Stories


اس پیار کو کیا نام دوں از آوارہ گرد

کویتا اپنے شوہر روی کے ساتھ بستر پر تھی اور دونوں ایک دوسرے کو چوم چاٹ رہے تھے اور ایک دوسرے کے جسموں سے کھیلنے میں مگن تھے۔ اس نے روی کے نیم کھڑے لن کو اپنے نرم ہاتھوں میں لیا اور اسے دبانا شروع کر دیا۔ روی نے اسے اپنے اوپر کھینچا اور اس کے نرم ہونٹوں کو چوما۔ اس نے کویتا کے لمبے بالوں کو سہلاتے ہوئے کہا، "آج تو بہت تروتازہ اور پیاری لگ رہی ہو۔" کویتا عام سے لہجے میں بولی، "پتہ ہے آج دفتر میں کیا ہوا؟" اور روی کے کان کھڑے ہو گئے۔ "میرے باس نارنگ کا تمہیں پتا ہی ہے کتنا ٹھرکی ہے!!! آج میرے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا۔" اس کے ساتھ ہی اسے محسوس ہوا کہ روی کے لن نے جھٹکا کھایا ہے۔ روی نے بہت پرجوش لہجے میں پوچھا، "اوہ اچھا، کیا کیا اس نے؟" "ارے یار پہلے بھی بتا چکی ہوں وہ سالا ہمیشہ میری لینے کے چکروں میں رہتا ہے۔" روی نے اسے شکایتی نظروں سے دیکھا، "تم نے کبھی بتایا ہی نہیں۔" "اوہ۔۔۔۔ میں نے بتایا نہیں تھا۔۔۔۔ خیر ۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ بتایا تھا میں نے تمہیں۔۔۔۔" وہ ایسے رکی جیسے الفاظ تلاش کر رہی ہو۔ روی نے اس کا گاؤن کھولا اور اپنا ہاتھ اندر ڈال کر اس کے نرم ممے کو ہاتھوں میں دبایا، "تم نے یقیناً اسے کوئی غلط اشارہ دیا ہو گا۔" کویتا اس کے اس طرح چھونے سے کسمسائی اور قہقہ لگایا۔ "جی نہیں وہی ہمیشہ میرے پیچھے پڑا رہتا ہے۔" روی نے کویتا کے رس بھرے مموں کو چوما اور اس کے سخت نپلوں پر اپنی زبان گھمائی، "اور بتاؤ کیا کیا اس نے؟" کویتا بولی، "اس نے مجھے سٹور روم میں گھیر لیا تھا۔" روی کے لن نے جھٹکا کھایا اور پوری طرح تن کر کھڑا ہو گیا، اس نے آہ بھری اور اس کے نپلوں کو زور سے چوسا۔ کویتا نے اس کی مٹھ مارتے ہوئے پوچھا، "لگتا ہے تمہیں بہت اچھا لگا ہے، ہے ناں؟" روی بولا، "مجھے پوری بات بتاؤ جانِ من۔" "ہائے۔۔۔۔ اتنی زور سے تو نہ مسلو،" کویتا نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے مموں کو مسلنے سے روکنے کی کوشش کی۔ "بتا مجھے بہن چود،" روی نے اپنے دانت کچکچائے اور اس کے مموں پر زور سے چٹکی کاٹی۔ کویتا نے اپنے مموں میں دبے ہوئے اس کے سر کو چوما اور اس کے ٹٹوں کو سہلاتے ہوئے بولی،"ہائے ۔۔۔۔۔ آہ۔۔۔۔۔ اس نے لنچ کے وقت مجھے سٹور روم میں دبوچ لیا ۔۔۔۔ میں اکیلی تھی۔۔۔۔" "اس نے میری ساڑھی کو میری کمر تک اٹھا دیا اور مجھے میز پر گھوڑی بنا دیا، " اپنی کہانی جاری رکھتے ہوئے بولی، "اور پھر میری چڈی کو ایک طرف ہٹا کر اپنا سخت لوڑا میری نرم چوت کے لبوں پر رکھ دیا۔" "پھر؟" "پھر اس نے لن میری پھدی میں ڈال دیا۔" "بہت زور سے کیا؟" "ہاں ۔۔۔۔۔ بہت زوردار طریقے سے، اپنا پورا لن جھٹکے کے میری پھدی میں ڈال دیا۔" "بہت بڑا تھا کیا اس کا؟" "ام م م م ۔۔۔۔ بہت بڑا اور جاندار لوڑا تھا اس کا اور مجھے اپنے نیچے سے ہلنے تک نہیں دیا۔" کویتا نے روی کو بستر پر دھکا دیا اور اس کے اوپر چڑھ گئی، اسے معلوم تھا کہ وہ اس کے لن کو زیادہ دیر تک نہیں سہلا سکتی ورنہ اس نے اپنی ساری منی فوراً اس کی پھدی میں انڈیل دینی تھی۔ اس نے روی کے سخت لوڑے کو اپنی گیلی پھدی میں لیا اور نیچے بیٹھتی چلی گئی۔ "آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ بہت گرم اور گیلی پھدی ہے تیری۔" جب روی کے لن نے اس کی بھٹی کی طرح دہکتی چوت کو محسوس کیا توسسکی لی۔ کویتا نے اپنی گانڈ کو آہستہ آہستہ اوپر نیچے کر کے اسے چودنا شروع کیا اور ساتھ ساتھ اسے اپنی گھڑی ہوئی کہانی سنانا جاری رکھا۔ روی اس کے اس طرح ستانے کو زیادہ دیر برداشت نہ کر سکا اور اسے بستر پر پٹخ کر اس کے اوپر چڑھ گیا۔ "تجھے اتنی زور سے چودوں گا کہ تیری چوت ہفتوں تک کراہتی رہے گی،" اس نے اپنے دانت کچکچائے اور اپنا لن زور زور سے کویتا کی پھدی میں اندر باہر کرنے لگا۔ کویتا نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اپنے آپ کو مزے کی ان لہروں میں بہنے کے لیے تیار کیا جو چھوٹتے وقت اسے پاگل بنا دیا کرتی تھیں۔ تسلی بخش چدائی کے بعد جب ایک دوسرے کی باہوں میں لیٹے تھے تو روی نے پوچھا، "تم سچ مچ ایسا کیوں نہیں کرتی؟" کویتا نے چھیڑتے ہوئے کہا، "یہ سچ ہی تھا۔" روی اپنے ہاتھ سے کویتا کے ننگے بدن کو سہلاتے ہوئے بولا، "مجھے پھدو مت بنا۔۔۔۔ اتنی پیاری اور سیکسی ہو تم ۔۔۔۔۔ کوئی بھی بندہ تیرے لیے قتل ہونے کو تیار ہو جائے گا۔" کویتا نے قہقہ لگایا، "مجھے پتہ ہے لیکن میں کوئی خون خرابہ نہیں کروانا چاہتی۔" روی نے ایک سرد آپ بھری اسے معلوم تھا کہ یہ اس کے تصورات میں ہی رہے گا اور وہ حقیقتاً ایسا کرنے کے لیے کبھی راضی نہیں ہو گی۔ "کم از کم ایک بار تو کر لو، " روی نے منت بھرے لہجے میں کہا لیکن اس کے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر اسے پتہ چل گیا تھا کہ اس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہونے والا۔ کویتا نے کالج تک تعلیم حاصل کی ہوئی تھی اور ایک کمپنی میں بطور اکاؤنٹنٹ ملازمت کرتی تھی۔ 19 برس کی عمر میں اس کی روی کے ساتھ شادی ہو گئی تھی اور اب 38 سال کی عمر میں بھی وہ قیامت لگتی تھی۔ دو بیٹیوں کی پیدائش کی باوجود بھی اس کے جسم پر موٹاپانہیں آیا تھا۔ درمیانے قد اور 36 سی کے خوبصورت مموں، جو اپنے سائز سے بڑے ہی لگتے تھے، کی بدولت وہ جہاں بھی جاتی تھی اس کا سراپا مردوں کو مڑ مڑ کر دیکھنے پر مجبور کر دیتا تھا۔ روی بھی ایک خوش شکل آدمی تھا لیکن اب اس کی عمر ڈھل رہی تھی، تھوڑی سی نکلی ہوئی توند اور سر پر کم ہوتے ہوئے سرمئی بال اس کی کتھا بیان کرتے تھے۔ اس کے باپ کی زیورات کی دکان تھی اور جواہرات کا ایک پھلتا پھولتا کاروبار بھی تھا اور روی اکلوتا بیٹا تھا، چنانچہ اس نے تعلیم مکمل کرتے ہی فوراً کاروبار سنبھال کیا تھا۔ کویتا کو اگرچہ مالی طور پر ملازمت کرنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن جب اس کی بیٹیاں سکول جانے کی عمر کی ہو گئیں تو اسے کچھ نہ کچھ کرنے کی ضرورت تھی۔ کویتا کو یاد تھا کہ جب اس کی شادی ہوئی تھی تو وہ کتنی بھولی بھالی تھی۔ اگرچہ شادی کے وقت وہ کنواری نہیں تھی اور چند ایک بار چدوا چکی تھی لیکن پھر بھی وہ جنسی عمل کے بہت سے پہلوؤں سے ناواقف تھی۔ اسے یاد تھا کہ لن چوسنا اس کے لیے کتنا بڑا مسئلہ ہوا کرتا تھا اور روی کو لن چسوانے کے لیے کیسے ہر بار اس کی منتیں کرنا پڑتیں اور رشوت دینی پڑتی۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں روی لن چسوانے اور کویتا کی پھدی چاٹنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوا کرتا تھا۔ یہی حال گانڈ مارنے یا کوئی اور نئی چیز آزمانے کے معاملے میں بھی ہوا کرتا تھا، چاہے وہ غیر روایتی جگہوں پر چدائی کرنا ہو، ننگی تصویریں کھینچنا ہو، یا چدائی کے دوران فلم بنانا ہو۔ اسے لگتا تھا کہ ان پرانے وقتوں نے ابھی بھی اسے اپنی گرفت میں لے رکھا تھا اور مزید یہ کہ 19 برسوں کی شادی کے بعد اب بھی ان دونوں کی چدائی بہت لطف انگیز ہوتی تھی۔ کویتا کو دوسرے مرد سے چُدتا ہوا دیکھنے کی خواہش روی کے ذہن کے کسی کونے میں ہمیشہ کلبلاتی رہتی تھی۔ جب بھی وہ کسی مرد کو اسے تاڑتے ہوئے دیکھتا تھا تو بہت شہوت محسوس کرتا تھا، اسے فخر محسوس ہوتا تھا کہ دوسرا بندہ جتنا مرضی اسے چودنا چاہے لیکن کویتا ہمیشہ کے لیے اسی کی تھی۔ اسے یہ احساس ہونے اور کویتا کے سامنے اس کا اعتراف کرنے میں کئی برس لگے تھے۔ شروع میں کویتا کو صدمہ ہوا، اس کی سمجھ سے باہر تھا کہ وہ ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہے۔ جب روی نے بار بار یہ موضوع چھیڑنا جاری رکھا تو اس نے گوگل پر تلاش کیا اور اس قسم کے تصورات رکھنے پر ٹنوں کے حساب سے مواد ملنے پر وہ حیران رہ گئی۔ وہ اسے پڑھنے اور روی کے رویئے کو سمجھنے میں محو ہو گئی۔ اس کا نکتۂ نظر تبدیل ہو گیا اور اس نے کھیل کھیلنا شروع کر دیا۔ اسے پتہ چلا کہ چدائی پر اس کا کنٹرول کئی گنا بڑھ گیا ہے اور اب وہ کسی دوسرے مرد کے ساتھ چدائی کا صرف اشارہ کرتی تھی اور روی کا لن لوہے کی طرح سخت ہو جاتا تھا۔ چدائی انتہائی شہوت انگیز ہو گئی تھی اس نے اس سے لطف اندوز ہونا شروع کر دیا، تاہم اس نے حقیقتاً ایسا کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ چدائی سے پہلے بوس و کنار کے دوران کہانیاں گھڑتی تھی اور روی کسی سانڈھ کی طرح جوش میں آ جاتا تھا، البتہ کویتا کو محتاط رہنا پڑتا تھا کہ وہ اسے کچھ زیادہ ہی گرم نہ کر دے وگرنہ وہ اس کی پھدی کے ٹھنڈا ہونے سے پہلے ہی منی چھوڑ کر فارغ ہو جاتا تھا۔ روی صبح کے وقت بیدار ہوا اور دیکھا کہ کویتا پہلے ہی نہا چکی تھی اور کھلے ہوئے گلاب کی مانند نظر آ رہی تھی۔ "نمستے۔۔۔۔ جانِ من"، وہ مسکرائی اور چائے کا کپ اپنے شوہر کو تھمایا۔ "صبح بخیر۔۔۔۔ میری جان"، وہ پیچھے کی جانب کھسکا اور پلنگ کے ساتھ ٹیک لگا کر اس کے حسن کو سراہنے لگا؛ کویتا کو ساڑھی پہننا بہت پسند تھا اور آج بھی اس نے ساڑھی ہی پہن رکھی تھی جو کہ اس کی نرم اور گہری ناف سے نیچے بندھی ہوئی تھی، اور اس کا سپاٹ پیٹ اور گہری ناف ایک شہوت انگیز منظر پیش کر رہے تھے۔ بلاؤز اس کے کپڑے پھاڑ کر باہر آنے کی کوشش کرتے مموں پر سختی سے جما ہوا تھا اور مموں کے درمیان بننے والی لکیر بہت ہیجان انگیز نظر آ رہی تھی۔ "کیا گھور رہے ہو؟" کویتا نے شرماتے ہوئے کہا۔ روی نے اس کا ہاتھ پکڑنے کوشش کی مگر وہ ہنستی ہوئی اس کے ہاتھوں سے پھسل گئی، "صبح صبح شوخے بننے کی کوئی ضرورت نہیں، گھر میں سبھی جاگ رہے ہیں اور بیٹیاں تمہاری جوان ہو گئی ہیں۔" "صرف ناشتے کی ایک چُمی،" لیکن وہ ہنسی اور پیچھے کھسک گئی۔ "اپنی چائے ختم کرو اور تیار ہو جاؤ۔ یاد نہیں آج ہم نے دہلی جانا ہے۔" روی کو یاد آیا کہ دہلی میں اس کے کزن کی بیٹی کی شادی تھی اور ان دونوں نے دیگر اہلِ خانہ کے بغیر ہی جانا تھا کیونکہ اس کے والد کی کاروباری مصروفیت تھی اور بیٹیاں اپنی کلاسوں میں مصروف تھیں۔ اس نے ہاں میں سر ہلایا اور مڑ کے جاتی ہوئی کویتا کی گانڈ کو دیکھ کر بڑبڑایا، "آج تو تجھے ٹرین میں ہی چودوں گا۔" یہ بھارتی شادی کی ایک بہت بڑی اور پُررونق تقریب تھی اور دہلی میں اپنے تین روزہ قیام سے وہ بہت لطف اندوز ہوئے تھے۔ ممبئی واپس لوٹتے وقت انہیں دہلی کی ٹریفک میں پھنس کر کچھ دیر ہو گئی تھی اور جب وہ ریلوے اسٹیشن پر پہنچے تو ٹرین چھوٹنے ہی والی تھی۔ جیسے ہی ٹرین نے چلنا شروع کیا تو اس کا کزن جو انہیں رخصت کرنے ساتھ آیا تھا، اس نے ان کا سامان جلدی سے فرسٹ کلاس اے سی کمپارٹمنٹ کے دورازے کے اندر دھکیلا۔ انہوں نے ہاتھ ہلا کر اسے الوداع کہا اور ٹرین کی رفتار تیز ہو گئی۔ "اے بھگوان۔۔۔۔ٹرین چھوٹتے چھوٹتے رہ گئی،" کویتا نے سکھ کا سانس لیا۔ "ہاں،" روی نے ہانپتے ہوئے کہا، "اب یہ سوٹ کیس رکھنے میں میری مدد کرو اور انہیں کھینچ کر ڈبے میں لے چلیں۔" کویتا نے ایک سوٹ کیس کو دھکا لگایا جبکہ روی اس کے پیچھے دوسرے سوٹ کیس سے دھینگامشتی میں لگا ہوا تھا۔ اس نے "ڈی" تلاش کیا اور ایک لمبے تڑنگے شخص کو دروازے میں کھڑا ہوا دیکھا۔ "لائیے میں مدد کر دوں،" اس شخص نے سوٹ کیس پکڑا اور ڈبے کے اندر کھینچ لیا۔ "دھنیواد!" کویتا نے مسکراتے ہوئے کہا۔ روی نے باقی دونوں سوٹ کیس کھینچ کر اندر کیے اور اب ہانپ رہا تھا۔ "ہیلو، میں منوج نارنگ ہوں،" اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور پوچھا، "ممبئی جا رہے ہیں؟" "جی ہاں، میں روی ہوں اور یہ میری پتنی کویتا،" روی نے اس کے ساتھ ہاتھ ملایا جبکہ کویتا نے ہاتھ باندھ کر اسے نمستے کہا۔ کویتا نے جب اپنے تصوراتی عاشق اور باس کا نام نارنگ سنا تو کچھ گھبرا سی گئی، اس نے شرماتے ہوئے روی کی طرف دیکھا وہ بھی خجالت سے مسکرا رہا تھا شاید وہی سوچ کر جو کویتا سوچ رہی تھی۔ نارنگ نے بات چیت آگے بڑھانے کی غرض سے کہا، "موسم کا فرق دیکھا آپ نے کتنا زیادہ ہے، دہلی میں سردی اور دھند پڑ رہی ہے جبہن ممبئی میں موسم گرم اور مرطوب ہے۔ مجھے ہوائی جہاز سے جانا تھا مگر آخری وقت میں دھند کی وجہ سے تمام پروازیں منسوخ ہو گئیں۔" "بہت برا ہوا، سری کے موسم میں دہلی سے پرواز لینا ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے،" کویتا نے جواب دیا جبکہ روی ابھی بھی اپنی پھولی ہوئی سانس سنبھال رہا تھا۔ نارنگ نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا، "میں ممبئی محکمۂ پولیس میں ایس پی ہوں۔ دہلی ایک میٹنگ کے لیے آیا تھا ۔۔۔ آپ کا تعلق دہلی سے ہے؟" "ارے واہ!! ایس پی۔۔۔ آپ پولیس والے لگتے تو نہیں ۔۔۔ نہ تو توند نکلی ہوئی ہے اور نہ ہی چہرے پر وہ کرختگی ہے،" کویتا نے اچنبھے سے کہا۔ لگتا تھا کہ نارنگ نے اس بات کا برا نہیں منایا اور قہقہے لگانے لگا۔ روی بھی مروتاً مسکرایا۔ "لگتا ہے آپ بالی ووڈ کی فلمیں بہت زیادہ دیکھتی ہیں،" اسے فخر محسوس ہو رہا تھا کہ 49 سال کی عمر میں بھی اس کا جسم اچھی حالت میں تھا اور روایتی بھارتی پولیس والوں کی طرح توند نہیں نکلی تھی۔ روی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "ہم ممبئی سے ہیں اور دہلی ایک شادی میں شرکت کے لیے آئے تھے۔" بات چیت جاری رہی اور جلد ہی کویتا اور نارنگ نے پرانے دوستوں کی طرح گپ شپ لگانی شروع کر دی تھی۔ ٹرین کا یہ کمپارٹمنٹ چار لوگوں کا ایک بند ڈبہ تھا، آمنے سامنے دو سلیپر اور دو سلیپر ان کے اوپر۔ وہ تین لوگ تھے لہٰذا توقع کر رہے تھے کہ شاید چوتھی سواری اگلے اسٹیشن سے سوار ہو جائے گی۔ روی نے ایک کتاب نکالی اور نیم دراز ہو گیا جبکہ کویتا نارنگ والے سلیپر پر چلی گئی اور اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔ شام کے ساڑھے چار بجے تھے اور ٹرین نے اگلی صبح آٹھ پینتیس پر ممبئی پہنچنا تھا، سفر خاصا طویل، لیکن فرسٹ کلاس میں کافی آرام دہ تھا۔ روی نے کویتا پر نظر ڈالی اور اسے نارنگ کے ساتھ باتوں میں مشغول پا کر حیران ہوا۔ اتنے میں ٹکٹ چیکر ٹکٹ دیکھنے آ گیا۔ اس نے ٹکٹ دیکھ کر ان کو واپس لوٹائے اور چوتھے مسافر کے متعلق دریافت کیا۔ پھر بولا، "ہوں ۔۔۔۔ ہو سکتا ہے اس کی گاڑی چھوٹ گئی ہو، آپ سفر سے لطف اندوز ہوں اور دروازہ اندر سے بند کر لیں، ہم نو بجے کے قریب اگلے اسٹیشن پر پہنچیں گے۔" وہ چلا گیا تو روی نے دروازہ بند کر لیا۔ "یہ میری بیٹی ہے،" کویتا نے اپنا موبائل فون کھولا ہوا تھا اور تقریباً اس پر جھکی ہوئی اسے اپنی خاندانی تصاویر دکھا رہی تھی۔ روی کو اس کا رویہ عجیب سا لگا وہ باتونی نہیں تھی اور اجنبیوں کے ساتھ ایسے گھلتی ملتی نہیں تھی۔ نارنگ پوری دلچسپی کا اظہار کر رہا تھا اور اس نے بھی اپنی تصویریں دکھانے کے لیے اپنا موبائل نکالا ہوا تھا۔ "اوہ ۔۔۔ یہ آپ کی بیٹی ہے ۔۔۔۔ آپ جوان بیٹی کی ماں تو لگتی ہی نہیں ہیں،" نارنگ کے یہ کہنے پر کویتا نے قہقہ لگایا۔ "چوتیا۔۔۔۔ ڈورے ڈالنے کے گھسے پٹے فقرے آزما رہا ہے،" روی نے یہ سوچا اور اسے حیرانی کویتا کے کھل کر ہنسنے پر ہو رہی تھی۔ اس نے خود کو کتاب میں محو ظاہر کیا لیکن اس کی آنکھ ان دونوں پر ہی تھی۔ روی کویتا کا رویہ سمجھنے سے قاصر تھا، اس نے ایسا کبھی نہیں کیا تھا اور اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے۔ اچانک اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی جب اس نے کویتا کو اس کی طرف جھکتے اور کچھ دکھاتے ہوئے دیکھا اور دونوں کا کندھا آپس میں ٹکرایا۔ اس نے دیکھا کہ وہ پیچھے نہیں ہٹی بلکہ اپنا کندھا مسلسل اس کے ساتھ جوڑے رکھا۔ اسے شہوت سی محسوس ہوئی اس کا لن کھڑا ہونا شروع ہو گیا۔ اس نے اپنی پینٹ میں بنے تمبو کو درست کیا اور جب وہ نارنگ سے مزید قریب ہوئی اور دونوں کے جسم ایک دوسرے کو چھونے لگے تو اس کا لن پھٹنے والا ہو گیا تھا۔ یہ سالی کر کیا رہی ہے؟ کیا یہ میرے سامنے ہی اسے لبھا رہی ہے، کیا اس نے میرے سپنے کو سچ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ اچانک اسے اس کا نام نارنگ یاد آیا جو فرضی کہانیوں میں ہمیشہ دوسرا نام ہوتا تھا اور اسے بے چینی سی محسوس ہوئی۔ کچھ دیر بعد نارنگ واش روم جانے کے لیے معذرت کر کے باہر نکلا۔ جیسے ہی وہ باہر نکلا روی نے اپنی کتاب ایک طرف رکھی اور استفسار بھری نظر کویتا پر ڈالی۔ اس کے ہونٹوں پر پرُاسرار سی مسکراہٹ تھی۔ "یہ سب کیا ہے؟" اس نے پوچھا۔ وہ کمر کو لچکاتے ہوئے اس کی طرف بڑھی، "وہی جو تم ہمیشہ چاہتے تھے۔" اس نے احمقانہ طریقے سے سر ہلایا۔ کویتا نے ڈرامائی انداز میں سرگوشی کی، "میں نے تمہاری خواہش پوری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔" "لیکن ۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔" وہ ہکلایا اور برا سا منہ بنا کر بولا، "وہ کتنا بدصورت ہے۔" "تم سے زیادہ فٹ ہے وہ اور اس کے علاوہ اس سے میں نے چدوانا ہے تم نے نہیں۔" وہ اس کرارے جواب پر بھونچکا رہ گیا۔ کویتا نے ہسٹریائی انداز سے ہنسنا شروع کر دیا۔ اسے اس کے ایسے ہنسنے کی کوئی وجہ نظر نہ آئی۔ کویتا نے ہنستے ہنستے اسے جپھی ڈال لی۔ اپنے ٹائٹ ممے اس کے ساتھ رگڑتی ہوئی بولی، "ارے پتی جی، میں تو تمہیں تمہاری خواہش کا اصل احساس دلا رہی تھی، کیسا لگا تمہیں جب میں اس کے ساتھ چپک رہی تھی؟" اور روی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ ہنستی ہوئی بولی، "معلوم تھا مجھے کہ اگر میں نے کبھی حقیقتاً کچھ ایسا کرنے کی کوشش کی تو بھیگی بلی جان جاؤ گے۔" "نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ ایسا نہیں ہے ۔۔۔۔ بس وہ مجھے پسند نہیں آیا۔" "خیر۔۔۔ میں پہلے ہی بتا چکی ہوں، بندے کا انتخاب میں نے کرنا ہے اور وہ میں کر چکی ہوں،" کویتا مسکرائی، "اور میں جسے بھی منتخب کروں گی تمہیں وہ کبھی بھی پسند نہیں آئے گا، اس لیے میری جان۔۔۔۔ بہتر یہی ہے کہ اسے اپنا تصور ہی رہنے دو۔" اسے احساس ہوا کہ وہ اسے چھیڑ رہی ہے اور اسے ہیجان سا محسوس ہوا، "کیوں نہیں میری جان۔۔۔ تم چُن سکتی ہو ۔۔۔۔ بس میرے لیے یہ ناگہانی سا تھا۔۔۔۔ کیا تم سچ میں چدوا رہی ہو؟" "دیکھتے ہیں، "وہ شرارت سے مسکرائی اور اس کے لن کو چھوا، "ہے بھگوان۔۔۔۔ تمہارا تو کھڑا ہو گیا" اس نے چھیڑا۔ "پلیز چدوا لو،" ابتدائی جھٹکے کے بعد وہ سنبھل گیا تھا اور دوبارہ ہیجان محسوس کرنے لگا۔ گفتگو تب ختم ہوئی جب نارنگ واپس آ کے بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد روی نے انگڑائی لی اور کتاب رکھ دی۔ وہ اٹھا اور پیشاب کرنے کے لے باہر نکل گیا اور کویتا نارنگ کے ساتھ اکیلی رہ جانے پر بہت گھبرا سی گئی۔ جیسے ہی دروازہ بند ہوا نارنگ نے اسے اپنی طرف کھینچا۔ کویتا کا سر اس کی چھاتی سے جا لگا اور اس نے اپنے ہاتھ آگے بڑھا کر اسے جپھی ڈال لی۔ کویتا نے بے اختیاری طور پر پیچھے ہٹنے کی کوشش کی لیکن اس کی گرفت کافی سخت تھی اور انے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیئے۔ روی باہر نکلا اور شہوت محسوس کرتے ہوئے ٹوائلٹ کی طرف چل دیا۔ اسے عجیب سی سنسنی محسوس ہو رہی تھی۔ کیا یہ بندہ اس کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا؟ وہ چاہتا تھا کہ کچھ ہو جائے لیکن اسے صورتحال کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ ٹوائلٹ میں جا کر انتہائی سختی سے کھڑے لن کی وجہ سے اسے پیشاب کرنے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ شام سے ہونے والی چھیڑ چھاڑ نے کویتا کو انتہائی گرم کر دیا تھا۔ نارنگ نے بلاؤز کے اوپر سے اس کے ممے پکڑ لیے تھے اور انہیں زور سے دبا رہا تھا۔ کویتا نے بے تابی سے اپنا منہ کھولا اور اس کے ہونٹوں کو چوم لیا۔ اس نے اپنی زبان نارنگ کے منہ میں دی اور وہ اسے چوسنے لگا۔ جب اس نے اس کے نپلز مسلے تو درد سے اس کا جسم اکڑ گیا اور وہ کراہی۔ جب اسے احساس ہوا کہ معاملات ہاتھ سے نکل رہے ہیں تو وہ منت بھرے لہجے میں بولی، "چھوڑ دو مجھے ۔۔۔ آہ۔۔۔۔ میرا شوہر کسی بھی وقت واپس آ جائے گا۔" نارنگ نے اس کے جسم کو ٹٹولنا جاری رکھا اور اسی وقت چھوڑا جب اسے دروازے پر آہٹ محسوس ہوئی۔ جیسے ہی روی اندر داخل ہوا اس نے ان پر نظر ڈالی اور معلوم کرنے کی کوشش کی آیا کہ ان کے درمیان کچھ ہوا ہے، کویتا چپ تھی اور پہلے کی طرح نہیں چہک رہی تھی۔ چند لمحوں کے بعد وہ اس کی طرف واپس آ گئی اور روی کو کچھ غلط محسوس ہوا۔ کویتا نے کہا کہ وہ تھک گئی ہے اور سونا چاہتی ہے اس لیے اس نے روی سے کہا کہ وہ اوپر والے سلیپر پر چلا جائے۔ روی اٹھا اور نارنگ کے اوپر والے سلیپر پر چلا گیا جہاں سے وہ کویتا کو سونے کی تیاری کرتے ہوئے دیکھ سکتا تھا۔ کویتا نے لائٹیں بند کیں اور اپنے اوپر چادر تان لی۔ دھیمی روشنی میں وہ ان دونوں کو دیکھ سکتی تھی۔ اس نے دونوں کو امید بھری نظروں سے اپنی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا۔ اس کی نظریں نارنگ سے ملیں تو اس نے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے باہر چلنے کو کہا۔ اس نے روی کی طرف نظر ڈالی؛ اس کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں جیسے التجا کر رہا ہو کہ اسے (کک اولڈ) بیوی کا بھڑوا بنا دے۔ اسے ابھی بھی نارنگ کی زبان کا ذائقہ منہ میں اور اس کے کھردرے ہاتھوں کا لمس اپنے مموں پر محسوس ہو رہا تھا، اور اس کی پھدی میں ایک سرسراہٹ سی محسوس ہو رہی تھی۔ کافی منٹ گزر گئے اور وہ خالی نظروں سے دونوں کو دیکھتی رہی۔ روی بے چینی سے پہلو بدل رہا تھا، دھیمی روشنی کے باوجود وہ اسے واضح طور پر دیکھ رہا تھا اور اس کے چہرے کے تاثرات اسے دھمکی آمیز لگے۔ کیا وہ چدوائے گی؛ وہ کانپ رہا تھا، امید بھرے انتظار میں تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ گھنٹوں گزر گئے ہیں جب اس نے کچھ حرکت دیکھی۔ کویتا اپنے سلیپر سے اٹھی۔ اس نے ایک ہی جست میں دونوں سلیپروں کا درمیانی فاصلہ طے کیا اور اب بالکل اس کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کا چہرہ روی کے چہرے کی سطح پر تھا۔ جب اس نے کپڑے اتارنے شروع کیے تو روی کو خوف سا محسوس ہوا۔ وہ دیکھ تو نہیں سکتا تھا مگر جانتا تھا کہ نارنگ نچلی سیٹ پر اسے دیکھ رہا ہے۔ جب اس نے اپنی ساڑھی فرش پر پھینکی تو اس کی دھڑکن رک سی گئی، اس کے بعد پیٹی کوٹ کی باری آئی، اور پھر وہ صرف برا اور پینٹی میں وہاں کھڑی تھی۔ یہ ہو رہا ہے، یہ حقیقت ہے اور وہ اس آدمی سے چدوانے لگی ہے۔ میری بیوی اس شخص سے چدے گی یہ سوچ کر اس نے جھرجھری سی لی۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر کویتا نے اپنا ہاتھ سختی سے اس کی چھاتی پر رکھ دیا اور اسے سیٹ پر واپس دھکیل دیا۔ نارنگ نے سرگوشی میں کچھ کہا جو وہ نہیں سن سکا۔ کویتا نے روی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور پرسکون آواز میں نارنگ کو جواب دیا، "وہ گہری نیند سو رہا ہے۔ اس نے اپنی نیند کی گولیاں کھائی ہیں اور ڈھول بجانے پر بھی نہیں جاگے گا۔" روی کو دکھ سا لگا جب اس نے کویتا کی آنکھوں میں دیکھا تو اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ اس کی چھاتی پر اس کا ہاتھ اتنا بھاری محسوس ہوا کہ روی کو سانس لینا مشکل لگنے لگا۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر اس کی آواز نہ نکلی۔ روی نے دیکھا کہ نچلی سیٹ سے دو ہاتھ آگے بڑھے اور اس کی کمر کو تھام لیا۔ وہ بدحواسی کے عالم میں دیکھ رہا تھا جبکہ ان بڑے بڑے ہاتھوں نے اس کی چھوٹی سی پینٹی کو کو پکڑا اور چیر دیا، چررررر کی آواز آئی، الاسٹک ٹوٹ گئی اور پینٹی دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ اس نے اسے بھی کپڑوں کے ڈھیر پر پھینک دیا نارنگ نے اسے تیزی سے اپنی سیٹ پر گھسیٹ لیا تھا۔ وہ بہت دیر سے گرم ہو رہا تھا اور اسے کپڑے اتارتے اور ننگی ہوتے دیکھ کر بے صبر ہو گیا تھا۔ ایک دوسرے کو چوم چاٹ کر گرم کرنے کی تو کوئی ضرورت ہی نہیں تھی، اس نے اسے سلیپر پر گرایا اور اس کے اوپر چڑھ گیا۔ اس کے ہاتھ کویتا کے جسم پر تیزی سے پھر رہے تھے۔ نپلز پر زوردار چٹکی کاٹی، گانڈ کو اچھی طرح مسلا اور اس کی ٹانگیں جھٹکے سے پھیلا دیں۔ جیسے ہی اس کے ہاتھوں نے اس کی گرم اور پانی چھوڑتی چوت کو چھوا تو کویتا سے منہ سے خود بخود ایک لمبی سسکاری نکلی۔ بہت گیلی چوت ہے۔ اس نے دونوں ٹانگوں کو کھینچ کر درمیان سے خم دیا اور اپنا سخت لوڑا اس کی پھدی کے دانے پر پھیرا۔ جب سخت اور موٹا لوڑا اس کی چوت کو چیرتا ہوا اندر گھسا تو اس کی آنکھیں باہر کو آ گئیں اور ایک تیز کراہ اس کے منہ سے نکلی۔"آہ۔۔۔۔ مر گئی،"۔ پورا لوڑا اس کی گرم پھدی میں اتر چکا تھا اور اس کی موٹائی کے احساس سے وہ اونچی آواز میں چیخ رہی تھی۔ "ہائے مار ڈالا۔۔۔۔۔ پھاڑ دی میری چوت۔۔۔۔ہائے رام"۔ نارنگ کے ہر زوردار گھسے پر وہ چلا رہی تھی اور اس نے ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیے۔ نارنگ نے اپنا سارا وزن اس پر ڈالا اور اسے بڑی تیزی سے چودنے لگا۔ کویتا کے بازو اس کے کندھوں پر تھے اور وہ اسے ناخنوں سے نوچ رہی تھی۔ روی اوپر والے سلیپر پر بے حس و حرکت لیٹا ہوا تھا۔ یہ میری ہی تو خواہش تھی، اس نے سوچا، "پھر مجھے مزہ کیوں نہیں آ رہا؟ میرے تصورات میں وہ ہمیشہ بہت بری طرح چُدتی تھی اور ہمیشہ دوسرے آدمیوں کے لن کا مزہ لیتی تھی، تو اب کیا مسئلہ ہے۔ یہ احساس کہ تمہاری بیوی دوسرے آدمیوں کو چاہتی ہے بہت تکلیف دیتا ہے۔ اسے چودنے والا دوسرا مرد اس کی چیخیں نکلوا رہا ہے اور وہ لذت سے مری جا رہی ہے۔ اس کے اندر سے حسد کی لہریں اٹھ رہی تھیں مگر لن پھر بھی کھڑا تھا۔ اس کی بیوی کی غراہٹیں حسد کے احساس کو بڑھا رہی تھیں۔ اس نے اسے اتنی چیخیں مارتے کبھی نہیں سنا تھا اور پریشان ہو رہا تھا کہ کہیں اس کی آواز ساتھ والے ڈبے میں نہ سنی جا رہی ہو۔
 کویتا بری طرح چدنے اور چوت کا پانی نکل جانے کے بعد ابھی بھی زور زور سے سانس لے رہی تھی۔ نارنگ نے اسے باہوں میں لیا ہوا تھا اور اس کے مضبوط جسم کا احساس اسے سکون دے رہا تھا۔ آخر میں نے دوسرے مرد سے چدوا ہی لیا، اس نے سوچا۔ اس نے آخر اپنے شوہر کو بیوی کا بھڑوا بنا ہی دیا تھا۔ اے سی کی ٹھنڈک کے باوجود اس کے ماتھے پر پسینہ بہہ رہا تھا۔ سب کچھ بہت تیزی سے ہو گیا تھا، بہت شدت سے چودا تھا اسے نارنگ نے اور پیچھے طمانیت کا ایک احساس رہ گیا تھا۔ وہ اب اپنے سلیپر پر واپس جا کر کپڑے پہننا چاہتی تھی، مگر نارنگ نے اسے روک لیا۔ اس نے کویتا کا سر اپنی طرف گھمایا اور اس کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے بولا، "بہت شاندار عورت ہو تم"۔ اس کے کھردرے ہاتھوں نے اس کے ننگے بدن کو سہلایا اور کویتا کو بہت مزہ آیا۔ اس نے اپنا منہ کھولا اور نارنگ کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرتے ہوئے اسے جواباً چوما۔ اسے یہ چُومنا غلط محسوس ہوا، پیار کے کسی بھی احساس کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیئے تھی، اسے واپس جانا چاہیئے۔ لیکن وہ اٹھنے سے قاصر تھی بلکہ نارنگ کے مزید قریب ہو گئی۔ "بہت پیارے ممے ہیں تمہارے،" اس نے کویتا کے مموں کو سہلاتے ہوئے کہا جو کہ اس کے سینے پر بنا کسی سہارے کے تنے ہوئے تھے۔ اس کے ممے نیچے سے موٹے تھے اور نپلز تک آتے آتے مخروطی ہوتے جاتے تھے جن پر نپلز کے اردگرد ہلکے بھورے رنگ کے حلقے تھے۔ وہ نپلز کے ساتھ کھیل رہا تھا اور ان ملائم حلقوں کو اپنے انگوٹھے اور انگلی سے مسل رہا تھا۔ ۔۔۔ روی توقع کر رہا تھا کہ کویتا اس کے پاس سے اٹھ کر واپس آ جائے گی مگر وقت گزرتا گیا اور وہ ابھی بھی اس کے پاس تھی۔ خاموشی اسے پاگل کر رہی تھی؛ اس نے نیچے دیکھا اور اس کی نظر کپڑوں کے ڈھیر پر پڑی، جس میں سب سے اوپر پھٹی ہوئی پینٹی پڑی تھی۔ یہ ڈیزائنر پینٹی تھی جو اس نے کویتا کے لیے خریدی تھی؛ اس کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی۔ کویتا کو نارنگ کا لن اپنی رانوں میں چبھتا ہوا محسوس ہوا کیا؟ اس کا لن پھر کھڑا ہو گیا۔ وہ جب بھی اپنے شوہر کو خود سے گھڑی ہوئی کہانی سناتی تھی ہمیشہ اس کے یار کا لوڑا بہت بڑا ہوتا تھا اور اُس نے اِس مرد سے چدوا بھی لیا تھا اور اس کے لن کو دیکھا تک نہیں تھا۔ یہ سوچ کر اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔ "ہنسنے والی کیا بات ہے؟" نارنگ نے پوچھا، تو اس نے اپنا سر نفی میں ہلایا۔ "تم نے میری پینٹی پھاڑ دی،" وہ شکایتی لہجے میں بولی۔ "غلطی ہو گئی یار،" وہ بولا اور کویتا کی گانڈ کو تھپتھپایا، اس کا کھڑا لن اب اس کو چبھ رہا تھا۔ کویتا نے اپنا ہاتھ نیچے سرکایا اور نارنگ کے لن کو چھوا۔ اس کا لن پوری طرح تنا ہوا کھڑا تھا اور کویتا نے غیر ارادی طور پر اس کا موازنہ روی کے لن سے کیا اور اسے پتہ چلا کہ یہ لن تقریباً اس کے شوہر کے لن جتنا لمبا ہی تھا مگر اس سے بہت موٹا تھا۔ اس نے نارنگ کے لن پر اوپر نیچے ہاتھ پھیرا اور اس کے ٹٹوں کو ہاتھ میں پکڑ لیا۔ نارنگ دوبارہ گرم ہو گیا تھا اور اس بار اس کے بدن کے ہر ہر حصے کا مزہ لیتے ہوئے آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔ کویتا کو بھی کوئی شکایت نہ تھی، نارنگ کا جسم اس کے لیے نیا تھا اور ایک اجنبی اور مضبوط جسم کا اپنے اوپر ہونا اس کی شہوت میں اضافہ کر رہا تھا۔ اس نے غیر ارادی طور پر نارنگ کے اور اپنے شوہر کے چودنے میں فرق محسوس کرنا شروع کر دیا۔ اس کا شوہر نرمی سے اور پیار سے چودتا تھا۔ نارنگ کے چودنے میں وحشت تھی، اس کے دھکے اور جھٹکے سخت تھے جنہوں نے اس کا انگ انگ ہلا دیا تھا۔ وہ اب کویتا کے گالوں، مموں اور رانوں پر اپنے ناخن اور دانت چبھوتے ہوئے اسے اپنے مزے کے لیے استعمال کر رہا تھا۔ اس نے اپنا سر پیچھے تکیے پر گرا دیا اور اپنی مرضی کا مزہ لینے کے لیے اپنا جسم نارنگ کو پیش کر دیا تھا۔ روی نے جب ایک اونچی کراہ نیچے سے سنی تو اپنے خیالوں سے باہر آیا یہ ابھی بھی لگے ہوئے ہیں وہ ڈر گیا۔ یہ سوچ کر ہی وہ تصور میں کانپ گیا کہ یہ بندہ ایسا کیا کر رہا ہے جو وہ ایسے کراہ رہی ہے۔ جانوروں جیسی غراہٹیں سنتے ہوئے اسے گھبراہٹ بھی محسوس ہوئی اور ساتھ ہی ایک اطمینان بھی کہ یہ بندہ اسے ایسے روند رہا ہے جیسے وہ کبھی روندنے کے قابل نہیں ہوا تھا۔ کویتا نے اس کے لوڑے کو بنا روک ٹوک اپنی چوت میں جانے کی اجازت دینے کے لیے اپنی ٹانگیں پوری طرح کھول دی تھیں۔ جب اس نے اپنا لن آہستہ مگر جاندار دھکوں کے ساتھ اس کی پھدی میں اندر باہر کرنا شروع کیا تو وہ اس کے ساتھ چمٹ گئی۔ موٹے لوڑے نے اس کی چوت کو پوری طرح کھول دیا تھا اور جب وہ ہر دھکے کے ساتھ اس کے جسم پر کاٹ رہا تھا تو اس کی چیخیں نکلنے لگیں۔ نارنگ نے اس کا ایک مما مٹھی میں دبوچا اور اس کا ایک بڑا حصہ منہ میں ڈالتے ہوئے چوسنا شروع کر دیا۔ "آہ۔۔۔ ام م م م م" مزے سے اس کا جسم خم ہوا اور اسے محسوس ہوا کہ اس کی چوت لوڑے کو سختی سے بھینچ رہی ہے۔ اس کے سست رفتار مگر زور دار دھکے اسے بے چین کر رہے تھے اور اس نے اسے تیز چودنے کا اشارہ کیا مگر وہ اپنے طریقے سے چودتا رہا اور اپنے دانت اس کے مموں پر گاڑ دیئے۔ "آہ ہ ہ ۔۔۔ ہائے۔۔۔۔۔ اُف اُف۔" "میں اپنی نشانی چھوڑنا چاہتا ہوں،" اس نے سرگوشی میں کہا۔ وہ گھبرا گئی۔ "میں تمہارے جسم پر اپنی نشانی چھوڑ رہا ہوں،" وہ غرایا اور اپنے دانت اس نے نرم و نازک ممے پر گاڑ دیئے۔ "آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔ ہائے ماں ں ں ں ۔۔۔۔۔ میں مر گئی۔" اس کی آنکھیں باہر کو نکل آئیں اور اس نے اس کے بالوں کو کھینچتے ہوئے پیچھے کو دھکیلا مگر دانت سختی سے ممے میں گڑے ہوئے تھے اور وہیں گڑے رہے۔ اس کے جسم میں تکلیف کی لہر دوڑ گئی، اس نے بے تابی سے اپنی ٹانگیں چلائیں مگر وہ اپنے دانت ممے پر گاڑے چوستا رہا۔ چند لمحوں بعد اس کا جسم اس درد کا عادی ہو گیا پھر اس کے نپلز سے ایک سرسراہٹ سی اٹھی اور تیزی سے اس کی چوت میں پھیل گئی۔ اس نے اپنی چوت اوپر کو اٹھائی اور اس کے سر کو سختی سے پکڑ لیا جیسے وہ چاہتی ہو کہ وہ زوردار طریقے سے اسے چودے اور اس نے بالکل یہی کیا۔ "اب دوسرے ممے کی باری،" اس نے پہلا مما منہ سے نکالتے ہوئے کہا۔ "ہائے ماں۔۔۔۔۔" اس نے محسوس کیا کہ اس کی پھدی پانی چھوڑنے والی ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ اس کے دائیں ممے پر منہ رکھتا وہ مزے سے چلائی۔ "آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔ ہائے ماں ں ں ں ۔۔۔۔۔ اُف ف ف ف۔" اس کے بال کھینچتے ہوئے وہ ایک بار پھر چیخی۔ اس نے ایک لمبا سانس لیا اور درد سہتے ہوئے اس کے ختم ہونے اور وہی سنسنی اپنی پھدی میں پھیل جانے کا انتظار کرنے لگی۔ اب وہ تیز اور جاندار دھکوں کے ساتھ اسے چود رہا تھا۔ "آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ" وہ بلند آواز میں چیختے اور کانپتے ہوئے چھوٹنے لگی اور نارنگ نے بھی اپنا پانی اس کی چوت کی گہرائی میں چھوڑ دیا۔ وہ اپنا تھکا اور ٹوٹا پھوٹا جسم سنبھالے سو گئی اور صبح سویرے جب اٹھی تو ابھی بھی باہر اندھیرا ہی تھا۔ اس نے خاموشی سے اپنے کپڑے پہنے۔ دونوں مرد سو رہے تھے۔ وہ اٹھی اور اپنے سلیپر پر چلی گئی۔ یہ صبح بہت عجیب سی تھی اور وہ خاموشی سے بیٹھے تھے۔ جب وہ ممبئی پہنچے اور نارنگ نے انہیں الوداع کہا تو روی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا جواب دے۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے نارنگ سے ہاتھ ملایا۔ گھر جاتے ہوئے راستے میں مکمل خاموشی رہی؛ گھر پہنچ کر پتہ چلا کہ ملازمہ کے علاوہ کوئی بھی گھر پر نہیں تھا۔ کویتا سیدھی باتھ روم چلی گئی اور روی بھی اس کے پیچھے ہی چلا گیا۔ آنکھوں میں دکھ بھرے اس نے کویتا کو دیکھا، اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کہے۔ وہ جانتی تھی کہ وہ کس قسم کے احساسات میں سے گزر رہا ہے۔ اس نے کپڑے اتارنے شروع کیے اور پھر ننگی ہی شاور میں داخل ہو گئی۔ اس نے گردن گھما کر روی کی طرف دیکھا اور اسے ہونقوں کی طرح دیکھتا پایا۔ اس نے سر کے اشارے سے اسے شاور میں اپنے پاس آنے کو کہا۔ روی جلدی سے کپڑے اتار کر ننگا ہو گیا اور باتھ روم میں گھس گیا؛ کویتا پہلے ہی شاور کے نیچے تھی۔ اس نے روی کو اپنے قریب کھینچا، ٹھنڈا پانی اس کے جسم کو بھگونے لگا۔ وہ جذبات سے مغلوب تھا اور اس نے کویتا کے چہرے پر بوسوں کی برسات کرتے ہوئے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔ پھر اس نے صابن اٹھایا اور اس کے جسم پر ملنا شروع کر دیا۔ کویتا اپنے ہاتھ اس کے پیٹ سے نیچے لے گئی اور دیکھا کہ اس کا لن کھڑا تھا۔ اس نے اسے سہلانا شروع کر دیا۔ "تم ٹھیک تو ہو ناں،" آخر وہ بولنے کے قابل ہوا۔ کویتا نے سر ہلایا اور اس کی مٹھ مارنا جاری رکھا۔ اچانک جب روی کی نظر اس کے مموں پر بنے نشانوں پر پڑی تو اس کے جسم میں کپکپی ہوئی۔ "یہ۔۔۔ یہ،" وہ ہکلا رہا تھا۔ "اس نے میرے بدن پر اپنی نشانی چھوڑی ہے،" وہ نرمی سے بولی اور اپنا ہاتھ اس کے لن پر تیزی سے چلانے لگی، پھر بولی "چُومو اسے، یہ تمہارے ہی لیے ہے۔ جیسے ہی اس نے کویتا کے مموں پر اپنے ہونٹ رکھے تو وہ ہل سا گیا اور اس کے ہاتھوں میں ہی فارغ ہوتا چلا گیا۔ کویتا کے لیے کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا تھا؛ وہ فکرمند تھی اور اسے نہیں پتہ تھا کہ روی کو یہ کیسا لگے گا۔ اس نے یہ سب اس نظریئے سے شروع کیا تھا کہ وہ صرف روی کو تڑپائے گی اور اسے اس کی خواہش کا حقیقی احساس دلائے گی مگر وہ اس میں ملوث ہو گئی تھی اور اپنے آپ کو روک نہ پائی۔ پہلی بار روی کے ساتھ تنہائی میں اس رات اسے معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت بیوی کا بھڑوا ہے؛ وہ اس کے چہرے پر لکھا ہوا سب کچھ پڑھ سکتی تھی۔ اس کی تصدیق اس وقت ہو گئی جب وہ اس کے مموں کو دیکھ کر پاگل ہو رہا تھا جن پر نارنگ نے اپنی نشانیاں چھوڑی تھیں۔ انہوں نے اس پر تفصیل سے بات چیت کی اور کویتا نے اسے خوش پا کر سکھ کا سانس لیا اور اسے احساس ہوا کہ وہ ایک سچے پیار کرنے والے بیوی کے بھڑوے کے تمام احساسات میں سے گزر رہا تھا۔ کویتا کو ایک شاندار تجربہ ہوا تھا اور اسے معلوم تھا کہ اس کے لیے اسے فراموش کرنا انتہائی مشکل ہو گا۔ وہ خود کو دونوں مردوں کا موازنہ کرنے سے نہ روک پائی۔ ایک طرف اس کا شوہر تھا جیسے وہ بہت پیار کرتی تھی اور جو اسے چاہنے اور اس کا خیال رکھنے والا تھا اور دوسری طرف ایک اجنبی مرد تھا جو اس کے اندر کی حیوانی شہوت کو باہر لایا تھا۔ اسے اپنے شوہر کے ساتھ چاہے جانے اور خیال کیے جانے کا احساس ہوتا تھا مگر وہ ایک مرد کے کھردرے لمس کی خواہشمند تھی۔ ایسے مرد کی جو اسے جانوروں جیسی تندی کے ساتھ چود سکے اور اس کے جسم کو اپنی تسکین کے لیے استعمال کرے۔ تقریباً 15 دن گزر گئے اور وہ رات کو اپنے بستر میں تھے۔ جب روی اس کی چوت چاٹ رہا تھا تو کویتا نے اس کے بال نوچے اور نرمی سے کراہی، "ہاں ں ں۔۔۔۔ گڈ بوائے۔۔۔۔" روی نے اس کی چوت کے ہونٹوں کے درمیان زبان پھیری اور اس کی شہوت کو محسوس کرتے ہوئے بیتابی سے چاٹنے لگا، اس کا بھی خود پر قابو نہیں رہا تھا اور دونوں 69 پوزیشن میں تھے اور کویتا اس کے لوڑے کو آہستہ آہستہ چاٹ رہی تھی اور سہلا رہی تھی۔ روی نے اس کی چوت سے اپنا سر تھوڑا سا اٹھایا، اور بھاری سی آواز میں بولا، "کیا بہت زور سے چودا تھا اس نے تمہیں؟" "رکو مت،" اس نے اس کا سر واپس اپنی چوت پر دبا دیا۔ "ہاں ۔۔۔۔ بہت زور سے۔۔۔" اس نے اس کے لن پر اپنی زبان پھیری، "بہت جاندار گھسوں سے میری چوت ماری تھی اس نے،" کویتا نے اسے مزید شہوت دلاتے ہوئے کہا۔ روی جانتا تھا کہ یہ کویتا کی کوئی اپنے پاس سے گھڑی ہوئی کہانی نہیں ہے اور یہ حقیقت میں اس کی ناک کے عین نیچے ہوا تھا۔ جب نارنگ اسے چود رہا تھا تو اس نے اس کی بلند کراہیں اور چیخیں سنی تھیں۔ وہ ایک نئے ولولے سے اس کی پھدی کو چاٹنے لگا جبکہ کویتا اس کے لن کو بہت احتیاط سے سہلانے اور چاٹنے لگی تاکہ جتنا زیادہ ممکن ہو اس مزے کو طویل کر سکے۔ روی نے اس کی گانڈ کے ابھاروں کو ہاتھوں سے دبایا اور اپنی زبان اس کی پھدی میں مزید گہرائی میں دھکیلی اور اسے اپنا لن منہ میں لینے پر اکسایا۔ پورا منظر بار بار اس کے ذہن میں گھوم رہا تھا، کیسے آخری منٹ تک اسے یقین نہیں تھا آیا کہ کویتا صرف نارنگ کو تڑپائے گی یا واقعی نارنگ سے چدوا لے گی۔ جب وہ کپڑے اتار کر ننگی ہوئی اور اس کے بستر پر گئی تھی تو اسے یقین ہی نہیں آ سکا تھا۔

Posted on: 03:40:AM 14-Dec-2020


0 1 297 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com