Stories


گشتی مزا شرمندگی از فلاور 1397

نوید پچیس سال کا ایک بھرپور جوان لڑکا تھا ، چھ فٹ کے قریب قد ، رنگ گورا ، چوڑی چھاتی اور دیکھنے میں بہت خوبصورت تھا - لڑکیاں پہلی نظر میں ہی اس پر فدا ہونے کو تیار ہو جاتی تھیں لیکن وہ خود بہت شرمیلا تھا اسلئے آج تک وہ کسی کنواری چوت سے مستفید نہیں ہو سکا تھا - نوید بچپن میں ہی بری صحبت کا شکار ہو گیا تھا اور بری صحبت نے اس پر خوب رنگ جمایا تھا ، رنڈی بازی کا بہت شوقین تھا وہ اپنے شہر کے سارے کوٹھوں سے واقف تھا، اس کی سارے دوست عیاش طبعیت کے مالک تھے اسلئے وہ خود بھی عیاشی کا دلدادہ تھا، لیکن گھر میں اس کا امیج بہت اچھا تھا کیونکہ وہ سارے پنگے دن کو ہی نمٹاٹا تھا اور رات کو جلد ہی گھر آ جاتا تھا - بکرا عید قریب آ رہی تھی اس کا والد بہت مصروف تھا اور اس کے پاس قربانی کا جانور لینے کے لئے بھی وقت نہیں تھا اس لئے اس نے نوید کو پچیس ہزار دئیے کہ بیٹا بکرا منڈی سے قربانی کے لئے بکرا لیتے آنا - نوید نے سعادت مندی سے سر ہلایا اور پیسے پکڑ لئیے - ایک بجے کے قریب گھر سے بکرا لینے کی غرض سے نکلا تو راستے میں اسے راشد مل گیا - یہ راشد ہی تھا جس نے نوید کو رنڈی بازی کی طرف مائل کیا تھا ،نوید راشد سے : ابے سالے کہاں سے آ رہا ھے ؟ ریشم بائی کے کوٹھے کے پاس سے گزر رہا تھا تو ھیلو ہائے کے لئے اندر چلا گیا ، وہاں تو اک پری چہرہ دیکھ کر دنگ ہی رہ گیا ، کیا زبردست پٹاخہ لڑکی ھے ، گورا رنگ ، لمبا قد اور چھاتی ! . . . چھاتی تو قیامت ھے قیامت ، دیکھ کر لن میں ہلچل ہونے لگی تھی ، راشد نے نوید کو بتایا تو نوید کے منہ میں بھی پانی بھر آیا - یار پھر تم نے اس کی پھدی لی ؟ نوید نے راشد سے پوچھا - یار وہ مزے لے لے کر چودنے والی چیز ھے ، چار پانچ گھنٹے کے لئے اسے بک کر کے چودوں گا ابھی میرے پاس پندرہ سو تھے پانچ گھنٹے کے دس ہزار لیتی ھے راشد نے نوید کو بتایا تو نوید کے لن نے بھی انگڑائی لی اور ان دیکھی حسینہ کی چوت لینے کا ارادہ بنا لیا - یار راشد اس وقت میرے پاس پچیس ہزار ہیں لیکن میں بکرا خریدنے جا رہا ھوں لیکن تم نے جتنی تعریفیں کی ہیں تو میرا دل کر رہا ھے بکرے کی جگہ اس حسینہ کی چوت لے لوں - نوید نے کہا تو راشد نے کہا چل یار ابھی چلتے ہیں اس کے پاس صبر مجھ سے بھی نہیں ہو رہا ، دس ہزار تم مجھ سے کل لے لینا اور بکرا بھی کل لے لینا، نوید نے بھی اپنی رضامندی دے دی اور وہ دونوں ریشم بائی کے کوٹھے /اڈے کی طرف چل دئیے - راشد اور نوید ریشم بائی کے کوٹھے میں داخل ہوئے تو سامنے تین چار لڑکیاں بیٹھی تھیں ، نوید ان سب سے واقف تھا اور ان سے سیکس بھی کیا ہوا تھا ، تھیں تو وہ بھی اچھی شکل صورت کیں لیکن ان کے انداز و اطوار گشتیوں جیسے تھے ، مطلب چہرے کے تاثرات میں مصنوعی پن تھا جسے دیکھ کر ہی پتا چل جاتا ھے کہ یہ گشتیاں ہیں - نوید نے راشد کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا کہ کہاں ھے وہ لڑکی جس کی تعریف میں تم زمین آسمان کے قلابے ملا رہے تھے ؟ راشد نے وہاں بیٹھی ہوئی ایک گشتی سے پوچھا جو نئی لڑکی ادھر آئی ھے وہ کہاں ھے ؟ گشتی مسکراتے ہوئے: لگتا ھے دل میں اتر گئی ھے نیلم ؟ وہ واش روم میں ھے ابھی آتی ھے - اسی اثنا میں ریشم بائی بھی ایک کمرے سے نکل کر آتی ھے اور نوید کو دیکھ کر کہتی ھے ، " سوھنیو بہت عرصے بعد ادھر کا چکر لگایا ھے آج " - بس جی آنے کا وقت ہی نہیں ملا ، نوید نےکہا تو راشد درمیان میں بول پڑا، آج بھی میں ہی اسے لے کر آیا ھوں نئی لڑکی دیکھ کر صبر نہیں ھو رہا تھا -ریشم بائی: نیلم ھے ہی ایسی جو اسے دیکھ لے رات اسے نیند ہی نہیں آتی - نیلم کے آگے تو پریاں بھی پانی بھرتی نظر آئیں - ریشم بائی نئی آنے والی لڑکی کی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھی کہ اسی اثنا میں نیلم ایک طرف سے آتی دیکھائی دی جسے دیکھ کر نوید کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی - معصوم شکل ، گورا رنگ ، اونچا قد ، جسم کے نصیب و فراز غضب ڈھا رہے تھے ، اونچی چھاتیاں ، نیلم قیامت تھی قیامت ! راشد اور ریشم بائی کی تعریف سے بڑھ کر حسین تھی نیلم - نیلم کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس کے چہرے پر گشتیوں والی کوئی بات نہ تھی اس کے چہرے پر کسی قسم کا کوئی میک اپ نہیں تھا حتی کہ ہونٹوں پر لپ سٹک بھی نہیں تھی اور وہ ایک مکمل گھریلو لڑکی نظر آ رہی تھی اور نوید کے دل میں اس کی خوبصورتی اور سادگی گھر کر گئی - اس نے دونوں سے ایک مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ملایا اور ایک طرف جا کر بیٹھ گئی - راشد نے ریشم بائی سے کہا کہ ہم نیلم کے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں تو اس نے کہا ایک ٹائم کا پندرہ سو اور نائٹ کا پچیس ہزار - راشد نے کہا کہ ہم اسے چار پانچ گھنٹوں کے لئے لے جانا چاہتے ہیں ،راشد اس سے پہلے بھی نائٹ پروگرام کے لئے ریشم بائی سے لڑکیاں لے جا چکا تھا اور ریشم کو اس پر مکمل اعتماد تھا اسلئے اس نے ساتھ بھیجنے میں کوئی تامل نہ کیا اور راشد سے کہا پانچ گھنٹوں کے پندرہ ہزار روپے ہونگے - راشد نے کہا ریشم جان اب تم مجھ سے بھی بھاؤ تاؤ کرو گئی ، میں نے آج تک کسی لڑکی کو اس کی خوبصورتی سے کم پیسے نہیں دئیے ، اس کے فائنل میں دس ہزار دوں گا اور شام سات بجے سے پہلے واپس گھر پہنچا بھی دوں گا - ریشم بائی اور راشد کے درمیان بات بارہ ہزار میں طے پا گئی اور راشد اور نوید اسے راشد کے ایک خالی مکان میں لے گئے - راشد اور نوید دونوں کو ہی نیلم بہت پسند آئی تھی اسلئے دونوں پہلے نیلم سے سیکس کرنا چاہتے تھے- اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ دونوں پہلے سیکس کرنے پر باضد ہو جائیں اس بار دونوں ہی تنگ دلی کا مظاہرہ کر رہے تھے نیلم پر دونوں میں سے کوئی بھی کمپرو مائز کرنے کو تیار نہیں تھا نیلم اس دوران ان دونوں کی طرف دلچسپی سے دیکھ رہی تھی اور مسکرا رہی تھی ، جب کافی دیر کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تو نیلم کہنے لگی ، آپ دونوں اگر اسی طرح بحث کرتے رہے تو کوئی بھی مجھ سے سیکس نہیں کرسکے گا کیونکہ وقت ایسے بحث میں ہی گزر جائے گا ، آپ دونوں ٹاس کیوں نہیں کر لیتے ؟ نیلم کی تجویز پر وہ دونوں ٹاس کے ذریعے فیصلہ کرنے پر رضامند ہو گئے ، ٹاس ہوا اور نوید جیت گیا ، دونوں میں طے یہ پایا کہ ساڑھے چار بجے تک نوید سیکس کرے گا اور پھر سات بجے تک راشد ، راشد بعد میں نیلم کو ریشم بائی کے پاس چھوڑ آئے گا - نوید نیلم کے ساتھ ایک کمرے میں چلا گیا جبکہ راشد دوسرے کمرے میں جا کر ٹی وی دیکھنے لگا - نوید اور نیلم کمرے میں جا کر بیڈ پر بیٹھ گئے ، نوید نے نیلم سے پوچھا کہاں کی رہنے والی ہو تو اس نے کہا فیصل آباد کی ، آج سے میں فیصل آباد کے حسن کا قائل ہو گیا ھوں بہت حسین ہو تم ، تم سے ملاقات زندگی بھر نہیں بھلا پاؤں گا کیونکہ ایسا حسن میں نے آج تک نہیں دیکھا نوید نے کہا تو نیلم نے کہا اب ایسی بھی بات نہیں - نوید : ایسی ہی بات ھے اور یہ کہتے ہوئے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا اور نیلم کو اپنے سینے سے لگا لیا ، نیلم کی چھاتیاں نوید کے سینے سے لگی تو اس کے سینے میں سرور کی ایک لہر دوڑ گئی اور اس نے بے اختیار نیلم کو اپنے سینے میں مزید بھینچ لیا اور اپنے ہونٹ نیلم کے گلاب کی پنکھڑیوں جیسے نرم اور سرخ ہونٹوں سے ملا دئیے اور انھیں بیتابی سے چومنے اور چوسنے لگا ، نوید کی بیتابی دیکھ کر نیلم نے بھی بھرپور رسپانس دینا شروع کر دیا اور اس نے اپنی زبان نوید کی منہ میں گھمانا شروع کر دی نیلم اپنی زبان اس کے منہ میں کر کے واپس کھینچ لیتی اور نوید کی زبان اس کا تعاقب کرتے ہوئے نیلم کے منہ میں چلی آتی ، دونوں ہی ایکدوسرے کی زبان اور ہونٹ چوس رہے تھے ، چاٹ رہے تھے اور چوم رہے تھے - نوید کو ایسے لگ رہا تھا کہ وہ پہلی بار کسی لڑکی سے کسنگ کر رہا ھے اس سے پہلے اتنا بھرپور ساتھ کسنگ میں کسی گشتی نے نہیں دیا تھا ، نوید کے لئے یہ مزا نیا اور انوکھا تھا ، نوید نے چومتے چومتے نیلم کو بیڈ پر لٹا لیا اور اس کے اوپر آ کر اسے چومنے لگا ، اس کے گالوں ، ہونٹوں اور گردن کو بڑی بے صبری سے چوم اور چاٹ رہا تھا اور جب نیلم کی گردن کو نوید کے ہونٹ چھوتے تو نیلم کے منہ سے ایک لذت بھری سیکسی سی سسکاری نکلتی جس کی آواز نوید کے جوش کو مزید بھڑکا دیتی اور وہ مزید جوش سے دیوانہ وار نیلم کو چومنا شروع کر دیتا ، اس دوران نوید کا لن کھڑا ہو چکا تھا اور تھوڑا تھوڑا پانی نیلم کی چوت بھی چھوڑنا شروع ہو گئی تھی ، نوید نے نیلم کی قمیض اوپر کی تو نیلم نے اسے اتار ہی دیا ، کیا دودھیا سفید جسم تھا اور اس پر کالی برا بہت زبردست منظر تھا - بھرپور جاندار چھاتیاں کالے برا میں قید تھیں جسے نوید نے فوری قید سے رہائی دلوا دی ، کھڑی پنک نپلز دیکھ کر نوید سے صبر بالکل بھی نہیں ہو سکا اور اس نے انہیں اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں تھام لیا اور سہلانا شروع کر دیا ، نوید جیسے جیسے اس کی چھاتیاں سہلا رہا تھا نیلم کے جسم میں مستی کی لہریں گردش کرنا شروع ہو گئی تھیں اور اس کی سانسیں تیز ہو گئیں ، نوید نے نیلم کی نپل جیسے ہی منہ میں لی تو اس کے منہ سے لذت بھری سسکاری نکلی ، نوید نے اس کی چھاتی پر زبان پھیرنا شروع کر دی اور کبھی دانتوں سے دباتا جس سے نیلم کو بھی بہت مزا آرہا تھا - نوید کا لن اب مکمل تناؤ کی حالت میں آ چکا تھا ، اب اس سے مزید صبر نہیں ہو رہا تھا ، اس نے نیلم کی شلوار پر ہاتھ ڈالا اور اسے اتار دیا ، نیلم کی گوشت سے بھرپور پھولے ہوئے لپس والی پھدی نوید کے سامنے تھی نوید جب سے جوان ہوا تھا وہ گشتیوں/رنڈیوں کو ہی چودتا آیا تھا لیکن نیلم اس کی زندگی میں آنے والی پہلی گشتی تھی جس میں گشتیوں والی کوئی بات نہیں تھی ، نیلم کی پھدی گھریلو لڑکیوں کی طرح تھی ، پھولی ہوئی اور لپس آپس میں جڑے ہوئے ، نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے نیلم کی چوت پر بے اختیار کس (kiss) کر دی ، اس سے پہلے کہ نوید اپنی زبان اس کی چوت میں کرتا کہ نیلم نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے کا چہرہ اپنی پھدی سے پرے کر دیا ، نوید نے سوالیہ نظروں سے نیلم کی طرف دیکھا تو نیلم نے اس سے کہا ، " آج بہت عرصے بعد کسی کی آنکھوں میں اپنے لئے چاہت دیکھی ھے ، تمہارا میری طرف والہانہ نظروں سے دیکھنا مجھے میرا ماض یاد دلا رہا ھے ، تم میں اپنائیٹ ھے تم دوسرے کسٹمزر کی طرح نہیں ہو ، میں تمہیں اپنی چوت نہیں چاٹنے دوں گی کیونکہ بہت سارے گھٹیا لوگوں کا گند اس میں آیا ھے اور گند پہ ایک عاشق منہ مارے یہ اسے زیب نہیں دیتا اور نہ ہی مجھ سے یہ برداشت ہو گا " - پھدی سامنے تھی اور لن کھڑا تھا ، جذباتی باتیں وہ بھی ایک گشتی کے منہ سے نوید کو زیادہ متاثر نہ کر سکیں ، نوید صرف اس کی باتوں پہ مسکرا کے رہ گیا اور اس نے نیلم کی ٹانگیں کھولیں اور اپنا لن اس کی پھدی کے لپس کے درمیان ایڈجسٹ کیا اور اھستگی سے لن آگے کرنے لگا ، لن بنا کسی رکاوٹ کے چوت کی گہرائیوں میں اترنے لگا اور آہستہ آہستہ جڑ تک چوت میں اتر گیا ، نیلم کی چوت بھی عام گشتیوں کی طرح تھی جس میں لن آسانی سے چلا جاتا ھے ، اوپر سے مس ورلڈ اور نیچے سے گاؤں کی وہ لوفر لڑکی جس نے گاؤں کے ہر لڑکے کی جوانی میں اہم کردار ادا کیا ہو - فرق صرف یہ تھا کہ نیلم کی چوت گیلی تھی اور اس نے فورپلےforeplay انجوائے کیا تھا جو کہ عام گشتیاں نہیں کرتیں وہ سیکس کو ڈیوٹی سمجھ کر کرتی ہیں اسلئے دل سے نہیں کرتیں جبکہ نیلم تو مزے سے چدوا رہی تھی ، نوید نے لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا اور اپنی سپیڈ آہستہ آہستہ بڑھانے لگا ، لن اب تیزی سے وادئ چوت کی سیر کرنے لگا اور نیلم کے منہ سے اس سیر کی نشانیاں آہ . . . . آہ . . . . . اں . . . . او . . . . آں . . . . . اہ . . . . . . آھ . . . . ظاہر ہونے لگیں ، جنھیں سن کر نوید کا لن اور تیزی سے بھاگنے لگا اور اس کی تیزی کے ساتھ ساتھ نیلم کے منہ سے نکلنے والی لذت سے بھرپور سسکاریاں بھی بلند ہونے لگیں ،سامنے سے کرنے سے پھدی کھلی ہوئی محسوس ہوتی ھے اور پیچھے سے تھوڑا پھنس کر جاتا ھے شاید یہ سٹائل کا اثر ہوتا ھے نوید کو پہلے بھی اس چیز کا احساس تھا اس لئے وہ کھلے پھدے والی گشتیوں پر ڈوگی سٹائل ضرور آزماتا تھا ، نوید نیلم کے کولہوں کو مضبوطی سے تھامے ہوئے اس کی پھدی میں زوردار جھٹکوں سے لن اندر باہر کر رہا تھا ، لن اور گانڈ کے ٹکرانے سے ٹھک ٹھک کی آوازیں پیدا ہو رہیں تھیں ساتھ ہی نیلم کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں ، لن تیزی سے نیلم کی چوت کے اندر باہر ہو رہا تھا اور دونوں گناہ اور مزے کی داستان رقم کر رہے تھے ، نوید کو تو مزا آ ہی رہا تھا لیکن نوید کے جاندار جھٹکے نیلم کو بھی مزا دے رہے تھے اسلئے جب نوید اپنا لن ایک جھٹکے سے اندر کرتا تو نیلم اپنی گانڈ سے پیچھے کو جھٹکا لگاتی تھی اسطرح لن پھدی میں ایک زوردار سٹ مارتا تھا جس سے نیلم مزے کی اتھا گہرائیوں میں ڈوب جاتی - یہ کھیل چند منٹ مزید جاری رہا اور نیلم مزے کی تاب نہ لاتے ہوئے ڈسچادج ہو گئی اور پھر کچھ جھٹکوں کے بعد نوید بھی ڈسچادج ہو گیا ، یہ ایک بھرپور اور مزے دار چدائی تھی جس کو نوید اور نیلم دونوں نے بھرپور انجوائے کیا تھا سیکس کرنے کے بعد دونوں لیٹ گئے ، کمرے میں کوئی کپڑا نہیں تھا اسلئے نیلم نے اپنے پرس سے ٹشو نکالے اور ان سے اپنی پھدی اور نوید کا لن صاف کیا اور ٹشوز ڈسٹ بن میں پھینک دئیے ، چند منٹ بعد نیلم اٹھی اور واش روم چل دی ، نوید بھی پیچھے واش روم چل دیا ، نیلم وہاں اپنی پھدی پر پانی بہا رہی تھی اور اسے صاف کر رہی تھی ، نوید اسے خاموشی سے دیکھتا رہا اور جب وہ اٹھی تو نوید نے اسے پکڑ لیا ننگے تو وہ پہلے سے ہی تھے اسلئے نوید نے ڈائریکٹ اس کے ممے پر حملہ کیا اور اس کی نپل چوسنے لگا ، نیلم اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی اور نوید مزے سے اسکی چھاتی اور نپلز چوسنے اور چاٹنے لگا ، نوید اس کی چھاتی کو اکٹھا کر کے ساری کی ساری منہ میں لینے کی کوشش کرنے لگا لیکن آدھی سے زیادہ چھاتی منہ میں نہ لے سکا ، نیلم کو بہت مزا آ رہا تھا اور وہ نوید کا سر اپنی چھاتی کی طرف دبا رہی تھی کافی دیر ایسے ہی چلتا رہا پھر نیلم نے اسے خود سے علیحدہ کیا اور نل کھول دیا ، پانی ایک پھوار کی صورت میں دونوں پر گرنے لگا ، نیلم نے صابن ہاتھوں پر ملا اور نوید کے لن پر ملنے لگی ، اس نے اچھی طرح سے نوید کا لن دھویا .‏‎ ‎ لن دھونے کے بعد نیلم نے نوید سے جپھی ڈال لی اور پانی کے نیچے ہو گئی - دو جلتی جوانیوں پر پانی برس رہا تھا لیکن آگ بجھنے کی بجائے بڑھ رہی تھی ، پانی بھی جلتے جذبات کو سرد کرنے کی بجائے تیل کا کام کر رہا تھا اور جذبات میں آگ کی شدت بڑھ رہی تھی اور یہ شدت نوید کے کھڑے لن اور نیلم کی بہکتی سانسوں میں دیکھی جا سکتی تھی - نوید نے نیلم کا سر نیچے اپنے لن کی طرف جھکانے کی کوشش کی تو نیلم سمجھ گئی کہ نوید اس سے چوپا لگوانا چاہتا ھے ، یہ اس کی لئے نیا نہیں تھا نیلم اس سے پہلے بھی کئی کسٹمرز کا چوپا لگا چکی تھی اسلئے وہ بلاجھجک گھٹنوں کے بل نیچے ہو گئی اور نیلم کا منہ نوید کے لن کے بلکل سامنے آ گیا ، نیلم نے اپنے بائیں ہاتھ سے اس کے لن کو پکڑا اور انگوٹھے سے اس کی ٹوپی کے سوراخ کو صاف کیا اور ٹوپی پر زبان کی نوک لگائی اور لن کی ٹوپی کے اردگرد زبان پھیرنے لگی ، نوید نے نیلم کے بالوں کو پکڑ لیا اور اپنا لن اس کے منہ میں گھسانے کی کوشش کرنے لگا -‎نیلم نے اس کے لن کی ٹوپی اپنے منہ میں لے لی،ایک تو نیلم کے سانسوں کی گرماہٹ اوپر سے اس کے منہ کا لمس نوید کو مزے کے جہان کی بلندیوں پر لے گیا ، نیلم کے چوپے میں ایک عجیب سا مزا تھا ایک عجیب سی گدگدی تھی اور ایک انوکھا نشہ تھا ،نیلم کی ایک اور خوبی ظاہر ہوئی تھی کہ وہ چوپا سپیشلسٹ بھی تھی - نیلم نے نوید کا لن آہستہ آہستہ سارا منہ میں لے لیا اور اس کو اپنے منہ میں اندر باہر کرنے لگی ، نوید کا سارا لن نیلم کے تھوک سے لتھڑا ہوا تھا اور وہ بڑے مزے اور انہماک سے نوید کا چوپا لگا رہی تھی ، منٹ چار سے پانچ گزرے ہوئے ھوں گے کہ نوید کی ایسے لگا جیسے اس کے لن پر چونٹیاں رینگنے لگی ھوں اور اس کے لن میں سنسناہٹ ہونے لگی ، ادھر نیلم کے گلابی ہونٹوں سے رگڑ کھاتا ہوا نوید کا لن اس کے منہ میں آ جا رہا تھا ادھر نوید کے لن میں سنسناہٹ آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی اور اس کا لن ہلکے ہلکے جھٹکے کھانے لگا ، نیلم کو احساس ہو گیا کہ نوید بس اب چھوٹنے ہی والا ھے تو اس نے نوید کا لن منہ سے باہر نکالا اور ہاتھ سے اس کی مٹھ مارنے لگی ،نوید کے لن نے نیلم کے ہاتھ میں چند جھٹکے کھائے اور سفید سے پانی کی ایک لمبی سی لکیر پچکاری کی صورت میں نکلی اور سیدھی واش روم کی دیوار اور کچھ نیچے فرش پر گری ، نیلم نے نوید کو منہ کے ذریعے دوسری بار میں ڈسچادج کرا دیا تھا - نہا دھو کر نیلم اور نوید واش روم سے باہر نکل آئے ، تولیہ سے جسم صاف کرنے کے بعد نوید نے کپڑے پہنے اور نیلم کو بھی کپڑے پہننے کا کہا - نیلم تھوڑا حیران ہوتے ہوئے "کیوں جی جانے کا ارادہ ھے کیا ؟ " نوید نے کہا " حسن تو کپڑوں میں ہی اچھا لگتا ھے ، دو دفعہ ڈسچادج ہو چکا ھوں اب تیسری دفعہ تھوڑا وقفہ ہونا چاہئے ، اس دوران تم ننگی رھو مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگے گا کیونکہ میں حسن کو کپڑوں میں دیکھنے کا قائل ھوں -" یہی تو فرق ھے ایک عاشق اور ہوس کے پجاری میں - ہوس حسن کو کپڑوں کے بغیر دیکھنا چاہتی ھے ، ہوس کے پجاری کو کیا خبر کہ حسن کیا ہوتا ھے ؟ اس کے لئے جوہڑ اور اس کی سطح پر کھلا ہوا کنول کا پھول ایک جیسی حثیت رکھتے ہیں اتفاقیہ ہاتھ لگنے پر پھول کو چٹکیوں میں مسل دیتے ہیں یہ ہوس کے پجاری - لیکن ایک عاشق کے لئے حسن کلیوں کے گچھے میں گلاب کی مانند ھے جسے دیکھ کر روح تک معطر ہو جاتی ھے " نیلم نے عشق اور ہوس کا عجیب فلسفہ بگھارتے ہوئے کہا تو نوید کو اس کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگانے میں کوئی دقت نہ ہوئی کہ اس لڑکی کو محبت کا ڈنک لگا ہوا ھے اور زہر پوری طرح اس کے رگ و رپے میں سما چکا ھے ، ہر کنجری کے پیچھے اک دکھ بھری داستان ہوتی ھے ، نوید کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی ، اس نے وقت پاس کرنے کی خاطر نیلم سے پوچھا ، تمہاری باتوں میں بہت درد ھے کیا محبت کی ڈسی ہوئی ہو ؟ کاش ! میں صرف محبت کی ڈسی ہوتی تو کوئی بات نہیں تھی ، میں تو وہ بدنصیب ھوں جس نے اپنے والدین کی عزت خاک میں ملائی اور آج اس کا نتیجہ ھے کہ در در کی ٹھوکریں کھا رہی ھوں ، روز مختلف بستروں کی زینت بن رہی ھوں ، میں گھر سے بھاگی ہوئی ایک ایسی بدنصیب لڑکی ھوں جس کی کوئی منزل نہیں کوئی سہارا نہیں ، میں اک بے نام لڑکی ھوں جسے اب اس کے سگے ماں باپ بھی اپنانے کو تیار نہیں ، جن بھائیوں کو اپنے ہاتھوں سے پالا تھا آج وہ میرا نام سننے کے بھی روادار نہیں کیونکہ میں ان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ھوں - مجھ پر گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کا لیبل لگ چکا ھے جو میرے مرنے کے بعد بھی مجھ پر سے نہیں اتر سکتا ، روز مرتی ھوں روز جیتی ھوں ، کاش کہ میں بزدل نہ ہوتی تو کب کی خودکشی کر کے مر گئی ہوتی ، نیلم نے دکھی لہجے میں اپنی داستان سنانا شروع کی تو اس کے چہرے پر حزن و ملال لکھا صاف نظر آ رہا تھا ، نوید نے اس سے سوال کیا تم گھر سے بھاگی کیوں تھی ؟ میری عقل پر پردہ پڑ گیا تھا ، میں بھول گئی تھی کہ میں جس معاشرہ میں رہتی ھوں وہ سب کچھ بھول جاتا ھے لیکن گھر سے بھاگی لڑکی کو کبھی نہیں بھولتا ، *************** محلے کی سب سے حسین لڑکی میں تھی ، میں جب جوان ہوئی تو بہت سارے لڑکوں نے مجھ سے دوستی کرنے کی کوشش کی لیکن باپ کی عزت اور بھائیوں کے وقار کی خاطر میں نے کسی کو لفٹ نہیں کروائی ، میں نے اپنی عزت سے زیادہ گھر والوں کی عزت کا خیال رکھا ، بھائی کی شادی ہوئی تو شادی کے دنوں میں اپنے ایک کزن کے آنکھوں میں اپنے لئے محبت دیکھ کر اسے دل دے بیٹھی ، تنہائی دیکھ کر اس نے مجھے پرپوز کیا تو میں نے اس کے پرپوزل کا مثبت جواب دیا اور کچھ ہی دنوں بعد اس نے میرے گھر اپنے والدین کے ہاتھوں رشتہ بھیجا لیکن میرے باپ نے وہ رشتہ اس لئے ٹھکرا دیا کہ اس کی انکم بہت کم ھے - والدین جو اولاد کے لئے ہمیشہ اچھا ہی سوچتے ہیں لیکن اولاد شاید اس کا صحیح سے ادراک نہیں رکھتی ، میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا- میرے والدین نے مجھ سے پوچھے بغیر میری پہلی محبت چھین لی مجھ سے - میں نے امی سے بات کی تو انھوں نے بھی اس معاملہ میں پڑنے سے انکار کر دیا - میری نادانی تھی کہ میں ان سے بدظن ہو گئی اور انھیں سبق سکھانے کا سوچ لیا - اسی سوچ سے میری بربادی کا آغاز ہوا ،میرے کزن نے کچھ ہی عرصے بعد کہیں اور شادی کر لی، اس رات میں بہت روئی لیکن میرے آنسو پونچھنے والا کوئی نہیں تھا - اس رات میں نے ایک فیصلہ کیا - وہ فیصلہ تھا گھر سے بھاگنے کا، کچھ ہی عرصے بعد میں نے ایک لڑکے سے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی - جس کا خمیازہ آج میں بھگت رہی ھوں - نیلم اپنی داستان سناتے ہوئے خاموش ہوئی تو نوید نے پوچھا شادی کا انجام کیا ہوا ؟ انجام کیا ہونا تھا ؟ وہی ہوا جو گھر سے بھاگی ہوئی ہر لڑکی کا ہوتا ھے - پہلے چند ماہ ایسے رکھا جیسے شہزادی ھوں میں - پھر آہستہ آہستہ گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کا طعنہ ، نندیں اور ساس میرے خاوند کو میرے خلاف بھڑکانے لگیں کیونکہ میں شادی کے اتنے ماہ بعد بھی حاملہ نہیں ہوئی تھی ایک دن ساس نے مجھے طعنہ دیا تو میں نے اس کھری کھری سنا دیں تو رات اس نے میرے خاوند سے میری شکایت کی اور کہا کہ جو اپنے سگے ماں باپ کی نہیں بن سکی وہ ہماری کیا بنے گی ؟ اسے طلاق دے دو - اس بات پہ میرا خاوند خاموش رہا ، اس دن کے بعد سے ہماری تو تو میں میں ہونے لگی اور پھر بات طلاق تک جا پہنچی ، اس نے مجھے گھر سے نکال دیا -مختلف ہاتھوں سے ہوتے ہوئے میں آج ریشم بائی کے پاس ھوں ، نیلم نے کہا تو نوید نے پوچھا ، تمہارا مستقبل کیا ھے ؟ مستقبل تو ان لڑکیوں کا ہوتا ھے جن کی شادی ان کے والدین کرتے ہیں ، گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا نیلم نے کہا - کیا ایسے ہی زندگی گزار دو گئی ؟ نوید نے نیلم سے پوچھا تو اس نے کہا کہ کچھ پیسے جمع کر کے کراچی چلی جاؤں گی اور وہاں جاکرکوئی نوکری کروں گی ، کسی بیوقوف کو پھانسوں گی ، اس سے شادی کر کے گھر بساؤں گی زندگی کی سب سے بڑی بیوقوفی کی ھے تم نے نیلم ، آج نہ تمہارے ساتھ تمہارا کوئی اپنا ھے اور نہ کوئی تمہیں اپنانے کے لئے تیار ھے - کیسے رھو گی ماں باپ اور بہن بھائیوں کے بغیر ؟ یہ پہاڑ سی زندگی اپنوں کے بغیر کیسے بسر کرو گی ؟ زندگی تو دکھ سکھ کا نام ھے اور جب دکھ سکھ میں اپنے ساتھ ھوں تو یہ زندگی جنت لگتی ھے اور جب اپنے ہی ساتھ نہ ھوں تو یہ دنیا جہنم بن جاتی ھے - اپنی پسند کے لن کے حصول کے لئے تم نے اپنی یہ زندگی خود ہی جہنم بنا لی ھے ، نوید نے نیلم کو لیکچر دینا شروع کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے تو نوید نے اسے رونے دیا اور خاموش بیٹھا اسے دیکھتا رہا ، تھوڑی دیر بعد نوید نے اسے گلے لگا لیا اور دلاسہ دینے لگا ، نیلم بہت دکھی ہو رہی تھی اور گھر سے بھاگنے پر پشیمان تھی ، نیلم نوید کے سینے سے لگی ہوئی تھی اور اس کے بھرپور ممے نوید کے سینے سے ملے ہوئے تھے نیلم کی چھاتیوں کے گداذ نے نوید کے حیوانی جذبوں میں آگ بھڑکا دی، نوید جو کچھ دیر پہلے اس کو لیکچر دے رہا تھا اور اس کے لئے فکرمند ہو رہا تھا بھول گیا کہ اس کا بیک گراؤنڈ کیا ھے اس کے ساتھ کیا بیتی ھے اس کے ذہن میں بس اتنا یاد رہا کہ نیلم ایک خوبصورت جسم کی مالک ایک کال گرل ھے اور اس نے اس کی ادائیگی کی ھے ، ویسے بھی جب حیوانی جذبات بیدار ہو جائیں تو بندہ سب کچھ بھول جاتا ھے حتی کہ رشتوں کو بھی پامال کرنے سے نہیں چوکتا ، یہاں تو تھی ہی کال گرل اسلئے جذبوں نے زیادہ بھڑکنا تھا - نوید نے نیلم کی کمر پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا اور زور سے اپنے ساتھ بھینچ لیا
 نیلم نے جب نوید کے بھڑکتے جذبات دیکھے تو اپنے ماضی کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس کے ساتھ زور سے چمٹ گئی ، اب کی بار نوید نے کپڑے اتارنے کی بھی زحمت نہ کی اور اوپر سے ہی اس کے مموں کو منہ میں لے لیا اور انھیں چوسنے لگا ، دوسرے ہاتھ سے مموں کو دبانے لگا ، ایک چھاتی منہ میں تو دوسری ہاتھ میں تھی ، نیلم نے برا تو پہنی نہیں ہوئی تھی نوید کے تھوک سے نیلم کی قمیض اس کے مموں سے گیلی ہو چکی تھی نوید بڑی ہی بیتابی سے نیلم کو بھنبھوڑ رہا تھا ، نیلم کو نوید کی بیتابیاں بہت اچھی لگ رہی تھیں وہ بھی بڑے جوش و خروش سے اپنی چھاتیاں اس کے منہ میں گھسا رہی تھی اور منہ سے سیکسی آوازیں نکال نکال کر نوید کا جوش بڑھا رہی تھی ، نوید کا سانپ پھن تو پہلے سی ہی اٹھا چکا تھا اب نیلم کی سریلی بین جیسی سیکسی آوازوں سے مزید تن گیا اور دم کے بل کھڑا ہو گیا ، نوید نے اپنے سانپ کو سوراخ میں گھسانے کے لئے نیلم کی شلوار اتار دی اور سانپ کو سوراخ کے سامنے چھوڑ دیا ، جب سانپ نے سوراخ دیکھا تو ایک دم تیزی سے اس کی طرف بڑھا اور ایک ہی جست میں سارے کا سارا اس میں گھس گیالیکن سانپ کو شاید پتا نہیں تھا کہ سوراخ میں نیولا ھے ، آگے سے اس نے سانپ کو چاروں طرف سے قابو کر لیا لیکن اس کی پکڑ میں تھوڑی لچک تھی اس لئے سانپ خود کو چھوڑا کر سوراخ سے باہر نکل آیا اور پھر دوبارہ جوش سے حملہ کیا لیکن سانپ کے حملے نے نیولے پر کچھ زیادہ اثر نہ کیا کیونکہ نیولا روزانہ ایسے بہت سے سانپوں کا مقابلہ کرتا تھا ابتدا میں جب سانپ اور نیولے کی پہلی لڑائی ہوئی تھی تو سانپ نیولے کو تھوڑا زخمی کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا لیکن بعد میں نیولا بہت تجربہ کار ہو گیا اور سانپوں کے حملے اس پر کسی قسم کا اثر نہیں ڈالتے تھے ، سانپ بہت غصے سے پینترے بدل بدل کر حملہ آور ہو رہا تھا لیکن نیولے کا کچھ نہ بگاڑ سکا ، نیولا نے تھوڑی دیر سانپ کے حملوں کو برداشت کیا اور پھر اسے گردن سے قابو کر لیا اور سانپ کا سارا زہر سوراخ میں ہی بہہ گیا اور سانپ نڈھال ہو کر سوراخ سے باہر نکل کر گر گیا - نوید کو نیلم سے سیکس کرنے میں بہت مزا آیا، دو دفعہ چدائی اور ایک دفعہ چوپا لگوانے سے ہی وہ نیلم کا دیوانہ ہو گیا تھا ابھی اس کا دل نہیں بھرا تھا لیکن راشد کا ٹائم شروع ہونے والا تھا ، سوا چار ہو چکے تھےنوید نے نیلم سے الوداعی جپھی ڈالی اور کل اس سے ریشم بائی کے اڈے پر ملنے کا وعدہ کیا اور راشد کو بلا لیا ، سیکس کرنے کے بعد نیلم کو واپس راشد نے چھوڑنا تھا ، اب وہاں نوید کا کوئی کام نہیں تھا اسلئے نوید نے راشد سے اجازت لی اور گھر چلا آیا ، نوید کے گھر والوں نے بکرے کا پوچھا تو نوید نے بہانہ بنایا کہ کل اس کے دوست نے گاؤں سے بکرے لانے ہیں جو گھر کے پلے ہوئے ہیں سستا بھی ہو گا اور اچھا بھی ، گھر والے مطمئین ہو گئے - اگلے دن صبح دس بجے کے قریب راشد کا فون آیا کہ یار میری طرف آ جاؤ - نوید راشد کے گھر گیا اور دونوں بیٹھک میں بیٹھ گئے ، یار بہت کمال کی گشتی تھی آج سے پہلے اتنا مزا کسی گشتی نے نہیں دیا ، چدوانا اس سے سیکھیں یہ گشتیاں - چائے پینے کے دوران نیلم کے بارے میں راشد نے اپنے ریمارکس دئیے ، ہاں یار نیلم میں کچھ خاص بات تھی جو عام گشتیوں میں نہیں ہوتی - راشد اور نوید اپنے کل کے تجربے سے بہت خوش اور مطمئین تھے اور دوبارہ سے اسے لانے کا ارادہ رکھتے تھے - راشد نے اسے پیسے واپس کئے اور نوید وہاں سے بکرا منڈی روانہ ہو گیا - وہاں سے اس نے ایک درمیانہ سا بکرا بائیس ہزار میں خریدا اور گھر آ گیا - ********************** نوید نے گھر پہنچ کر کھانا کھایا اور سو گیا ، سوتے میں اس نے خواب دیکھا جس میں وہ نیلم سے ملاقات کر رہا تھا اور پھر وہ کمرے میں داخل ہو رہے ہیں سیکس کرنے کے لئے - ابھی نوید نیلم کی قمیض ہی اتارتا ھے کہ اس کی آنکھ کھل جاتی ھے -آنکھ کھلنے کے بعد نوید کے ذہن میں کافی دیر نیلم کا سراپا گھومتا رہا اس کے جسم کے نشیب و فراز نوید کی آنکھوں کے سامنے ناچ رہے تھے جتنا وہ ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کرتا اتنا ہی نیلم اس کے حواسوں پر چھا رہی تھی ، ہوس سوچ پر غالب آ گئی اور نوید کے قدم ریشم بائی کے کوٹھے کی طرف چل پڑے - نوید ریشم بائی کے کوٹھے میں داخل ہوا تو ریشم بائی نے اس کا ایک مسکراہٹ سے استقبال کیا - وہاں تین لڑکیاں تھیں لیکن ان میں نیلم نہ تھی ، نوید نے نیلم کا پوچھا تو ریشم بائی نے کہا کہ وہ بکنگ پر گئی ھے اور صبح واپس آئے گی ، نوید یہ سن کر بہت مایوس ہوا ، نیلم بائی نے کہا کہ ایک تئی لڑکی آئی ھے اس کے ساتھ بیٹھنا چاہو گے ؟ نوید کے ذہن پر ہوس غالب تھی تو اس نے اس کے ساتھ ہی بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا - ریشم بائی نے لڑکی کو آواز دی ، لڑکی ساتھ والے کمرے میں تھی ، اس نے آواز دی "آتی ھوں " ریشم بائی نے نوید سے کہا پندرہ سو روپے دو ، نوید بڑا حیران ہوا اور کہنے لگا کہ پہلے تو ایک ٹائم کا ایک ہزار تھا ، آج پندرہ سو کیوں؟ یہ نئی لڑکی ھے (اس دوران لڑکی بھی قریب آ گئی تھی) اور نئی لڑکی کا ریٹ پندرہ سو ھے نیلم بائی نے کہا تو نوید نے لڑکی کی طرف دیکھا، وہ اٹھائیس تیس سال کی ایک خوبصورت لڑکی تھی ، نوید نے کہا کہ میں اس کا ایک ہزار دوں گا ، ریشم بائی نے کہا کہ ایک ہزار تو لڑکی کا ھے ، نوید نے مذاق میں کہا کہ یہ تو آنٹی ھے ، بس بارہ سو ہی دوں گا اسکے - ریشم بائی نے کہا چلو ٹھیک ھے نکالو بارہ سو آخر تم میرے پرانے کسٹمر ہو ، نوید نے ریشم کو ادائیگی کی اور لڑکی کے ساتھ سامنے کمرے میں چلا آیا - لڑکی نے اندر سے دروازہ بند کیا اور آ کر بیڈ پر لیٹ گئی اور ایک سائڈ سے شلوار اتاری اور ٹانگیں کھول کر کہنے لگی " آؤ کرو " - نوید ساتھ لیٹ گیا اور اس کے ہونٹوں سے ہونٹ ملانے کے لئے اس پر جھکا تو اس نے منہ سائڈ پر کر لیا اور نوید سے کہا میں ہونٹوں سے چوما نہیں کرتی ، نوید پہلے تو حیران ہوا اور پھر اس نے اپنا ہاتھ اس کی چھاتیوں کی طرف بڑھایا تو گشتی نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور کہنے لگی زیادہ ٹائم خراب نہ کرو ، آؤ کرو نوید بہت سٹپٹایا اور کہنے لگا "ایسے کیسے کروں پہلے میرا کھڑا تو کرو " - نوید کے ذہن میں کل والا تجربہ تھا نیلم نے سیکس کے دوران بہت زیادہ ساتھ/رسپانس دیا تھا اسلئے تو نوید اگلے دن ہی دوبارہ سے ریشم بائی کے کوٹھے پر آ دھمکا تھا ، لڑکی نیلم جتنی تو خوبصورت نہیں تھی لیکن اس کا شمار خوبصورت لڑکیوں میں کیا جاسکتا تھا لیکن آج صورت حال مختلف تھی ، آج ساتھ نیلم نہیں کوئی اور گشتی تھی - میں کیسے کھڑا کروں اگر کھڑا نہیں ہوتا تھا تو آئے کیوں تھے گشتی نے رعونت بھرے لہجے میں کہا تو نوید کے ماتھے پر پسینہ آ گیا ، ڈائریکٹ اس کی مردانگی پر حملہ تھا ، اس نے تھوڑا خود کو سنبھالا اور گشتی سے کہا کہ یہ ابھی کھڑا ہو جائے گا تم اس سے تھوڑا پیار تو کرو ، آنٹیاں پیار نہیں کرتیں میں بھی آنٹی ھوں تم اپنا کام کرو اور چلتے بنو گشتی نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا تو نوید کو اس کے رویے کی وجہ سمجھ آ گئی کہ یہ آنٹی کہنے کا غصہ کر گئی ھے - نہیں میری جان تم بہت خوبصورت ھو ، آنٹی کہنے کا تم تو غصہ ہی کر گئی ہو ، وہ تو میں نے پیسے کم کروانے کے لئے ایسا کہا تھا ورنہ تو تم بہت حسین ہو اور ابھی بھی لڑکی ہو ، بس بس رہنے دو ، میں کوئی لڑکی نہیں ھوں میں آنٹی ھوں تم اپنا کام کرو اور جاؤ ، گشتی نے ناراضگی سے کہا - نوید پریشان تھا کہ یہ تعاون نہیں کر رہی اور اوپر سے لن بھی کھڑا نہیں ہو رہا - نوید نے لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اسے منہ میں لو ابھی کھڑا ہو جائے گا - جی نہیں میں منہ میں نہیں لیتی گشتی نے جواب دیا - نیلم تو بڑے شوق سے چوپا لگاتی ھے اور تم کیوں نہیں لگاتی نوید نے گشتی سے پوچھا - اس کا اپنا ضمیر اور میرا اپنا ، میرا ضمیر مجھے اجازت نہیں دیتا میں نہیں لیتی منہ میں گشتی نے جواب دیا- گشتی کی طرف سے ہر بات سے انکار سے نوید پریشان ہو گیا اور پریشانی میں ابھی تک اس کا لن ابھی تک بے جان تھا ، میری جان تم بہت حسین اور خوبصورت ہو ، مجھ سے غلطی ہو گئی ھے جو میں تمہیں آنٹی کہہ بیٹھا ھوں جان معاف کر دو نوید نے منت بھرے لہجے میں کہا - میں پڑھی لکھی نہیں اور نہ ہی مجھے زیادہ باتیں آتی ہیں ، تم پڑھے لکھے لوگ اور تمہاری باتیں بھی پڑھی لکھیں میں تم سے باتوں میں نہیں جیت سکتی، ویسے تمہاری عمر کیا ھے ؟ گشتی نے ذرا نرم پڑتے ہوئے نوید سے پوچھا تو نوید نے اسے اپنی عمر سے پانچ سال زیادہ عمر بتائی - نوید نے کہا میری عمر تیس سال ھے - میری اٹھائیس سال ھے اور میں تم سے دو سال چھوٹی ھوں گشتی نے کہا - تم اک سوھنی کڑی ہو ، بس میری بیوقوفی سمجھ لو کہ میں نے تمہیں آنٹی کہہ دیا - تم اسے کھڑا کر دو میں تمہیں تین سو روپے مزید دوں گا جو میں نے کم کروائے ہیں نوید نے اسے لالچ دیتے ہوئے کہا - مجھے تمہارے پیسوں کی کوئی ضرورت نہیں ھے تم اپنا کام کرو اور بس، گشتی دوبارہ سے پچھلی ٹیون میں واپس آ گئی - نوید نے جیب سے تین سو روپے نکالے اور گشتی کے ہاتھ پر رکھ دئیے اور منت بھرے لہجے میں کہا چلو ہاتھ سے ہی کھڑا کر دو - گشتی کو نوید پہ ترس آ گیا ، نہیں شاید ترس سے زیادہ ان پیسوں کا کمال تھا جو نوید نے گشتی کو دئیے تھے گشتی نے نوید کے سوئے ہوئے لن کو اپنی انگلیوں سے تھاما اور اسے انگلیوں کی مدد سے ہی آگے پیچھے کرنے لگی اور ساتھ ساتھ طنزیہ گفتگو بھی جاری رکھی ، ایک طرف لن کو ہلا رہی تھی اور دوسری طرف طنز جاری تھا ایسے میں کیا خاک لن کھڑا ہونا تھا ؟ ایسا ہی نوید کے ساتھ ہوا، اس کا لن پوری طرح کھڑا نہ ہوا لیکن نیم ہوشیاری میں آ گیا تھا تو گشتی نے کہا چلو اب کرو - نوید اپنا ادھ کھڑا لن لے کر اس کے ٹانگوں کے درمیان ہوا اور اس کی ٹانگیں اٹھا کر اوپر کرنا چاہیں تو گشتی نے مزاحمت کی اوپر ٹانگیں اٹھانے میں اور اپنی ٹانگیں سائڈوں میں پھیلا لیں اور نوید سے کہا ایسے ہی کرو میں ٹانگیں اوپر کندھے پہ نہیں رکھنے دیتی ، گشتی کی مزاحمت اور انکار سے نوید کے لن میں جو تھوڑی بہت جان تھی وہ بھی ختم ہو گئی - پھر کیا ہوا ؟ وہی ہوا جو ایسے موقعوں پر ہوتا ھے ، سویا ہوا لن پھدی کے اوپر رگڑا جاتا ھے ، نوید نے بھی ایسے ہی کیا ، درمیان میں تھوڑی سی لن میں جان آئی لیکن جب پھدی میں داخل ہونے لگا تو گشتی نے ٹانگیں سیدھی کر دیں جس سے نیم مردہ لن پھدی میں نہ جا سکا اور تھوڑی دیر بعد پھدی کے اوپر ہی پانی چھوڑ دیا - ‎مجھے نہیں پتا آپ اس کہانی سے کیا سبق لیتے ہیں لیکن نوید گھر واپس جاتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ آئندہ کسی بھی جوان لڑکی یا عورت کو آنٹی نہیں کہنا

Posted on: 04:07:AM 14-Dec-2020


0 0 152 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com