Stories


میں باجی اور بہت کچھ از مریم عزیز

میرا نام سلمان ہے . میں پاکستان کے شہر لاہور کا رہنے والا ہوں . ہمارے گھر میں میں میری امی ابو اور میری بڑی بہن ٹوٹل ہم 4 فرد ہیں . ابو بینک آفیسر ہیں . جب کے امی اک ہاؤس وائف ہیں . امی کی عمر 43 سال ہے . ابو کی 52 سال ہے . باجی کی عمر سال 22 ہے اور میری سال 16 ہے . ابو کا نام اسد ہے وہ بہت ہی سخت طبیعت کے پر بہت ہی پیار کرنے والے فادر اور ہسبنڈ ہیں . . امی کا نام روبینہ ہے اور وہ بہت ہی سادہ طبیعت کی عورت ہیں . امی کی شادی تعلیم کے فوراً بعد ہو گئی تھی . امی ابو کو دِل و جان سے پیار کرتی ہیں اور ابو کی بہت ہے وفادار ہیں . ان کا ابو سے پیار اور وفادیکھ کے ہمیشہ ایسا لگا کہ ان کی ابو سے شادی کو کچھ ہی دن ہوئے ہیں . امی مجھ سے اور میری بہن سے بہت ہی پیار اور لاڈ کرتی ہیں . . ہم دونوں بہن بھائی جب بھی کوئی خواہش ہو اس کا اظہار امی سے ہی کرتے تھے . . اور امی اسے جتنا جلدی ممکن ہو پورا کر دیتی تھی . . میں کالج میں پڑھتا ہوں . باجی کا نام حنا ہے اور وہ ڈاکٹر بن رہی ہیں . . خیر زندگی اچھی گزر رہی تھی . . ہمارے گھر میں 1 روم نیچے اور ساتھ میں ڈرائنگ روم اور ڈائیننگ نیچے ہے نیچے کے روم میں امی ابو جب کہ اوپر 2 رومز ہیں اک میرا اور دوسرا باجی کا . . ( سوری دوستو اتنے لمبے انٹرو کے لیے پر ساتھ ہی یہ بھی کہوں گا کہ یہ ضروری تھا . میں اک اچھی اور بہترین قسم کی سٹوری لکھنا چاتا ہوں اور جتنا زیا دہ میں ہر چیز کی ڈیٹیل میں جاؤں گا اتنا ہی آپ لوگوں کو بھی اسٹوری پڑھ کے مزہ آئے گا ) میری باجی مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں اور ہم دونوں بہن بھائی باقی بہن بھائیوں کی طرح کبھی اک دوسرے سے نہیں لڑے. میں بھی باجی سے بہت پیار کرتا ہوں . ہاں یہ ہے کہ جب کبھی باجی یہ محسوس کریں کہ میں اسٹڈی میں دھیان نہیں دے رہا ہوں تو وہ مجھےڈانٹتی ضرور تھی اور مجھے ہمیشہ کہتی تھی کہ میں نے بھی ان کی طرح اک دن ڈاکٹربننا ہے . . اک دن میں اپنی روز کی روٹین کی طرح رات کو اپنے روم میں سویا ہوا تھا کہ میرے روم کےڈورپر دستک کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی . . میں نے ٹائم دیکھا تو رات کے 12 بج رہے تھے میں پریشان ہو گیا اور دِل میں سوچاکہ * * * * * خیر کریں یہ اِس ٹائم کون اور کیوں آیا ہے . میں نے جا کے ڈور کھولا تو سامنے باجی کھڑی تھی اور ان کے چیرے پر بہت پریشانی تھی . . میں نے پوچھا باجی خیریت تو ہے نہ آپ پریشان لگ رہی ہیں . . باجی نے کہا کہ سلمان میں نے بہت ڈراؤنا خواب دیکھا ہے جس سے میں بہت ڈر گئی ہوں مجھے نیند نہیں آ رہی تھی روم میں بہت ڈر لگ رہا تھا اِس لیے تمہارے روم میں آ گئی ہوں کیا میں یہاں سو سکتی ہوں . میں نے کہا جی باجی آئیں نہ یہاں سو جائیں پریشان نہ ہوں . . ( باجی کے ساتھ جب بھی ایسا ہوتا تو وہ میرے روم میں آ جایا کرتی تھی بتانے کا مقصد ہے کہ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا کہ باجی میرے روم میں سونے کے لیےآئی ) میں نے باجی کو پانی پلایا وہ میرے بیڈ پے آ کے لیٹ گئی . میں بھی بیڈ پے لیٹ گیا ہم باتیں کرتے کرتے سو گے . . . رات کو کوئی 2 بجے کے قریب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ باجی دوسری طرف منہ کر کے سو رہی ہیں ( میری عادت ہے کہ میں اپنے روم میں زیرو کا بلب آن رکھتا ہوں ) پر یہ کیا . سوتے میں میرا ہاتھ باجی کے پیٹ پہ رکھ ہو گیا تھا . . پر باجی کو اِس بات کا پتہ نہ چلا تھا کیوں کے وہ گہری نیند سو رہی تھیں . . میں نے فوراً اپنا ہاتھ باجی کےپیٹ سے اٹھا لیا . . پھر اچانک میری نظر باجی کی قمیض پہ پڑی باجی کی قمیض ان کی بیک سے تھوڑی سی اٹھی ہوئی تھی جس سے ان کی سفید سفید بیک نظر آرہی تھی ( یہاں میں بتا دوں کہ باجی کا رنگ بہت زیا دہ سفید ہے یعنی کہ وائٹ ہے اتنا وائٹ کہ مانو جیسے ہاتھ لگانے سےگندا ہو جائے گا ) اور ساتھ ہی میری نظر تھوڑا اور نیچی کو پھسل گئی تو میں نے دیکاے کہ باجی کی گانڈ قمیض اٹھنے کی وجہ سے کافی نمایاں نظر آرہی تھی . . آج پہلی بار میں نے غور سے دیکھا کہ باجی کی گانڈ بہت موٹی اور سہی باہر کو نکلی ہوئی ہے . . اچانک سے میں نے اپنے سَر کو جھٹکا اور مجھے اپنے آپ پہ غصہ آنے لگا اور میں سوچنے لگا کہ یہ مجھے آج ہو کیا گیا ہے . . آج تک میں نے کبھی ایسی نظر سے اپنی باجی کو نہیں دیکھا پھر آج کیوں . . اب مجھے اپنی اِس حرکت پہ شرمندگی ہونے لگی . خیر جیسے تیسی کر کے مجھے نیند آئی اور میں سو گیا . . صبح جب میں اٹھا تو باجی تب تک اپنے روم میں جا چکی تھی . میں بھی اٹھا اور تیار ہونے لگا . تیار ہونے کے بعد نیچے ناشتے کے ٹیبل پہ جا پہنچا . . باجی بھی تیار ہو کے ناشتہ کر رہی تھیں امی اور ابو بھی ناشتہ کر رہے تھے . . میں نے سب کو سلام کیا اور ناشتہ کرنے لگا . ناشتے کے دوران ہی باجی نے امی ابو کو رات کے بارے میں بتایا کہ کیسے وہ ڈر گئی تھی اور میرے روم میں آ کے سو گئی تھیں جس پہ امی ہنس دیں ابو نے صرف سمائل کی . باجی نے ناشتہ ختم کیا اور مجھے بھی کہا کہ جلدی کرو لیٹ ہو جائیں گے ( یہاں میں بتا دوں کہ میں اپنی کار پہ باجی کو ان کے میڈیکل کالج پک اینڈ ڈروپ کرتا ہوں . جب کے ابو کی اپنی کار ہے جس پہ وہ بینک جاتے ہیں ) میں نے جلدی سے ناشتہ ختم کیا اور اٹھا اپنی کٹ اُٹھائی اور باجی نے اپنی بکس . . ہم کار میں بیٹھنے کے بعد اپنی منزل کی طرف رواں دواں کالج پُہنچنے تب تک ہم دونوں کے درمیان روز کی طرح نارمل گپ شپ ہوتی رہی پھر میں نے باجی کو ان کے کالج اتارا باجی مجھے بائے بولتے ہوئے ٹائم پہ دوبارہ پک کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کار سے اُتَر رہی تھیں . . کہ پھر وہی رات والا بیہودہ دورہ میرے پہ پڑھ گیا میری نظر پہلی بار باجی کے بوبس پہ پڑی باجی کے بوبس بہت موٹے تھے جب باجی کار سے اُتَر کے کالج کے اندر جا رہی تھی تو میری نظریں پھر ان کی گانڈ پہ چلی گئی میرے جسم میں میٹھی میٹھی لہریں دوڑنا شروع ہو گئی باجی کی پتلی وی شیپ کی کمر اور اس پہ باہر کو نکلی ہوئی موتی گانڈ کیا کمال کا کومبنشن بنایا تھا قدرت نے . . اسے پہ اک اور کرشمہ یہ تھا کہ باجی کے بوبس موٹے موٹےتھے . .یعنی کہ باجی کے بوبس موٹے موٹے کمر وی شیپ میں اور گانڈ موٹی اور باہر کو نکلی ہوئی . . اپنی بہن کو اِس طرح گندی نظر سےدیکھنے میں اتنا انجانا سا مزہ . ایسا کیوں ؟ میرے اندر اک سوال نے سَر اٹھایا . . . انسان زندگی میں بہت سے گناہ کرتا ہے جن میں سے کچھ گناہ لذّت سے بھرپور ہوتے ہیں پر اِس گناہ کی لذّت تو ایسی تھی کہ جسم میں اک عجیب سی آگ ہی لگ گئی تھی . . آنکھوں کے سامنے سب کچھ دھندلا ہوتا جا رہا تھا جسم ہلکا اور ہلکا ہوتا جا رہا تھا اک عجیب سا نشہ ھو رہا تھا جسم کے ہر اک حصے میں . . میں اپنے آپ کو اِس گناہ کی لذت میں ڈوبتا ہوا محسوس کر رہا تھا . . اتنے میں پیچھے سے کسی کار کا ہارن بجا اور میں دوبارہ ہوش میں آیا کہ میں را ستہ روک کے کھڑا تھا . . باجی کالج کے اندر جا چکی تھی . میں بھی اپنے کالج کی طرف چل پڑا . . آج میرا کالج میں دِل نہیں لگ رہا تھا حنا باجی دماغ سے اترتی تو دِل بھی لگتا نا . . بس یہی انتظار تھا کہ کالج ختم ہو اور میں حنا باجی کو پک کرنے پوھنچوں . . . ( یہاں میں باجی کا مکمل حلیہ بھی بتا دوں . میری باجی اتنی پیاری ہے جیسے قدرت کا کوئی کرشمہ ہو . باجی کے بال بلیک اور لمبے لمبے یعنی کہ ہپس تک اور سلکی سلکی ہیں آنکھیں بہت پیاری اور بڑی بڑی ہیں رنگ بہت زیا دہ سفید چہرے پہ پیاری سی ناک اور ہونٹ پنک کلر کے نہ بہت پتلے نہ بہت موٹے اورقد 5 . 6 ہے باقی ان کا جوفگر ہے وہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں . آئی ہوپ اب آپ سہی سے انہیں اِمیجن کر سکتے ہیں . . میں بھی اک سمارٹ لڑکا ہوں میرا قد 5 . 9 ہے رنگ سفیدپر کشش آنکھیں سینہ چوڑا ہے . . ) اب واپس اسٹوری کی طرف آتے ہیں . میں باجی کی سوچوں میں گم تھا کہ اتنی میں کسی نے آ کہ مجھے پیچھے کندھے سے پکڑ کے ہلکا سا جھنجھوڑا اور کہا کہ جناب آج کدھر کھوئے ہوئے ہو میں نے پیچھے کی طرف دیکھا سمائل کی یہ میری فرینڈ ثناء تھی . . ثناء اور میں بچپن سے ایک ہی اسکول میں تھے اب کالج بھی ایک ہی تھابچپن کی دوستی تھی اِس لیے حقبھی اک دوسرے پہ زیا دہ تھا . . پر صرف دوستی تھی . اِس سے زیا دہ کچھ نہیں . . ثناء میری اک ایسی دوست تھی جس سے میں ہر بات شیئر کرتا تھا اور وہ بی اپنی ہر بات مجھ سے شیئر کرتی تھی . . میرے اور فرینڈز بھی تھے پر جتنی کلوز ثناء تھی اتنی اور کوئی نہیں تھی . ہاں جنابکہاں کھوئے ہوئے ہو میں نے کہا کچھ نہیں بس ایسے ہی ثناء نے بہت اصرار کیا پر اب ظاہر ہے میں اسے اپنے نیک خیالات بتا کر مایوس تو نہیں کر سکتا تھا . . میری اور ثناء کی دوستی بہت زیا دہ تھی پر ہم دونوں اک حد سے آگے کبھی نہیں گنے . . اور ویسے بھی جو میں سوچ رہا تھا وہ تو میں کسی بھی حال میں اسے نہیں بتا سکتا تھا . . کیوں کہ اک تو یہ ایسا گناہ تھا جس کی لذت تو سب گناہوں کی لذت سے اوپر تھی پر اتنا ہے اِس گناہ کے راز کی حفاظت اب مجھے کرنی تھی . . . ثناء شروع ہو گئی یہاں وہاں کی میں بھی اس سے گپ شپ میں لگا رہا . . پھر جو کلاسز تھے وہ اٹینڈ کی اور وہاں سے فارغ ہونے کےبعد میں باجی کو لینے نکل پڑا . . . باجی کے کالج کے باہر پہنچ کے باجی کو سیل پہ میسج کیا کےہ باہر آ جائیں . باجی میرا ہی ویٹ کر رہی تھیں وہ کالج کے گیٹ سے جوں ہی سامنے ہوئی میں تو جیسے پھر اسی انجانی لذت کے سمندرمیں غوطے کھانے لگا اپنی باجی کے موٹے موٹے بوبس میری آنکھوں کے سامنے میرے پاس اور پاس آتے جا رہے تھے اور پھر باجی کار میں آکے بیٹھ گئی . . اور میں بھی ہوش کی دنیا میں واپس آ گیا . . آج باجی بہت غصے میں تھیں . میرےپوچھنے پہ انہوں نے بتایا کہ آج ان کی اک فرینڈ سے فائٹ ہوئی ہاے . . باجی غصے کی بہت زیادہ تیز تھی . . . میں نے باجی کی حالت دیکھتے ہوئے باجی کو ایک دو جوکس سنائے جس پہ ان کا موڈ اچھا ہو گیا . . . میں راستے میں یہ سوچ رہا تھا کہ جانےکیوں اپنی بہن کو غلط نظر سے دیکھنے میں مزہ آتا ہاے . . ویسے تو میری سیکشوئل ایکٹیویٹیس اتنی زیا دہ نہیں تھی بس کبھی کبھی جب مجھے چسکہ چڑھتا تھا تو میں لیپ ٹاپ پہ بلو مووی دیکھ کے مٹھ ما ر لیتا تھا . . اِس سے زیا دہ کبھی میں نے کچھ نہیں کیا . نہ ہی میری لائف میں کوئی لڑکی آئی نہ کبھی دماغ کسی کی طرف گیا . . جب کبھی میں بلو موویدیکھتا تھا تو تب اس میں ننگی لڑکیاں دیکھ کےبھی مجھے وہ مزہ تو کبھی نہیں آتا تھا جو مجھے اپنی بہن کو کپڑوں سمیت دیکھنے میں آ رہا تھا . . یہی کچھ سوچتے سوچتے گھر آگیا . ہم لوگ کار سے اتر کر گھر میں داخل ہو گئے . . . امی کو سلام کیا اور اپنے اپنے روم میں فریش ہونے کے لیے جانے لگے سیڑھیوں چڑھتے ہوئے باجی میرے آگے تھی بس پھر وہی میرا اوچھاپن شروع . . میری نظریں باجی کی موٹی باہر کو نکلی ہوئی گانڈ پہ . اتنا آئیڈیا مجھے ہو گیا تھا کےہ باجی نے نیچے انڈر ویئر نہیں پہنا ہوا کیوں کہ جب وہ چل رہیتھیں تو ان کیگانڈ کے دونوں پب آگے پیچھے آگے پیچھے ہو رہے تھے گانڈ کا پب جب پیچھے کی طرف ہوتا تو مجھے ایسا لگتا جیسے مجھے کہ رہا ہو کہ مجھے پکڑ لو اور جوں ہی وہ پب آگے کی طرف جاتا تو مجھے ایسا لگتا جیسےکہ رہا ہو کہ ٹھیک ہے میں جا رہا ہوں نہ پکڑو مجھے . . باجی کی گانڈ کو اتنے پاس سے آگے پیچھے آگے پیچھے ہوتے میں نے پہلی بار دیکھا تھا . . باجی کی گانڈ کے ساتھ ہے سیڑھیوں کا یہ سفر ختم ہوا اور باجی اپنے روم میں اور میں اپنے روم میں داخل ہو گیا . جب میں روم میں داخل ہوا تو تب مجھے ہوش آیا کہ اِس بےخودی کےعالم میں میرا لنڈ ہارڈ ہو چکا ہے . . میں نے سوچا لو اب یہ ٹائم بھی دیکھنا تھا اِس چکر میں . کہ اپنی بہن کی موٹی گانڈ کو دیکھ کےلنڈ ہارڈ کرنا بھی شروع کر دیا تھا میں نے . . خیر میں کچھ دیر کے لیے سکون کرنے بیڈ پہ لیٹ گیا اور تھوڑی دیر بعد کھانے کے لیے نیچے چلا گیا . . نیچی باجی پپہلے سے ٹیبل پہ بیٹھی كھانا کھا رہی تھی . . میں نے اپنا مائنڈ بنانے کی کوشش کی کہ اب باجی کی طرف اِس نظر سے نہیںدکھوں گا اور اپنے آپ پہ کنٹرول کروں گا . . مجھے اپنے مقصد میں کامیابی بھی نظر آئی کہ کھانے کے دوران یا کھانے کے بعد بھی میں نے باجی کو اس نظر سے دیکھنے کی کوشش نہیں کی . . . اور میں روم میں آ گیا . . دوپہر کو میں روز سوتا ہوں . . میں اپنی روٹین کے مطابق سویا اور پھر اٹھ کے فریش ہو کے اسٹڈی کرنے بیٹھ گیا . . شام کو فرینڈز کے ساتھ گھومنے کے لیے باہر چلا گیا . . . جب واپس آیا توکھانے کا ٹائم ہو چکا تھا . فریش ہو کےکھانے کے لیے آیا تو ابو امی اور باجی کھانے کی ٹیبل پے میرا ہی ویٹ کر رہے تھے . . ابو نے مجھ سے اسٹڈی کے بارے میں پوچھا اور میں نے بتایا کہ سب ٹھیک ہے پاپا نے پھر باجی سے پوچھااور باجی نے بھی اپنی اسٹڈی کے متعلق ابو کو بتایا . . . . . . میں نے كھانا کھایا اور روم میں آگیا . . . اور لیپ ٹاپ آن کیااور ایک ا نگلش ایکشن موویدیکھنے لگا . . . وہ دیکھنے کے بعد میرا دِل کیا کہ کیوں نا آج بلو مووی دیکھ کے مٹھ ماری جائے . . میں نے بلو مووی لگا کے دیکھنے لگا بلو مووی میں لڑکی اتنی سیکسی تھے کہ میرا لنڈ فوراً سے ہارڈ ہو گیا اس لڑکی کے موٹے موٹے تھے اور گانڈ بھی موٹی تھی وہ بہت مزے مزے سے لڑکے سےچدوا رہی تھی . . میں نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور مووی دیکھنے کے ساتھ ساتھ لنڈ کو بھی مسلنے لگا میری اسپرم تھوڑی تھوڑی لنڈ کی کیپ سے نکل رہی تھی میں بہت مزے میں تھا کہ اچانک روم کےڈور پہ دستک ہوئی . میں نے جلدی سے لیپ ٹاپ آف کیا اور اپنا لنڈ بھی شلوار کے اندر کیااور اک لمبی سانس لے کے اپنے آپ کوریلکس کیا تھا کہ میرا لنڈ بھی بیٹھ جائے ورنہ وہ شلوار کے اوپر سے نظر آجاتا . .لنڈ کو نارمل کر کے میں نےڈور کھولا تو سامنے باجی کھڑی تھیں میں نےڈور کھولا تو سامنے باجی کھڑی تھیں . . . میں نے پوچھا باجی کیا بات ہے تو باجی نے کہا کہ سلمان تم ہنسو گے تو نہیں نہ ؟ میں نے کہا باجی بات کیا ہے ؟ باجی نے کہا پہلے پرامس کرو کہ میرے پہ ہنسو گے نہیں ؟ میں نے کہا او کے بابا نہیں ہنستا آپ بتائیں کیابات ہے ؟ باجی نے کہا سلمان مجھے آج بھی اپنے روم میں نیند نہیں آرہی . ڈر لگ رہا ہے مجھے . . میں نے کہا بس اتنی سی بات تھی بلا میں کیوں ہنسوں گا اِس بات پہ . آپ کو جب کبھی بھی ڈر لگتا ہے تو آپ میرے روم میں آکے سوتی ہیں . کون سا یہ کوئی نئی بات ہے ( یہاں میں بتا دوں کہ باجی جببھی کوئی ڈراؤنا خواب دیکھتیں تھیں تو پھر 2 یا 3 دن تک انہیں اپنے روم میں نیند نہیں آتی اور وہ میرے روم میں سونے آ جاتی ہیں ) تو باجی نے کہا کہ سلمان آج جب امی ابو کو صبح میں نے بتایا تھاکہ رات کو میں جب خواب دیکھ کےڈری تھیی تو سلمان کے روم میں چلی گئی تھے تو امی کیسےہنسنا شروع ہو گئی تھیں . . اِس لیے میں نے سوچا کہ یہ نہ ہو کہ تم بھی مجھ پہ ہنسو ...میں نے کہا نہیں باجی ایسی کوئی بات نہیں آپ کو جب کبھی بھی ڈر لگے تو آپ آ جایا کرو میرے روم میں . باجی نے مسکرا کے کہا اچھا جی . کیسا پیار ہے تمھارا میرے ساتھ ؟ جتنا پیار جتلا رہے ہو اتنا کرتے نہیں ہو . . میں نے ہلکی سی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے باجی سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کہا تو باجی بولی تمھاری بڑی بہن پچھلے 5 منٹ سے تمہارے روم کے دروازے پہ کھڑی ہے تم نے ابھی تک اسے اندرآنے کا بولا ہے نہیں . میں باجی کی اِسبات پہ شرمندہ ہو گیا مجھےخیال ہی نہیں رہا کہ میں نے باجی کو اندر آنے کا تو کہا ہے نہیں . میں سائڈ پہ ہوا اور تھوڑا سا آگے کو جھک کے اک ہاتھ سے باجی کو اندر آنے کا اشارہ کیا باجی بےساختہ میرے اِس انداز پے ہنس پڑی اور اندر آگئی . باجی بیڈ پہ آ کے ٹیک لگا کے لیٹ گئی . اور میں نے روم کا ڈور بند کر دیا . میںبھی باجی کے ساتھ بیڈ پہ آ کے بیٹھ گیا اور باجی سے پوچھا کہ باجی آپ اتنی غصے والی ہو کہ جب کبھی آپ کو غصے میں دیکھ لو تو آپ سے ڈر لگنا شروع ہو جاتا ہے پر جب بھی آپ کوئی ڈراؤنا خواب دیکھتی ہو تو آپ اتناڈر جاتی ہو کہ آپ پہچانی نہیں جاتی کہ آپ وہی غصےوالی باجی ہو . . . باجی میری اِسبات پہ ہنسپڑی اور کہا کہ ’ ’ مجھے خود نہیں پتہ کہ اِس کی کیا وجہ ہے پر جب بھی وجہ معلوم ہوئی تمہیں ضرور بتاؤں گی " اچھا اب زیا دہ باتیں نہیں کرو اور مجھے سونے دو اور تم خود کیا کرو گے ابھی . میں نے کہا کہ باجی میں تھوڑی دیر اسٹڈی کروں گا پھر سو جاؤں گا تو باجی نے کہا کے او کے میں سونے لگی ہوں تم لائٹ آف کرو اور اپنا ٹیبل لیمپ آن کر کے اسٹڈی کر لو میں نے ایسے ہی کیا اور باجی تھوڑی ہی دیر میں سو گئی . . . میں نے اسٹڈی کا باجی کوجھوٹ بولا تھا . میں اصل میں باجی پہ یہ امپریشن جمانا چاہتا تھا کہ میں رات کو دیر تک پڑھتا ہوں . . اسٹڈی خیر خاک کرنی تھی میں بس تھوڑی دیر بُک کے پیج ٹرن کرتا رہا پھر بُک بند کیاا ور لیپ ٹاپ آن کر لیا اور انٹرنیٹ یوز کرنے لگا . اچانک میرے ذہن میں اک خیال آیا اور میں نے لیپ ٹاپ اٹھایا اور واش روم میں آ گیا . اور واش روم لوک کر کے کموڈ پے بیٹھ گیا اور وہی بلو مووی لگا لی جو باجی کے روم میںآنے سے پہلے میں دیکھ رہا تھا اور میں مٹھ بھی نہیں ما ر سکا تھا . . مووی میں وہی لڑکی اب کروٹ بَدَل کےلیٹی ہوئی تھی اور ایک لڑکا اس کے پیچھے لیٹا اس کے پھدی میں اپنا لنڈ آرام آرام سے اندر باہر کر رہا تھا . . جوں ہی لڑکا اس کے پھدی میں لنڈ اندر کرتا لڑکی تڑپ اٹھتی اور جوں ہی لنڈ باہر کرتا لڑکی کےچہرے پے بے چینی نظرآنے لگتی . میں نے اپنی شلوار نیچے کر لی اور ا پنے لنڈ کی طرف دیکھا تو وہ پوری طرح ہارڈ ہو چکا تھا میں ساتھ ساتھ مووی دیکھ رہا تھا اور ساتھ ساتھلنڈ کو آگے پیچھے کر کے مٹھ ما ر رہا تھا . بلو مووی میں لڑکی اسی کروٹ لیٹی مزے سے لڑکے کالنڈ اندر لے رہی تھی اچانک مجھے کل کا وہ سین یاد آ گیا جب باجی کروٹ لے کے سو رہی تھی . . میرے آنکھوں کے سامنے پھر باجی کی موٹی اور باہر کو نکلی ہوئیگانڈ گھومنا شروع ہو گئی . . . لنڈ میرے ہاتھ میں تھا اور میں لنڈ کو آگے پیچھے آگے پیچھے کر رہا تھا اور آنکھوں کے سامنے باجی کی موٹی اور باہر کو نکلی ہوئی گانڈگھوم رہی تھی . مووی سے میری نظریں ہٹ چکی تھیں اب میں آنکھیں بند کیے ہوئے اپنی باجی کی موٹی گانڈ کو سوچ کے مٹھ ما ر رہا تھا . . . پتہ نہیں کیوں آج مجھے مٹھ ما رتے جو مزہ آرہا تھا ایسا مزہ تو مجھے کبھی نہیں آیا تھا اب ارادے اور وعدے جو میں نے اپنے آپ سے آج کیے تھے کہ اب میں اپنی بہن کے بارے میں کبھی ایسا نہیں سوچوں گا میں بھول چکا تھا . . کیوں کہ اِس وقت میں لذت کی جن بلندیوں پہ تھا وہاں پہ پوھنچ کے ہی جانا جا سکتا ہے کہ کسی عام لڑکی کو سوچ کے مٹھ مرنے کی لذت میں اور اپنی سگی بہن کو سوچ کے مٹھ مرنے کی لذت میں زمین آسْمان کا فرق ہے . . مجھے اِس ٹائم ایسا لگ رہا تھا کہ میرے لنڈ کی اسکن کے اندر اور کچھ نہیں بس اسپرم ہی اسپرم بھری ہوئی ہے . . میرا لنڈ آج مجھے بہت ہیوی لگ رہا تھا . اچانک میں نے اک ہاتھ سے لیپ ٹاپ بند کیااور اسے وہی باتْھ روم کے فرش پہ رکھا اور کھڑا ہو گیا میری شلوار گر کے میرے پاؤں تک جا پہنچی تھی پراتری نہیں اور میرالنڈ اسی طرح میرے ہاتھ میں تھا میں نے باتْھ روم کا دروازہ کھولا اور اپنے ڈریسنگ روم میں آ گیا . (یہاں میں بتا دوں کہ میرے روم میں ہی میرا علیحدہ سے ڈریسنگ روم بھی ہے اور میں جب ڈریسنگ روم میں داخل ہوا تو اسی کے ساتھ اندر باتْھ روم بھی ہے ) میں ڈریسنگ روم کیانٹرنس پے آکے کھڑا ہو گیا جہاں سے میرا روم کلیئر نظر آ رہا تھا روم کے اندر جب میری نظرپڑی تو میں نے دیکھا کہ باجی کروٹ لے کے سو رہی ہیں اور باجی کی قمیض سوتے میں اوپر کو اٹھی ہوئی ہے . باجی نے جو شلوار پہنی تھی وہ باجی کی گانڈ کے ساتھ چپکی ہوئی تھی جس سے باجی کی گانڈ کی لائن بہت واضح محسوس ہو رہی تھی . پتہ نہیں یہ لائن کتنی گہری تھی اور یہی تو وہ لائن تھی جو باجی کی قیامت ڈھاتی گانڈ کے چوتڑ کوایک دوسرے سے جدا کر کے اور زیا دہ خوبصورت اور دلکش بناتی تھی . میں نے باجی کی گانڈ کے چوتڑ غور سے دیکھے تو وہ شلوار کے اندر سے چھپے جیسے میرا منہ چڑ ا رہے تھے کہ ہمیں اوپر اوپر سےدیکھ لو ا بھی اندر سے ننگادیکھنے کی تمہیں کوئی اِجازَت نہیں . . . میں مزے اورنشے کی بلندیوں پہ تھا اور تب ہی تو یہ خواہش پہلی بار میرے دِل میں آئی کہ میں باجی کی ننگیگانڈ دیکھوں باجی کی ننگی گانڈ دیکھنے کا تصور آج پہلی بار میرے دماغ میں آیا تھا کہ جو گانڈ شلوار کے اوپر سے اتنی پیاری لگتی ہے اسے جب ننگادیکھوں گا تو میں تو شاید سہہ بی نہ پاؤں گا اور بے ہوش ہی ہو جاؤں گا . . میرا ہاتھ لنڈ پہ اور تیز تیز آگے پیچھے ہونے لگا . میری آنکھیں باجی کی موتیگانڈ پےہ جمی ہوئی تھیں اور میرا دماغ باجی کی ننگی موٹی گانڈ کی خوبصورت خوبصورت تصویریں بنا بنا کر مجھے دیکھا رہا تھا اور دِل..... دِل کا تو یہ عالم تھا کے بس اک نئی خواہش اِس میں جنم لے چکی تھی . وہ خواہش یہ کہ باجی کیگانڈ کو ننگا دیکھنا ہے . نہ چھونا ہے نہ کچھ اور کرنا ہے بس گھنٹوں تک ) بیٹھ کے باجی کی اِس قیامتڈھاتی گانڈ کو دیکھنا ہے . . آہ اِس آواز کے ساتھ ہی میرےلنڈ کے اندر سے اسپرم کی بہت گھاڑ ی داریں نکلنا شروع ہو گئیں . یہ داریں اتنی گھاڑ ی تھی کہ جیسے آپ شہد کے اندر چمچ ( اسپون ) ڈ ال کے نکالو تو ہنی کی جو داریںبنتی ہیں . جو کافی دیر چمچ کے ساتھ لٹکتی رہتی ہیں اور پھر کہیں جا کے گرتی ہیں . . ایسا آج میرے ساتھ پہلی دفعہ ہوا تھا . میں تقریباً 4 سال سے مٹھ ما ر رہا تھا پر ایسا بے پناہ مزہ ایسی بےپناہلذّت ایسی گھا ڑی اسپرم یہ سب کچھ میرے لیے نیا تھا . . میں جب پوریطرح سے ڈسچارج ہو گیا تو مجھے بہت زیا دہ کمزوری محسوس ہو رہی تھی . اتنی کہ مجھے لگا کہ ابھی یہاں پہ گر جاؤں گا . مجھے اتنی ہمت نہیں تھی کہ میں اپنا ہاتھ تو اپنے لنڈ پر سے ہٹا لوں . میں وہیں پہ ڈریسنگ روم کی دیوار سے ٹیک لگا کے کھڑا ہو گیا . کچھ دیر بعد جب کچھ ہمت آئی تو میں واپس باتھ روم میں گیا ہاتھ واش کیے اور لنڈ صاف شلوار اوپرکر کے لیپ ٹاپ اٹھایا اور ڈریسنگ سے گزرتے ہوئے میں نے اپنی اسپرمدیکھی جو زمین پپڑری تھی اور مجھے گزرے لمحوں کی یاد دلا رہی تھی . . میں نے ٹشو لیے اور بہت احتیاط سے اپنی اسپرم کو زمین سے صاف کر دیا اور ٹشوڈسٹ بن میںپھینک دیئے . میں روم میں آیا اور لیپ ٹاپ سائڈ ٹیبل پہ رکھا اور باجی کی طرفدیکھا . . باجی اب سیدھی ہو کے سو رہی تھیں میں نے ٹیبل لیمپ آف کیااور سونے كی کوشش کرنے لگا . . . اک ہی دن میں میری دنیا میری زندگی میری سوچ سب کچھ بَدَل گیا تھا . مجھے اب اپنی سگی بہن کے بارے میں ایسا سوچنے میں کچھ برا نہیں محسوس ہو رہا تھا بلکہ پیار اور لذت کے ملے جھلے جذبات میرے سینے میں اپنی سگی بہن کے لیے ابھر آئےتھے . اور میں اپنے دِل میں پیدا ہونے والی اور شاید کبھی نہ پوری ہونے والی خواہش کا سوچتے سوچتے سو گیا صبح میں جب اٹھا تو باجی اپنے روم میں جا چکی تھی . . میں نے ٹائمدیکھا تومیں کالج کے لیے کافی لیٹ ہو رہا تھا . میں اٹھا اور تیار ہوکے نیچے پہنچا . امی ابو اور باجی ناشتہ کر چکےتھے . اور باجی میرا ہی ویٹ کر رہی تھی . جو ں ہی باجی کی مجھ پہ نظر پڑی انہوں نے کہا چھوٹےبھائی آج لیٹ ہو گئے ہو رات کو دیر تک اسٹڈی کرتے رہے ہو ؟ (اب میں انہیں کیا بتاتا کہ رات کو ان کی موٹی گانڈ کے دیدار نے میرے جسم سے اسپرم کا ایک چھوٹے سے چھوٹا قطرہ نچوڑ کے رکھ دیا تھا جس وجہ سے کمزوری ہو گئی تھے اور آنکھ کھلی ہی نہیں ) میں نے کہا جی باجی رات کو دیر تک بیٹھا پڑھتا رہا اِس لیے آنکھ نہیں کھلی . . باجی نے کہا شاباش ایسے ہی دِل لگا کےپڑھتے رہنا ( میں نے دِل میں کہا کہ باجی ایسے ہی دِل لگا کے پڑھوں گا کیوں کہ اب یہی پڑھائی تو میری زندگی بن چکی ہے ) اور اب جلدی سے ناشتہ کرو میں بھی لیٹ ہو رہی ہوں آج کالج میں اک فنکشن ہے اس کی جا کے تھوڑی تیاری بھی کرنی ہے
... میں نے امی ابو کوسلام کیا اور ناشتہ کرنے لگا اور باجی ٹی وی پہ کوئی مارننگ شودیکھنے لگی . . میں ناشتہ کرتے کرتے ساتھ ساتھ باجی کوبھی چور نظروں سے دیکھ رہا تھا . . باجی نے آج ریڈ کلر کا ڈریس پہنا تھا جو باجی پہ بہت سوٹ کر رہا تھا . . اور باجی بہت پیاری لگ رہی تھی ریڈ ڈریس میں . باجی کا رنگ وائٹ تھا جس پہ ریڈ ڈریس بہت جچ رہا تھا . باجی کو دیکھ کے دِل کر رہا تھا کہ باجی کو سامنے بیٹھا کے بس دیکھتا ہی رہوں دیکھتا ہی رہوں اور دن ہفتے مہینے سال گزر جائیں بس میں باجی کو دیکھتا ہی رہوں اور باجی کو پوجتا ہی رہوں اور اپنی نظر نہ ہٹاؤں ان پر سے . . . پتہ نہیں میرے ساتھ یہ سب کیا ہو رہا تھا ہر گزرتے دن کے ساتھ میرے باجی کے بارے میں خیالات اور سوچ ہی بدلتی جا رہی تھی . . کہی ں مجھے باجی سے محبت تو نہیں ہو گئی ؟ جو ں ہی یہ سوال میرے دِل نے میرے دماغ پے ٹائپ کیا . میرے جسم میں جیسے کرنٹ لگنا شروع ہو گیا اور پھر ساتھ ہی میرا جسم یک دم ڈھیلا پڑگیا . . ’ ’ ہاں یہ محبت ہی تو تھی ’ ’ کالج میں میرا اک بہت اچھا دوست تھا سیف وہ ہمارے کالج کی اک لڑکی سے بہت محبت کرتا تھا اور وہ لڑکی تھی ثناء . جو کے میری بیسٹ فرینڈ تھی . ( جس کا ذکر فرسٹ پارٹ میں ہو چکا ہے ) ثناء سیف کو اس نظر سے پسند نہیں کرتی تھی جس نظر سے سیف ثناء کو پسند کرتا تھا . پر ثناء اک اچھے دوست کی نظر سے سیف کو ضرور پسند کرتی تھی . . سیف ثناء کوسچے دِل سے چاہتا تھا . اور سیف نے ہی اک بار مجھے بتایا تھا کہ جب آپ دن رات کسی اک ہی شخص کے بارے میں سوچنا شروع ہو جاؤ اور اس کے بعد آپ کے اندر جب یہ سوال پیدا ہو کہ کیا آپ کو اس شخص سے محت تو نہیں ہو گئی تو سمجھ جاؤ کہ آپ اس شخص کی محبت میں دِل جان سے گرفتار ہو چکے ہو . . . جب سیف نے اپنا یہ فلسفہ مجھے سنایا تو مجھے تب اس پہہنسی آئی . کیوں کہ تب میں کسی لڑکی سے محبت نہیں کرتا تھا . اب ظاہر ہے محبت کرنے والا ہی اِس طرح کی باتوں کوسمجھتا ہے جس نے محبت ہی نہ کی ہو وہ اِس طرح کے فلسفے پہ ہنسے گا ہی . . . . . . سیف کی یہی بات تو میرے دماغ میں گھونجی تھی جس کے بعد مجھے کرنٹ لگنا شروع ہو گیاتھا . . . اور پھر یکدم جسمڈھیلا پڑ گیا کیوں کہ مجھے زندگی میں پہلی بار محبت ہوئی تھی اور وہ بھی اپنی سگی اور بڑی بہن سے . . . یہ اک ایسی محبت تھی جو لاحاصل تھی . . . میں نے بےدلی سے ناشتہ ختم کیا اور باجی کو اٹھنے کو بولا اور باجی اور میں کار میں آ کے بیٹھ گئے . باجی کو ان کے میڈیکل کالج اتارا اور جب تک باجی گیٹ کے اندر جا کے میری نظروں سے اوجھل نہ ہوئی میں بےبسی کے عالم میں اپنی بھیگی آنکھوں سے باجی کودیکھتا رہا . میری بے بسی اور میریبھیگی آنکھیں باجی کے ساتھ میری لاحاصل محبت کا اعلان کر چکی تھیں پر میری بہن میرے ان جذبات سے بے خبر تھی اسے پتہ ہی نہیں تھا کہ میں 2 ہی دنوں میں اس سے کتنی ٹوٹ کے محبت کرنا شروع ہو گیا ہوں . . . کیسے باجی کو کہوں کہ میں ان سے محبت کرتا ہوں ؟ کیسے ان سے کہوں کہ باجی میں آپ کو اتنا پیار کرناچاہتا ہوں کہ آپ کے جسم کے اندر کھو کے آپ کی روح سے لپٹ کے اپنیساری زندگی گزا ر دینا چاہتا ہوں . باجی مجھے اپنی روح پہ اپنے جسم پہ پورا پورا دے دو . . . سوالوں اور خواہشوں کی جنگ ایسے ہی میرے اندر چلتی رہی اور میں اپنے کالج پہنچ گیا . . . آج ثناءبھی کہیں نظر نہیں آرہی تھی . میں نے بھی اسے ٹیکسٹ کر کے نہیں پوچھا کہ وہ کہاں ہے . کیوں کہ میں اکیلا رہنا چاہتا تھا . کالج سے فارغ ہونے کےبعد میں باجی کو پک کرنے ان کے کالج کی طرف جا رہا تھا کہ باجی کا میسیج آیا کے ’ ’ سلمان ابھی مت آنا میں فنکشن کی وجہ سے لیٹ ہوں . جب پک کرنے بلانا ہوا میں میسیج کر دوں گی ’ ’ میں پھر وہیں سے گھر کی جانب چل پڑا . . گھر پہنچ کے امی سے ملا اور امی نے باجی کا پوچھا تو انہیں بتایا کہ باجی لیٹ فارغ ہوں گی فنکشن کی وجہ سے . . . میں اپنے روم میں آیا اور فریش ہونے کے بعد كھانا کھانے نیچے آ گیا . . امی میرے پاس ہی بیٹھ گئی . کھانے کے دوران اچانک میں نے امی سے سوال کیا کہ امی آپ کی اور ابو کی شادی پسند کی تھی یا ارینج . . امی ہنس پڑی اور کہا کہ تمہیں آج یہ بات کیسے یاد آئی . . . میں نے کہا ویسے ہی امی آپ بتائیں نہ جو پوچھا ہے . . تو امی نے کہا کہ ویسے تو تمہارے ابو میرے فرسٹ کزن ہیں پر وہ مجھے بہت چھوٹی عمر سے ہی بہت پسند کرتےتھے . . . اور یہ پسند آہستہ آہستہ محبت میں بَدَل گئی . . اور اک دن تمہارے ابو نے اپنی محبت کا اظہار ببھی مجھ سے کر دیا . میں نے پوچھا کہ امی آپ نے ابو کو کیا جواب دیا تھا . امی نے کہا کہ تمہارے ابو اک بہت اچھے انسان ہیں اور مجھے خاوند کی حیثیت سے اپنے لیے پرفیکٹ لگے . . پر بیٹا شرم حیا عورت کا زیور ہے . اِس لیے میں ان سے اس وقت جواب میں کچھ نہیں کہ سکی . تمھارے ابو نے پھر ہما رے گھر رشتہ بھیجا ہم دونوں کی شادی ہو گئی . . اور میں اپنے آپ کو خوش قسمت عورت سمجھتی ہوں کہ تمہارے ابو جیسے اک اچھے انسان سے میں منسوب ہوئی . . . میں كھانا کھا کے اوپر روم میں آگیااور لیپ ٹاپ پہ لو سونگز سننے لگا . اور سوچنے لگا کہ میں بی باجی سے اپنی محبت کا اظہار کر دوں ؟ پھر اپنے سَر پے ہلکے سے اک تھپڑ رسید کیا کہ باجی میری کزن تو نہیں . جیسے امی ابو کی کزن ہیں . . . آج تو اپنے روٹین کے مطابق نیند بھی نہیں آرہی تھی مجھے . سچ ہے سنا تھا کہ محبت میں بھوک بھی کم لگتی ہے اور بھی کم آتی ہے . . ایسے ہی ٹائم سونگز سنتے ہوئے گزرتا رہا اور باجی کا میسیج آ گیا کہ مجھے پک کرنے آ جاؤ . . میں اٹھااور کار لے کے باجی کے کالج کی طرف چل پڑا . . وہاں پہنچ کے باجی کو میسیج کیا کہ باہر آجائیں تو تھوڑی ہی دیر میں باجی گیٹ سے سامنے ہوئی اور کار کی طرف بڑھی پر ان کے ساتھ 2 لڑکیاں اور تھی جن میں سے اک میری فرینڈ ثناء اور دوسری کو آج میں پہلی بار دیکھ رہا تھا . . کار میں نے سائیڈ پہ پارْک کیاور باہر نکل آیا باجی اور اس لڑکی کو سلام کر کے ثناء سے پوچھا کہ وہ یہاں کیسے تو ثناء نے بتایا کہ یہ ساتھ میں اس کی کزن ہے جس کاابھی یہاں پے ایڈمیشن ہوا ہاے . کالج کے فنکشن پہ اِس نے آج مجھے بھی انوائٹ کیا تھا کہ آؤ تھوڑا فن ہو جائے گا . . ثناء سے میں نے پوچھا کہ آؤ آپ لوگوں کو میں ڈروپ کر دوں گا تو اس نے کہا کہ نہیں ہماری کارآنے والی ہے تم جاؤ . میں ، ثناء اور اس کی کزن کو بائے بولتا ہوا کار میں آ گیااور باجیبھی انہیں بائے کہتی ہوئی کار میں بیٹھ گئی . . ( باجی ثناء کو میری وجہ سے بہت اچھے سے جانتی تھی اور یہبھی جانتی تھی کہ ہم دونوں بہت اچھے فرینڈز ہیں ) باجی کار میں کیا آ کے بیٹھی ما نو کہ جیسے کار میں بہار ہو گئی . . میرے ارد گرد جیسے پھول کھلنے لگے . . اور میرا دِل چپکے سے مسکرا اٹھا . . باجی سے میں نے آج کے فنکشن کے بارے میں پوچھا اور باجی مجھے فنکشن کے بارے میں بتانے لگی . . میری زندگی میرا سب کچھ مجھ سے کچھ ہی انچ کے فاصلے پہ بیٹھی تھی آج باجی کے ساتھ کار میں بیٹھ کے جو سفر میں کر رہا تھا دِل چاہ رہا تھا کہ یہ سفر کبھی ختم نہ ہو اور دِل یہ بھی چاہ رہا تھا کہ میں کار کسی ایسی روڈ پے لے جاؤں جو کبھی نہ ختم ہونے والی روڈ ہو . . . پر یہ سب خواہشیں ایسی تھیں جنہیں سوچ کے میں اپنے دِل کو کچھ پل کا سکون ہی د ے سکتا تھا . . حقیقت وہی تھی کہ جو میں چاہتا تھا وہ ناممکن اور لاحاصل تھا . . . . . . کچھ ہی دیر بعد ہم گھر پہنچ گئے . . ہم گھر کے اندر اینٹر ہوئے . . باجی امی سے ملنے ان کے روم میں چلی گئی اور میں اپنے روم میں آگیا . آج میرا اپنے دوستوں کی طرف جانے کابھی کوئی دِل نہیں کر رہا تھا . . میری یہ کفیت تھی کہ میں بس تنہا رہنا چاہتا تھا اور اگر میری تنہائی کو ختم کرنے کااختیار کسی کو اب تھا تو وہ میری بہن تھی . . رات کو جب کھانے کا ٹائم ہوا تو میں کھانے کے لیے نیچے گیااور سب کو سلام کر کے كھانا کھانے بیٹھ گیا . امی وہی روز کیطرح پیار اور ممتا کی چاہت بھری نظروں سے ہم دونوں بہن بھائیوں کو کھانا دیکھ رہی تھی . جب کہ ابو وہی ہمیشہ کی طرح خاموش بیٹھے تھے . . . ابو کی ایسی ہمیشہ کی خاموشی سے ہم دونوں بہن بھائی بہت ڈرتے تھے . خیر كھانا ختم کیا اور میں روم میں آ گیا . . تھوڑی دیربعد روم کے ڈور پہ دستک ہوئی اور میں نےڈور کھولا تو سامنے باجی کھڑی تھی اور ں باجی نے کہا کہ سلمان میں نے ابھی اسٹڈی کرنی ہے میں اسٹڈی کر کے تمہارے روم میں سونے آؤں گی . ( جیسا کے میں نے بتایا تھا کہ باجی جب بھی ڈراؤنا خواب دیکھتی ہیں تو 2 یا 3 دن انہیں اپنے روم میں نیند نہیں آتی ) باجی كی یہ بات سنتے ہی میرا دِل زور زور سے دھڑکنا شروع ہو گیا . بڑی مشکل سے میری زُبان سے یہ لفظادا ہوئے ’ ’ جی باجی تھے ہے ’ ’ پھر باجی اپنے روم میں چلی گئی اور میں ڈور بند کر کے اپنے بیڈ پہ آ کے گر گیا . . . میری محبت میری زندگی آج رات کو میرے ساتھ میرے بیڈ پہ سونے آ رہی ہے . یہ سوچ کے ہی میرے جسم سے جان نکل چکی تھی . . . پتہ نہیں باجی اِس سے پہلے کتنی بار میرے روم میں سوئی تھی . . مجھے تو گنتی بھی بھول گئی تھی . پر پپہلے میرے ساتھ میری باجی سویا کرتی تھی . آج وہ صرف میری باجی ہی نہیں بلکہ میری زندگی اور میری محبت بھی تھی جو میرے ساتھ میرے بیڈ پہ سونے والی تھی . . . . . . . اک اک پل میرے لیے سالوں کے برابر تھا . وقت تھا کہ گزرنے کا نام نہیں لے رہا تھا . . میرا رووم رووم بس میری محبت کو اپنی طرف بلا رہا تھا اور چیک چیک کے کہ رہا تھا کہ و میری رات کی رانی آ بھی جاؤ نا کیوں مجھے ستا رہی ہو آؤ میری رات کی رانی اور آ کے میرے جذبات کی اور چاہت کی دنیا کو اپنی خوشبو سے معطر کر دو . . . . . . . آخر وہ وقت آ گیا اور میرے روم کے ڈور پہ دستک ہوئی . . میں دھڑکتے دِل کے ساتھ اٹھا اور ڈور کھولا اور سامنےتوقع کے مطابق باجی کھڑی تھی . . . باجی نے مسکرا کے کہا کہ چھوٹے بھائی آجڈور پہ ہی کھڑا رکھنا ہے یا اندر بلا لو گے . میں نے بہت مشکل سے باجی کی اِس بات پے سمائل کی اور اک سائیڈ پہ ہو گیا اور باجی کو اندر انے کا را ستہ دیا . . . ( محبت میں دِل کا حا َل ہی ایسا ہو جاتا ہو کہ آپ جسے چاھتے ہو وہ جب آپ کے سامنے ہو تو آپ کی دھڑکن نہ چاھتے ہوے بھی تیز ہو جاتی ہے اور زُبان آپ سے بے وفا ہو کے آپ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیتی ہے ) باجی روم کے اندر داخل ہوئی اور بیڈ کی طرف بڑھی میں نے روم کا ڈور بند کر دیا . اور باجی کو بیڈ کی طرف جاتےدیکھا . میرا دِل کیا کہ باجی کو پیچھے سے جا کے زور سے ہگ کر لوں اور اپنے دِل کی بات کہ دوں . . سچ کہتے ہیں محبت انسان کے دماغ کو کہیں کا نہیں چھوڑتی اور انسانی دماغ کو زنگ لگا دیتی ہے

Posted on: 03:58:AM 14-Dec-2020


4 0 773 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 1 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com