڈرتے ہیں ۔۔۔تو میں نے اس کہا ۔۔۔ او نہیں یار تقریر کرتے ہوئے اصغر کچھ زیادہ ہی جزباتی ہوگیا تھا ۔لیکن یقین کرو اس کی تقریر کا مطلب صرف اور صرف تم کو شیدے کے کردار کے بارے میں آگہی دینا اور اس سے ہوشیار کرنا تھا ۔۔۔۔ تا کہ تم آنے والے وقت کے لیئے خود کو تیار کر لو۔۔ورنہ شیدے جیسے بندے سے ہمارا لن ڈرتا ہے۔۔۔پھر اس کے بعد میں نے اس کو کہا ہاں اب تو بتا کہ تیرا کیا مسلہ ہے؟ اور تم کو ہم سے کس قسم کی مدد درکار ہے۔۔۔میری بات سن کر امجد بڑی افسردگی سے کہنے لگا رہنے دو یار ۔۔۔۔۔۔ میں خود ہی ہینڈل کر لوں گا۔۔۔۔۔ اس پر میں نے اسے ایک موٹی سی گ الی دی اور بولا۔۔۔ چل سیدھی طرح بتا کہ بات کیا ہے ؟۔۔میری بات سن کر امجد نے ایک نظر ہم سب دوستوں پر ڈالی اور کہنے لگا ۔۔۔ پتہ نہیں آپ لوگ یقین کرو یا نہیں ۔۔۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ نبیلہ کو میں نے نہیں بلکہ اس نے مجھے لفٹ کرائی تھی۔۔۔ چونکہ لڑکی کیوٹ اور اچھی تھی ۔۔۔اس لیئے رفتہ رفتہ میں بھی اس کی طرف مائل ہو گیا اور ہماری دوستی ہو گی اور پھر۔۔۔ یہ دوستی محبت میں کب بدلی کم از کم مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔پھر اس کے بعد اس نے باری باری ہماری طرف دیکھا اور کہنے لگا۔۔۔۔۔ اور اب تو میری حالت یہ ہو گئی ہے کہ ۔۔۔ میں اس کو دیکھے بنا نہیں رہ سکتا اور جب تک اس کو دیکھ نہ لوں مجھے چین نہیں آتا ۔۔اسی لیئے میں کالج سے واپس آکر نا چاہتے ہوئے بھی ہر شام اس کی گلی کے چکر لگتا تھا ۔میرے بار بار چکر لگانے کی وجہ سے کل شام مجھے شیدے نے روک لیا اور کہنے لگا کہ اگر آج کے بعد تم نے اس گلی کا چکر لگایا ۔۔۔۔ تو تمہاری خیر نہیں۔۔۔۔ چونکہ مجھے شیدے کی اصلیت کا پتہ نہیں تھا اس لیئے میں بھی اس کے ساتھ اکڑ گیا اور اس سے بولا ۔۔۔ کہ میں کل بھی آؤں گا۔۔۔۔ تم نے جو کرنا ہے کر لینا۔۔۔۔ اس پر میں نے اس سے پوچھا کہ کیا یہ بات شیدے کو معلوم ہے کہ تم اس کی بہن کے چکر میں اس کی گلی کے پھیرے لگاتے ہو؟؟؟؟؟؟؟ ۔۔۔ تو میری بات سن کر امجد تھوڑا سوچ میں پڑ گیا اور کہنے لگا۔۔۔۔ میرا خیال ہے کہ ابھی تک اسے اس بات کی خبر نہیں ہوئی ہے۔۔۔۔۔کیونکہ اگر اس کو اس بات کی خبر ہوتی تو پھر اس کا مجھ سے بات کرنے کا سٹائل ہی کچھ اور ہونا تھا ۔۔۔ پھر اس نے ہماری طرف دیکھا اور کہنے لگا۔۔۔۔ بھائی چاہے کچھ بھی ہو ۔۔۔۔ میں نے آج شام ہر حال میں اپنی محبوبہ کی گلی میں جانا ہے۔۔۔۔
 امجد کی بات سن کر میں نے ایک نظر اس کے چہرے کی طرف دیکھا تو مجھے اس کے چہرے پر اور خاص کر آنکھوں میں ایک خاص قسم کی دیوانگی کی جھلک نظر آئی ۔۔۔میری طرح باقی دوستوں نے بھی اس بات کو سمجھ لیا تھا کہ ہمارے ہزار منع کرنے پر بھی اس بندے نے اس گلی میں جانے سے باز نہیں آنا ۔۔۔۔اور اگر یہ اکیلا ادھر چلا گیا تو یہ بات پکی ہے کہ شیدے کے ہاتھوں اس کی ہڈی پسلی ایک ہو جائے گی۔۔۔ اس لیئے میں نے باری باری سب دوستوں کی طرف دیکھا اور پھر ہم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کے ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا ۔۔۔۔ چنانچہ میں نے امجد کو مخاطب کرتے ہوئے۔۔۔۔ ٹھیک ہے یار آج شام ہم تیرے ساتھ چلیں گے اور دیکھتے ہیں کہ شیدا ما ں لن تمھارے ساتھ کیا کرتا ہے؟ میری بات سن کر امجد کا چہرہ کھل سا گیا اور و ہ بڑی بے یقنی سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا ۔۔۔آ۔۔آ۔۔آپ سچ کہہ رہے ہو نا بھائی؟ پھر اس کے بعد وہ تھوڑے تشویش بھرے لہجے میں ۔۔کہ جس میں تھوڑا سا طنز بھی شامل تھا ۔۔۔ کہنے لگا ۔۔۔۔بھائی آپ کو پتہ ہے نا کہ شیدا کس قدر خطرناک اور حرامی بندہ ہے اس کے باوجود بھی ؟ امجد کی یہ بات سن کر مجھے تھوڑی سی تپ چڑھ گئی اور میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے قدرے غصے سے کہا ۔۔۔ ۔۔۔ شیدے کی ماں کا پھدا ۔۔۔۔ وہ باتیں جو تم سے ابھی اصغر نے کیں تھیں ۔۔۔وہ محض تم کو ہوشیار اور خبردار کرنے کے لیئے اور اس بہن کے لن سے محتاط رہنے کے لیئے کہیں تھیں ۔۔ لیکن تمہاری حالت دیکھ کر ہم نے تمہارے بارے میں حساب لگا لیا ہے کہ میاں مجنوں تم نبیلہ کے عشق میں کافی آگے تک نکل چکے ہو اور ہمارے سمجھانے سے بھی تم باز نہیں آؤ گے اس لیئے دوست ۔۔۔۔۔۔۔اب جبکہ پانی سر سے بہت اونچا ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔۔ اس لیئے تم سے دوستی کے ناطے ہم تم کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے باقی رہی شیدے کی بات تو ۔۔۔ میری جان جب اوکھلی میں سر دینے لگے ہیں تو پھر موصلوں سے کیا ڈرنا ۔۔۔۔۔۔ امجد سے یہ بات کرنے کے بعد ہم سب دوستوں نے آپس میں سر جوڑ لیئے اور شام کا لاحہء عمل طے کرنے لگ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اسی دن کی بات ہے کہ جیسے ہی شام ہوئی تو ہم لوگ مقررہ وقت پر پروگرام کے مطابق شیدے کی گلی سے زرا پیچھے ایک اور گلی میں اکھٹے ہو گئے ۔۔۔ طے یہ ہوا تھا کہ امجد اکیلا ہی اس گلی میں جائے گا اور اس کے پیچھے کچھ فاصلے پر میں اور پھر مجھ سے کچھ فاصلے پر باقی دوست ہوں گے ۔۔۔ شیدے پر ظاہر یہ کرنا تھا کہ ہم لوگ اتفاقاً ہی مل گئے ہیں ۔۔۔ چنانچہ پروگرام کے مطابق امجد آگے چلا گیا اور کچھ دیر انتظار کے بعد میں بھی اس کے پیچھے شیدے کی گلی کی طرف چلا گیا۔۔۔ دیکھا تو شیدا ۔۔۔۔ امجد کا راستہ روکے کھڑا تھا۔ اور ان دونوں میں کسی بات پر تکرار ہو رہی تھی۔۔۔۔ جیسے ہی میں ان کے نزدیک پہنچا تو شیدا امجد سے کہہ رہا تھا ۔۔۔ اوئے ۔۔۔ باؤ ۔۔کل بھی میں نے تم کو منع کیا تھا ۔۔۔۔ کہ آئیندہ تم نے اس گلی کا چکر نہیں لگانا ۔۔لیکن تم باز نہیں آئے ۔۔۔اور آج پھر سے منہ اُٹھا کر چلے آئے ہو ۔۔۔۔ اس لیئے میں تم کو آخری وارنگ دیتے ہوئے کہہ رہا ہوں کہ شرافت سے واپس چلے جاؤ ۔۔ورنہ۔۔۔۔۔ابھی شیدے نے اتنی ہی بات کی تھی کہ ۔۔۔میں ان کے سر پر پہنچ گیا ۔۔۔۔۔ اور میں نے امجد کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔۔ کیا حال ہے امجد ؟ کہاں جا رہے ہو ؟ تو امجد نے مجھ سے کہا ۔۔ بھائی میں کسی ضروری کام کے سلسلہ میں اس گلی سے گزر رہا تھا مگر یہ صاحب مجھے آگے جانے سے منع کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میں ان کی گلی سے نہیں گزر سکتا ۔۔ اس پر میں نے شیدے کی طرف دیکھا اور بولا۔۔۔۔بچہ ٹھیک کہہ رہا ہے؟ تو شیدے نے میری طرف دیکھ کر قدرے درشت لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہ ۔۔ میں تمہارا بڑا لحاظ کرتا ہوں ۔۔۔ اس لیئے تم ۔۔۔۔ اس معاملے میں نہ پڑو ۔۔۔اور ۔۔ چلتے پھرتے نظر آؤ۔۔ اس میں نے شیدے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ کیا کہہ رہے ہو تم؟؟؟؟؟؟ تو شیدا بھی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا ۔۔۔۔۔۔ شاہ !!!!!۔۔اپنا راستہ ناپو ۔۔۔۔۔اور پرائے پھڈے میں ٹانگ مت اڑاؤ۔۔۔۔۔۔اس کی بات سن کر میں تھوڑا آگے بڑھا اور شیدے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سخت لہجے میں بولا ۔۔۔۔ شیدا جی تم کو معلوم ہے نا کہ ۔امجد میرا دوست اور پڑوسی ہے اس لیئے اس کا پھڈا میرا پھڈا ہے۔۔۔ اتنے میں ہماری ٹیم کے باقی ممبر بھی اس جگہ پر پہنچ گئے اور کہنے لگے ۔۔۔ کیا بات ہے شاہ جی؟ تو میں نے ان سے کہا کہ یار یہ بندہ (شیدا) امجد کو کہہ رہا ہے کہ وہ اس کی گلی میں نہیں جا سکتا ۔۔۔ میری بات سن کر اصغر تھوڑا آگے بڑھا اور ۔۔شیدے کی طرف دیکھتے ہوئے ۔۔۔۔ درشت لہجے میں بولا۔۔۔ کیوں نہیں جا سکتا ؟ یہ اس کے باپ کی گلی ہے کیا؟۔۔۔۔ اس پر شیدے نے بھی اصغر کی طرف غصے سے دیکھا اور کہنے لگا اوئے۔۔۔ ۔۔۔گھر تک نہیں جانا ۔۔۔۔ ورنہ بڑا رولا ہو جائے گا۔۔۔ اس سے پہلے کہ اصغر کچھ کہتا ۔۔۔ پیچھے سے فہیم کی آواز سنائی دی ۔۔۔۔۔ وہ کہہ رہا تھا ۔۔۔ کہ رولا ہوتا ہے تو ہونے دو۔۔۔۔۔۔۔۔ فہیم کی بات سن کر شیدا ایک دم سے چونک گیا ۔۔۔۔۔۔اور پھر ہماری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔۔۔ اچھا تو تم لوگ پروگرام بنا کر آئے ہو۔۔۔ پھر ایک دم گرم ہو کر اونچی آواز میں کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں یہ میری باپ کی گلی ہے۔۔۔ اس لڑکے میں ہمت ہے تو زرا جا کر دکھائے۔۔۔۔۔۔چونکہ ہم لوگ پہلے سے ہی پروگرام بنا کر آئے تھے اس لیئے شیدے کی بات سنتے ہی میں نے اس کو بازو سے پکڑ ا ۔۔۔۔اور سنبھلنے کا موقع دیئے بغیر ۔۔۔اس کے بازو کو پیچھے کی طرف کر کے پورے زور سے مروڑ دیا ۔۔۔ جس کی وجہ سے شیدے کے منہ سے ایک ہلکی سے آہ نکلی اور وہ گھوم کر میرے ساتھ لگ گیا ۔۔۔۔ اور اس طرح ۔۔۔۔اس کی بیک میرے فرنٹ کے ساتھ لگ گئی ۔۔۔۔ جیسے ہی میں نے شیدے کو قابو کیا ۔۔۔۔۔۔ پروگرام کے مطابق باقی سب دوست شیدے کے آگے کچھ اس طرح سے گھیرا ڈال کر کھڑے ہو گئے کہ دور سے دیکھنے والا یہی سمجھتا کہ جیسے ہم سب لوگ شیدے کے آس پاس کھڑے اس کے ساتھ گپیں لگا رہے ہیں ۔۔۔۔ یہ ساری کاروائی چند ہی سیکڈز میں ہو گئی۔۔۔ اور پھر میں نے امجد کی طرف دیکھا اور کہنے لگا۔۔۔ امجد یار ۔۔۔ زرا ۔۔۔۔ شیدا جی کی باپ کی گلی کا ایک چکر تو لگا کر آ۔۔ میری بات سن کر امجد کہنے لگا۔۔۔ ابھی لو استاد ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی شیدے کی طرف دیکھتا ہوا ۔۔۔وہ اس کی گلی کی طرف چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی امجد نے شیدے کی گلی کی طرف قدم بڑھایا ۔۔۔شیدے نے پیچھے سے اپنا بازو چھڑانے کی بھر پور کوشش کی ۔۔۔ لیکن چونکہ میں اس سے اس قسم کے اقدام کی پہلے سے ہی توقع کر رہا تھا اس لیئے میں نے اس کے بازو کو ایک اور مروڑا دیا ۔۔۔اور پیچھے سے اس کی گانڈ پر اپنا گھٹنا مارتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ نہ میری جان ابھی تم بچے ہو۔۔۔۔۔۔ پھر اس کا بازو کو مزید ٹائیٹ کرتے ہوئے بولا ۔۔۔آرام سے کھڑے رہو ۔۔۔۔ اب اگر اور زور لگانے کی کوشش کی تو ۔۔۔۔ تمھارا یہ بازو ٹوٹ بھی سکتا ہے۔۔۔۔ میری بات سن کر شیدا پھنکارتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ شاہ یہ تم اچھا نہیں کر رہے ہو۔۔۔ مجھے چھوڑ دو ورنہ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔لیکن میں نے اس کی بات سنی ان سنی کر کرتے ہوئے ۔۔۔۔ اس کے بازو پر اپنی گرفت مزید ٹائیٹ کر دی۔۔۔۔ یہ دیکھ کر شیدا میری گرفت سے نکلنے کے لیئے تھوڑا سا کسمایا ۔۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔ میری مضبوط گرفت دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔ وہ بس کسمسا کر رہ گیا ۔۔۔۔اور پھر اپنا منہ پیچھے کی طرف کر کے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بات تمہیں بہت مہنگی پڑے گی۔۔۔۔ شیدے کی بات سن کر میں نے ایک بار پھر اپنا گھٹنا ۔۔۔ عین اس کی گانڈ کے بیچ میں دے مارا ۔۔اور پھر اس سے کہنے لگا۔۔۔۔۔۔ بھونک نہ کتے۔۔۔ اتنی دیر میں امجد اس گلی کا ایک چکر لگا کر واپس آ گیا تھا۔۔اور میں نے اسے آتے ہوئے دیکھا تو وہ خاصہ خوش نظر آ رہا تھا اس کی خوشی کا ایک ہی مطلب تھا اور وہ یہ کہ اسے دیدارِ یار ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی امجد میرے قریب آیا۔۔۔ میں نے اس سے کہا ۔۔ ۔۔ کہاں تک گئے تھے تم؟؟؟؟۔۔تو وہ شیدے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔۔ شاہ جی پوری گلی کا ایک چکر لگا کر آ رہا ہوں ۔۔۔ اس پر میں نے اس سے کہا۔۔۔ اب میری طرف سے ایک چکر اور لگا کر آ۔۔۔۔ میری بات سن کر امجد چہکتے ہوئے بولا۔۔۔۔ جو حکم میرے آقا ۔۔۔۔اور پھر سے شیدے کی گلی میں چلا گیا۔۔جیسے ہی امجد گلی کا چکر لگانے کے لیئے مُڑا ۔۔۔ شیدے نے ایک دفعہ پھر سے اپنے آپ کو چھڑانے کی بھر پور ۔۔کوشش کی۔۔۔ لیکن بے سود۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے اس کے بازو کو تھوڑا اور مروڑا دیا ۔۔۔جس کی وجہ سے وہ میرے ساتھ بلکل چپک سا گیا اور اس کے اس طرح چپکنے کی وجہ سے اس کی گانڈ میرے ساتھ جُڑ گئی اور ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔اس کی گانڈ میرے ساتھ لگنے کی دیر تھی کہ ۔۔۔۔۔۔ نہ جانے کیسے ۔۔۔ میرا لن ہلکا سا کھڑا ہو گیا ۔۔اور میں نے اس کی گانڈ پر اپنے نیم کھڑے لن کو رگڑتے ہوئے کہا ۔ ہل مت میری جان۔۔۔۔۔زیادہ ہل جُل کی نا۔۔۔۔ تو یہ نیم جان لن ۔۔۔۔ فُل کھڑا ہو جائے گا۔۔۔۔اور اگر یہ کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔تو پھر میں اسے کپڑوں کے اوپر سے ہی تیری گانڈ میں گھسیڑ دوں گا۔۔میری بات سن کر وہ غضب ناک آواز میں بولا ۔۔۔ اس بات کے لیئے تُو بہت پچھتائے گا شاہ۔۔۔!!!!!!!۔۔۔ میں نے جان بوجھ کر اس کی بات کو سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا ۔۔ جو ہو گا۔۔۔دیکھا جائے گا۔۔ابھی تُو۔۔۔اپنی گانڈ پر میرے لن کو انجوائے کر۔۔۔ اتنے میں سامنے سے امجد آتا ہوا دکھائی دیا تو دوستوں نے مجھے چلنے کا اشارہ کیا ۔۔۔ چنانچہ جیسے ہی امجد ہمارے پاس آیا تو میں نے شیدے کے ہاتھ پر اپنی گرفت ڈھیلی کر دی ۔۔۔ اور اسے مخاطب کر تے ہوئے بولا ۔۔ تعاون کے لیئے بہت شکریہ رشید بھائی۔۔۔ میری بات کو سنتے ہی وہ خونخوار لہجے میں کہنے لگا ۔۔۔یاد رکھنا شاہ ۔۔۔۔ میں اپنی اس بے عزتی کو کبھی نہیں بھولوں گا ۔۔اس کی بات سن کر میں نے اس کو چڑانے کے لیئے خواہ مخواہ خود پر غصہ طاری کیا اور دانت پیستے ہوئے اس سے بولا ۔۔ میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ تم اس بے عزتی کو مت بھولو۔۔۔اور جاتے جاتے اس کو ایک اور چرکہ لگاتے ہوئے بولا۔۔۔ اور ہاں شیدا جی ۔۔ آئیندہ کسی سے بھی پنگا لیتے ہوئے یہ ضرور سوچ لینا ۔۔ کہ۔۔۔۔ ہر بِل میں چوہا نہیں ہوتا کسی کسی میں سانپ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔ اور پھر اس کو ٹا ٹا کرتے ہوئے ہم لوگ واپس اپنے محلے میں آ گئے۔۔۔ اگلے دن میرا ایک جگہ انٹرویو تھا جو کہ خاصہ بُرا ہوا۔۔۔۔۔سو انٹرویو دے کر میں سیدھا میونسپل لائیبرئیری پہنچا تو وہاں کوئی بھی دوست موجود نہ تھا اس لیئے نے جلدی جلدی اس دن کی اخباروں میں " آسامیاں خالی ہیں " کے اشتہارات دیکھے لیکن اتفاق سے اس دن میرے مطلب کی کسی اسامی کا اشتہار نہ آیا تھا اس لیئے میں نے اخباروں کی جان چھوڑی اور باہر نکل کر لیاقت باغ میں اپنی مخصوص جگہ پر پہنچ گیا۔۔۔اور دیکھا تو سبھی دوست وہاں براجمان تھے میرا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر اصغر بولا۔۔۔ لگتا ہے حسبِ معمول انٹرویو اچھا نہیں ہوا ؟؟ تو میں تقریباً روہانسا ہو کر بولا ۔۔۔انٹرویو کیا لن ہونا ہے یار ان لوگوں نے پہلے سے ہی اپنے بندے سلیکٹ کیئے ہوئے ہوتے ہیں انٹرویو تو بس ایک ڈھکوسلا ہوتا ہے۔۔۔ میری بات سن کر اکرم کہنے لگا مہاراج!!!۔۔جب آپ کو اس بات کا پہلے سے ہی علم تھا تو آپ وہاں کیا "امب" لینے گئے تھے ؟ اس پر اصغر نے گرہ لگاتے ہوئے نیم مذاحیہ لہجے میں کہا ۔۔یا یوں کہہ لو کہ اس انٹرویو لینے والے کا لن لینے گئے تھے ؟ ۔۔۔تو میں نے ان سے کہا ۔۔کیا کروں یار ۔۔۔۔ جانا تو پڑتا ہے۔۔۔۔ پھر میری نظر امجد پر پڑی۔۔۔ جو مزے لے لے کر ہماری گفتگو سُن رہا تھا ۔۔۔ تو میں نے اس سے پوچھا ۔۔ ہاں بھائی شام کتنے بجے چلنا ہے ؟ میری بات سن کر وہ کہنے لگا ۔۔۔ نہیں یار اب اس گلی میں نہیں جانا تو میں نے اس کی طرف دیکھ کر کہا اس کی کوئی خاص وجہ؟ تو وہ کہنے لگا یار نبیلہ نے بڑی سختی کے ساتھ منع کر دیا ہے۔۔۔اس پر اصغر بولا۔۔۔ جیسے تیری مرضی باس ۔۔۔ ہم تو ہر وقت تمہاری سروس کے لیئے حاضر ہیں ۔۔۔۔ پھر کچھ دیر گپ شپ کے بعد ہماری یہ مجلس برخواست ہو گئی اور سب دوست اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے ۔۔۔۔جبکہ میں اور امجد پڑوسی ہونے کی وجہ سے اکھٹے ہی اپنے گھر کی طرف چل پڑے ۔۔ گھر کی طرف جاتے ہوئے باتوں باتوں میں امجد مجھ سے کہنے لگا ۔۔۔ بھائی کل آپ نے شیدے پر کچھ زیادہ ہی بھاری ہاتھ رکھ دیا تھا ۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا یہ تم سے کس نے کہہ دیا ؟؟ تو وہ کہنے لگا آج محفل میں اسی موضوع پر بات ہو رہی تھی۔۔۔پھر وہ تشویش بھرے لہجے میں بولا۔۔ بھائی ہوشیار رہنا ۔۔۔ شیدا بڑا ہی خبیث آدمی ہے وہ کسی بھی وقت آپ کو کل والی بات کا جواب دینے کے لیئے آپ پر حملہ آور ہو سکتا تھا تو میں نے اس سے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ وہ ایسا کرے گا۔۔۔ میری بات سن کر امجد اچانک ہی چلتے ہوئے رک گیا اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔ آپ یہ بات کیسے کہہ سکتے ہو؟ تو میں نے اس کو جواب دیتے ہوئے کہا ۔۔۔ بات یہ ہے دوست کہ شیدا مجھے اور میں شیدے کو بڑی اچھی طرح سے جانتا ہوں۔۔۔ ۔۔۔۔وہ ایک دم سے ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گا بلکہ آج کے بعد وہ میری تاک میں رہے گا۔۔۔ اور جیسے ہی اسے میری طرف سے کوئی لُوز پوائینٹ ملا۔۔۔۔تو اس نے ایک دم وار کرنے سے دریغ نہیں کرنا ۔۔۔۔اور جتنی کل ہم نے اس کی گلی میں اس کے گھر کے سامنے اس کی بے عزتی کی ہے وہ اس سے ڈبل یا اس سے بھی زیادہ ۔۔۔۔۔ مجھے بے عزت کرنے کی کوشش کرے گا۔۔۔ اور کل کے بعد وہ ہر وقت موقع کی تاڑ میں رہے گا۔۔۔۔ بات کرتے کرتے اچانک ہی میرے دل میں ایک خیال آیا ۔۔۔۔اور میں نے امجد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔ اچھا یار یہ تو بتاؤ کہ ۔۔ نبیلہ نے تم کو اپنی گلی میں آنے سے کیوں منع کیا ہے؟ تو اس پر وہ کہنے لگا ۔۔۔ اس کی ایک خاص وجہ ہے اور وہ یہ کہ وہ نہیں چاہتی کہ ہمارے عشق کی بھنک بھی اس کے بھائیوں کے کانوں تک پہنچے ۔۔۔۔۔ پھر وہ کہنے لگا کہ اسی لیئے بھائی ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آج کے بعد ہم شام کو مُکھا سنگھ اسٹیٹ والے پارک میں ملا کریں گے۔۔۔ پھر اس نے کچھ ہچکچاتے ہوئے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا۔۔۔۔ بھائی اس کے لیئے مجھے آپ کی مدد درکار ہو گی۔۔۔۔تو میں نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ کس قسم کی مدد؟ ؟؟ تو وہ کہنے لگا ۔۔۔ کہ آپ کو بھی میرے ساتھ پارک میں چلنا پڑے گا۔۔۔۔ اس پر میں نے اس سے کہا ۔۔۔رہنے دو یار۔۔۔ میں تمہارے ساتھ کباب میں ہڈی بن کر کیا کروں گا ؟ تو وہ جلدی سے بولا ۔۔۔ نہیں نہیں ۔۔۔۔ آپ ہمارے ساتھ نہیں ہوں گے بلکہ آپ کی ڈیوٹی یہ ہو گی کہ آپ دور سے ہمیں واچ کریں گے اور اگر کوئی ایسی ویسی بات ہوئی تو آپ نہ صرف یہ کہ ہمیں مطلع کریں گے بلکہ۔۔۔ اسے سنبھال بھی لیں گے۔۔۔ امجد کی بات سن کر میں نے اس سے کہا ۔۔۔ کہ سالے صاف کیوں نہیں کہتا کہ مجھے بطور باڈی گارڈ تمہارے ساتھ چلنا ہے؟ میری بات سن کر امجد کھسیانی سی ہنسی ہنس کر بولا۔۔۔ ایسے ہی سمجھ لو بھائی۔۔۔۔ شام رات میں ڈھل رہی تھی کہ جب میں اور امجد مکھا سنگھ اسٹیٹ کے چھوٹے سے پارک میں پہنچے۔۔۔پارک میں لائیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہلکہ ہلکہ اندھیرا چھا رہا تھا لیکن یہ اندھیرا ابھی اتنا گہرا نہیں ہوا تھا کہ کسی کی شکل ہی دکھائی نہ دے ۔۔۔ میرے ساتھ چلتے ہوئے امجد نے اچانک ہی پارک کے اس طرف اشارہ کیا۔۔۔ کہ جہاں پر ٹیوب ویل لگا ہوا تھا اور کہنے لگا ۔۔۔۔ بھائی ۔۔۔ وہ کھڑی ہے۔۔۔ اور پھر اس نے اسی طرف تیز تیز قدموں سے چلنا شروع کر دیا ۔کہ جدھر اس کی معشوقہ کھڑی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجبوراً میں بھی اسی رفتار سے اس کے پیچھے پیچھے چلتا گیا۔۔تھوڑی دور آگے ٹیوب ویل کے پاس ایک نیم تاریک سے ٹریک پر دو لڑکیاں ٹہل رہیں تھیں ۔ ۔۔۔۔ ان لڑکیوں نے بھی ہمیں اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور اب وہ دونوں چلتے ہوئے رُک کر ہمیں دیکھنے لگ گئیں تھیں ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں ہم لوگ ان کے نزدیک پہنچ گئے تھے۔پاس پہنچتے ہی امجد نے بڑی بے تابی سے ایک لڑکی کو ہیلو کہا ۔۔۔اور جواباً اسی بے تابی سے اس لڑکی نے بھی اس کی ہیلو کا جواب دیا۔۔ پھر امجد نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کہا ۔۔۔ نبیلہ ۔۔ یہ میرا بیسٹ فرینڈ شاہ ہے۔۔جس نے کل تمھارے بھائی کو اچھا خاصہ زیر کر لیا تھا۔۔۔ پھر اس نے اپنا منہ میری طرف کیا اور بولا ۔۔۔ شاہ۔۔۔ یہ نبیلہ ہے اور پھر ساتھ کھڑی لڑکی کا تعارف کراتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔ جس طرح تم میرے بیسٹ فرینڈ ہو اسی طرح یہ نبیلہ کی بیسٹ فرینڈ عذرا ہے۔۔ امجد کی بات ختم ہوتے ہی میں نے اس لڑکی ۔۔کہ جس کا نام عذرا تھا کی طرف دیکھا اور بڑے تپاک سے اسے ہیلو کہا۔۔۔۔۔ لیکن اس لڑکی نے جواب میں کوئی گرم جوشی نہیں دکھائی بلکہ اس نے بڑے ہی رسمی انداز سے میری ہیلو کا جواب دیا۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں اس لڑکی سے مزید کوئی بات کرتا امجد اور نبیلہ نے ا یک دوسرے کی طرف دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں کوئی اشارہ کیا اور وہ دونوں ہمیں یہ کہتے ہوئے چھوڑ کر آگے ٹیوب ویل کی طرف جاتے ہوئے سنسان سے ٹریک کی طرف چل پڑے کہ آپ دونوں باتیں کرو ۔۔۔ ہم ابھی آئے ۔۔ ۔۔۔۔ ان کے جاتے ہی میں نے اس لڑکی کی طرف غور سے دیکھا ۔۔۔۔۔۔ تو وہ ایک چھوٹے سے قد کی بھرے بھرے جسم والی گوری چٹی اور بہت ہی پیاری سی لڑکی تھی ۔۔۔ کہنے کو تو اس کا قد چھوٹا تھا ۔۔۔ لیکن سامان اس کے ساتھ کافی بڑا۔۔ بڑا لگا ہوا تھا ۔۔۔ میرے ٹھرکی بھائی سمجھ گئے ہوں کہ سامان سے میری مُراد اس کی چھاتیوں ۔۔اور گانڈ سے ہے ۔۔۔ جو بہت بڑی تھیں لیکن اس لڑکی نے اپنی ان بھاری چھاتیوں اور موٹی گانڈ کو کمال سلیقے کے ساتھ ایک بڑی سی چادر کے ساتھ ڈھانپ رکھا تھا ۔۔۔ لیکن آپ تو جانتے ہی ہیں کہ تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ ۔ سو اس کی بڑی سی چادر جتنا مرضی ہے اس کی موٹی گانڈ اور مموں کو کور کر لے۔۔۔۔۔ ہماری ایکسرے نگاہوں سے ہر گز نہیں بچ سکتی تھی ۔ اس کی آنکھیں بہت بڑی اور رنگ ان کا کالا تھیں ۔۔ جبکہ اس کے گال گلابی اور ہونٹ شرابی تھے چنانچہ امجد لوگوں کے جانے کے فوراً بعد جب میں نے اس کو مخاطب کر کے کوئی بات کی ۔۔۔۔۔۔ اس نے میری بات کا جواب تو کچھ نہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ البتہ ۔۔۔۔ جب اس نے اپنی پلکوں کی چلمن اُٹھا کر اپنی بڑی بڑی آنکھوں کے ساتھ میری اورھ دیکھا تو ۔۔۔۔۔ بے ساختہ مجھے پنجابی کا ایک شعر یاد آ گیا – اُوہنے تکیئے اے بس ، ساڈا چلیا نئیں وَس اودا گیا ککھ نئیں ۔۔۔ ساڈا رہیا ککھ نئیں ۔۔ ۔۔۔اسکے ساتھ ساتھ اسکی بڑی بڑی آنکھوں میں ہرنی کی آنکھوں جیسی حیرانی اور جھیل سی گہرائی نظر آئی تھی۔۔ ۔۔ اور یہ جھیل سی گہرائی اور ہرنی جیسی حیرانی نے اس کی آنکھوں میں بے پناہ کشش اور ایک نشہ سا بھر دیا تھا جس کو دیکھ کر مجھ جیسا ٹھرکی بندہ بن پیئے لہرا گیا تھا۔۔ ۔۔۔ ۔۔ شاعر نے اس کے بارے میں ٹھیک ہی کہا تھا ۔۔۔ کہ گلاب آنکھیں ، شراب آنکھیں۔۔۔۔۔۔۔یہی تو ہیں لاجواب آنکھیں ۔۔۔۔ ، آنکھوں کے بعد اس کے دلکش چہرے پر جو چیز سب سے نمایاں تھیں وہ اس کے ہونٹ تھے ۔۔ گلابی رنگت والے اس کے ہونٹ اور ان ہونٹوں کے آس پاس قدرتی طور پر لائینگ لگی ہوئی تھی اور اسکے ہونٹوں کے آس پاس لگی یہ لائینگ اس کے ہونٹوں کو مزید دل کش بنا رہی تھی ۔۔۔۔ اس کے ہونٹ اتنے رسیلے تھے کہ۔ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے اس کے ہونٹوں سے رس ٹپک رہا ہو ۔۔اتنی پیاری لڑکی دیکھ کر میری تو مَت ہی وج گئی تھی ( عقل گم ہو گئی ) چنانچہ امجد لوگوں کے جاتے ہی میں نے آگے بڑھ کر اس سے کوئی بات کرنا چاہی لیکن اس نے بُری طرح سے مجھے نظر انداز کر تھوڑا آگے ٹہلنا شروع کر دیا۔۔۔۔ اس کی اس ادا سے میں زرا بھی پریشان نہ ہوا ۔ اور ڈھیٹوں کی طرح رالیں ٹپکاتا ہوا اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے بولا ۔۔۔ بات سنیئے ۔۔ نبیلہ اور آپ کب سے فرینڈ ہیں؟ تو اس نے میری طرف دیکھے بغیر بڑے ہی روکھے لہجے میں بس اتنا ہی کہا ۔۔ بچپن سے۔۔۔۔۔ اور پھر آگے بڑھ گئی ۔۔۔۔اس پر میں مزید آگے بڑھا اوراس سے بولا۔۔۔۔ ۔۔۔۔ آپ دونوں ایک ہی کلاس میں پڑھتی ہیں ؟؟ ۔۔۔ میری بات سن کر وہ رک گئی اور بڑے ہی روکھے لہجے میں کہنے لگی ۔۔۔۔ جی۔۔۔ اور پھر آگے بڑھ گئی۔۔۔۔ اس طرح اس شام میں نے اس حسینہ سے راہ و رسم بڑھانے کی ہر ممکن کوشش لیکن ۔۔۔ انُ لبوں نے نہ کی مسیحائی ۔۔۔۔۔۔۔( حالانکہ ) ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔اس کے باوجود میں نے ہمت نہیں ہاری ۔۔۔۔اور اپنے سارے حیلے کر لیئے۔۔۔ لیکن وہ حسینہ ٹس سے مس نہ ہوئی ۔۔ ہر طرح کی ٹرائیاں مارنے کے بعد میں نے خود سے انگور کھٹے ہیں کہا ۔۔۔۔۔اور ایک طرف ہو کر سامنے پڑے بینچ پر بیٹھ گیا۔۔۔

Posted on: 02:59:AM 14-Dec-2020


3 0 556 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 2 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 73 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com