Stories


انسیسٹ بدلہ اور انجام از سائینٹیفک عشق

کہانی کا شوقین ہر کوئی ہوتا ہے لیکن لطف تب ہی آتا ہے جب کہانی میں ٹوئسٹ ہو، جھول نہ ہو۔ اکثر یہاں پر سٹوریز پڑھنے کا اتفاق ہوتا ہے اور میں چونکہ بحیثیت ممبر پہلی کہانی پیش کرنے جا رہا ہوں اس لئے چند باتیں قارئین کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ اول یہ کہ کسی بھی مرد کا لن نہ تو آٹھ انچ لمبا ہوتا ہے نہ ہی چار انچ یا تین انچ موٹا ہوتا ہے۔ ارے جھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، کسی گھوڑے کا بھی اتنا موٹا نہیں ہوا کرتا، اسی طرح لڑکیوں کی پھدیوں میں سے نکلنے والا پانی کبھی بھی ذائقہ دار نہیں ہوا کرتا، انتہائی عجیب ہوا کرتا ہے اور اس میں سے اچھی خاصی بو بھی آتی ہے خصوصاََ گرمیوں کے موسم میں اگر پھدی کو چاٹا جائے۔ اس لئے کہانی کاروں سے التماس ہے کہ کہانی لکھتے وقت لطف پیدا کرنے کے لئے اتنا جھوٹ مت بولا کریں کہ انسان ہنسنے پر مجبور ہو جائے۔ اب میں آتا ہوں کہانی کی طرف۔ یہ ایک سچی کہانی ہے، اور انسٹ پر مبنی ہے۔ جو کہ ایک باپ اور بیٹی کے درمیان شروع ہوا اور پھر اس کا انجام کیا ہوا، یہ آپ کو کہانی پڑھ کر ہی پتہ چلے گا۔ اس کہانی کے کرداروں کے نام بعد میں سامنے آتے جائیں گے، لیکن آغاز میں جو مرکزی کردار ہیں ان کا تعارف ضروری ہے۔ باپ کا نام مشتاق ہے اور بیٹی کا نام سددرہ ہے۔ اب یہ کہانی مشتاق کی زبانی پڑھئے اور اگر اپ ڈیٹس چاہئیں تو آپ کے کمنٹس اس کا ایندھن ہے۔ میں پیشے کے اعتبار سے ایک الیکٹریکل انجینئر ہوں اور میرا نام مشتاق ہے۔ اس وقت میری عمر چوالیس برس ہے اور میری فیملی میں کل چھ افراد ہیں۔ میں مشتاق، میری بیوی سمیرہ، میرے تین بیٹے، ان کے نام اس لئے نہیں لینے کی ضرورت کہ وہ اس آپ بیتی میں کسی کردار کے حامل نہیں ہیں، میری تین بیٹیاں، جن میں سب سے بڑی کا نام سدرہ ہے۔ چھوٹی دو بیٹیوں کا نام اس لئے نہیں بتا رہا کہ وہ بھی اس کہانی میں کسی کردار کی حامل نہیں ہیں۔ یہ آپ بیتی کہہ لیں یا کہانی کہہ لیں صرف تین لوگوں یعنی میں، میری بیوی سمیرا اور میری بڑی بیٹی جس کی اس وقت عمراٹھارہ برس ہے اس کے گرد گھومتی ہے۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ میری بیوی مجھ سے پانچ برس چھوٹی ہے اور اس وقت اس کی عمر انتالیس برس ہے۔ کہانی شروع ہوتی ہے تب سے جب میں ملازمت کے سلسلے میں ملک سے باہر گیا۔ میری بیوی ایک انتہائی خوبصورت اور سڈول وجود کی مالکن ہے۔ رنگ روپ بھی کافی اچھا ہے اور جسمانی ساخت بھی ایسی کہ کوئی اب بھی اسے دیکھے تو ساتھ سلانے کی خواہش کو دبا نہیں سکتا۔ اس کا فگر اڑتیس، ، بتیس اور چوالیس ہے جبکہ میری بیٹی بھی اپنی ماں کی ہی ہم شکل ہے، بس عمر کا فرق ہے جس کی وجہ سے اس میں عجیب سے شوخی اور سیکس کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ میری شادی پسند کی شادی تھی اورہم دونوں میاں بیوی میں تمام معاملات بہت اچھے چل رہے تھے۔ میں ملازمت کے لئے پہلے مسقط گیا جہاں سے ایک یورپی کمپنی نے مجھے ٹریننگ کے لئے یورپ بھیج دیا۔ وہاں پر مجھے ایک پولش لڑکی سے شادی کا چانس ملا سو میں نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا اور انگلینڈ میں سیٹل ہو گیا۔ اب میرے پاس برطانیہ کی شہریت بھی ہے۔ تو ہوا کچھ یوں کہ میں اس تمام ملازمت اور بعد ازاں شادی کی وجہ سے جب وطن واپس لوٹا تو سات برس کا عرصہ بیت چکا تھا، اس دوران میں نے چند تبدیلیاں نوٹ کیں۔ اول یہ کہ میری بیوی بہت زیادہ بے باک اور پر اعتماد ہو چکی تھی جب کہ میری بیٹی بھرپور جوان نہ سہی لیکن جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی تھی۔ میری واپسی پر بھی میری بیوی گھر سے باہر اپنی سہلیوں کے گھر گھومتی پھرتی رہتی تھی جب کہ اس دوران میں گھر میں اکیلا ہوتا تھا۔ بیٹیاں چونکہ باپ سے ویسے بھی کافی مانوس ہوتی ہیں اور پیار کرتی ہیں لہٰذا میری بیٹی سدرہ بھی میرے قریب ہوتی چلی گئی۔ ایک دن حسب معمول میں جب سو کر اٹھا تو میری بیوی نے مجھے بتایا کہ آج اس کی سہلیوں گا گروپ مری جا رہا ہے سو وہ ان کے ساتھ جا رہی ہے ، میں نے پوچھا کیا خود ڈرائیو کرو گی تو اس نے کہا کہ نہیں ایک ہائی ایس کا بندوبست کیا ہے، اسی پر جانا ہے اور واپس آنا ہے۔ میں نے کہا کہ سدرہ کو بھی ساتھ لے جاؤ کب سے ضد کر رہی ہے کہ اسے جانا ہے۔ تب سدرہ کی عمرپندرہ برس ہو چکی تھی اور وہ شرعی طور پر بالغ ہو چکی تھی یعنی اسے پیریڈز آتے تھے۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی بلکہ میری بیوی نے خود مجھے بتائی تھی کہ وہ اب بالغ ہو چکی ہے۔ باقی بچے چھوٹے تھے۔ سمیرہ نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا اور یہ عجیب لگتا ہے کہ میں جوان بیٹی کو ساتھ لے جاؤں جبکہ کسی بھی سہیلی کا کوئی بچہ ساتھ نہ ہو، میں نے کہا ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی اور چلی گئی۔ یہ مجھے بہت بعد میں پتہ چلا کہ وہ دراصل سیکس ایڈکٹ ہو چکی تھی اور دراصل سہلیوں کا تو بہانہ تھا، وہ نئے نئے لن لینے کی عادی تھی اور بڑی مہارت سے شکار کرتی تھی۔ خیر میں اپنی روٹین کے مطابق چھ ماہ کے لئے رہنے کے لئے آیا تھا پھر مجھے لوٹ جانا تھا۔ میرا دراصل رات سے موڈ ہو رہا تھا سمیرا کو چودنے کا لیکن اس نے منع کر دیا تھا کہ اس کی کمر میں درد ہے دو تین بعد کر لیں گے۔ میرا لن بہت بڑا تو نہیں ہے لیکن چھ انچ کا ہے اور عمر کی تقاضہ ہے کہ گولائی میں بھی کچھ زیادہ ہے۔ یعنی کم از کم ڈیڑھ انچ قطر تو ہو گا ہی۔ میں صبح سخت خواری محسوس کر رہا تھا کہ اسی دوران سدرہ میرے کمرے میں آئی اور کہنے لگی کہ ابو جی اٹھیں ناشتہ کر لیں ، امی بنا کر گئی تھی۔ میں نے اسے کہا کہ آپ ناشتہ یہیں لے آو میں جب تک نہا کر فریش ہو جاتا ہوں۔ اسی دوران میں نے سدرہ کو کہا کہ یار میری الماری سے میرے کچھ کپڑے نکال کر پریس کر دو میں نے ایک دوست کی جانب جانا ہے۔ اس نے جب الماری کھولی تو میرے کپڑوں کے ساتھ ہی سائیڈ پر ایک نائیٹی اور چند ایک لیڈیز انڈر گارمینٹس بھی پڑے ہوئے تھے۔ ہمارے گھر کا ماحول جیسا کہ میں نے بتایا ہے کافی کھلا ڈلا تھا اس لئے سدرہ نے وہ کپڑے دیکھے تو گھبرائی یا شرمائی نہیں بلکہ مجھے چھیڑنے کے لئے کہنے لگی کہ ابو جی یہ والے کرنے ہیں یا کوئی اور، تب تک مجھے نہیں پتہ تھا کہ اس کے ہاتھ میں کیا چیز آئی ہے، میں نے کہا جو دل چاہے کر دو میں نے تو پہنے ہی ہیں۔ اس نے کہا کہ آپ وعدہ کرو جو میں کر کے دوں گی پریس آپ وہی پہنو گے۔ میں نے کہا یار کہہ دیا کہ پہن لوں گا، تب تک میں واش روم میں جا چکا تھا اور دروازہ اندر سے بند کر چکا تھا۔ اس نے شرارتاََ ایک پینٹ شرٹ پریس کئے اور ایک جانب وہ زنانہ زیر جامے رکھ دئیے۔ میں جب نہا کر نکلا تو صرف لانگ ٹاول میں تھا، میں نے دیکھا کہ سدرہ چائے اور پراٹھہ لئے میرے ہی بیڈ ہر بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی ہے۔ میں نے چونکتے ہوئے جب زنانہ لباس کی جانب دیکھا تو کہا یہ کیا بدتمیزی ہے، اس نے کہا کہ ابو جی آپ نے ہی تو کہا تھا کہ جو مرضی کر دو تو اس وقت میرے ہاتھ میں یہی کپڑے تھے اس لئے اب اپنے وعدے پر قائم رہنا اور یہی کپڑے پہن کر جانا، میں نے غصے سے اسے دیکھا اور کہا کہ دفع ہو جاؤ میرے کمرے سے یہ کیا بے ہودگی ہے۔ تب تک میرے ذہن میں کچھ ایسا ویسا تھا ہی نہیں۔ میں نے دیکھا کہ بجائے وہ ناراض ہونے کے آ کر مجھ سے لپٹ گئی اور کہنے لگی کہ سوری ابو، میں نے تو مذاق کیا تھا، ، آپ کو برا لگا تو آئی ایم سوری، جب وہ میرے ساتھ لپٹی تو میرے جسم پر چیونٹیاں سی رینگنا شروع ہو گئیں لیکن یہ طے تھا کہ سدرہ کے دماغ میں بھی ایسا ویسا کچھ تھا نہیں یا کم از کم مجھے ایسا ہی محسوس ہوا۔ میں نے اسے خود سے الگ کیا اور کہا کہ آئیندہ ایسا کچھ نہیں کرنا، مجھے بالکل بھی ایسا مذاق پسند نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ ٹھیک ہے نہیں کروں گی پھر میری طرف دیکھ کر بولی آپ ابھی بھی ناراض ہیں، ہیں نا، تو میں نے کہا تم نے حرکت ہی ایسی کی تھی کہ دل کرتا تھا تمہیں دس جوتے لگاؤں۔ جب میں نے ایسا کہا تو سدرہ گھوم گئی اور اپنی ننھی سی گانڈ میری طرف کرتے ہوئے بولی مار لیں دس نہیں سو مار لیں پر مجھے معاف کر دیں، میں نے کہا اچھا اب جاؤ مجھے جانا ہے۔ وہ چلی گئی تو میں نے لباس پہنا، نانشتہ کیا اور اپنے دوستوں کی جانب نکل گیا۔ ابھی میں اپنے دوست کے گھر میں ہی تھا کہ اس کا ایک رشتہ دار آیا اور مجھ سے تعارف ہونے پر بات چیت کرنے لگا، باتوں باتوں میں اس نے میرے سسرال کا پوچھا تو وہ کہیں دور پار کا میرا بھی سسرالی رشتہ دار نکل آیا۔ ،میرے لئے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی، جو لوگ باہر ممالک میں رہتے ہیں ان سے لوگ رشتہ داریاں نکال ہی لیتے ہیں، لیکن میں نے محسوس کیا کہ جب اس نے میری بیوی کا ذکر کیا تو اس کے چہرے پر ایک عجیب سے مسکراہٹ آئی، میں نے محسوس تو کیا لیکن کوئی سوال نیہں کیا، اسی اثنا میں میرا دوست واپس آ گیا جو اس نئے مہمان کے لئے بھی کچھ کھانے پینے کو لینے گیا تھا۔ اسی دوران میں نے دوست سے کہا کہ مجھے واش روم جانا ہے، جب میں واپس لوٹا تو میرے دوست کے چہرے کا رنگ اڑا اڑا سا تھا، اس وقت تو وہ کچھ نہ بولا، ہم نے کھانا ساتھ کھایا اوردن کے دو بجے میں واپس گھر کو لوٹا کہ گھر میں بچے اکیلے ہیں۔ جب میں گھر پہنچا تو اسی دوست کا فون آیا جس نے یہ انکشاف کیا کہ سمیرا دراصل بہت ہی فاحشہ عورت ہے اور اس کا کام ہی غیر مردوں سے دوستیاں لگا کر ان سے چدوانا ہے، میں نے ثبوت مانگا تو اس نے کہا کہ اس کا بھی انتظام ہو جائے گا لیکن تم وعدہ کرو کہ کوئی غیر قانونی حرکت نہیں کرو گے کہ تمہارے بچے ہیں، میں نے کہا تم اس کی فکر نہ کرو،۔ میں ایک ٹھنڈے مزاج کا انسان ہوں لیکن سچ بات کہ یہ سب سن کر مجھے غصہ بہت آ رہا تھا کہ دیکھو میں ان کے لئے کیا کیا کرتا پھر رہا ہوں اور یہ میری غیر موجودگی میں اپنی پھدی کو ٹھنڈا کرنے کے لئے رنگ رنگ کے لوڑے اپنے اندر لیتی پھر رہی ہے۔ اسی طرح دن گزرتے رہے لیکن میں نے برداشت سے کام لیا اور بالکل بھی یہ ظآہر نہ ہونے دیا کہ اس کا راز مجھ پر فاش ہو چکا ہے۔ یہ غالباََ دوست کی طرف جانے کے بعد ایک ماہ کا واقعہ ہو گا کہ میرے دوست نے مجھے ایک وڈیو دی اور کہا کہ اسے علیحدگی میں دیکھ لینا، تمہارے سوالوں کے جواب تمہیں مل جائیں گے، میں انتظار کرنے لگا کہ سمیرا گھر سے جائے تو میں سکون سے وہ وڈیو دیکھوں۔ دو دن بعد اسے پھر کسی سے چدوانے کی حاجت ہوئی تو اس نے بہانہ بنایا کہ وہ ایک سہیلی کی کزن کی بیٹی کی شادی کی تقریب میں جا رہی ہے رات کو لیٹ آئے گی یا ممکن ہے کہ نہ آئے، میں نے مسکراتے ہوئے کہا جاؤ کوئی بات نہیں میں ہوں بچوں کے پاس اور وہ بن ٹھن کر چلی گئی، اس کے جاتے ہی میں نے وہ ڈی وی ڈی پلئیر میں لگائی اور دیکھنے لگا، تھوڑی دیر کی وڈیو تھی لیکن اس میں میں حیران رہ گیا کہ میری بیوی جس نے کبھی میرا لن نہں چوسا تھا کس طرح مزے لے لے کر اس اپنے سے کم از کم دس برس چھوٹے مرد کا لن چوس رہی تھی اور وہ بھی اس کی پھدی کو ایسے چاٹ رہا تھا جیسے مارس کی چاکلیٹ ہوں۔ خیر اس سیکس وڈیو میں سمیرہ نے گانڈ بھی مروائی اور پھدی کا بھی حشر نشر کروایا، یقیناََ چودنے والا کسی دوا کے زیر اثر تھا کہ اس نے کم ازکم آدھا گھنٹہ سمیرہ کو جی بھر کر چودا اور پھر اپنا لن بھی اس کے منہ میں ڈال کر صاف کیا۔ میں کیا بتاؤں مجھے اتنی گھن آئی سمیرہ سے کہ دل چاہتا تھا اس کو اسی وقت گولی مار دوں یا طلاق دے دوں، لیکن پھر میں بچوں کا سوچ کر خاموش ہو گیا اور ایک فیصلہ کیا کہ مجھے آگے کیا کرنا ہے۔ میں اکثر ڈرنک بھی کرتا ہوں۔ لیکن گھر میں محتاط ہو کر ، لیکن اس وقت ایسا کوئی خطرہ نیہں تھا، سدرہ ہی سب سے بڑی تھی اور وہ اپنے کمرے میں اپنے لیپ ٹاپ پر بیٹھی کام کر رہی تھی، میں نے وہسکی کی بوتل اٹھائی اور ایک ہارڈ پیگ بنا کر چڑھا لیا۔ ابھی میں دوسرا پیگ پی ہی رہا تھا کہ سدرہ ایک دم سے کمرے میں داخل ہوئی اور چونکتے ہوئے کہا کہ ابو جی یہ کیا پی رہے ہیں، میں تب تک کچھ خماری کے زیر اثر آ چکا تھا ،میں نے کہ کچھ نہیں بیٹا بس تھوڑا سا زہر پی رہا ہوں۔ وہ ایک دم پریشان ہو گئی اور میرے ماتھے پر ہاتھ لگا کر بولی کی ابو آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا، میں نے کہا ہاں ٹھیک ہے تم جاؤ اپنا کام کرو،۔ اس نے کہا کہ ابو مجھے آپ سے کچھ کام تھا اس لئے آپ کے پاس آئی ہوں، میں نے کہا ہا ں کہو، اس نے کہا نیہں ابھی آپ ریسٹ کریں میں کچھ دیر بعد آتی ہوں وہ آ کر لوٹ گئی لیکن پہلی مرتبہ میں نے دیکھا کہ اس کے چھوٹے چھوٹے اور تنے ہوئے ممے اور اس کے چھوٹے چھوٹے نپلز کی نوکیں اس کی قمیض سے باہر صاف دیکھی جا سکتی تھیں۔ میں نے زہن کو جھٹکا اور ایک پیگ اور لگا لیا۔ لیکن وہ ںظارہ ذہن سے نکل نہیں رہا تھا، میں نے پینا بند کر دیا اور سیدھا لیٹ گیا۔ غالباََ میں سو گیا لیکن شاید دو گھنٹے کے بعد سدرہ میرے کمرے میں تھی اور میں اٹھ کر بیٹھ چکا تھا۔ میں نے کہا ہاں بیٹا اب بتاؤ کیا بات ہے تو اس نے کہا کہ میرا لیپ ٹاپ اب پرانا ہو گیا ہے کیا آپ دوسرا لے دیں گے، میں نے کہا لے لینا تو وہ خوش ہو گئی اور میرے گال پر پیار کر کے بولی ابو جی آپ دنیا کے سب سے اچھے ابو ہیں۔ لیکن اس کے وجود کا میرے وجود سے ٹکرانا تھا کہ میرا حشر برا ہو گیا۔ میں نے کچھ سوچا اور پھر ایک فیصلہ کیا۔ میں نے سدرہ کو کہا کہ میں ذرا فریش ہو کر آتا ہوں پھر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں، اس نے کہا جی ابو اور میرے ہی کمرے میں اپنا لیپ ٹاپ لے کر آ گئی، میں نہا کر باہر نکلا تو صرف ٹاول میں تھا اور میں سیدھا سدرہ کے پاس آ گیا ،کچھ جھینپتے ہوئے میں نے کہا سدرہ بیٹا آپ کو امی نے کچھ ایسی باتیں نہیں بنائیں جو اسے آپ کو بتانا چائیں تھیں۔ وہ نہ سمجھنے والے انداز میں میری طرف دیکھتے ہوئی بولی،نیہں ایسا تو امی نے کچھ نہیں بتایا، میں نے اس پر کہا کہ اسے اپنی مصروفیات سے وقت نکلے تو اولاد پر توجہ دے، میں نے کہا تمہارے ذہن میں اگر کچھ سوالات ہیں، کسی بھی قسم کے، اس کسی بھی قسم کے پر میں نے بہت زور دیا اور دو تین مرتبہ دوہرایا تو اس کے آنکھوں میں ایک رنگ آیا اور گزرگیا۔ اس نے کہا ہاں ابو سوالات تو ہیں لیکن ڈر لگتا ہے، آپ پھر سے ناراض ہو جاؤ گے۔ میں نے کہا نہیں ہوتا آپ پوچھو، اس نے کہا کہ آپ پہلے وعدہ کرو ناراض نہیں ہو گے، میں نے کہا پکا وعدہ ناراض نہیں ہوں گا۔ اس نے کہا کہ مرد کا جسم اوپر سے نہیں بڑھتا لیکن عورتوں کا کیوں بڑھ جاتا ہے اس کی کیا وجہ ہے، میں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت نے ماں بننا ہوتا ہے، بچو ں کو دودھ پلانا ہوتا ہے اس لئے جبکہ مرد نے دودھ نہیں پلانا ہوتا اس لئے اس کے ممے نہیں ہوتے۔ میرے منہ سے مموں کا ورڈ اس نے سنا تو پوچھا کہ ممے کیا ہوتے ہیں، میں نے کہا کہ ممے بریسٹس کو کہتے ہیں اور ساتھ ہی لوہا گرم دیکھتے ہوئے کہا کہ ذرا دیکھوں تو تمہارے بریسٹس کا سائز کیا ہے، ذرا اپنا دوپٹہ سائیڈ پر کرنا تو، اس نے ایک دم سے دوپٹہ ہٹا دیا تو میں نے مصنوعی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تمہارا لیفٹ والا ممہ رائٹ والے سے چھوٹا ہے، ذرا اپنی قمیض تو اوپر اٹھاؤ، میں دیکھ کر بتا سکتا ہوں کہ کیا مسئلہ ہے، اس نے فوراََ قمیض اٹھانا چاہی تو میں نے کہا جا کر دروازہ لاک کر دو یہ نہ ہوئی کوئی چھوٹا بہن بھائی آ جائے۔ وہ گئی اور دروازہ لاک کر واپس آ گئی، آتے ہی اس نے قمیض اوہر کی تو میں نے کہا پوری اتار دو، اس نے جب قمیض اتاری تو اس کی بغل میں بال تھے، میں نے کہا تم صفائی نہیں کرتی تو اس نے کہا کہ بھی پیریڈز کے بعد کروں گی، جس پر میں نے کہا کہ لازمی نہیں کہ پیریڈز کا انتظار کیا جائے، کسی بھی وقت صفائی کی جا سکتی ہے۔ اس سارے منظر میں میرا لن فل کھڑا ہو چکا تھا اور جب میں نے سدرہ کے مموں پر اپنا ہاتھ رکھا تو میرا حال برا ہو گیا تھا، اس نے بھی محسوس کر لیا تھا کہ میرے ٹاول میں کچھ حرکت ہوئی ہے، اس نے میرے لن کی جانب دیکھتے ہوئے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا،جب اس نے میرے ٹاول میں حرکت دیکھی تو لازماََ اس میں اشتیاق کا پیدا ہونا فطری عمل تھا اور ساتھ ہی میرے اندر تھی ایک عجیب سی ہلچل پیدا ہو چکی تھی، میں ایک خودکار مشین کی طرح وہ کچھ کرتا جا رہا تھا جو اگر سوچ سمجھ رکھتا ہوتا اس وقت تو کبھی نہ کرتا۔ سدرہ نے میری طرف دیکھا اور بغیر کچھ کہے اس کی چھٹی حس نے اسے بتا دیا کہ وہ اور میں کس کفییت میں ہیں۔ اس وقت تو وہ کچھ نہی بولی بس اتنا ہی کہا کہ ابو کیا مجھے اپنا جسم آپ کو دکھانا چاہئے تھا، میں نے کہا بہت کچھ ایسا کرنا پڑتا ہے جو نہیں کرنا چاہئے لیکن چونکہ تم میری بیٹی ہو اس لئے اگر میں نے تمہارا جسم دیکھ لیا تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، میں نے بچپن میں بھی تمہارا سب کچھ دیکھا ہوا ہے۔ اس پر وہ کچھ مطمئین ہوئی اور کچھ بے چین، میں نے اس کی بے چینی بھانپتے ہوئے اسے کہا کہ کیا تم مرد کا جسم بھی دیکھنا چاہتی ہے۔ لازمی امر ہے چھوٹی عمر کی لڑکیوں میں تجسس ضرور ہوتا ہے۔ اس نے سر ہاں میں ہلا دیا، میں نے اپنا ٹاول نیچے گرا دیا۔ میرا دل میرے کانوں میں دھڑک رہا تھا اور میں اس کے تاثرات کا بغور جائزہ لے رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اگر اس نے اپنی ماں سے اس سب کا ذکر کر دیا تو کیا ہو گا، یہ سوچ آتے ہی میرا سارا مزہ برباد ہو گیا لیکن میں نے موقع کو ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا اور ایک ایک کرے سدرہ کے تمام کپڑے اتروا دئیے۔ اس کا وجود گو اس وقت کافی چھوٹا تھا لیکن کنوارے وجود میں ایک اپنی ہی خوبصورتی اور سیکس ہوتا ہے۔ اس کے نپلز چھوٹے چھوٹے تھے اور ممے بھی بالکل تنے ہوئے، گورے گورے گول مٹول لیکن چھوٹے چھوٹے بھی تھے ، مکمل گولائی میں تھے اور اور عموما جس طرح سائیڈوں پر بڑھے ہوتے ہیں ویسے نہیں تھے۔ میرے اندر کا شیطان پورا جاگ چکا تھا، میں نے ان پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ اس عمل سے سدرہ کو بےچینی محسوس ہونا شروع ہوئی جو میں نے محسوس کر لی، میں نے اس کی پھدی کی جانب دیکھا تو اس نے اپنی ٹانگوں کو سختی سے آپس میں ملا رکھا تھا، میں سمجھ چکا تھا کہ وہ بھی گرم ہو رہی ہے اور نیچے سے گیلی بھی ہو چکی ہو گی، میں نے کہا کہ اپنی ٹانگیں کھولو اور زمین پر ایسے بیٹھ جاؤ جیسے پیشاب کرتے وقت بیٹھتے ہیں۔ اس نے جھجھکتے جھجھکتے میری بات مان لی اور جوں ہی وہ نیچے بیٹھی اس کی پھدی سے پری کم کے قطرے نکلنا شروع ہو گئے، اس پر اسے شرمندگی محسوس ہونا شروع ہو گئی اور اس نے کہا کہ ابو میں واش روم میں جانا چاہتی ہوں، میں نے پہلے دن کی کافی ڈویلپمنٹ کو کافی جانا اور اسے کہا کہ جا کر کپڑے پہن ہو اور واپس آ کر میری بات سنو۔ اس نے اپنا لباس اٹھایا اور واش روم کو چل دی۔ واپسی پر وہ مجھ سے نظریں چرا رہی تھی لیکن میں فیصلہ کر چکا تھا کہ اس جوانی کا مزہ میں ہی چکھوں گا چاہے نتیجہ کچھ بھی نکلے۔ اس کے لئے مجھے صبر اور تدبیر سے کام لینا تھا کہ ابھی میری بیٹی کی عمر کم تھی اور وہ کسی سے یہ بات شئیر کر کے کام بگاڑ سکتی تھی۔ جب وہ واپس آ کر میرے پاس بیٹھی تو میں نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لئے اور کہا کہ میری اچھی بیٹی جو کچھ ہوا ہمارے درمیان اس کو ہم دونوں کو ہر حال میں راز رکھنا ہے۔ اس نے بات سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دی اور میں نے کہا کہ کچھ اور پوچھنا ہے تو پوچھ سکتی ہو، میں اس دوران دوبارہ ٹاول لپیٹ چکا تھا، اس نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا کہ ابو میں آپ کی نو نو کو دیکھنا چاہتی ہوں، میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ اس کو نونو نہیں کہتے لن کہتے ہیں، وہ تھوڑا شرما گئی اور کہا جو بھی کہتے ہیں مجھے اس کو دیکھنا ہے، میں نے دوبارہ ٹاول کھول دیا اور اسے کہا کہ وہ چاہے تو اس کو چھو بھی سکتی ہے۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے میرے لن کو اپنے ہاتھ میں تھام لیا، اس کے ہاتھوں کے لمس کا ملنا تھا کہ میرا لن کھڑا ہونا شروع ہو گیا۔ کرتے کرتے میں فل اییریکٹ ہو گیا، اس نے حیران ہوتے ہوئے کہا یہ کیوں سوج گیا ہے، میں نے کہا یہ سوجا نہیں ہے تیار ہو گیا ہے۔ اس نے کہا کس لئے تیار ہو گیا ہے تو میں نے کہا کہ جب یہ فل سخت ہو جاتا ہے تو عورت کی پھدی میں ڈالتے ہیں، پھر جب مرد عورت کے اندر منزل ہوتا ہے تو حمل ہوتا ہے جس سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اس نے کچھ سمجھنے اور کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا اور کہا کہ یہ منزل کیا ہوتا ہے، میں نے موقع غنیمت جانا اور اپنی بیڈ سائیڈ سے لبریکینٹ نکال دیا کہ اسے میرے لن پر لگا کر آگے پیچھے تیزی سے ملو، اس نے ایسا ہی کیا، گرم تو میں پہلے سے ہی تھا، کچھ ہی دیر میں میں فارغ ہو گیا، میری منی کے قطرے جب سدرہ نے دیکھے تو حیران ہو گئی کہ یہ کیا نکل رہا ہے، اس نے پوچھا یہ کیا ہے تو میں نے کہا کہ اسی سے بچہ بنتا ہے۔ اس کا اشتیاق بڑھتا جا رہا تھا لیکن چھوٹنے سے میرا جوش ٹھنڈا پڑ چکا تھا، میں نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا کہ اگر آج رات تمہاری ماں گھر میں نہ آئی تو رات کو تمہیں فلم دکھا دوں گا ، تم سب خود دیکھ لینا، یہ سن کر سدرہ اٹھ کر چلی گئی اور میں جو کچھ آج ہوا تھا اچانک اور اتنی جلدی اس کو سوچتے سوچتے واش روم میں چل دیا۔ حسب توقع سمیرہ کا فون رات کو آٹھ بجے آ گیا کہ وہ نہیں آئے گی رات کو کہ اس کی دوست نے اس کو روک لیا ہے لہٰذا میں پریشان نہ ہوں۔ میں دل میں خوش ہوا کہ آج کی رات سدرہ سے مزہ لوں گا۔ جب رات کے گیارہ بج گئے تو سدرہ نے میرے دروازے پر ناک کیا، میں نے کہا آ جاؤ تو وہ آ گئی اور میرے بیڈ پر خاموشی سے بیٹھ گئی، میں نے اس کی آمد سے اس کا مقصد سمجھ لیا اور اپنے لیپ ٹاپ میں محفوظ ایک ٹرپل ایکس انسسٹ مووی لگا دی، چونکہ آواز کھلی تھی اس لئے سدرہ بڑی دل چسپی سے ساری فلم دیکھتی رہی جب کہ میں ایک طرف بیٹھا اس کے تاثرات دیکھتا رہا، جب میں نے محسوس کیا کہ اب سدرہ کافی گرم ہو چکی ہے تو اس سے کہا کہ سدرہ تم چاہو تو ایزی ہو کر بیٹھ جاؤ اور اپنے کپڑے اتار کی فلم دیکھو، زیادہ انجوائے کرو گی، اس نے کچھ کہے بنا اٹھ کر اپنے کپڑے اتارنا شروع کر دئیے۔ پوری ننگی ہو کر وہ میرے سامنے بیٹھ چکی تھی اور میرا حال خراب تھا، میں نے اس کے کندے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کہ سدرہ تم الٹی ہو کر لیٹ جاؤ میں تمہارے جسم پر ہاتھ پھیرتا ہوں اس سے تمہیں بہت مزہ آئے گا۔ اس نے ایسا ہی کیا اور میں اس کے پہلو میں لیٹ کر اس کی ٹانگوں پر سے ہاتھ پھیرتا ہوں اس کی چھوٹی سی گانڈ کی موری تک لے کر جاتا اور پھر واپس لے آتا، میں نے اس سے کہا کہ اگر تمہیں برا نہ لگے تو میں بھی کپڑے اتار دوں؟ اس نے کہا اتار دیں مجھے کیوں برا لگے گا۔ میں نے فوراََ اپنے کپڑے اتارے اور سدرہ کے ساتھ اپنا ننگا لن ٹچ کرنا شروع کر دیا، اس کے جسم میں نے ایک جھر جھری لی اور پھر اس نے اپنی ٹانگیں تھوڑی سی کھل دیں جس سے اس کی پھدی کی لکیر مجھے دکھائی دینے لگی ، میں نے اس سے کہا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ لڑکی کی پھدی سیل ہوتی ہے اور پہلی مرتبہ اگر کرو تو درد ہوتا ہے۔ اس نے کہا ہاں اس کی ایک سہییلی نے اسے بتایا تھا، میں نے کہا کیا تمہیں پتا ہے کہ اگر گانڈ میں ڈالا جائے تو سیل نہیں ٹوٹتی لیکن درد کافی ہوتا ہے لیکن لڑکی کو مزہ بھی آتا ہے۔ اس نے کہا نہیں مجھے نہیں پتا تھا لیکن فلم میں ایک اینل سین وہ دیکھ چکی تھی اس لئے اس نے کہا کہ مجھے اس کا پتہ نہیں تھا اب فلم میں دیکھ کر پتہ چلا ہے، میں نے ویسے ہی اس کو چھیڑنے کے لئے کہا کہ کیا یار سدرہ تم نے پوری فلم دیکھ لی لیکن ایک مرتبہ بھی نہ تو میرا لن ہاتھ میں پکڑا نہ ہی منہ میں لیا، اس نے کہا آپ نے کہا ہی نہیں، میں نے کہا تم پوچھے بنا ہی پکڑ لیتی یا چوسنا شروع کر دیتیں۔ خیر اس نے میرے لن کو پکڑ کر مسلنا شروع کر دیا اور تھوڑی دیر میں جب وہ سخت ہو گیا تو اس کو جھجھکتے جھجھکتے منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔ میرا تو دماغ خراب ہو گیا لیکن میں نے کنڑول کئے رکھا، کچھ دیر کے بعد میں نے کہا سدرہ کیوں نہ تمہاری گانڈ میں لن ڈالا جائے، اس نے کہا آپ کا لن بہت موٹا ہے اور میری گانڈ کی موری بہت چھوٹی ہے، میں نے کہا کہ سب کی گانڈ کی موری چھوٹی ہی ہوتی ہے تم چاہو تو میری گانڈ کی موری کو دیکھ لو، یہ کہہ کر میں نے اپنی گانڈ اس کی طرف موڑی تو اس نے باقائدہ ہاتھ لگا کر چیک کیا پھر کہنے لگی کہ نہیں یہ میری موری سے بڑی ہے میں نے کہا اچھا ایسا کرتے ہیں کہ تم میری گانڈ میں انگلی ڈال کر دیکھ لو، کچھ بھی نہیں ہو گا، اس نے کہا یہ تو گندی جگہ ہوتی ہے، میں نے کہا کہ میں اینل سیکس کو جانتا ہوں، تم میرے ساتھ واش روم میں آو میں تمہیں اینیما کا طریقہ بتا دیتا ہون، اس سے تمیہں مزہ بھی آئے گا اور میں بھی انییما لے لوں گا۔ یہ اس کے لئے بالکل نئی بات تھی، میں اس کے ساتھ ٹوائیلٹ میں گیا اور مسلم شاور کا شاور اپنی گانڈ کے سوراخ سے لگا کر لیور پریس کرنا شروع کر دیا، کچھ دیر بعد میرا انٹرنل حصہ پانی سے بھر گیا، میں کموڈ پر بیٹھ کر پانی خارج کرنے لگا جس سے اندر کی تمام گندگی باہر نکل جاتی ہے اور گانڈ بالکل صاف ہو جاتی ہے۔ دو تین مرتبہ میں نے ایسا ہی کیا اور سدرہ سے کہا ک وہ بھی ایسا کرے لیکن اتنا پریشر اندر ڈالے جتنا وہ برداشت کر لے۔
 اس نے ڈرتے ڈرتے ایک مرتبہ ایسا ہی کیا اور پھر بے فکر ہو کر دو تین مرتبہ کیا اور میرے ساتھ باہر آ گئی، میں نے آتے ہی اسے لبریکنٹ دیا کہ اسے میری گانڈ کے سوراخ پر مل دو کچھ میں نے خود لے کر اپنی گانڈ کے اندر تک لگا دیا اور اسے کہا کہ فنگرنگ کرنا شروع کر دے، میں اینل سیکس کا شروع سے عادی اور دیوانہ ہوں اور اکثر اوقات انگلینڈ میں ڈلڈوز کے ساتھ پراسٹیٹ اوگزم کر چکا ہوں، جب اس نے میری گانڈ میں ایک انگلی ڈآلی تو میں نے کہا دو ڈالو، پھر اسی طرح کرتے کرے اس نے چار انگلیاں اندر ڈالنا شروع کر دیں، میں نے کہا کہ اپنا پورا ہاتھ اندر ڈالو لیکن آہستگی سے، اس نے ڈرتے ڈرتے ایسا ہی کیااور اس کا ہاتھ کلائی تک میری گانڈ میں جا چکا تھا، میں مزے کی دنیا میں ڈوبا ہوا تھا اور میری پری کم گرنا شروع ہو چکی تھی، میں نے اسے بتایا کہ میل جی سپاٹ کونسا ہوتا ہے اس کو رب کرے، ایسا کرنے سے میں جلد ہی فارغ ہو گیا، اس کے بعد میں نے سدرہ کو گھوڑی بننے کا کہا اور اس کی گانڈ میں لبریکینٹ لگانا شروع کر دیا۔ ایک ایک کر جب میری تین انگلیاں اس کی گانڈ میں جانا شروع ہو گئیں تو میں نے اپنے لن پر لبریکینٹ لگایا جو فارغ ہونے کے بعد اتنی دیر میں پھر تیار ہو چکا تھا، میں نے جیسے ہی اپے لن کی ٹوپی اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھی اور آہستہ آہستہ اس کو اندر پش کرنا شروع کیا، جیسے ہی میرا لن اس کے اندر آدھا گیا تو اس نے مچلنا شرو ع کر دیا اور کہنے لگی کہ ابو جی بہت درد ہو رہا ہے، میں رک گیا اور تھوڑی دیر اس کو نہ ہلایا جلایا، تھوڑی دیر میں اس کی گانڈ میرے لن کی عادی ہو چکی تھی، پھر میں نے آہستہ آہستہ لن اس کی گانڈ میں پورا اتار د یا، جب لن پورا اس کی گانڈ کے اندر چلا گیا تو اس کو کہا کہ وہ اپنی مرضی سے ہلنا شروع کر دے۔ اس نے آہستہ آہستہ ہلنا شروع کر دیا، کچھ دیر بعد اس کو بھی لطف آنے لگا اور اس کے منہ سے سی سی کی آوازیں آنے لگی اور اس کی رفتار تیز ہو گئی، ساتھ ساتھ میں نے اس کی پھدی کو رب کرنا بھی شروع کر دیا، چونکہ وہ دیکھ چکی تھی کہ منزل کیسے ہوتے ہیں اس لئے اس کی سانس تیزی سے چلنا شروع ہوئی اور وہ بہت ہی پریشر سے فارغ ہوئی کہ اس کی منی کی دھار بیڈ شیٹ پر آ کر گری اور وہ بے دم ہو کر نیچے لیٹ گئی، میں اس کے اوپر تھا، میں نے بھی اپنی رفتار تیز کر دی اور کچھ منٹس کے بعد فارغ ہو گیا،،،،فارغ ہو کر میں نے سدرہ سے کہا کہ اب تم جا کر نہا لو میں بھی نہا لیتا ہوں، وہ شاید ابھی مزید ایڈونچر کرنا چاہتی تھی اس لئے بولی کہ ابو آپ نہا کر آ جائیں میں بہت تھک گئی ہوں ابھی کچھ دیر سوؤں گی، پھر اٹھ کر نہا لوں گی، میں نے کہا جیسے تمہاری مرضی اور واش روم کی جانب بڑھ گیا۔ میں نہانے کے دوران بھی جو لمحات بیتے تھے انہیں یا د کر کے گرم ہوتا رہا اور یہ سوچتا رہا کہ کہا مجھے سدرہ کو چود دینا چاہئے یا ابھی نہیں، اسی کشمکش میں میں نہا کر ننگا ہی کمرے میں آیا تو دیکھا کہ سدرہ ابھی جاگ رہی تھی اور کہنے لگی کہ میں واش روم سے ہو کر آتی ہوں پھر باتیں کرتے ہیں، میں نے کہ اوکے اور وہ واش روم کو چل دی، دس منٹ بعد وہ واپس آئی تو فریش ہو چکی تھی اور آتے ہی میرے ساتھ چپک کر لیٹ گئی اور ایسے ظاہر کرنے لگی جیسے وہ بہت تھک چکی ہے اور سونا چاہتی ہے، میں نے اس اپنے ساتھ پہلو میں لٹا لیا لیکن پھر اچانک چونکتے ہوئے سدرہ کو کہا کہ کیا اس نے مین دروازے کی اندر سے کنڈی لگائی ہے یا صرف سنٹر لاک ہی لگایا ہے، اس نے کہا صرف سینٹر لاک ہی لگایا ہے، یہ سن کر میں تیزی سے اٹھا اور کمرے سے باہر جانے لگا، ایک دم سے ٹراؤذر کھینچا اور جا کر مین دروانے کی اندر سے کنڈی لگا دی تا کہ اگر سمیرا آ بھی جائے تو دروازہ نہ کھل سکے اور اسے بیل بجانی پڑے۔ میں اطمینان سے واپس آیا اور سدرہ سے کہا کہ آئیندہ ایسی بے وقوفی نہیں کرنا، اگر میں بھول جاؤں تو تم یاد سے کنڈی لگا آیا کرنا۔اب چونکہ حجاب کے پردے اتر چکے تھے اس لئے سدرہ نے میرے ساتھ چپک کر بغیر جھجھکے میرے لن کو مسلنا شروع کر دیا اور میں نے بھی اس کے نپلز کو مسلنا شروع کر دیا، ٹھیک دو منٹ بعد ہی سدرہ دوبارہ گرم ہو چکی تھی اور میرے ساتھ اپنی پھدی رگڑ رہی تھی۔ مجھے بھی اس کی پھدی کے بالوں کا ہلکا ہلکا اپنی رانوں پر چپھنا بہت مزہ دے رہا تھا، میں نے جب سدرہ کی طرف دیکھاتو اس کی آنکھیں بند تھیں، میں نے سدرہ کو مخاطب کیا اور کہا کہ سدرہ میری بات سنو، جو ہم کرنے جا رہے ہیں اس کے بعد تم لڑکی سے عورت بن جاؤ گی، کیا تمہیں یہ منظور ہے؟ مزید یہ بھی بتایا کہ تمہاری پھدی جب پھٹے گی تو درد بھی ہو گا اور کل کو اگر تمہاری ماں پر یہ راز کھل گیا تو پھر کیا ہو گا۔ سدرہ نے جواب میں جو بات کی وہ بہت ہی حیران کن تھی، اس نے کہ جب میری گانڈ میں آپ نے لن ڈالا تھا اور مجھے چودا تھا ساری حدیں تو تب ہی کراس کر لی تھیں ہم نے، اب محض ایک جگہ رہ گئی جس میں مجھے لطف ملنا ہے تو اس میں ڈالتے وقت آپ کو کیوں ڈر لگ رہا ہے۔ آپ ڈالیں اندر جو ہو گا وہ دیکھا جائے گا۔ میں اس کی جرات سے حیران رہ گیا اور اس سے کہا کہ اپنی ٹانگیں کھولو اس نے جب اپنی ٹانگیں کھولیں تو اس کی پھدی کافی گیلی ہو چکی تھی، میں نے اس کو تھوڑا سا رب کیا اور اس کے بعد اس کی پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا۔ جیسے جیسے میری زبان اس کی پھدی کی گہرائیوں میں جاتی تھی ویسے ویسے وہ مچلتی جاتی تھی، اس دوران ہی اس نے دو تین تیز تیز جھٹکے لئے اور میں نے بروقت منہ پیچھے کیا، وہ فارغ ہو چکی تھی، میں نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے کہا کیا مزید مزہ چاہئے یا آج کے لئے اتنا کافی ہے، اس نے میرے سرکے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے مجھے اپنے اوپر کھینچا اور فرنچ کس کرنا شروع کر دی، اسے فرنچ کس صحیح کرنا نہیں آتی تھی لیکن میں نے اس کے ہونٹوں پر اپنی زبان دبائی تو اس نے منہ کھول دیا اور ہم دونوں ایک دوسرے کی زبانوں کو چوسنے لگے۔ چند منٹ بعد ہی اس نے اپنی پھدی کو میرے لن سے رگڑنا شروع کر دیا، میں نے اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے کہا ایک منٹ رکو، میں نے لبریکنٹ اپنے لن پر لگایا اور احیتیاطاََ اس کی پھدی میں اندر تک لگایا، جیسے ہی میری انگلی نے اس کی پھدی کے پردہ بکارت کو چھوا اس کے منہ سے کراہ نکلی، میں نے کہا تھوڑا درد ہو گا لیکن برداشت کرنا ہو گا، اس نے کچھ نہ کہا، میں اٹھ کر اس کی ٹانگوں کے عین درمیان آ بیٹھا اور آہستگی سے اپنا لن اس کی پھدی پر رگڑتا رگڑتا اندر دباتا چلا گیا، میں رکا تھوڑی دیر کے لئے، پھر میں نے سدرہ سے کہا کہ اب میں جھٹکا ماروں گا، تم برداشت کرنا، میں نے یہ کہہ کر جوں ہی جھٹکا مارا سدرہ کی آنکھیں ایک دم سے درد کی شدت سے پھیل گئی اور اس نے اپنی چیخ بڑی مشکل سے کنٹرول کی۔ اس کے ساتھ ہی میں نے اپنا لن باہر نکال لیا اور اس کی پھدی سے جو خون نکل رہا تھااس کو صاف کیا۔ جب کچھ منٹ گزر گئے تو میں نے دوبارہ لبریکنٹ لگایا اور اس کو کہا کہ تھوڑی جلن ہو گی لیکن کچھ دیر بعد ختم ہو جائے گی۔ اس نے ہاں میں سر ہلایا اور میں نے آہستگی سے اپنا لن اس کی پھدی میں ڈال دیا جو کہ اب آرام سے اندر چلا گیا۔ میں نے ہلکا ہلکا ہلنا شروع کر دیا، کچھ دیر بعد سدرہ بھی میرا ساتھ دینے لگی۔میں نے اسی طرح اس کو چودتے ہوئے اٹھا کر اپنے اوپر بٹھا لیا اور اس نے فلمی انداز میں میرے لن کو اندر باہر لینا شروع کر دیا، شاید اس طرح اسے زیادہ مزہ آ رہا تھا کیونکہ ایسا کرتے ہی اس کی رفتار میں تیزی آتی گئی اور وہ تیز تیز جھٹکے مارتے مارتے فارغ ہو گئی، میں بھی بالکل منزل ہونے والا تھا لیکن جیسے ہی میں فارغ ہونے کے مرحلے پر پہنچا میں نے ایک دم سدرہ کو اوپر سے ہٹا دیا اور اس کو کہا کہ تیز تیز ہاتھ چلاؤ یا منہ میں لے کر چوسو، اس نے ہچکچاتے ہوئے میرے لن کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا اور میں ایک مرتبہ پھر بہت پریشر سے اس کے منہ میں فارغ ہو گیا،۔ چونکہ سدرہ کو اس کا تجربہ نہیں تھا نہ ہی اس کو ذائقہ کا علم تھا اس لئے کچھ منی تو اس نے نگل لی اور باقی باہر تھوک دی۔ لیکن شاید اس کو منہ میں فارغ کروانا پسند نہیں آیا تھا اس لئے وہ ایک دم بھاگی واش روم کی جانب اور اس نے الٹی کر دی، جب واپس آئی تو مجھے شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ آپ نے گندہ کام کیا میرے ساتھ۔ خیر ہم خوشگوار موڈ میں گپیں مارتے مارتے سو گئے، صبح بچوں کی اسکول سے چھٹی تھی اس لئے ہم تھی دیر تک سوئے رہے، صبح دس بجے باہر دروازے کی گھنٹی بجی تو ہم چونک کر اٹھے اور میں نے سدرہ کو کہا کہ فٹا فٹ کپڑے پہنو اور اپنے کمرے میں جاؤ، وہ اٹھ کر بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گی اور میں نے جا کر مین گیٹ کھول دیا، ظاہر ایسے کیا جیسے میں ابھی ابھی سو کر اٹھا ہوں، باہر سمیرا کھڑی تھی جس کا کوئی یار اسے دروازے پر ڈراپ کر گیا تھا۔ وہ ایسے چل رہی تھی جیسے تمام رات ایک سے زیادہ بندوں سے چدوا کر آئی ہو۔ وہ آتے ہی بستر پر گر گئی اور مجھے کہا کہ میں ناشتہ کر کے آئی ہوں، ساری رات کی جاگی ہوئی ہوں اس لئے اب سوؤں گی، پلیز مجھے ڈسٹرب نہ کرنا۔ میں زیر لب مسکرایا اور کہا کیوں آج زیادہ انجوائے کر لیا تھا کہ بہت تھکاوٹ ہو گئی ہے۔ اس نے ماتھے پر تیوری چڑھاتے ہوئے کہا کہ میں شادی کی تقریب میں گئی تھی، ، اپنی سہاگ رات پر نہیں گئی تھی کہ ساری رات انجوائے کرتی رہی ہوں، میں نے اس پر ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ سہاگ رات ایک مرتبہ ہوتی ہے، بار بار تو رنڈیاں چدواتی ہیں، میری اس بات پر اس کے چہرے پر کئی رنگ آ کر چلے گئے۔ اس نے شک بھری نظروں سے میری طرف دیکھا لیکن پھر ایک دم قاتلانہ مسکراہٹ میں اس کیفیت کو چھپاتے ہوئے کہنے لگی لگتا ہے میرے شوہر صاحب بہت دن سے پیاسے ہیں، آؤ آج میں پیاس بجھا ہی دیتی ہوں ، میں نے کہا نہیں مجھے کوئی پیاس نہیں ہے، ویسے بھی میں پہلے سے تھکی ہوئی عورت اورتھکی ہوئی گھوڑی پر سواری نہیں کرتا
،تم آرام کر لو پھر دیکھیں گے۔ یہ کہہ کر میں کمرے سے باہر آ گیا۔ جب رات کو سدرہ سو گئی تھی تو میں نے کمرے میں ساری گڑ بڑ ٹھیک کر دی تھی، بیڈ شیٹ پر جہاں خون کا نشان لگا تھا وہ نشان دھو دیا تھا، جہاں جہاں ٹشو پیپرز گرے تھے وہ بھی کموڈ میں فلش کر دئیے تھے اس لئے میں بڑے اطمینان سے سویا تھا جب کہ سدرہ کی آنکھوں میں پریشانی ضرور تھی اور یہی وجہ تھی کہ جب میں سمیرا کو کمرے میں دھکیل کر سدرہ کی جانب گیا تو وہ جاگ رہی تھی اور مجھے دیکھتے ہی فکرمندی سے کہنے لگی کی ابو کمرے میں تو بہت کچھ گڑ بڑ تھی اگر امی نے دیکھ لیا تو کیا ہو گا، میں نے اس کی گانڈ کی لکیر میں انگلی پھیرتے ہوئے کہا کہ کچھ نہیں ہو گا، میں نے رات کو تمہارے سونے کے بعد سب کچھ یس کر دیا تھا، اس کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہو گی اس لئے اب اٹھو اور چائے بناو اور بے فکر ہو جاؤ، بالکل بھی اپنے چہرے سے کسی غیر متوقع بات کا اظہار یا ردعمل نیہں دینا۔ اگر موقع ملا تو دوبارہ ایسے ہی مزہ لیں گے۔ اس بات پر اس نے شرما کر نظریں جھکا لیں لیکن منہ سے کچھ بولے بنا ہی میرے قریب ہو کر میرے گال پر ایک کس کر دی، میں نے شرارتا اپنے ہونٹ سامنے کئے تو اس نے آنکھیں نکالتے ہوئے کہا کہ کوئی دیکھ لے گا، آپ جائیں یہاں سے۔ اور میں وہاں سے نکل کر ٹی وی لاؤنج میں آگیا،،،،

Posted on: 03:22:AM 14-Dec-2020


3 0 732 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com