Stories


چچیری بہن بنی بستر کی ملکہ از رابعہ رابعہ 338

یہ کہانی ہے میری اور میری چچیری بہن کی جس کا نام رینا ہے. ہم لوگ بچپن سے ساتھ ساتھ رہے. وہ مجھ سے سات سال چھوٹی ہے پر ہم لوگوں کی خوب بنتی تھی. بعد میں اپنی تعلیم اور پھر جاب کی وجہ سے وہ شہر چھوڑ کے دوسری جگہ آ گیا جب بھی آپ کے گھر جاتا میں اور رینا بہت باتیں کرتے. بات تب کی ہے جب رینا جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہی تھی. جیسا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ میں کتنا بڑا چودو ہوں تو میری نظر سے رینا کے جسم میں ہونے والے تبدیلی میری نظر سے کس طرح بچتے. مجھے پتہ چل رہا تھا کہ کب اس چپٹی سینے میں سے تیکھے ابھار نکلنے لگے تھے، اس کے چوتڑ ابھر رہے تھے. اور ویسے بھی چونکہ میں باہر رہتا تھا تو اس کے جسم میں ہونے والے تبدیلی مجھ اور آسانی سے پتہ چل رہے تھے. اس کے جسم سے ایک مختلف خوشبو آنے لگی تھی جو اس کی جوانی کو اور منشیات بنا رہی تھی. جب بھی وہ میرے پاس آتی تھی تو اس کے جسم کی خوشبو مجھ پاگل کر دیتی تھيهمےشا کی طرح ہم لوگ پاس بیٹھ کر بہت باتیں کرتے تھے. وہ میرے بہت قریب چپک کر بیٹھ جاتی تھی، وہ اپنی باتوں میں مست رہتی تھی اور میں اس کے جسم کی خوشبو کے مزے لیتا رہتا تھا. باتیں کرتے وقت وہ کئی بار میرے گلے لگ جاتی تھی اور اس وقت اس کے ممے میرے بدن سے چپک جاتے تھے جو مجھ مست کر دیتے تھے اب بس انتظار تھا تو صرف اس میرے بستر پر آنے کا. جب سے میں نے اس کو جوانی کی دہلیز میں دیکھا تھا صرف ایک ہی بات میرے دماغ میں رہتی تھی کہ وہ کب میرے بستر میں نںگی ہوکر لےٹےگي، کب میرے لںڈ کو اس کی چوت کے غار میں گھسنے کا موقع ملے گا. خواب میں کئی بار میں اس مممو کو مسل کر اس کی چوت مر گیا تھا اب انتظار صرف اس حقیقت میں بستر پر لیٹنے کا تھا. ایک دن میرے چچا-چاچی اور رینا ہمارے گھر آئے. سب باتوں میں مست تھے اور میں اور رینا ہر بار کی طرح اپنی باتوں میں مست تھے. وہ میرے ساتھ بچوں کی طرح مستی کر رہی تھی. وہ میرے گدگدی کرنے لگی جواب میں میں نے بھی جب گدگدی کی تو وہ فرار لگی. میں نے اس کو پکڑ کے اپنی طرف کھینچ لیا، وہ تیار نہیں تھی اور جھٹکے سے میری گود میں آ گری. میں پلنگ پر پجاما پہن بیٹھا تھا اور اتنی دیر کی مستی میں میرا لںڈ کھڑا ہوا تھا اور وہ اچانک لگے اس جھٹکے سے میری گود میں میرے لںڈ پر آکر گر گئی. میرا لںڈ اسکے چوتڑوں کی درار میں پھنس سا گیا تھوڑی دیر وہ ایسے ہی رہی اور جب اس کو یاد آیا تو وہ اٹھنے لگی میرے ہاتھ اس کی کمر سے ہوتے ہوئے اس کے پیٹ پہ تھے سو وہ اٹھ نہیں پائی. اس اٹھنے اور میرے پکڑے رہنے کی ان کوششوں میں میرا لںڈ اسکی گاںڈ میں گھس رہا تھا اور اس وجہ سے میرا لںڈ اور کھڑا ہو کے موٹا ہو گیا تھا جو اسکی گاںڈ کی درار میں لگا ہوا تھا. میں نے اس کے پیٹ پر تھوڑا اور زور لگایا تو میرا لںڈ اسکی شگاف میں بالکل فٹ ہو گیا. میں نے بیٹھ آپ چوتڑ ہلا کر لںڈ آگے پیچھے کرنے لگا. وہ تھوڑی تھوڑی کوشش کر رہی تھی اٹھنے کی پر میں نے اس کو اٹھنے نہیں دیا. تھوڑی دیر میں اس نے اپنی کوشش چھوڑ دی میں نے اپنی کمر ہلانا شروع کر دیا. میں سمجھ گیا کہ رینا بھی میرے لںڈ پر اپنی گاںڈ گھس رہی ہے. وہاں سب لوگ تھے تو میں وہ نہیں کر پا رہا تھا جو چاہتا تھا، میں نے رینا کے کان میں اوپر بنے کمرے میں آنے کو کہا اور یہ کہہ کر میں اسے چھوڑ کے چلا گياتھوڑي دیر میں رینا بھی وہاں آ گئی. میرا اوپر والے کمرے میں کسی کے آنے یا دیکھنے کا ڈر نہیں تھا. رینا تھوڑی شرماتے ہوئے کمرے میں گھسی. اس نے پجاما اور سب سے اوپر پہنا ہوا تھا. میں نے جلدی سے اس کو پکڑ لیا اور اپنے ساتھ پلنگ پر لے گیا. میں پلنگ پر بیٹھ گیا اور اپنا لںڈ پجامے کے اندر براہ راست کر کے رکھ لیا اور رینا کو اپنے لںڈ پے بیٹھا دیا. میرا لںڈ دوبارہ سے اسکی گاںڈ کی درار میں گھس گیا. میں اپنے چوتڑ ہلا کر لنڈ آگے پیچھے کرنے لگا اور اس کی کمر کو پکڑ کر بھی ہلانے لگا. وہ اب بھی شرما رہی تھی. میں نے اس کے کندھوں پر کس کیا تبھی اچانک وو بولی- بھئیا، یہ غلط ہے نا میں نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور کہا غلط تو تب گے نہ جب کسی کو پتہ چلے گا اور نہ تو میں نہ ہی تو کسی کو یہ سب بتائیں گے اور ہم لوگ صرف مزے ہی تو کر رہے ہیں. تو فکر مت کر کچھ نہیں ہوگا، صرف اس ملنے والے مزے پہ دھیان دے! اب میں اپنا لںڈ اسکی شگاف میں زور زور سے رگڑ رہا تھا اور وہ بھی کمر ہلا ہلا کے میرا ساتھ دے رہی تھی. میرے لںڈ محرک کی طرف سے پھول کر موٹا ہو گیا تھا. تھوڑی دیر میں میں نے اس کو پوچھا اور مزہ لینا ہے؟ تو وہ کچھ بولی نہیں میں نے کہا ڈال، اپنے بھائی سے کیا شرمانا، بتا کچھ اور مزہ ہو؟ تو وو بولی- کوئی آ جائے گا. میں نے کہا تو فکر مت کر، ایسا کچھ نہیں کروں گا جس سے کوئی کچھ پکڑ سکے. اس نے ہاں میں سر ہلا دیا تو میں نے اس کو اٹھایا اور اپنا پجاما گھٹنوں تک اتار دیا پھر اس کا پجاما بھی گھٹنوں تک اتار دیا. اس نے شرم سے اپنی آنکھیں بند کر لی. اس نے سیاہ رنگ کی پیںٹی پہنی ہوئی تھی جو اتنی دیر میرے لںڈ گھسنے کی وجہ سے اسکی گاںڈ میں گھس گئی تھی. اس گول گورے چوتڑ میری آنکھوں کے سامنے تھے میں نے اپنے ہاتھوں سے اس کے چوتڑوں کو سہلایا، وہ ایک دم سے کانپ گئی. شاید پہلی بار اس نے کسی آدمی کا ہاتھ آپ اس جگہ محسوس کیا تھا. میں نے چوتڑوں کو سہلا کر ایک بار دبا دیا اور اس کی کمر سے ھیںچ کے پھر سے اپنے لںڈ پر بیٹھا دیا. اب کی بار وہ بھی اپنی کمر ہلا رہی تھی. میں نے اپنے ہاتھ اس کی ننگی رانوں پر رکھ دئے اور اس جاگھے سہلانے لگا. بالکل ہموار جاگھے تھی اس مکھن جیسی. میرے ہاتھ اسکی جاںگھوں پر چل رہے تھے اور آہستہ آہستہ میرے ہاتھ اسکی پیںٹی کے کناروں سے ہوتے ہوئے اس کی دونوں رانوں کے اندر والے حصہ جہاں پیںٹی کے کنارے ہوتے ہیں، وہاں چلنے لگے پر میں نے ابھی تک اس کی چوت کو نہیں چھوا تھا کیونکہ میں نے جلدی کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا. وہ آنکھیں بند کئے ہوئے اپنی کمر ہلانے میں مست تھی. تھوڑی دیر بعد میں نے صرف ایک بار اس کی چوت کے اوپر ہاتھ پھیرا جس سے وہ آنکھیں کھول کر ایک دم سے کھڑی ہو گئی. اس کی آنکھوں میں اپنے جننانگوں چھونے کی شرم دکھ رہی تھی. میں نے اب اور آگے بڑھنے کی سوچی اور اپنی چڈی اتار دی وہ میری طرف پیٹھ کر کے کھڑی تھی. میں نے ایک دم سے اس کی پیںٹی کو پکڑ لیا اور گھٹنوں تک کھینچ دی. اس ننگی گاںڈ میری آنکھوں کے سامنے تھی. وہ ایک دم ہوئی اس حرکت کے لئے تیار نہیں تھی. اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی گاںڈ چھپانے کی کوشش کی تو میں نے اس کے ہاتھ ہٹا دیے اور اس بار پھر آپ اور نکالا. میں نے ایک ہاتھ سے اپنے لںڈ کو مقرر کیا اور دوسرے سے اس کو پھر سے اپنی گود میں تنقید لیا. پہلی بار میرے لںڈ کے رابطے اس ننگی گانڈ سے ہوا تھا. ایک عجیب سا احساس تھا وہ. میں نے اپنے ہاتھوں سے اس کے چوتڑوں کو چوڑا کیا اور لنڈ کو مقرر کیا. میں نے اس کی چوت کی طرف ہاتھ بڑھائے اور اس ننگی چوت پر ہاتھ پھیرا. وہ سی سی کر رہی تھی میں نے اس کی چوت کے دونوں ہونٹوں کو سہلایا. اب میرے ہاتھ اسکی جاںگھوں اؤر چوت کو پوری تیزی سے سہلا رہے تھے. گاںڈ میں میرا لںڈ گھس رہا تھا. تھوڑی دیر میں میں نے اپنے ہاتھ اس کے مممو کی طرف بڑھا دیئے. میں نے اوپر کے اوپر سے اسکے ممے پکڑ لئے اور مسل دیا. اب میں اس کے مموں کو دبا رہا تھا اور میرے ہونٹ اس کے کندھوں پہ، پیٹھ پہ کس کر رہے تھے. اب میں نے اس کا منہ اپنی اور اور اس کے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دیے. میں اس کے ہونٹوں کو چوسنے لگا، کبھی اوپر والے ہونٹ کو چوستا تو کبھی نیچے والے کو وہ میرا ساتھ دینے کی کوشش کر رہی تھی پر اب اس کو اتنا اچھے سے آتا نہیں تھا. وقت دیکھتے ہوئے میں نے زیادہ آگے نہ بڑھنے کا غور کیا اور اس کو پجاما اور اپنے کپڑے درست کرنے کو کہا. وہ اٹھی اور اپنا پجاما چڑھانے لگی. میں نے اس کو روکا اور اس کے چوتڑوں پر چوم لیا اور پجاما اوپر کر دیا اور اپنے کپڑے بھی درست کر لئے. میں نے اس سے پوچھا کیسا لگا؟ تو وہ مسکرانے لگی. میں نے ایک بار اور اس کو کس کیا اور ہم نیچے آ گئے دن کے انتظار کے بعد ہی ایک دن ہم لوگ چچا کے گھر گئے. میں نے رینا کو ایک طرف لے جا کر سب کچھ سمجھا دیا اور سب لوگو کے ساتھ آکر بیٹھ گیا. تھوڑی دیر میں رینا آئی اور چاچی کو کہا کہ اس کو کسی کام سے باہر جانا ہے. میں نے کہا میں بھی چلتا ہوں، یہاں بور ہو جاؤں گا. تم جہاں جانا ہے، وہاں چھوڑ کر میں نے اپنے دوستوں سے ملنے نکل جاؤں گا. واپسی میں تجھ لیتا آؤں گا. میری یہ بات سب کو صحیح لگی. رینا نے کہا میں تیار ہوکر آتی ہوں تھوڑی دیر میں رینا لمبا سکرٹ اور سب سے اوپر پہن کے آ گئی. میں نے اپنی موٹر سائیکل اٹھائی اور رینا کو پیچھے بیٹھا اپنے منصوبے کے مطابق اپنے گھر آ گیا. گھر کے اہم پہلے ہی میں نے اپنے پاس رکھی تھی تاکہ کوئی بھی میرے واپس آنے تک گھر آنے کی سوچ بھی نہ سکے. میں نے گھر کا تالا کھولا اور اندر آ گیا، میرے پیچھے پیچھے رینا بھی اندر آ گئی. میں نے دروازہ بند کر دیا. رینا گھر کے اندر جا رہی تھی، میں نے پیچھے سے رینا کو اپنی باہوں میں بھر لیا اور اس کے گلے پر چومنے لگا. وہ بھی آنکھیں بند کر کے مزے لے رہی تھی. میں اس کے پیٹ پر ہاتھ سے سہلا رہا تھا، اس کے گالوں اور گردن کو چوم رہا تھا. میرا لںڈ جو اب تک محرک سے کھڑا ہو چکا تھا، اس کے کولہوں قی شگاف میں گھس رہا تھا. تھوڑی دیر میں وو بولی- بھئیا، اندر چلتے ہیں، یہاں مجھے شرم آ رہی ہے میں نے رینا کو اپنی گود میں اٹھا لیا. چونکہ اس نے سکرٹ پہنی تھی تو اس کو اٹھاتے وقت میرا ہاتھ اس کے سکرٹ کے اندر چلا گیا اور اس کی ننگی ٹانگیں میرے ہاتھ میں آ گئی. اس وہ اور شرمانے لگی اور اس نے آنکھیں بند کر لی. میں اسے اپنے کمرے میں لے آیا اور بستر میں بیٹھا دیا اور خود نیچے اس کے گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا. اس کی آنکھوں میں شرم صاف صاف دکھائی دے رہی تھی شرم کے ساتھ ہوس بھی اپنا اثر دکھا رہی تھی. میں نے اس سے پوچھا شروع سے سب کچھ کریں یا جہاں چھوڑا تھا، وہاں سے آگے؟ تو وہ کچھ نہیں بولی میں نے سوچا کہ یہ اب نئی ہے اس کھیل میں اور ابھی تک اس نے کچھ کیا بھی نہیں ہے تو اس کو پہلے اتیجیت کریں گے. بالکل سے اس کو درد بھی زیادہ ہوگا اور کام خراب ہونے کا ڈر بھی رہے گا. سو میں نے اس کو اٹھا کر اپنی گود میں بیٹھا لیا جیسا ہمارے ساتھ پہلی بار ہوا تھا. وہ میرے لںڈ پر بیٹھ گئی اور میں اس کی کمر پکڑ کر آگے پیچھے کرنے لگا. آج چونکہ گھر میں کوئی نہیں تھا سو ہم کو کوئی خوف بھی نہیں تھا. وہ بھی ان کے دبر آگے پیچھے کرکے میرا ساتھ دینے لگی. آج میرے ہاتھ اس کے پورے جسم کو سہلا رہے تھے اور بار بار اس مموں پر آکر رک جاتے تھے. اب چونکہ وہ اپنی کمر ہلا کر میرا ساتھ دے رہی تھی تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے مموں پر رکھ دئے اور ان آہستہ آہستہ سہلانے لگا. میں اس مموں کو کبھی پالے، دباتا اور کبھی اس کی نئی نئی چوچیوں کو مسل دیتا. جب بھی میں نے ایسا کرتا وہ سسک جاتی. میرے ہونٹ اس کے گلے اور رخساروں پربرابر گھوم رہے تھے میں نے اپنے ہاتھوں سے اس کا منہ اپنی طرف کیا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے. بالکل پتلی، گلاب قی پنکھڑیوں سے سرخ رسیلے ہوںٹھ تھے اسکے. میں نے اس کے ہونٹ اپنے منہ میں لے کر اس کو چوسنا شروع کر دیا. پھر میں نے کبھی اس کے اوپر کا ہونٹ چوستا، کبھی نیچے والا. وہ بھی میرا ساتھ دے رہی تھی. اب تو ہم لوگو قی زبان ایک دوسرے کے منہ میں سیر کر رہی تھی. میں نے اپنے ہاتھ اس کو گھٹنوں پر رکھ دئے اور اس سکرٹ کرنا شروع کر دی. جلد ہی اس کے سکرٹ اس کے گھٹنے تک آ گئی تھی. میں نے اس کے سکرٹ کے اندر ہاتھ ڈالا اور اس کی رانوں کو سہلانے لگا. میرا ہاتھ اسکی دونوں رانوں کے درمیان والے حصے کو چھو رہا تھا جس کو ہم عام زبان میں چوت کہتے ہیں. اب میں نے اسکو کھڑا کیا اور اپنی پتلون نکال دی اور پیچھے سے اس کا سکرٹ مکمل اوپر کرکے اس کو اپنے اوپر بٹھا لیا. میرا لںڈ اسکی پیںٹی کے اوپر سے اسکی گاںڈ پر مقرر ہو کے آگے پیچھے ہو رہا تھا. تھوڑی دیر تک ایسا کرنے کے بعد جب میرے ہاتھوں نے اس کی چوت کو چھو لیا تو اس جاںگھیا کے درمیان والی جگہ گیلی ہو چکی تھی. اپنے تجربے سے میں اتنا سمجھ گیا کہ اب لڑکی میرے نیچے آنے کو تیار ہے میں نے رینا کو اٹھا کر بستر پر لیٹا دیا اور خود اس کے اوپر چڑھ گیا. میرے جسم کا سارا بوجھ اس کے اوپر تھا جس کی وجہ سے ہمارے درمیان جگہ کم ہو گئی تھی اور اس کے ابھار میرے جسم میں گھس رہے تھے. نئے نئے ابھرے ہوئے ممے میرے سینے میں گڑ رہے تھے جو مجھ اور حوصلہ افزائی کر رہے تھے. میرا لنڈ پہلی بار اس کی چوت کے منہ پر چھو رہا تھا. میں نے اس کو اپنی باہوں میں بھر لیا اور اس کے ہونٹوں کا رس پینے لگا. اس کے ہاتھ میری پیٹھ پر منجمد تھے اور مجھ آپ سے اور چسپاں کی اس کی کوشش مجھ صاف پتہ چل رہی تھی. ہم لوگ ایسے چپک رہے تھے گویا دونوں اپنے درمیان میں ہوا تک نہیں آنے دینا چاہتے ہو میرے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے لگے تھے اور میرے ہاتھ اس ٹانگوں سے لے کر اس کے سینے تک پورے جسم پر گھوم رہے تھے اور اس کے ابھاروں اور گہرائیوں کو ٹٹول رہے تھے. اس سکرٹ کافی ہو چکا تھا اور میرے ہاتھ اس کی ننگی جاںگھوں کو چھو رہے تھے جو کسی مکھن جیسی تھی. میں نے اس کو کروٹ لے کر لٹا دیا اور اس کے پیچھے آکر اس سے اوپر میں ہاتھ ڈال دیے. میرے ہاتھ اس کے ننگے پیٹ کو سہلاتے ہوئے اس مموں تک چلے گئے جو برا قی قید میں تھے. میں نے برا کے اوپر سے اس کے مموں کو دبانا شروع کر دیا. سہلانے کا وقت اب جا چکا تھا اور اب وقت تھا جنگلی جنسی کرنے کا میں اس مموں کو مسلنے لگا اور وہ آنکھیں بند کرکے اس کے مزے لے رہی تھی. میں نے بغیر وقت گنوائے اس سے اوپر اوپر کر کے اتار دیا اور اپنی ٹی شرٹ بھی الگ کر کے اس کے پیچھے سے چپک گیا. میں اس ننگی پیٹھ پر کس کرنے لگا اور ہاتھوں سے اس کے پیٹ، ناف، مموں کو سہلانے اور دبانے لگا. میں نے اس کی برا کا سٹرےپ اس کے کندھوں سے نیچے کر دیا اور اس جگہ کس کیا. اب اس براہ راست ہونے کا وقت تھا. میں نے جب اس کو براہ راست کیا تو اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے مموں کو چھپانے قی کوشش قی. اس کی برا کے سٹرےپ اس کہنی تک گر چکے تھے اور ممے نصف چاند قی ترہ برا کے باہر جھانک رہے تھے دوستو، آپ لوگوں نے محسوس کیا ہو تو لڈكو کو لڑکی کے وہ اعضاء جو پورے کھلے ہوں، اتنے حوصلہ افزائی نہیں کرتے جتنے کہ وہ حصہ کرتے ہیں جو نظر کر بھی نہیں دیکھ پا رہے ہوں. وہی حالت میری تھی. اس نصف ممے میرے سامنے تھے، پورے نظر نہیں آرہے تھے. میں نے اس کے آدھے مموں کو چومنا شروع کیا اور اس کی برا کو اس کے جسم سے الگ کرنا شروع کیا. تھوڑی دیر میں ہی اس کا برا اس کے جسم سے الگ ہو کر میرے ہاتھ میں جھول رہی تھی. برا مختلف ہوتے ہی اس نصف خام عام جیسے ممے میرے سامنے تھے جن پر چھوٹی چھوٹی بھوری سے رنگ قی نپل تھے. میں نے اپنی جیبھ نکالی اور اس کے نپل پر لگا کر ان چاٹنے لگا تھوڑی دیر میں ہی اسکے ممے کو اپنے منہ میں تھے، میں ان کو مکمل اپنے منہ میں لینا چاہتا تھا پر ہو نہیں پا رہا تھا. میرے ہاتھ اس کے سکرٹ کے اندر گھس چکے تھے اور اس کے چوتڑ سہلا رہے تھے. میں نے کافی دیر تک اس مموں کا رس پیا پھر اپنی زبان سے اس کے پورے ننگی جسم کو چاٹ چاٹ کر گیلا کر دیا. باقی کام میرے ہاتھ نے اس سکرٹ میں کر دیا تھا. وہ صرف آنکھیں بند کر کے سب کا مزہ لے رہی تھی. اگرچہ مجھے یہ سب اچھا لگ رہا تھا کیونکہ جس لڑکی کو میں نے اپنے بستر میں لانے قی سوچ رہا تھا وہ آج میرے بستر قی رانی بن کے پوری نںگی ہونے کو تیار تھی میں نے اپنی پتلون اتار دی اور اس ننگی ٹانگوں چاٹنے لگا. چاٹتے چاٹتے میں اس کے سکرٹ پوری اوپر کر چکا تھا اور میرا منہ اس کی چوت کے بالکل قریب تھا جہاں سے میں اس کی چوت قی خوشبو لے رہا تھا. سیاہ رنگ ویسے بھی مجھے اتیجیت کرتا ہے اور اس نے سیاہ قی پیںٹی پہن رکھی تھی میں نے اس کے سکرٹ ایک جھٹکے میں اتار کر پھینک دی. ایک نوجوان خوبصورت لڑکی میرے بستر پر صرف پیںٹی میں تھی. بالکل سنہرے بالوں والی رنگ، بغیر بالوں کا نمکین سا جسم. سہا نہیں گیا مجھ سے اور میں نے اپنا منہ اس کی چوت پہ رکھ دیا. روٹی کی طرح اس کی چوت پیںٹی کے اندر تھی جو میں کھانے قی پوری کوشش کر رہا تھا. اب میرا لنڈ یہ سب برداشت نہیں کر پا رہا تھا، میں نے اپنی انگلی اس پیںٹی کے اندر ڈال کر اسکی چوت کو محسوس کرنے لگا. اس کی چوت قی پھاکوں پر میری انگلی چل رہی تھی قی آوازیں اب شہوانی، شہوت انگیز سسكاريو میں بدل گئی تھی. میں نے اب بغیر انتظار شدہ اسکی پیںٹی اس کے جسم سے الگ کر دی. اسکی چوت پر ہلکے ہلکے بال تھے جو صاف بتا رہے تھے کہ اس نے ہم لوگوں کے پہلے والے ملن کے بعد ہی ان کو صاف کیا تھا. میں نے اب اس کی ننگی چوت کو اپنے منہ میں لے لیا اور اس کے پاو کے مزے لینے لگا. میرا بس چلتا تو اس کی پوری چوت کھا جاتا پر اس کی چوت بہت پھولی ہوئی تھی. میں اس کی ایک ایک پھاکوں کو منہ میں لے کر چوسنے لگا . اب میں اس کی ٹانگوں کے درمیان میں آ گیا، وہ لیٹی ہوئی تھی سو میں نے اس کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھ لی اور اس کی چوت پر اپنا منہ لگا دیا. میرا زبان اس کی چوت قی پھاکوں کو الگ کر کے اس کے اندر گھسی جا رہی تھی. وہ سسکیاں لے رہی تھی اور اس کے ہاتھ میرے سر پر آ گئے تھے اور میرے سر کو اپنی چوت قی طرف دھکیل رہے تھے. میرے ہاتھ اس کے چوتڑوں پر تھے اور ان اٹھا اٹھا کے اپنے منہ اور اس کی چوت کے درمیان قی فاصلے کو کم کرنے قی کوشش کر رہے تھے. میری زبان اس کی چوت میں کافی اندر جا چکی تھی، پر کہتے ہیں نا جہاں انجکشن قی ضرورت ہوتی ہے وہاں تلوار کام نہیں کرتی. یہاں ضرورت میرے لںڈ قی تھی تو زبان کہاں وہ کام کر پاتی پھر بھی میری زبان کے اثر سے اس کا پانی نکلنا شروع ہو گیا تھا. اب میں کھڑا ہوا اور اپنی ٹائٹس نکل دی. میرا کھڑا ہوا لنڈ ہوا میں جھول رہا تھا. میںنے اپنا لںڈ رینا کے پورے ننگی جسم پر پھیرنا شروع کیا. میرا دل اپنا لںڈ اس کے منہ میں ڈالنے کا تھا سو میں نے اپنا لںڈ اسکے منہ اور ہونٹوں پہ لگانا شروع کیا. اب باری اس کے کام کرنے قی تھی میں پلگ پر ٹیک لے کر بیٹھ گیا اور وہ اب میری ٹانگوں کے درمیان آ گئی. میرا لںڈ موبائل ٹاور قی طرح کھڑا تھا. اس نے بغیر دیر ریٹویٹ میرے لںڈ پر زبان پھیرنا شروع کیا. وو میرے لںڈ کو جڑ سے لے کر ٹوپے تک چاٹ رہی تھی. اس نے اپنے ہاتھوں سے لںڈ کو پکڑ کر اس کی کھال اوپر نیچے کر کے میرا مٹھ مارنے لگی. اس کو یہ سب کس طرح آتا تھا، جب میں نے اس کو پوچھا تو اس نے بتایا کہ کیا نہیں تو کیا ہوا نیٹ پر دیکھا بہت ہے میں نے اس سے لںڈ منہ میں لینے کو کہا تو وہ انکار کرنے لگی. میں نے بھی زیادہ زور نہیں دیا پر میں تھوڑا سا اداس ہو گیا. یہ دیکھ کر وہ مسکرائی اور اپنا منہ کھول کر میرے ٹوپے کو اپنے منہ کے اندر لینا شروع کر دیا. اس کے منہ قی گرمی اور گیلاپن میری حالت خراب کر رہا تھا. اس کو قے سی آ رہی تھی اگر اس وقت میں اس کو روک دیتا تو وہ کبھی کاک چوستے نہیں سیکھ پاتی. وہ آہستہ آہستہ میرا پورا لںڈ اپنے مںہ میں لے گئی. میرا لںڈ اس کے گلے تک پہنچ گیا. اب وہ آرام سے میرے لںڈ کو منہ کے اندر باہر کرنے لگی تھی جیسے بچے لوليپپ کھاتے ہیں اسی طرح وہ میرا لںڈ چوس رہی تھی. پہلی بار میں ہی اس نے مجھ مست کر دیا تھا. سوچا نہیں تھا میں نے كك میرے لںڈ قی ایسے طرح بھی چساي ہوگی. دل تو کیا کہ اپنا سارا پانی اس کے منہ میں ہی نکال دوں پر میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ آگے کبھی لںڈ چوسنے کی سوچنا تک چھوڑ دے. جتنا اس نے کیا تھا اتنا ہی بہت تھا میرے لئے اب اپنے پہ اور قابو رکھ میرے بس میں نہیں رہ گیا تھا. میں نے اس کو بستر پر لیٹا دیا. میرے سپنوں کی رانی میرے سامنے میرے بستر پر ننگی لیٹی تھی. بالکل مست پھگر، سنہرے بالوں والی رنگ، پورے جسم پہ ایک بھی بال نہیں تھا اس، بالکل ہموار بدن، ٹمٹمانے جسم کی مالکن تھی میری بہن. میں نے بھی پورا نںگا تھا اور اسی حالت میں اس کے اوپر چڑھ گیا. آج میری امتحان بھی تھی. وہ آج پہلی بار اپنی چوت میں لنڈ لینے والی تھی اور مجھ سب کچھ ایسا کرنا تھا کہ اس کو زیادہ پریشانی نہ ہو اور درد نہ ہو مجھے پتہ تھا کہ اس کے لئے پہلے مجھ اس کی چوت کو پانی نکال کر چیکنا کرنا تھا سو میں اس اس کے سوا لیٹا اور اس کے جسم کو سہلانے لگا. میری ہاتھ جلد ہی اس کی چوت پر چلا گیا اور اس کو سہلانے لگا. میں اپنی انگلی اس کی چوت کی درار میں ڈال کے رگڑنے لگا. میں نے آہستہ آہستہ اپنی انگلی اس کی چوت میں ڈال دی اور آگے پیچھے کرنے لگا. وہ ہلکے ہلکے درد سے سسکاری لے رہی تھی. میں نے کوئی جلدی نہ دکھاتے ہوئے اس کی چوت میں انگلی کرنا جاری رکھا تھوڑی دیر کی محنت کے بعد میری انگلی اس کی چوت میں سماں گئی تھی. اس کی چوت نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا تھا. میرا کام اس کی چوت کو اتنا چوڑا کرنے کا تھا کہ جب میں اس میں اپنا لںڈ ڈالوں تو اس کو زیادہ درد نہ ہو. میں نے اس کی چوت میں اپنی ایک اور انگلی ڈال دی. اب میں اس کی چوت میں اپنی دو انگلی ڈال کے آگے پیچھے کر رہا تھا، بار بار اس دانے کو مسل رہا تھا، وہ محرک سے سسکاری لے رہی تھی. اس کی چوت نے پانی چوڑ دیا تھا اور وہ ایک دم سے نڈھال ہو گئی. پانی اس کی چوت سے بہہ کر باہر آ رہا تھا. اب موقع درست تھا، جھڑنے کی وجہ سے اس کی آنکھیں مستی میں بند تھی اب میں اس کے اوپر چڑھ گیا اور اس کی ٹانگوں کے درمیان میں آکر بیٹھ گیا. میں نے اس کی ٹانگیں ہوا میں اٹھا دی اور اپنے کندھوں پر رکھ لی. دوستوں ایسا کرنے سے لڑکی کی چوت تھوڑی کھل جاتی ہے. اب میں اپنا لںڈ اسکی چوت کے منہ پر رکھ کر رگڑنے لگا. میرا ٹوپا اسکی چوت کے منہ پر تھا اور پانی کی چکناہٹ سے پھسل رہا تھا میں نے اپنے ایک ہاتھ سے لںڈ کو پکڑا اور دوسرا ہاتھ اس کی کمر پہ رکھ دیا، لںڈ کو اس کی چوت کے سوراخ پے رکھا، میرا لںڈ ایکدم عصا کی طرح ٹائیٹ تھا. میں نے آہستہ آہستہ اپنا لںڈ اسکی چوت میں ڈالنا شروع کیا. میں نے سارا کام آہستہ آہستہ کرنا شروع کیا کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس کو تھوڑا درد تو ہوگا. آہستہ آہستہ میرا لںڈ اس کے ہموار چوت کی پھاںکوں میں گھسنے لگا تھا. جیسے ہی اس کو درد ہوتا تو میں اپنے لںڈ کو وہی روک لیتا اور تھوڑی دیر بعد پھر سے لںڈ اندر-باہر کرنے لگتا ابھی تک میرا آدھا لںڈ اسکی چوت میں گھس چکا تھا پر کام صرف کافی باقی تھا. میں نے اس کو ایک بار درد دینے کا فیصلہ کرکے اپنا پہلا زور کا جھٹکا مارنے کا فیصلہ کیا. جب تک میں زور سے اڑا نہیں دیتی میرا لںڈ اس کے اندر مکمل نہیں جاتا. سو میں نے اپنے لںڈ کو پورا باہر نکلا اور نشانہ لگاتے ہوئے پورے زور سے اس کی چوت میں گھسا دیا. میں نے اس کو میرے اس دھکے کے بارے میں بتایا نہیں تھا ورنہ وہ پہلے ہی ڈر جاتی اور اس سے زیادہ درد ہوتا میری اس حرکت سے اس کو درد ہوا اور وہ چلانے والی تھی پر میرا ہاتھ اس کے منہ پر چلا گیا اور اس کی آواز نہیں نکل پائی. میں نے لنڈ اندر ڈال کر اس کو وہیں چھوڑ دیا. اس کے آنسو نکل گئے تھے. میں نے اپنا ہاتھ ہٹایا تو وہ لںڈ باہر نکلنے کو کہنے لگی پر میں نے اس کی بات پہ قطع اس مموں کو دبانا جاری رکھا. تھوڑی دیر تک ایسا کرتے رہنے سے اس کا دھیان درد سے ہٹ کے میری حرکتوں کی طرف لگ گیا. جب مجھے لگا کہ اس کا درد کچھ کم ہوا ہے تو میں نے بہت آہستہ آہستہ اپنا لںڈ ہلانا شروع کیا تاکہ اس کی چوت میرا لںڈ کھانے کے قابل چوڑا ہو جائے تھوڑی دیر میں ہی میرا لںڈ اسکی چوت کے اندر باہر ہونے لگا تھا. اس کا درد بھی کافی کم ہو گیا تھا. اتنی ٹائیٹ چوت میں دم سے لںڈ ڈالنے سے میرے لںڈ میں بھی ہلکا سا درد ہو رہا تھا پر ملنے والا مزہ اس درد سے کافی زیادہ تھا. رینا مجھ کہنے لگی- جب میں نے لنڈ نکالنے کو بولا تو آپ نے سنا نہیں؟ تو میں نے کہا میری جان، اس وقت اگر لںڈ نکال لیتا تو تم دوبارہ لینے کی ہمت نہیں کر پاتی اور دوبارہ ڈالنے پر تم اتنا ہی درد برداشت کرنا پڑتا اور میں اپنی رینا کو اور درد کس طرح دیتا. یہ کہتے ہوئے میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دئے. میرا لںڈ اب اپنی پوری تیزی سے اس کی چوت کو پیل رہا تھا، میری گوٹيا اس کی چوت کے پین سے ٹکرا کر دونوں کو مست کر رہی تھی نے اس کی ٹانگیں سیدھی کر دی اور اس پر چڑھ گیا. اسکا نںگا جسم میری باہوں میں تھا اور وہ میری باہوں میں مچل رہی تھی جیسے پانی بن مچھلی! میرا ایک ہاتھ اس کی پیٹھ پر دوسرا اسکی گاںڈ میں. دوستو، امید ہے آپ اپنے تخیل کے سہارے وہ محسوس کر رہے ہو گے جیسا میں اس وقت محسوس کر رہا تھا میرا لںڈ اب پسٹن کی طرح اس کی چوت کے اندر باہر ہو رہا تھا اور ہاتھ اس کے پورے جسم کو مسل رہے تھے. وہ مجھ سے اتنا چپکی تھی کہ اس کے تیکھے ممے میرے سینے میں گڑ رہے تھے. میں نے کبھی اس ٹانگیں چوڑی کر لںڈ رکھتا ہے، کبھی ایک ٹانگ اٹھا دیتا. میں نے جتنے بھی آسن کاما سترا میں دیکھے تھے آج تمام اس پر آزما رہا تھا وہ مستی سے اپنی چدائی میں لگی تھی. میرے ہونٹ اس کے منہ اور ہونٹوں کو چوس رہے تھے. قریب آدھے گھنٹے کی چدائی کے بعد میرا پانی نکلنے کو ہوا تو میں نے اس کو کہا کیا پسند کرے گی؟ اندر یا باہر؟ اس پر تو فحش سائٹس کا بھوت تھا تو بولی- طرح اس ہوتا ہے آپ میرے اوپر سارا پانی گرا دو میںنے اپنا لںڈ نکالا اور مٹھ مارتے ہوئے اپنا سارا پانی اس کے پیٹ، سینے اور منہ پر گرا دیا. اس نے اپنے پیٹ، مموں پر سارا پانی رگڑ لیا. وہ پہلے ہی دو بار جھڑ چکی تھی. میں اب بھی اس کے جسم کو چوم رہا تھا اور آپ ہی پانی کا مزا لے رہا تھا. میری توجہ اس کی چوت پر گیا جہاں سے پانی کے ساتھ ہلکا سا خون بھی نکل رہا تھا. میں نے اپنی ٹائٹس سے اس کی چوت صاف کر دی اور اس کو پیشاب کے آنے کو کہا وہ ننگی ہی کھڑی ہوئی اور موتنے چلی گئی. اس ناگا بٹ اور مٹكتي ہوئی کمر بہت مست لگ رہی تھی اور جب وہ پیشاب کر آئی تو سامنے سے اسکا نںگا بدن ایسے لگ رہا تھا جیسے اپسرا مینکا میرے سامنے ننگی کھڑی ہو وہ واپس میرے پاس آکر لیٹ گئی اور ہم دونوں ایک دوسرے کے جسم سے کھیلنے لگے. اب اس شرم چلی گئی تھی اور وہ ٹھنڈی ہو کر میرے لںڈ کو اپنے ہاتھوں سے مسل رہی تھی اور مٹھ مر رہی تھی . میں نے بھی اس کے مموں، ہونٹوں اور جسم کا رسپان کر رہا تھاتھوڑي دیر تک ایسے ہی کرتے رہنے سے میرا لںڈ پھر سے اپنے بڑے طور پر آ گیا تھا اور وہ بھی گرم ہو چکی تھی. میں نے اس کو اٹھ کر میرے لںڈ پے بیٹھنے کو کہا وہ بیٹھنے کی کوشش کرنے لگی پر میرا لںڈ بار بار اس کی چوت سے پھسل رہا تھا. میںنے اپنا لںڈ پکڑ کر پھر سے اس کو نشانے پہ لگایا اور اس کو بیٹھنے کو کہا. اس بار جیسے ہی وہ بیٹھی میرا لںڈ اسکی چوت کے دروازے کھولتا ہوا اس اتر گیا. وو میرے لںڈ پر بیٹھ کر اچكنے لگی. میں من ہی من انٹرنیٹ کا شکریہ کر رہا تھا جہاں سے وہ یہ سب پہلے ہی دیکھ کر سیکھ چکی تھی اور اس کا یوز یہاں کر رہی تھی وہ جیسے ہی نیچے آتی اس کے چوتڑ میری ٹانگوں سے ٹکراتے. اس کی چوت ابھی تک پانی چھوڑ رہی تھی جس پورے کمرے میں پچ پچ کی آواز گونج رہی تھی. اس اچكنے سے اسکے ممے بھی زور زور سے اوپر نیچے ہو رہے تھے جو متوالاپن کو اور بڑھا رہے تھے . میں نے اس کے مموں کو پکڑ لیا اور مسلنے لگا. تھوڑی دیر بعد وہ اپنا پانی نکال کر میرے اوپر گر گئی. پر میرا دل نہیں بھرا تھا سو میں نے اس کو لیٹایا اور اس پر چڑھ گیا چدائی کرنے کے لیے میرا لنڈ پسٹن کی طرح اس کی چوت میں اندر باہر ہو رہا تھا اور وہ اچک اچک کر مزے سے لںڈ کھا رہی تھی. وہ میری باہوں میں بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی اور میرے ہاتھ اس کے ننگے جسم کو سہلا رہے تھے. کیا مست سین تھا، ایسا آج تک میں نے صرف کنڈوم کے ایڈ میں ہی دیکھا تھا لڑکی کو اس طرح تڑپتے ہوئے لنڈ کے لئے. میں اسکی گاںڈ پر ہاتھ رکھ کر اس کو اپنی طرف اچھال رہا تھا تاکہ اس کی چوت میں اندر تک لںڈ پیل سکوں یہ سارا چدائی کا پروگرام آدھے گھنٹے تک چلتا رہا. تب کہی جاکر میرا پانی نکلا. دماغ تو تھا سارا پانی اس کی چوت میں نکال دوں پر رسک نہیں لینا چاہتا تھا تو سارا پانی اس کے جسم پر نکال دیا. اس کو بہت تیز پیشاب آ رہا تھا تو وہ اٹھ کر جانے لگی، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا اور میرے سامنے وہیں موتنے کو کہا . وہ شرما گئی پر میرے ضد کرنے پر اس نے بھی اپنی پیشاب کی دھار چھوڑ دی. وہ کھڑی تھی اور اس کی چوت سے اس کا پیشاب نکل کر دونوں ٹاںگو کے درمیان سے نیچے گر رہا تھا. ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی آبشار گر رہا ہو . اب بہت دیر ہو چکی تھی سو میں نے اس کو کپڑے پہن کر تیار ہونے کو کہا. اس کو نہانا تھا کیونکہ میرے لںڈ کا پانی اس کے جسم پر تھا اور وہ اس سے مہک رہی تھی. ہم دونوں باتھ روم میں گھس گئے اور ساتھ ساتھ نہانے لگے. میں نے ایک بار پھر اس کے پورے جسم کو مسل دیا اور شاور کے نیچے اس کی چوت لینے کا خواب پورا کیا ہم لوگ نہا کر تیار ہو گئے. ہم نے کمرہ صاف کیا، ایک دوسرے کو کس کیا اور اپنے گھر آ گئے. رینا آج بہت خوش تھی اور میں بھی. آج میری پیاری بہن میرے بستر کی ملکہ بن چکی تھيس دن کے بعد میں نے کئی بار رینا کی چوت کے مزے لئے. اس کو ہر طرح سے چودا، کتیا بنا کے، رنڈی بنا کے. ایک بار وہ میرے گھر رہنے کے لئے آئی جہاں میں جاب کرتا تھا. دیکھیں وہ اور میں نے تین دن کے لئے اکیلے تھے. دوستوں قسم سے تین دن تک نہ وہ گھر کے باہر نکلی نہ میں. تین دن تک میں نے اس کو کپڑے نہیں پہننے دیا. سارا وقت اس کو ننگا رکھا اور چودا

Posted on: 03:51:AM 14-Dec-2020


1 0 221 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com