Stories


گندی سیاست ایک داستان از سیکسیریا

نوٹ: اس کہانی کا مقصد صرف رائیٹر کے دماغ میں اک شخص کی زندگی کا تصور ہے. اسکا اس شخص کی زندگی کے ساتھ مماثلت محض اتفاقی ہو گی. رائیٹر کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں ہے. بس مقصد آپ لوگوں کو خوش رکھنا ہے . شکریہ!) مریم نواز. ایک ایسا نام جو آجکل کے دور کا ہر بچا بوڑھا جوان مرد عورت جانتا ہے. آخر جانے کیوں نہ؟یہ نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے. کچھ لوگوں کے دماغ میں یہ نام ایک سیاستداں کو ظاہر کرتا ہے کچھ کے نزدیک یہ نواز شریف کی بیٹی کو ظاہر کرتا ہے. کچھ کے نزدیک یہ پاکستان کی اگلی پرائم منسٹر کا نام ہے . لیکن بوہت سوں کے دماغ میں یہ نام ایک سیکسی ہاٹ گرم آنٹی کا نام ہے جسکے مممے لاجواب جسکی مسکان قاتلانہ اور ادائیں دل ربا ہیں.ارے جانے دیں صاحب ہم سب کو یہ تو پتا ہی ہے کے مریم نواز جوانی میں ہی اپنی پھدی کی بھوک مٹا نہ پا رہی تھی اور شاید کوئی اور تیار نہ ہوا ہو سیکس کے لیے پھر انگلی سے رس نکالتی رہی پھدی کا اور انگلیاں کب تک ساتھ دیتی؟ آخر دیسی دیسی ہوتا ہے ولایتی ولایتی ہوتا ہے پھر پھدے نے مریم کو اتنا ستایا کے اپنے ابو کے باڈی گارڈ کے ساتھ بھاگ کے شادی کر لی اور کہیں چلی گی لیکن پھر گھر والوں نے بلا لیا اور رشتہ قبول کر لیا . اور یہ کے اب اسکے 3 بیٹے بیٹیاں ہیں فلاں دھمکان وگیرہ وگیرہ. لیکن بوہت سوں کو یہ نہیں پتا کے آخر ایسا ہوا کیسے؟ کیوں مریم نے بھاگ کے شادی کر لی؟ مریم کی جوانی کیسے گزری؟ کیا یہ سہیلیوں کا کارنامہ تھا یا اپنا فیصلہ. آخر کپتان صفدر نے اسے پٹایا کیسے یا یہ مریم کا ہی فیصلہ تھا؟ کیا مریم پھدے کے ہاتھوں مجبور تھی یا وجہ کچھ اور تھی شادی کی؟ پھر جب انکے خاندان کو جلا وطن کیا گیا تو کیوں عرب خاندان نے اتنی دیر انکو پناہ دے رکھی؟ کیا اس میں بھی تو نہیں مریم کا ہاتھ تھا؟ آخر کوئی کسی کو کیوں اتنی دیر اپنے وطن میں رکھے؟ مریم کی جوانی کسی گزری کیسے اسنے کپتان صفدر کے ساتھ افئیر چلایا اور کیسے وہ سعودی عرب میں رہے زیتون کھا کھا کے . اور پھر کیسے مریم لاکھوں جوانوں کی دل کی دھڑکن بنی؟ آخریہ سب ہوا کیسے؟ ارے بابا ٹینشن نہیں لینی میں ہوں نہ؟؟؟ پیدائش کا جوانی کا، مستانی کا نادانی کا چوتستانی کا سب کا حال بتاے گا رے تیرا یہ دوست بوہت کم لوگ ھوتے ہیں جو کھاتے پیتے گھرانے میں اپنی آنکھیں کھولتے ہیں اور مریم نواز کا تعلق بھی کچھ ایسے ہے گھرانے سی تھا. وہ منہ میں سونے کا چمچا تو نہیں لیکن چاندی کا چمچ لیکے ضرور پیدا ہوئی تھی. یہ ١٩٧٣ کا دور تھا اور سیاسی ماحول کافی گرم تھا کیوں کے بنگلہ دیش حال میں ہی علیحدہ ہوا تھا اور پاکستانی فوج دھوکے باز انڈیا کے نرغے میں آ کے ہتھیار ڈال چکا تھ اور اس چیز کا آرمی کو بوھت دکھ تھا کیوں کے ایسا حکمرانوں کی غلط پالیسیز کی وجہ سے ہوا تھا اسی لیے آرمی اور حکومت میں ٹینشن تھی جو اندر ہی اندر پل رہی تھی اور کسی بھی وقت باہر آنے کو بیتاب تھی جسکا اندازہ عام عوام کوبھی تھا ہلکا ہلکا لیکن سب چپ تھے. اس وقت نواز شریف کے پاس اتنی پاور نہیں تھی اور نون لیگ ابھی اپنے پنجے آزما ہی رہی تھی لیکن ایک لمبا سفر انکا منتظر تھا. اسی نازک دور میں مریم پیدا ہوئی تھی اینڈ چونکے پہلی بیٹی تھی سو ظاہر سی بات ہے کے بوہت ناز نخرے اٹھائے گئے تھے اسکے اور لاڈلی بیٹی تھی نواز شریف کی کیوں کے شکل کافی زیادی ملتی تھی اس سے اور نواز ہر بندے کو یہی کہتے کے یہ میری شہزادی ہے بلکل میرے پے گئی ہے. ہونا تو یہ ہی چاہیے تھا کے یہ نخرے اٹھائے ہی جاتے لیکن نواز شریف اس وقت اپنی سیاست میں مصروف ہو گئے تھے اور زیادہ ٹائم نہ نکال پاتے تھے مریم کے لیے. کیوں کے سیاستداں لوگ ہر پارٹی میں اپنی بیگم کو ضرور لے جاتے ہیں کیوں کا اسکا بوہت فائدہ ہوتا ہے اگلے بندے کو قابو کرنے کا کیوں کے مرد لوگ عورت کے سامنے زیادہ دیر ٹک نہیں پاتے اینڈ جلد ہی ہار ماں لیتے ہیں اسکے علاوہ ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کے جائداد کا رولا بوہت کم پیسوں میں حل ہو جاتا ہے. اپنے اکثر دیکھا ہو گا کے یہ سیاستداں لوگ یا بڑے بڑے بزنس مین لوگ 2 شادیاں لازمی کرتے ہیں ایک خاندانی عورت سے اور ایک ماڈل ٹائپ لڑکی سے ، پتا ہے کیوں؟؟ میں بتاتا ہوں یارو. وہ ایسا یس وجہ سے کرتے ہیں کیوں کے بڑی بڑی بزنس ڈیل بس ایک رات کی مار ہوتی ہیں. یہ بزنس مین اپنی بولڈ اور حسین بیگمات کو اگے اگے کرتے ہیں تا کے وہ مردوں کو لبھایں اور للچاہیں اتنا زیادہ کے ایک رات کے بدلے 200 ملین والی چیز 70 ملین میں طے ہو جاتی ہے اور ایسا بوہت عرصہ ہوتا آیا ہے اور آیندہ بھی ہوتا رہے گا اور یہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا آیا ہوں اور بوہت تجربہ ہے مجھے لیکن خیر اب آپ کو پتا لگ چکا ہو گا کے شہباز شریف نے کیوں زیادہ شادیاں کی ہوئی ہیں لیکن خیر!!! بات ہو رہی تھی مریم نواز کی. اب ہر پارٹی میں بیگم کلثوم بھی ساتھ ساتھ ہوتی اور مریم زیادہ تر گھر اکیلی ہی ہوتی تھی اور تنہائی اسکی بہترین دوست تھی اگرچہ گھر مین ایک ملازمہ بھی اسپیشل اسکے لیے رکھی ہوئی تھی لیکن ایک ملازمہ ماں کا پیار تو نہیں دے سکتی نا. بھی بھئی اسکو کیوں کے بڑے تھے اس سے اور انکی علیحدہ ہی کمپنی تھی اپنی حلقے میں اور مریم زیادہ گھر سے بھی باہر نہ نکلتی تھی. پھر جب مریم اسکول جانے کی عمر میں ہوئی تو اسے ایک مشہور کرسچین اسکول میں داخل کروا دیا گیا جو کے اس زمانے کے لحاظ سے بوہت ماڈرن تھا اور لڑکیاں وہاں زیادہ ایلیٹ کلاس ہی اتی تھی. اسکول جا کے مریم نواز کو کچھ حوصلہ ہوا کیوں کے یہاں اسکی عمر کی کافی دوستیں بن گئی تھی. شروع شروع میں مریم کافی ڈری ڈری رہتی تھی اور اپنی کلاس فیلوز سے زیادہ گھل مل نہ پاتی تھی گھر کے اثر کے وجہ سے . پھر اسکی ایک ٹیچر فاخرہ نے اسی کی ہی کلاس فیلوز آمنہ اور زویا کو کہا کے تم دونوں آج کے بعد مریم کے ساتھ بیٹھا کرو گی اور اس کے ساتھ کھیلا کرو گی. آمنہ اس وقت ایک منسٹر کی بیٹی تھی اور زویا ایک بوہت بڑے بزنس مین کی بیٹی تھی اور وہ دونوں بھی راضی ہو گی کیوں کے ان دونوں نے بھی محسوس کیا تھا کے مریم بریک ٹائم میں بھی علیحدہ ہی بیٹھا کرتی تھی نہ کسی کے ساتھ کھیلا کرتی تھی نہ کسی کو دوست بناتی تھی. پھر آمنہ اور زویا نے مریم کے ساتھ بیٹھنا شروع کر دیا اور آہستہ آہستہ مریم کی ان سے دوستی بھی ہو گیی پھر رفتہ رفتہ یہ دوستی گاڑھے رشتے میں بدل گیی اور اب وہ تینوں پکّی سہیلیاں بن چکی تھی اور مریم نے بوہت خوش رہنا شروع کر دیا تھا جس وجہ سے مریم کے والدین بھی بوہت خوش تھے اور ان تینوں سہیلیوں کا اپس میں کافی آنا جانا تھا اور اکثر یہ ایک دوسرے کے گھر ہی سو جاتی تھی چونکے تینوں گھروں کی کلاس بھی ایک جیسی ہی تھی سو کسی کو بھی اعتراض نہیں تھا. یوں ہی رفتہ رفتہ زندگی کی گاڑی چلتی رہی اور مریم 12 سال کی ہو گی تھی اور یہ وقت تھا جب نواز صاحب پنجاب کے وزیر اعلی بن چکے تھے . نواز کی سرگرمیوں کی طرح مریم کی جسم میں بھی تبدیلیاں آنا شروع ہو چکی تھی. اسکے سینے میں چھوٹی چھوٹی گٹلیاں بننا شروع ہو چکی تھی اور چوت کے ارد گرد ہلکے ہلکے بھورے بال اگ گئے تھے جو مریم کے لیے پریشانی والی بات تھی کیوں کے اسے اندازہ نہیں تھا کے یہ ہو کیا رہا ہے اسکے جسم کے ساتھ؟؟؟ اسکے سینے کی گٹلیاں بھی عجیب تھی جنکو چھونے پی ہلکی ہلکی درد بھی ہوتی تھی لیکن ایک عجیب سا مزہ بھی اتا تھا جو اسکا معصوم دماغ سمجھنے سے قاصر تھا کے یہ کیا ماجرا ہے؟؟ ان دنوں کلاس میں ٹیچر نے بائیولوجی کی کلاس میں رسولیوں کا ذکر کیا تو مریم کا دماغ فورن اپنے سینے کی طرف چلا گیا کے کہیں یہ بھی تو نہیں رسولیاں تھی؟؟؟ رات کھانے کے دوران سب کے سامنے ہی مریم نے اپنی امی کو کہا کے امی مینے کل ڈاکٹر کے پاس جانا ہے. بیگم کلثوم حیران تھی کے بیٹھے بٹھے مریم کو کیا ہو گیا دوپہر تک تو کوئی بخار نہیں تھا. نواز کو بھی پریشانی لاحق ہوئی اور انہوں نے پوچھا کے میری بیٹی کو کیا ہو گیا؟ بخار تو نہیں ہو گیا بیٹا؟ مریم بولی کے نہیں بابا مرے جسم میں رسولیاں ہیں. نواز اور کلثوم دونوں اسکی طرف متوجہ ہو گئے کے کیا ماجرا ہے. بیگم کلثوم بولی کے بیٹی کہاں ہیں رسولیاں؟؟ مریم نے فورن اپنے سینے پی نپل والی جگہ پی ہاتھ رکھا اور بولی مما یہاں ہیں رسولیاں. یہ سن کے نواز صاحب مسکرا اٹھے اسکی معصومیت پے اور بیگم کلثوم نے کہا کوئی بات نہیں بیٹا ٹھیک ہو جایں گی. مریم سے یہ برداشت نہ ہوا کے کوئی اسکی بیماری کو یوں سیریس نہ لے تو بولی کہ مما بابا آپ یقین کریں میں آپکو دکھاتی ہوں اور یہ کہتے ہوی ہی اپنی قمیض اتارنے کی کوشش کرنے لگی تو بیگم کلثوم نے ڈانٹا کے یہ کیا کر رہی ہو گندی بچی اور مریم ناراض ہو کے کھانا چھوڑ کے اپنے کمرے کی طرف چل پڑی. نواز صاحب کی ہنسی نہیں ختم ہو پا رہی تھی اور انہوں نے بیگم کو کہا کے جاؤ اسے مناؤ. بیگم کلثوم کھانا چھوڑ کے اسے منانے چلی گی اور کمرے میں جا کے مریم کو اپنے پاس بلایا اور کہا کے بیٹا دکھاؤ کہاں ہیں رسولیاں؟؟ مریم نے قمیض اتاری اور اپنا سینا مما کے سامنے کر دیا. بیگم کلثوم سے اسکا سینا چھو کے دیکھا اور جب گلٹی پے ہاتھ لگایا تو مریم کی سسکاری نکل گی اور بولا مما درد ہوتا ہے. بیگم بولی کے بیٹا پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے یہ ایک نورمل سی چیز ہے. تو مریم بولی کے نہیں مما یہ پہلے نہیں تھا کچھ مہینوں سے ایسا ہو رہا ہے. بیگم بولی کے بیٹا یہ ہر شخص کو ہوتا ہے جب وہ جوان ہو رہا ہوتا ہے . مریم بات کاٹتے ہوی بولی کے ہر شخص کو؟؟ تو بیگم صاحبہ بولی کے جی بیٹا ہر ایک کو. مریم فورن بولی تو کیا آپکو بھی ہوا تھا؟ بیگم بولی کے ہاں جب میں بھی چھوٹی تھی نہ مجھے بھی ہو گیا تھا اور خود ہی ٹھیک ہو گیا تھا تو آپ بھی فکر نہ کرو آپ کوبھی ٹھیک ہوجاے گا.ٹھیک ہے؟ مریم مان گی. گلٹیوں تک تو ٹھیک تھا لیکن ایک رات تو حد ہی ہو گی اور رات سوتے ہوی مریم کی آنکھ کھلی تو اسے اپنی پیشاب والی جگہ پے کچھ گیلا سا محسوس ہوا تو اس نے سوچا کے یہ کیا میرا پیشاب نکل گیا؟ لیکن پیشاب نکلے تو مرچیں نہیں لگتی لیکن اسکو بوہت جلن محسوس ہو رہی تھی اپنی پھدی پے.اسنے سائیڈ ٹیبل کی لائٹ جلائی تو اسکے آنے باہر آ گئے کیوں کے اسکی شلوار کے اوپر خون تھا کافی سا اور عجیب سی گندی بو تھی اسکی اسنے ایک چیخ ماری ڈر کی وجہ سے تو اسکی امی ساتھ والے کمرے سے باغ کے اسکے کمرے میں آیی تو دیکھا کے مریم سکتے کی حالت میں بیٹھی ہوئی تھی انہوں نے اسکو بلایا تو اسنے چونک کے امی کو دیکھا اور بولی مما یہ کیا ہے؟ اسکی امی کی جب نظر پڑی تو انھیں ساری بات سمجھ آ گی کے مریم کو پیریڈ آے ہیں انہوں نے مریم کو گلے لگایا اور کہا کے بیٹا ڈرو نہیں یہ بھی سب کو ہی ہوتا ہے اب تم جوان ہو رہی ہو تو ڈرنے والی کوئی بات نہیں ہے ٹھیک ہے؟؟ اور ایک پیڈ لا کے دیا اور اسکو کہا کے اپنی شلوار اتارو اور ایک انڈرویر کے اوپر پیڈ لگایا اور مریم کو باندھنا سکھایا اور اسکو یہ بھی بتایا کے اب ہر مہینے اسی تاریخوں کے اس پاس اسکو دوبارہ اسی طرح خون آیا کرے گا سو پہلے ہی پیڈ پہن لیا کرے ٹھیک ہے؟ مریم نے رضامندی میں سر ہلایا اور اسکی امی بولی کے اب 2 دن اسکول جانے کی ضرورت نہیں ہے ریسٹ کرو . اور مریم کو دوبارہ بیڈ پے لٹا کے اپنے کمرے میں چلی گیی. لیکن مریم سوچوں کے بھنور میں ہی تھی کے یہ کیا چیز ہے جو ہر لڑکی کو ہوتا ہے تو اسکا مطلب ہے کے آمنہ اور زویا کو بھی ہوتا ہو گا؟؟ خیر یہ تو اسکول جا کے ہی پتا چلے گا لیکن اسکے لیے 2 دن انتظار کرنا پڑے گا. دیکھا جاےگا . اگلے دن اٹھ کے مریم نے واشروم میں جا کے پیشاب کرنے کے لیے بیٹھی تو اسکی نظر پھدی پی پڑ تو رات والا سارا سین یاد آ گیا اور دیکھا تو اسکی پھدی معمول سے زیادہ پھولی ہوئی تھی جو کے مریم کے لیے نیی بات تھی پیشاب کر کے مریم اپنے بیڈ پی دوبارہ لیٹ گی اور ایک ہاتھ سے پھدی کو چو کے دیکھا تو تھوڑی جلن ہوئی لیکن عجیب سی سنسناہٹ بھی جسم میں پھیل گی اور مریم نے ارادہ ترک کر دیا اور دوبارہ سو گی. 2 دن بعد سکول واپس گیی تو اسکی دونوں سہیلیوں نے اسکو گھیر لیا اور پوچھا کے 2 دن سکول کیوں نہیں آیی؟؟؟ مریم بولی کے بابا بتاتی ہوں بریک تو ہو لے. آمنہ سے یہ برداشت نہ ہوا اور بولی کے ابھی بتاؤ ایسی کونسی بات ہے؟؟ لیکن مریم بولی کے یہ بات کلاس میں بتانے والی نہیں ہے تو سب بریک کا انتظار کرنے لگ پوری اور بریک کے دوران اسے ایک جگہ پے لے گی اور کہا کے اب بتاؤ؟؟ مریم نے بات بتا دی کے کس طرح اسکی پھددی سے خون نکلا اور اسکی وجہ کیا تھی. وہ دونوں حیرانی سے دیکھنے لگ پڑی کے یہ کیا سائنس مار رہی ہے؟ وہ بولی کے ہم دونوں کو نہیں آیا ایسا خون ابھی تک تو. مریم بولی کے بیٹا آ جائے گا ٹینشن نہ لو. زویا بولی کے اچھا بتاؤ کے خون کیسا تھا اور تمہیں درد ہوئی؟؟ مریم بولی کے یار رات 2 بجے کے قریب آیا تھا اور مجھے بوہت جلن بھی محسوس ہوئی تھی پیشاب والی جگہ پے اور کمر میں بھی درد تھا بوہت سا. آمنہ بولی کے کیا 2 دن مسلسل نکلتا رہا خون؟؟؟ مریم ہنس پوری اور بولی نہیں بابا تھوڑا تھوڑا کر کے کبھی کبھی آتا ہے . مسلسل نہیں ہوتی میری ماں . پھر وہ تینوں ہنس پوری اور بولی کے پارٹی کھلا تو جواں ہو گی ہے ہم دونوں سے پہلے ہی. مریم بولی کے ٹھیک ہے گھر آ جانا کھلا دوں گی پھر سب کلاس میں آ گئی اور چھٹی کے بعد گھر چلی گے. پھر کچھ مہینوں بعد زویا کو بھی میںسس آ گئے اور اسکی بھی حالت مریم جیسے ہی تھی لیکن چونکے اسے پتا تھا اس بات کا مریم کی وجہ سے سو وہ پریشان نہیں تھی اور 3 دن بعد آ کے اسنے اپنی دوستوں کو بتایا کے اسکو بھی آ گئے ہیں اب آمنہ اکیلی رہ گی تھی جسکو ابھی تک میںسس نامی چیز نہیں آیی تھی.آمنہ بولی کمینیو اچھا دوست ہو میری دونوں جوان ہو کے بیٹھ گی ہو اور میرا سوچا بھی نہیں کے اسکا انتظار ہی کر لیں. مریم بولی کے لو اب ہمارا تھوڑا نہ کنٹرول ہے اس چیز پے. زویا بولی کے بیٹا جوان زیادہ جلدی نہ ہو ورنہ رشتے آنے لگ پڑیں گے. وہ سب ہنسنے لگ پڑے. اسی طرح ایک سال گزر گیا اور مریم کی گٹلیاں اب بڑھ کی گٹلیاں نہیں رہی تھی بلکے انہوں نے ایک لیموں کا سائز حاصل کر لیا تھا. مریم کو پتا تھا کے ابھی اور بڑھیں گی کیوں کے اسنے اپنی امی کا سینا دیکھا تھا اور بیگم کلثوم کا سینا کافی بڑا تھا اسکے علاوہ مریم نے اپنی ٹیچر آسیہ کو ذھن میں لیی تو اسکا سینا بھی نظروں کے سامنے گھوم گیا کیا چوڑا اور بڑھا ہوا سینا تھا اسکی مس کا. مریم نے سوچا کے کبھی اسکا سینا بھی مس آسیہ جتنا ہو جائے تو مزہ آ جائے کیوں کے مس آسیہ کا سینا ان پے بوھت ججتا تھا. اب اکثر رات کو جب مریم اپنے سینے پی ہاتھ پھیرتی تو درد کی بجایے ایک عجیب سا مزہ آتا اسے جسکو وہ نام دینے سے قاصر تھی. جب بھی وہ سینے پے ہاتھ پھیرتی تو جسم میں بجلیاں دھوڑنے لگ پڑتی اور جسم اکڑ جاتا تھوڑا تھوڑا سا اور اس طرح لگتا کے کوئی چیز اسکی پھدی کی طرف جاتی ہے. وہ جب پھدی کو ہاتھ لگاتی تو معاملا اور بھی سنگین ھو جاتا تھا. جب بھی پھدی کو چھوا کرتی تو ایسا لگتا کے جسم کا سارا خون اسکی پھدی کی طرف جا رہا ہے اور اسے ایک عجیب سا مزہ آتا ایسا کرنے سے. وہ ابھی تک معصوم ہی تھی اور نہیں جانتی تھی کے جب بھی وہ اپنے سینے کو چھیڑتی آہی تو کیوں اسکے مممے اکڑ جاتے ہیں اور اکڑے نپل کو چھیڑو تو جسم کے سارے بال کھڑے ہو جاتے ہان؟؟ اسے یہ بھی نہیں پتا تھا کے جب بھی وہ پھدی پے خارش کرتی ہے تو اسکی انگلیاں کیوں گیلی ہو جاتی ہیں؟؟ اسے ابھی اسکا جواب بھی نہیں پتا تھا کے جب بھی اسکو پیریڈ اتے تھے تو ان دنوں کیوں اسکا دل زیادہ کرتا تھا کے پھدی کو چھیڑا جائے؟ اسکو ابھی اس بات کا بھی جواب چاہیے تھا کے جب بھی زیادہ دیر پھددی کو مسلو تو ہلکا ہلکا سا نمی دار مادہ کیوں اتا ہے؟؟ اگلے دن جا کے اسنے آمنہ اور زویا کو بتایا اس مسلے کے بارے میں تو ان دونوں کا قہقہ نکل گیا اور ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گی اور بولی کے کیا تم بھئ؟؟ مریم بولی کے تم بھی سے کیا مطلب؟؟ اسکا مطلب تم بھی؟؟؟ وہ تینوں پھر ہنس پڑی اور کہا کے ہم سب تو چپ تھی شاید یہ انوکھا کام صرف ہم ہی کرتی ہیں لیکن اب معاملہ خلا کے یہ قصب تو سب نے پکڑا ہوا ہے. زویا بولی کے میمو(مریم کا نک نام رکھا ہوا تھا اسکی دوستوں نے) تو توبڑی حرامی نکلی مطلب مجھے نہیں لگتا تھا کے تو ایسا کرے گی. مریم بولی کے کیوں تم کر سکتی ہو تو کیا میں نہیں کر سکتی؟؟ میرا فنکشن ڈفرنٹ ہے؟؟ آمنہ ہنس کے بولی تو اور کیا؟؟ پھر آمنہ بولی کے چلو اتنا تو پتا چلا کے ہم تینوں حرامی ٹائپ کی لڑکیاں ہیں. سب دوبارہ ہنس پڑیں یہ ١٩٨٨ کا زمانہ تھا. مریم کا تو اب جیسے معمول بن چکا تھا کے ہر رات کو پھددی کے ساتھ چیڑھ خانی کرنا. اب پھدی کی بھوک بڑھ چکی تھی. اب مریم روز اپنے کمرے کی کنڈی لگاتی اور اپنے کپڑے اتار کے ننگی ہی بیڈ پی سوتی تھی. سردیوں کے دن تھے اور رضائی میں نگے سونا عجیب ہی مزہ دیتا تھا اسکو. رضائی کا نرم نرم کپڑا جب اسکے ننگے بدن پی لگتا تو سنسنی دھوڑ جاتی اور مریم مزے میں آ جاتی تھی. مریم لحاف میں گھس کے ایک ہاتھ اپنے مموں پی پھیرتی اور دوسری ہاتھ اپنی پھدی کی لکیر پی رکھ دیتی تھی اور ہلکا ہلکا اسکو سہلاتی رہتی تھی. ایک رات مریم کو پتا نہیں کیا سوجھا کے اسنے لائٹ جلائی اور اپنی پھدیپے غور کرنا سٹارٹ کر دیا. اسکی پھدددی آپس میں بلکل جڑی ہوئی تھی اور پھدی کے ہونٹ آپس میں سلے ہوۓ تھے لیکن انگلی سے انکو علیحدہ بھی کیا جا سکتا تھا. پھدی کے بلکل اوپر ایک مٹر کے دانے جتنا دانا تھا اور مریم نے جیسے ہی اسے چھوا تو ایک جھٹکا لگا اسکے جسم کو اور اسکی ٹانگیں بھینچ گے آپس میں. مریم کا یہ مزہ پہلے کبھی نہیں آیا تھا. اسنے دوبارہ اسے چھوا تو دوبارہ وہی روح کو چیرتا مزہ آیا. وہ ایک عجیب خوشی میں تھی کے جیسے اس نے خزانہ پا لیا ہو. وہ دوبارہ لیٹ گی اور تیل لگا کے انگلی پی اپنے دانے کومسلنے لگ پوری. ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی دانا مسلتے کے اسکی سانسیں تیز چلنا شروع ہو گے اور سارا خون پھددی کی طرف جاتا محسوس ہوا. وہ مزے میں کھو چکی تھی اور بوہت مزہ آ رہا تھا اسے. پھر کچھ دائر بعد اسے لگا کے اسکے جسم کے اندر کوئی چیز باہر آتی محسوس ہو رہی تھی. وہ اپنے مزے میں کھویی ہوئی تھی اور کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا اسے. پھر کچھ دیر بعد ہی اسکا جسم اکڑا اور پھدی سے دودھ کی طرح کی کوئی چیز باہر آ گیی جسکی وجہ سے مریم کا جسم جھٹکے کھانے لگ پڑا. مریم کا جسم کچھ دیر بعد شانت ہوا تو وہ اپنے آپ کو ہلکا ہلکا محسوس کر رہی تھی. اسنے اپنے ہاتھ میں اپنی منی لی اور اسکو چھو کے دیکھا تو کافی چکنی چیز تھی وہ. مریم نے انگلیاں ناک کے قریب کیں تو اسکی بو عجیب سی تھی جسکو مریم سمجھ نہ پائی تھی لیکن تھی ایک نشیلی سی خوشبو ہی. مریم اگلے دن اپنی دوستون کو بتانے لگ پڑی کے کیسے اس پھدی کے دانے کو چھونے سے روح انگیز مزہ اتا ہے. آمنہ اور زویا بولی کے وہ آج رات ضرور آزماے گیں اس نسخے کو. اگلے دن دونوں کلاس میں آ کے بولی میمو کیا مزہ ایا یار ہم تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کے ایسا بھی مزہ اتا ہے. یار تو ہماری استاد ہے ماں گئے آج تجھ کو کے بوہت پوھنچی ہوئی چیز ہے تو.!! زویا لقمہ لگاتے ہوی بولی اور حرامی بھی. آمنہ بولی کے یار میرا تو تھوڑا سا ہی مادہ نکلا تھا لیکن مزہ بوہت آیا. زویا بولی کے کیا بتاؤں یار میرا بوہت پانی نکلا تھا کے میں پریشان ہو گی تھی روک ہی نہیں رہا تھا اور جسم ہچکولے کھا رہا تھا. مریم بولی کے واقعی؟؟ زویا بولی تو اور کیا؟؟ یہ تیرا ہی قصور ہے کتی. مریم ہنس پڑی. آمنہ بولی کے یار ہم لوگ آپس میں اتنے فرینک ہیں تو کن نہ ہم ایک دوسرے کوزیادہ اچھے طریقے سے جان لیں؟؟ زویا بولی میں سمجھی نہیں؟ آمنہ بولی کے یار ہم ایک دوسرے کے باڈی پارٹس دیکھ لیں تو؟ مریم بولی فٹے موں تیرا آمنہ کبھی کام کی بات نہ کریں. زویا بولی کے یار آئیڈیا تو ٹھیک ہی ہے آخر ہم بھی تو دیکھیں کے ہمارے جسم کیسے ہیں آخر کل کو ہم لوگوں نے ڈاکٹر بھی تو بننا ہے نہ؟ بہتر نہیں کے ہم آج سے ہی پریکٹس شروع کر دیں؟ سب ہنس پڑی اور پلان یہ بنی کے زویا کے گھر والے کچھ دن کے لیے آسٹریلیا جا رہے ہیں اور گھر پے بس وہ اور اسکا بھائی ہی ہوں گے سو اسکے گھر ہی اکھٹے ہو جاتے ہیں اور رات کو وہاں ہی سو جایں گے پارٹی کے بہانے؟؟ کیا خیال ہے؟؟ سب دوست اگری ہو گئے اور پلان فائنل ہو گیا . مقررہ تاریخ کو سب دوستیں زویا کے گھر میں اکھٹی ہو گی اور لاؤنج میں بیٹھ کے فلم دیکھنے لگ پڑی وی-سی-آر پے. اتنے میں زویا کا بھائی زین اپنے روم سے نکلا (جو کے زویا سے 3 سال بڑا ہو گا ) اور زویا سے پوچھا کے وہ باہر جا رہا ہے اور رات کو اے گا تو اگر کوئی چیز منگوانی ہے تو بتا دو. زویا بولی کے بھائی بریانی لیتے آنا. وہ چلا گیا تو آمنہ نے تکیہ زور سے مارا زویا کو اور بولی اچھی دوست ہے تو میری؟؟؟ زویا بولی کے کیا ہوا؟؟ آمنہ نے کہا کے یار تیرا بھائی اتنا ہنڈسم ہے اور تنے بتایا بھی نہیں؟؟؟ یار کیا خوبصورت بھی ہے رے تیرا. مریم نے بھی ہاں میں ہاں ملائی اور کہا کے واقعی یار بوہت خوبصورت ہے تمہارا بھی. زویا بولی کے کمینیو بہن کے گھر پے نظر رکھ لی تم نے، ہاے میں مر گئی. سب ہنسنے لگ پڑی. مریم نے کہا کے یار فلم چینج کرو کوئی اچھی سی لگاؤ تو ٹائم پاس ہو جائے. زویا بولی کے یار موویز تو زین کے کمرے ہی پڑی ہوتی ہیں کیوں کے وہ ہی دیکھتا ہے زیادہ تر اور چھپا کے رکھتا ہے یہ تو پتا نہیں کیسے ادھر ہی پڑے رہ گی تو مینے لگا لی لیکن نئی مووی ڈھونڈنی پڑی گی اسکے روم سے . پھر وہ سب زین کے کمرے کی طرف چل پڑی اینڈ موویز تلاش کرنے لگ پڑی. مریم نے بیڈ کے قریب والا ایریا تلاش کرنا سٹارٹ کر دیا اور بیڈ کے نیچے جھانکنے لگ پڑی اور وہاں سے اسے ایک جوتی والے ڈبے میں سے ایک مووی مل گی. میم نے کہا کے مل گی. ساری دوستوں سے تالیاں بجائی اور مووی لے کےٹیوی روم میں آ گی. زویا نے کیسٹ اندر ڈال کے مووی چلا دی یہ ایک رومانٹک سی مووی تھی اور جب بھی کوئی رومانٹک سین آتا تو ساری دوستیں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کے ہنسنے لگ پڑتی. آمنہ بولی کے یار جب بھی کوئی ایسا سین اتا ہے نہ پتا نہیں کیوں پھدی میں ایک کشش سی محسوس کرتا ہے اور دل کرتا ہے کے ہاتھ کو پھدی پے ہے رکھ دوں. مریم بولی قسم سے یار میرا بھی یہی حال ہے کیا بتاؤں؟ زویا بولی ہے میرا تو دل کر رہا ہے کے یس ہیروئن کی جگہ میں ہوتی اس ہیرو کے ساتھ. مریم نے زویا کی پھدی پے تھپپر مار کے بولی کے کیوں یہ سمبھالی نہیں جا رہی؟ زویا کہاں پیچھے ہٹنے والی تھی وہ بھی فورن اگے بڑھی اور مریم کی پھدی پی زور سے چٹکی کاٹ کے بولی کے آگ تو یہاں سے ہی سٹارٹ ہوئی تھی نہ؟ مریم بولی کمینی اتنی زور سے چٹکی کاٹی ہے میری لال ہو گئی ہے. آمنہ بولی تو اور کیا؟؟ یس کمینی میمو نے ہی ہماری اندر آگ کو بڑھکایا ہے اور اب اسکی لال ہو رہی ہے.زویا بولی کے یار میمو ویسے دکھا تو سہی کتنی لال ہو رہی ہے؟؟؟ آمنہ بولی ہان یار دکھا نہ ! مریم بولی کے اگر تم لوگ بھی دکھا دو تو پھر دکھا دیتی ہوں. زوا بولی کے میرے کمرے میں آ جاؤ وہاں ہی شغل لگاتے ہیں. سب زویا کے روم میں چلے گئے اور روم لاک کر دیا تا کے کوئی ان بلایا مہمان نہ آ جائے انکے گھناونے کام دیکھنے. پھر جب ساری بیڈ پی بیٹھ گی تو آمنہ بولی چل مریم دکھا اب. مریم بولی کے یار یس طرح نہیں ایسا کرتے ہیں کے میں تین گنتی ہوں اور تین پی ساری ہی یک دم اپنی شلوار اتار کے دیکھیں گی ایک دوسرے کی. زویا بولی کے ٹھیک ہے گنو. مریم نے ایک گنا ٹو سب نے اپنی شلواریں ہاتھ میں پکڑ لیں. مریم نے 2 گنا تو سب نے اپنی شلوار کا نیفا اپنی مٹھی میں پکڑ لیا ہے ریڈی ہو گئی چوت کا نظرانہ پیش کرنے کو. جیسے ہی مریم نے تین کہا تو ساروں نے اپنی شلوار کو کھینچ کے اپنے ٹخنوں تک اتار دی. اب سب کا دہہان ایک دوسرے کا پھدوں کی طرف تھا. مریم کی چوت کا دانہ سب سے بڑا تھا. آمنہ کی چوت سب سے ہی ٹائٹ تھی اور چھوٹی سی تھی .زویا کی پھدی سب سے بڑی تھی لمبائی میں اور بڑی نرم سی محسوس ہو رہی تھی. آمنہ ہنس کے بولی کے ہاے نی میمو تیرا یہ اوپر سے لن اگ رہا ہے؟؟؟ دیکھ تو سہی ہاہاہاہاہا تیرا دانا تو بوہت ہی بڑا ہے کیا کھلاتی ہے اسکو؟؟؟ زویا بولی ہان میمو یہ کیا سائنس ہے یار؟؟ میمو بولی پتا نہیں یار یہ شروع سے ہی ایسا ہے اسی وجہ سے میں جب بھی اس دانے کو ہاتھ لگاتی ہوں تو پتا نہیں اتنی طاقت کہاں سے آ جاتی ہے کے بوہت زیادہ پانی نکلتا ہے اور جلد ہی فارغ ہو جاتی ہوں لیکن مزہ انتہا کا آتا ہے
 پھر میمو بولی آمنہ تو کیا ماچس کی ٹیلی کے ساتھ پھدی مسلتی ہے جو تیری اتنی باریک ہے؟ تیری پھدی میں تو چوہے کا لن بھی نہ جائے ہاہاہا آمنہ بولی تو سالیو اچھا ہے نہ مرے سرتاج کو زیادہ مزہ اے گا نہ میری چدائی کا. زویا بولی دیکھ کتنی فکر ہے اسکو ابھی سے ہی اپنے سرتاج کی. پھر آمنہ بولی ہان نہ زویا تو پنی دیکھ کتنی لمبی پھدی ہے تیری جیسے تجھے نرس نے پیدا ھوتے وقت تیری پھدی سے ہی پکڑ کے ہی نکالا ہو گا اسی وجہ سے تیری پھدی بڑی ہے ہاہاہا سب خوش تھے کے مریم نے آمنہ کو کہا کے یار میری چوت سے تو بڑی سہانی سی خوشبو اتی ہے تمہارا کیا حال ہے؟ آمنہ بولی کے یار مینے تو کبھی سونگھ کے نہیں دیکھی اور یہی حال زویا کا تھا کیوں کو اسنے بھی نہیں سونگھی تھی یہ خوشبو تو طے یہ پایا کے سب ایک دوسرے کو اپنی خوشبو سونگھنے کا موقع دیں گی سب سے پہلے زویا کی سونگھنی تو وہاں زیادہ خوشبو نہیں تھی بلکے پیشاب کی تھوڑی سی خوشبو تھی تو آمنہ بولی کے حرام زادی کبھی اندر سے بھی دھو لیا کر پھر جب آمنہ کی سونگھتی گیی تو وہاں ایک مست خوشبو تھی جسی اسنے وہاں پرفیوم لگایا ہو لیکن یہ اسکی اپنی خوشبو تھی مریم کو تو جیسے یہی موقع چاہیے تھی وہ کافی دیر سونگھتی رہی اور کہا کے یار تیری خوشبو بوہت نشیلی ہے کاش یہ سگرٹ ہوتی تو کش ہی لگا لیتی. پھر زویا اور آمنہ دونوں گھٹنے کے بل بیٹھ گی تا کے میمو کی پھدی سونگھ سکیں. جیسے ہی آمنہ نے اپنا موں مریم کی پھدی کے سامنا کیا اور ناک ابھی لگی ہی تھی کے میمو کو پتا نہیں کیا سوجھا کے اسنے اپنے آپ کو تھوڑا آگے بڑھا لیا کے آمنہ کے ہونٹ اور میمو کی پھدی کے ہونٹ آپس میں مل گئے. آمنہ اس ناگہانی آفت کے لیے بلکل تیار نہیں تھی اور جھٹکا کھا کے فورن پیچھے ہٹ گی یہ دیکھ کے زویا کا قہقہ نکل گیا اور بولی میمو تو پوری کنجری ہے. میمو ایسی باتیں سن کے پتا نہیں کیوں گرم ہو جایا کرتی تھی. آمنہ بولی کے یہ روندی ہے اب تم بھی میری پھدی پی اپنے ہونٹ لگاؤ. میمو کو تو جیسے بہانہ چاہیے تھا فورن تیار ہو گیی اور کہا ٹھیک ہے کوئی اعتراض نہیں ہے یہ کہ کر آمنہ نے اپنی پھدی میمو کے موں کے سامنے کی اور مریم نے اس پی کس کر دیا آمنہ کو تو جیسے جھٹکا لگا کیوں کے یہ پہلا موقع تھا کے کسی نے اتنی نازک جگا پے نازک سا کس کیا ہو. آمنہ بولی کے یار مزہ آ گیا زویا تو بھی ٹرائی کر مزہ نہ آیا تو پھر کہنا اور یہ کہ کے آمنہ نے زویا کی پھدی پے کس کیا زویا بولی کے یار واقعی کرنٹ سا لگتا ہے. میمو بولی کے یار ہم ایک دوسرے کی پھدی پی کس نہ کریں؟؟؟ زویا بولی وہ کیسے؟؟ میمو بولی کے ایسا کرتے ہیں کے ہم تینوں گھوڑی کی طرح بن جاتے ہیں اور ایک گول دائرے کے شکل میں آ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی چاٹتے ہیں کیا خیال ہے؟؟ زویا بولی کے یار آئیڈیا تو اچھا ہے آزماتے ہیں لیکن ایک بات ہے کے کوئی کسی کو نہیں بتاے گا اس بارے میں ٹھیک ہے؟ سب ایگری ہو گئے کیوں کے انہوں نے کسی کو بتا کے کیا کرنا تھا؟ پھر سب گھوڑی بن گی سب سے آگے مریم تھی اور مریم کے پیچھے آمنہ تھی اور آمنہ کے پیچھے زویا تھی اور پلان یہ تھا کے میمو زویا کی پھدی چاٹے گی اور زویا آمنہ کی اور آمنہ میمو کی. پھر سب سے پہلے میمو نے ہمّت کی اور اپنی زبان فل باہر نکال کے زویا کی پھدی کے لیپس پی کس کے چوسنے والے انداز میں بھر کے کس کر دیا یہ حملہ زویا کے لیے نہ قبل برداشت تھا آخر وہ ایک نازک جان تھی اور میمو پھدی کے ہاتھوں مجبور بچی. زویا تھوڑا آگے کی طرف ڈھے گئی اور بولی کمینی جان نکالے گی؟؟ میمو کچھ نہ بولی بلکے دوبارہ اپنی زبان پھدی کے اندر یس طرح دی کے زبان اندر گاتی اور ہونٹ پھدی کے ھونٹوں سے مل گئے لیکن بجایے زبان باہر نکلنے کے میمو نے زبان اندر ہی رکھی اور اسے اور آگے دینے کی تگ دو میں لگ گی. زویا نے بھی یہی حال آمنہ کے ساتھ کیا اور آمنہ مزے میں گھوم گی اور بولی قسم سے ایسا مزہ آج تک نہیں آزمایا یار مزہ آ گیا ہے کیوں کے آمنہ کی پھدی ویسے ہی ٹائٹ تھی اور زویا نے جب زبان اندر دینے کی کوشش کی تو اندر گئی نہیں بلکے کھردری ہونے کی وجہ سے آمنہ کو بوہت زیادہ مزہ آ رہا تھا اور اسی نشے کو جاری رکھنے کے لیے آمنہ نے اپنی دھاوا میمو کی رسیلی پھدی پی کر دیا اور پہلے اسکے ہونٹ چوسے اور پھر بجایے زبان اندر دینے کی اسنے میمو کا دانا اپنے دانتوں میں جکڑ کے اپنی زبان دانے پے پھیرنا شروع کر دی مریم کی سانسیں تیز ہونے لگ پڑی اور بولی پلز یار ایسا ہی کرتے رہو بوہت مزہ آ رہا ہے پھر تینو ایک دوسرے کی پھدی چوستی رہی کے میمو بوہت گرم تھی قدرتی طور پے تو اسکا پانی نکلنا شروع ہو گیا اور سیدھا آمنہ کے ھونٹوں پی لگ گیا اسی وجہ سے آمنا نے اپنا مو پیچھے ہٹایا اور زویا کو دکھایا کیوں کے اسکے سارے ہونٹ منی سے تر تھے سفید سفید نمکین مادے سے. زویا آہنسنے لگ پڑی اور بولی ہاہاہا بوہت مست لگ رہی ہو اور اس سے پہلے کے آمنہ وہ منی صاف کرتی زویا انے آمنہ کے ھونٹوں پے اپنی زبان پھیرتے ہوۓ ساری منی اپنے ھونٹوں پے لگا لی اور پھر اسی ھونٹوں سے آمنہ کو فرنچ کس کر دیا آمنہ کے لیے یہ نیا تجربہ تھا کسی لڑکی کے ہونٹ اپنے مو میں لینے کا. نازک سے ہونٹ اور اوپر سے نمکین منی مزے کو دوبالا کر رہے تھے. میمو کہاں پیچھے ہٹنے والی تھی وہ بھی میدان میں آ گیی اور پھر باری باری سب ایک دوسرے کے ہونٹ چوسنے لگ پڑے. ایک عجیب سا ماحول بن گیا تھا جس میں کچھ غلط محسوس نہیں ہو رہا تھا اور نہ ہی شرم کو کوئی سین تھا یہاں بس ایک ہی چیز تھی اور وہ تھی سیکس کی بھوک جو سب سے بڑھ کے تھی. یہ ایک اندیکھی آگ تھی جس میں ان سب کے جسم جل رہے تھے بہک رہے تھے. انھیں نہ ماضی کی فکر تھی نہ حال کی اور نہ آنے والے کل کی بس وہ اسی مزے میں ہی مدہوش تھے اور پورا فائدہ اٹھا رہے تھے یس موقع کا جسی بعد میں کبی نہ ملنا ہو. جب سب تھک گئے تو زویا بولی کے یار مزہ آ گیا میمو تیرا بوہت شکریہ. لیکن یہ سب میمو کو ہی پتا تھا کے سب سے زیادہ اسی کو مزہ آیا تھا کیوں کے اب اسے تنہا اپنی چوت کو سہلانا نہیں پڑنا تھا ابلکے اسنے کامیابی سے اپنی دو بہترین دوستیں اپنی جیسی ہی بنا لی تھی. اب اوہ اکیلی نہیں تھی بلکے تین تھی اور یہی چیز اسے خوش کر رہی تھی. پھر سب نے کپڑے پہن لیے اور باہر آ گی تھوڑی دیر بعد انکا بھائی بھی آ گیا اور بریانی بھی لے کے آ گیا پھر سب نے بریانی کھائی اور کچھ دیر گپیں لگاتی رہی اور پھر سونے کی تیاری کرنے لگ پڑی اور روم میں دوبارہ واپس آ گی. مریم نے کہا کے یار ایسا کرتے ہیں کے ہم بنا کپڑوں کی ہی سوتے ہیں ے طرح زیادہ مزہ آے گا کیا خیال ہے؟ ایسا ہو سکتا تھا بھلا کے میمو کوئی بات کہے اور وہ دونوں اس پے عمل نہ کریں؟ مریم کی شخصیت ہی ایسی تھی کے اگلا بندہ مرعوب ہو جاتا تھا اور یہی حال آمنہ اور زویا کا تھا . میمو جو بھی انھیں کہتی وہ فورن ماں لیتی تھی جسی میمو کوئی پیر ہو اور وہ اسکی چیلیاں. پھر سب کمبل کے نیچے گھس گئیں اور بلکل ننگی تھی. کیوں کے جوانی ابھی عروج پے تھی تو سب کے جسم آگ کی طرح جل رہے تھے. میمو بولی کے یار ایک آئیڈیا ہے کیوں نہ ہم اس طرح سو جایں کے ہمارا رخ ایک دوسرے کے الٹ ہو مطلب میری ٹانگوں کی جگہ آمنہ کا سر ہو اور میرے موں کے سامنے آمنہ کی ٹانگیں ہوں؟؟ زویا رازی ہو گئی اور بولی کے تھوڑی دیر بعد ہم پوزیشن تبدیل کرلیا کریں گے. پھر میمو نے اپنا من آمنہ کی چوت کے بلکل سامنے کر لی اور یہی کچھ آمنہ نے بھی کیا پہلے تو میمو نے اپنی زبان باہر نکالی ار اوپر سے لے کے نیچے تک آمنہ کے پھدی پہ پھیری اور پھر آمنہ کا دانا دانتوں میں جکڑ کے اس پی ہلکی سی دندی کاٹی تو آمنہ کی سسکاری نکل گی. پھر میمو نے اپنی دونوں انگلیوں سے آمنہ کی چوت کے ہونٹ سائیڈ پے کے اور زبان سخت کر کے چوت کے اندر باہر کرنا شروع کر دی اور تیزی سے زبان آگے پیچھے کرتی رہی اور ایک انگلی سے آمنہ کا دانا مسلتی رہی. آمنہ کا جسم ہچکولے کھا رہا تھا مزے کی شدّت سے اور وہ کنٹرول سے باہر ہو رہی تھی. آمنہ بھی لپک لپک کے میمو کے چوت چاٹی جا رہی تھی لیکن جو انداز مموکا تھا وہ اور کسی کے بس کی بات نہیں تھی. میمو نے کام جاری رکھا اور سپیڈ تیز کر دی آمنہ کی پھدی ہلکا ہلکا پانی چھوڑے جا رہی تھی اور میمو اسکو بھی کھائی جا رہی تھی پھر ایک وقت آیا کے آمنہ چھوٹنے کے قریب تھی اور اسی وجہ سے وہ اپنی پھدی میمو کے مو سے پیچھے ہٹا رہا تھی لیکن میمو شاید بھانپ گی تھی اسی لیے اس نے آمنہ کو اپنے دونوں بازووں سے یس ترہ جکڑ لیا کے آمنہ ہل نہیں سکتی تھی اینڈ میمو کی گرم سانسیں آمنہ کو اپنی پھدی میں جاتی صاف محسوس ہو رہے تھی. آمنہ تڑپ رہی تھی ایک مچھلی کی طرح لیکن میمو نہ رکی اور آنن فانن آمنہ کا جسم اکڑا اور بھال بھال لے اسکی پھدی سے کریم کی طرح کا مادہ نکل آیا جو کے میمو کے سارے موں پے پھیل گیا. آمنا بیڈ پی جھٹکے کھا رہی تھی اور گلے سے گھون گھون کی آوازیں نکال رہی تھی جسی پتا نہیں جن نے قابو کر لیا ہو. زویا یہ حالت دیکھ کے ششدر رہ گی اور بولی میمو تو تو کوئی جادوگر ہے یار. آمنہ کا حال دیکھ کیا کر دیا تو نے . کیسے تڑپ رہی ہے. آمنہ کچھ دیر بعد نارمل ہوئی اور بولی کے یار میمو واقعی عجیب سا مزہ تھا ایسا لگ رہا تھا کے جیسے میری روح پھدی کے راستے نکل جائے گی. مریم ہنسنے لگ پڑی بولی کے یہ تو ابھی شروعات ہے یارو آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا. یوں ہی کچھ مہینے گزارتے رہے اور لڑکیاں اپنی دھن میں سوار مزے کے گھوڑے پی بیٹھ کے سرپٹ بھاگ رہی تھیں. پھر اسی دوران نواز صاحب وزیراعظم بن گئے اور سیکورٹی کی وجہ سے مریم پے بھی پہرا سخت ہو گیا. نواز صاحب کے ایک سیکورٹی انچارج تھے صفدر اعوان صاحب جو کے پاک آرمی میں کیپٹن کی خدمات سر انجام دے رہے تھے انکو مریم کی سیکورٹی کا کام دے دیا گیا. اب جہاں بھی مریم جاتی صفدر اسکے ساتھ ہوتا تھا بلکے کبھی کبھی تو صفدر کی اجازت کے بغیر تو مریم گھر سے بھی باہر نہ نکل پاتی تھی. میمو کو اس بات کا بوہت دکھ تھا کیوں کے صفدر خاصا اکڑا ہوا آدمی تھا اور اسکا گھمبھیر لہجہ اگلے بندے کو اپنے زیر کر لیتا تھا. مریم نے ایک دو دفا بابا سے بھی شکایت کی لیکن انہوں نے اسے ڈانٹ دیا اور کہا کے یہ اسکی حفاظت کے لیے ضروری ہے. پھر اسکول میں ایک دن میمو کو پتا چلا کے زویا کا ایک بواےفرینڈ بن گیا ہے جو کے زویا کو چود بھی چکا ہے. میمو اور آمنہ کو بڑا اشتیاق تھا یہ چدائی کے بڑے میں جاننے کا. میمو بولی کے یار تم دونوں آج رات میرے گھر آ جاؤ نہ اور وہاں ہی رات کو رہ لینا مزہ بھی اے گا اور داستان بھی سنا دینا. وہ دونوں رازی ہو گی اور رات کو مریم کے گھر آ گیی رات جب ساری میمو کے کمرے میں اکھٹی ہوئی تو میمو بولی اچھا بتا نہ کیا ہوا؟؟ زویا بولی کے یار مرے بابا کے دوست کا بیٹا ہے وہ حامد نام ہے اسکا اور اکثر انکے گھر آتا جاتا رہتا ہے. کافی اچھا دوستی تھی ان دونوں میں لیکن ایک دن وہ گھر آیا آئیکپرتی کے سلسلے میں تو زویا کو کہا کے وہ اسے پسند کرتا ہے ایک دوست کی حیثیت سے بڑھ کے اور اس سے ہی شادی کرنا چاہتا ہے. زویا بولی کے یہ سن کے وہ شرما گیی اور بولی کے مجھے نہیں پتا اس سب کے بارے میں. پھر اسی ترہ کچھ مہینے ملاقاتیں چلتی رہی تو ایک دن گھر پی کوئی نہیں تھا تو میںنے اسے گھر بلا لیا تا کے رات بھر باتیں کریں. پھر حامد گھر آہ گیا اور کچھ دیر باتیں کرتے رہے کے اچانک حامد ننے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور اسکو چوم لیا اور کہا کے ایسا حسین ہاتھ کبھی نہیں دیکھا.

Posted on: 03:48:AM 14-Dec-2020


1 0 201 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com