Stories


بہنو کی بدل کر چدائی از رابعہ رابعہ 338

بهنو کہ بدل کر چدایی کہ میرا نام امت ہے اور میں سیکسی کہانی کا رےگلر رڈر ہوں. میری عمر 23 سال ہے میں TY BCOM میں پڑتا ہوں. میری کہانی میرے گھر کہ ہے. جس میری بہن کے جنسی کہ کہانی ہے. میری بہن کا نام پونم ہے. اس کی کہ ہائیٹ 5.4 "ہے. اور وہ 22 سال کہ ہے. وہ دیکھنے میں اتنی گوری نہیں ہے پر ہے بہت سیکسی. وہ بہت خوبصورت ہے جسے دیکھ کر کوئی بھی مرد اسے چودنے کو راضی ہو جائے گا. اس کا فگر 36-26-37 ہے. اسکے بوبس کافی بڑے ہیں. اور گانڈ تو اتنی مزیدار ہے کہ جب وہ چلتی ہے تو لنڈ کھڑا ہو جاتا ہے كس کا بھی. آپ کا بھی کھڑا ہوگیا ہوگا دوستو. بات ان دنو کہ ہے جب میں کولیج میں پڑتا تھا. اور میری بہن میرے ه کولیج کے بازو والے لےڈس کولیج میں پڑتی تھی. میرا ایک سب سے اچھا دوست تھا جس کا نام مہیش تھا. وہ میرے ساتھ ه ایک ه کلاس میں تھا، اور میرے گھر بھی آتا جاتا تھا. میری اس سے کافی اچھی دوستی تھی. مہیش کہ 1 بہن تھی جس کا نام شالو تھا. وہ میری بہن کہ عمر کہ ه تھی، اور میری بہن کے کولیج میں ه پڑتی تھی. جی ہاں وہ دونو ایک دوسرے کہ دوست نہیں تھی، صرف جانتی تھی ایک دوسرے کو. مہیش کافی امیر تھا، لیکن میں مڈل کلاس فیملی سے تھا. مہیش کے پاپا کا ایک فارم-ہاؤس تھا. شہر سے تھوڑا ه دور. ہم اکثر میں اور مہیش کلاس بنك کرکے وہاں جایا کرتے تھے. وہاں کوئی نہیں رہتا تھا. ایک خاص بات آپ لوگو کو بتا دوں کے میں اور مہیش کہ بہن شالو ایک دوسرے کو کافی پسند کرتے تھے. اور ہمارے درمیان کافی سارا جنسی بھی تھا. میں جب بھی مہیش کولیج میں رہتا تو اس کی بہن کو لے کر اس کے فارم-ہاؤس چلا جاتا تھا، اور دوپہر تک ہم دونو مل کر خوب چدایی کرتے تھے. ایک دن مہیش کا رات کو مجھے فون آیا. اس نے پوچھا کہ کل کیا کر رہے ہو. تو میں نے اسے بتایا کہ میں کل کولیج سے بنك کرکے کرکٹ کھیلنے جانگا. میں نے اس سے پوچھا کے کوئی کام ہے کیا. تو اس نے ٹال دیا کہ نہیں ایسے ه پوچھ رہا ہوں. اور پھونے رکھ دیا. اگلے دن میں صبح جب کرکٹ کھیلنے جا رہا تھا تو میں جلدی اٹھا گیا اور تیار بھی ہو گیا. میں نے اپنی بہن پونم کے کمرے میں جھانك کر دیکھا تو وہ آج کچھ اچھی طرح تیار ہو رہی تھی. اس نے لال رنگ کہ ٹاپ اور اس کے نیچے سیاہ رنگ کہ سکرٹ پہن رکھی تھی. اس کے ٹاپ سے اس کے بڑے بڑے بوبس کیا کمال دکھائی دے رہے تھے، اور اس کی سکرٹ اس کی گانڈ سے ایک دم فٹ تھی جس سے اس کی گانڈ کے ابھار صاف دکھائی دے رہے تھے. اس نے اپنے بال کھلے رکھے تھے اور میک اپ بھی بہت اچھا کیا ہوا تھا. اچانک اس کے موبائل پر كس کا فون آیا، وہ بات کر رہی تھی کہ کولیج کے باہر ملے گی. بعد میں وہ اپنے سکوٹی پر نکل گ اور میں اس کے پیچھے گیا. وہ کولیج كمپانڈ میں اپنی سکوٹی پارک کر کے باہر آ گئی اور کسی کا انتظار کر رہی تھی، اچانک ایک کار آئی اور وہ اس میں بیٹھ گئی. میں اسکا پیچھا کرنے لگا تو کار مہیش کے فارم-ہاؤس پر آ کر رک گئی. تبھی مجھے اچانک یاد آیا کے وہ کار تو مہیش کے پاپا کہ ہے. اور میرے دل میں ہلچل س مچ گئی، کہ پونم اس کار میں کیا کر رہی تھی. کار اندر چلی گئی. میں بھی اندر چلا گیا، اس وقت تک کار میں سے وہ لوگ اندر چلے گئے تھے. میرے پاس بھی مہیش کے فارم-ہاؤس کہ چابی تھی، اور میں ہر ایک دروازے اور كھڈكي کا علم تھا. تو میں بھی دوسری چابی سے اندر چلا گیا. وہاں پر پہلے حال میں کوئی نہیں تھا، اندر بیڈ روم سے كس کہ آواز سنائی دے رہی تھی. تو میں نے دوسرے کمرے میں جا کر کے TV اون کر دیا، اور مہیش کے فارم-ہاؤس کے ہر حصہ میں CC TV کیمرے لگایا گیا تھا. تو میں نے کیمرے اون کر دیا. کیمرے اون ہوتے ه میرے تو ذہن نے کام کرنا بند کر دیا. وہاں پر میں نے دیکھا کے میری بہن پونم اور مہیش تھے. وہ لوگ باتیں کر رہے تھے. مہیش:- پونم آج بہت اچھی لگ رہی ہو کیا بات ہے؟ پونم: - بات کچھ نہیں میں تو ہر پل اچھی ه دکھتی ہوں تمہاری نظر آج کچھ بدل گئی لگتی ہے. مہیش: - مجھے تو تم آج کچھ زیادہ ه سیکسی دکھ رہی ہو پونم. پونم: - کچھ ٹھنڈا تو پلاو، بہت پیاس لگی ہے. مہیش: - کیا لوگي گرم نہیں چلے گا کیا؟ تمہاری تو پیاس گرم سے ه بجھےگی کیوں؟ پونم: - پليس یار سچ میں پیاس لگی ہے دو نہ کچھ. مہیش: - اوکے کوک چلے گی کیا. پونم: - جی ہاں چلے گی. بعد میں وہ دونوں کوک پینے لگ گئے اور باتیں کرتے جاتے تھے. مہیش: - میرا گفٹ پہنا ہے نہ ڈارلنگ. کیسا لگا وو. پونم: - اچھا تھا اور پہنا بھی ہے تمہارے لیے. مہیش: - تو چلو دکھا دو مجھے، میں کب سے دیکھنے کے لیے تڑپ رہا ہوں ڈارلنگ. پونم: - میں نہیں دکھا والی ه ه ه .... تجھے دیکھنا ہے تو خود ه دیکھ لو. مہیش: - جی ہاں وہ تو میں دیکھ ه لونگا تم پوچھنگا نہیں جان من. يے کہ کر مہیش نے پونم کو پکڑ لیا اور اس کو باہوں میں بھر لیا. اس نے اس کے گلے کو كسس کرنا چالو کر دیا، اور ایک لپپ كسس کر دی 5 منٹ تک كسس کرنے کے بعد اس نے اس کے لال ٹاپ میں ہاتھ ڈال دیا اور اس کے بوبس کو دبانے لگا. پونم بھی اسے كسس کر رہی تھی. مہیش نے اس کے ٹاپ کو اتارنا چاہا پر پونم نے روک لیا اور بولی. پونم: - گفٹ ایسے نہیں دكھانگي تم انتظار کرو، میں ابھی آتی ہوں. یہ کہہ کر باتھ روم میں چلی گئی. اور واپس آئی تو میں تو دیکھ کر حیران رہ گیا. برا اور پینٹی میں وہ بھی پیلے رنگ کہ ایک دم سیکسی تھی وہ، اور اس کے برا اور پینٹی. لگتا تھا کافی مہنگی ہوگی اور مہیش نے لے کر دی ہو گی. اس کی کریم بوڈي پر پیلے رنگ کہ وہ برا اور پینٹی کیا کمال کہ دکھ رہی تھی میرا تو لنڈ کھڑا ہو گیا. مہیش: - ہیلو پونم کیا سیکسی دکھ رہی ہے آجا میرے پاس، آج تو لگتا ہے بہت دیر تک محبت ملنے والا ہے. پونم مٹك کر چلتی ہوئی مہیش کر پاس جا کر اس کے گلے میں اپنی باہیں فیلا کر. پونم: - میں تو تم سے زیادہ سے زیادہ محبت لنگي آج مہیش. گھر دوپہر کے بعد ه جانگي. گھر پر بول کر آئی ہوں کے ایکسٹرا کلاس ہے. مہیش اپنے کپڑے اتارتا ہوا پونم سے بولا. مہیش: - پونم دیکھا میرا لنڈ بھی کتنا بڑا ہو گیا ہے تجھے دیکھ کر جان من. اور دونوں ایک دوسرے کو لپٹ گئے اور كسسنگ چالو کر دی. مہیش بھی اب صرف انڈرويير میں تھا اور میری بہن پونم اسے اپر سے سہلا رہی تھی. اور مہیش اسکے بوبس کو دبا رہا تھا. مہیش نے پونم کے ایک بوبس کو برا سے باہر نکال لیا اور اسے چوسنے لگا. پونم: - آآ آآ اور چسو مہیش اپنی پونم کے بوبس اور چسو. مہیش بھی پونم کے بوبس جور جور سے چوس رہا تھا اور اس نے اب اس کی برا کو بھی کھول دیا تھا. پونم کر دونو بوبس بلکل آزاد ہو گئے تھے. میرا تو حال آپ پوچھو ه مت میرا لنڈ تو اس سے پہلے اتنا ٹائیٹ كبھ نہیں ہوا ہو گا. اب مہیش نے پونم کو دیوار کے پاس الٹا کھڑا کر دیا تھا، اور پیچھے سے اسکے بوبس دبا رہا تھا اور ساتھ ساتھ اس کی جھانگو کو بھی سہلا رہا تھا. اور اس کی پینٹی میں ہاتھ ڈال کر اس کی گانڈ کو دبا رہا تھا. پونم بھی مست ہو کر اپنے بوبس اؤر گانڈ دبوا رہی تھی. فر اسنے اسے سیدھا کر دیا اور بیڈ پر بٹھا دیا. اب پونم کے منه کے پاس اس کے انڈرويير میں سے باہر آنے کر لیے لنڈ تیار تھا. پونم نے بڑے پیار سے اس کے لنڈ کو اوپر سے ه سہلا دیا اور پیار بھری مسکراہٹ دی مہیش کو تو مہیش بولا. مہیش: - پونم رانی اپنے لنڈ کو محبت نہیں كروگ کیا؟ پونم: - كرنگي نہ میرا بادشاہ ہے یہ تو، میری جان ہے رے کتنا پیارا ہے رے. يے کہ کر پونم نے اس کے انڈرويير کو نیچے سرکا کر لنڈ کو سہلانے لگی. تھوڑی ه دیر میں اس نے لنڈ کے ٹاپ کو اپنے منه میں لے لیا اور چوسنے لگی. پونم ایسے لنڈ چوس رہی تھی گویا اس کو کئی بار لنڈ چساي کہ پریکٹس ہو. مہیش اسکے سر میں ہاتھ فیر رہا تھا. کھڑا ہو کر اور اس نے بالوں کو پکڑ کر اس کے سر کو آگے پیچھے کر رہا تھا اور اااا ...... ااا ...... کر رہا تھا. مہیش: - میری جان اب بس بھی کرو ورنہ سارا کا سارا مال نکل جائے گا اور تیری چوت کر لیے تجھے انتظار کرنا پڑےگا. پونم نے اب مہیش کا لنڈ اپنے منه سے نکال لیا تھا اور بیڈ پر جا کر لیٹ گئی. مہیش نے بیڈ پر چڈ کر اس کے پیرو کو چاٹنا شروع کر دیا اور چمتے چاٹتے ہوئے اس کی پینٹی پر پہنچ گیا. مہیش نے اس کی پینٹی کو دھیرے سے نیچے سركايا اور نکال دی. اب میری بہن پونم بالکل ننگي بیڈ پر تھی اور اپنے پیرو کو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ دیا تھا. اس کی چوت دکھائی نہیں دے رہی تھی. مہیش نے اس کی جھانگو کو بڑے پیار سے سہلا کر فیلا دیا. تب جا کر اس کی چوت کر فلسفہ ہو پائے. اس کی چوت ایک دم سے صاف کہ ہوئی تھی گویا آج ه صاف کہ ہو. مہیش نے اس کی چوت کو ایک محبت بھرا چما دیا اور بولا. مہیش: - لگتا ہے آج ه میری جان کو صاف کیا. آج تو اسے کھا ه جانگا پونم. پونم: - جی ہاں آج ه صاف کہ ہے مہیش تیرے لئے. جتنا مرضی ہو کھا جا، يے چوت تیری ه ہے. مہیش نے اس کی چوت کو فیلا کر چاٹنا شروع کر دیا اور پونم کہ سسكيا نکلنے لگی. اوههه مہیش اور چوسو ههه بڑا اچھا چوستے ہو تم میرے بادشاہ اور چسو کھا جاؤ آج یہ چوت کو تم ااااااااا ........... 15 منٹ کے بعد مہیش نے چوت کو چھوڑ دیا اور پونم کہ چوت سے پانی بہنے لگا تھا. مہیش نے اب اپنے لنڈ کو تیار کر لیا تھا. آج میری بہن پونم میرے سامنے چد رہی تھی اور وہ بھی میرے سب سے اچھے دوست کر ساتھ. مہیش اب پونم کے اپر آگیا اور پونم نے بھی نیچے سے اپنی ٹانگے کھول کر اپنی چوت کا دروازہ کھل چھوڑ دیا تھا. مہیش نے اب اپنے لنڈ کے ٹوپے کو اس کے چوت کے ہول پر لا کر لنڈ سے رگڈا اس کی چوت پر تو پونم نے کہا .... پونم: - مہیش جلدی کرو نہ اب نہیں رکا جاتا جان نکلی جا رہی ہے. مہیش: - ہاں ہاں میں تو دیکھ رہا تھا کہ تو کتنی بڑی چدكڈ بن گاي ہے رے پونم. مجھ چدوا چدوا کر. يے لے اپنے لنڈ کو. کہ کر مہیش نے اپنے لنڈ کا ٹوپا پونم کہ چوت میں ڈال دیا. پونم کہ ہلکی س چیخ نکل گ. اوي اااا ..... مر گ ........ فر تھوڑا رک کر مہیش نے اپنا پورا لنڈ ایک ه جھٹکے میں ڈال دیا اور پونم تو .. ااهه ه دھيييرييي .. مر گي جان .. بس كروو. . اااااااههههه .. ا .. ریٹویٹ جا رہی تھی .. فر مہیش تھوڈا رکا اور 2 منٹ کے بعد فر آگے پیچھے کرنے لگا اور اس نے تھوڑی سپیڈ بڑا دی تھی اب. اور زوردار سٹروک کے لگتے ه اس چیخ ا .. ااااا اور ااااااهه همممممممم میں بدل گ تھی .. اب پونم بولنے لگی .. فاڈ ڈالو جاان آج تو هاااااا پووراا ڈاالو اندررررررررررر ےسييے .. هاا ےسييييييے هممممممممممممم. اب پونم اپنے بوبس دبا رہی تھی اور مہیش کے سینے کو سہلا رہی تھی. مہیش نے اب پونم کر بوبس کو پکڑ لیا اور تیزی سے جھٹکے مارنے لگا تھا. پونم بھی مزے سے نیچے سے اپنے چوت کو اپر اٹھا اٹھا کر لنڈ کو اپنی چوت میں لینے لگی تھی. مہیش نے لنڈ اسکی چوت میں سے مکمل باہر کرکے پھر سے پورا اندر ڈال رہا تھا اور وہ چلانے لگی تھی. وہ پاگل ہو رہی تھی ااااااههههههههههه میں مر جونگआआआआआह्ह्ह्ह्ह्ह्ह्ह्ह्ह्ह्ह्ह्ह्ह्ह्ह्ह्ह्ह्ह्ह्... آج چود دو مجھے اور زور سے چود مہیش فاڈ ڈالو اپنی پونم کہ چوت کو اؤر جور سے چودو آآا ...... مہیش ....... اااا ..... فر مہیش نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور پونم کو بولا "چل کتیا کہ طرح ہو جا میں پيچے سے مار دیتی ہوں تیری چوت کو" پونم "جیسے چاہے مارو آج مجھے صرف لنڈ چاہئے" مہیش نے پونم کے پیچھے جا کر اس کی گانڈ کو اپنی اور كھينچ لیا اور لنڈ چوت کر اپر سٹا کر لنڈ کو چوت کے اندر ڈال دیا اور پونم کے بوبس کو پکڑ کر چودنے لگا. اور بول رہا تھا. مہیش: - لے میرا لنڈ لے لے رنڈي رانی میری لے میرے لنڈ کو پورا کھا مکمل لے لے تیرے لئے ه میرا لنڈ بنا ہے رے پونم. پونم: - دے دے پورا کا پورا دے دے لنڈ آج میں نہیں كهگي رکنے کو، جتنا مرضی ہو چودو اپنی اس رنڈي پونم کو. 15 منٹ کے بعد مہیش نے پونم کو بیڈ سے اٹھا کر بازو میں پڑے صوفے پر لے گیا اور خود سوفے پر بیٹھ گیا اور پونم سے بولا "چل آجا میری پونم رانی بیٹھ جا اپنے پیارے لنڈ پر" پونم بھی مسکرا کر اپنی گانڈ هلاتي ہوئی آئی اور مہیش کر سامنے کھڑی ہو گئی. مہیش کا لنڈ 8 "انچ لمبا اور 1.5" انچ موٹا ہوگا اور ایک دم ٹائیٹ کھڑا تھا. پونم کہ چوت میں جانے کے لیے. پونم اپنی ٹانگے فےلتے ہیے چوت کو لنڈ پر رکھ دیا اور مہیش نے نیچے سے ایک جھٹکا مارا تو پونم کہ چوت میں اسکا آدھا لنڈ چلا گیا. اور اب پونم بھی اپر سے اچھل-اچھل کر اپنی چوت چدوا رہی تھی اور مہیش اپنے ہاتھوں سے اسکے بوبس اؤر گانڈ دبا رہا تھا. ان دونو کے منه سے سسكيا نکل رہی تھی اهاههههه سسسسسسسسسسس. مہیش پوری تیزی سے پونم کو چود رہا تھا، اههههههه پونم بولے جا رہی تھی "اور زور سے چودو مہیش اههه". اس کی آواز سن کر مہیش کے اندر بھی جوش آ رہا تھا اور وہ اس کو تیزی سے چود رہا تھا. جب اس کا پانی نکلنے والا تھا تو وو بولی "اور زور سے اور اههههههااه" کہ آواز کر ساتھ پانی چھوڑ دیا. اب مہیش کا لنڈ اسکی چوت کے رس سے پوری طرح بھیگ چکا تھا اور آسانی سے اندر باہر ہو رہا تھا. جب مہیش کا پانی چھوٹنے والا تھا تو اس نے اپنی سپیڈ بڑا دی اور اپنا لنڈ پونم کہ چوت میں اندر-باہر کرنے لگا اور ساتھ ه اسکے بوبس دبانے لگا. جیسے ه مہیش کا وري اسکی چوت میں گرا وو چلا اٹھی اهههههههههههه شههههههه كتنااااا گرم ہے تمهرااااا ورياااا اوهههههههههه ياااهههههه. اور دونوں نے ایک دوسرے کو کس کر پکڑ لیا اور مہیش آخری بند نکلنے تک جھٹکے مار رہا تھا. فر جب مہیش کا سارا وري نکل گیا تو اس نے لنڈ چوت سے نکال لیا. لنڈ کر ساتھ چوت سے ڈھیر سارا پانی نکلنے لگا تھا. پونم وہیں سوفے پر بیٹھ گئی اور مہیش کا لنڈ ہاتھ میں لے کر سہلانے لگی اور بولی. پونم: - اتنا مجا مجھے كبھ نہیں مل مہیش آج تو مجا آ گیا. مہیش: - میں تو تجھے روز اتنے ه مزے دینا چاہتا ہوں پر کیا كر تیرا بھائی میرے ساتھ ه رہتا ہے. پونم: - تم تو بہت سارے اسنو میں چودتے ہو مہیش، آپ تو ماہر ہو چودنے میں. مہیش: - تو ہے ه اتنی چدكڈ میری پونم رانی کہ تیری جوانی دیکھ دیکھ کر تو کوئی بھی تجھے پوری رات چودتا رہے. پونم: - مہیش تم پليس مجھے ایک ساری رات اپنے پاس نہیں رکھ ہو سکتے میں تم پوری رات چدوانا چاہتی ہوں. مہیش: - میری رنڈي کچھ پلان بناتے ہیں کسی دن. پر تیرے بھائی کا کیا كر؟ پونم: - چھوڑو اس کو اور کچھ سوچ کر بعد میں بتانا کہ میں بھی پوری رات گھر سے باہر رک سك. بعد میں دونوں اٹھے اور باتھ روم میں چلے گئے. میرا تو پانی وہیں نکل گیا تھا. باتھ روم میں جاتے ه مہیش نے اپنا لنڈ صاف کیا اور وہیں بنے ہوئے پول میں پانی میں اتر گیا اور پونم اندر چلی گ واشروم میں. میں آپ کو بتا دوں کہ مہیش کے باتھ روم میں ایک چھوٹا سا سومنگ پول بنا ہوا ہے اور باتھ روم کافی بڑا ہے. پر باتھ روم ایک ه ہے دونوں کمرے میں جو بھی اسے استعمال کرنا چاہے استعمال کر سکتا ہے. مہیش کے فارم-ہاؤس پر 2 رومز، 1 حال، 1 ه باتھ روم ہے جو دونوں رومز میں اٹےچ ہے. مہیش پول میں بیٹھا تھا اور نہا رہا تھا اتنے میں ه پونم باہر آ گئی، وہ ننگي ه باہر چلی آئی تھی بعد میں دونوں اٹھے اور باتھ روم میں چلے گئے. میرا تو پانی وہیں نکل گیا تھا. باتھ روم میں جاتے ه مہیش نے اپنا لنڈ صاف کیا اور وہیں بنے ہوئے پول میں پانی میں اتر گیا اور پونم اندر چلی گ واشروم میں. میں آپ کو بتا دوں کہ مہیش کے باتھ روم میں ایک چھوٹا سا سومنگ پول بنا ہوا ہے اور باتھ روم کافی بڑا ہے. پر باتھ روم ایک ه ہے دونوں کمرے میں جو بھی اسے استعمال کرنا چاہے استعمال کر سکتا ہے. مہیش کے فارم-ہاؤس پر 2 رومز، 1 حال، 1 ه باتھ روم ہے جو دونوں رومز میں اٹےچ ہے. مہیش پول میں بیٹھا تھا اور نہا رہا تھا اتنے میں ه پونم باہر آ گئی، وہ ننگي ه باہر چلی آئی تھی. اور کیا لگتی تھی وہ کمال. اس کا بدن پوری طرح بھگا تھا. شاید شاور لے کر اي تھی. باہر آ کر اس نے مہیش کو ایک سمائیل دی اور مہیش نے اس کو اشارہ کرکے پول میں آنے کر لیے کہا اور ہاتھ اوپر کیا. پونم بھی اس کا اشارہ سمجھ کر پول میں اتر گئی اور مہیش نے اسے اپنے پاس كھينچ لیا اور اپنی گودی میں بٹھا لیا اور وہ دونوں ایک دوسرے کو كسسنگ کرنے لگے. مہیش اس کے پیچھے سے ہاتھ ڈال کر اسکے بوبس اور نپل کو دبانے لگا اور پوچھنے لگا مہیش: - پونم تمہارے بوبس اتنے بڑے کیسے ہو گئے ہے؟ پونم: - کیا تمہیں پسند نہیں میرے بڑے بوبس؟ مہیش: - مجھے تو بہت پسند ہے میری جان، میں تو ایسے ه پوچھ رہا تھا. پونم: - تم نے دبا-دبا کر بڑے کر دیے ہے جی ہاں ه ه ه ه ............ اور هسنے لگی. مہیش: - میں تو بس 1 ماہ سے ه دبا رہا ہوں پہلے کون دباتا تھا اس کو؟ پونم: - غصے سے میں کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں، تم کیا سمجھتے ہو مجھ کو ایک رنڈي. کہ کر اٹھنے لگی. مہیش: - اسے واپس كھنچتے ہوئے ارے میری پونم رانی تو تو برا مان گ، میں تو ایسے ه پوچھ رہا تھا. پونم فر اسکی گودی میں بیٹھ گئی اور کچھ نہیں بولی، تو مہیش نے اسے فر سے كسسنگ کرنے لگا اور گرم کرنے لگا تھوڑی دیر میں ه پونم فر سے نورمل ہو گئی. اور مہیش کے لنڈ کو سہلانے لگی تو مہیش نے اسے بولا "لنڈ فر سے کھڑا ہو گیا ہے میری جان اب کہ بار کیا ارادہ ہے" پونم بولی "ارادہ تیرا کیا میرے بادشاہ" مہیش بولا پونم کہ گانڈ پر ہاتھ فیر کر اس کو اب کی بار چودتا ہوں کیوں کیا کہتی ہو؟ ". پونم بھی اب گرم ہو گئی تھی، اور بول پڑی یہ چوت بھی تمہاری ہے اور یہ گانڈ بھی تمہاری ہے میرے یار جہاں چاہو ڈالو پر مجھے یہ لنڈ دے دو" مہیش نے اب پونم کو پول کہ دیوار س الٹا کھڑا کر دیا اور خود پیچھے چل گیا اور ایک تیل کہ بوتتل لے کر اس نے تیل اپنے لنڈ پر لگایا اور تھوڑا پونم کہ گانڈ پر لگایا. اور ایک جھٹکے میں لنڈ کا ٹوپا پونم کہ گانڈ میں چلا گیا تو پونم کہ تھوڑی س چیخ نکل گئی اور وہ بول پڑی "آرام سے مہیش آرام سے میں کہیں بھاگی نہیں جا رہی ہوں میرے بادشاہ" مہیش تھوڈا رکا اور پھر ایک جھٹکا مارا اور پھر تیسرا جھٹکا مارا اور پورا کا پورا لنڈ پونم کہ گانڈ میں ڈال دیا. تھوڑی دے میں وہ اس کی گانڈ کو آرام سے چود رہا تھا اور دونوں بڑے مزے سے جھول رہے تھے، پونم بول رہی تھی .. مہیش ڈارلنگ چودو مجھے .. ااااا ههههه ههههه. چودو نہ .. اپنا لوڈا میرے گانڈ میں ڈالے رہو. فاڈ دو میری گانڈ کو سالے اتنا تڈپاتا تھا، اتنا موٹا لنڈ ہے تیرا مممممممممم مماااااا اااااا. پونم کو مہیش کا چودنا اتنا اچھا لگ رہا تھا کہ جب مہیش اسکے اندر دھکے مارتا تھا، تو وہ اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر اس کے دھکے کا جواب دینے لگ گئی. مہیش نے اسے کس کر اپنی باہوں میں بھر کر كسس کرنے لگا، اور ساتھ ه ساتھ اسکی چوت میں انگلي ڈالے جا رہا تھا. دھکے مارتے مارتے اس نے ایک زور کا دھکا مارا اور پونم جمن سے اوپر ہو گئی. بہت سیکسی سین تھا وہ. ٹھپ تھپ تھپ. تھپ تھپ .. تھپ ماحول مکمل چدا سے بھرا تھا. مہیش بھی بولنے لگا، ااااااهههههههههههه کتنا مجا آ رہا ہے گانڈ چودنے میں .. اااااهمست چچ ہے تیری اور مست چوت بھی. پونم مزے سے چدوا رہی تھی. اااااه. ااااامممممممممم .. پونم اکڑ گئی .. اس کا پانی نکلنے والا تھا. پونم نے مہیش کو زور سے پکڑ لیا اور پانی چھوڑ دیا. پونم چللا پڑی، مہیش میں گئی .. اور اس کی چوت سے فوهارا نکل گیا. سارا کا سارا پانی چوت سے نکل پڑا کچھ مہیش کے لنڈ پر تھا، اور مہیش تو اس کی گانڈ میں اور تیزی سے جھٹکے مار رہا تھا. اور اس کے دھکے اور زور اور تیز ہوتے جا رہے تھے. پر کچھ ٹائم میں ه اس کا بدن بھی اكڈنے لگا. اور اس بار اس نے لنڈ پونم کہ گانڈ سے نکال لیا اور اس کو نیچے جمن پر بیٹھا دیا اور خود لنڈ ہلانے لگ گیا اور بول رہا تھا "میری پونم رانی کہاں لے گی میرے وري کو بولو جلدی میری چدكڈ رنڈي بولو" پونم بھی نیچے اپنے بوبس دبا کر بول پڑی جہاں دینا ہو دے دو کہیں بھی لے لنگي اس وري کو تو میں "اور مہیش نے اپنا سارا پانی پونم کے بوبس اور پیٹ پر چھوڑ دیا. پونم بہت خوش تھی اپنی چوت اور گانڈ کو چدوا کر. بعد میں ان دینے نے نہا کر اپنے اپنے کپڑے تبدیل کر لیے اور کچھ نمکین اور ڈرنكس لینے لگے اور بعد میں چلنے کہ تیاری کرنے لگے تو میں بھی ہولے سے باہر چل گیا اور اس کی موٹر سائیکل سے چلا گیا. میں گھر چلا گیا اور اپنے روم میں كمپيوٹر چالو کر کر فلم دیکھنے لگا. تھوڑی دیر بعد پونم گھر پر آ گئی تو میں اپنے کمرے سے نکلتے ه اسے ملا اور اسے پوچھا. امت: - پونم کہاں گئی تھی، آج دیر کیوں ہو گئی. پونم: - بھیا آج ایکسٹرا کلاس تھی تو دیر لگ گئی. امت: - (میں من میں بول پڑا تیری ایکسٹرا کلاس تو میں نے دیکھ لمیٹڈ ہے) آج کیا کولیج میں پارٹی تھی، کیا جو تم اتنی سج سور کر گئی تھی. پونم: - جی ہاں بھیا وہ میری ایک فرےنڈ کا برتھ ڈے تھا تو .... امت: - ویسے تم لگ بہت كھبسرت رہی ہے ..... پونم: - تھوڑا شرما کر تھےنكس بھائی. میں اپنے روم میں جاتی ہوں میں بہت تھک گئی ہوں نہ تو اوکے ..... امت: - میں من میں (جی ہاں تھک تو جائے گی ه اتنی چدا جو کہ ہے اچھل-اچھل کر) ہاں کوئی بات نہیں تم روم میں آرام کر، میں بھی باہر جا رہا ہوں مہیش سے ملنے. اور پھر میں باہر چل گیا اور مہیش کو فون کیا تو اس نے کہا رات کو ملتے اے میں ابھ سونے جا رہا ہوں. تو میں نے بعد میں شالو کو فون کیا اور پوچھا کیا وہ فری ہے تو اس نے کہا جی ہاں تو میں نے اسے ایک آئس-کریم پارلر میں بلا لیا. تھوڑی دیر میں میں اور شالو دونو آئس-کریم پارلر پہچ گئے. شالو: - ہیلو امت هاو آر یو؟ میں: ہیلو آئی ایم فان. شالو: - کیوں آج کیا بات اے اتنی جلدی مجھے کیوں ملنے بلایا ہے؟ میں: - بتاتا ہوں میری جان تھوڈا بیٹھو تو سہ. اور ہم نے کچھ آئس-کریم مگوا اور بعد میں میں نے شالو کو آج جو بھی ہوا فارم ہاؤس پر وو بتایا. شالو: - سچ میں مہیش بھیا اور تمہاری بہن نے چدایی کہ؟ میں: جی ہاں - یار سچ میں اور میرا دماغ آج خراب ہو گیا ہے اور مہیش پر غصہ بھی آیا ہے. شالو: - کیوں تم مجھے چود سکتے ہو اور میرا بھائی تمہاری بہن کو چودے تو اس میں تمہیں غصہ آ گیا کیوں؟ میں: - تھوڑا سوچا اور بعد میں يار یہ اچانک ہو گیا نہ اس لیے. میں تھوڑا نروس ہو گیا ہوں. شالو: - اوکے چھوڑو وو دونو بھی خوش ہے نہ؟ میں: جی ہاں - وہ تو ہے پونم مہیش کے ساتھ ہے اور كس کر ساتھ هوت تو تھوڑا ٹےنشن ہوتا لیکن یہ تو ٹھیک ہے. اور ہاں شالو اب ہم کو فارم-ہاؤس پر جانے میں تھوڑی احتیاط رکھنی پڑے گی کہیں وہاں ہم چاروں مل نہ جائے. شالو: - جی ہاں یار ویسے بھی ہمیں کہیں جنا ملتا ہے وہاں ہمیں بس وہیں پارلر کے کیبن میں کرنا پڑتا ہے. میں: - شالو تم چاہو تو ہم روز فارم-ہاؤس پر جا کر مزے بھی ہو سکتے ہیں. شالو: - وہ کیسے. میں: - میں مہیش سے بات کرتا ہوں کے میں نے اسے اور پونم کو وہاں دیکھ لیا ہے اور بعد میں اپنی بھی بات کر لونگا کہ میں بھی شالو کو پیار کرتا ہوں. شالو: - کہیں بھیا برا نہ مان جائے اور گھر پر نہ بتا دے. میں: - برا کیوں مانے گا ابھی تو تم بول رہی تھی نہ کہ تم اس کی بہن کو چودو اور وہ تمہاری بہن کو چودے تو حساب برابر نہ. شالو: - جی ہاں وہ تو ہے پر جو تمہیں ٹھيل لگے، آپ کرنا ٹھیک ہے امت .اور ہم وہاں سے چلے گئے اور رات کو 8 بجے میں نے مہیش کو فون کرکے اسے بلایا، جہاں پر ہمیں کوئی ڈسٹرب کرنے والا نہ ہو. ٹھیک 8 بجے میں وہاں پہنچ گیا تھوڑی دیر میں مہیش بھی آ گیا. پہلے تو ہم نے ادھر ادھر کہ باتیں کہ بعد میں سگریٹ پ اور بعد میں میں نے اس سے بات کرنا شروع کہ .. امت (میں): - آج صبح کولیج کیوں نہیں آیا تھا. مہیش: - باہر گیا تھا ایک دوست کے ساتھ. امت (میں): - تو مجھے بھی لے گیا ہوتا تو میں بھی چلتا تیرے ساتھ. مہیش: - تجھے میں ہر جگہ نہیں لے جا سکتا. امت (میں): - کیوں کوئی گرل فرےنڈ کو لے کر گیا تھا کیا؟ مہیش: - میں بات ٹالتا ہوا وہ چھوڑ نہ یار کچھ ن بات کر. امت (میں): - اچھا تو ایک ني بات، میری بہن پونم كس کر ساتھ چالو ہو ایسا مجھے شک ہے مہیش. مہیش: - کیا بات کر رہا ہے اککا نہیں ہو سکتا وہ تو بہت اچھی لڑکی نظر آتی ہے. امت (میں): - کیوں اچھی لڑکیاں چالو نہیں هوت؟ مہیش: - تھوڑا سوچنے لگا اور گھبرا گیا
 .... امت (میں): - میں جانتا ہوں وہ کس کے ساتھ جاتی ہے. مہیش: - کچھ بولا نہیں پا رہا تھا اور بولا کہ یار امت مجھے تجھے بتا دینا چاہئے تھا کہ میں اور پونم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں. امت (میں): - مہیش مجھے بھی تجھے کچھ بتانا ہے کہ میں اور شالو بھی ............ مہیش: - غصے میں آ گیا اور بولا کیا کیا تم اور شالو کیا ؟؟؟؟ امت (میں): - میں اور شالو بھی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہے .... مہیش غصے میں آ گیا اور مجھ جھگڑا کرنے لگا اور گالیاں دینے لگا. میں نے اسے کہا کہ دیکھ مہیش مجھے بھی پتہ ہے یہ سب، تم تھوڑا سمجھ کر کام لے تو دونوں کا کام آسان ہو جائے گا. وہ تھوڑی دیر سوچنے لگا اور بعد میں میرے پاس آکر کھڑا ہوگیا میں نے اسے سمجھایا کے دیکھ مہیش ہم دونو دوست ہیں اور یہ تو اچھی بات ہے کہ ہماری بہنیں كس اور کے پاس نہیں ہے، بلکہ ہمارے ه پاس ہے. مجھے کوئی پروبلم نہیں ہے کہ تو پونم کے ساتھ کچھ بھی کرے پر تجھے بھی تو میرے اور شالو کے رشتے سے کوئی پروبلم نہیں هون چاہئے. تھوڑی دیر بعد مہیش بولا "یہ سب کب سے چل رہا ہے" میں نے بتایا 2 مهنو سے ه. اور تیرا کب سے چل رہا ہے. تو اس نے بتایا کہ "1.5 ماہ سے ه" مہیش: - تم شالو کو کتنی بار باہر لے گئے ہو؟ امت (میں): - تیرا مطلب ایک بار تیرے فارم-ہاؤس پر اور چار بار پارلر کے کیبن میں. اور تو نے پونم کو؟ مہیش: - ہم تو میرے فارم-ہاؤس پر ه جاتے ہے اور 10-11 بار ه کیا. امت (میں): - ہمیں یار کیبن میں بہت ه کم جگہ میں ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے. مہیش: - کوئی بات نہیں تم میرا فارم-ہاؤس استعمال کر سکتا ہے. امت (میں): - يار چل نہ 1 دن مکمل میرا مطلب کہ پوری رات کا پروگرام بناتے ہیں. کیا خیال ہے تیرا. مہیش: - جی ہاں خیال تو اچھا ہے پر کیسے بناتے ہیں یہ پروگرام. امت (میں): - دیکھ مہیش میں نے شالو کو تو تیرے بارے میں بتا دیا ہے اور تم بھی اب پونم کو میرے اور شالو کر بارے میں بتا دے. تاكي ان کو کوئی ججھك نہ رہے. اور ہاں ہم دونو اپنی اپنی بهنو کو لے کر ایک دن کا پکنک کا پروگرام بنا دیتے ہیں اور گھر پر ہم ساتھ ہو گے تو گھر والو کو بھی کوئی اپت نہیں ہوگی. مہیش: - کیا تنے شالو کو بتا دیا .... چھوڑ کوئی بات نہیں پر تیرا پروگرام اچھا ہے ہم کولیج کر بعد شام کو پکنک کا ٹائم 6 بجے گھر پر کہہ دیں گے تاكي ہمیں شام اور پوری رات مل جائے. ٹھيكے ہے نہ .. فر ہم نے سب کچھ طے کر دیا اور اگلے دن یعنی کل کا پروگرام پکا کر دیا اور ایک دوسرے اوکے بائی کہہ کر اپنے اپنے گھر چلے گئے. گھر پہنچ کر میں نے دیکھا کہ پونم كس سے فون پر بات کر رہے تھے .. شاید مہیش کا ه فون تھا. میں نے بھی شالو کو فون کرکے سب پلان بتا دیا. فون ختم کرکے جیسے ه میں کمرے سے باہر آیا تو پونم مل اور مجھے دیکھ کر شرما گ اور کچھ بولی نہیں اور چلی گئی ... اگلے دن شام کو میں نے گھر والو کو بتا دیا کہ میری پکنک ہے اور فیملی کے مےمبرس بھی آ سکتے ہیں تو میں پونم کو اپنے ساتھ لے جاؤ اگر وہ آنا چاہے تو. ماں نے بولا میں اسے پوچھ لنگي بعد میں. ماں نے پونم کو پوچھا تو وہ تیار ہو گئی. اور ہم شام کو گھر سے نکل گئے. میں شالو کو لینے اس کے گھر کر پاس چلا گیا اور پونم مہیش کا انتجار کرنے لگی تھی. میں نے آپ لوگوں کو بتانا ه بھل گیا کہ پونم نے آج ایک مست ڈرےسس پہنی تھی اور وہ اس میں بہت سیکسی لگ رہی تھی. میں شالو کا انتجار کر رہا تھا، کہ اتنے میں شالو وہاں آ گئی کیا کمال لگ رہی تھی. وہ سفید ٹاپ اور نیلی جینس میں ایک دم مست لگ رہی تھی. میں شالو کو لے کر فارم-ہاؤس پہنچ گیا وہاں مہیش آ چکا تھا. میں نے اس کی گاڑی دےكھ. میں پلان کے مطابق شالو کو لے کر دوسرے کمرے میں پہنچ گیا. اندر جا کر میں نے مہیش کو فون کیا اور اس نے بتایا کہ وہ اور پونم کمرے میں ہے میں نے بھی اسے بتایا کہ میں اور شالو بھی آ گئے ہیں. كرب 6.30 بجے ہم وہاں پہنچے تھے، اور مہیش نے بتایا کہ 8.00 بجے وہ باہر ڈرانگ روم میں میرا انتظار کرے گا، تب تک کے لیے کوئی ایک دوسرے کو فون نہیں کرے گا. میں: - شالو چلو پلان تو کامیاب ہو گیا نہ. اپنی بھی پروبلم ختم اور ان کو بھی کوئی ٹےنشن نہیں. شالو: - جی ہاں امت مجھے وہاں کیبن پارلر میں مزا نہیں آتا تھا، پر کیا كر. جی ہاں پر اب ٹھیک ہو گیا. میں: - چلو تو پھر اپنے روم میں. اپنے حسن کے جلوے نظر دو مجھے میری جان. شالو: - لے لو تمہیں جو چاہئے؟ یہ سن کر میں نے تو اسے كھينچ لیا اور اسے كسسنگ کرنا شروع کر دیا. بعد میں میں نے اس کے بوبس ٹاپ کے اوپر سے ه دبانے لگا اور ایک ہاتھ سے اس کی پینٹ کا بٹن اور زپ کھول دیا. اور اس کی جینس نیچے سرک گئی. بعد میں میں نے اس کے ٹاپ کو بھی نکال دیا اور اس کے جینس کو بھی شرر سے الگ کر دیا. اب شالو میرے سامنے صرف سفید برا اور سفید پینٹی میں تھی. يے دیکھ کر میں اس پر ٹوٹ پڑا. شالو کہ برا کے اوپر سے ه اس اسکے بوبس کو دبانے اور چوسنے لگا، وو بھی آہیں بھرنے لگی اوووووووووووووووووووو اور زور سے دباو کھا جاؤ میرے دودھ کو میں پاگلوں کہ طرح دودھ کو چوس رہا تھا. میں نے برا کو دودھ کے اپر سے ہٹا دیا پر کھولا نہیں، كينك مجھے لڑکی کچھ كپڈو میں اچھی لگتی ہے. پھر میں نے اس کی چوت پر ہاتھ لگایا تو وہ گل تھی. میں تو پینٹی سے ه چوت کا تجربہ کر دوانا ہو گیا، اس کی پینٹی کے اوپر سے ه چوت کو چومنے لگا تھا. بعد میں میں نے اس کی پینٹی کھول دی اور اس کی چوت کا رس پینے لگا، اسے چاٹنے لگا اؤر وو چلانے لگی، وو پاگل ہو رہی تھی ااااااههههههههههه میں مر جانگي ا ااااا هههههههههه ههههه ههههههه آج چود دو مجھے لڑکی سے رنڈي بنا دو. میں نے تقریبا 15 منٹ تک اس کی چوت چس کر بعد میں اپنی پینٹ اتاری اور اپنا لنڈ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور شالو اسے بڑے پیار سے سہلانے لگی اور تھوڑی دیر میں اس نے میرے لنڈ کو اپنے منه میں لے لیا اور چوسنے لگی. اور میں نے اس کی برا کو کھول دیا اور اس کے بوبس دبانے لگا. ہم 69 پوج میں تھے. 15 منٹ کے بعد میں نے شالو کو بیڈ پر لٹا دیا اور اس کے پاؤں فیلا کر لنڈ اس کی چوت پر رکھ دیا اور ایک جھٹکے میں تھوڑا اندر کر دیا. فر میں تھوڑا نیچے آ گیا اور اس کا ایک بریسٹ منه میں لے لیا اور نپل چوسنے لگا. دوسرے ہاتھ میں دوسرا بریسٹ تھا، جو میں زور زور سے دبا رہا تھا اور وہ سسكيا لے رہی تھی اههههههه ..... اففففف ... اههممممم ... تھوڑی دیر تک شالو کے بوبس کو چستے رہنے کر بعد میں نے فر ایک ہاتھ سے اپنے لنڈ کو پکڑ کر شالو کہ چوت پر رگڈنے لگا. شالو اپنے لپس کو اپنے دانتو سے دبایے ہوئے تھی اور سسكيا لے رہی تھی. میں نے اپنے لنڈ کو پكڈتے ہوئے ایک دھکا دیا، شالو تھوڑی پیچھے ک ترف ہو گئی. میں نے ایک اور جھٹکا دیا شالو تھوڑا اور پیچھے ہو گئی. اور شالو کے منه سے چیکھ نکل پڑی، میں تھوڑا رک گیا اور شالو کے گالو کو پکڑ لیا اور آہستہ آہستہ كسس کرنے لگا. جب میں نے نیچے ک ترف دیکھا تو میرا پورا لنڈ شالو کہ چوت میں سما گیا تھا. شالو کے بوبس آگے پیچھے ہل رہے تھے، اور وہ ااا اوفففف اوهههه ماا ماں سسسسيے نااا ما کر رہی تھی میں نے اپنا ایک ہاتھ نیچے کہ طرف لے جاتے ہوئے شالو کہ چوت کے اوپر والے حصے کو رگڈا اور شالو کو دھیرے دھیرے چود رہا تھا، وہ بر طرح سسكيا لے رہی تھی. پورے روم میں شالو کہ سسكيا اور بیڈ کر ہلنے کہ آواز آ رہی تھی. شالو بولی کہ اههه چود دو مجھے فاڈ دو میری چوت کو! مزید مکمل کا مکمل دو مجھے! اههه اوهه ييے! میں نے اپنی سپیڈ بڑا دی تھوڑی دیر میں ه وہ جھڈ گئی. میں ابھ نہیں جھڈا تھا، تو میں نے اپنی سپیڈ پر سٹورك چالو رکھے. میں اسے زور سے چودنے لگا، میں اپنے اینڈ پر پهنچنے والا تھا، کافی جھٹکوں کے بعد میرا وري نکلا اور میں نے سارا کا سارا شالو کہ چوت میں بھر دیا. تھوڈی دیر ہم يه پڑے رہے اور میں اٹھا اور ٹائیم دیکھا تو 7.50 بجے تھے. تو میں باتھ روم میں جا کر واپس آیا اور نائٹ ڈریس پہن لیا تھا اور شالو کو بتا کر باہر جا رہا تھا "شالو ہاں ایک بات اور باتھ روم ایک ه ہے، فارم-ہاؤس کے دونوں کمرے میں، تو تمہے جب جانا ہوگا تو ذرا دھیان رکھنا کہیں کوئی اندر نہ ہو مہیش کے روم میں بھی ہے اس باتھ-روم کا دروازہ " شالو: - تم جاؤ میں نے تھوڑی دیر بعد آرام کرکے باہر آ جانگي ٹھیک ہے اوکے. میں باہر آ گیا اور ایک سگریٹ جلا لمیٹڈ اور مہیش کا انتجار کرنے لگا كرب 5 منٹ کے بعد مہیش آ گیا اور بولا "لا دے 1 سگریٹ مجھے بھی" تیری بہن نے تھکا دیا ہے مجھے. میں نے بھی کہا کہ "جی ہاں یار شالو نے بھی تھکا دیا مجھے. سالی لڑکیاں نہیں تھكتي چاہے کتنا بھی چودو ان کو." يے سن کر مہیش بولا "تو دیکھ آج میں پونم کو رات بھر میں تھکا دونگا" اور ہاں میں نے پونم کو دو تین نائیٹی دی ہے، تو تم شالو کو بولا دینا کہ اسے جو پسند آئے لے لے اور نائیٹی پہن کر ه واپس ڈرانگ روم میں آئے. مہیش: - تم نے اسے بول کر آ اور ہاں دروازہ اپر سے بند کر دینا تاكي وہ باہر نہ آ پائے. میں: - ٹھك ہے میں ابھ آتا ہوں. مہیش: - آ گیا بول دیا نہ سب کچھ سمجھا دیا نہ. میں: - تھوڑی دیر بعد ہم نے TV دیکھا. تو میں نے مہیش کو کہا کہ CCT کیمرے ہے ادھر، تو اس میں ركورڈ نہیں ہوتا نہ. مہیش: - نہیں صرف دکھائی دیتا ہے
.ابے تو دیکھ تو نہیں رہا تھا نہ؟ میں: - نہیں نہیں يار. پر پچھلی بار جب تو اور پونم آئے تھے یہاں تب میں نے سب دیکھا تھا. مہیش: - جھٹھ مت بول چل جا جا ..... میں: - سچ میں دیکھا تھا پونم کو تو نے ه يےللو رنگ کہ .............. مہیش: - ارے لوڈے اپنی بہن کو دیکھ لیا تو نے. میں: جی ہاں - اس میں کیا بات ہے چلتا ہے یار ... تجھے کوئی پروبلم ہوگا تو نہیں میں ابھ میری شالو کو کیمرے میں دےكھ تو؟ مہیش: - مجھے کوئی پروبلم تو نہیں ہے پر میں کہاں جاؤ یار ..... میں: - جانا کہاں ہے یہ تم بھی یہیں بیٹھ مجھے کوئی پروبلم نہیں ہے. يے کہ کر میں نے TV پر میرے روم کا کیمرے اون کر دیا. شالو سرف برا اؤر پینٹی میں تھی اور آرام سے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی. مہیش: - میرے روم کا بھی چالو کر میں بھی تو دےكھ یار پونم کیا کر رہی ہے. میں نے اس کے کمرے کا بھی چالو کر دیا، پونم بھی برا اور پینٹی میں تھی اور کچھ کر رہی تھی، کہ اچانک وہ باتھ روم میں چلی گئی اور شالو بھی اٹھ کر باتھ روم میں جانے لگی. تبھی مہیش بولا "يار جلدی باتھ-روم کا کیمرے اون کر دیکھے تو سہ وو دونو کیا کرتیں ہے" میں نے باتھ روم کا کیمرے اون کر دیا اور دکھا کے شالو باتھ-روم میں آتے ه پونم کو دیکھ کر شرما گ اور وہ بھی شالو کو دیکھ کر شرما گئی. بعد میں ان دونوں کو احساس ہوا کہ ان دونوں کو سب معلوم ہے. شالو پونم سے بولی شالو: - پونم شرماو مت، مجھے سب پتہ ہے مجھے بھی تمہیں دیکھ کر پہلے ایسا لگا تھا. پونم: جی ہاں - تم سچ کہہ رہی ہو شرمانا کیا. ویسے تم ہو بہت سیکسی، میرے بھیا کہ تو عیش ہے تیرے ساتھ. شالو: - تھےنكس پر تم بھی بہت پٹاكا لگتی ہو، میرے بھیا کو بھی مزے کرواتی ہوگی لگتا ہے .. پونم: - جی ہاں مزے تو کرواتی ہوں اور خود بھی کرتیں ہوں تیرے بھائی کا لنڈ 8 انچ لمبا اور 1.5 انچ موٹا ہے تو مجھے بھی مزے ملتے ہے. مہیش مجھے بہت پیار دیتا ہے اور خوب چودتا بھی ہے. شالو: - تیرے بھیا کا لنڈ بھی 9 انچ لمبا اور 1 انچ موٹا ہے اور مجھے خوب اچھے سے چودتا ہے وہ. یہ سن کر ہم دونو بہت خوش ہو گئے کہ ہماری رانيا ہم سے خوش تو ہے. اور ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا اٹھے. اور دیکھ رہے تھے کیا کرتیں ہیں وہ دونوں، آگے انہونے اپنے اپنے کپڑے اتارے اور بالکل ننگي ہو گ. اور پول میں چلی گ مہیش بولا "يار شالو کے بوبس تھوڑے چھوٹے ہے پر اس کی چوت بہت ہموار لگتی ہے. اور وہ پونم سے تھوڑی گوری بھی ہے. پونم سے تھوڑی پتلی بھی ہے. مجھے ایسی لڑکیاں چودنے میں بہت مزہ آتا ہے." میں: - "کیا تنے کتنی لڑکیوں کو چودا ہے مہیش" مہیش: - "صرف پونم کو ه چودا ہے اور کوئی پٹی ه نہیں. مجھے شالو جیسی کسی لڑکی کو چودنا ہے امت" تو نے کتنی لڑکیوں کو چودا ہے؟ میں: - "صرف شالو کو ه مجھے بھی پونم جیسی کسی بڑے-بڑے بوبس والی اور بڑی بڑی گانڈ والی اور ہاں مجھے یار تھوڑی کالی لڑکیاں پسند ہے کیوں کہ وہ تھوڑی سیکسی لگتی ہے مجھے، گوری س اور ہاں جھانگے بھی موٹی ہونی چاہئے پونم کہ جیسے. " مہیش: - کمال ہے يار دونوں کو ایک دوسرے کہ پسند ہے پر کیا کریں. بہنے ہے ورنہ آج ه چود ڈالتے کیا کہتا ہے ..... میں: جی ہاں - یار تم سچ کہتا ہے بہنے نہیں هوت، تو میں پونم کو آج ه چود ڈالتا. اور تجھ شالو کو بھی چدوا دیتا اتنے میں ه کیمرے میں یعنی TV میں سے پونم کہ آواز آئی کہ شالو آجا میرے پاس میں تجھے تھوڑا رگڈ کر صاف کر دےت ہوں. اور شالو پونم کے پاس پول میں چلی اي اور دونوں ایک دوسرے کے جسم سے کھیلنے لگے. اچانک پونم چيكھي اوووووي اااا کیا کر رہی ہو شالو. شالو نے شاید پونم کہ چوت میں انگلي ڈال دی تھی اور انگلي ہلا رہی تھی. شالو نے پونم کو پوچھا کہ شالو: - پونم کیا میرے بھیا کا ه لنڈ لیا ہے یا پھر ..... کسی اور نے بھی تمہاری سواری کہ ہے ... سچ سچ بتانا .....كرےگے ٹھیک ہے.

Posted on: 03:27:AM 14-Dec-2020


3 1 463 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com