Stories


بہن ریا کی کنواری چوت از رابعہ رابعہ 338

میرا نام بھودو ہے، میں نےڈا میں رہتا ہوں، میری عمر 35 سال ہے، میں صحت میں ٹھیک ہوں اور سمارٹ بھی ہوں! میری بہن 18 سال کی ہے لیکن اس کا بدن بہت بھرا ہوا ہے اور وہ جوانی کی ڈیوڑھی پر قدم رکھ چکی ہے، اگرچہ میری شادی ہو گئی ہے، پر اس کو دیکھ کر دل میں کچھ ہونے لگتا تھا، جب میں اس کو کھیلتے ہوئے دیکھتا، کھیلنے کے دوران اس کے ابھرتے ہوئے دودھ دیکھتا تو میرے دل میں سنسنی فیل جاتی تھی، دوڑنے کے دوران جب گول گول چوتڑ اوپر-نیچے ہوتے تو میرا لنڈ پتلون کے اندر مچل اٹھتا تھا اور اس کے ساتھ کھیلنے (سیکس کا کھیل) کے لئے پریشان کرنے لگتا تھا. کیا کمسن كھلتي ہوئی جوانی ہے اس کی! مجھے اپنی پانچ سال پرانی بیوی تو بوڑھی لگنے لگتی تھی. میں تو جب بھی اپنی بیوی کو چودتا تو مجھے اپنی بہن کا ہی چہرہ نظر آنے لگتا تھا. اگرچہ میری بہن مجھ قریب ستره سال چھوٹی ہے، لیکن میں اپنی جنسی جذبات پر قابو پانے میں اسمرتھ تھا. چونکہ ہم لوگوں کا شامل خاندان ہے اس لئے سب ایک دوسرے کے یہاں آتے جاتے تھے اور ایک ہی گھر میں رہنے کی وجہ سے کبھی کبھار کچھ ایسا نظر جاتا تھا کہ ... ایک دن مجھے اپنی بہن کو نہاتے ہوئے دیکھنے کا موقع مل گیا میں نے ریا کو آواز دی پر کوئی جواب نہ ملنے کی وجہ سے میں اندر چلتا چلا گیا، مجھے کوئی دکھائی نہیں دیا. تبھی مجھے باتھ سے پانی گرنے کی آواز آئی. میں نے پھر سے ریا کو آواز دی تو باتھ سے ریا کی آواز اي- بھیا، چچا تو آفس چلے گئے ہیں. میںنے کہا- اچھا! اور واپس آنے کے لئے مڑ گیا لیکن تبھی میرے من میں بسی ہوس نے زور مارا، میں نے سوچا کہ ریا کیسے نہا رہی ہے، میں نے باتھ کی جانب رخ کیا اور کوئی سوراخ ڈھوڈھنے کی کوشش کرنے لگا، جلدی ہی مجھے کامیابی مل گئی، مجھے دروازے میں ایک سوراخ نظر آ گیا میں نے اپنی آنکھ وہاں جمع دی. اندر کا نظارہ دیکھ کر میرا روم روم کھڑا ہو گیا، اندر ریا پوری نںگی ہوکر جھرنے سے لطف لے رہی تھی. اے خدا! کیا پھگر ہے اس کا! بالکل مخملی بدن، سیاہ اور لمبے بال، ابھرتی ہوئی چوچیاں، بڑی بڑی آنکھیں، بالکل گلابی ہونٹ اور اس کی چوت تو اف .... ابھری ہوئے پھاكے اور اس کے ارد گرد ہلکے ہلکے رويے! اس کی گانڈ ایکدم گول اور سڈول! بھری ہوئی جاںگھیں! اتنا دكھنے کے بعد میرا تو برا حال ہو گیا تھا، جب جھرنے سے اس کے جسم پر پانی گر رہا تھا تو موتیوں کی بوندیں ایسے لگ رہی تھی، میرا تو حال برا ہو گیا، میں نے بہت کنواری لڑکیوں کو چودا تھا پر اتنی مست لونڈیا میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی. تبھی میں نے دیکھا کہ ریا اپنی چوت اور چوچیوں میں صابن لگا رہی ہے، اس دوران وہ اپنی چوت میں اپنی اوںگلی ڈالنے کی کوشش کر رہی تھی. میرا لنڈ تو سخت ہو کر پتلون کے اندر چھٹپٹا رہا تھا، دل میں بھی یہی آ رہا تھا کہ کس طرح بھی ہو ریا کو ابھی جا کر چود دوں کیونکہ آج کے پہلے جب میں اس کو کپڑوں میں دیکھ کر چودنے کے خواب دیکھتا تھا اور آج ننگی دیکھنے کے بعد تو قابو کر پانا بڑا مشکل ہو رہا تھا. تبھی میرا موبائل بج گیا، یہ تو اچھا ہوا کہ موبائل وايبرےشن موڈ میں تھا اور گھنٹی نہیں بجی. خیر موبائل کی وجہ سے میں زمین پر واپس آ گیا تو وہ بولے آج مجھے آفس سے آنے میں دیر ہو جائے گی اور ریا کو آج میں نے وعدہ کیا تھا کہ کچھ کپڑے دلانے بازار لے جاؤں گا، کیا تم میرا یہ کام کر سکتے ہو؟ مجھے تو منہ مانگی مراد مل گئی تھی، میں نے فوری طور کہا- چچا آپ پریشان نہ ہوں، میں ریا کو کپڑے دلا دوں گا. اور ادھر سے انہوں نے تھینکس کہہ کر فون کاٹ دیا. اتنے میں مجھے باتھ کا دروازہ کھلنے کا احساس ہوا، میں نے فوری طور وہاں سے ہٹ کر اپنے کمرے میں آ گیا. میرے دماغ میں منصوبہ بننی شروع ہو گئی کہ کیسے موقع کا فائدہ اٹھایا جائے. پھر میں تھوڑی دیر بعد ریا کے کمرے میں گیا، وہ اپنے بال سکھا رہی تھی پنکھے کے سامنے بیٹھ کر. مجھے دیکھتے ہی فورا کھڑی ہو گئی. میںنے کہا- ریا کیسی ہو؟ وو بولی- ٹھیک ہوں بھیا. میںنے کہا- اب پاپا کا فون آیا تھا، کر رہے تھے کہ آج تم کو شاپنگ لے جانا تھا مگر آفس میں کام زیادہ ہے، انہیں دیر ہو جائے گی اور تم کو شاپنگ میں کروا لاؤں. اس نے کہا ٹھیک ہے بھیا، کتنے بجے چلیں گے؟ میںنے کہا- تم تیار ہو جاؤ، ہم لوگ ابھی نکلیں گے اور دوپہر کا کھانا بھی باہر کھائیں گے تمہاری بھابھی (میری بیوی چونکہ ٹیچر ہے) تو شام تک آئیں گی آج میں شاپنگ کے ساتھ تم کو پارٹی بھی دوں گا. اس کے چہرے پر چمک آ گئی. خیر میں نے 11 بجے کے قریب اس کو اپنے سکوٹر پر بٹھایا اور نکل پڑا مارکیٹ جانے کو میں نے سکوٹر ایک بڑے مال میں جا کر روکا، تو ریا چونک کر بولی بھیا، یہاں تو بڑے مہنگے کپڑے ملیں گے؟ میں نے اس سے کہا تو کیا ہوا، مہنگے کپڑے اچھے بھی تو ہوتے ہیں! اور پھر تم اتنی خوبصورت ہو، اچھے کپڑوں میں اور زیادہ خوبصورت لگوگي. تو اس کا چہرہ سرخ ہو گیا. مال کے اندر جا کر کپڑے پسند کرتے وقت وہ مجھ بار بار پوچھتی رهي- بھیا، یہ کیسا لگ رہا ہے؟ وہ کیسا ہے؟ خیر چار جوڑے کپڑے منتخب کر کرکے وہ ٹرائی روم میں گئی. ٹرائی روم تھوڑا کنارے بنا تھا اور اس وقت مال میں زیادہ لوگ تھے بھی نہیں، میں ٹرايروم کے باہر ہی کھڑا ہو گیا. وہ پہن کر آتی اور مجھ پوچھتي- یہ کیسا لگ رہا ہے؟ ٹھیک ہے یا نہیں؟ اس نے وہ چاروں جوڑی کپڑے پسند کر لئے. اس کے بعد میں نے پوچھا ریا، اور کچھ لینا ہے؟ تو وو بولی- ہاں، مگر وہ مجھے اکیلے ہی لے لوگيمےنے سوچا ایسا کیا ہے، خیر میں نے دیکھا کہ وہ عورت سیکشن میں جا رہی تھی. اس نے کچھ انڈر گارمےٹ لئے اور جلدی سے پیک کرا لئے جب وہ لوٹ کر میرے پاس آئی تو میں نے کہا میں نے تو دیکھ لیا ہے. تو وو شرما گئی. میں نے اس کو چھےڑتے ہوئے کہا تم ان کا ٹرائل نہیں دكھاوگي کیا؟ تو وہ اور شرما گئی. میں نے ماحول کو عام کرتے ہوئے کہا میں تو اس لئے کہا تھا کہ تمہاری بھابھی کو تو یہ سب میں ہی لا کر دیتا ہوں، اگر تم اس کے لئے بھی مجھ کہتی تو میں تجھے اچھی چیز دلا دیتا. بات اس کی سمجھ میں آ گئی، وہ بولی بھیا غلطی ہو گئی. میںنے کہا- چلو اب چلتے ہیں. میں اسکو خاتون محکمہ میں لے گیا اور سیلز گرل سے غیر ملکی اتروستر دکھانے کو کہا. چونکہ ریا تھوڑی دیر پہلے ہی اس سے کچھ اتروستر لائی تھی، لہذا اس نے اسی ناپ کے اتروستر دکھانے لگی. ان اتروسترو کو دیکھ کر ریا کے اندر کی خوشی میں نے اس کے چہرے سے پڑھ لی، میں نے کہا چلو جاؤ اور ٹرائی كرلو! تو وہ چہرہ گھما کر ہنسنے لگی اس کے بعد میں نے اس کو ادارتی-شرگار کا سامان بھی دلوایا اپنی پسند سے! اگرچہ وہ انکار کر رہی تھی پر میں نے کہا یہ میری طرف سے ہے. یہ سب خریدنے کے بعد ہم لوگ وہیں ایک ریستوران میں گئے. مجھے پتہ تھا کہ اس وقت ریستوران میں زیادہ تر پریمی گرل فرینڈ ہی آکر بیٹھتے تھے. میں نے ایک کنارے کی سیٹ منتخب اور ہم دونوں اسی پر جا کر بیٹھ گئے. میں نے اس سے پوچھا تم کیا كھاوگي؟ تو وو بولی- جو آپ منگا لےگے وہی میں بھی کھا لوں گی. میں نے اس کو چھےڑتے ہوئے کہا اتروستر لیتے وقت تو یہ خیال نہیں کیا؟ اور پھر میرے کہنے پر ٹرائی بھی نہیں کیا؟ تو وو شرما گئی اور بولی کیا بھابھی آپ کی پسند سے لیتی ہیں؟ اور وہ یہاں پر ٹرائی کرکے دکھاتی ہیں؟ تو میںنے کہا- ہاں! پسند تو میری ہی ہوتی ہے پر ٹرائی کرکے وہ گھر پر دکھاتی ہے. کیا تم مجھے گھر پر دكھاوگي؟ اس کو کوئی جواب سوجھا تو وہ میرا چہرہ دیکھتے ہوئے بولی ہاں دکھا دوں گی. میرا دل زور سے دھڑکنے لگا. تبھی ویٹر آ گیا اور کھانے کا آرڈر لے گیا. کھانا ختم کر ہم لوگ قریب دو بجے گھر آ گئے، پریہ بہت خوش لگ رہی تھی کیونکہ اس کو میرے ساتھ شاپنگ میں کچھ زیادہ ہی اچھا لگا. شام کو اس نے اپنی خریداری کا سامان میری ماں اور بیوی کو بھی دکھایا پر اتروستر اور شرگار کا سامان نہیں دکھایا. دوسرے دن صبح میری ماں جی کو کچھ کام سے مارکیٹ جانا تھا، میری بیوی اسکول چلی گئی تھی، میں کل والے وقت پر ہی چچا جی کے کمرے کی طرف چلا گیا اور میں نے آج پہلے ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ آج اپنی پیاری سیکسی بہنا کی کںواری چوت کی سیل توڑنی ہیں. اس لئے میں صرف ایک تولیہ باندھے تھا، میرا اندازہ صحیح تھا، چچا آفس جا چکے تھے اور ریا باتھ روم میں نہا رہی تھی. میں نے پھر سے کل والی پوجسن لے لی، میں نے دیکھا کہ آج ریا کی چوت بالکل ہموار ہے، شاید اس نے اپنی جھاٹے صاف کی ہیں نہانے سے پہلے. آج وہ اپنی چوت پر ہاتھ زیادہ چلا رہی تھی، اس کی چوچیاں سخت سخت لگ رہیں تھی اور آنکھیں بند تھی میرا لنڈ ریا کی چوت میں گھسنے کے لئے مچلا جا رہا تھا. کچھ سوچ کر میں وہاں سے ہٹ کر ریا کے کمرے میں چلا گیا اور ایسی جگہ بیٹھ گیا کہ وہ مجھے کمرے میں گھستے ہی نہ دیکھ پائے. ریا تھوڑی دیر بعد کمرے میں آئی، وہ اپنے بدن کو صرف ایک تولیے سے ڈھکے تھی، کمرے میں آتے ہی وہ اپنے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف گئی اور تولیہ ہٹا دیا. اف کیا مست لگ رہی تھی میری بہنا! اس کے جسم پر یہاں وہاں پانی کی بوندیں موتی کی طرح لگ رہی تھی، چوت ایک دم گلابی، چوچیاں بالکل سخت، اعلی درجے گانڈ دیکھ کر میری تو حالت خراب ہو گئی. اس نے کل والے اتروستر اٹھا لئے، انمے سے ایک کو منتخب کیا اور پیںٹی کو پہلے پہننے لگی. لیکن اس کو شاید وہ کچھ تنگ لگی، پھر اس نے دوسری پیںٹی ٹرائی کیا مگر وہی رزلٹ رہا، اب اس نے پیںٹی چھوڑ کر برا اٹھائی لیکن برا میں بھی وہی ہوا، اسکی چوچیاں کچھ بڑی لگ رہی تھی، برا بھی فٹ نہیں تھی. اب مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا، میں نے اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا. مجھے دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹ گئی، وہ اتنا گھبرا گئی کہ اپنی چوت یا اپنی چوچی چھپانے کا بھی خیال نہیں آ پایا اس کو! بس پھٹی ہوئی آنکھوں اور منہ کھلا رہا گیا. میں دھیرے سے چل کر اس کے پاس گیا اور کہا کل اگر میری بات مان لیتی اور ٹرائی کر لیتی تو تجھے آج یہ پریشانی نہیں ہوتی. اب اس کو کچھ سمجھ آیا تو جلدی سے تولیہ اٹھایا اور لپیٹنے کے بعد میری طرف پیٹھ کر کے پوچھا بھیا، آپ کب آئے؟ میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا میری سیکسی بہنا! میں تو اس وقت سے یہاں ہوں جب تم mosh ji کے رےجر سے اپنی جھاٹے صاف کر رہی تھی. میں نے ایسے ہی تككا مارا. اب تو تولیہ اس کے ہاتھ سے چھوٹتے بچا. وہ میری طرف بڑے تعجب سے دیکھنے لگی اور میرے چہرے پر مسکراہٹ تھی کیونکہ میرا تیر نشانے پر لگ گیا تھا. میں نے اس کے کندھے کو سہلاتے ہوئے کہا تم نے کچھ غلط تھوڑے ہی کیا ہے جو ڈر رہی ہو؟ اتنی خوبصورت چیزوں کی صاف صفائی تو بہت ضروری ہوتی ہے. اب تم ہی بتاؤ کہ تاج محل کے ارد گرد اگر جھاڑ-جھكھار ہوگا تو اس کی شان کم ہو جائے گی نہ میری پیاری بہنا؟ اب پہلی بار وہ مسکرائی اور اپنی چوت کی تعریف سن کر اس کے گال سرخ ہو گئے. اگلے لمحے ہی وہ بولی خیر اب آپ نے ٹرائل تو دیکھ ہی لیا، اب آپ باہر جائیں تو میں کپڑے تو پہن لوں! میںنے کہا- پیاری بہنا، اب تو میں نے سب کچھ دیکھ ہی لیا ہے، اب مجھے باہر کیوں بھیج رہی ہو؟ وو بولی- بھیا، آپ بھی بہت شیطان ہیں، براہ مہربانی آپ باہر جائیے، مجھے بہت شرم آ رہی ہے. اچانک میں نے اپنے دونوں ہاتھ اس کی کمر پر ڈالے اور ہلکا سا جھٹکا دیا تو وہ سنبھل نہیں پائی اور اس کی چوچیاں میرے ننگے سینے سے آکر ٹكراي کیونکہ میں نے بھی صرف تولیہ ہی پہنا ہوا تھا. میں نے اپنے ہاتھوں کے گھیرے کو اور کس دیا تاکہ وہ پیچھے نہ ہٹ سکے اور فورا ہی اپنے ہوںٹھوں کو اس کے گلابی گلابی ہونٹوں پر رکھ دیا میرے اس غیر متوقع حملے سے اس کو سنبھالنے کا موقع ہی نہیں ملا اور میں نے اس کو گلابی ہونٹوں کا رس پینا شروع کر دیا. وہ میری گرفت سے چھٹنے کے لئے چھٹپٹانے لگی مگر منہ بند ہونے کی وجہ سے کچھ بول نہیں پا رہی تھی. تھوڑی دیر اس کے كوارے ہونٹوں کو چوستے ہوئے میرے ہاتھ بھی حرکت میں آ گئے، میں نے اپنا ایک ہاتھ تولیے کے نیچے سے اس کی سڈول گانڈ پر پھیرنا شروع کیا اور پھیرتے پھیرتے تولیے کو كھيچ کر الگ کر دیا. اب ایک 18 سال کی مست اور بہت خوبصورت لونڈیا بلکل نںگی میری دونوں باںہوں کے گھیرے میں تھی اور میں نے اس کے كوارے ہوںٹھوں کو بری طرح سے چوس رہا تھا، اب میرا ہاتھ اسکے گانڈ کے ابھار سے نیچے کی طرف کھسکنے لگا، اس کی چھٹپٹاهٹ اور بڑھ رہی تھی، میرا ہاتھ اب اس کی گانڈ کے چھید پر تھا، انگلی سے میں نے اس کی مست گانڈ کے پھول کو سہلایا، تو وہ ایک دم چهك گئی. پھر میری انگلیاں گانڈ کے چھید سے پھسلتي ہوئی اس کی کنواری چوت تک پہنچ گئی. میں اسکی کںواری چوت کے اوپر اپنی پوری ہتھیلی سے سہلانے لگا، میرا تنا ہوا سات انچ کا لنڈ تولیے کے اندر سے اس کے ناف میں چبھ رہا تھا کیونکہ اس کی لمبائی میں مجھ تھوڑی کم تھی. اس کی آنکھوں سے گنگا جمنا کی دھار نکل پڑی کیونکہ اس کو شاید میرے ارادے سمجھ آ گئے تھے اور وہ یہ بھی سمجھ گئی تھی کہ اب پکڑ سے چھوٹنا آسان نہیں، شور بھی نہیں مچا سکتی تھی کیونکہ اس کے ہوںٹھ میرے ہوںٹھو میں ابھی تک قید تھے . ادھر میری انگلیاں اب اس کی کنواری چوت کی پھاںکوں کو الگ الگ کرنے لگیں تھی، میں نے اپنی ایک اوںگلی اسکی چوت کے اندر گھما کر جائزہ لینا چاہا پر اس کی چوت اتنی کسی ہوئی تھی کہ میری انگلی اس کے اندر جا ہی نہیں سکی. خیر میں نے اس کو آہستہ آہستہ سہلانا چالو رکھا، جلدی ہی مجھے لگا کہ میری انگلی میں کچھ گیلا اور چپچپا سا لگا اور میری پیاری بہنا کا جسم کچھ اکڑنے لگا، میں سمجھ گیا کہ اس کی چوت کو پہلی بار کسی مرد کی انگلیوں نے چھوا ہے جسے یہ برداشت نہیں کر سکی اور اس کا یون-رس نکل آیا ہے میں نے فوری طور اپنی اںگلیوں کو اپنے منہ کے پاس لے گیا، کیا خوشبو تھی اس کی کنواری چوت کی میرا لنڈ اب بہت زور سے اچھل رہا تھا تولیے کے اندر سے، میں نے اپنے ہاتھ سے اپنے تولیے کو اپنے جسم سے الگ کر دیا، جیسے ہی تولیہ ہٹا، ریا کو میرے لنڈ کی گرمی اپنے پیٹ پر محسوس ہوئی. شاید اس کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ یہ کون سی چیز ہے جو بہت گرم ہے. خیر اب میرے اور میری پیاری اور سیکسی بہنا کے بدن کے درمیان سے پردہ ہٹ چکا تھا، اب ہم دونوں کے ننگے جسم ایک دوسرے کا احساس کر رہے تھے. ریا کی سانس بہت تیز چل رہی تھی. اب مجھ اور برداشت نہیں ہو رہا تھا، میں نے ریا کے ہونٹوں کو آزاد کر دیا، لیکن اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی اپنا ایک ہاتھ اس کے منہ پر رکھ دیا اور کہا دیکھو ریا، آج کچھ مت کہو، میں بہت دن سے تمہاری جوانی کر رس چوسنے کو بے تاب ہوں. اور آج میں تم کو ایسے نہیں چھوڈوگا، شور مچانے سے کوئی فائدہ ہیں نہیں، گھر میں ہمارے سوا کوئی نہیں ہے، تو بہتر ہوگا کہ تم بھی تعاون کرو اور مزہ لوٹو. وہ پرشنواچك نگاہوں سے مجھے دیکھتی رہی، منہ تو بند ہو تھا کچھ بولنے کی حالت میں نہیں تھی. اب میں نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹا دیا اور فورا ہی اسکو گود میں اٹھا لیا اور لے جا کر براہ راست بستر پر لٹا دیا. اگلے ہی پل پھر سے اس کے ہونٹ کا رس پان شروع کر دیا اور ہاتھ اسکی چوچیوں کو آہستہ آہستہ مسلنے لگے. ہم دونوں کی سانسیں بہت گرم اور تیز تیز چل رہیں تھی، میرا لنڈ اسکی کںواری چوت کی پھاںکوں کے اوپر تھا. پہلی بار اس کے ہاتھوں نے حرکت کی اور میرے لنڈ کی اپنے ہاتھ سے محسوس کرنے کی کوشش کی، شاید وہ جاننا چاہ رہی تھی کہ یہ لوہے جیسا گرم گرم کیا اس کی چوت سے رگڑ رہا تھا. اس نے اپنی انگلی سے مکمل جائزہ لیے میرے لنڈ کا! میںنے کہا- میری جان، مجھے بہت اچھا لگا جو تم نے میرا لنڈ اپنے ہاتھوں سے چھوا! لنڈ کا نام سنتے ہی اس نے اپنے ہاتھوں کو فوری طور پر واپس کھینچ لیا. میں نے اب اپنے ہونٹ اس کی چونچی کے اوپر رکھ دیئے، پہلی بار اس کے منہ سے سسکاری نکلی جو مجھے بہت ہی اچھی لگی. خیر میں نے اس کی چوچی کو پینا شروع کر دیا، چوستے چوستے دانت بھی لگا دیتا تھا. اس کے بعد دوسری چوچی میں ہونٹ لگا دئے، اب اس کی سانس اور تیز ہو گئیں تھیں. میں نے محسوس کیا کہ میرا لنڈ جو اس کی چوت کی پھاںکوں کے اوپر تھا، اس میں کچھ چپچپا سا گیلاپن لگ گیا ہے. میں سمجھ گیا کہ اب میری بہنا کی کںواری چوت لنڈ لینے کے لئے تیار ہو گئی ہے میں نے اپنے ایک ہاتھ سے اپنے لنڈ کو ریا کی چوت پر ٹھیک سے ٹكايا اور اس کو چوت کے اندر ڈالنے کی کوشش کی پر لنڈ اسکی چوت سے پھسل گیا. میں نے پھر کوشش کی پر پھر میرا لنڈ پھسل گیا. اب میں نے ادھر ادھر دیکھا تو مجھے اس کے کل خریدے گئی شررنگار کا سامان دکھ گیا، اس میں ایک وےسلين کی ایک شیشی تھی، میں نے اس کے اوپر سے ہٹا اور وےسلين کی شیشی اٹھا کر فوری طور فر سے اپنی اسی حالت میں آ گیا. میں نے لیٹے لیٹے ہی وےسلين کی شیشی کھولی اور اس کی اس کی چوت کے اپر خوب ساری وےسلين لگا دی، پھر میں نے اپنے لنڈ کے ٹوپے کو کھولا اور اس میں بھی وےسلين لگائی. اس سب کو میری ریا رانی بڑے غور سے دیکھ رہی تھی، شاید اس سے کچھ سمجھ میں آ رہا تھا یا پھر اس کو اندر سے کچھ مزہ تو ضرور مل رہا ہوگا کیونکہ اب اس نے کسی طرح کی مخالفت یا فرار کی کوشش نہیں کی تھی. اب میں نے اپنے لنڈ کو پھر سے اس کی چوت کے پھاںکوں کے بیچ میں رکھا اور اندر آگے بڑھانے کی کوشش کی لیکن اس بار شاید چکنائی زیادہ ہونے کی وجہ سے لنڈ اسکی چوت سے پھر پھسل گیا. ریا نے تو اپنے ہونٹ کس کر بھینچ لیے تھے کیونکہ اس کو لگا کہ اب تو بھیا کا موٹا اور لمبا لنڈ اسکی کںواری چوت میں گھس ہی جائے گا. دوستو، تین کوشش ہو چکے تھے، میرا لنڈ درد کے مارے درد ہونے لگا تھا، اب کی میں نے اپنے لنڈ کو پھر سے رکھا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو ریا کی رانوں کے نیچے سے نکال کر اس کے کندھوں کو پکڑ لیا، اس طرح پکڑنے کی وجہ اب وو بلکل پیر بھی نہیں بند سکتی تھی اور ہل بھی نہیں سکتی تھی. اب میں نے ایک زور سے دھکا مارا، ریا کے حلق سے بڑی تیز چیخ نکل پڑی، میرے لنڈ کا سپارا اسکی چوت کی پھاںکوں کو الگ کرتا ہوا اندر گھس گیا تھا. وہ چلانے لگی- ہیلو، میں مر گئی! اور آنکھوں سے گنگا جمنا بہنے لگی. وہ بڑی تیزی سے اپنا سر ہلا رہی تھی، اب میں نے اپنے ہونٹ پھر سے اس کے ہونٹوں پر کس کر چپکا دیے اور ایک زور کا دھکا پھر مارا، اب کی میرا لنڈ اس کی چوت کو اور پھاڑتا ہوا قریب دو انچ گھس گیا، اس کی چوت ایک دم گرم بھٹی بنی ہوئی تھی، میں اپنے لنڈ کی طرف سے اس کی کنواری چوت کی گرمی محسوس کر رہا تھا. 2-3 سےكےڈ کے بعد پھر سے ایک دھکا مارا تو اب کی نصف سے زیادہ لنڈ اسکی چوت میں گھس گیا. اب میں اسی حالت میں رک گیا اور اس کے ہونٹوں کو کس کر چوسنے لگا. اس کی چوت اتنی کسی ہوئی تھی کہ مجھے لگا کہ میں آسانی سے اپنے لنڈ کو اس کی چوت میں اندر-باہر نہیں کر پاوگا اور اتیجنا کی وجہ سے جلد ہی جھڑ جاؤں گا، اس لئے میں نے زور سے ایک دھکا اور مارا، اب کی میرا پورا لنڈ اسکی چوت میں سماں گیا، میں نے اپنی ران پر کچھ گیلا گیلا محسوس کیا، مجھے سمجھ آ گیا کہ اس کی چوت کی جھلی پھٹ گئی ہے اور خون نکل رہا ہے. پر مجھے اپنی بیوی کے ساتھ بھی یہ موقع نہیں ملا تھا، اگرچہ میری بیوی نے تب مجھے یہی بتایا تھا سائیکل چلاتے وقت اس کی چوت کی جھلی پھٹ گئی تھی، تو آج جب مجھے اپنی بہن ریا کی مہر ٹوٹنے کا تجربہ ملا تو میں اتنا اتیجیت ہو گیا کہ میں نے اپنے آپ پر قابو نہیں کر پایا اور اسی اتیجنا میں میرا ویرے نکلنے لگا. میرا گرم گرم ویرے میری بہن ریا کی چوت کے اندر نکل رہا تھا، وہ بھی میرے لنڈ سے نکلنے والے گرم ویرے کو محسوس کر رہی تھی اپنی دونوں آنکھوں کو بند کر کے! ریا کی چوت اتنی کسی ہوئی تھی کہ ویرے نکلنے کے دوران لنڈ اپنے آپ جھٹکے مرنے لگتا ہے، پر میرے لنڈ کو اس کی چوت کے اندر جھٹکے مارنے کی جگہ بھی نہیں مل رہی تھی. خیر میرا لنڈ ویرے نکلنے کے بعد کچھ ڈھیلا ہوا، میں دھیرے سے اٹھا، دیکھا تو ریا کی چوت سے خون کا آتش فشاں پھٹ گیا تھا، اس کی ران، میری ران اور چادر خون سے سنی تھی، اسکی چوت سے اب گاڑھا خون (میرے ویرے کی وجہ سے) نکل رہا تھا. میں نے دیکھا ریا بیہوش سی لگ رہی تھی، میں جلدی سے باورچی خانے میں گیا اور پانی کی بوتل لاکر اس کے چہرے پر پانی کے چھيٹے مارے، اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولی، مجھے اس کی كرراهٹ صاف سنائی دے رہی تھی، آنکھوں سے آنسو بند ہی نہیں ہو رہے تھے. میں وہیں پاس میں ہی بیٹھ گیا اور اس کے بالوں کو سہلانے لگا. تھوڑی دیر بعد وہ کچھ عام ہوئی، تو میں نے اسے کہا جان، چلو میں تمہاری چوت کو صاف کر دوں، آج میں نے تمہاری چوت کا افتتاح کر دیا ہے. اس نے تھوڑا اچك کر اپنی چوت کو دیکھا اور بولی بھیا یہ کیا کر دیا آپ نے؟ میںنے کہا- بیٹا پریشان مت ہو، پہلی بار تو یہ ہوتا ہی ہے اور اچھا ہوا کہ میں نے کر دیا، اگر کہیں باہر کرواتی تو پتہ نہیں کتنا درد ہوتا! چلو اب اٹھو بھی! میں نے اس کو سہارا دے کر اٹھایا اور باتھ لے گیا. وہاں پر میں نے اس کو شاور کے نیچے کھڑا کر دیا اور پھر اس کی صفائی میں لگ گیا. اس دوران میرا لنڈ پھر سے کھڑا ہونے لگا. چونکہ ہم دونوں ہی نروستر تھے تو وہ میرے لنڈ کو گھور رہی تھی. میں نے اس کی چوت کو تو صاف کر دیا، اب خون نکلنا بھی بند ہو گیا تھا، اب میں نے اس کو اچھے سے نهلانا چالو کر دیا. میں اسکی چوچیوں کو رگڑ رہا تھا، اچانک میں نے اپنے گھٹنوں پر بیٹھ گیا اور اس کی چوت میں اپنا منہ لگا دیا. وہ ہل کر رہ گئی میںنے کہا- ریا رانی، مجھے یہ کرنے دو، اس سے تمہاری چوت کا درد جلد ٹھیک ہو جائے گا. اور میں نے اسے چوتڑوں سے پکڑ کر اپنے منہ کو پھر سے اسکی چوت میں لگا دیا. میری گرم زبان نے اپنا کمال دکھانا شروع کر دیا تھا. اس کو ضرور مزا آ رہا تھا کیونکہ اب اس نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی. میرے ہاتھ اس کی گانڈ کو سہلاتے جا رہے تھے، میں نے اپنی زبان اور اندر گھسیڑ دی، میرے لنڈ نے کچھ جگہ تو بنا ہی دی تھی اس کی چوت میں، اچانک اس کا بدن اکڑنے لگا اور پھر مجھے اپنی زبان میں کچھ نمکین سا ذائقہ ملا، اس کی چوت کی کھشبو اور اس کا ذائقہ نے مجھے اتنا اتیجیت کر دیا کہ میں اس کے رج کی ایک ایک بوند چاٹ گیا. اب اس نے میرا منہ ہٹانے کی کوشش کی اور بولی بھیا، مجھے پیشاب آ رہا ہے میںنے کہا- ریا، میری جان! تجھے ابھی نہیں پتہ ہے کہ تم نے میرا کتنا بڑا خواب پورا کیا ہے، جو چیز مجھے اپنی بیوی سے حاصل نہیں ہو پائی، وہ تم نے مجھے دی ہے، آپ کے لئے تو میں کچھ بھی کر سکتا ہوں. اب میں کھڑا ہو گیا تھا، میرا لنڈ ابھی بھی تنا ہوا تھا، میں نے اس کا ہاتھ لے کر اپنے لنڈ پر رکھ دیا، اس نے لنڈ کو پکڑ لیا، اور اس کے بعد جو ہوا، میں بھی اس وقت ہل گیا تھا، ریا اچانک اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور میرا لنڈ اپنے منہ میں لے لیا. مجھے تو گویا جنت کی وصولی ہو گئی! تب تک تو میں یہی سمجھ رہا تھا کہ میں نے آج اس کی مرضی کے بغیر اس کی سیل توڑی ہے، پر اب اس کے گلابی ہونٹ میرے سپارے کو سہلا رہے تھے. میں نے بھی اس کے سر کو پیچھے سے پکڑ کر اپنا لنڈ اس کے منہ میں اور گھسیڑ دیا اور اس کا سر کے بال پکڑ کر آگے پیچھے کرنے لگا. دوستو، میں 2-3 منٹ سے زیادہ نہیں کر پایا اور ایک لمبا دھکا دیتے ہوئے ویرے کی پچکاری اس کے منہ کے اندر مار دی. وہ میرا سارا ویرے ڈکار گئی، اب وہ کھڑی ہوکر میرے سینے سے چپک گئی اور میرے کان میں بولی بھیا، آپ نے بھی تو میرا خواب پورا کیا ہے! اور ایک گہری مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی. میں اسکی بات سے اتنا خوش ہو گیا کہ میں نے اس کو بے تحاشہ چومنا شروع کر دیا. اب اس نے بھی میرا ساتھ دینا شروع کر دیا، میں نے اس کو وہیں باتھ روم میں لٹا دیا اور اس کی پیشانی، آنکھوں، ناک کو چومتے ہوئے میں نے اپنی جیبھ اس کے منہ میں گھسیڑ دی. وہ میری زبان کو چوسنے لگی، میرے دونوں ہاتھ اسکی چوچیوں کو مسل رہے تھے، اب برداشت کرنا مشکل تھا، میں نے ایک ہاتھ سے لنڈ کو اس کی چوت کے اوپر مقرر کیا اور اتیجنا میں جور سے دھکا مار دیا، میرا آدھا لنڈ اسکی چوت کی پھاںکوں کو الگ کرتا ہوا گھس گیا، وہ اس بار بھی چیخ پڑی اور بولی کیا آج بھر میں ہی مار دو گے مجھے؟ میںنے کہا- نہیں میری جان، تم کو تو بہت سنبھال کر رکھوں گا پھر میں نے اپنے لنڈ کو دھیرے دھیرے ڈالنا شروع کیا، اس کو لنڈ کے چوت میں جانے کا احساس ہو رہا تھا. جب میرا پورا لنڈ اسکی چوت میں چلا گیا، تو میں نے اسکی چوچیوں کو پینا شروع کر دیا. 2-3 منٹ بعد میں نے اس کی چوت کو چودنا شروع کر دیا. اب اس کو بھی اتیجنا ہو رہی تھی کیونکہ اس نے اپنے ہاتھوں کا گھیرا میری پیٹھ پر کس کر باندھ دیا تھا اور درمیان درمیان میں نمائندے اپنے چوتڑ بھی اٹھا دیتی تھی. قریب 7-8 منٹ کے بعد اس نے اپنے ہاتھوں کے گھیرے کو بہت زیادہ کس دیا اور اپنے پیروں کو میری گانڈ کے اوپر کس دیا. میں سمجھ گیا کہ اس کی چوت کا پانی نکلنے والا ہے، میں نے بھی اپنی رفتار بڑھا دی. اب اس کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھی، اچانک اس کا پورا بدن ےٹھنے لگا اور اس نے مجھے کس کر بھینچ لیا. اسی درمیان میرے لنڈ سے بھی گرم ویرے کا لاوا نکل کر اسکی چوت میں بھرنے لگا، ہم دونوں ایک ساتھ جھڑ گئے، تھوڑی دیر ہم ایسے ہی لیٹے رہے، اوپر شاور کا پانی گر رہا تھا. تھوڑی دیر بعد ہم دونوں ایک ساتھ ہی ننگے بدن ہی کمرے میں آ گئے. میں نے تولیہ اٹھایا اور لپیٹ لیا. وہ اپنے کپڑے تلاش کرنے لگی. ہم دونوں بالکل خاموش تھے شاید کچھ اتمگلان کی وجہ سے! میں وہاں سے جانے کو ہوا تو ریا نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میری آنکھوں میں دیکھ کر بولی یہ سب آج کے لئے ہی تھا یا پھر؟ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا، مجھے وہاں محبت شائع، میں نے اس کو کس کر چپٹا لیا اور بولا میری جان، میں ہمیشہ کے لئے تمہارا غلام ہو گیا ہوں. اس کے بعد میں اپنے کمرے میں آ گیا، اپنے کپڑے پہنے. تبھی میں نے دیکھا کہ ریا ایک پلیٹ میں میرے لئے کھانا لے کر آئی، میں نے دیکھا کہ اس نے گزشتہ دن خریدی ہوئی ڈریس پہنی ہوئی تھی جو میں نے پسند کی تھی اور پرفيوم لگایا ہوا تھا. ایک بار پھر میں نے اسے گلے لگا لیا اور چمبنو کی بارش کر دی. اس کے بعد تو میرا سلسلہ چل نکلا، اب میں اور ریا سب کے سامنے تو بھائی بہن کی طرح رہتے لیکن اکیلے میں ہم شوہر بیوی کی طرح رہتے ہیں اور مزے کر رہے ہیں.

Posted on: 04:33:AM 14-Dec-2020


2 0 176 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 1 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com