Stories


دھوکے میں دیدی کی چدائی از رابعہ رابعہ 338

میرے خاندان میں صرف تین لوگ رہتے ہیں، میں، میری ماں اور میری بیوی! اور ہاں ایک اور رکن آج ہی آیا جو ہمارے ہی درمیان کا ہے پر آج سے ٹھیک دو سال پہلے ہی اس کی شادی ہو چکی ہے، جو اپنے سسرال میں رہتی ہے، وہ ہے میری دیدی! جس کے شوہر تین دن پہلے عرب ملک جا چکے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ہمارے یہاں رہنے آ گئی ہے. پر آتے ہی میرے کمرے اور میری بیوی پر پہلا حق جمع لیا. سب کی دلاری ہونے سے کوئی کچھ نہیں منع کرتا اور کسی کام کو کرنے سے نہیں روکتا ہے. ماں کی دلاری اور میری بھی بڑی دیدی ہو کر بھی ساتھ ساتھ پلے بڑھے ہیں کیونکہ مجھ محض دو سال ہی بڑی ہے. ہم لوگ ان کی خدمت میں لگے ہوئے تھے اور دیکھتے دیکھتے شام، پھر رات بھی ہوگئی مگر دیدی میرے کمرے میں جمی رہی. آخر میں مجھے دوسرے کمرے میں یہ سوچ کر سونا پڑا کہ شاید آج ہی آئی ہے تو سو گئی، کل سے دوسرے کمرے میں سويےگي. دوسرے کمرے میں آکر میں نے سونے کی کوشش کی مگر نیند نہیں آئی تو ٹی وی چلا لیا. ہفتہ ہونے سے چینل بدلتے ہوئے میرا ہاتھ رین ٹی وی پر رک گیا جہاں گرم فلم آ رہی تھی. اب تو میری نیند بھی جاتی رہی، ایک تو بیوی سے ڈیڑھ سال میں پہلی بار رات میں الگ سونے، اس پر سے رین ٹی وی کا قہر! مٹھ مارتے پوری رات كاٹني پڑی پر من ٹی.وی. بغیر دیکھے مان ہی نہیں رہا تھا. کسی طرح مٹھ مارتے رات کاٹ لی اور صبح کافی دیر تک سوتا رہا. جب اٹھا تب میری بیوی ناشتہ بنا رہی تھی. مجھے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی لگتا ہے کہ کافی مطمئن ہوکر رات میں سوئے ہیں جناب! میرا ناراضگی بھرا چہرہ دیکھ کر اور کچھ نہ بول کر چائے کا پیالہ میری طرف بڑھا دیا. میں نے بھی کچھ کہے بغیر خاموشی سے چائے پینے لگا. دن بھر تمام اپنے اپنے کام میں لگ گئے، میں بھی اپنے بروكگ ایجنسی کو دیکھنے چلا. دن بھر تو کام میں لگا رہا، شام کو گھر آنے پر چائے اور ناشتہ دے کر بیوی پھر دیدی کے پاس جا کر بیٹھ گئی جو میرے ہی سامنے کے کرسی پر بیٹھی ناشتہ لے رہی تھی. اب میں نے تھوڑا توجہ دیدی کی طرف دیا، سوچنے لگا- کیا دیدی آج بھی میرے ہی کمرے میں سويےگي؟ اور باتوں باتوں میں پتہ لگا کہ وہ آج بھی نہیں جان چھوڑنے والی! پھر وہی کہانی پچھلی رات والی! مجھے آج پھر اکیلے دوسرے کمرے میں سونا تھا! پر آج مجھے دیدی پر بہت غصہ آ رہا تھا اور بكبكاتے ہوئے میں باہر آ گیا. پچھلی پوری رات خراب کر کے رکھ دی تھی! رات ہوتے ہی میرا مٹھ مارنا شروع ہو گیا اور آج نہ جانے کیسے رات کٹ گئی، پتہ نہیں کب نیند لگ گئی! صبح جگا تو پورے سات بج رہے تھے. میں نے سوچ رکھا تھا چاہے کچھ بھی ہو آج رات رانی کو (میری بیوی) نہیں چھوڑنا ہے، یا تو میرے کمرے میں یا باورچی خانے میں، کہیں بھی چدائی ہوگی تو ہوگی جیسے ہی دیدی نے نہانے کے لئے باتھ میں داخل، میں موقع دیکھ کر باورچی خانے میں گھس گیا اور پیچھے سے رانی کو پکڑ اس بوبے مسلتے ہوئے چوتڑوں کی پھاںکوں میں اپنے پھنپھنايے لںڈ کا دباؤ ڈالتے ہوئے گالوں کو زور سے چوم لیا تو رانی بولی - کوئی دیکھ لے گا! کیا کرتے ہو؟ دو راتوں میں ہی اكڈو مہاراج پائجامہ سے باہر ہو رہے ہیں، اگر دو راتوں اور گزار لی تو پائجامہ سے نکل کسی بل میں ہی گھس جائیں گے تو تلاش کرنا مشکل ہو جائے گا! میںنے کہا- دیکھو رانی، اب مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا! آج رات کچھ کرو یار! یہ دیدی اپنے تو اکیلی رہنے کی سزا کاٹ رہی ہیں، ساتھ میں ہمیں بھی مار رہی ہیں! یا تو تم میرے کمرے میں آ جانا یا رات کو یہیں باورچی خانے میں ہی چدائی کریں گے! رانی بھی تھوڑی اتیجت ہو چکی تھی، وہ بولی نہیں، باورچی خانے میں ٹھیک نہیں ہو گا! میں تمہارے کمرے میں بھی نہیں آ سکتی کیونکہ دیدی سوچےگي کہ دو رات میں جوانی قابو میں نہ رہی جو مرانے چلی گئی. میں بولا- تو میں مٹھ مار کر سوتا رہوں؟ "نہیں جی! میں نے ایسا کب کہا؟ اگر یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے ملتوی کرنی ہے تو ہم اپنے کمرے میں ہی کریں گے. اگر دیدی جاگ گئی تو شرما کر کل سے نہیں سويےگي. اور نہ جاگی تو روز ایسے ہی چلے گا!" رانی کا جباب سن کر میں نے کہا لیکن اس میں تو دیدی کے جاگنے کا زیادہ چانس ہے، جاگنے پر کیا سوچےگي؟ رانی نے کہا- میں تو چاہتی ہوں کہ رات کو دیدی جگ جائے جس سے کل سے یہ مسئلہ ختم ہو جائے! سمجھے بددھو؟ میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہوا کام بنتا دیکھ زیادہ نہ پوچھا پر جاننا چاها- پر رات میں میں تجھے پهچانوگا کیسے؟ وہ بولی میں بیڈ کے اسی کنارے سووگي اور دروازہ کھلا رکھوںگی! تم آہستہ سے آ جانا بس! میں نے کچھ اور پوچھتا، اس سے پہلے دیدی نہا کر نکلیں جا رہی تھی. تو میں آہستہ سے نکل چلا اور رات کے انتظار میں جلدی سے تیار ہو کر اپنے کام پر چل دیا. میں رانی کے پھيگر کے بارے میں آپ کو بتانا ہی بھول گیا. وہ اتنی خوبصورت ہے جیسے کوئی ماڈل ہو، عمر تقریبا باعث سال، ایک دم سگمرمري گوری چمڑی، جیسے ناخن گڑا دو تو خون ٹپک جائے گا، سر پر بھوری لمبے بال، اپسراو جیسا انتہائی خوبصورت چہرہ، بڑی بڑی کالی آنکھیں جن ڈوبنے کو دل چاہے، تیکھی ناک، دھنشاكار سرخ گلابی رنگت لئے ہوئے ہونٹ، انتہائی منمہک مسکراہٹ جو سامنے والے کو غلام بنا دے. لمبائی تقریبا پانچ فٹ چھ انچ، چھاتی 34، کمر 26 اور ہپ 36 يچي! اسے پہلی بار دیکھنے پر کسی بھی سادھو سنياسي کا لنڈ بھی دندناتا ہوا کھڑا ہوکر پھپھكارے مارنے لگے. اور آج تو تسري رات ہونے کی وجہ سے اس میں اور خوبصورتی آ گئی ہے. اب مجھے صرف رات کا انتظار تھا. آخر شام ہوئی، پھر رات ہوئی اور سب نے کھانا کھا کر اپنے اپنے بچھاون کو پکڑ لیا پر دیدی میرے ہی کمرے میں ڈیرہ جمائے ہوئے تھی. انتظار کرتے کرتے تقریبا رات کے گیارہ بج چکے تھے. مکمل اندھیرا تھا کیونکہ بجلی بھی نہیں تھی، کمروں کے اندر اندر کی بتتيا بھی بند تھی، مکان میں دم سناٹا چھایا تھا، ماں کے کمرے سے كھرراٹو کی آواز آ رہی تھی. سننے میں ایسا لگا کہ وہ گہری نیند میں ہو گی میں نے فکر ہونے کے لیے پانچ منٹ کا انتظار کیا. اب تقریبا اپنے کمرے کے پاس پہنچ میں نے اپنا دايا ہاتھ اس طرح سے دروازے کے طرف بڑھایا کہ کوئی ہلچل نہ ہونے پائے. اور کمرے کے اندر اپنے بیڈ کے پاس آکر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا پر کچھ صاف نہ دکھائے جانے سے اندازہ لگایا کہ رانی نے کہا تھا کہ وہ بستر کے اسی طرف سويےگي. آج پہلی بار مجھے اپنے ہی گھر میں اپنے کمرے میں چوروں کی طرح گھسنا پڑ رہا تھا. دھڑكتے دل سے میں بچھاون کے پاس پہنچا اور درمیانے روشنی کے سہارے اس طرف کی شکل کو چھو لیا. میرا ہاتھ اس کے چوتڑ پر لگا. پھر کچھ دیر رک کر میں نے اپنا ہاتھ آگے پیٹ کی طرف بڑھاتے ہوئے آہستہ سے اس کے اعلی درجے-شكھرو کی طرف کھسکا دیا. میرے ہاتھ کا پنجا اس سینوں کے پاس پہنچ کر پورے پنجے سے اس کے بوبے دبانے لگا. اب میں نے اس کے کھلے گلے کے بلاوز کے گلے کے اندر ہاتھ ڈالا تو میرا پہلا ٹچ اس کی سلكي برا کا ہوا، پر اس سے تو مجھے سنتشٹ نہیں ہوئی. پھر میں نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کے چھاتی کے درمیان کی وادی میں داخل کرا دیا اور آہستہ آہستہ اس کے دونوں ستنوں پر اپنے ہاتھ گھمانے لگا. میں اسکی دودھ کی دونوں ڈوڈيو سے کھیلنے لگا. اب میرے دماغ نے کام کرنا بالکل بند کر دیا. میں بالکل كاماتر ہو چکا تھا، میں یہ بھول چکا تھا کہ اگر دیدی نے جاگ کر دیکھ لیا تو پتہ نہیں کیا سوچنے لگے گی! اب میں رانی کے سینوں کے ساتھ اس کی چوت کو بھی مسلنا چاہتا تھا. میں نے آہستہ سے اس کا سایہ کھول کر اس کی مخملی پیںٹی پر ہاتھ رکھ دیا اور کوئی رد عمل نہ دیکھ کر پھر اندر چوت کو سہلانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو میرا ہاتھ اسکے دانے سے ٹکرایا. بالکل چھوٹی مخملی جھانٹوں کو سہلانے کا لطف اٹھانے لگا. اب لگا میرے دونوں ہاتھوں میں جنت ہے، میرا بايا ہاتھ تو اس کے وكشو سے کھیل رہا تھا اور دايا ہاتھ اس وست-علاقے کا دورہ کر رہا تھا. اب مجھے یہ تو یقین ہو چکا تھا کہ وہ نیند میں نہیں ہے تو میں ہولے سے اس کے بھگناسا کے دانے کو سهالاكر اتیجیت کرنے کی کوشش کرنے لگا. پر وہ بھی آنکھیں ميچكر پڑی ہوئی تھی. میں نے سوچا کہ اب یہ گرم ہے تو وقت بھی تو تیزی کھسکا جا رہا ہے، اس کے لیے دوسرا طریقہ کرنا ہوگا. ادھر اس کے سر کے طرف میں نے لنڈ کا رخ کرکے اس کے منہ کے اوپر رکھا تھا تو میرا لنڈ منہ کھول کر چوسنے لگی. اب میں نے اپنی لنگي کھول کر کمر سے ہٹاتے ہوئے اس کے منہ سے مکمل سٹا دیا، اس میں سے چپچپاهٹ بھی نکل رہی تھی جو اس کے ہونٹوں کو گیلا کر رہی تھی. اب دوبارہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو مصروف رکھتے ہوئے اس کی چوت میں اپنی انگلی داخل کرائی تو دیکھا وہاں گیلے-گیلا سا تھا، مطلب وہ گرم ہو چکی تھی چھاتی مردن کے ساتھ جیسے ہی میں نے انگلی چوت میں اندر-باہر کرنی شروع کی تو رانی چھٹپٹانے لگی اور اس نے اپنی نیند کا ڈرامہ چھوڑا اور میری طرف کروٹ بدل کر میرے چوتڑوں پر ہاتھ پھرانے کے بعد اسے لنڈ اپنے مںہ میں تیزی سے چوسنا شروع کر لیا . میں تو اپنے ہوشوہواس کھو چکا تھا، وہ بھی پاگلوں کی طرح لنڈ منہ میں اندر-باہر کر رہی تھی. ادھر میں نے بھی اسے اپنے دونوں ہاتھوں سے برابر اسے اتیجت کر رہا تھا. میں نے کمرے میں اپنے بغل کی طرف دیکھا، دیدی آرام سے سوئی ہوئی تھی اور پورے اندھیرا تھا تو کوئی ڈر نہیں تھا کہ دیکھ لیں گی. ہم دونوں کسی بھی قسم کی آواز نہیں نکال رہے تھے کیونکہ دیدی جاگ سکتی تھی. اب رانی کی مسلسل محنت کی وجہ دس منٹ میں ہی میرا لنڈ سکھلت ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا، تو میں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے سمجھانے کی کوشش کی پر اس نے اس پر توجہ نہیں دی. تو میں بھی کیا کرتا، میں نے بھی ویرے کا فاؤنٹین اس کے منہ میں چھوڑ دیا. اس نے بھی ہمت دکھاتے ہوئے پورا کا پورا ڈکار لیا. اب میں تو خالی ہو گیا لیکن اس کی ہوس پرسکون نہیں ہوئی تھی، وہ میرے اچیتن پڑے لنڈ کو کھڑا کرنے کی کوشش کرنے لگی. محض پانچ منٹ میں ہی ہم دونوں کامیاب ہو گئے. میرا لنڈ پھر کڑک ہوکر پھپھكارنے لگا. پھر ایک دوسرے کے جسم کو چومنے-سہلانے لگے. اب ہم دونوں پاگل کی طرح لپٹ گئے اور ایک دوسرے کے جسم کو ٹٹول کر لطف اندوز کرنے لگ گئے. اب میں نے اس کی چولی کھول دی اور پیںٹی بھی اتار دی، اس کے تن و میرے درمیان میں کوئی نہیں تھا. میں اب بیڈ پر بیٹھ گیا، وہ میری گود میں دونوں ٹانگوں کو درمیان میں لے کر اپنے ٹانگوں کو موڑ کر اس طرح بیٹھی کہ اس کی چوت میرے لنڈ کو چھو کرنے لگی. وہ میرے سینے کو ہاتھ سے سہلا رہی تھی، نیچے چدائی چالو تھی، وہ بھی هلكر اپنے جسم کو اوپر نیچے ہو کر مکمل تعاون کر رہی تھی. پھر میں باری باری اس کے دونوں سینوں پر اپنی زبان پھرانے لگا. اس کے بعد میں نے اس کی گردن کی دونوں طرف کامکتا بڑھانے والی رگ کے ساتھ اس کے کان کی لوم و آنکھوں کی بھوهو پر بھی اپنی زبان پھراي. وہ مدمست ہو کر پاگل ہو اٹھی. دونوں کی سانسیں ایک دوسرے میں ضم کرتا ہو رہی تھی. اگر ہم کسی اکیلے کمرے میں ہوتے تو پاگلپن میں نہ جانے کتنی آوازیں نکالتے. پر جگہ اور وقت کا خیال رکھتے ہوئے بالکل خاموش رہنے کی کوشش کرتے رہے. اب اس مدہوش کرنے والی مسلسل چدائی کو تقریبا آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا. اب ایک ہی پوزیشن میں چودتے ہوئے تھکاوٹ ہونے لگی تھی. تبھی رانی نے مجھ رفتار بڑھانے کا اشارہ دیا اور کچھ ہی لمحات میں هاپھتے ہوئے وہ چرمسیما پر پہنچ گئی. پھر وہ پست ہو کر ڈھیلی پڑ کر لیٹ گئی. میں تو ابھی تک بھرا بیٹھا تھا، میں نے کچھ وقت رک کر اشارہ کیا کہ اب میں بھی پچکاری چھوڑنا چاہتا ہوں تو اس نے اشارے سے کہا رکو! وہ کھڑی ہوئی اور بیڈ پر ہاتھ رکھ اور سر جھکا کر کھڑی ہو گئی. میں نے بھی پیچھے سے اسکی چوت میں لنڈ پیل دیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے اعلی درجے ستنوں کو مسلتے ہوئے اسے چودنے لگا. پھر جنت کا سفر شروع ہوئی. پھر مدمست ہو کر وہ بھی آگے پیچھے ہو کر مجھے تعاون دینے لگی. ہم دونوں نے اپنی رفتار اور بڑھا دی اور تقریبا دس منٹ بعد میری پچکاری چھٹ گئی، ہم دونوں پست ہو گئے وہ کچھ وقت رک کر صفائی کرنے باتھ روم میں شامل جاکر واپس اپنی بچھاون پر آ گئی. خدا کا لاکھ لاکھ شکر تھا کہ دیدی اب تک سوئی ہوئی تھی اور ان کو اس چدائی کے بارے میں شک بھی نہیں ہوا. اب میں اپنے کمرے میں شامل آکر آرام سے سو گیا آج صبح میرا من کافی خوش تھا میں نے باورچی خانے میں بیوی کو جب اکیلے دیکھا تب اس کے پاس جا کر پیچھے سے باہوں مے بھر چومنا شروع کر دیا. رانی مجھے منانے کے لیے میرے بالوں میں شامل انگلی پھراتے بولی- ساری جی! میں رات میں سو گئی پر آپ بھی نہیں آئے؟ میرے کان میں اتنا پڑنا تھا کہ میرے دماغ نے کام کرنا بند کر دیا. تو کیا میرے ساتھ رات میں دیدی تھی، اب میں سمجھ گیا! یہ واقعہ میرے دل و دماغ پر ایک فلم کی طرح واضح چل رہی تھی. اگرچہ میں بھرم میں رہ گیا لیکن جب جان ہی گیا تو دونوں کا موازنہ کرنے لگا تو پایا کہ واقعی میں رانی سے زیادہ مجا تو دیدی کو چودنے میں آیا! اور اب وہ الگ کمرے میں بھی سو کر مجھ ہر دو دن بعد چدتی ہے، نےهر (میرے گھر) اب اکثر آتی ہے میرے ساتھ چدائی کے لیے اور پھر اس کے پاس میں بھی اکثر جانے لگا ہوں. وہ آج بھی میری بہت اچھی دوست ہے. رانی آج تک نہ جان پائی اور نہ میں نے اسے بتایا

Posted on: 04:34:AM 14-Dec-2020


1 0 257 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 1 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com