Stories


میری پہلی کاوش از رانا پردیسی۔ریپ سیکس

میں اپنے شوہر کے ساتھ آسٹریلیا میں مقیم ہوں. ان کی ایک گروسری کی دکان ہے. اچھی آمدنی ہو جاتی ہے. شادی کو چار سال ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک بچہ نہیں ہے. ابھی ہم ذہنی طور پر بچوں کے لیے تیار نہیں. میں اپنی شادی کے سات ماہ بعد ان کے پاس آئی اور اب لگ بھگ ساڑھے تین سال ہونے جا رہے تھے کہ میری وطن واپسی نہیں ہو پائی تھی. میری امی ہر فون پر اصرار کرتی کہ ایک بار آ کر منہ دکھا جاؤ. مجھے احساس تھا کہ میرے خاوند کے لیے آسان نہیں ہو گا کہ اپنی دکان بند کریں اور چھٹیاں منانے چل دیں. ان پر بہت ذمہ داریاں تھیں. آخر بہت سوچ بچار کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ میں دو مہینوں کے لیے ہو آؤں. اب مسئلہ یہ تھا کہ میں نے کبھی اکیلے سفر نہیں کیا تھا. کسی جاننے والی کی تلاش شروع کی آخر میرے شوہر کے ایک جاننے والے کا پتہ چلا کہ وہ جا رہا ہے چنانچہ اس کے ساتھ میری بھی ٹکٹ بک کروا دی گئی. فلائیٹ دن دس بجے کی تھی. میں جہاں اپنے والدین سے ملنے کو خوش تھی وہیں اپنے جانو شوہر سے جدائی مجھے تڑپا رہی تھی. روانگی سے تین دن پہلے ہی ماہواری ختم ہوئی تھی پچھلے ایک ہفتے سے ناغہ ہی تھا. وہ میرے دودھ سے کھیلتے اور میں ان کے لن کے ساتھ دل بہلاتی. آخری رات تھی اور ہم دو مہینوں کی جدائی ذہن میں رکھے ایک دوسرے میں گم تھے. ہر گھَسے میں وہ پوچھتے "روبی مجھے مس کرو گی ناں" اور میں جواب میں ان کی پشت پر اپنے ناخن گاڑے سارا زور لگا کر اپنی طرف کھینچتی اور روتی یہی کہتی جاتی "جانو آپ کے بنا تو مر جاؤں گی" ان کا طاقتور لن میری پھدی کی پیاس بجھاتا رہا اور ہم ایک دوسرے کو تسلی دیتے رہے. رات کے اچھے سے سیکس کے بعد صبح ناشتہ پانی کر کے تیار ہو رہی تھی کہ انہوں نے کہا "جان ایک جاتی بار کا پھیرا نہ ہو جائے" میں نے انہیں نہ کبھی نہیں کی تھی. میں نے کہا آ جائیں اپنی راجدھانی میں. انہوں نے مجھے اپنی باہوں میں اٹھا لیا اور بیڈروم میں لے آئے. میرے سارے کپڑے نکال کر لٹا دیا. میں نے بھی ان کے کپڑے نکال دیے. انہوں نے بوسوں کی بوچھاڑ کر دی. میرے سر سے لے کر پاؤں تک ہر جگہ کو چوما چاٹا اور ساتھ ساتھ میرے مموں کو دباتے رہے انہیں پتہ تھا کہ وہ جتنی بے دردی سے میرے ممے دبائیں گے اتنا ہی مجھے لطف آئے گا. اس کے بعد انہوں نے میری پھدی پر اپنا منہ رکھا اور اپنی زبان اندر ڈال دی میری سسکاری نکل گئی. میرے خاوند کو پھدی چاٹنا پسند نہیں لیکن جب کبھی وہ بہت پیار کرنا چاہ رہے ہوں تو لازمی اس کی چٹائی کرتے ہیں. میں بے قرار ہو چکی تھی اور یہی مطالبہ کیے جا رہی تھی "جانو بس کریں اب ڈال دیں" "اور وہ مجھے تڑپا رہے تھے آخر میری آہ و زاری کام آئی اور انہوں نے اپنا تنتناتا لن میری آنکھوں کے آگے لہرا کے پوچھا" کیا ڈالوں " میں نے اپنے جانو لن پر ایک زوردار کس کیا اور کہا" جانو یہ لن میری پھدی میں ڈالیں " اور پھر ایک ہی جھٹکے میں ان کا لن میری پھدی کی گہرائی میں سماتا چلا گیا. لن کا سکون ایک پیاسی پھدی ہی جانتی ہے. کمرے میں سامان سمیٹنے والا پڑا تھا، فلائیٹ میں دو گھنٹے تھے اور ہم سب چیزوں کو بھلائے مزے کی دنیا میں کھوئے ہوئے تھے. ایک اچھے سے سیکس سیشن کے بعد میرے جانو کے لن سے امرت دھارا نکل کر میری پھدی کو سیراب کر گیا. اور ایک سکون سا پورے وجودمیں سرایت کر گیا. نہا دھو کر تیار ہو کر ائیر پورٹ کے لیے نکلے تو وہاں امجد صاحب ہمارا انتظار کر رہے تھے. یہ وہی صاحب تھے جن کے ساتھ میں سفر کرنے والی تھی. امیگریشن وغیرہ سے فارغ ہو کر میرے پیارے شوہر نے مجھے الوداع کہا اور ہم اندر لاؤنج کی طرف چلے گئے. جہاز جانے میں ابھی کچھ وقت تھا. میں نے امجد صاحب کا جائزہ لیا تو جناب چالیس کے پیٹے میں تھے. نہ زیادہ سمارٹ نہ زیادہ موٹے. سر پر بالوں کا تکلف برائے نام ہی تھا. خیر مجھے کیا اور وہ انتہائی کم گو سے تھے. جہاز نے پہلے بنکاک جانا تھا وہاں کچھ گھنٹے کے انتظار کے بعد اپنی آخری منزل کے لیے روانہ ہونا تھا. میں قدرے باتونی ہوں چنانچہ عادت سے مجبور امجد صاحب کا انٹرویو شروع کر دیا. وہ یہاں ٹیکسی چلاتے تھے اور بیوی بچے پاکستان ہی تھے. پانچ سال کے طویل وقفے کے بعد گھر واپس جا رہے تھے. ابھی ہم کھانا کھا کر بیٹھے ہی تھے کہ جہاز نے ہچکولے لینے شروع کر دیے. مسافروں کی چیخیں نکل گئیں میری آواز شاید سب سے اونچی تھی. پائلٹ نے بتایا کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے ہم ہنگامی لینڈنگ کرنے جا رہے ہیں. میں نے خوف کے مارے امجد صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا. انتہائی کھردرا سا ہاتھ تھا. اور تھوڑی دیر بعد جہاز لینڈ کر گیا . جہاز لینڈ ہوا تو تمام مسافروں کو اترنے کا کہہ دیا گیا. عجیب پریشانی بن گئی خیر کیا کر سکتے تھے جہاز خالی ہو گیا. ائیر پورٹ کی بلڈنگ میں جا کر پتہ چلا کہ ہم ویتنام کے ائیر پورٹ پر کھڑے ہیں. سمندری طوفان اور شدید طوفانی بارشوں کی وجہ سے موسم ہوائی سفر کے لیے موزوں نہیں. جب تک بنکاک سے سب اوکے کی رپورٹ نہیں آ جاتی تب تک سفر ملتوی رہے گا. میں تو یہ سن کر رونے بیٹھ گئی. جانے اب کیا ہو گا کب جا پائیں گے. امجد صاحب نے مجھے کچھ ڈھارس بندھائی اور کہا کہ پریشانی میں گھبرانا زیادہ تکلیف دہ ہے اس لیے صبر سے کام لینا چاہیے. وہ خود جہاز کے عملے سے بات چیت میں لگ گئے. کافی دیر کے بعد بتایا گیا کہ آج رات ہمارا قیام یہیں ہو گا اور ائیر لائن کی طرف سے ہوٹل ملے گا کل موسم ٹھیک ہونے کی صورت میں روانگی ہو جائے گی. موسمی صورتحال کے پیش نظر کہیں کال بھی نہیں جا سکتی تھی. آخر ائیر پورٹ کی بلڈنگ میں ہی قائم ایک ہوٹل میں لے جایا گیا. مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی. امجد صاحب نے مجھے ایک کمرے میں بٹھایا اور خود چلے گئے. میں سمجھی کہ اس کمرے میں میں نے ہی رہنا ہے میں پریشانی میں وہیں بیٹھ گئی دل میں طرح طرح کے خیالات آ رہے تھے. اسی اثنا میں مجھے آوازیں آئیں میں تجسس سے مجبور دروازہ کھول کر باہر نکل آئی لمبی سیدھی گلی میں ہلکی سی روشنی تھی. دو کمرے چھوڑ کر تیسرے کمرے کا دروازہ کھلا تھا وہ آوازیں وہیں سے آ رہی تھیں. میں دیہاتی عورت اس بات سے بے نیاز کہ یہ اخلاقی طور پر ٹھیک ہے یا نہیں اندر جھانکنے چل پڑی وہاں دروازے پر مجھے لگا یہ آوازیں ویسی ہیں جیسی انگریزی فلموں میں ہوتی ہیں. شاید کسی نے فلم لگائی ہو ایک دل کیا کہ دفع کر جو بھی ہے واپس کمرے میں جاؤ لیکن قدم آگے بڑھ رہے تھے. میری جیسے ہی اندر نظر پڑی ایک انگریز جوڑا چدائی میں مشغول تھا. مرد نے عورت کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھی تھیں اور خود بہت جوش بھری رفتار سے دھکے مار رہا تھا. عورت کے ممے ہر دھکے پر ٹینس بال کی طرح اچھلتے اور اس کے منہ سے شہوت بھری آوازیں بلند تر ہوتی جاتیں. میں بیوقوفوں کی طرح انہیں دیکھی جا رہی اور انہیں اس بات کا کوئی ہوش نہیں تھا کہ ان کا دروازہ کھلا ہے اور ان کی آوازیں نہ صرف باہر تک جا رہی ہیں بلکہ کوئی انہیں دیکھ رہا ہے. تھوڑی دیر بعد میں ہوش میں آئی اور وہاں سے واپس پلٹ کر بھاگی میں جیسے ہی باہر نکلی میں سامنے سے آنے والے بندے کے ساتھ ٹکرا کر گر پڑی. دیکھا تو امجد صاحب میرے تو ہوش اڑ گئے وہ کبھی مجھے دیکھیں کبھی اندر سے آتی آوازیں سنیں اور پھر مجھے گھورنے لگ پڑیں. میں بڑی مشکل سے اٹھ کر روم کی طرف چل پڑی. مڑ کر دیکھا تو وہ بھی ساتھ ہی اندر. میں ابھی پوچھنے ہی والی تھی تو بولے کہ مسافر زیادہ اور کمرے کم ہیں سب لوگوں کو روم شئیر کروائے جا رہے ہیں. ایک اجنبی مرد کے ساتھ کمرے میں قیام کا خیال ہی میرے لیے سوہانِ روح تھا میں نے ابھی اعتراض کے لیے من من کرنی شروع ہی کی تو امجد صاحب بولے دیکھیں بی بی مجبوری ہے میں نہیں ہوں گا تو کوئی اور آ جائے گا. آگے جو آپ کی مرضی. موسم کے تیور سیدھے ہونے کا مجھے اندازہ نہیں تھا عجیب کشمکش میں پھنس گئی راستے میں کوئی اور دیسی فیملی بھی نظر نہیں آئی تھی جس کا سہارا لیا جا سکے. خود کو حالات کے دھارے چھوڑ دیا. چپ چاپ جا کر بیڈ پر بیٹھ گئی. امجد صاحب کمرے کے بیچوں بیچ کھڑے کچھ سوچ رہے تھے اچانک دروازہ کھول کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا. دروازہ کھولنے سے آوازیں مزید صاف سنائی دینے لگیں بلکہ اب تو پہلے سے بھی اونچی. امجد صاحب واپس آئے تو ایک عجیب سی مسکراہٹ ان کے چہرے پر. کمرے کی الماری کھول کر تولیہ نکالا اور بولے میں ذرا نہا لوں آپ بھی چینج کر لیں. میں کہاں سے چینج کروں میرے پاس تو سامان تھا ہی نہیں میرے شوہر نے ہینڈ کیری بنایا ہی نہیں کہ سفر آسانی سے ہو جائے. میں اٹھ کر دروازہ بند کرنے گئی تو میرا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا. دروازے کے بالکل ساتھ باتھ روم کا دروازہ شیشے کا تھا اندر امجد کھڑا نہا رہا اور اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے ٹٹوں اور لن کو مسلنا شروع کیا ہوا. اپنے خاوند کے علاوہ انگریزی فلموں والوں کے ہی دیکھے تھے میں وہیں گڑ گئی اور اس نے مجھے باہر کھڑے دیکھ لیا. مجھے ہوش تب آئی جب وہ بالکل ننگا میرے سر پر آ کھڑا ہوا اور ایکدم مجھے پکڑ لیا. میں نے شور مچانے کی دھمکی دی رونا چلانے کی کوشش کی وہ حرامی ٹس سے مس نہ ہو. ایکدم مجھے بیڈ پر پھینک کر میرے اوپر سوار ہو گیا میں اس کی منتیں کر رہی واسطے دے رہی لیکن وہ سن ہی نہیں رہا تھا. اسی کشمکش میں محسوس کیا کہ میری شلوار گیلی ہو گئی ہاتھ لگا کر دیکھا تو اس کی منی نکل رہی. میں نے دھکا دے کر پیچھے ہٹانے کی کوشش کی تو کہتا ہے پانچ سال کی گرمی بدن میں لے کر جا رہا ہوں کیسے کنٹرول کرتا. یہاں جو بھی ہو گا تمھارے اور میرے بیچ ہو گا مجھے کرنے دو ورنہ میں زبردستی کروں گا. میں نے ہار مان لی اسے کہا مجھے ایک بار کپڑے دھو لینے دو میرے پاس اور کوئی پہننے کا کپڑا نہیں. پھر کر لینا. میں اٹھی اور اپنے کپڑے اتار کر سائیڈ پر رکھ دیے شلوار اس کی منی سے خراب ہو چکی تھی میں جیسے ہی شلوار اتار کر کھڑی ہوئی اس نے پیچھے سے دبوچ لیا اس کا کالا ناگ ٹن ٹن میری بنڈ کے ساتھ بج رہا تھا. اس کے ساتھ لگنے کی دیر تھی کہ میری پھدی سے بھی اجازت کے سگنل ملنے شروع ہو گئے. میں نے اسے کہا میرے ساتھ وعدہ کرو کہ میری عزت رکھو گے. اس نے کہا فکر نہ کرو ہمیں حالات نے اس موڑ پر کھڑا کیا ہے ورنہ ہمارا یہ مقصد نہ تھا. اس نے مجھے نیچے لٹایا اور ایک ہی جھٹکے میں اندر ڈال دیا. چار سال سے اپنے خاوند سے لے رہی تھی لیکن حرام میں کچھ الگ مزہ ہے. اس کے لن کے اندر جاتے ہی پورے بدن میں بجلی دوڑ گئی. امجد نے کہا "مزہ آیا" میں نے کہا "ہممممممممم بہت" تو کہنے لگا پھر اسی گوری کی طرح آوازیں نکالو جس کا تماشا دیکھ کر آئی ہو. اور میرے منہ سے بے ساختہ وہی آوازیں نکلنا شروع ہو گئی. جانے کب کا پیاسا لن تھا تھوڑی دیر بعد ہی فارغ ہونے والا ہو گیا میں نے اس کی منتیں کیں کہ اندر نہ فارغ ہونا اور اس نے جھٹکے سے لن باہر نکال دیا اس کی منی کی پھوار سیدھی میری چھاتیوں اور منہ پر آ پڑی. ظالم کی گرم منی میرے بدن کو ٹرپا رہی تھی. جتنا جلدی چھوٹتا تھا اتنی جلدی دوبارہ ہڑا بھی لیتا تھا. میں اس کی منی میں لتھڑی پڑی تھی اور کمرے میں ٹشو تک نہیں تھا. امجد کے تولیے سے خود کو صاف کیا اور اسے کہا چلیں بس اب بہت ہو گیا. اس نے کہا بس کیسے ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے اور یہ کہتے ساتھ ہی اس نے میرے ممے اپنے منہ میں ڈال کر چوسنے شروع کر دیے. یہ میرا پسندیدہ ترین پارٹ ہے سیکس کا. اس کے کھردرے ہاتھوں کی سختی، اس کی زبان کی نمی اور اس کا جوش مجھے بے قابو بنا رہے تھے. اچھی طرح دودھ پینے کے بعد وہ میری پھدی کی طرف متوجہ ہوا. اور میری پھدی چاٹنی شروع کر دی میں تو جیسے آسمانوں میں اڑ رہی. امجد کی بے تابیوں نے مجھے یکسر بھلا دیا کہ میں کون ہوں کہاں ہوں. مجھے خوب گرم کر کے اس نے مجھے کتی بنایا اور پیچھے سے اپنا لن جڑ تک میری پھدی میں گھسیڑ دیا. آہ ہہہہہہہہہہہہہ ہر گھسے پر لن نکال لیتا اور پھر جڑ تک ڈالتا. ساتھ ہی اپنے کھردرے ہاتھوں سے میرے ممے مسلتا. مجھے بہت مزہ آ رہا تھا اس کی منی دو بار نکل چکی تھی اب وہ تحمل سے پھدی کی گرمی کا مقابلہ کر رہا تھا. میں نے چدواتے ہوئے اسے کہا کہ تمھاری بیوی تو کل حیران ہو گی کہ اتنے سالوں بعد آیا ہے اور کیسے جم کر چود رہا ہے اس بیچاری کو کیا پتہ کہ ساری جدائی کی گرمی تو میری پھدی میں نکل گئی. وہ ہنس پڑا اور تیز تیز گھسے مارنے لگا. جیسے ہی میری پھدی کے جذبات میں طغیانی آئی اس نے بھی منی چھوڑ دی. میں ایکدم ہوش کی دنیا میں واپس آ کر اچھلی مجھے ابھی بے بی نہیں کرنا تھا اور امجد کا تو بالکل بھی نہیں. لیکن پھر بھی ایک آدھ پچکاری میرے اندر چلی گئی. ہم دونوں اب تھک چکے تھے میں نے کہا اب آرام کر لیں اور پھر سفر کا سوچیں.. وہ اٹھا اور اپنا انڈروئیر پہن کر باہر نکل گیا. میں غسل خانے میں جا کر نہانا شروع ہو گئی. دل مجھے ملامت کر رہا تھا لیکن جسم جیسے سرشار ہو گیا ہو. میں تولیہ لپیٹ کر باہر نکلی تو امجد واپس روم میں آ گیا. آتے ساتھ ہی مجھے باہوں میں اٹھا لیا اور چومنے لگ پڑا. اس کو تو میں ایسے ملی جیسے بچے کو کھلونا. ایسے ہی باہوں میں اٹھائے چومتا ہوا کمرے سے باہر آ گیا. مجھے جب سمجھ لگی تو دیکھا وہ مجھے اسی کمرے میں لے گیا جہاں گورا گوری لگے ہوئے تھے. میں ابھی سوچنے کے قابل ہی ہو رہی تھی کہ امجد نے مجھے ان کے بیڈ پر پٹخ دیا وہ دونوں بھی فل ننگے تھے. میں اٹھ کر بھاگی مگر امجد نے پکڑ لیا اس نے مجھے وہیں ان کے بیڈ پر اوندھا کر کے میری بجانا شروع کر دی. میں چد رہی تھی اور گورے دیکھ رہے تھے. جب امجد فارغ ہوا تو دیکھا گورا بھی گوری کی لے رہا ہے. امجد کے فارغ ہوتے گورا میرے اوپر چڑھ دوڑا اس کے منہ سے شراب کے بھبھوکے اٹھ رہے تھے مجھے متلی آ رہی تھی لیکن وہاں سے بھاگنا بھی ناممکن تھا. امجد گوری کی سواری کر رہا تھا اس نے اپنی ہوس کے لیے مجھے بھی بھینٹ چڑھا دیا. وہ رات میری زندگی کی سب سے بھاری رات تھی. گورے اور امجد نے میری اور اس گوری کی باریاں لیں. صبح تک میں نڈھال ہو چکی تھی. صد شکر کہ طوفان کا خطرہ ٹلا اور میں وہاں ان درندوں کے چنگل سے نکل کر پہنچی. ائیر پورٹ پر ماں کے گلے لگ کر اتنا روئی کہ اپنی بدنصیبی کو ان آنسوؤں میں چھپا لیا. یہ میری پہلی کاوش تھی میں رائٹر بھی نہیں پلیز حوصلہ افزائی اور رہنمائی کیجیے گا. شکریہ

Posted on: 04:23:AM 14-Dec-2020


0 0 129 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com