Stories


تم پہ دل ہارا از خوشی 25

میری عمر انیس ہے مین اکلوتی اولاد ہون اپنے مان باپ کی ۔ مین ایک حسین و جمیل لر کی ہون اچھے پہننے اورہنے کی وجہ سے اور بھی چار چاند لگ جا تے ہین ایک میرے تایا گا و ن مین رہتے ہین ان کی ایک بیتی ہے اور دو بیتے ہین بیتی کا نام روبی ہے اور بیتے برے کا نام عاشر اور چھوتے کا راشد ہے بیتے شادی شدہ ہین اور دونون کے بلتر تیب دو اور تین بچے ہین ایک دن پاپا نے کہا کہ روبی کی شادی طے ہو گئ ہے اور ہم سب کو جانا ہے مین بہت خوش ہوئ کیونکہ روبی مجھ سے پانچ سال بری ہے مین خوب تیاری کی اچھے اچھے stylish designer dresses بنائے امی پاپا اور مین مہندی والے دن پہنچ کے بہت رونق تھی مین کافی عرصے کے بعد گئ تھی اس لئے excited تھی سب لوگ کافی شوق سے مجھ سے مل رہے تھے ابھی تھکن اتری نہیں تھی کہ دولہے والے آگئے مین بھی جلدی تیار ہوکے نیچے آگئ خوب رونق لگی تھی چاچی نے میرا دولہے سے تعارف کروایا مین دولہے کو دیکھ کر رہ گئ کتنا handsome and dashing تھا سفید کلف لگے قمیض شلوار مین اجرک گلے مین دالے خوب جچ رہا تھا اسکا قد چھ فت تھا رنگ بھی صاف تھا بری بری انکھیں اور گھنی مونچھین مجھے روبی کی قسمت پر رشک ایا روبی اتنی خوب صورت نہیں تھی اور نہ ہی پرھی لکھی تھی مگر دولہا Oxford کا پرھا ہوا تھا چاچی کے تعارف کرانے پر ہم دونون کی نظرین ایک دوسرے سے الجھ کر رہ گئ مین گاون کی رنگ برنگی لرکیون مین بالکل الگ لگ رہی تھی بالکل آسمان مین چاند کی طرح پیلے رنگ کی پشواز مین اپنے لمبے کالے بالون کی چوتی بنائے اور صرف۔ گیندھے اور موتیا کے پھولوں کا زیور پہنے ہوئے زبردست لگ رہی تھی میک اپ کے نام پر صرف لپ استک تھی اس نے بھی مجھے بہت شوق سے دیکھا تھا اس کی نظرون مین اتنی وارفتگی تھی کہ مین جھجھک گئ اور آگے نہین برھی بس نظر جھکا کر وہان سے چلی گئ اندر روبی اپنی سہیلیوں کے درمیان چپ بیتھی تھی مین نے دولہے کی تعریف کی تو اس نے مجھے زخمي نظرون سے دیکھا اس کی نظر مجھے حیران کر کئ کیا وہ اس شادی سے خوش نہین ؟ اس وقت تو مین چپ رہی کیونکہ رسم کا وقت ہو گیا تھا پھر اس کو دولہے کے ساتھ بتھا کر رسم کی اور سالی ہو نے کی وجہ سے مجھے انگلی پکرائ کی رسم کرنی پری مین نے نیگ مین بیس ہزار مانگے اور اس نے فورا نکال کر کے دے دئے رقم دیتے ہوئے اس کی آنکھوں مین ایک حسرت تھی میری اور اسکی نظر پھر مل گئ اور کافی دیر تک ہم ایک دوسرے کو دیکھتے رہیے اسکی انگلی میری انگلیوں مین دبی رہی اچانک لرکیون کے ہسنے سے ھم دونون چونک گئے مجھے دولہا پر غضه ایا کہ شادی کرنے ایا ہے اور اپنی سالی پہ نیت خراب کر رہا ہے مین غضه مین وہان سے آگئ اور پھر دوبارہ نہیں گئ غضه تو اپنے اپ پر بھی تھا کہ کیا کوئ اچھا بندہ نہیں دیکھا جو دل ایسا قابو سے باہر ہو رھا بے سب رسمون کے بعد سب تھک کر لیت گئے مین بھی کمرے مین آگئ اور بستر پر لیت کے دولہے کے بارے سوچنے لگی دولہے کا نام مہران تھا مہران شاہ اور وہ ایک بہت برا زمیندار تھا خوب پرھا بھی تھا مان باپ حیات نہئن تھے۔ مگر ایک چھوتی بہن تھی اور دادی زندہ تھی یہ رشتہ اس کے مان باپ نے طے کیا تھا اور وہ زبان کا پاس رکھتے ہوئے یہ شادی کر رہا تھا یہ سب معلومات مجھے گاون کے لوگوں سے ملی اور پھر میرا زہن روبی کے رویے کی طرف چلا گیا پتہ نہیں وہ اتنی نا خوش کیون نظرا رہی تھی مین نے دل مین پلان بنایا کہ صبح اتھکر پوچھون گی روبی سے اور پھر مین سو گئ صبح سے جو مصروفيت ہوئ تو وقت ہی نہیں ملا کہ روبی سے کوئ بات کرتی دولہا والے تو کل ہی آگئے تھے ان کے لئے ایک گھر خالي کروایا ہوا تھا ابھی مین فریش ہی ہوئ تھی کہ پتہ چلا دولہے والوں نے شادی کا جورا اور دوسری سب چیزیں بھجوائ ہین تاکہ جلد ہی دولہن کو تیار کر دیا جائے اکثرگاون وغيره مین شادی دن مین ہو جاتی ہے اور رخصتي بھی دن ہی دن کر دی جاتی ہے کیونکہ اکثر باراتین دور سے آتی ہین تو رات گہری ہونے سے پہلے گھر پہنچ جاتے ہین مین بھی جلدی جلدی ہلکا پھلکا ناشتہ کر کے اپنی تیاری مین لگ گئ روبی کی دوست اسے تیار کرنے آئ تھی روبی کے کمرے کا دروازہ بند تھا اور اسکی دوست بھی اندر اسکو تیار کر رہی تھی کافی دیر ہوگئ سب لوگ آ گئے قاضي بھی آگے سب گھر والے تیار ہوگئے مگر روبی کے کمرے کا دروازہ نہ کھلا اب تو ہر طرف بے چینی سی پھیل گئ روبی کا دروازہ خوب کھتکھتا یا گیا مگر اب اندر سے کوئ جواب نہ آئے باہمی مشورے سے دروازہ تور دیا گیا کمرہ خالی تھا دولہا والوں کا دیا ہوا سوت کیس ایسے کے ایسے ہی رکھا تھا روبی اور اسکی دوست غائب تھی صرف ایک خط تھا جس مین لکھا تھا ک روبی کسی اور سے پیار کرتی ہے اور شادی بھی اس سے کرے گی یہ بات اس نے اپنے گھر والوں سے بھی کہئ تھی مگر کوئ بھی یہ بات ماننے کو تیار نہ ہوا اس لیے اب وہ مجبور ہو کے یہ قدم اتھا رہی ہے اور گھر چھور کر اس سے شادی کر رہی ہے جس سے وہ پیار کرتی ہے اور اس نے سب سے اپنے اس فعل کی معا فی بھی مانگی تھی خط کیا تھا اک دھماکہ تھا جس نے سب گھر والوں کے پرخچے ارا دیے تھے دولہے والے آگ بگولہ ہو گے ان کو اپنی بے عزتی محسوس ہوئ وہ مارنے مرنے پر تل گئے بری مشکل سے گاون کے برے بورھون نے بیچ بچاو کروایا پنچایت بیتھی اور پھر فیصلہ ہوا ک بارات کو خا لی ہاتھ نہ بھیجا جاے بلکہ جو بھی لرکی دولہا پسند کرے اس سے اسکا نکاح کر دیا جاے چونکہ مسئلہ میرے خاندان کی لرکی کی وجہ سے تھا تو اس کی جگہ میرا نام لیا گیا مین دنگ رہ گئ اور فورا انکار کر دیا امی اور پاپا بھی پریشان ہو گی مین ان کی اکلوتی بیتی جس کی شادی کے انھون نے کیا کیا خواب دیکھے تھے مگر سب ان کو مجبور کرنے لگے کہ اگر انھوں نے انکار کیا تو پھر دشمنی کی وہ لہر اتنے گی کہ نسلوں کی نسلین اس ک بھینت چرھ جائینگے تایا نے اپنی پگری اتار کر پاپا کے قدمون مین دال دی پاپا نے کہا کہ وہ پہلے دولہا یعنی مہران سے ملین گے اور پھر فیصلہ کرین گے پاپا اور مہران مین کیا بات ہوئ کسی کو نہین پتہ مگر وہ وہان سے سیدھے امی کے پاس گئے پھر وہ میرے پاس اے اور مجھے بتایا کہ وہ اس شادی کی رضامندی دے رہے ہین مین ہکا بکا ان کی شکل دیکھتی رہ گئ پاپا نے میرے سر پر ہاتھ دکھا اور کہا بیہ،میری بیتی آج تک ہمیشہ تمہارے لئے اچھا سوچا ہے پھر آج کوئ فیصلہ غلط کیسے کر سکتا ہون مین یہ سمجھتا کون کہ یہ روبی کی بدقسمتی اور تمہاری خوش قسمتی ہے مہران ایک اچھا لرکا ہے وہ تمکین خوش رکھے گا مین اس سے مل کر مطمئن ہون بیتی اپنے باپ پر بھروسہ کرو اور جو ہو رہا ہے ہونے دو شاید یہی تمہاری قسمت مین لکھا تھا پاپا نے کچھ کہنے کہ قابل نہ چھورا مین چپ ہو گئ مین نے شادی کی نسبت سے میرون اور گولڈن بھاری انار کلی فراک پہنی تھی۔ جیولری ہلکی تھی اور میک اپ بھی ہلکا تھا میرے ان کپرون پر مجھے وہ سارے زیور پہنائے کئے جو دولہے والے لوگ تھے کچھ ہی گھنتون مین میرا نکاح ہو گیا مین دل ہی دل مین سب سے ناراض تھی اور سوچ رہی تھی اب کسی کو بھی اپنی شکل نہیں دکھاون گی وہ کمرہ بہت برا اور وسیع تھا خوب صورت فرنیچر اور اصلی موتیا اور گلاب سے سجا ہوا تھا مگر میرے احسا س مردہ تھے اور دل غم و غضه سے بھرا ہوا تھا مجھ جیسی پر ھی لکھی لرکی کی کوئ حیثیت نہین تھی کوئ دل نہین بس سولی پر چرھا دیا مجھے نہین معلوم کہ کب میرا نکاح ہوا اور کب رخصتی۔ مین غصہ مین اپنے امی ابو سے دھنگ سے گلے بھی نہین ملی سب سے نا راض مین گاری کی طرف آگئ مجھے ایک پجارو مین مین بتھایا گیا جو پھو لون سے دھکی ہوئ تھی۔ میرے ساتھ صرف میرا شوہر تھا وہ مجھ سے لگ کر بیتھا تھا اور مجھے برا لگ رہا تھا اس کے جسم کی مہک مجھ مین مزید زہر بھر رہی تھی دل ہی دل مین سب سے نا راض مین سوچ رہی تھی کہ اب آگے کیا ہو گا سوچو مین گم تھی کہ اچا نک ایک بھاری ھاتھ میرے ہاتھ کے اوپر آکے رک گیا میرا نازک اور تھندا ہوتا ہاتھ اس بھاری اور گرم ہاتھ تلے دب گیا میرے تو تن بدن مین آگ لگ گئ اور مین نے ہاتھ کھنچ لیا مگر ان پر کوئ اثر نہ ہوا انھون نے دوبارہ میرا ہاتھ اپنے ہاتھ مین لے کر اسے آہستہ آہستہ سہلانے لگے پجارو کی اس سیت پر اور کوئ نہین تھا اور وہ موقعے سے فائدہ اتھا رہے تھے پھر جھک کر آہستہ سے میرے کان کے قریب ہو کر کہا۔ اتنا غصہ اور وہ بھی ہم پر ہم نے تو ابھی کچھ کیا ہی نہین ہے مین نے بھی آہستہ سے جواب دیا۔ اتنا کچھ ہو گیا اور اپ معصوم بن رہے ہین۔ چھورین میرا ہاتھ مگر انھون نے ہاتھ نہ چھورا بلکہ اس کو ہلکے اور نرمی سے سہلاتے رہے یہان تک کے میرا سسرال آگیا مین نے رسمون مین زیادہ دلچسپی نہین لی اور میرا مود دیکھ کر ان سب نے بھی مجھے جلد ہی کمرے مین بھیج دیا اور اب مین کمرے مین کھری چاروں طرف دیکھ رہی تھی سب کچھ زہر لگ رہا تھا میری سسرالی لرکیان مجھے سجی ہوئ سیج پر بتھا گئ تھی جیسے ہی وہ کمرے سے باہر گئ اور دروازہ بند ہوا مین فورا بستر سے نیچے اتر آئ سامنے ہی دریسنگ تیبل کا برا سا شیشہ تھا جس مین مین اپنے اپ کو دیکھ کر حیران رہ گئ زرق برق کپرون بھاری زیورات اور گہرے میک اپ نے مجھے بدل دیا تھا مین تو سادگی مین ہی اچھی لگتی تھی اس عالم مین تو غضب دھا رہی تھی ایک لمحے مین تو سب بھول گئ بس اک تک اپنے اپ کو دیکھتی رہی پھر اچانک یاد ایا کہ میرے ساتھ کتنا برا مزاق ہو چکا ہے اور مجھے قربانی کی بکری بنا کر میرے جزبات کو کچل دیا گیا میرا سانس پھولنے لگا حواس پر غصه سوار ہونے لگا میرا دل چاہا کہ سب تہس نہس کر دون یہ سب میرے لے تو نہین تھا یہ سجاوت میرے لیے نہین تھی مین تو کسی اور کی جگہ تھی یہ سوچ آتے ہی مین پاگل ہو گئ مین نے لپک کے سب سے پہلے اصلی گلاب اور موتیا کی ان لریون کو کھنچ لیا جنھون نے اوپر سے لے کر نیچے تک بستر کوخوب صورتی سے دھکا ہوا تھا کچھ لریان توت کر گر گئ اور کچھ دھیلی ہو گئ مین ان کو ویسے ہی چھور کر اب اپنے اپ کو اجارنے لگی پنون سے دوپٹہ آزاد کیا اور پھینک دیا آدھی بالون کی چوتی کھولی اور اس مین لگے ہوئے گجرے بھی کھنچ دالے جو آدھے نکلے اور آدھے نہین مین بالکل جنو نی ہو گئ تھی مجھے کچھ پتہ نہین تھا کہ آنسو لگا تار بہ رہے ہین اور مین جنونی انداز مین کانون سے بندے گلے سے ہار انگلیوں سے انگھوتیان اور کلائیوں سے چوریان اتارتے ہوئے اپنے اپ کو کتنا زخمی کر رہی ہون مجھے کچھ ہوش نہین تھا کہ سب زیور اتار کے کہان پھینک رہی ہون بس روتی جاتی اور اتار کر پھینکتی جاتی کہ اچانک کسی نے میرے ہاتھ پکر لئے اور مین ایک دم رک گئ بالکل ایسے جیسے چابی سے چلنے والے کھلونے کی چابی ختم ہو جائے مہران میرے بالکل قریب کھرے تھے کریم کلر شیروانی جس کے کالر پر میرون کلر سے دبکے اور کورے کا کام کیا ہوا تھا اور ساتھ ہی میرون کلاہ تھا وہ انتہائ ہندسم لگ رہے تھے دولہا کا روپ خوب جچ رہا تھا میرے نازک سے مہندی رچے دونوں ہاتھ ان کی مضبوط گرفت مین تھے مہران۔ بیہ یہ کیا کیا اپ نے اپنے اپ کو زخمی کرلیا ہے مین۔ تو اپ کو کیا فرق پرتا ہے مہران۔ کیسی بات کر رہی ہین مجھے کیون فرق نہین پرے گا بیوی ہین اپ میری مین نے بات کاتتے ہوے کہا نہین بیوی نہین تاوان مین آئ ہون مین روبی تو انکار کر کے چلی گئ تو اپ نے اپنی عزت بچانے کے لئے میری قربانی مانگی مہران نے مجھے نرمی سے تھاما اور پھر ایک ہاتھ کمر مین دال کر آہستہ سےچلاتے ہوئے مجھے لا کر بستر پر بتھایا مہران بہت غصه ہے تمہارے دل مین پہلے تم وہ سب مجھ پر نکال دو پھر مین کہون گا وہ اپ سے تم پر آگئے اور بستر پر سے توتی ہوئ لریون کو ہتا کر جگہ بنا کر مجھے بتھاتے ہوئے کہا مین۔ ہان مجھے غصہ ہے کیا مین کوئ بھیر بکری ہون جو مجھے قربان کر دیا اور پھر مین خوب بولی اور اپنے سارے دل کی بھراس نکال دی بیچ بیچ مین مین رونے لگتی اور کبھی غصے سے لال مگر وہ کچھ نہ بولے بس خاموشی سے سنتے رہیے یہان تک مین چپ ہو گئ مہران۔ بس اب مین کہون مین چپ رہی سر ہلا کر ان کو بولنے کی اجازت دی مہران۔ میرے والدین اور تمہارے قبیلے کے برے بزرگون نے صدیوں سے چلی دشمنی کو ختم کرنے کے لئے کچھ رشتے کئے تھے جس مین میرا اور روبی کا رشتہ بھی شامل تھا مین ملک سے باہر پرھنے گیا تھا مین نے روبی کو آج تک نہین دیکھا لیکن اپنے والدین کے فیصلے کو مانتے ہوئے اس رشتے کو قبول کر لیا مجھے نہین پتہ کہ تمہین اس دشمنی کا علم ہے یا نہین مگر مین جانتا ہون کہ خود میرے اپنے گھر والے اس کا نشانہ بنے ہین اس لئے مین صلح کا سب سے برا حامی تھا آج جو بھی ہوا وہ غلط تھا جس دوستی کے ہم حامی تھے وہ خطرے مین پرھ گئ تھی اور مین ایسا کسی بھی صورت نہین چاہتا تھا آج اگر بارات بغیر دلہن کے واپس آتی تو دشمنی کا ایک نیا باب کھل جاتا مین حیرت سے لب وا کئے اس کی ساری بات سن رہی تھی وہ مسکرا دیا اور اپنی شہادت کی انگلی کو ہلکے سے میرے ہونتون پر پھیرتے ہوئے بولے تمہین مین نے پہلی دفعہ دیکھا اور میرا دل دھک سے رہ گیا مین نے سوچا یہ تو میرے خوابوں کی ملکہ ہے یہ اب تک کہان تھی اور اب ملی بھی ہے تو کب۔ جب مین کسی اور کو نکاح مین لینے ایا ہون میرا دل اداس ہو گیا اور دل چاہا کہ سب کچھ چھور کر بھاگ جاون مگر پھر اپنے بزرگون کی قربانیاں اور اپنے والدین سے کیا ہوئے وعدے یاد آگئے اور مین دل پر جبر کر کے رہ گیا اپنی پسند کو دل مین دبا لیا مہران ہلکے ہلکے ہاتھوں سے میرے ہونت سہلا رہے تھے اور وہ نرم احساس میری رگ رگ مین سنسنی دورا رہا تھا ایک عجیب سا نشہ تھا جو جسم کو ایک عجیب سی لزت سے روشناس کروا رہا تھا مہران اور مین بستر پر بہت قریب بیٹھے تھے ان کی انگلیاں میرے ہونٹوں کو سہلاتی ہوئ میرے چہرے کے دوسرے نقوش پر چلی گئ انھون نے اپنے ہاتھ کے پیچھے حصے سے میرا گال سہلایا اور میرے سارے بدن مین کپکپی سی دوڑ گئ شاید یہ کپکپاہٹ ان کو بھی محسوس ہوئ جبھی ان کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئ اور ہاتھوں کی گستاخیاں مذید بڑھ گئ مہران نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ اور پھر جب پنچائت نے فیصلہ دیا کہ تمہارے قبیلے کی کوئ بھی لڑکی پسند کر لوں تو ایسا لگا کہ مجھے میری اچھی سوچ کا انعام مل رہا ہے اور مین نے تمہارا نام لے لیا تم تو پہلی نظر مین دیوانہ بنا گئ تھی تم پہ مین اپنا دل ہار گیا تھا مہران کے ہاتھ میرے گالون سے پھسلتے ہوئے اب گردن پر حرکت کر رہے تھے میری سانسین بھاری ہونے لگی ان کی باتون نے دل سے بہت بوجھ ختم کر دیا تھا وہ صحیح کہ رہے تھے وہ پہلی نظر مین مجھ پر دل ہار گئے تھے اور مین بھی تو حیران رہ گئ تھی روبی کے ہونے والے دولہا کو اپنی پسند کے مطابق پا کر مین نے بھی تو دل ہی دل مین شکوہ کیا تھا کہ میری پسند کسی اور کا شوہر بننے جا رہا ہے اور مجھے کتنا رشک ہوا تھا روبی پر مگر واہ رے قسمت اب جب میری پسند مجھے مل گئ ہے تو پھر جھگڑا کیون چاہے کیسے بھی ملی ہو خود میرے والدین نے یہ رشتہ کیا تھا میرے اندر حساب کتاب شروع ہو چکا تھا اور مین اپنے اپ سے الجھ رہی تھی جب میری نظر کمرے پر پڑی اور میرے دل مین خیال ایا کہ یہ کمرہ اور اس ک سجاوٹ تو روبی کے لئے کی گئ ہو گی اور مین نے فورا سر اٹھا کر مہران کی طرف دیکھا اور وہ جانے کیسے میرے دل کی بات جان گئے مہران۔ نہین روبی کو اس کمرے مین رخصت ہو کے نہین آناتھا یہ میرا کمرا ہے آؤ اسکا کمرہ دکھاون وہ میرا ہاتھ پکر کر کھڑا کرنے لگے مگر میں نے ہاتھ چھڑا لیا اور کہا میں۔ مجھے یقین ہے آپ ٹھیک کہ رہے ہوں گے مہران۔ یہ پتہ چلتے ہی کے تقدیر مجھ پر مہربان ہے مین نے اپنے سب قریبی دوستوں کو وہاں سے روانہ کر دیا تھا کہ وہ میرے کمرے کو تمہارے لئے تیار کر دیں اور تم نے ان کی محنت کا یہ صلہ دیا میں نے شرمندہ ہو کے سر جھکا لیا وہ مجھے دیکھتے رہے اور پھرمیرے پاس بیٹھ گئے میرے بالوں کی چوٹی کو آ گے کیا اور اس کے بل کھولنے لگے میرے بری طرح کھینچنے سے گجرے الجھ گئے تھے انھوں نے دھیرے سے سارے بل کھول دیئے اور میرے سلکی بال کھل کر پشت پر پھیل گئے بالوں کو ایک سائیڈ پر کرتے ہوئے انھوں نے میرے گلوبند کا لاک ڈھیلا کرتے ہوے اسے بھی گلے سے نکال دیا اور میرا گہرا گلا سامنے آ گیا میں چپ بیٹھی مہران کے ہاتھوں کے لمس کو محسوس کر رہی تھی وہ لمس جو مجھے سب بھول جانے پر مجبور کر رہا تھا اب کہنے کو کچھ باقی نہ تھا مہران نے مجھے اور شرمندہ نہیں کیا اور آرام آرام سے میرے سارے زیور اتارےاور مجھے نرمی سے چومتے گئے۔ چوڑیاں اتاریں تو کلائی چوم لی بندے اتارے تو کان چوم لیے پھر ان زیورات کو احتیاط سے ڈریسنگ ٹیبل کی ڈراز میں ڈال دیا ٹوٹی ہوئ پھولوں کی لڑیوں کو بھی ہٹا دیا پھر کھڑے ہو کے اپنی شیروانی اتار دی وہ سفید رنگ کا کرتا شلوار پہنے ہوئے تھے انھوں نے شیروانی صوفے پہ پھینک دی اور پھر روم فریج سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر گلاس بھرا اور مجھے دیا پیاس سے گلا خشک ہو رہا تھا میں نےکچھ بولے بنا گلاس خالی کر دیا انھوں نے اور بھرا میں نے آدھا پیا اورچھوڑ دیا باقی آدھا انھوں نے پیا ایک گلاس مذید پانی پی کر بوتل فریج میں واپس رکھ کر وہ میرے پاس آ گئے میرے قریب بیٹھ کر کہا۔ بیہ اگر اور بھی کوئ بات ہے تو دل میں مت رکھو سب کہ دو میں برا نہیں مناؤں گا میں اپنے دل کی بات تمہیں بتاچکا ہوں بار بار نہیں دہراؤں گا۔ تم جانتی ہو آج کی رات ہماری زندگی کی سب سے حسین رات ہے آج ہم اپنی ایک نئ زندگی کا آغاز کر رہے ہیں میں سب گلے شکوے دور کر کے اپنی زندگی کی شروعات کرنا چاہتا ہوں میرے ہاتھ تھام کر ہونٹوں تک لے جاتے ہوئے کہا میری تمہاری پسند نا پسند اور دوسری تمام باتوں کے لے پوری زندگی پڑی ہے آج تو بس محبت اور پیار کا عملی اظہار ہو گا مگر تمہارے دل سے راضی ہونے کے بعد بولو نا اب بھی کوئ اعتراض ہے میں نے نہیں میں سر ہلا دیا اور انھوں نے خوش ہو کر کھینچ کر مجھے اپنے سینے سے لگا لیامہران کے سینے میں منہ چھپائے میں گہری گہری سانس لے رہی تھی ان کے پرفیوم کی خوشبو مجھے پاگل بنا رہی تھی میں مدہوش ہوتی جا رہی تھی مہران کے ہاتھ میرے بال سہلاتے ہوے میری گردن پر آ گئے اور پھر انھوں نے میرے بال ایک طرف کر کے اپنے ہونٹ میری گردن پر رکھ دیے افففف ان گرم ہونٹوں کی نرمی اور گرمی نے مجھے بھی گرم کرنا شروع کر دیا میرے کنوارے جسم کو آج پہلی دفعہ کسی مرد کا لمس ملا تھا اور اس نے میرے جسم میں آگ لگا دی تھی مہران میری گردن کے ہر حصے کو اچھی طرح کس کر رہے تھے گردن کو چومتے چومتے مہران نے میری انار کلی فراک کی ڈوری کھول دی ایک طرف سے فراک کو کاندھے سے گراتے ہوئے اب انھوں نے مجھے وہاں چومنا شروع کر دیا آہستہ آہستہ وہ میری فراک کو نیچے کرتے گئے اور مجھے چومتے گئے میں گہرے گہرے سانس لے رہی تھی اور مدہوش سی ہو کے اپنی آنکھیں بند کر گئ تھی میری آنکھوں بند تھی مگر ان کی ہر حرکت محسوس ہو رہی تھی ایک ہاتھ سے مجھے سہارا دیتے ہوئے وہ آزادی سے اپنے لبوں کو میرے جسم پر پھرا رہے تھے ان کا دوسرا ہاتھ میری فراک کو میرے جسم سے الگ کرنے میں لگا ہوا تھا ان کے لب اب میرے سینے پر تھے اور میری سڈول چھاتیوں کو براہ کے اوپر سے چوم رہے تھے پھر وہ رک گئے میں نے آنکھیں کھول کر ان کو دیکھا وہ مسکرا دئے دونوں ہاتھوں سے میری برا کے ہک کھول دیے اور اتار کر دور صوفے پر پھینک دی اب اوپری جسم سے میں بالکل ننگی تھی مہران نے صرف ایک نظر دیکھا اور کہا خوب صورت واہ بہت خوب صورت اور جھک کر میرے ایک نپل کو منہ میں لے لیا افففففف میں سسک پڑی اور پھر جیسے جیسے وہ میرے نپل چومتے اور چوستے گئے ویسے ویسے میری سسکاریاں بڑھتی گئ انھوں نے مجھے لیٹا دیا ایسے کے میرے گھٹنوں سے لے کر پیر نیچے لٹک رہے تھے اور باقی آدھا جسم بیڈ پر پھولوں کی پتیوں پر پڑا تھا وہ مسلسل مجھے چوم رہے تھے اور میرے ہاتھ ان کے سر کے بالوں میں رینگ رہے تھے سینے سے فارغ ہو کے وہ اب میرے پیٹ اور ناف پر آ گئے اور اس سے پہلے کے میں کچھ سمجھتی انھوں نے سیکنڈوں میں مجھے باقی کپڑوں سے بھی آزاد کر دیا میرے پاؤں ویسے ہی بیڈ سے لٹکے ہوئے تھے مہران اب مجھے ہر جگہ کس کر رہے تھے اور ان ہاتھ میرے جسم پر رینگ رہے تھے میرے جسم میں ایک سنسنی سی دوڑ رہی تھی پہلی بار میرے کنوارے بدن کو کسی مرد کے ہاتھوں نے چھوا تھا مہران ایک انگلی سے میرا چہرہ اوپر اٹھائے دوسرے ہاتھ کی انگلی سے میرے چہرے کے سارے نقوش کو چھو رہے تھے ان کی انگلیوں کی حرکت مجھے بے چین کر رہی تھی انھوں نے اب اپنے انگو ٹھے سے میرے ہونٹوں کو سہلانا شروع کر دیا اور پھر ایک دم ہی جھک کر میرے کانپتے ہوئے ہونٹوں کو اپنے نرم اور گرم ہونٹوں کی گرفت میں لے لیا۔ اُف میرا پہلا کس اس کس نے تو مجھ سے سارے حواس چھین لیے میں بھی بے چین ہو گئ اور اس کس کے جواب میں مہران کو بھی کس کرنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُف ۔۔وہ ان کے ہونٹوں کا نرم گرم لمس اور اس دوران ان کے میری کمر سہلاتے ہاتھ مجھے مزید پاگل کرنے لگے۔۔۔۔۔۔۔مہران کے ہاتھ اب میرے بالوں کو سہلا رہے تھے۔۔۔۔۔۔پھر انھوں نے میری کمر پر سے دوڑی کھول دی۔۔۔۔۔۔۔میری فراک ڈھیلی ہو گئ۔۔۔۔۔۔۔۔کندھے پر سے فراک کو اتارتے ہوئے اور میرے ہونٹ کو اپنے سلگتے ہوئے کس سے آزاد کرتے ہوے وہ میرے ننگے ہو جانے والے کندھے پر جھک گئے۔۔۔۔۔۔۔۔میں ان کے گرم ہونٹ کندھے پر محسوس کر کے سسک گئ۔۔۔۔۔۔۔۔پیچھے سے زپ اتارتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔انھوں نے میری فراک بالکل نیچے کر دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا اوپری جسم ننگا ہو گیا۔۔۔۔۔میری پنک کلر کی بریزر نے میرے سینے کو ڈھکا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔مہران کس کرتے اب میرے سینے پر آگئے تھے اور بہت بے قراری سے مجھے چوم رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔میرا جسم ان کے چومنے کی شدت سے پیچھے ہوتا جا رہا تھا جس کو وہ ایک ہاتھ سے سہارا دے رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ہم دونوں ابھی تک کھڑے تھے جب مہران نے میری بریزر کا ہک بھی کھول دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اسے اتار کے دور پھینک دیا۔۔۔۔۔۔۔۔میرے گورے گورے اُبھار ایک دم کھل کر ان کے سامنے آگئے۔۔۔۔۔۔۔۔جسے دیکھ کر وہ دنگ رہ گئے مہران۔۔۔۔۔۔میری جان تم کو اندازہ نہیں ہے کہ تم کتنی خوب صورت ہو۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے انھوں نے میرے ایک اُبھار کو اپنے منہ میں لے لیا اور چوسنے لگے۔۔۔۔۔۔۔دوسرے ہاتھ سے وہ دوسرے چیسٹ کو دبانے اور مسلنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے منہ سے سسکیاں نکلنے لگی۔۔۔۔۔۔۔میری سسکیوں نے ان میں اور جوش بھر دیا اور وہ جوش و خروش سے کبھی ایک اور کبھی دوسری چھاتی کو چومنے، چوسنے اور مسلنے لگے۔۔۔۔۔۔۔ان کے ان جذبات نے مجھے کمزور کر دیا۔ ایس محسوس ہوا کہ میں گر جاؤں گی۔ مہران کو اندازہ ہوا تو انھوں مجھے گود میں اٹھا لیا۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر بیڈ پر لا کر لٹا دیا۔۔۔۔۔۔میرا اوپری جسم ننگا تھا اور بس تنگ پاجامہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔بستر پر لٹاتے ہی مہران نے میرا پاجامہ اور پینٹی بھی کھنچ کے اتار دیا۔۔۔۔۔۔۔۔اب میں بالکل ننگی پھولوں سے بھرے ہوئے بستر پر پڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔وہ چند لمحے بیڈ کے قریب کھڑے میرے جسم کو دیکھتے رہے۔۔۔۔۔۔۔پھر پلٹ کر لائٹ سوئچ بند کر دیا۔۔۔۔۔اب کمرے میں اندھیرا تھا۔۔۔۔۔۔۔اچانک ایک موم بتی جلی پھر دوسری اور پھر بہت ساری موم بتیوں نے کمرے کو ایک خواب ناک اور مدھم سے اجالے سے بھر دیا۔۔۔۔۔۔۔کمرے میں حرارت کے ساتھ ساتھ ایک دل فریب خوشبو بھی پھیل گئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مہران میرے قریب آگئے تو میں نے دیکھا کہ انھوں نے اپنے اوپر کے کپڑے اتار دیئے تھے اب وہ صرف ایک پاجامہ پہنے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔اس دوران میں سائیڈ پر پڑا ہوا کمبل اپنے اوپر ڈال چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ مہران مجھ پر جھکتے ہوئے بولے۔۔۔۔۔۔۔۔ہم اب میاں بیوی ہیں ۔۔۔۔۔۔ہمارے درمیان اب کچھ چھپا ہوا نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔۔آپ کا جسم اب میری ملکیت ہے۔۔۔۔۔۔۔میرا آپ پر اب پورا حق ہے۔۔۔۔۔اور آپ کا مجھ پر۔۔۔۔آج سے ہم ایک نئ زندگی شروع کر رہے ہیں اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کے علاوہ میری زندگی میں اور کوئ عورت نہیں آئے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور آپ سے بھی وفا کی امید رکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔آج جو کچھ بھی ہوا۔۔۔۔۔۔۔جیسے بھی ہوا یہ سب ہماری قسمت میں ایسے ہی ہونا لکھا تھا۔۔۔۔۔۔اب سب بھول کر آگے قدم بڑھانا چاہیے۔۔۔۔۔اور میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ اپنی رضامندی سے اس راستے پر میرے ساتھ قدم بقدم چلیں۔ وہ چپ ہو گئے اور مجھے دیکھتے رہے اور میں بھی سوچنے لگی کہ مہران ٹھیک ہی تو کہہ رہے ہیں یہ سب ایسے ہی ہونا تھا اور اب پیچھے دیکھنے کا کوئ فائدہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔میری شادی میرے ماں باپ کی مرضی سے ہوئ ہے۔۔۔۔۔۔۔اتنے لوگوں کے سامنے رخصتی بھی ہوئ ہے۔۔۔۔۔۔اور پھر مہران میں کوئ خرابی نہیں ہے بس ہمارا ملاپ اس طرح ہی ہونا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔میرے چہرے کے تاثرات سے مہران کو اندازہ ہو گیا اور وہ سکون محسوس کرتے ہوئے مسکرا دئے مہران میرے پاس دوسری تکیہ سے ٹیک لگا کر بیٹھتے ہوئے بولے۔۔۔۔۔۔اب تم ہمارے درمیان سے اس کمبل کو ہٹا دو اور اپنے آپ کو میرے سپرد کر دو میں نے فورا ہی کمبل ہٹا دیا اور اب میرا چمکتا ہوا بدن کمرے کے خواب ناک سے ماحول میں ننگا ہو کر مہران کو مبہوت کر گیا میرے بدن پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے۔۔۔۔۔۔۔میری جان۔۔۔۔۔آج ہماری زندگی کی سب سے حسین رات ہے اور چاہتا ہوں کہ ہم دونوں اپنی پوری رضامندی اور خوشی سے اس کو منائیں۔۔۔۔۔۔بولو کیا تم میرا ساتھ دو گی میں نے ہولی سے سر کو ہلا دیا۔۔۔۔۔۔۔میرا سارا غصہ ختم ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ہر بات کی وضاحت ہو گئ تھی۔۔۔۔۔۔۔اب تو عمر بھر ان کا ہی ساتھ دینا تھا۔۔۔۔۔تو آج سے ہی کیوں نہیں
 پورا بستر گلاب کی پتیوں سے بھرا ہوا تھا اور اس پر میرا گورا بدن چاند کی طرح چمک رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری سانس بوجھل اور تیز ہو رہی تھی جس کی وجہ سے سینہ بھی بری طرح اوپر نیچے ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہران کے ہاتھ بیباکی سے میرے پورے بدن پر گردش کر رہے تھے اور جس کی وجہ سے ایک سنسنی بدن میں پھیل رہی تھی ۔۔۔۔۔خوشبو ہلکی روشنی اور ایک بھر پور مرد کا لمس حواس چھین رہا تھا۔ اب مہران جھکے اور ان کے ہونٹ بھی آزادی سے میرے بدن کو چومنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔مہران کے ہاتھ گردش کرتے ہوے میری ناف سے بھی نیچے چلے گئے اور انھوں نے اپنی انگلیوں سے میری clint کو رگڑنا شروع کر دیا ان کے ہونٹ بدستور میرے چیسٹ کو چوم رہے تھے اور منہ میں لے کر چوس رہے تھے جبکہ ہاتھ میرے نیچے چھیڑ خوانی کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ میں مزے سے پاگل ہو رہی تھی ایک میٹھی سی کسک تھی جو پورے بدن میں پھیل گئ تھی خود بخود میرے ہاتھ مہران کے جسم پر پھرنے لگے میری انگلیاں ان کے بالوں کو سہلانے لگی اور ساتھ ہی ساتھ میرے منہ سے سسکاریاں بھی نکلنے لگیں میرے ہاتھوں کی حرکت اور سسکاریوں نے انھیں اور تیز کر دیا مہران نے اپنے انگلیاں میری clint سے ہٹا کر میرے منہ میں ڈال دی اور میں کسی بھوکے کی طرح اسے چوسنے لگی وہ انگلی میرے منہ میں اندر باہر کرنے لگے اور میں پاگلوں کی طرح چوستی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔پھر وہی گیلی انگلی انھوں نے میری چوت میں اندر ڈال دی میں ایک دم ہل کر رہ گئ۔۔۔۔۔۔ درد کی ہلکی سی لہر اٹھی مگر جلد ہی اس کی جگہ لذت اور مزے نے لے لی افففففففففف کتنی لذت تھی کہ میں بیان بھی نہیں کر سکتی میں بے قراری سے اپنی ایڑیاں بستر پر رگڑ رہی تھی مہران نے میرے ایک چیسٹ کو منہ میں لیا ہوا تھا اور انگلی اندر باہر کر رہے تھے پھر ایک سے دو انگلیاں ہو گئیں مگر میں نے برداشت کر لی میرا جسم بری طرح بستر پر مچل رہا تھا مہران چیسٹ چھوڑ کر اپنے ہونٹوں کو میرے بدن پر چھوتے ہوئے نیچے پہنچ گئے اور اچانک ہی میں نے گرم گرم سانسیں اور گیلے ہونٹ اپنی چوت پر محسوس کئے اور میں سسک اٹھی مہران اپنی زبان سے مجھے مزے رے رہے تھے اور ایک انگلی سے clintکو بھی رگڑ رہے تھے میرے ہونٹ کھلے جا رہے تھے اور میں بے چینی سے پیر رگڑ رہی تھی میرے ہاتھ بے چین تھے کچھ بھی اپنی گرفت میں لینے کو اور پھر میری گرفت میں کچھ آ ہی گیا ۔ کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو گرم نرم اور لمبا سا کوئ راڈ کی طرح کا تھا اور میں نے اسے اپنے ہاتھوں سے دبا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہران کے منہ سے ایک سسکاری نکلی اور پھر وہ میری حالت سمجھتے ہوئے اپنی پوزیشن تبدیل کر گئے مہران میری سائیڈ پر آگئے اور پاجامہ اتار دیا یہ تقریباً 69 کی پوزیشن تھی مگر فرق یہ تھا کہ ان کا عضو میرے ہاتھ میں تھا اور وہ میرے اوپر نہیں سائیڈ پر تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اب بہت بے چین ہو گئ تھی اور برداشت ختم ہو رہی تھی جب مہران ایک دم رک گئے۔۔۔۔۔میں ترسی ہوئ نگاہ سے ان کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔مہران نے کوئ بھی وقت ضائع کئے بغیر اپنے آپ کو میری ٹانگوں کے درمیان سیٹ کرلیا ان کے اس طرح درمیان میں بیٹھنے کی وجہ سے میری ٹانگیں کھل گئ اور کچھ انھوں نے اور کھول دیں ۔ ۔اب وہ مجھ پر جھک گئے اور میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں دبا لیا اور کس کرنے لگے اس دوران ان کا ہتھیار مجھے چبھنے لگا میں نیچے سے اچھی خاصی گیلی ہو گئ تھی مہران کا ہتھیار میری چوت کے منہ کو چھو رہا تھا اور پھر وہ آہستہ سے میرے اندر داخل ہو گیا میں اتنی انوالو ہو گئ تھی کہ مجھے پتہ بھی نہیں چلا اور وہ میرے اندر اور آگے بڑھ گئے پتہ تو تب چلا جب ایک جگہ آکے ان کا ہتھیار رک گیا اور زور لگانے پر بھی آگے نہیں بڑھا وہ ایک پردہ تھا میرے کنوارے ہونے کا ثبوت مہران نے ایک لمحہ کے لیے رک کر اپنے ہتھیار کو پورا باہر نکال لیا مجھے کچھ احساس نہیں ہوا میں پہلے ہی مدہوش سی تھی۔۔۔۔۔۔۔مہران کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی ہوئ ان کی سب حرکتوں کے مزے لے رہی تھی۔ اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کسی نے کوئ سخت اور گرم راڈ میرے اندر تک گھسا دی ہے اور اس کی سخت تکلیف نے میرے منہ سے ایک چیخ نکال دی جو مہران کے ہونٹوں میں ہی دب گئ میرا جسم بری طرح تڑپا اور میں نے تڑپ کر مہران کو اپنے اوپر سے ہٹانے کی پوری کوشش کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب میں تڑپ رہی تھی اور مہران کو دھکا دے رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔مجھے اپنے نیچے ایک آگ سی لگی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔جلن ہو رہی تھی۔ اس سخت سے دھکے کے بعد مہران رک گئے اور مجھے سنبھا لنے لگے۔۔۔۔۔۔۔بس بس ۔۔۔۔۔بس میری جان۔۔۔۔۔۔سب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔وہ میرے کان میں سرگوشیاں کرنے لگے۔۔۔۔۔۔۔میرے منہ سے ان کے ہونٹ ہٹ گئے۔۔۔۔۔۔۔اب درد بھری کراہیں  میرے منہ سے نکلنے لگیں ۔۔۔۔۔۔۔مہران میری چیسٹ کو منہ میں لے کر چوسنے لگے اور دوسرے ہاتھ سے دوسرے چیسٹ کو سہلانے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔ان کے اس نرم نرم لمس سے میری تکلیف کم ہونے لگی اور میں پھر مدہوش سی ہونے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔اب انھوں نے آہستہ آہستہ ہلنا شروع کیا۔۔۔۔۔اور مجھے پہلے تو ہلکے سے درد محسوس ہوا اور پھر وہ ایک عجیب سی مستی اور میٹھا سا درد میں بدلنے لگا۔۔۔۔۔۔میں سسکاری سی لینے لگی ۔ مہران جو شاید میری ان سسکاریوں کا ہی انتظار کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ انھوں نےفورا ہی اپنی رفتار بڑھا دی۔۔۔۔۔۔۔جیسے جیسے رفتار بڑھتی گئ میرے مزے میں اضافہ ہوتا گیا۔۔۔۔۔۔افففففف۔۔۔۔۔۔اس وقت کی اس لذت کو الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل ہے۔۔۔۔۔۔میں بالکل پاگل ہو رہی تھی اور شدت جذبات سے میرے ناخن مہران کی کمر میں گڑ گئے۔۔۔۔۔۔۔انھوں نے بھی سسکی سی لی اور سپیڈ بڑھا دی۔۔۔۔۔۔۔۔سپیڈ بڑھتی گئ۔۔۔۔۔بڑھتی گئ۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ مجھے ایسا لگا کہ میرے اندر سے سارا خون نیچے ٹانگوں کی طرف آ رہا ہو۔۔۔۔لذت کی ایک ایسی کیفیت تھی کہ میں نے مہران کو اپنی پوری طاقت سے دبوچ لیا۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی مجھ سے چپک گئے ۔۔۔۔۔۔مگر اگلے ہی لمحے انھوں نے اپنے ہتھیار کو اندر باہر کرنے کی سپیڈ بڑھا دی۔۔۔۔۔اور تھوڑا سا اپنے آپ کو مجھ پر سے اٹھا لیا۔۔۔۔۔۔کمرے کی فضا میں ہمارے ملاپ کی آوازیں گونج رہی تھی۔۔۔۔۔۔پھر ایسا لگا جیسے  سیلاب سا آ گیا ہو اور بری طرح بہہ نکلا ہو۔۔۔۔۔۔۔گرم گرم پانی سا نکلتا ہوا میری رانوں پر محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔اس کے سا تھ ساتھ مجھے ایسا لگا کہ جیسے میرے اندر کسی گرم گرم چیز کی دھار گر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی مہران ایک گہری سانس لے کر میرے اوپر گر گئے۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پسینے سے تر تھے اور تیز تیز سانسیں لے رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔سانسیں تو میری بھی پھولی ہوئ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں بھی نڈھال تھی اور مہران بھی نڈھال سے تھے تھوڑی دیر اسی طرح وہ مجھ پر پڑے رہے اور پھر کروٹ لے کر دوسری طرف تکیے پر لیٹ گئے مگر مجھے اپنے ساتھ لپٹائے رکھا۔۔۔۔۔۔اب میں ان کے اوپر ان کے سینے پر لیٹی ہوئ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کے ہاتھ میری کمر سہلا رہے تھے اور میں ایک مزے کی کیفیت میں لیٹی ہوئ تھی۔۔۔۔۔۔۔اب ہم دونوں ہی سنبھل چکے تھے ۔ مہران نے میرا سر اپنے سینے سے اٹھا کر میرے چہرے پر کس کیا اور مجھے آرام سے تکیے پر لٹا کر اٹھ کر باتھ روم چلے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔وہاں سے آنے کے بعد انھوں نے مجھے جانے کو کہا۔۔۔۔میں نے اٹھنے کی کوشش کی مگر میری ٹانگیں لرز کر رہ گئ ۔۔۔۔۔۔۔مجھے بہت کمزوری لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔مہران میری حالت سمجھ گئے۔۔۔۔۔۔۔مجھے سہارا دے کر وہ باتھ روم میں لے آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔باتھ روم کی تیز لائیٹ میں مجھے اپنی ٹانگوں پر خون اور کچھ سفید سفید مادہ لگا ہوا نظر آیا۔۔۔۔۔۔۔میں گھبرا گئ تب مہران نے کہا۔۔۔۔۔میری جان ۔۔۔۔گھبراؤ مت۔۔۔۔۔۔یہ سب نارمل ہے۔۔۔۔۔۔آج میں نے تمہارے کنوارے پن کو ختم کیا ہے اس کی وجہ سے یہ سب ہے۔۔۔۔۔۔مگر آج کے بعد ایسا نہیں ہوگا اور تمہیں بہت مزا آئے گا۔۔۔۔۔میں سر ہلا کر رہ گئ اور مجھے باتھ روم میں چھوڑ کر وہ کمرے میں چلے گئے۔۔ میں بھی اپنے اپ کو صاف کرکے کمرے میں واپس آگئ۔۔۔۔۔مہران کپڑے پہن کر بستر پر لیٹ گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔مجھے آتے دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔اور پھر الماری سے مجھے نائٹی نکال کر دی۔۔۔۔۔۔۔نائٹی پہننے کے بعد میں بھی بستر پر آگئ۔۔۔۔۔۔۔مہران نے مجھے بیڈ روم فریج سے جوس کا ایک گلاس نکال کر دیا اور ساتھ ہی ایک ٹیبلیٹ بھی دی اور کہا ۔۔۔۔۔۔اسے کھا لو صبح تک درد کم ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔دوا کھانے اور جوس پینے کے بعد انھوں نے بستر پر لیٹتے ہوئےمجھے اپنی بانہوں میں لے لیا اور میں نے بھی اک سکون کا سانس لیتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں۔ آج میری شادی کو دس سال ہو چکے ہیں اور میں مہران کے ساتھ بہت خوش ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے تین بچے ہیں۔۔۔۔۔دو جڑواں بیٹے اور ایک بیٹی۔۔۔ ۔۔۔میری کزن روبی جو مہران سے شادی سے انکار کر کے عین شادی کے دن گھر چھوڑ کر چلی گئ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔اس کو طلاق ہو گئ تھی۔۔۔۔۔۔اب وہ اپنے ماں باپ کے گھر رہ رہی ہے۔۔۔۔۔۔جبکہ اس کے ماں باپ نے اس کو معاف کرنے سے انکار کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔مگر اس موقعے پر بھی مہران اور میں نے ان سب گھر والوں کو منایا تھا۔۔۔۔۔۔۔پورے خاندان والے مہران اور میری بہت عزت کرتے ہیں کیونکہ ہماری وجہ سے دشمنی ختم ہوئ تھی۔۔۔۔۔اور میں نے تو اپنے ماں باپ کے کہنے پر سر جھکا دیا تھا اور اس وجہ سے مہران بھی میری بہت عزت کرتے ہیں اور خاندان میں بھی میرا نام ہے۔۔۔۔۔۔۔جبکہ روبی کو سب لعنت ملامت دیتے ہیں۔۔۔۔۔شاید اس کو بھی اب احساس ہوتا ہوگا کہ اس نے کتنا غلط کیا۔۔۔۔۔۔ماں باپ کبھی بھی اپنی اولاد کا برا نہیں چاہتے۔۔۔۔ مہران مجھے ہر دفعہ یہ کہہ کر چھیڑتے ہیں کہ میں تو اک نظر دیکھ کر تم پہ دل ہارا تھا اور تم نے اپنے آپ کو میرےآگے ہار کر مجھے ہمیشہ کے لے اپنا بنا لیا ہے۔۔۔۔۔۔اب نظر کہیں اور ٹلتی ہی نہیں اور میں یہ سوچتی ہوں کہ یہ میرے لیے انعام ہے کیونکہ میں نے اپنے ماں باپ کا کہنا ما نا تھا اس لیے خوش ہوں ۔۔۔

Posted on: 04:36:AM 14-Dec-2020


0 0 132 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 1 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com