Stories


گل شیر از دیشا جی

بڑی ماں۔۔۔۔۔۔بڑی ماں۔۔۔۔غضب ہو گیا بڑی ماں۔۔۔۔۔بڑی ماں۔۔۔۔۔۔ رانی ،،گھر کی نوکرانی اوربڑی ماں کی خاص ۔۔۔بھاگی بھاگی بڑی ماں کی کمرے کی طرف پاگلوں کی طرح ڈورتی جا رہی تھی۔۔گھر کے سبھی نوکر رانی کو اسطرح پاگلوں کی طرح ڈورتے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔نوازبخش جو کہ گل شیر کا ڈرائیوراور رامو کاکا کا بیٹا تھا۔ رانی کو اس طرح بھاگتے ہوئے دیکھنے میں کچھ زیادہ ہی مگن تھا۔۔۔شاید وہ رانی کو اسطرح پریشانی سے بھاگتا ہوا نہیں بلکہ بھاگنے کی وجہ سے اسکے جسم پر موجود بھاری برکم چھاتیوں کو ایک فٹبال کی طرح ادھر اُدھر اچھلتا ہوا دیکھ رہا تھااور جب رانی اس سے آگے نکل گئی تب اسکی نظریں رانی کے باہر کی جانب نکلے ہوئے گول مٹول کولہوں کو ٹٹولنے لگ گئیں۔۔۔ میں اوپر بالکونی میں کھڑی یہ سب منظر دیکھ رہی تھی۔۔رانی بجلی کی طرح اندر حویلی کے مین دروازے سے داخل ہوئی اور سیدھا بڑی ماں کے کمرے کی جانب ڈورتی چلی گئی۔۔اسکے منہ سے مسلسل بڑی ماں ۔۔۔بڑی ماں۔۔۔ کی آوازیں نکل رہی تھیں۔۔۔ جیسے ہی وہ بڑی ماں کے کمرے میں داخل ہوئی تو بڑی ماں اپنے بیڈ پر ہاتھ میں تسبی لیئے کمر کے پیچھے تکیہ لگائے بیڈ سے اپنی کمر ٹکائے آرام فرما رہی تھی لیکن رانی کی آواز نے انھیں ایک دم چونکا دیا تھا۔۔وہ جھٹ سے اٹھ کر بیٹھ گئیں او رانکا دل دھک دھک کرنے لگا جیسے بڑی ماں کو کسی بری خبر کی آمد کی پہلے سے اطلاع مل گئی ہو۔۔۔ وہ رانی کے پسینے سے شرابور چہرے اور تیز تیز سانسو ں کے ساتھ اسکی کی چھاتیوں کو اوپر نیچے ہوتا دیکھ کر فوراً بیڈ سے اتر گئیں اور بے چینی سے رانی سے اتنی پریشانی کی وجہ پوچھنے لگیں۔۔ بڑی ماں ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔گل شیر۔۔۔۔۔ کیا ہوا گل شیر کو۔۔۔بڑی ماں کے چہرے پر پریشانی کے آثار اب نمایا ہو گئے تھے۔۔۔۔اب وہ رانی کے بلکل قریب آچکی تھیں ۔۔ بڑی ماں ۔۔۔گل شیر کو کچھ لوگوں نے بری طرح ڈنڈو پیٹا ہے اور جاتے ہوئے اسکی ٹانگ میں گولی مار گئے۔۔۔لوگ اسے ہسپتال لے کر گئے ہیں۔۔۔رامو کاکا کہہ رہے ہیں اسکی حالت بہت نازک ہے۔۔۔ بڑی ماں نے بس اتنا سنا اور رانی کو تھپڑ مارنے کو ہاتھ اٹھایا اور ہوا میں بلند کر کے روک لیا۔۔۔رانی ماں بری طرح کانپ رہی تھیں۔۔۔گل شیر انہیں اپنی جان سے بھی زیادہ پیارا تھا۔۔۔۔ وہ بے ساختہ باہر کی طرف ڈوریں اور مین دروازے سے باہر نکل کر نواز بخش کو چیختے ہوئے گاڑی نکالنے کو کہا۔۔بڑی ماں کی غرراتی ہوئی آواز سن کر نواز بخش جو ابھی تک مین دروازے کی جانب دیکھ رہا تھا جہاں سے رانی گزری تھی،،بڑی ماں کی آواز پر بوکھلا کر گاڑی کی طرف دوڑا اور درائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کر لی اور رانی جو بڑی ماں کے پیچھے پیچھے انکے ساتھ بھاگتی ہوئی باہر آئی تھی جھٹ سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور بڑی ماں گاڑی میں بیٹھ کر ہسپتال کی طرف روانہ ہو گئیں۔۔۔ یہ سب کچھ صرف دو منٹ کے اندر اندر ہوا جسے میں اب تک بالکونی میں ہی کھڑی دیکھ رہی تھی لیکن اب میں بھی تجسس اور پریشانی کا شکار تھی کہ رانی آخر ایسی کیا خبر لائی تھی کہ بڑی ماں اسطرح سے نواز بخش پر چیخیں کیونکہ بڑی ماں بہت ہی نرم د ل اور اچھے اخلاق کی عورت تھی انہوں نے آج تک کسی نوکر سے اسطرح چیخ کر بات نہیں کی تھی۔۔میں بھی فوراً نیچے آئی اور مین دروازے سے باہر نکلی تو بڑی ماں کی گاڑی حویلی کی حدود سے باہر نکل رہی تھی میں دوسرے نوکروں سے پوچھنے لگی کہ کیا ہوا ہے۔۔۔ پر کسی کو کچھ پتا نہیں تھا وہ سب تو گھر کے نوکر تھے۔۔۔اسی دوران جیسے ہی بڑی ماں کی گاڑی حویلی کی حدود سے باہر نکلی تو سامنے سے رامو کاکا اپنی سائیکل پر مجھے حویلی میں داخل ہوتے نظر آئے۔۔وہ تیز تیز پیڈل کے ساتھ حویلی کی طرف بڑھ رہے تھے اور میں بھی انکے قریب آنے کا انتظار کر ہی تھی کہ شاید رامو کاکا ہی کو کچھ پتا ہو۔۔۔رامو کاکا جب قریب آئے تو وہ بھی بری طرح ہانپ رہے تھے لگتا تھا جیسے دس منٹ کا سفر انہوں نے دو منٹ میں طے کیا ہو۔۔۔انہوں نے سائیکل سے اترتے ہی سائیکل کو چھوڑ دیا اور سیدھا بھاگتے ہوئے میرے پاس آئے ۔۔وہ با مشکل ہی کچھ بول پا رہے تھے۔۔۔انکے منہ سے بس اتنا نکلا۔۔۔ بی بی جی وہ۔۔۔۔ گل شیر۔۔۔۔۔۔اور وہ میرے قدموں میں گر کر رونے لگے۔۔۔اب میں اور بھی پریشان ہو گئی۔۔۔ اور گل شیر کا نام سنتے ہی میری عجیب سی حالت ہو گئی۔۔۔بڑی ماں جتنا گل شیر کو پیار کرتی تھیں اس سے کئی زیادہ گل شیر میرے دل کے قریب تھا۔یو سمجھ لیجئے کہ میرا دل دھڑکتا تھا تو وہ صرف گل شیر کے لیئے۔۔۔ ۔۔میں نے جھٹ سے رامو کاکا کو پکڑ کر اٹھایا اور پریشانی اور بے تابی کے عالم میں انھیں جھنجھوڑ کر پوچھا ۔۔’’کیا ہو گل شیر کو‘‘۔۔۔ بی بی جی۔۔۔۔ غضب ہو گیا۔۔۔۔اپنے گل شیر صاحب کو کچھ لوگوں نے بری طرح ڈنڈوں سے مارا ہے اور جاتے وقت اسکی ٹانگوں میں گولی مار گئے ہیں۔۔۔ میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا ہوں۔۔وہ خون میں لت پت تھا اور جس جگہ اسے مارا تھا وہاں پورے روڈ پر گل شیر کا خون بکھرا پڑا تھا۔۔۔۔میں نے بس اتنا سنا اور راموں کاکا کو دکھا دے دیا۔۔۔چپ ہو جاؤ رامو کاکا۔۔۔۔ چپ ہو جاؤ۔۔۔۔ اگر آگے ایک لفظ بھی بولا تو میں تمہیں مار دوں گی۔۔۔۔یہ خبر سن کر میرے ہاتھ پیروں سے جان نکل گئی ایسا لگا جیسے کسی نے میرے پیروں سے زمین کھینچ لی اور میں وہیں گر پڑی۔۔۔ نواز بخش نے گولی کی طرح گاڑی دورائی اورہسپتال پہنچا ۔۔جتنی دیر میں نواز بخش اتر کر بڑی ماں کے لیئے دروازہ کھولتا ۔۔بڑی ماں نے جھٹ سے دروازہ کھولا اورگاڑی سے اتر گئیں۔۔ وہ سیدھا ہسپتا ل کے اندر جانے لگیں جہاں پہلے ہی بہت سے لوگ موجود تھے اور جو بڑی ماں کی بہت عزت کرتے تھے اور انہیں آتا دیکھ کر سب نے اپنے ہاتھوں کو جوڑ دیا اور سر جھکا کر کھڑے ہو گئے۔۔بڑی ماں نے ان سب کی پروا کیئے بغیر ڈاکٹر کی طرف رخ کیا۔۔۔ ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ ابھی حالت نازک ہے ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں زخم بہت گھرے ہیں۔۔۔ڈاکٹر کی بات سن کر بڑی ماں وہیں سائڈ میں رکھی بینچ پر بیٹھ گئیں ۔۔۔انکے اوسان خطا تھے۔۔۔۔۔ بڑی ماں بہت ہی ہمت اور جرت والی تھیں۔۔۔انہوں نے اپنی زندگی میں بڑے بڑے غم اٹھائے تھے۔۔۔سب سے بڑا غم انکے اپنے بیٹے یعنی میرے بابا شمشیر علی کا تھا جو اپنی جوانی میں ہی فوت ہو گئے ۔۔اس وقت میں صرف پانچ برس کی تھی۔۔میں ماں نے دوسری شادی نہیں کی اور اپنی زندگی صرف ہم دو بہنوں کے نام کردی۔۔بڑی ماں کو میرے والد کی موت کا بہت صدمہ ہوا اور جیسی ہی انکی کمر ٹوٹ گئی ہو۔۔میرے والد دادا کے بعد اس جائیداد کے مالک تھے۔۔۔اور وہ واحد ہی دادا کی وراثت کے حق دار تھے لیکن انکی موت کے ساتھ ہی وراثت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔۔۔ اور ساری زمہ داری بڑی ماں پر آگئی۔۔ بڑی ماں اچھی طرح جانتی تھیں اب وہ ہی ہیں جو اس گھر کو سنبھال سکتی ہیں۔۔۔۔کیونکہ اگر انہوں نے سہی وقت پر سہی فیصلہ نہیں کیا تو اس جائیداد کے کئے حق دار سر اٹھا لیں گے اور یہ سب تقسیم ہو جائے گا۔۔۔بڑی ماں کے اُسی ہوشمندانا فیصلے کی بدولت آج بھی کوئی اس حویلی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔ بڑی ماں بہت ہی نرم دل اورشفقت برتنے والی عورت تھیں۔۔ بڑے تو بڑے وہ بچوں سے بھی بہت شفقت سے پیش آتی تھیں۔۔بابا کی موت کے کچھ مہینے بعدبڑی ماں ایک گاؤں کے پاس سے گزر رہی تھی ۔۔وہ اپنی سوچوں میں گم اپنے بیٹی کی موت کے غم کو دل سے لگائے گاڑی کی سیٹ سے سر ٹکائے حویلی کی جانب رواں تھیں کہ اچانک انکی نظر ایک پیڑ کے نیچے لیٹے ایک بچے پر پڑی انہوں نے فوراً گاڑی روکنے کو کہا اور گاڑی سے اتر کر سیدھا اس پیڑ کی طرف چلنے لگیں۔۔ جیسے ہی وہ قریب گئیں ایک بچہ جو تقریباً آٹھ یا نو سال کا ہو گا ۔۔جسکے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے اور ننگے پیر جن پر گاؤں کی مٹی ایسی چپٹی تھی جیسے یہ بچہ کئی مہینوں سے ننگے پیر سفر کر رہا ہو۔۔ بڑی ماں نے نیچے جھک کر بچے ہو ہاتھ لگایا تو وہ بری طرح جل رہا تھا اسے تیز بخار تھا اور سانسیں تیز تیز چل رہی تھیں۔۔ بڑی ماں اسے اپنے ساتھ حویلی لے آئیں اور رانی کی ماں جو اس وقت بڑی ماں کی خاص نوکرانی تھی۔۔اسے ڈاکٹر کو فون کرنے کو کہا اور کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر آگیا اور چیک اپ کے بعد کہا کے پریشانی کی بات نہیں بھول اور پیاس کی وجہ سے کمزوری اتنی آگئی کے یہ بے ہوش ہو گیامیں نے کچھ انجیکشن اور ڈرپ لگا دی ہے کچھ ہی گھنٹوں میں ہوش میں آجائے گا۔۔۔میں بھی اس وقت قریب چھ سال کی تھی اور وہیں بیڈ کے کنارے کھڑی تھی جس پر وہ بچہ لیٹا تھا۔۔۔ کچھ گھنٹو بعد اسے ہوش آیا تو وہ ادھر اُدھر سب کی شکلیں دیکھنے لگا ۔۔بڑی ماں نے جیسے ہی اسے دیکھا اسکے گالوں کواپنے ہاتھ میں لے کر پیار کرنے لگیں اور اس سے اسکے گھر بار اور ماں باپ کے بارے میں پوچھنے لگیں۔۔ ۔لیکن وہ بچہ تو ابھی تک اپنے پورے ہوش میں نہیں آیا تھا ۔۔وہ با مشکل ہی اتنا بول پایا کہ میں کہاں ہوں۔۔ ۔۔۔کچھ دیر بعد اس کے کچھ ہوش بحال ہوئے تو بڑی ماں نے اسے بگل میں ہاتھ ڈال کر بیڈ پر پیچھے ٹیک لگا کر بٹھا دیا۔۔۔اسکی نظریں ابھی بھی سب کو ایک انجان کی طرح دیکھ جارہی تھیں۔۔ لیکن بڑی ماں کی شفقت نے اسکی اس حیرانی کو کچھ سکون میں بدل دیا تھا۔۔ اسنے بتایا کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ میلا دیکھنے بہت دور کے کسی گاؤں سے آیا تھا لیکن وہ بھٹک گیا اور کافی دنوں سے اسی طرح بھٹک رہا ہے۔۔ وہ کئی دن کا بھوکا تھا۔۔بڑی ماں نے ہوش میں آتے ہی اسکے لیئے جوس اور کچھ فروٹ لانے کا حکم دیا۔۔وہ جوس کو اسطرح پی رہا تھا جیسے وہ صدیوں سے پیاسا تھا۔۔بڑی ماں نے اسے تسلی دی کہ وہ اس کے ماں باپ کا پتا کروائیں گیں تم پریشان نہ ہو۔۔۔اب وہ بچہ بڑے سکون سے کھانے میں مصروف ہو گیا۔۔۔اس وقت اسے اپنے ماں باپ کی بھی یاد نہیں آئی ہو گی کیونکہ بھوک اور پیاس نے اسے کچھ بھی سوچنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔۔ اسی طرح کچھ دن گزر گئے لیکن اسکے ماں باپ کا کچھ پتا نہیں چلا ۔۔وہ بچہ بھی خوشی خوشی ہمارے ساتھ رہ رہا تھا ۔۔بڑی ماں اسے اپنے بچوں کی طرح پیار کرتیں اور اپنے ساتھ اپنے کمرے میں سلاتیں۔۔۔میری اس سے بچپن میں ہی دوستی ہو گئی تھی۔ جبکہ میری چھوٹی بہن بھی ہم دونوں کے ساتھ ہی کھیلتی۔۔ کچھ سال گزر گئے لیکن اسکے ماں باپ کا کچھ پتا نہیں چلا ۔۔۔ اور وہ بچہ بھی بڑی ماں کی شفقت پا کر اپنے ماں باپ کو بھول چکا تھا۔۔۔بڑی ماں نے اس بچے کواپنا بیٹا بنانے کا سوچ لیا۔۔میری ماں انکے اس فیصلے سے کچھ ناراض تھیں لیکن بڑی ماں کا فیصلہ اٹل ہوتا تھا اور کسی کی مجال نہیں جو انکے سامنے ایک لفظ بھی بولے۔۔۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے۔۔۔گل شیر کو سب اس حویلی کا ہی فرد سمجھتے ہیں اور بڑی ماں تو گل شیر سے اتنا پیار کرتی ہیں جیسے وہ انکا اپنا سگا بیٹا ہو۔۔وہ گل شیر کو اپنا بیٹا بھی کہتیں اور کبھی کبھی اپنا پوتاکہتیں۔۔۔ گل شیر ،میں(ماہی) اور نازو میری چھوٹی بہن ہم تینوں بچپن سے ہی ساتھ کھیلے کودے تھے۔۔۔اور جب میں دس برس کی ہوئی تب سے گل شیر میری سوچوں میں بس گیا تھا۔۔ حویلی میں میرا دل نہیں لگتا تھااسکے بغیرمیں ہر وقت سایہ کی طرح اسکے ساتھ رہتی اور وہ بھی میرے بغیر اداس سا رہتا تھا۔۔۔ وقت بڑی تیزی سے گزرتا رہا اور بڑی ماں نے گل شیر کے ماں باپ کو دھونڈنے کی کوشش بھی ترک کردی تھی ۔۔گل شیر جب اٹھارہ برس کا ہوا تو میں سولہ سال کی ہو چکی تھی۔۔۔ اب وہ مجھے سے کچھ دور دور رہنے لگا تھا۔۔۔اسے اچھی طرح پتا تھا کہ وہ کسی غریب کا بیٹا ہے اور اسے اپنی اوقات میں رہنا چاہئے لیکن بڑی ماں نے آج تک یہ بات نہیں سوچی اور وہ تو بس اسے اپناپوتا مانتی تھیں ۔۔۔میں نے بھی کبھی اسے اس حویلی سے الگ نہیں سمجھا۔۔۔حویلی کا ہر شخص یہ بات جانتا تھا کہ گل شیر بڑی ماں کو راستے میں ملا تھا جسے انہوں نے اپنا بیٹا اور پوتا بنا لیا ہے۔۔ میں اب سولہ سال کی خوبصورت دوشیزہ میں بدل چکی تھی۔۔ میرا کومل نازک بدن جس نے کبھی سخت زمین پر قدم بھی نہیں رکھے تھے۔۔اتنے عیش اور آرام کی زندگی نے مجھے اور بھی نازک اور حسین کر دیا تھا۔۔۔سورج کی روشنی کو بھی میرے جسم کو چھونے کے لئے کئے دن لگ جاتے تھے۔لیکن میرے اندر تو جس سورج کی آگ جل رہی تھی وہ تو بس میری جان۔۔۔ میرا سب کچھ جسے میں بہت چاہتی تھی اور اسکے لیئے سب کچھ کرنے کو تیار تھی وہ تھا میرا گل شیر۔۔۔گل شیر ایک انتہائی سخت جسم کا مالک تھا ۔جو ہر وقت بڑی ماں کے کاموں میں لگا رہتا۔ ۔اسکی جوانی کو دیکھ کر بڑی ماں نے بھی اپنے کندھوں سے کچھ زمہ داریاں اتار کر گل شیر کے کندھو پر رکھ دی تھیں جسے گل شیر اچھی طرح اور احسن طریقے سے انجام دیتا۔۔۔ گل شیر کے ذمہ جہاں اور کام تھے وہاں ایک کام مجھے کالج چھوڑ کر آنا اور پھر واپس لانا بھی تھا۔۔۔مجھے بہت اچھا لگتا جب وہ میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھتا ۔میں پیچھے بیٹھنے کی بجائے ہمیشہ آگے اسکے ساتھ بیٹھتی وہ مجھے ہمیشہ کہتا بی بی جی پیچھے بیٹھ جائیں آپ کو یوں میرے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھنا زیب نہیں دیتا ۔۔۔ میں اسکے منہ سے بی بی جی کا لفظ سن کر تنک جاتی۔۔۔وہ جو میری سوچوں کا محور ہے جسکے علاوہ میں کچھ اور سوچتی ہی نہیں ۔۔وہ جب مجھے ان الفاظ سے پکارتا میرے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔۔ہماری لڑائی اکثر انہیں باتوں پر ہوتی۔۔بڑی ماں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ہم دونوں میں کتنی لڑائی ہوتی ہے ۔وہ ہمارے بیچ اس نوک چھونک کو بھائی بہن کا پیار سمجھتیں لیکن گل شیر اور میں ایسا نہیں سوچتے تھے۔۔وہ اپنے آپ کو اس گھر کا خادم سمجھتا تھا اور میں اسے اپنے جسم اور سوچوں کا مالک سمجھتی تھی۔۔۔اکثر میں کالج جاتے وقت اپنا ہاتھ گل شیر کے ہاتھ پر رکھ دیتی جسے وہ جھٹک کر پیچھے کر دیتا اور میں دوبارہ رکھ لیتی۔۔۔میں اسکے جتنا قریب آنا چاہتی وہ مجھ سے اتنا ہی دور جاتا۔۔لیکن میں بھی اپنے باپ کی ضدی اولاد تھی۔۔۔اور ہر طرح سے گل شیر کو اپنا بنانا چاہتی تھی۔۔۔لیکن وہ بڑی ماں کے احسانوں تلے دبا ہوا تھا۔ایسا سوچنا تو دور میری طرف اس طرح سے نظر اٹھاکر بھی نہیں دیکھتا تھا۔۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا میرے جسم کی بناوٹ بدلتی جا رہی تھی۔۔ میرا جم جانا اور اپنے آپ کو سمارٹ رکھانا مجھے بہت ہی خوبصورت بنا رہا تھا۔۔ میری پتلی نازک کمر جس پر ایک بری موسمبی کے برابرمیری سخت گول گول چھاتیاں جن پر چھوٹے چھوٹے نپل اور انکے گرد گلابی کلر کا ایک گول دائرہ۔۔۔میں دن میں کئی بار اپنے جسم کو شیشے کے آگے کھڑی ہو کر دیکھتی اور سوچتی کہ مجھے میں کیا کمی ہے جو گل شیر مجھے نظر بھر کر دیکھتا تک نہیں۔ ۔ کالج میں لڑکے میرے اس حسن و جمال کے دیوانے ہیں اور مجھے سے دوستی کرنے کے بہانے میرے قریب بھی آتے ہیں لیکن مجھے ان سب میں کوئی انٹرسٹ نہیں ۔۔میرا تو سب کچھ میرا گل شیر ہے بس۔۔میں اسکے علاوہ کسی اور لڑکے کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتی تھی۔۔ میرے اندر جو آگ لگی تھی وہ وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھنے لگی۔۔۔اب میں داد بخش سے کھلم کھلا اظہارِ محبت کر دیتی لیکن وہ اسے میری نادانی سمجھ کر کوئی اہمیت نہیں دیتا ۔کالج سے گھر تک پورا راستہ میں بس اسے ہی تکتی رہتی لیکن وہ پتھر دل انسان میری طرف ایک نظر بھی نہیں دیکھتااور میں تڑپ کر رہ جاتی۔۔رو ز میں کالج سے واپسی پر اپنے پاؤں پٹختے ہوئے اپنے کمرے میں جا کر سیدھا اپنے بستر پر لیٹ جاتی اور کئی دیر اپنا منہ تکیہ میں دیئے ایسے ہی الٹی لیٹی رہتی اور جب تک رانی مجھے اٹھانے نہیں آجاتی میں اپنی قسمت پر آنسو بہاتی رہتی۔۔۔رانی مجھے سے تین سال بڑی تھی اسکی ماں کی موت کے بعد بڑی ماں نے اسے بھی اسی گھر میں رکھ لیا تھا اور وہ اپنی ماں کی جگہ اس گھر کی خاص نوکرانی تھی۔۔وہ کسی کے کمرے میں بھی با آسانی اندر آ جا سکتی تھی۔۔۔میں اکثر رانی سے گل شیر کے بارے میں پوچھ بیٹھی کہ وہ کیا کر رہا ہے اپنے کمرے میں ۔۔رانی مجھے بتا تو دیتی لیکن وہ پھر پوچھتی کہ میں گل شیر کا کیوں پوچھ رہی ہوں تو میں بوکھلا جاتی اور کوئی جواب نہیں دے پاتی تو وہ خود ہی مسکرا دیتی۔ وہ سمجھتی تھی میرے اندر کی آگ کو۔۔ رانی تھی تو مجھ سے صرف تیس سال بری لیکن اسکے جسم کے ابھار ۔۔۔یعنی اس کی چھاتیاں مجھ سے بھی بری اور سخت تھیں۔ وہ بھی میری طرح پتلی کمر کی مالک تھی لیکن اسکے کولہے مجھے سے زیادہ باہر کو نکلے ہوئے تھے۔۔۔ایسا لگتا تھا جیسے یہ سب کسی دوسرے کے ہاتھوں کا جادو ہے جو رانی کے جسم پر نظر آتا ہے۔۔مجھے رانی پر کچھ کچھ شک تو ہوتا تھا کہ وہ رامو کاکا کے بیٹے جو گل شیر کا ڈرائیور تھا نواز بخش۔۔۔اسکے ساتھ رانی کے کچھ تعلقات ہیں۔کیونکہ میں اکثر اپنی بالکونی سے نواز بخش کو دیکھتی تھی اسکی نظریں رانی کو ایک بھوکے شیر کی طرح گھورتی تھیں اور رانی بھی جب اسکے پاس سے گزر تھی تو اپنے بڑے بڑے گول گول کولہوں کو مستی میں ہلاتی ہوئی جاتی اور نواز بخش اسے تب تک کھورتا جب تک وہ اسکی نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتی۔۔۔ پھر ایک رات میں ہمیشہ کی طرح اپنے بستر پرلیٹی گل شیر کی یادوں میں گم۔۔اپنے تن بدن میں اسکے پیار کی آگ کو لگائے ۔۔اپنے ہاتھوں کو کبھی اپنے سینے کے ابھاروں پر پھیرتی اور جب کبھی گل شیر کی یاد زور پکڑ لیتی تو یہ ہاتھ ٹانگوں کے بیچ میری پھول جیسی نرم و نازک ۔۔نارنگی کی دو پھانگوں جیسی رس بھری میرن شرم گاہ پر چلا جاتا اور میں بد مستوں کی طرح اسے اپنی شلوار کے اوپر سے آہستہ آہستہ ایسے سہلاتی جیسے کسی روئی کے گالوں پر ہاتھ پھر رہی ہوں۔۔۔میں اکثر رات اسی طرح سوتی۔۔گل شیر کی یاد اور اسے اپنے سپنو کا شہزادہ مان کر میری آنکھ لگ جاتی۔۔رو ز صبح اٹھ کر جب بھی میں نہانے جاتی اور اپنی شرم گاہ کو دھوتی تو میرے ہاتھوں پر کافی چکنائی لگی ہوتی اور جب میں کافی سارا پانی بہاتی تب جا کر وہ چکنائی ختم ہوتی۔۔۔۔۔ ایسی ہی ایک رات میں ،،میں لیٹی گل شیر کی یادوں میں گم تھی۔ اس رات مجھے نیند ہی نہیں آرہی تھی۔ میں نے اپنی چھاتیوں کو دبا دبا کرخود کو گرم کر لیا تھا۔میرے چھوٹے چھوٹے نپل رگڑ کھا کھا کر سخت اور سوجھ کر موٹے ہو گئے تھے۔۔پھر میں نے اپنی شرم گاہ کو سہلانا شروع کر دیا اور کچھ ہی دیر میں میں بہت گرم ہو گئی۔۔ لیکن میں یہ سب اکیلے نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔ میں چاہتی تھی کہ میرے سپنوں کا شہزادہ گل شیر ہی پہلی دفعہ مجھے فارغ کرے اور میں اسکے ہاتھوں سے اپنا کنوارہ پن لٹا دوں۔لیکن پھر جیسے ہی مجھے گل شیر کی بے رخی یاد آتی میرے تن بدن میں ایک عجیب سی آگ لگ جاتی جو میرے اندر کی اس آگ کو ختم کر دیتا جو میں اپنی شرم گاہ میں لگائے بیٹھی تھی۔۔میں نے اپنی شرم گاہ سے ہاتھ ہٹا لیا اور بیڈ پراٹھ کر بیٹھ گئی۔۔رات کے دو بج رہے تھے۔۔میں اٹھ کر بالکونی میں آ کر بیٹھ گئی۔۔حویلی کی تمام ہی لائیٹیں بند تھیں اور ایک گھپ اندھیرا تھا لیکن چاند جو تیرا دن کا ہو چکا تھا پوری طرح جگما رہا تھا اور حویلی کے باہر کی چیزوں کو با آسانی دیکھا جا سکتا تھا۔۔۔ میرا کمرہ حویلی کے پہلے فلور پر ایک کونے کی جانب تھا جہاں سے حویلی کے سائڈ میں جو نوکروں کے کواٹر بنے تھے وہ صاف نظر آتے تھے۔۔۔۔مجھے ایسا لگا جیسے کسی کے باتیں کرنے کی آوازیں آرہی ہیں اور میں بالکونی کے کرانے پر کھڑی ہو کر حویلی کے سائڈ بنے کواٹر وں کی طرف دیکھنے لگی۔۔ان کواٹروں میں رامو کاکا ،رانی اور میری ماں کی ایک الگ خاص نوکرانی تھیں وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھی۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد مجھے رانی کے کواٹر کی لائٹ جلی ہوئی نظر آئی۔۔۔میری کچھ سمجھ نہیں آیا کہ اتنی رات رانی لائٹ جلا کر کیا کر رہی ہے۔۔کافی دیر تک لائٹ جلتی رہی تو مجھے کچھ شک ہوا اور میں حویلی کے سائڈ والے دروازے سے باہر آئی جو دورازہ نوکروں کے کواٹروں کی طرف کھلتا تھا۔۔میں دبے پاؤں رانی کے کواٹر کی طرف بڑھی۔ مجھے ڈر بھی تھا کہ کہیں کوئی مجھے نوکروں کے کواٹروں کے پاس دیکھے گا تو کیا سمجھے گا اسی لیئے میں بہت احتیات کے ساتھ کواٹر کے دورازے تک پہنچی جو کہ بند تھا پھر میں کواٹر کے سائد کی طرف گئی جہاں سے کھڑکی میں سے لائٹ کی روشنی آرہی تھی۔شاید کھڑکی کھلی تھی۔۔جیسے ہی میں کھڑکی کے قریب گئی مجھے اندر سے رانی اور ایک مرد کی آواز سنائی دی وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔۔۔کچھ ہی دیر میں میں نے وہ آواز پہچان لی وہ آواز رامو کاکا کے بیٹے نواز بخش کی تھی جو رانی سے کہ رہا تھا کہ وہ اسے بہت چاہتا ہے اور رانی بھی اسے یہی کہ رہی تھی۔۔میری ہمت نہیں ہورہی تھی کہ میں آگے بڑھ کر کچھ دیکھوں۔۔کچھ دیر کھڑے رہنے کے بعد میں نے کچھ ہمت کر کے اندر جھانکا تو اندر کا نظارہ دیکھ کر میرے تو رونگٹے ہی کھڑے ہو گئے۔۔۔۔رانی چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی اور اسکی بلائز کھلا ہوا تھا جس میں سے اسکے انتہائی سخت اور گول گول سینے کے دونوں ابھار باہر نکلے ہوئے تھے اور نوازبخش جو خود بھی صرف شلوار پہنے ہوئے تھا رانی کے برابر میں لیٹا اسکی چھاتیوں سے کھیل رہا تھا۔۔۔رانی پوری طرح بے چین تھی اسکے پیر ایک ٹرپتی مچھلی کی طرح مچل رہے تھے۔۔اور نواز اسکی چھاتیوں کے ساتھ کھیلتا ہوا اسکے نپل کو باری باری اپنے منہ میں لیتا اور ہونٹوں کے بیچ دبا کر کھینچتا ۔۔نواز کی اس حرکت سے رانی تڑپ سی جاتی اور اسکے منہ سے آہ ہ ہ ہ ۔۔۔ام م م م ۔۔۔کی سسکاری نکل جاتی۔۔۔پھر رانی اٹھی اور نواز کے اوپر آگئی۔اب رانی کے دونوں ممے لٹک گئے اور نواز انہیں اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر باری باری چوستااور اسکا ہاتھ رانی کی کمر کو سہلاتا ہوا اسکے کولہوں تک چلا جاتا۔وہ رانی کی شلوار کے اوپر سے اسکے کولہوں کو خوب سہلاتا رہا اور انہیں بھی دباتا رہا۔۔رانی بری طرح بے چین تھی اور کمرے کا ماحول ایک دم گرم اور سیکسی تھا۔ رانی اور نواز کے اس پیار محبت نے مجھے اور بھی گرما دیا جسکی وجہ سے میری شرم گاہ سے بھی پانی کے دھارے بہ نکلے جو مجھے اپنی ٹانگوں کے بیچ محسوس ہو رہا تھا۔۔میرے نپل میری قمیض میں سخت کھڑے ہو چکے تھے جو بریزر نہ ہونے کی وجہ سے میری قمیض کے اوپر سے ہی صاف نظر آ سکتے تھے۔۔۔ پھر کچھ دیر بعد شاید رانی جھڑ چکی تھی اسنے نواز کو رکنے کو کہا اور وہ دونوں ایک دوسرے کے برابر میں لیٹ گئے رانی نے اسکی باہوں میں ہاتھ ڈال لیا۔۔لیکن نواز مجھے کچھ خوش نظر نہیں آیا کیونکہ اسکے اندر کا لاوا ابھی بھی ابل رہا تھا جس پر رانی نے اپنا پانی چھوڑ کر اسکی آگ کو بجھا دیا تھا۔۔وہ را نی سے کہنے لگا کب تم مجھے پورا پیار دو گی۔۔میں کب تک صرف تمہارے مموں سے کھیلتا رہوں گا۔۔۔رانی کچھ نہ بولی اور نواز غصے میں اٹھ کر اپنے کپڑے پہننے لگا ۔۔میں فوراً وہاں سے نکلی اورحویلی کے دروازے پر کھڑی ہو کر جھرکی میں سے دیکھنے لگی۔۔کچھ ہی دیر میں نواز غصے میں نکلا اور اپنے کواٹر کی طرف بڑھ گیا۔ رانی بغیر قمیض پہنے اسکے پیچھے دروازے تک آئی لیکن نواز دور جا چکا تھااسی لیئے اس نے آواز دینا بہتر نہیں سمجھا اور اپنے دروازے پر صرف شلورا پہنے ننگی گھڑ ہو کر نواز کی ناراضگی پر آنسو بہانے لگی۔۔۔پھر وہ بھی اندر جا کر سو گئی۔۔ صبح نواز کا منہ کچھ پھولا پھولا تھا میرے پوچھنے پر اسنے کچھ نہیں کہا اور چپ رہا لیکن میں تو ساری کہانی جانتی تھی۔۔پھر جب رانی میرے سامنے آئی تو وہ بھی کچھ بجھی بجھی تھی۔۔۔میں نے رانی سے بھی پوچھا لیکن اسنے بھی کچھ نہ کہا اور بس اتنا کہا کہ کل رات نیند پوری نہیں ہوئی اسی لیئے۔۔خیر میں نے کچھ زیادہ زور بھی نہیں دیا اور میں ان دونوں کو برا بھی نہیں جانتی تھی کیونکہ میرے اندر بھی گل شیر کے لیئے کچھ ایسی ہی آگ جل رہی تھی جسے گل شیر اپنی پاک دامنی کے ذریعے ہمیشہ کچل دیتا تھا۔۔میرے ساتھ یہ سب کچھ کرنا تو بہت دور کی بات تھی وہ تو میری طرف ایک پیار بھری نظر سے بھی نہیں دیکھتا تھا۔۔۔ دن بھر رانی اور نواز کے چہرے بجھے بجھے رہے لیکن شام کے وقت میں بالکونی پر کھڑی تھی تو کیا دیکھا کہ وہ دونوں نیچے باغ میں کھڑے ہیں اور نواز رانی کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا ہے اور رانی شرم کے مارے پانی پانی ہوئے جا رہی ہے۔ایسا لگتا تھا جیسے رانی نے آج راجت اپنا سب کچھ نواز کو سونپنے کے لیئے حامی بھر لی ہو اور اس مارے وہ شرم سے پانی پانی ہو رہی ہو۔۔پھر وہ پلٹ کر اندر حویلی میں داخل ہو گئی اور نواز ہمیشہ کی طرح رانی کے کولہوں کو مٹکتا دیکھتا رہا۔۔۔نواز نے صرف رانی کی چھاتیاں دیکھی تھیں رانی نے آج تک اسے اپنی شلوار اتارنے نہیں دی۔۔۔لیکن آخر کب تک رانی اپنے اندر اپنی شرم گاہ میں لگی آگ سے بچ سکتی تھی آخر ایک دن تو رانی کو ہار ماننی ہی تھی اور وہ آج ہی کی رات تھی۔۔۔رات ہوتے ہی حویلی میں ہر طرف سناٹا چھا جاتا۔حویلی کے باہر جھینگڑوں کی ٹرٹر ٹرٹرٹرٹر۔۔ٹرٹرٹرٹر۔۔۔ کی آوازیں گونجتی رہتیں اور دور سے بہت سے کتوں کے بھوکنے کی آوازیں رات کے سناٹے کا علم دیتے۔۔۔
 آج چاند کی چودہ تاریخ تھی ۔۔آسمان کے ساتھ ساتھ زمین بھی جگ مگا رہی تھی۔۔اور میں روز کی طرح اپنے بستر پر لیٹی اپنے جسم کے ساتھ کھیل رہی تھی۔۔کل رات رانی اور نواز کی محبت نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ وہ رانی اور نواز نہیں بلکہ میں اور گل شیر تھے ۔۔اور میرے اسی بستر پر وہ میرے ننگے بدن پر اپنی انگلیوں کو نچاتا ہوا میرے انگ انگ سے کھیل رہا ہواور میں ایک پانی سے باہر نکلی مچھلی کی تڑپ رہی ہوں۔۔۔میں انہیں خیالوں میں گم اس بات کا احساس تک نہیں ہوا کہ میں اپنی ٹانگوں کے بیچ اپنی شرمگاہ کو سہلاتے سہلاتے اتنی بے چین ہو گئی کہ میں نے اپنی شلوار میں ہاتھ ڈال دیا اور میری ندیا سے بہتا ہوا چکنا چکنا پانی میری انگلیوں کو میری ندی کی گہرائی میں کھینچے چلے جا رہا ہو۔۔۔میں ایک بد مست دوشیزہ کی طرح اپنے بستر پر اپنی ٹانگوں کو کبھی اٹھاتی اور کبھی بیڈ کی چادر پر رگڑنے لگ جاتی۔۔۔ اسی اثنا میں میرے بدن کی آگ بھڑک گئی اور ایک لاوا میرے اندر پوری طرح پھٹنے کو تیار تھا۔۔انجانے میں میراہاتھ تیز تیز ندی میں تیرنے لگا۔۔میری بند آنکھوں میں گل شیر میرے خیالوں میں چھایا ہوا تھا ۔۔رانی کی جگہ میں اور نواز کی جگہ گل شیر۔۔۔میں گل شیر کے اوپر اور وہ میری چھاتیوں کو اپنے ہونٹوں سے پکر کر کھینچتا ۔۔ اور نیچے میری ٹانگوں کے بیچ گل شیر کا لوہے سے بھی زیادہ سخت اور گرم لن میری چوت پر رگڑ کھا رہا تھا ۔۔میں خیالوں ہی خیالوں میں گل شیر کے لن کی رگڑ سے فارغ ہونے لگی اور ایک عجیب سا احساس ہونے لگا جیسے میرے اندر کی ساری آگ میری چوت میں سمٹ آئی ہے اور ایک ہی جھٹکے سے یہ آگ ایک لاوے کی طرح پھٹ پڑی۔۔میں اپنے بستر پر زور زور سے اپنے ہاتھ سے اپنی چوت کو سہلا رہی تھی اور میرا جسم جھٹکے لے رہا تھا۔۔۔جب میرے جسم سے وہ تمام کا تمام لاوا پھٹ کر نکل گیا تم میرے بدن کے انگ انگ کو ایک راحت ملی۔۔مجھے ہلکے ہلکے میٹھے میٹھے جھٹکے ابھی بھی لگ رہے تھے۔۔اب جو میں نے آنکھ کھولی اور اپنے ہوش میں آئی تو میرا ہاتھ ابھی بھی میری شلوار کے اندر میری شرم گاہ کے اوپر تھا جو پوری طرح میری ندی کے چکنے چکنے پانی سے لیس تھا۔۔میں نے فوراً ہاتھ باہر نکالا ۔۔۔ مجھے ایک میٹھا میٹھا سا مزہ آرہا تھا لیکن ذہن ملامت کر رہا تھا کہ یہ میں نے کیا کر دیا۔۔ یہ سب تو میرے گل شیر کو کرنا تھا۔۔ لیکن پھر مجھے آہستہ آہستہ یاد آنے لگا کہ یہ سب تو میرا گل شیر ہی کر رہا تھا جو میرے خیالوں میں مجھے سکون دے گیا۔۔۔اب میں بیڈ پر بیٹھی بیٹھی مسکرا دی اور شرم سے اپنا سر اپنے گھٹنوں میں گھسا لیا۔۔ رات کے دو بج چکے تھے کہ اچانک مجھے رانی اور نواز کی یاد آئی میں جھٹ سے اٹھی اور کل کی طرح بالکونی سے دیکھا تو کمرے کی لائٹ جل رہی تھی میں فوراً نیچے آئی اور کواٹر کی طرف چل دی۔۔آج میں تھوڑا جلدی آگئی تھی۔۔۔شاید نواز ابھی ہی آیا تھا ۔میں نے جب اندر جھانکا تو رانی قمیض اتار کر لیٹی ہوئی تھی اور نواز چارپائی کے پاس کھڑا اپنی قمیض اتار رہا تھا۔وہ فوراً قمیض اتار کر رانی کے اوپر چڑھ گیا ۔اور اپنے مضبوط ہاتھوں میں رانی کے نرم ملائم مموں کو دبوچ لیا۔۔رانی کی ایک دم آؤچ ۔۔۔نکلی اور وہ کہ رہی تھی آرام سے میرے راجا۔۔۔لیکن نواز نے اسی بے دردی سے اسکی نازک نارنگیوں کو نچوڑ ڈالا اور نپل کو منہ میں لے کر نارنگیوں کا رس چوسنے لگا۔۔۔رانی بھی اپنے ہاتھوں سے اسکے سر کو پکڑ کر اپنے سینے پر زورسے دباتی اور کبھی اپنا ہاتھ اسکی کمر اور کولہوں تک لے جاتی۔۔۔رانی اور نواز دونوں پوری طرح بے چین ہو چکے تھے انکے اندر کی آگ اتنی بھڑک گئی تھی کہ رانی نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی شلوار کا ازاربند کھولا اور اسے نیچے کرنے لگی۔۔۔نواز نے رانی کا ساتھ دے کر اسکی شلوار گھٹنوں تک اتار دی۔۔اسی اثنا میں رانی نے اپنی ٹانگوں کو نواز کی رانوں پر رکھ کر ایک کینچی سی باندھی اور نواز کو اپنی چوت کی جانب کھینچنے لگی۔جیسے ہی نواز کینچی کے زور سے اسکی چوت کے قریب ہوا اسکا لن رانی کی چوت سے ٹکرا گیا اور اسکی شہوت مزید بڑھ گئی۔۔نواز نے خود بھی زور لگا کر لن کو چوت پر گھسالا لیکن شلوار کی وجہ سے وہ صرف اسکی چوت کے اوپر ہی زور لگا پایا۔۔رانی اب پوری طرح بے چین تھی۔۔ شاید وہ نواز کے لن کو چوت میں لے کر اپنے اندر لگی نا جانے کتنے دنوں کی آگ کو بجھانا چاہتی تھی۔۔۔۔ اور آخر کار رانی سے صبر نہیں ہوا اور اسنے نواز کا ازاربند بھی کھول دیا اور شلوار نیچے کردی۔۔جیسے ہی شلوار نیچے کی نواز کا لن پھنپھناتا ہوا باہر نکل آیا۔۔رانی نے اپنے ہاتھ سے اسکے لن کو پکڑا تو نواز کے منہ سے بھی سسکاری نکلی۔۔آآآآ رانی۔۔۔میری جان۔۔۔۔رانی نواز کے لن کو پکڑ کر اس سے نکلنے والے رس کو اپنی ہتھیلی میں لیتی اور پھر نواز کو پورے لن پر مسل کر اسے چکنا کردیتی۔۔اور جب لن کافی چکنا ہو گیا تو اسنے خود اپنے ہاتھ سے لن کو پکڑ کر اپنی چوت کے منہ پر رکھا۔۔۔ادھر نواز کو جب رانی کی چوت کی مہک پہنچی تو اسکے لن نے ایک بار اکڑ کر اسے اشارہ دیا کہ وہ پوری طرح تیار ہے رانی کے سمندر میں اترنے کے لیئے۔۔۔پھر نواز نے رانی کی چوت بہتی دھارا میں اپنے لن کو خوب چکنا کیا ۔۔رانی جب بھی لن کو اپنی چوت پر رگڑ گھاتے محسوس کرتی تو اسکے تن بدن میں ایک بجلی کی رفتار جیسا کرنٹ گزر جاتا اور وہ مست ہو کر خود اپنی چوت کو رگڑنے لگ جاتی۔۔اسی اثنا میں رگڑتے رگڑتے لن اتنا چکنا ہو گیا کہ ایک دم سے پھسل کر رانی کی چوت میں گھسنے لگا اور رانی کے منہ سے ایک چیخ نکل پڑی۔۔آآآآآآ۔۔۔۔نواز۔۔۔ام م م م ۔۔۔۔لن ابھی پورا اندر نہیں گیا ہو گا شاید کیونکہ رانی ابھی شانت تھی۔۔ابھی صرف لن کی ٹوپی ہی اندر گئی تھی کہ اچانک نواز نے تھوڑا جھٹکا مارا تو رانی کی زور دار چیخ نکل گئی جو کمرے سے باہر تک نکل گئی۔۔نواز نے ڈر کے مارے فوراً ہاتھ سے رانی کا منہ دبوچ لیا۔۔۔ام م م م ۔۔۔۔۔رانی کے منہ پر ہاتھ تھا اور بس اسکے منہ سے گوں گوں گوں گوں کی آواز ہی نکل پائی۔۔نواز رانی کے سمندر میں اتر چکا تھا۔۔وہ ابھی سمندر کی آدھی گھرائی میں ہی گھڑا تھا۔اور رانی کو شانت کرنے کے لیئے اسنی اپنی حرکت وہیں روک دی۔۔کچھ دیر میں اسنے رانی کے منہ سے ہاتھ ہٹایا تو رانی در د سے کراہ رہی تھی۔۔آآآ۔۔۔۔نواز۔۔تم نے تو میری چوت کو چیر ڈالا نواز۔۔۔بہت درد ہو رہا ہے نواز۔۔۔اور نواز کچھ بولے بغیر اسکے منہ پر جھک کر اسکے ہونٹوں کا لمس لینے لگا۔۔وہ اسکی ہونٹوں کی پنکھڑیوں کو باری باری اپنی ہونٹوں میں دباتا اور انہیں چوستا۔۔۔رانی درد کی کیفیت سے باہر نکل چکی تھی۔۔۔نواز نے جس طرح اسکے ہونٹوں کو چوسا تو رانی پھر سے بے قابو ہو گئی ۔۔اب اسے لنڈ کی چوت میں موجودگی درد کی بجائے ایک عجیب سے مزے کا احساس دے رہی تھی جس نے رانی کو اتنا بے چین کر دیا کہ وہ خود سے اپنے جسم کو دھکیل کر باقی لن کو اندر لینے لگی۔۔اب درد کی لہریں ہلکی ہو چکی تھی اور ایک ایک انچ اندر جاتے ہوئے مزے کا احساس ہو رہا تھا۔۔نواز کا پورا لن اب رانی کے اندر تھا اور وہ دونوں ایک دوسرے سے چپک چکے تھے۔۔۔۔نواز جیسے ہی لن کو دوبارہ باہر نکالنے لگا رانی نے جھٹ سے اپنی ٹانگوں سے نواز کے گرد کینچی باندھی اور زور لگا کر نواز کو پھر سے پورا اندر کر لیا اور کچھ دیر وہ اسی طرح نواز کے لن کو پوری طرح اپنے اندر سموئے رہی اور خود اپنے جسم کو گھما گھما کر لن کے مزے لینے لگی۔کہ اچانک سے اسے جھٹکے لگنے لگے اور اسکی سسکاریوں کی آواز تیز ہو گئی۔۔رانی فارغ ہو چکی تھی۔۔۔۔کچھ دیر بعد اسنے اپنی گرفت دھیلی کی تو نواز کو یہ اشارہ ملا کہ رانی کی ندی میں سیلاب آچکا ہے۔۔۔لیکن نواز کے اندر اٹھتا ہوا سمندر ابھی اپنے پورے جوش پر تھا۔۔نواز نے پورا لن باہر نکالا اور دوبارہ اندر کیا۔۔آہستہ آہستہ اسنے اپنی رفتار تیز کی اور پانچ منٹ کی اس اندر باہر کی مشق کے بعد اسنے ایک دم سے اپنا لند باہر نکالا اور باہر نکلتے ہی ایک لمبی دھارا بہہ نکلی جو سیدھا رانی کے منہ اور مموں پر گئی۔۔۔اب نواز کی حالت بھی غیر ہو رہی تھی اسے بھی جھٹکے لگنے لگے۔۔اور وہ آخری قطرے تک اپنے لن کو مسل مسل کر خالی کرنے لگا۔۔۔نواز بھی تھک ہار کر رانی کی باہوں میں لیٹ گیا ۔۔ یہ سب نظارہ دیکھ کر تو میری حالت اب کنٹرول سے باہر تھی۔۔اب مجھے بھی گل شیر کے لن سے اپنی پیاس بجھانا تھی۔۔۔میں اپنے بستر پر آگئی اور گل شیر کے خیالوں میں نا جانے کب آنکھ لگ گئی۔۔صبح اٹھی تو جسم ایسا جیسے میرا انگ انگ ٹوٹ رہا ہو۔۔۔مجھے سر سری سا کچھ یاد آنے لگا۔پھر میری آنکھوں کے سامنے پوری تصویر آگئی اور رات کا خواب میرے آنکھوں کے سامنے ایسے آگیا جیسے حقیقت کوئی۔۔میں رات کے خواب کو پوری طرح یاد کرنے لگی جسمیں میری جان گل شیر میری باہوں میں ہے اور وہ مجھے ایسے نہار رہا ہے جیسے کل رات نواز رانی کو۔۔۔۔مجھے اپنی ٹانگوں کے بیچ کچھ زیادہ ہی گیلا گیلا لگنے لگا تو میں نے نا چاہتے ہوئے بھی اپنی شلوار نیچے کی اور بیڈ سے ٹیک لگا کر اپنے گھٹنوں کو موڑ لیا۔اب میری شرم گاہ پوری طرح کھلی ہوئی تھی لیکن میں تھیک سے دیکھ نہیں پارہی تھی تومیں نے سائڈ ٹیبل پر رکھے اسٹینڈ پر لگے شیشے کو اٹھایا اور اپنی ٹانگوں کے بیچ اپنی شرم گاہ کے بلکل قریب لے آئی۔۔آج میں زندگی میں پہلی بار اپنی شرم گاہ کودیکھ رہی تھی۔۔میں خود کی شرمگاہ کو دیکھ کر پھر سے بے چین ہونے لگی۔۔گلابی گلابی پنکھڑیوں کے بیچ چکنا چکنا رس اور جیسے ہی میں نے ہاتھ لگایا تو میرے اندر جیسے کرنٹ سا لگنے لگا۔۔میں نے فوراً ہاتھ ہٹالیا لیکن جو مزہ مجھے ملا تھا اسنے مجھے پھر سے مجبور کیا کہ میں ہاتھ لگاؤں۔اور ابکی بار میں نے نہ صرف ہاتھ لگایا بلکہ اپنی ایک فنگر ان پنگھڑیوں کے بیچ ایک چھوٹے سے سوراخ میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن میرے ہاتھ پیروں میں جھٹکے لگنے لگے اورمیں رک گئی۔۔میں ڈر گئی کہیں میرا پردہ بکارت نہ پھٹ جائے اور میں گل شیر سے نظریں نہ ملا پاؤں۔۔جیسے ہی میں نے انگلی باہر نکالا تو ساتھ ہی کچھ گاڑھا گاڑھا پانی بھی نکل آیا۔۔شاید میں رات خواب میں بری طرح فارغ ہوئی تھی اور یہ میرا خود کا پانی تھا۔۔۔اب میں نے شیشہ رکھا اور شلوار پہن کر نہانے چلی گئی۔۔آج مجھے کافی کمزوری لگ رہی تھی۔۔۔اور جب رانی میرے کمرے میں آئی تو وہ بھی کافی خوش تھی لیکن اسکی چال ہلکی سے بدلی ہوئی تھی جیسے اسکی جھانگیں چھل گئی ہوں اور اسے چلنے میں تکلیف ہو رہی ہو۔میں نے پوچھا کہ چلنے میں کوئی تکلیف ہو رہی ہے تو وہ بولی نہیں باجی ایسے ہی تھوڑا پیروں میں درد ہے بس۔۔۔پھر میں نے اسے کہا جاؤ آج تم آرام کرو میں بڑی ماں کو سمجھا دوں گی اور وہ خوشی خوشی میرا شکریہ ادا کر کے اپنے کواٹر میں چلی گئی۔۔ یوں میں اب پورا پورا دن اداس رہتی اور میرے اندر کی آگ مجھے چین نہیں لینے دیتی اور اُدھر وہ گل شیر جو کسی پتھر سے کم نہیں میرے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔۔ اب میں گل شیر کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیئے ترکیبیں سوچنے لگی لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی۔۔۔پھر اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور میں اس پر عمل کرنے کے لیئے رات کا انتظار کرنے لگی۔۔۔ جیسے ہی رات دھلی سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔۔۔سردیوں کی کچھ آمد سی تھی تو سبھی جلدی کمروں میں چلے جاتے تھے سوائے گل شیر کے۔۔ وہ باہر گارڈن میں چادر اوڑھے اور ایک انگیٹھی میں آگ جلائے کئی کئی گھنٹو سوچوں میں گم رہتا۔۔۔آج رات بھی وہ اسی طرح بیٹھا تھا لیکن آج کچھ سردی زیادہ تھی تو رات بارہ بجے کے قریب بڑی ماں نے گل شیر کو آواز دی اور کہا کہ بیٹا آج کچھ زیادہ سردی ہے تم بھی اپنے کمرے میں چلے جاؤ بیمار ہو جاؤ گے۔۔گل شیر جو بڑی ماں کی ایک ایک بات سر جھکا کر سنتا تھا اس بات پر بھی سر ہلا کر منہ سے جی کہ کر انگیٹھی میں لگی آگ بجھا کر اپنے کمرے میں چلا گیا اور یوں میں نے بڑی ماں کی اس مہربانی پر جو انہوں نے گل شیر کو اس کے کمرے میں بھیج کر مجھ پر کی،انکا دل ہی دل میں شکریہ ادا کیا۔۔۔ اب تقریباً رات کے ایک بجے میں اپنے کمرے سے باہر نکلی اور سیڑیوں سے اتر کر نیچے آئی اور گل شیر کے کمرے کی طرف جانے لگی جو راہ داری سے ہوتا ہو سب سے آخر میں تھا۔۔۔بڑی ماں نے تو کتنی بار کہا کہ وہ اوپر کے کمروں میں سے ایک کمرہ لے لے لیکن ان جناب کو تو بس ایک کونے میں کوٹھری جیسی جگہ پسند تھی ۔اور وہ اکثر بڑی ماں سے کہہ دیتے ماں مجھے میرا کمرہ بہت پسند ہے اور میں اسی میں خوش ہو تو بڑی ماں بھی دوبارہ سے کچھ نہ بولتیں۔۔دراصل جتنا گل شیر بڑی ماں کا کہنا مانتا تھا بڑی ماں بھی اتنا ہی اسکے فیصلوں کا احترام کرتیں اور جو وہ کہتا آنکھ بند کر کے مان لیتیں۔۔۔ میں جیسے ہی گل شیر کے کمرے کے پاس پہنچی تو ادھر اُدھر نظر دوڑا کر آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھولا جسے وہ کبھی بھی لاک نہیں کرتا تھا۔۔میں جیسے ہی اندر گئی وہ اپنے بیڈ پر کروٹ لیئے دوسری جانب منہ کر کے لیٹا ہوا تھا

Posted on: 04:28:AM 14-Dec-2020


0 0 290 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 1 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com