Stories


مکافات عمل از جٹ صاب

آج میں آپ کو اپنی زندگی کا وہ کڑوا سچ بتانے جا رہا ہوں جس نے میری دنیا اندھیر کر دی میری غلطیوں کا خمیازہ میرے خاندان کو بھگتنا پڑھا میں خود ہی اپنی اس داستان کا راوی ہوں ہو سکتا ہے کوئی میرے انجام سے ہی سبق سیکھ لے جہانزیب لغاری ) یعنی کہ میں( دلبری کے سارے انداز جانتا تھا میں نے اپنی شخصیت کے ارد گرد دلکشی کے سارے عنبر و لوبان سلگا رکھے تھے ویسے بھی کسی مرد کے آس پاس شہرت ، اعلیٰ حسب نسب کے ساتھ دولت کے انباروں کا اجالا ھو تو تصورات کی ڈسی صنف نازک اس کے ارد گرد منڈلانے لگتی ہیں جہانزیب لغاری اٹھائیس سالہ ایک خوبرو مرد تھا اسے خدا نے مردانہ حسن سے جی بھر کر نوازا تھا کس مہ وش میں اتنا دم تھا کہ اسے ایک دفعہ دیکھ کر دوبارہ نہ دیکھنا چاہے وہ میڈیکل کا اسٹوڈنٹ تھا اور یہ اس کا آخری سال تھا ساری یونیورسٹی میں اس کی ذہانت خدا ترسی کے چرچے تھے اسے سب دوست پیار سے جان کہتے تھے ایسا کون سا میدان تھا جہاں کا وہ شہ سوار نہیں تھا شاعری ہو یا سنگنگ کے میدان ہوں یا لڑکیوں کو لوٹنے کے وہ ہر فن میں اپنی مثال آپ تھا – جب وہ اشعار کہتا تو ایک منجا ہوا شاعر لگتا اور جب وہ یونیورسٹی میں یاں کسی بھی فنکشن میں اپنی آواز کا جادو جگاتا تو سننے والا بے ساختہ کہہ اٹھتا ایسی سنگنگ تو اس سانگ کے اصل سنگر نے بھی نہیں کی ھو کیا غضب کی آواز ہے وہ بہت ساری دل پھینک لڑکیوں کا محبوب تھا وہ جس سے ملتا اس سے باتیں ہی ایسی کرتا وہ خود کو دنیا کی خوش نصیب لڑکی تصور کرتی کسی کو اس کی شاعری پسند تھی اور کسی کو سنگنگ کوئی اس کی وجاہت کی دیوانی تھی تو کوئی اس کی اعلیٰ ذہانت کی اور ان مہکتی اور مچلتی جوانیوں سے لطف اندوز ہونے کے سارے ہی گر جانتا تھا اگر کوئی لڑکی اس کو بھا جاتی اور وہ اس کی ان خوبیوں پر فدا نہ ہوتی تو بھی اس کے ترکش میں چند ایسے تیر بھی تھے جو کبھی خطا نہ جاتے اس نے اپنے بارے میں مشہور کر رکھا تھا وہ محبت کے معاملے میں زخم خوردہ ہے 'بس ؛؛ بس ان کو ہر دل عزیز کرنے کو اتنا ہی کافی تھا ہر لڑکی یہ سن کر حیران ہوتی کہ کون تھی وہ بدنصیب جس نے اس شہزادے کا دل توڑا اسے اور کیا چاہیے تھا اور جہانزیب کا طریقہ واردات بھی عام مردوں سے جدا تھا جب کوئی لڑکی قریب آ کر آنچ دینے لگتی تو وہ یوں گم صم ہو کر خلاؤں میں کھو جاتا جیسے اس کے پاس آگ نہیں برف کا تودہ رکھا ہے کافی دیر خلا کی آپ بیتی سننے کے بعد وہ پائپ میں خوشبو دار تمباکو بھرکر فضا میں خوشبو دار دھواں آہوں کی صورت میں چھوڑنے لگتے کڑوے دھوئیں کی جان لیوا خوشبو سے لڑکی کا ارمانوں بھرا چہرہ دھندلانے لگتا تو اس کی معصوم و مصفا آنکھوں میں اپنی ذات کی نفی کا کرب جاگ اٹھتا تب وہ ہر ندی پار کرنے کا تہیہ کر لیتی اور اگر کبھی جہانزیب کی کوئی دکھتی رگ اس کے ہاتھ آ جاتی تو وہ کچھ اور آگے بڑھنا چاہتی تب جہانزیب اپنے اسی مار ڈالنے والے انداز میں ایک ٹھنڈی سانس چھوڑتے اور کہتے ' دوست نہ کوشش کرو ! میں اب ان باتوں سے بہت دور ہوں تب وہ لڑکی تڑپ کے پوچھتی پر کیوں جان جی کیوں ؛ وہ تڑپ کے یہی سوال کرتی جاتی تو پھر جہانزیب ایک اور ٹھنڈی سانس چھوڑتے اور دوبارہ اپنے اندر جذب کر کے کہتے ' چوٹ کھا چکا ہوں ؛ دوبارہ نہیں کھاؤں گا بس اسی وقت وہ لڑکی تڑپ کے پوچھتی کون تھی وہ بد بخت اور کم ظرف تو جان جی اسے نرمی سے ٹوک کر کہتے پلیز اسے کچھ نہ کہو اور دوبارہ سے فضاوں میں دھواں چھوڑنے لگتے 'اہونہہ ! لڑکی کو اس بے وفا لڑکی پر انتہا کا غصہ آتا جو جاتے جاتے جان جی کا دل پتھر کر گئی تھی وہ جب اصرار کرتی کہ اسے بتائیں وہ کون تھی تب جہانزیب اپنی درد میں ڈوبی آواز میں کہتے میرے ساتھ کھیلتی تھی میرے ساتھ پڑھتی تھی ہم نے کوئلے سے گاؤں کی کچی دیواروں پر اپنے نام لکھتے تھے - چاک کے ٹکڑے سے بیلک بورڈ پرسلام لکھتے تھے - اور آنکھوں کی روشنائی سے ایک دوسرے کے دل پر پیغام لکھتے تھے - یہاں آ کر وہ خاموش ہو جاتے تو وہ لڑکی اضطراب میں ڈوب کر پوچھتی ' پھر ' جان جی پلیز پھر کیا ہوا بتائیں پلیز اور جان جی اس وقت سارے جہاں کا درد اپنے لہجے میں سمو کر کہتے ' پھر اسے عقل آ گئی ' اور دوبارہ سے خاموش ہو کر فضا میں کوئی ان دیکھی سی تحریر پڑھنے لگتے اس وقت وہ لڑکی بے صبری سے کہتی ' جان جی ' اس نے آپ کو چھوڑا کیوں تو جان جی کہتے دوست ہماری وفا ہی ہمارا قصور بن گئی وہ کہتی تھی آپ کو سوائے چاہت کے آتا ہی کیا ہے میں امریکہ جانا چاہتی ہوں اور جہانزیب آپ نہیں جاؤ گئے اس نے اپنے ایک امریکہ پلٹ کزن سے شادی کر لی اور چلی گئی ساتھ ہی جان جی اپنی آواز اب کی بار نمی پروتے اور اپنی قاتلانہ آواز میں دل نشین لہجے میں شعر کہتے کوئی اس طرح میرے ساتھ عداوت کرتا قید کر لیتا مجھے اور حکومت کرتا .... میں نے کب کہا تھا وہ چھوڑ دے سب کو وہ اپنے انداز سے ہی سہی پر محبت تو کرتا بس یہ یہ سننا تھا کہ جان جی کا شکار وہ لڑکی لرز جاتی جان جی کا اتنا ٹوٹا لہجہ دیکھ کر اور کہتی اف کتنی نادان تھی وہ لڑکی کم ظرف نے ایک ہیرے کی قدر نہیں کی دیکھنا جان جی وہ بھی کبھی سکھی نہیں رہے گئی اسی وقت جان جی اس لڑکی کے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہتے نہیں نہیں اسے کوئی بد دعا نہ دو میں تو آج بھی دعا کرتا ہوں وہ جہاں رہے خوش رہے اور جان جی اب اپنے ترکش کا ایک اور تیر چھوڑتے خدا کرے اس کے نصیب کے سارے دکھ مجھے ملیں اور میرے سارے سکھ اس کو اور وہ لڑکی اب دل ہی دل میں سوچتی ایسے دل والے کے لئے تو سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہے پھر وہ لڑکی جان جی سے کہتی پلیز کسی ایک ہی خطا میں سب کو تو سزا نہ دیں وہ لڑکی ڈرتی جھجھکتی اس دوراہے پر پہنچ جاتی جہاں لاج کا گھونگھٹ اتار پھینکتے ہیں جان جی آپ کسی کو اپنا لیں تو جان جی کہتے دوست کون لڑکی کسی خالی گھر میں رہنا پسند کرتی ہے میں شاید اب کسی سے پیار نہیں کر سکوں گا یہ سنتے ہی اس لڑکی کے حلق میں آنسوؤں کے گرد باد پھنس جاتے تب جان جی اس لڑکی کے پھول جیسے چہرے پر نظریں گاڑ کر کہتے تم ہی سوچوں کون لڑکی کسی ایسے مرد سے پیار کری گئی جو پہلے ہی کسی کی یاد میں اپنا آپ ہار چکا ھو اپنا سب کچھ لوٹا چکا ھو جس کی راتوں کی نیند اور دن کا سکون کھو چکا ھو نہیں دوست ایسی کوئی لڑکی نہیں ہو سکتی بس اسی وقت وہ لڑکی تڑپ کر بلکنے لگتی ' کیوں نہیں ' جان جی کیا کمی ہے آپ میں آپ جیسا کوئی نہیں ہو سکتا سب ایک جیسی نہیں ہوتیں آپ ایک دفعہ آزما کر تو دیکھیں اس وقت وہ لڑکی اپنی نسوانی آنا کو ایک طرف رکھ کرکہتی جان جی میں آپ کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہوں اپنا سب کچھ آپ پر وار سکتی ہوں اب جان جی اپنے ترکش کا سب سے کڑھا اور سخت تیر چلاتے اس لڑکی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی آواز بوجھل کر کے کہتے دوست آپ ابھی یہ نہیں سمجھ رہی کیا کہہ رہی ہیں نادانی کی باتیں کر رہی ہیں ایسا کوئی نہیں کرتا کسی کے لئے سب کہنے کی باتیں ہیں وہ بھی اپنا تن من مجھ پر وارنے کا کہا کرتی تھی اور پھر اب جان جی ایک ٹوٹا ہوا قہقہ لگاتے اور اس لڑکی کو وہی چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے پیچھے سے وہ لڑکی اپنے آپ سے عہد کرتی اگر اس مرد کو نہ پایا تو کچھ نہ کیا اس کی چاہے مجھے کوئی بھی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑھے آج یہی سب آنسہ جاوید کے ساتھ ہوا تھا وہ جہانزیب کے جانے کے بعد ابھی تک وہی کھڑی تھی اس کا دل تھا کہ جان جی کے لئے مچلا جا رہ تھا آج اس نے اسی سوچ میں دو پریڈ مس کر دئیے وہ یونیورسٹی کی لائبریری میں اپنا سر میز پر رکھے خاموشی کی آواز میں بلک رہی تھی جان جی جا چکے تھے لیکن ان کی خوشبو ابھی بھی اس کے چار سو پھیلی ہوئی تھی اسی لمحے اس کی دیرینہ دوست عندلیب اسے ڈھونڈتی ہوئی وہاں آ گئی اور اسے اس حال میں دیکھ کر تڑپ کے بولی آنسہ جانو کیا بات ہے تو آنسہ نے اپنی قریبی دوست کے گلے لگ کر آنسوؤں کے دریا بہا دئیے عندلیب پریشان تھی اسے کیا ہوا ہے پھر کافی دیر بعد خود کو سنبھال کر اس نے عندلیب سے کہا تم کو میری قسم سچ بتانا کیا میں خوبصورت نہیں ہوں یہ سن کر عندلیب نے کہا آنسہ صرف خوبصورت کہنا آپ کی توہین ہے آپ تو ایسے جسم کی مالک ھو جوان تو جوان آپ کو دیکھ کر بوڑھوں کے جذبات بھی مچل جاتے ہیں میں نے آج تک آپ جیسی پیاری لڑکی نہیں دیکھی یہ تھا بھی سچ آنسہ جاوید دراز قد لڑکی تھی اس کا فگر ہی ایسا تھا جس کو سب ہی للچائی نظر سے دیکھتے تھے وہ چھتیس ڈی اٹھائیس اڑتیس جیسے فیگر کی مالک تھی اوپر سے اس کا دودھیا رنگ لمبی اور اور ترچھی پلکوں کے نیچے موٹی موٹی آنکھیں اوپر کو اٹھی مغرور ناک صراحی دار لمبی گردن کولہوں سے نیچے تک لمبے اور کالے سیاہ چمکدار بال وہ کتابی حسن کا منہ بھولتا ثبوت تھا جو اسے ایک نظر دیکھ لیتا پھر وہ بے اختیارانہ اسے دوبارہ دیکھنے پر مجبور ہو جاتا عندلیب نے اس سے پوچھا کیا بات ہے تو اس نے اپنی ہمراز دوست کو سب کچھ بتا دیا جسے سن کر عندلیب نے ہونٹ کاٹتے ہوئے کہا آنسہ وہ بہت رووڈ اور سخت دل کا مالک ہے اس کے خواب اپنی آنکھوں میں مت سجانا ورنہ پچھتاؤ گئی یہاں کی کافی لڑکیاں اسے پانے کے خواب دیکھتی رہی ہیں جان جی کی ایک خوبی یہ بھی تھی اس کے نیچے سے اٹھ کر جانے والی لڑکی نے کبھی اپنی زبان نہ کھولی تھی یہی وجہ تھی وہ سب کی نظر میں گھمنڈی تھا لیکن سچ تو یہ تھا وہ اس یونیورسٹی کی کافی لڑکیوں کو اپنے توانا لن سے نواز چکا تھا ایک دو تو لیکچرار بھی تھیں جن کی ترستی چوتوں کو اس نے اپنے لن سے سیراب کر کے ان کی پیاس مٹائی تھی لیکن پتہ نہیں کیا جادو تھا جہاں زیب کے لن میں جو لڑکی ایک دفعہ اسے اپنی چوت میں لے لیتی وہ ساری عمر کے لئے اس کی غلام ہو جاتی اور اس کے راز کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتی ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ لغاری پیلس کے ایک شاہانہ طرز کے بیڈ روم میں آرام داہ کرسی پر جہانزیب آگے پیچھے جھول رہا تھا - اس نے آنکھیں بند کیں ہوئیں تھیں وہ خیالوں ہی خیالوں میں آنسہ کو بے لباس اپنے بازوؤں کے گھیرے میں دیکھ رہا تھا اسی وقت اس کا اکلوتا دوست عادل نواز لغاری کمرے میں داخل ہوا یار کمال ہے ابھی تک تیار نہیں ہوئے چلو جلدی سے اٹھو اور تیار ہو جاؤ جان جی نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور زیر لب مسکرا کر بولا آج خیر ہے میرے جگر پرآج بہت جلدی کا بھوت سوار ہے عادل نے اسے گھورتے ہوئے دیکھا اور بولا آج کیا تاریخ ہے جہانزیب نے بے ساختہ کہا سات جنوری اور ساتھ خود بھی چونک اٹھا اوہ مائی گاڈ آج تو فریال آپی کی شادی کی سالگرہ ہے یہ کہتے ہی وہ تیزی سے اٹھا اور اٹیچ باتھ روم میں گھس گیا وہ آج اپنی روٹین سے ہٹ کر صرف سات منٹ میں غسل کر کے باہر آیا ڈریسنگ روم میں جا کر اس نے ایک سفاری رنگ کا بہترین اور انتہائی قیمتی کپڑے کا لباس پہنا وہ اور عادل دونوں سگے چچا زاد تھے عادل اکلوتا تھا اور جہانزیب دو بہن بھائی تھے فریال ان دونوں سے دو سال بڑھی تھی دونوں ہی اسے دیوانوں کی طرح پیار کرتے تھے اور دنیا میں اگر جہانزیب کسی سے مخلص تھا تو وہ دو ہی ہستیاں تھیں ایک عادل دوسری اس کی آپی فریال عادل نے آج بلیک کلر کا سوٹ پہنا تھا جو اس پر کافی جچ رہا تھا لیکن جب جہانزیب ڈریسنگ روم سے باہر آیا تو بے ساختہ اسے دیکھ کر عادل کے لبوں سے دعا نکلی خدا تجھے نظر بد سے بچائے میرے شہزادے تو واقعی لغاری خاندان کا پرنس ہے جہانزیب کے والد شہباز حیدر لغاری جاگیر دار ہونے کے ساتھ ہی بیورو کریٹ بھی تھے وہ وزارت داخلہ میں فرسٹ سیکرٹری تھے - اور عادل کا والد نواز حیدر لغاری اپنے حلقے سے ممبر صوبائی اسمبلی بھی تھا اور ساتھ میں اس نے ایک بزنس ایمپائر بھی کھڑی کر رکھی تھی ان کی کئی گھی ملز اور شوگر ملیں تھیں اب عادل نے خود اپنی ذاتی کھاد بنانے کی فیکٹریاں لگائیں تھیں جس میں اس نے جان جی کو پارٹنر رکھا تھا وہ جان جی سے کچھ نہیں چھپاتا تھا لیکن جان جی نے اسے اپنی لوز حرکتوں کی ہوا بھی نہیں لگنے دی تھی وہ خاندان کا سب سے خوبصورت اور مغرور لڑکا تھا جان جی ایک اصول بنا رکھا تھا کہ وہ کسی جاننے والے کی لڑکی سے سیکس نہیں کرے گا یہی وجہ تھا وہ آج بھی اپنے خاندان کی لڑکیوں کے خوابوں کا شہزادہ تھا اب وہ دونوں ہی اپنی ذاتی مرسڈیز میں بیٹھے اور آگے پیچھے ہی ملک ہاؤس ،میں داخل ہوئے جہاں کافی سارے مہمان آ گئے تھے فریال اپنے خاوند کامران ملک کے ساتھ سب کو ویلکم کر رہی تھی ان دونوں کو دیکھتے ہی کامران نے کہا لو جی آ گئے آپ کے شہزادے عادل اور جہانزیب دونوں نے اپنی گاڑی کھڑی کی اور اپنے اپنے گفٹ کے ڈبے نکال کر اپنی بہن کی طرف بڑھے فریال نے پیار سے دونوں کو ایک ساتھ ہی اپنے گلے لگایا اور باری باری دونوں کا ماتھا چوم کر کہا یار اتنا لیٹ اب عادل نے جان جی کی طرف دیکھا اور کہا آپی کچھ بزی سوری ابھی وہ باتیں کر رہے تھے کہ اسی وقت ان کے والدین کی گاڑیاں بھی داخل ہوئیں وہ سب آگے بڑھے اور سب کو سلام کیا اسی وقت نواز صاحب نے کہا دیکھا بھائی جی میں نہ کہتا تھا عادل یہ دن کبھی مس نہیں کرے گا اب شہباز صاحب نے پائپ کا کش لاگا کر خوشبو دار تمباکو کا دھواں چھوڑا اور بولے بیٹا آپ میرے ساتھ ہی آ جاتے تو جان جی نے حیرت سے پوچھا کہاں سے پاپا تب وہ بولے یار ایک بزنس میٹنگ تھی آج عادل کی اسلام آباد میں یہ صبح تو وہی تھا کیا بنا اس میٹنگ کا مجھے باقری صاحب بتا رہے تھے آپ نے ان سے کہا ہے کل کا وقت رکھ لیں بیٹا وہ پارٹی بیرون ملک سے آئی تھی آپ آج ہی مل لیتے تو عادل نے کہا بڑے پاپا میٹنگ تو روز چلتی ہے پر میری بہن کی سالگرہ سال بعد آتی ہے یہ سن کر جہاں جان جی کو اپنے دوست اور کزن پر پیار آیا وہاں فریال تو واری صدقے گئی بھائی کے اور کامران ملک بھی متاثر ہوا ان بہن بھائیوں کی محبت دیکھ کر پھر وہ سب مہمانوں سے ملے کامران ملک شوقین مزاج آدمی تھا اس نے آج کے فنکشن کو چار چاند لگوانے کے لئے سنگنگ اور شاعری کہنے والوں کا بھی بندو بست کر رکھا تھا پھر جوں جوں رات چھاتی گئی محفل بڑھتی ہی گئی پھر فریال اور کامران ملک نے اپنی شادی کا کیک کاٹا سب ہی نے ان کو وش کیا اور اپنے اپنے تحائف دئیے بعد میں سب ہی نے ہلکا پھلکا کھانا کھایا اب جو جانے والی تھے وہ چلے گئے اور جو آج کی محفل کی رونقیں دیکھنا چاہتے تھے وہ یہی رہے ساری رات یہ پروگرام چلتا رہا آج جان جی نے جان بوجھ کر خود شرکت نہ کی کیوں کہ وہ اپنے والد اور چچا کے سامنے ایسی حرکتیں نہیں کرتا تھا ٭ ٭ ٭٭ ٭ آنسہ اپنے بیڈ پر کروٹیں بدل رہی تھی اسے کسی پل بھی چین نہیں آ رہا تھا اس کی تو جیسے نیند ہی اڑ گئی تھی آج اس کی خالہ زاد کزن مہ وش بھی آئی ہوئی تھی لیکن پھر بھی اس کا دل کہیں نہیں لگ رہا تھا مہ واش جو اس کے ساتھ ہی آج سوئی تھی اس کی ان کروٹوں سے اس کی آنکھ کھل گئی اس نے آنسہ کا جو حال دیکھا تھا وہ سمجھ گئی کہ آنسہ دل کا روگ لگا بیٹھی ہے مہ وش خود بھی اس میدان سے گزر چکی تھی وہ بھی انتہا کی خوبصورت لڑکی تھی اس نے جسے چاہا وہ نہ مل سکا تو اس نے اپنے والدین کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کر لیا اور وہ شہریار سومرو کی دلہن بن کر سومرو ہاؤس میں چلی گئی اسے شہریار نے اتنا پیار دیا تھا وہ پچھلا سب کچھ بھول گئی اور آج اس نے اپنی جان سے عزیز کزن کا یہ حال دیکھا تو اسے سمجھانے لگی لیکن یہ عشق ہے ہی ایسا نامراد اس نے کہاں کسی کی مانی ہے یہ تو ایسا جادو ہے جس پر چل جائے پھر اس کے سر چڑھ کر بولتا ہے یہی حال آنسہ کا تھا اب تنگ آ کر مہ وش نے کہا آنسہ تم میری بات کو فالو کرو یار یہ روگ جان لیوا ہے اور مجھے تو شہریار جیسا وسیع ظرف کا مالک ملا ہے جسے میں نے شادی سے پہلے ہی سب کچھ بتا دیا تھا لیکن سب مرد ایسے نہیں ہوتے اور پھر آپ یہ بھی دیکھو آپ کا بچپن سے ہی انشال ملک سے نکاح ہو چکا ہے وہ دو مہینے تک پاک آ رہا ہے تب کیا کرو گئی تم کو پتا بھی ہے وہ کتنا ضدی ہے اور یہ سب خالہ جان اور خالو جی کی مرضی بھی ہے پلیز مت چلو اس راستے پر جس کی کوئی منزل ہی نہ ھو اب آنسہ نے روتے ہوئے کہا مہ وش کیسی دوست ھو مدد کرنے کی بجھائے مجھے ڈرا رہی ھو تو مہ وش نے سرد آہ بڑھ کر کہا اس لئے کہ میں جانتی ہوں وہ جہانزیب کبھی تم سے شادی نہیں کرے گا آنسہ تڑپ کر بولی صرف پانے کا نام ہی تو محبت نہیں ہے وہ بے شک شادی نہ کر ے لیکن میں اسے نہیں چھوڑ سکتی یہ سن کر مہ وش نے غصے سے اسے گھورا اور بولی بیوقوف لڑکی جب وہ تم سے جی بھر کر کھیل لے گا تو اس کا کیا جائے گا آنسہ ان مردوں کا کچھ نہیں جاتا لیکن لڑکی اپنی اور معاشرے کی نظر میں گر جاتی ہے چلو معاشرے سے ہٹ کر جیا جا سکتا ہے لیکن اگر تم کل کو اپنی ہی نظر میں گر گئی تو نہیں جی پاؤ گئی پلیز مان جاؤ میری بات پھر آنسہ نے کہا چھوڑو یار ان باتوں کو چلو سو جاؤ اور خود بھی اپنے منہ پر کمبل ڈال کر لیٹ گئی مہ وش نے ٹھنڈی سانس چھوڑی اور وہ بھی کروٹ بدل کر چوسنے لگی اس کی نیند اڑ گئی تھی وہ جانتی تھی اس کی کزن کتنی نرم اور کمزور دل کی مالک ہے وہ تو بعد میں بکھر جائے گئی لیکن اسے کوئی راہ نہیں دکھائی دے رہا تھا اگلے دن یونیورسٹی میں ہاف ٹائم کے بعد آنسہ نے جان جی کو لان کی طرف جاتے دیکھا تو وہ بھی تیزی سے اس کے پیچھے ہی چل دی ایک طرف درختوں کے سائے میں ایک بنچ پر بیٹھ کر جان جی خلا میں دیکھنے لگا وہ جانتا تھا آنسہ پیچھے آ رہی ہے اس لئے وہ یہ سب کرنے لگا آنسہ نے اسے اتنا دکھی دیکھا تو تڑپ کر اس کے پاس آئی اور بولی جان جی مت کرو ایسا اپنے ساتھ جو آپ کو بھول گیا ہے اسے آپ بھی بھول جاؤ ایک بار میری طرف دیکھو تو سہی کیا میں اس لڑکی سے کم ہوں مجھے یوں نہ دھاتکارو اب جان جی نے اس کی طرف دیکھا اور اپنی آواز میں درد سموتے ہوئے بولا آنسہ آپ اس یونیورسٹی کی سب سے خوبصورت لڑکی ھو میں مانتا ہوں اسی لئے آپ کو سمجھا رہا ہوں آپ کہاں مجھ جیسے بد نصیب سے اپنا سر پھوڑ رہی ھو یہاں کا ہر لڑکا آپ سے دوستی کرنے کی حسرت لئے پھرتا ہے جاؤ کسی ایسے لڑکے سے دوستی کرو جو آپ کے قابل ھو میں تو ایک ٹوٹا اور بکھرا انسان ہوں آپ کو کیا دے سکوں گا اب یہ سب سن کر آنسہ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا جان جی میں تھوکتی بھی نہیں کسی لڑکے پڑ مجھے بس آپ کی دوستی مطلوب ہے اور اگر آپ نے مجھ سے دوستی نہ کی تو آپ کی قسم میں اپنی جان دے دوں گی یہ سنتے ہی جان جی سمجھ گیا مچھلی کانٹا نگل چکی ہے اب بس آخری چوٹ لگانے کی دیر ہے اس نے گھمبیر لہجے میں آنسہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا آنسہ تم کیا جانتی ھو میرے بارے میں تم میرے ساتھ ایک دن بھی نہیں گزار پاؤ گی ' کیوں نہیں گزار پاؤں گی کیوں ' جان جی ؛؛' مجھے بتائیں تو جان جی نے کہا اس لئے کہ میں اب کسی پر یقین نہیں کر پا رہا بہت درد ہے اس دل میں آنسہ بہت درد ہے ؏ سنا ہو گا کسی سے کہ درد کی اک حد بھی ہوتی ہے ملو ہم سے کہ ہم اس حد کے اکثر پار ہوتے ہیں اور آنسہ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں پھوٹ نکلیں نہیں جان جی ایک دفعہ مجھے آزما کر تو دیکھیں میں آپ کے لئے اپنا تن من دھن سب قربان کر دوں اسی وقت آنسہ کی دوست فرح اس طرف آتی دکھائی دی تو آنسہ نے کہا میں آج آپ کا انتظار کروں گی سی ویو پر اگر آپ نہ آئے تو کل کے اخباروں میں میری موت کی خبر پڑھ لیجئے گا یہ کہہ کر وہ اٹھی اور اپنی دوست کی طرف چل دی فرح نے اس سے پوچھا خیر ہے آج کل کس پتھر سے سر پھوڑ رہی ھو یہ تو بالکل ہی پتھر ہے کاش اس سے آگے وہ خاموش ہو گئی اور آنسہ سمجھ گئی فرح بھی جان جی کی مریض ہے لیکن اسے یقین تھا آج اس کا محبوب اس کی بانہوں میں ہو گا وہ گھر آتے ہی چینج کر کے ایک پارلر میں گئی اور وہاں سے وہ دلہن کی طرح تیار ہو کر سی ویو چلی گئی وہاں بیٹھ کر وہ اپنے جان جی کا انتظار کرنے لگی وہاں جوان تو جوان عمر رسیدہ لوگ بھی اس کی ٹوٹتی جوانی کو دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھرنے لگے جوں جوں وقت گزر رہا تھا وہ بے تاب ہوئی جا رہی تھی پھر اس نے جیسے ہی جہانزیب کی بلیک مرسڈیز دیکھی وہ کھل اٹھی جان جی نے آج بوسکی کا سوٹ اور نیچے تلے کے کام والا جوتا پہن رکھا تھا جس میں وہ کسی مشرقی ملک کا شہزادہ لگ رہا تھا جیسے ہی وہ ریستوران میں داخل ہوا مردوں کی آنکھوں میں جلن اور حسد تھا اور خواتین کی آنکھوں میں پسندیدگی وہ اپنی مخصوس مغرورانہ چال چلتا ہوا اس کی طرف آیا اس نے ایک دفعہ بھی دائیں بائیں نہیں دیکھا تھا اور آنسہ سوچ رہی تھی ایسا مرد کسی قسمت والی کو ہی ملتا ہے میں اسے پاؤں گئی ہر قیمت پر جان جی نے اس کے سامنے بیٹھ کر کہا آنسہ مجھے کیوں پریشان کرتی ھو میں پہلے ہی بہت ڈسٹرب رہتا ہوں آپ پلیز اس راستے سے واپس لوٹ جاؤ اس راستے کی کوئی منزل نہیں ہے یار نہ میں آپ سے شادی کر سکوں گا اور پھر آپ کو کیا فائدہ میرے پیچھے یوں خوار ہونے کا تو آنسہ نے دلبری سے کہا جان مجھے آپ ایک پل ہی میرے ہو کر مل جاؤ میں اسی پل کی یاد کے ساتھ زندگی گزر سکتی ہوں اب جان جی نے کہا او میرے ساتھ وہ اٹھی اور جان جی کے ہمراہ چلنے لگی باہر نکلتے ہوئے ان دونوں کو دیکھ کر کافی لوگوں نے رشک سے کہا یہ جوڑا ایک دوسرے کی ہمراہی میں ہی جچتا ہے لڑکی اگر صنف نازک کی شہزادی ہے تو لڑکا مردانہ وجاہت کا بے تاج بادشاہ ہے یہ سن کر آنسہ کی خوبصورت گردن غرور سے تن گئی جان جی اسے لے کر اپنی کار میں آیا اور اسے لے کر وہ وہاں سے چل دیا آنسہ کی اپنی گاڑی وہی کھڑی تھی وہ جان جی کی قربت کے نشے میں ڈوبی ہوئی تھی جان جی نے اس کام کے لئے ایک مخصوس فارم ہاؤس بنا رکھا تھا جہاں وہ داد عیش کرتا تھا جو اس نے اپنے ایک جاننے والے سے خریدا تو اسی کے نام رہنے دیا کیوں کہ وہ یہ ملک چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے آسٹریلیا شفٹ ہو چکا تھا پھر جان جی نے فارم ہاؤسکے سامنے جا کر گاڑی روکی اس نے ہارن دیا تو گیٹ کیپر نے گیٹ کھولا وہ اپنی گاڑی اندر لے جا کر سیدھا انڈر گرونڈ پارکنگ میں گیا وہاں اس نے اپنی گاڑی پارک کی اور نیچے اتر کر آنسہ کی طرف آیا اس نے سب فاصلے ایک دم سے ختم کئے آنسہ کو اپنے بازوؤں میں اٹھا کر آوپر اپنے مخصوص کمرے میں لے گیا وہ کمرہ بہت بڑا تھا کمرے کی سج دھج سے ہی نظر آتا تھا اس عشرت کدے کو لاکھوں لگا کر تیار کیا گیا ہے کمرے میں ایک طرف سنگ مر مر کا حوض بنا ہوا تھا اس میں فوارہ لگا تھا جس کے اندر ہر رنگ کی واٹر پروف لائٹس تھیں اور کمرہ جگ مگ جگمگ کر رہا تھا آنسہ نے کمرے کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اسی وقت جان جی نے اسے شاہی طرز کے بیڈ پر آرام سے لٹایا اور خود اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ کر بولا اب بھی سوچ لو آنسہ میں دوستی میں کسی لمٹ کا عادی نہیں ہوں آنسہ نے جذبات سے بوجھل آواز میں کہا جان آنسہ سر سے پاؤں تک آپ کی ہے اور اپنی چیز کے لئے کسی سے پوچھا نہیں جاتا یہ سنتے ہی جان جی اٹھا اور اٹیچ ڈریسنگ روم میں جا کر اس نے اپنا لباس بدلہ اور اپنی ایک سفید شرٹ لے کر واپس کمرے میں آیا آنسہ سے کہا جاؤ یہ پہن کر آؤ آنسہ پر اس کا جادو چل چکا تھا اس نے کچھ نہ سوچا اور ملحقہ کمرے میں جا کر اپنے کپڑے اتار دئیے پھر اس نے اپنی پینٹی کے ساتھ برازئیر بھی اتارا اور وہ شرٹ جو اسےرانوں تک آ رہی تھی وہ پہن کر باہر آ گئی جہانزیب نے جب اس کا تراشا ہوا صندلی جسم دیکھا اس کا لن انگڑائیاں لے کر بیدار ہوا اس نے آنسہ کا بازو پکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچا وہ تو ایسے چلی آئی جیسے کچے دھاگے سے بندھی ھو اسے اپنی بانہوں کے گھیرے میں لے کر جان جی نے اس کے ہونٹوں کا بوسہ لیا آنسہ کا کنوارہ بدن اس کا لمس پا کر کانپنے لگا جان جی نے اسے پیار سے اٹھا کر بیڈ پر دراز کیا اور خود بھی اس کے ساتھ ہی نیم دراز ہو گیا پھر جان جی نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں آنسہ کے ہونٹوں پر یوں پھیرنی شروع کیں جیسے وہ کسی ان دیکھی تحریر کو اپنی انگلیوں کے پوروں کی مدد سے پڑھ رہا ھو اس کے پوروں کی اس حرکت نے آنسہ کے اندر جذبات کے الاؤ روشن کر دیے تھے وہ اب بے قراریوں کے مدارج طے کرتی جا رہی تھی جان جی ایک شاطر کھلاڑی تھا وہ سیکس سے پہلے ہی لڑکی کو آدھ مووا کر دیتا تھا اس کی یہی تو خوبیاں تھیں جن کی بدولت کوئی بھی لڑکی اس سے اپنے تعلق کا چرچا نہیں کرتی تھی آج بھی یہیں ہونے جا رہا تھا جیسے جیسے اس کے پوروں کی گستاخیاں بڑھ رہی تھیں آنسہ کی جان پہ بنتی جا رہی تھی اب آنسہ کے نچلے ہونٹ پر وہ لمبائی اور کبھی دائرے کی شکل میں اپنی انگلی پھیرتا جا رہا تھا
 ساتھ میں اس نے اپنا منہ آنسہ کے کانوں کے قریب کیا اور ہلکے سے سرگوشی کی زبان میں بولا جان جہانزیب او آج ان لمحات کو امر کر دیں محبت کے حوالوں میں ہمارا ذکر رہتی دنیا تک چلے آنسہ مجھے کبھی دھوکہ مت دینا ورنہ اب کی بار میں مر جاؤں گا یہ سن کر آنسہ نے اپنا مرمریں ہاتھ اس کے ہونٹوں پر رکھا اور بھرائی آواز میں بولی پلیز جان آج کے بعد یہ لفظ موت کبھی نہ بولنا میں اپنی زندگی بھی اپنے یار کے نام کر دوں اور پھر جان جی نے اٹھ کر کمرے کے چاروں طرف موجود کھڑکیاں کھولیں اور اس نے کمرے میں مدھم لائٹس کا ایک جال سا جلا دیا اب اس نے دوبارہ سے بیڈ کی طرف آ کر آنسہ کو اپنے بازوؤں میں اٹھایا اور حوض کی طرف بڑھا اس نے حوض کے صاف شفاف پانی میں آنسہ کو بیٹھایا خود بھی اس کے ساتھ ہی حوض میں داخل ہوا اور فوارہ چلا دیا ٹھنڈا پانی تیزی سے اوپر گیا اور بارش کی بوندوں کی شکل میں ان پر گرنے لگا آنسہ کی سفید شرٹ اس کے جسم سے چپک گئی گیلی ہو کر اس باریک شرٹ سے آنسہ کے نشیب و فراز ظاہر ہونے لگے جن کو دیکھ کر جان جی کا لن بے تابی ظاہر کرنے لگا اب جان جی نے آنسہ کو اپنی بانہوں کی گرفت میں لے کر اپنے ساتھ لپٹا لیا اور سرگوشی کی زبان میں بولا اف کیا خوبصورت نپل ہیں میری جان کے ایسی چھاتی کسی لڑکی کی نہیں ہو سکتی یہ سن کر آنسہ نے شرما کر اپنی نظر جھکا لی اور جان جی کی بغل میں اپنا منہ چھپانے لگی جان جی شرم و حیا کی ان اداؤں کو دیکھ کر تڑپ اٹھا اس نے اپنے ہاتھ کی انگلی آنسہ کی تھوڑھی کے نیچے رکھی اس کا منہ اوپر کیا آنسہ کی پلکیں ابھی تک شرم کے وزن سے جھکی ہوئیں تھیں جان جی نے پیار سے اس کی جھکی پلکوں کو چوما اور بولا اک بھیگی ہوئی سی رات ملے اس رات میں تیرا ساتھ ملے تیرے لب سے ٹپکے جو بوندیں انہیں میرے لبوں کا ساتھ ملے کچھ تم بھی بہکے بہکے سے کچھ مجھ پہ نشہ سا طاری ہو ہر پل میں جان، مدہوشی ہو اک ایسی رات ہماری ہو پھر آؤ جو میری بانہوں میں میں پیار کروں تمہیں جی بھر کے تم مجھ سے تھوڑا شرماؤ شرما کے گلے سے لگ جاؤ میں جتنا تم کو پیار کروں تم اتنے ہی بیتاب بنوں ہمیں پیار کے کچھ لمحات ملیں اک بھیگی ہوئی سی رات ملے اس رات میں تیرا ساتھ ملے یہ کہتے ہی جان جی نے اپنے جلتے ہونٹوں کو آنسہ کے گلاب کی پنکھڑیوں سے نازک ہونٹوں میں پیوست کر دئیے اور ساتھ ہی اسے اپنی بانہوں میں دبوچ لیا جان جی کے لمس نے پانی میں آگ لگا دی جان جی مستی میں ڈوب کر آنسہ کے ہونٹوں سے رس چوس رہا تھا وہ بے تابیوں کی انتہا پر جا چکی تھی اور اس کے شہد ،میں بھیگے ہونٹوں کو بے تابی سے چوسی جا رہا تھا پھر جان جی نے اس کے منہ میں زبان داخل کی اور وہاں سے زبان نے اپنی من مرضی شروع کی اور آنسہ کا جسم اب کانپنے لگا تھا فوارے کا پانی اب بارش کی طرح سے چھم چھم ہم دونوں پر گر رہا تھا جان جی نے اب اپنے ہونٹ اس کی گالوں پے رکھے اور وہاں سے بارش کے قطرے چاٹنے لگا جان جی نے زور سے آنسہ کو اپنی بانہوں میں دبا لیا میں نے دھیرے دھیرے سے آنسہ کے سارے چہرے سے بارش کے قطروں ( فوارے کے پانی ) کو چاٹا بارش مسلسل ہو رہی تھی جان جی جتنا چاٹتا اتنے ہی اور آ جاتے اب تو آنسہ کی سانسیں بہک رہی تھیں اس کا جسم جان جی کے بازوؤں میں کانپ رہا تھا جان نے دیکھا اس کی تھوڑی سے پانی کی ایک لکیر سی بہ کر اس کی چھاتی کی طرف آئی جیسے ہی وہ آنسہ کے گریبان میں داخل ہونے لگی جان نے اسے اپنی زبان سے چاٹ لیا اس کی زبان کے لمس نے تو جیسے پانی میں آگ لگا دی آنسہ ایک دم سے تڑپی اور ایک سسکی آنسہ کے ہونٹوں سے چھوٹ گئی جان جی نے اس کے ہونٹوں کے بلکل پاس اپنے ہونٹ لے جاکر سرگوشی کی آنسہ پھر سے ان ہونٹوں سے کچھ شبنم چڑا لوں اب ان دونوں کی سانسیں آپس میں مل رہی تھیں آنسہ نے لرزتی آواز میں کہا جان جی میں آپ کے قدموں کی خاک ہوں میرے محبوب جو آپ کا دل آئے وہ کرو جان جی آنسہ کے ساتھ خود بھی لیٹ گیا اور کروٹ لے کر اپنی ایک ٹانگ اس کی ٹانگوں پے رکھ دی جان جی کے ہونٹوں نے آنسہ کے ہونٹوں سے سرگوشیاں کرنا شروع کر دیں وہ بہت نرمی سے آنسہ کے ہونٹ چوس رہا تھا اوراس کے ہاتھ آنسہ کی کسی ہوئی چھاتی کی پیمائش لے رہے تھے اب کی بار آنسہ نے کہا جان جی ہائےمجھے کچھ ہو رہا ہے (یہاں سے یہ سیکس کی کاروائی جان کی زبانی )میں نے اب اس کی سفید شرٹ کو اتار دیا اور خود اپنا لباس اتار کر خود کو بے لباس کر کے اس کے ساتھ ہی حوض میں ہی دوبارہ سےلیٹ گیا میں نے اب کی بار اپنا ہاتھ اس کے پیٹ پے رکھا اور وہاں ہاتھ سے مساج کرنے لگا پھر اس کے پیٹ سے نیچے آیا اس نے ایک دم سے میرا ہاتھ پکڑ کے کہا جان جی اسے مت ہاتھ لگانا میں جل جاؤں گئیں اب آنسہ یوں سانس لے رہی تھی جیسے وہ بہت دور سے بھاگتی ہوئی آئی ھو میں نے اس کے ہونٹوں کو شدت کے ساتھ چوسنا شروع کر دیا کچھ ہی در بعد آنسہ بھی میرا ساتھ دینے لگی اس نے اپنے ہاتھوں سے میری گردن کو پکڑا اور میرا ساتھ دینے لگی ہونٹ چوسنے کے ساتھ میں نے اپنے ہاتھوں کی گستاخیاں جاری رکھیں اب کی بار میں دوبارہ اس کی چوت کی طرف اپنا ہاتھ لے گیا اس نے کچھ نہ کہا اور میں اس کی چوت کو سہلانے لگا وہ اور بھی مچل کے میرے ہونٹ چوسنے لگی میں نے اپنی زبان اس کے منہ میں ڈالی اور وہ اسے چوسنے لگی میں اس کی چھاتیاں مسلتا رہا اب اس کی چھاتی کے نپلز فل تن گئے تھے پانچ منٹ تک میں نے اسے ہونٹوں سے چوما تو وہ بولی جان جی میں جل گئی ہوں میں اب اس کی تھوڑی کو چومتا ہوا نیچے آنے لگا پھر اس کی چھاتی کی کلیوج کو چوما اور اپنی زبان اس کے ابھاروں کی طرف لیا اس کی چھاتی کو چوما اس کی نپل کو اپنے منہ میں لیا اور چوسنے لگا آنسہ اب سسکیاں لے رہی تھی آہ آہ آہ جان جی سس اف ف اب دوسری نپل کو بھی یوں ہی چوسا اور نیچے پیٹ پے آیا اف کیا سڈول اور گورا پیٹ تھاآنسہ کا میں نے اس پے اپنے ہونٹ رکھے اور اسے چومنے لگا آنسہ کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں اور وہ مزے سے آہیں بھر رہی تھی میں نے اُسکے پیٹ پے اچھے سے اپنی زبان پھیری میں نے چھاتی کے نیچے والی جگہ پے اپنی زبان پھیری اورچاٹنے لگا وہ اب مچل رہی تھی میں نے پھر سے اس کی چھاتی کی طرف آیا اور اسے چومنے لگا آنسہ کا بدن ایسے تھا جیسے وہ دودھ اور میدے سے بنی ھو اب مزے سے بیتاب ہو کر آنسہ نے میرے سر کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی میں نے اس کی تنی ہوئی نپل کو چوسنے لگا بارش کافی تیز ہو گئی تھی اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں تھیں اور فوارے کا پانی اب سپیڈ سے اس کی چھاتی پے گر رہا تھا اسے کچھ ہلکا سے درد بھی ہوا لیکن وہ درد بھول کر مزہ لے رہی تھی میں آنسہ کی چھاتی پے دوبارہ سے اپنے ہاتھ کی انگلیوں کی پوروں کو پھیرنے لگا اب جیسے ہی میں نے اس کی چھاتی کی نپلز پے اپنی پور کو پھیرا وہ اب مزے سے چلا اٹھی ہ اف ف ف ف ف م جان جی میں ہاتھ کو ویسے ہی پھیرتا رہا اور نیچے اس کے پیٹ پے آیا وہاں بھی اس کی ناف پے بھی ہاتھ نرمی سے پھیرنے لگا وہ مسلسل مچل رہی تھی جان جی اوہ میرے محبوب میں مر گئی آنسہ اپنا سر پٹخ رہی تھی مزے سے کوئی تین منٹ ایسے ہی کیا پھر میں اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھااور اپنا منہ ان کی چھوٹی سی چوت میں گھسا دیا ساتھ میں اپنی زبان بھی وہاں پے پھیرنے لگا وہ یہ دو طرفہ رگڑ برداشت نہ کر سکی اور اس کی چوت نے بھی برسات میں ہی برسات کر دی وہ لمبے لمبے سانس لے رہی تھی میں نے دوبارہ سے اوپر آ کر اس کی چھاتی کو چوسنے لگا اب کی بار وہ میری کمر پے ہاتھ پھیرنے لگی میں اس کی چھاتی کو مزے سے چوستا جا رہا تھا اور اس کی گلابی نپلز بہت ٹائٹ ہو گئے تھے اب آنسہ نے کہا جان جی پی لو جتنا بھی دودھ پیناہے میرے سوہنے میں اب مسلسل اس کی چھاتی کو چوستا جا رہا تھا اب میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پے رکھا وہ پہلے تو جھچکی پھر اس نے اپنے ہاتھوں سے میرے لن کوپکڑا اور بولی باپ رے اتنا بڑا میں نے اب اس کی چھاتی کو چوستا ہوا اوپر ہونٹوں پے آیا اور ہونٹ چوسنے لگا وہ مزے سے تڑپ کے بولی جان جی اب بس کرو مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا اس نے مجھے اپنی بانہوں میں لیا اور کروٹ بدل کے میرے اوپر آ گئی اس نے میرا لن اپنے ہاتھوں میں یوں پکڑا جیسے وہ کسی بہت نایاب چیز کو چھوڑ رہی ھو میں نے اسے کہا ، میرا لن چوسو اس نے ایک دفعہ میری آنکھوں میں دیکھا اور بولی جان جی مجھے نہیں آتا میں نے کہا جیسے لولی پوپ چوستے ہیں ویسے ہی چوسو پھر وہ منہ میں لے کر لن کو لولی پوپ کی طرح چوسنے لگی آنسہ نے بہت مزے سے مرالن کوئی تین منٹ تک چوسا اس کے منہ کی گرمی سے میں چھوٹنے ہی لگا تھا میں نے بڑی مشکل سے اسے ہٹایا اور خود کو کنٹرول میں کیا میں نے اسے پکڑ کے ایک طرف کیا اور اس کی ٹانگوں میں آ کر بیٹھ گیا اپنا لن آنسہ کی ان چھوئی چوت پے فٹ کیا آنسہ کو کمر سے پکڑکے اوپر اٹھایا اور لن کو اندر کر دیا وہ ایک دم سے چیخ اٹھی آہ آہ آہ آہ آہ اوہ اوہ جان جی میں مرگئی میں نے اب ہلکے سے لن کو باہر نکال کر کہا ابھی تو بس ٹوپی بھی سہی طرح اندر نہیں گئی باتیں بڑی بڑی کر رہی تھی یہ سن کر وہ ہونٹ کاٹتے ہوئے بولی میری پہلی بار ہے اور آپ کا لن بھی بہت بڑا ہے میں اب نہیں کہوں گئی کچھ بھی آپ کا جو دل چاھے وہ کریں میں نے دوبارہ سے اب کی بار لن چوت میں پھنسایا اور ایک ہی دھکے سے جڑھ تک اندر کیا آنسہ بن پانی کے مچلی کی طرح تڑپی اس کے منہ سے زوروں کی چیخیں نکلیں میں نے اپنا لن جھٹکے سے باہر نکالا تو ساتھ ہی اس کی چوت سے خون کے قطرے بھی گر کر پانی میں مل گئے میں نے اس کے ہونٹ چوم کر کہا آئی لو یو آنسہ وہ یہ سن کر قربان جانے والے لہجے میں بولی اب جو مرضی کرو آپ کے ان لفظوں سے ساری درد کو کھینچ لیا ہے اب میں نے کچھ نرمی سے لن اندر باہر کرنا شروع کیا اور اب وہ مزے سے آہیں بھر رہی تھی یاہائے ہائے ہائے جان جی ہائے مجھے بس ایسے ہی چودو میرے دوست اور میں نے اس کے اوپر جھک کر اس کے ممے چوسنے لگا وہ میرے بازوؤں میں تھی میں کچھ تیز ہوا اور اس نے بھی میری گردن میں بازو ڈال لئے اور میرا ساتھ دینے لگی نیچے سے اپنی گانڈ کواوپر اٹھا کر میں نے اسے ایسے ہی اپنے ساتھ لگائے رکھا اور اٹھا کھڑا ہوا پھرمیں نے اسے اٹھ کر آنسہ کو حوض کے کنارے پر بٹھایا اس کی ٹانگیں میری رانوں سے نیچے پانی میں لٹک رہی تھیں اور میں نے لن اندر کر کے اسے چودنا شروع کر دیا اب وہ مزے بھری آواز میں چلانے لگی آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ اف ف ف ف ف م م م م م م م مر گئی جان جی میں اب زور زور سے اپنے کولہے ہلا کر لن کو اندر باہر باہر کر رہا تھا چوت کے اور میرا اوپر والا جسم نہیں ہل رہا تھا ساتھ میں اس کے ممے بھی دبانے لگا میں نے ایک منٹ تک اس سٹائل میں اسے چودہ اب وہ لرزتی آواز میں بولی جان جی میں آنے ہی والی ہوں میرا جسم پھر پہلے کی طرح کانپ رہا ہے میں بس چھوٹنے والی ہوں میں نے کہا چھوٹ جاؤ اور ساتھ ہی اپنے دھکوں کی سپیڈ کچھ اور تیز کی پھر آنسہ ایک زور دار آوچ یاہ یاہ یاہ یاہ یاہ یاہ یاہائے ہائے ہائے چیخ کے ساتھ ہی چھوٹ گئی میں بنا رکے اپنے دھکے جاری رکھےپھر دوبارہ سے پوزیشن بدلنے کا سوچا اور اب کی بار آنسہ سے کہا آپ اپنی ایک ٹانگ فوارے کی چھوٹی حوضی پر رکھو اس نے ایسا ہی کیا اب میں کچھ نیچے ہوا اور اپنے گھٹنے فولڈ کر کے اس کی چوت میں دوبارہ سے لن ڈالا وہ میرے ہر دھکے پر لذت کے سمندر میں غوطہ زن ہوتی گئی وہ دل کھول کر مجھے آہوں اور سسکیوں کی صورت میں داد دے رہی تھی اور میں اس کی آواز سے اور جوش میں آتا جا رہا تھا میں نے پھر سے پوزیشن بدلی اب اس کو کہا تم چھوٹی حوضی پر بیٹھو ٹانگیں پھیلا کر جیسے پاٹ پر بیٹھتے ہیں باتھ روم میں وہ ویسے ہی بیٹھ گئی

Posted on: 04:10:AM 14-Dec-2020


0 0 290 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 46 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 1 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com