Stories


ایک جان ہیں ہم از خوشی 25

میں نے گاڑی پورچ میں کھڑی کی آور باہر نکل کر لاک کر کے اپنی ٹائی کی ناٹ ٹھیک کی۔۔۔۔۔ ہاتھ میں موجود بوکےکو ٹھیک سے پکڑا اور قدم آگے کی طرف بڑھا دیے----- داخلی دروازے پر پہنچتے ہی دروازہ کھل گیا۔۔۔۔۔۔۔ جیسے کوئی پہلے سے انتظار کر رہا ہو اور ایک بجلی سی میرے سامنے کوند گئی وہ میرے سامنے کھڑی قیامت ڈھا رہی تھی----- رائل بلیو کلر کی مون لائٹ جرسی کی فل میکسی----- جو اس کے بریسٹ کی اونچائی سے شروع ہوئی تھی اور نیچے پیروں تک تھی مگر بیچ میں گھٹنوں کے اوپر سے ایک کٹ تھا جو نیچے تک چلا گیا تھا اور وہ اس طرح گھڑی تھی کہ اس کٹ سے اس کی سڈول اور گوری رانیں صاف نظر آرہی تھیں----- گلے میں ایک خوبصورت سا نیکلس تھا اور لمبے بالوں کا ایک اونچا سا جوڑا بنا ہوا تھا۔۔۔۔ جس نے اس کی صراحی دار گردن کو اور اس پر موجود تل کو اور نمایاں کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔اس کے جوڑےمیں بھی چمکتا ہوا ایک بینڈ لگا تھا------ ہلکے پنک میک اپ نے اس میں مزید چار چاند لگا دیے تھے اور مجھے میرے قدموں پر فریز کر دیا تھا۔۔۔۔۔ میں سوچ بھی سکتا تھا کہ وہ اتنی خوب صورت ہو گی۔ وہ لڑکی: کیا ہوا---- جم کیوں گئے ہو----آجاو آو ناں۔۔۔۔ میں رباب ہی ہوں ۔۔۔۔۔ آؤ اندر آؤ ---- وہ ہٹ کر مجھے جگہ دیتے ہوئے بولی میں سر جھٹک کر اندر داخل ہو گیا اور وہ دروازہ بند کرنے لگی---- تب میں نے دیکھا کہ پیچھے سے وہ میکسی بیک لیس تھی( یعنی پیچھے سے وہ اس کی ہپس سے شروع ہو رہی تھی اور کمر پوری ننگی تھی) اور اس کی گوری سیکسی کمر مجھ کو دعوت نظارہ دے رہی تھی----- مجھے اپنے نیچے ہلچل سی محسوس ہوئ اور میں نے مشکل سے اپنا دھیان دوسری طرف کیا------ وہ مجھے لے کر لاوئنج میں آگئ اور بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔ گلاب کے پھولوں کا بڑا سا بوکے اس کو پکڑاتے ہوئے اور بیٹھتے ہوئے میں نےپوچھا---مانا کہ ہم آج پہلی دفعہ مل رہے ہیں مگر تم نے اتنی رات کو کیوں بلایا ہے اور وہ بھی اس طرح تیار شیار کر وا کے۔ رباب: بتا دوں گی اتنی جلدی کیا ہے--- ابھی آئے ہو بیٹھو تو سہی----بس ایک منٹ دو۔۔۔۔ میں ابھی آئی اور وہ باہر نکل گئی میں کمرے کا جائزہ لینے لگا۔۔۔۔۔ سادہ سا بید کا صوفہ سیٹ پڑا تھا۔۔۔۔ اور باقی کمرہ خالی تھا۔۔۔ دیوار پر صرف ایک وال کلاک تھی۔۔۔۔ باقی دیواریں خالی تھیں۔۔۔۔۔ ابھی میں کچھ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ رباب ہاتھ میں ٹرے لیے کر اندر داخل ہوئی اور مجھے سوفٹ ڈرنک پیش کیا۔۔۔۔ خود بھی اپنا گلاس لیے کر سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔۔ ڈرنک کی چسکیاں لیتے ہوئے ہم ادھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔۔۔۔ میں نے خالی گلاس سامنے موجود چھوٹی میز پر رکھتے ہوئے کہا اب تو سسپنس ختم کرو اور بتاؤ کہ اتنی رات کو کیوں بلایا ہے۔۔۔۔۔ بتاتی ہوں ۔۔۔ بتاتی ہوں اور یہ کہتے ہوئے وہ میرے قریب آگئی اور مجھ سے جڑ کر بیٹھتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھوں سے میرا چہرہ تھاما۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر مجھے دیکھتی رہی اور پھر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے ملا دیئے میں حیرت سے دنگ رہ گیا مگر پھر فورا سنبھل کر خود کو تیار کیا اور خود بھی اس کو کس کرنے لگا----- اففففف------ یہ ہم دونوں کا پہلا کس تھا----- پچھلے آٹھ مہینوں کی آنکھ مچولی کے بعد آج فائنلی یہ موقعہ آ ہی گیا تھا دونوں کے ہونٹ ایک دوسرے میں گھلے ہوئے تھے ہم کبھی ایک دوسرے کے ہونٹوں کو چوسنے لگتے اور کبھی زبان اندر ڈال کر مزہ لیتے----- رباب کے ہاتھ میرے سر کے بالوں کو سہلا رہے تھے اور میرے ہاتھ اس کی ننگی کمر کو سہلا رہے تھے---- یہ کس لمبا ہوتا جا رہا تھا اور گرمی بڑھتی جا رہی تھی----- سانس لینا مشکل ہو رہا تھا اور پھر ہم نے یہ کس توڑ دیا----- صوفے سے ٹیک لگائے ہم دونوں گہری گہری سانسیں لینے لگے---- ابھی ہم سانس درست کر رہے تھے کہ کلاک نے بارہ کا گھنٹا بجایا رباب نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھےاٹھاتے ہوے اندر ڈائننگ روم میں لے آئی---- اندر داخل ہوتے ہوئے میں حیران رہ گیا---- ٹیبل پر ایک کیک اور دوسرے کھانے کے ریفرشمنٹ سجے ہوئے تھے ---- میں ایک معمول کی طرح کھینچتا ہوا ٹیبل کے پاس آگیا---- رباب نے موم بتیاں جلائی اور چھری میرے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے کہا عاشر میری جان---- جنم دن مبارک ہو اور تب مجھے یاد آیا کہ آج میرا جنم دن ہے---- آج سے پہلے کبھی بھی یاد نہیں آیا تھا کہ میرا ایک جنم دن بھی ہوتا ہے مگر یاد بھی کیسے آتا کوئی ہوتا تو یاد دلاتا۔۔۔۔۔اور اس دن کو مناتا---- اور میرے لیے اہتمام کرتا---- مگر میرا تھا ہی کون۔ رباب: کیا سوچ رہے ہو جان---- کاٹو نا میں نےاس کی طرف دیکھا---- میری آنکھیں جھلملا گئی اور وہ تڑپ گئی نہیں نہیں آج نہیں----- عاشو میری جان آج نہیں( اس نے ایک دم میری آنکھوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور ان سارے آنسوؤں کو پی گئی جو میری آنکھوں سے بہنے کے لیے تیار تھے) جانو آج کا دن تمہاری زندگی کا سب سے حسین دن ہوگا----- قسم سے---- تم کیک کاٹؤ اور اپنے آج کے خوشیوں بھرے دن کا آغاز کرو میں نے سر ہلاتے ہوئے کیک پر چھری چلا دی----- ہپی برتھ ڈے مائی ڈارلنگ کہتے ہوئے رباب نے مجھے کیک کھلایا اور میں نے اس کو-----پھر پلیٹ میں کھانے پینے کی دوسری چیزیں رکھ کر ہم دوبارہ صوفے پر آ کر بیٹھ گئے اور ایک دوسرے کو اپنے ہاتھوں سے کھلانے لگے میں یعنی عاشر احمد ایک خفیہ ایجنسی میں انسپکٹر ہوں اور اس دنیا میں تنہا ہوں ---- میں نے ہوش ایک یتیم خانے میں سنبھالا تھا----- بارہ تیرہ سال کی عمر تک میں وہی رہا---- پڑھنے کا شوق تھا اس لیے دوسرے تمام ہنگاموں سے الگ تھلک اپنے آپ کو پڑھنے میں مصروف رکھا----- اچھے نمبروں سے میٹرک کرنے کے بعد میں نے کالج میں داخلہ لے لیا---- اپنے خرچے پورے کرنے کے لیے میں نے بہت ساری جگہوں پر کام کیا---- ویٹری کی۔ وزن اٹھایا۔ اور اخبار تک ڈالا---- قسمت نے ساتھ دیا اور میٹرک کرتے ہی ایک آفس میں چپراسی کی نوکری مل گئی----- نوکری کے ساتھ ساتھ پڑھائی بھی جاری رکھی اور ایک طویل سفر طے کرنے کے بعد آج میں ایک بہتر مقام پر ہوں ----- اس تمام عرصے میں میرا دھیان کبھی بھی کسی خرافات کی طرف نہیں گیا---- لڑکیوں سے چکر۔ نشے اور فلموں کی لعنت میں ان سب سے دور رہا تھا ----- بس ایک لگن تھی کہ اپنا ایک مقام بنانا ہے----- روپے پیسے جمع کر کر کے اور آگے پڑھ پڑھ کر میں آج اس مقام پر تھا---- پہلے میں پولیس میں بھرتی ہوا تھا مگر پہلے ہی سال میری اچھی کارکردگی دیکھ کر میرے ایک آفیسر نے مجھے خفیہ ایجنسی کی طرف راغب کر دیا اور سی ایس ایس کا امتحان دینے کے لیے تیار کرلیا----- بچپن سے محنت مزدوری کرنے کی وجہ سے جسم مضبوط تھا اور قد کاٹھ بھی اچھا تھا-----پڑھنے کا چور نہیں تھا۔۔۔۔ رہنمائی ملی تو امتحان بھی پاس کرلیا۔۔۔۔۔پھر مجھے سلیکٹ کر لیا گیا اور میری سخت ٹریننگ شروع ہو گئی----- جس کے بعد اب میں عملی طور پر کام شروع کر چکا تھا------ میں اپنے کام میں بہت ترقی کرنا چاہتا تھا اس لیے بہت محنت کر رہا تھا کہ اچانک رباب میری زندگی میں ہلچل مچانے آگئی عملی طور پر جاب شروع کرتے ہی میں نے ایک اچھے پوش علاقے میں گھر لے لیا تھا جو میری سب سے بڑی خواہش تھی----- سالوں سے جمع شدہ رقم اور کچھ ہاؤس بلڈنگ فائنانس کی مدد سے میں گھر لینے میں کامیاب ہوگیا----- چھوٹا سا دو بیڈ روم اٹیچ باتھ روم ۔ ٹی وی لاونج۔ ڈرائنگ ڈائننگ اور امریکن اسٹائل کچن کےساتھ چھوٹا سا فرنٹ لان اور کار پورچ بھی تھا۔۔۔۔۔ یہ ایک سنگل اسٹوری بنگلہ تھا جو مجھے اپنی لوکیشن کی وجہ سے بھی مجھے بہت پسند آیا تھا ایک اچھے نئے پوِش آباد ہونے والے علاقے میں اس وقت قیمتیں اتنی زیادہ نہیں تھیں اور پھر میری پسند کی وجہ اس کا الگ تھلگ ہونا اور اس کے سامنےکی طرف سمندر کا پھیلا ہونا تھا اور آس پاس آبادی ابھی دور دور تھی۔۔۔۔۔ کافی سکون اور آرامدہ علاقہ تھا میں اپنی جاب اور گھر میں سیٹ ہو چکا تھا۔۔۔۔۔ گھر اتنا ڈیکوریٹ نہیں کیا تھا کیونکہ میں ہاؤس بلڈنگ کا قرضہ سب سے پہلے اتار کر فارغ ہونا چاہ رہا تھا چنانچہ جاب اور قرضہ دو ہی جنون سر پر سوار تھے۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ میں نے قرضہ اتار دیا اور سکون کا سانس لیا۔۔۔۔ اب تن من دھن سے جاب کی ذمہ داریاں ادا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔ لڑکیوں میں میری کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی یا شاید میں نے کبھی دلچسپی لینے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔۔۔۔۔۔ حالانکہ مجھے اس بات کا پورا پتہ تھا کہ میں ایک بہت اچھی شخصیت کا مالک ہوں مگر پتہ نہیں کیوں لڑکیوں سے بات کرتے ہوئے جھجھکتا تھا ۔۔۔۔۔ حالانکہ جاب پر کام کرنے والی لڑکیوں سے کوئی مسئلہ نہیں تھا مگر جاب سے ہٹ کر کوئی بات کرتے ہوئے میں جھجھک سا جاتا تھا مگر پھر سب کچھ الٹ ہو گیا۔۔۔۔۔ رباب میری زندگی میں ایک طوفان کی طرح آئی اور سب کچھ تہس نہس کر دیا یہ ان دنوں کی بات ہے جب میری پروموشن ہوئی تھی اور اب مجھ پر کام کا لوڈ کچھ کم ہوگیا تھا۔۔۔۔۔ سو میں گھر جلدی آجایا کرتا تھا۔۔۔۔۔ ٹی وی دیکھنا ہی میرا کام تھا جب ایک دن مجھے رباب کی کال ملی تھی اور اس نے مجھ سے دوستی کرنے کی خواہش کی تھی۔۔۔۔ میں نے اس گو ٹالنے کی بہت کوشش کی ۔۔۔۔ اس کے ساتھ رُوڈ ہوا۔۔۔۔ فون اٹھا کر ریسیور نیچے رکھ دیتا تھا مگر اس بندی نے ہار نہ مانی اور پھر پتہ نہیں کب اور کیسے میں بھی اس میں دلچسپی لیتا گیا شاید میں بھی کوئی دوست بنانا چاہتا تھا حالانکہ شان ( ذیشان جس کو میں پیار سے شان کہتا تھا) میرا وہ دوست تھا جو اس ساری جدوجہد میں میرے ساتھ برابر کا شامل تھا اور ہم دونوں نے ساتھ ہی یتیم خانے سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اور آج بھی ایک ہی ادارے میں ایک ساتھ ہی کام کر تھے۔۔۔۔۔ وہ میرا ہمدم اور میرا سب سے اچھا دوست تھا مگر کسی لڑکی سے دوستی ایک الگ بات تھی۔۔۔۔ میری رباب سے دوستی فون پر بڑھتی چلی گئی۔۔۔۔۔صحیح معنوں میں رباب وہ لڑکی تھی جس سے باتیں کرکے مجھے اپنی زندگی کی بے رنگی کا احساس ہوا۔۔۔۔۔ میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ میں کیوں لڑکیوں سے بھاگ رہا ہوں۔۔۔۔ان سے بات کرنے میں کوئی حرج تو نہیں۔۔۔۔ رباب نے میرے اندر اعتماد پیدا کیا اور میں بھی اس سے فری ہوگیا۔۔۔۔ ہم بہت کچھ ڈسکس کرتے تھے یہاں تک کے سیکس کے بارے میں بھی اپنے خیالات ایک دوسرے کو بتائے تھے۔۔۔۔ اس نے ابھی اپنے بارے میں صرف یہ بتایا تھا کہ وہ ایک سرکاری ادارے میں کام کرتی ہے مگر میرے بارے میں وہ سب کچھ جانتی تھی کیسے یہ اس نے نہیں بتایا۔۔۔۔میں اپنی بہت سی جاب کی باتوں کے بارے میں اس سے مشورہ کرنے لگا۔۔۔ وہ دیانت داری اور سچائی سے مجھے مشورہ دیتی تھی۔۔۔۔ ہماری دوستی کے بارے میں شان بھی جانتا تھا۔۔۔۔۔ اور اکثر مجھے چھیڑتا تھا رباب کے نام سے۔۔۔۔ وہ مجھے مجبور کرتا تھا کہ مجھے رباب سے ملنا چاہیے۔۔۔۔۔ شان اور مجھ میں بس یہی فرق تھا کہ وہ لڑکیوں کے ساتھ بہت فرینک تھا ۔۔۔۔۔ کئی لڑکیوں سے اس کی دوستی تھی اور وہ آرام سے ان لڑکیوں کی مرضی سے ان کے ساتھ سیکس بھی کر لیتا تھا۔۔۔۔۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر کوئی لڑکی چاہتی ہے کہ میں اس سے سیکس کروں۔۔۔۔۔ اور اس کو سکون دوں تو میں کیوں انکار کرکے ان کا دل توڑوں ۔۔۔۔۔ ہاں دوستی سے پہلے میں ان کو بتا دیتا ہوں کہ دیکھو یہ صرف دوستی ہے محبت اور شادی کے چکر میں مت پڑنا اور اگر ایسا سوچتی ہو تو ابھی سے الگ ہو جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی امیر گھرانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں کہاں محبت وحبت قسم کے چکروں میں پڑتی ہیں وہ تو خود کپڑوں کی طرح بوائے فرینڈ بدلتی ہیں۔۔۔۔۔ اس لیے شان کا یہ کھیل اب تک کامیابی سے جاری تھا۔۔۔۔اس کے نزدیک سیکس ہی سب کچھ تھا وہ رباب کے حوالے سے کئی دفعہ مجھے چھیڑ چکا تھا کہ یہ کیا ہم سولہویں صدی کی طرح کی محبت اور دوستی کر رہے ہیں کہ اب تک ایک دوسرے کی شکل بھی نہیں دیکھی اور اس کا کہنا ٹھیک تھا رباب نے مجھے دیکھا ہوا تھا مگر میں نے اب تک اُسے نہیں دیکھا تھا بس اس کی مترنم آواز سن کر سوچتا تھا کہ وہ یقیناً خوب صورت ہو گی۔۔۔۔۔۔پچھلے آٹھ مہینوں میں ہم بہت قریب آگئے تھے۔۔۔۔ بلاشبہ میں اس سے محبت کرنے لگا تھا اور وہ بھی مجھےچاہنے لگی تھی۔۔۔۔ ہم دونوں اپنی محبت کا اظہار ایک دوسرے سے کر چکے تھے مگر صرف فون پر اور آخرکار میں نے رباب سے ملنے کو کہہ ہی دیا۔۔۔۔ اور آج میں اس کے گھر میں بیٹھا نا صرف اپنا جنم دن منانے کا آغاز کر رہا ہوں بلکہ اپنی زندگی کا پہلا کس بھی کر چکا ہوں۔ رباب: عاشر۔۔۔۔ جان کیا سوچ رہے ہو؟ رباب کی آواز سن کر میں خیالوں کی دنیا سے باہر آیا۔۔۔۔۔ بس یہی سوچ رہا ہوں کہ تم میرے تصورات سے بڑھ کر حسین ہو اور مجھےاپنی قسمت پر یقین نہیں آرہا۔۔۔۔ میں نے سچے دل سے اس کی تعریف کی۔۔۔ (واقعی گلابی رنگت، مناسب قد کے ساتھ پر فیکٹ فگر، لائٹ براؤن آنکھیں بمعہ گھنی پلکیں اور سب سے زیادہ خوب صورت اس کے گلابی اور کٹاؤ دار ہونٹ جن کے سائیڈ پر ایک ننھا سا تل گارڈ کی طرح براجمان تھا ان تمام لوازمات کے ساتھ وہ کسی اپسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی اور میں اپنی قسمت پر حیران تھا کہ کیا وہ واقعی مجھ سے پیار کرتی تھی۔۔۔ اس کے لیے تو نجانے کتنے امیر کبیر لوگ اپنی دولت لٹانے کو تیار ہو جاتے اور وہ مجھ جیسے بس گزارے لائق کمانے والے سے پیار کرتی ہے) رباب: یقین کیوں نہیں آرہا۔۔۔۔ تم میں کس چیز کی کمی ہے میں : نہیں کمی تو شاید نہیں ہو مگر تم سے تو ہر لحاظ سے کم ہوں۔۔۔ میں نے کہا رباب کھڑی ہو گئی اچھا مجھ سے کم ہو ۔۔۔۔ آؤ ادھر آؤ ۔۔۔۔ اس نے ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا۔۔۔۔۔ ہم پلیٹیں خالی کر چکے تھے۔۔۔پلیٹ کو ٹیبل پر رکھ کر میں اس کے ساتھ آگیا۔۔۔۔۔ وہ مجھے لے کر ایک فل وال آئینے کے پاس لے آئی جو لاونج کی دیوار پر لگا تھا۔۔۔۔۔ ہم دونوں برابر برابر کھڑے تھے جب وہ بولی۔۔۔۔ لو دیکھو۔۔۔۔ کون کم ہے اور کون زیادہ۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کا جواب لگ رہے تھے۔۔۔۔ میں اپنے چھ فٹ کے قد۔۔۔۔۔ چوڑے کندھے اور چوڑے سینے۔۔۔۔۔ گھنے اور کالے بالوں اور سب سے بڑھ کر اپنی سحرکار کالی آنکھوں کے ساتھ کسی لحاظ سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔۔ میرے کانوں میں اپنے ادارے میں کام کرنے والی کچھ لڑکیوں کی باتیں گونجنے لگی جو میری موجودگی سے بے خبر میری آنکھوں کی تعریف کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ عاشر کی آنکھیں دیکھ کر بندہ اپنی سدھ بدھ ہی کھو بیٹھتا ہے۔۔۔ میں نے ان کے کمنٹس حیرت سے سنےتو تھے مگر ان پر یقین آج کر رہا تھا۔۔۔۔ واقعی میری آنکھیں سحر کار تھیں) پھر بھی آئینے میں ہم دونوں کے عکس کو دیکھتے ہوئےمیں نے کہا اب بھی میرا جواب یہی ہے کہ تم مجھ سے زیادہ حسین ہو اور میں کچھ نہیں تمہارے آگے۰ رباب ایک دم پلٹی۔۔۔۔۔ نہیں جان۔۔۔۔ تم بہت اچھے ہو۔۔۔۔ ظاہری طور پر دیکھو تو یہ اونچا قد۔۔۔۔ یہ مضبوط بازو۔۔۔۔۔ یہ کالی کالی سحر کار آنکھیں۔۔۔۔۔ یہ گھنے بال اور سب سے بڑھ کر تمہارا دل۔۔۔۔ میرے ایک ایک نقش کو ہونٹوں سے چومتی ہوئی وہ میرے دل پر ہاتھ رکھ کے مجھے دیکھنے لگی اور پھر جھک کر میرے دل کے مقام کو چوم لیا۔۔۔۔ میں کنگ کھڑا رہ گیا تھا اس کے جذبات کی شدت نے مجھے چپ کرا دیا تھا۔ رباب نے مجھے ہلکا سا کھنچا اور پھر دیوار سے لگا دیا۔۔۔۔۔اور میرے بہت قریب آگئی یہاں تک کے اس کے سینے کے اُبھار میرے سینے میں دھنس گئے۔۔۔۔ قد کے لحاظ سے وہ میرے کندھے تک آرہی تھی اور پھر وہ اپنا چہرہ اٹھا کر بولی کچھ عرصے پہلے کی بات ہے جب ہماری ایجنسی میں ایک بہادر آدمی کا چرچا تھا۔۔۔ جس نے اپنی بہادری سے ایک بہت بڑی کاروائی کی تھی۔۔۔۔۔ میں نے بھی اس کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔ وہ بہت ہینڈسم اور چارمنگ تھا اس کی آنکھوں میں اک سحر تھا۔۔۔۔ادارے کی لڑکیاں اس پر مرتی تھیں۔۔۔۔۔ مگر وہ لڑکیوں سے دور بھاگتا تھا بس کام کی بات کی اور آگے چل دیا۔۔۔۔۔ میں من ہی من میں اس کو پیار کرنے لگی۔۔۔۔ ایک دن اس نے روڈ پر ایک بوڑھے کی جان بچائی اور پھر اس کی تکلیف کو جانتے ہوئے اس کے مسئلے کو حل کیا۔۔۔۔ میں اس کا پیچھا کر رہی ہوں اس کو خبر بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔ پھر اس کی اور بہت سی اچھائیاں مجھے پتہ چلتی گئی اور میں اس کے پیار میں ڈوبتی گئ۔۔۔۔۔۔ اس کو تو پتہ بھی نہیں کہ کوئی اتنی شدت سے اس کو مانگ رہا ہے۔ رباب نے تھوڑا رک کے مجھے دیکھا اور میں دنگ کھڑا یہ سب سن رہا تھا۔۔۔۔ وہ مسکرائ اور اپنے دونوں بانہیں میرے گلے میں ڈال مجھے جھکایا اور خود تھوڑا سا اونچا ہو کر میرے ہونٹوں کو زور سے چوم لیا اور پھر کہا وہ تم تھے عاشر۔۔۔۔۔ میری جان۔۔۔۔ تم تھے۔۔۔۔ کتنی مشکل سے تم سے دوستی کی یہ تو تم بھی جانتے ہو۔۔۔۔ شاید میرے جذبوں کی سچائی اور شدت تھی جو تمہارے دل کو بھی محسوس ہوئی اور تم نے مجھے قبول کر لیا۔۔۔ کیوں میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا۔۔۔۔۔ بولو نا چپ کیوں ہو( اس نے مجھے ہلکے سے ہلایا ) میں: ہوش میں آؤں تو کچھ بولوں۔۔۔۔۔ میں نے گہری سانس لے کر اس کے گرد اپنی بانہیں کس دیں۔۔۔۔۔ تو تم بھی میری ہی ایجنسی میں کام کرتی ہو۔۔۔۔ اس ہی لیے میری ہر بات سے واقف ہو۔ رباب: ہاں اور اب بہت جلد تمہارے انڈر میں کام کروں گی۔۔۔۔۔ وہ میرے شرٹ کے بٹنوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے بولی میں: ہمممم۔۔۔۔ میرے انڈر میں ۔۔۔۔۔ گڈ رباب: عاشر تم مجھ سے ناراض تو نہیں ہو نا( اس نے سہمی ہوئی نظروں سے مجھے دیکھا) میں :ناراض۔۔۔۔ ( میں رکا اور پھر مسکرا کر بولا) نہیں ناراض نہیں حیران ضرور ہوں۔۔۔۔۔ کہ آج تک اتنی حسین صورت سے نا آشنا رہا۔۔۔۔۔۔ رباب: اب نہیں رہوگے۔۔۔۔۔ اس نے بھی مسکرا کر جواب دیا۔ اور ہمارے لب پھر آپس میں مل گئے۔۔۔۔۔ ہم دونوں اپنے بدن ایک دوسرے سے رگڑ رہے تھے اور یہ رگڑ جسم میں سنسنی دوڑا رہی تھی۔۔۔۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میں اپنا ضبط کھو دوں اور رباب کی نظروں میں گر جاؤں ۔۔۔۔۔ اس لیے تھوڑی دیر بعد جب محسوس ہوا کہ اب بات برداشت سے باہر ہے تو میں نے کس توڑ دیا اور الگ ہٹ کر اپنی سانسوں کو اور اپنے عضو کو کنٹرول کرنے لگا۔ رباب: کیا ہوا عاشر؟ میں : نہیں کچھ نہیں۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے مجھے اب چلنا چاہیے۔۔۔۔۔ میں نے نظریں چراتے ہوئے کہا رباب: کیوں سالگرہ کا تحفہ نہیں لو گے میں: تحفے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔ یہ سب جو تم نے میرے لیے کیا ہے کم ہے کیا( میں نے اس کی توجہ دلائی) رباب: نہیں یہ سب تو کچھ نہیں ۔۔۔۔تمہارا تحفہ سب سے بڑھ کر ہے۔۔۔ آو ۔۔۔۔ اور وہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اندر لے چلی۔۔۔۔ کمرے کا دروازہ کھولا اور کہا چلو اندر چلو عاشر اور اپنا تحفہ وصول کرو میں اندر داخل ہو گیا اور ایسا لگا کہ شاید غلطی سےاس جگہ آگیا۔۔۔۔۔ کمرے میں لائٹ مدہم تھی۔۔۔۔ خوشبو والی کینڈلز۔۔۔۔۔ گلاب کے پھولوں کے گلدستے۔۔۔۔۔۔ وسیع و عریض بیڈ جس پر خوبصورت مخمل کی میرون چادر تھی۔۔۔۔۔۔ پورا کمرہ بھینی بھینی خوشبو سے مہک رہا تھا۔۔۔۔۔ میں حیرانی سے سب دیکھ رہا تھا کہ رباب کی آواز نے چونکا دیا عاشر۔۔۔ اپنا تحفہ قبول کرنے کےلیے تیار ہو۔۔۔۔۔۔ میں مڑا اور اس سے ٹکرا کر رہ گیا۔۔۔۔ رباب میرے بالکل پیچھے پاس ہی کھڑی تھی۔۔۔۔۔ آگے بڑھ کر اس نے میرا کوٹ اتار دیا۔۔۔۔۔۔ کوٹ کو سائیڈ پر پڑے ہوئے صوفے پہ ڈال کر اس نے میری ٹائی اتاری اور ساتھ ہی پینٹ کی بیلٹ کھولی اور نکال کر پھینک دی۔۔۔۔۔ اب وہ میری شرٹ کے بٹن کھول رہی تھی۔۔۔۔۔ شرٹ اور پھر بنیان اتارنے کے بعد اب میں صرف اپنی ڈریس پینٹ اور جوتے موزوں میں کھڑا تھااور پھر اس نے میرے دیکھتے ہی دیکھتے اپنے ڈریس کی زپ کھول دی۔۔۔۔۔۔ ایک لمحہ میں وہ ڈریس زمین پر گر گئی اور اس کا سنگ مرمر جیسا جسم ننگا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔ دونوں ہاتھ پھیلا کر وہ بولی۔۔۔۔عاشر میری جان۔۔۔۔ آج میں اپنے جسم کو۔۔۔ اپنی محبت کو اور اپنے آپ کو تمہیں سونپ رہی ہوں۔۔۔۔۔ ہر کسی کو اپنی عزت اور جان سب سے زیادہ پیاری ہوتی ہے اور آج سے میری عزت، میری جان، میرا جسم سب کچھ صرف تمہارا ہے۔۔۔۔ آو عاشر آگے آو اور اپنا تحفہ قبول کرو میرے لیے یہ سب ایک خواب تھا مگر میں اس خواب سے منہ نہیں موڑ سکتا تھا۔۔۔۔۔ میرا ہاتھ اٹھا اور اب وہ رباب کے چہرے کے نقوش کو چھو رہا تھا۔۔۔۔۔ گالوں پہ انگلیاں پھیرتے ہوئے میں نے اپنے انگوٹھے سے اس کے گلابی ہونٹوں کو رگڑا۔۔۔۔ ایک سسکی سی رباب کے منہ سے نکلی اور میں نے ایک دم اس کو کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔۔۔ ایک ہاتھ سے اس کے بالوں کے جوڑے کو نرم سی مٹھی میں جکڑا اور ہلکے سے جھٹکے سے اس کا چہرہ اوپر اٹھا لیا۔۔۔۔۔دوسرے ہاتھ سے اس کی کمر کو سہارا دے کر میں نے بے قراری اور بے تابی سے اس کو چومنا شروع کردیا۔۔۔۔۔ اس کی آنکھیں۔۔۔۔ گال۔۔۔ اور لبوں کو چومتا ہوا میں گردن تک آگیا۔۔۔۔۔ گردن اور پھر مزید نیچے اس کے بریسٹ۔۔۔۔۔ کمر پر موجود ہاتھ اور نیچے گیا جبکہ دوسرے ہاتھ سے میں نےاس کے بریسٹ سے بریسٹ پیڈ ہٹا دیے( بیک لیس اور اس ٹائپ کے ڈریس میں بریزر نہیں پہنی جاتی بلکہ سیلیکون کے پیڈ ہوتے ہیں جو بریسٹ پر چپکا لیے جاتے ہیں ) پیڈ ہٹاتے ہی میں نے اس کے ایک بریسٹ کو منہ میں لے لیا۔۔۔۔۔ ایک تیز سسکاری سی رباب نے لی اور میں نے اس بریسٹ کو چوسنا شروع کر دیا۔۔۔۔ میرا ایک ہاتھ اس کے ہپس دبا رہا تھا۔۔۔۔۔۔پھر میرے اسی ہاتھ نےاس کے سر کے بالوں پر لگے ہوئے ہئیر بینڈ کو بھی اتار دیا ۔۔۔۔۔ اور اس کے ڈارک براؤن بال کھل گئےاور اس کی کمر کو ڈھکتے ہوئے۔۔۔۔۔ ہپس تک جا پہنچےاور میرا ہاتھ بھی دوبارہ اس کے ہپس پر پہنچ گیا۔۔۔۔۔۔ جبکہ دوسرا اس کے بریسٹ کی نپل کو سہلا رہا تھا اور میں اس کے ایک بریسٹ کو چوس رہا تھا۔۔۔۔۔۔ تین طرف سے اس حملہ کو وہ برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔۔اس کی سسکاریاں بڑھتی جا رہی تھیں اور مجھے ایسا لگا کہ اس کے قدم ڈھیلے ہو رہے ہیں اور اس سے پہلے وہ گر جاتی میں نے اس کو سنبھال کر بیڈ پر لٹا دیا۔ میرون چادر پر گورا کنوارا بدن میرے جذبات کو بری طرح بھڑکا رہا تھا۔۔۔۔۔میں نے اپنے پاؤں کی مدد سے جوتے اتارے اور پھر کھڑے کھڑے اپنے آپ کو پینٹ سے بھی آزاد کر دیا۔۔۔۔۔ صرف انڈر وئیر رہ گیا اور میں اس کو چھوڑ کر رباب کی طرف متوجہ ہو گیا۔۔۔۔۔ جو بالکل ننگی پڑی بے قراری سے بیڈ پر مچل رہی تھی۔۔۔۔۔ اس کو قرار دینے کے لیے میں اس پر جھک گیا۔۔۔۔۔ اس کے جسم کے ایک ایک حصے پر اپنے لبوں سے مہر لگائی۔۔۔۔ اس کے سینے کے ابھاروں سے دودھ پیتے ہوئے میں مزے سے پاگل ہو رہا تھا۔۔۔ اور میرا ہتھیار انڈر وئیر میں تنگ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔ میرا ہاتھ اس کے جسم پر پھرتا ہوا ناف سے نیچے گیا تو مجھے کوئی کپڑا محسوس ہوا۔۔۔۔ منہ ہٹایا دودھ سے دیکھا تو پتہ چلا پینٹی ہے۔۔۔۔۔ کھینچ کر اتاری اور پھر سے سلسلہ جوڑا دودھ پینے کا جہاں سے توڑا تھا۔۔۔۔ رباب میرا سر اپنے بریسٹ پر دبائے جا رہی تھی اور اس کا دوسرا ہاتھ میرے جسم پر پھر رہا تھا۔۔۔۔۔ اچانک میرا ہاتھ ناف سے نیچے گیا اور میں نے وہاں سہلانا شروع کیا۔۔۔۔۔ رباب کے جسم کو کرنٹ لگا اور اس کا اوپری جسم کسی آرچ کی طرح اٹھنے لگا۔۔۔۔۔ اس جگہ سہلاتے ہوئے مجھے گیلا گیلا سا لگا لہذا میں اب بریسٹ چھوڑ کر نیچے دیکھنے لگا۔۔۔۔ بڑی چمک تھی۔۔۔۔اچانک میرا ہاتھ ناف سے نیچے گیا اور میں نے وہاں سہلانا شروع کیا۔۔۔۔۔ رباب کے جسم کو کرنٹ لگا اور اس کا اوپری جسم کسی آرچ کی طرح اٹھنے لگا۔۔۔۔۔ اس جگہ سہلاتے ہوئے مجھے گیلا گیلا سا لگا لہذا میں اب بریسٹ چھوڑ کر نیچے دیکھنے لگا۔۔۔۔ بڑی چمک تھی۔۔۔۔ چکنائی اور گیلا ہٹ تھی۔۔۔۔۔۔ عجیب مہک تھی جو اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔۔۔۔۔ پتہ نہیں کیا ہوا میں نےاس پر اپنی زبان رکھ دی۔۔۔۔۔ رباب کے جسم نے جھرجھری لی اور اس نے اپنے پیر اور کھول دیے ساتھ ہی اس نے میرے سر کو اندر کی طرف دبانا شروع کر دیا اور میں سمجھ گیا کہ اس کو میرے اس طرح چاٹنے سے بہت مزا آ رہا ہے چنانچہ میں سب بھول کر دل و جان سے اس کو چاٹنے لگا۔۔۔۔ میری زبان کی نرمی اور سانسوں کی گرمی۔۔۔۔۔۔ اس کو سسکنے پر مجبور کرنے لگی اس کی سسکیاں اور تڑپ بڑھتی گئی۔۔۔۔۔ اور پھر میں نے محسوس کیا کہ اس کا جسم کچھ اکڑ سا رہا ہے میں نے پیچھے ہٹنا چاہا۔۔۔۔۔۔ مگر اس نے میرا چہرہ اپنی رانوں میں دبا لیا اور گھٹی گھٹی آواز میں بولی۔۔۔۔۔ نہیں عاشر نہیں رکنا۔۔۔۔۔ پلیز مت رکو۔۔۔۔۔۔ کرتے جاؤ ۔۔۔۔ مت رکو اور میں کرتا گیا یہاں تک کہ اچانک گرم گرم پانی کی دھار میرے منہ پر پڑی اور میں ایک دم پیچھے ہو گیا۔۔۔۔ رباب کا جسم جھٹکے لینے لگا اور پانی تیزی سے نکلنے لگا۔۔۔۔۔ میں نے ادھر اُدھر دیکھا اور پھر سائیڈ ٹیبل پر ٹشو باکس سےٹشو نکال کر اس جگہ لگا دیے۔۔۔۔۔۔ رباب ساکت پڑی تھی۔۔۔۔ مجھے اپنا منہ نمکین سا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔ میں نے دوسری طرف دروازہ دیکھا تھا سوچا باتھ روم ہو گا۔۔۔۔ میں اٹھ کر ادھر چل پڑا۔۔۔۔۔ وہ باتھ روم ہی تھا۔۔۔۔۔۔ میں نے اندر جاکر کلی کی اور اچھی طرح منہ دھویا۔۔۔۔۔ میرا ہتھیار بھی اچھا خاصا سخت ہو رہا تھا چنانچہ فراغت حاصل کرکے اسے بھی خوب اچھی طرح سے دھو لیا اور پھر باہر آگیا
 رباب نے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور پھر اپنی بانہیں پھیلا دیں۔۔۔۔۔ میں اس کے سینے سے لگ گیا یہ اور بات تھی کہ میں پوری طرح اس کی بازوؤں میں نہیں سما سکا تھا بس اس کے سینے سے چمٹا تھا کسی بچے کی طرح اور وہ میرے بالوں کو سہلاتی رہی ہم دونوں تھوڑی دیر ایسے ہی رہے اور پھر وہ اُٹھ گئی اور باتھ روم چلی گئی میں بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھا کمرے کا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔۔۔ بلاشبہ بہت بڑا اور عمدگی سے سجا ہوا کمرہ تھا۔۔۔۔۔۔ سامنے بڑا سا اسکرین بھی لگا ہوا تھا جس کے نیچے کیبنٹ تھا شیشے کے پٹ تھے اور اس میں رکھے ہوئے ڈی وی ڈیز اور ڈی وی ڈی بھی نظر آ رہے تھے۔۔۔۔۔۔ ایک طرف چار دروازوں کی بڑی سی الماری تھی اور اس کے ساتھ ہی ڈریسنگ ٹیبل جو کاسمیٹک سے بھری ہوئی تھی۔۔۔۔۔ ابھی میں سب دیکھ رہا تھا کہ رباب باتھ روم سے واپس آگئی وہ میرے بالکل ساتھ چپک کر بیٹھ کئی اور اپنا سر میرے سینے پر رکھ دیا۔۔۔۔۔ میری انگلیاں اس کے بالوں کو سہلانے لگی اور اس کی انگلیاں میرے سینے کے بالوں سے الجھنے لگیں۔۔۔۔ رباب: عاشو۔۔۔۔ جان ۔۔۔۔۔میں آج تمہیں لذت اور مزے کی اس دنیا کی سیر کرانا چاہتی ہوں جہاں تم نے جانے کا کبھی بھی نہیں سوچا۔۔۔۔۔ جہاں میں بھی کبھی نہیں گئی ہوں۔۔۔۔ ہاں مگر اب تمہارے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔۔۔۔ بولو جانو میرا ساتھ دو گے میں: رباب۔۔۔۔ میری جان ۔۔۔۔ آج میں نے اپنے آپ کو تمہارے حوالے کر دیا ہے جہاں چاہو لے چلو۔۔۔۔۔ میں نے اسے چومتے ہوئے کہا اور وہ خوش ہو گئی رباب: عاشر ایک بات یاد رکھنا۔۔۔۔ میری زندگی میں آنے والے تم پہلے آدمی ہو۔۔۔۔ میں نے اپنے آپ کو تمہارے نام لکھ دیا ہے اب مجھے اپنے آپ سے الگ مت کرنا ورنہ میں مر۔۔۔۔۔ میں نے اس کا جملہ پورا نہیں ہونے دیا اور اپنے ہونٹوں سے اس کے ہونٹ کو سیل کر دیا۔۔۔۔۔ میں اس کو بے تحاشا چوم رہا تھا اور وہ خاموشی سے میرا جارحانہ اسٹائل کا یہ چومنا برداشت کر رہی تھی میں: اب دوبارہ میرے سامنے مرنے کی بات مت کرنا۔۔۔۔۔ اس کے لبوں کو جو میرے اس جارحانہ کس کی وجہ سے لال ہو گئے تھے۔۔۔۔ اپنی جارحانہ گرفت سے آزاد کرتے ہوئے میں نے کہا اور ہاں۔۔۔۔۔ سب کچھ جانتی ہو میرے بارے میں۔۔۔۔۔۔ تو یہ بھی پتہ ہوگا کہ تم پہلی لڑکی ہو جو میرے اتنے قریب ہو ۔۔۔۔۔جس سے محبت کا میں نے اظہار کیا ہے۔۔۔۔ مستقبل کا تو کسی کو نہیں پتہ مگر وعدہ ہے کہ جب تک جان ہے تمہارے علاوہ اور کوئی اس جگہ تک نہیں پہنچے گی رباب مسکرا دی اور میں اس کے گالوں میں پڑنے والے ڈمپل پر کس کر کے رہ گیا۔۔۔۔ اس نے اچانک ہی مجھے چومنا شروع کر دیا۔۔۔۔ میں بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے ہوئے تھا اور وہ میرے اوپر رانوں پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔ اس کی چوت کی گرمی میرے عضو کو ہو شیار کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔ میری ٹانگیں پھیلی ہوئی تھی اور وہ ان پر بیٹھ کر میرے چہرے۔۔۔۔ گردن اور کانوں کو چومنے لگی بلکہ کان کی لو کو بھی چوسا۔۔۔ جس نے مجھے بہت مزا دیا اور پھر وہ میرے سینے کے نپلز کو چوستی ہوئ نیچے ناف تک آگئ اور دوسرے ہی لمحے اس نے میرے انڈر وئیر کو بھی اتار دیا۔۔۔۔۔ میرا ہتھیار آہستہ آہستہ سخت ہو رہا تھا اور اپنا سائز بڑھا رہا تھا جب اس نے پیچھے ہوتے ہوئے اس کو اپنے منہ میں لے لیا۔۔۔۔۔ میں اپنی جگہ سے جیسے اچھل پڑا۔۔۔۔۔۔ اففففففف۔۔۔۔۔ کتنی لذت تھی کہ میں بتا بھی نہیں سکتا۔۔۔۔ اس نے میرے ہتھیار کو خوب اچھی طرح سے منہ میں لیا اور کسی لالی پاپ کی طرح چوسا۔۔۔۔۔ بلکہ دونوں بالز کو بھی منہ میں لے کر چوسا۔۔۔۔۔۔ میں مزے سے پاگل ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔ یہ نہیں کہ سیکس کے بارے میں مجھے کچھ پتہ نہیں تھا۔۔۔۔۔ میں نے شان کی لائی ہوئ کئ بلیو پرنٹ فلمیں دیکھیں تھیں مگر اپنے شریف مزاج کی وجہ سے میں مار کھا جاتا تھا اور خود سے قدم بڑھانے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔۔۔۔۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ جو کچھ ان فلموں میں دیکھا ہے کبھی میرے ساتھ بھی ایسا ہو گا۔۔۔۔۔ حالانکہ شان نے مجھے بہت تیار کیا تھا بلکہ ایک دفعہ تو وہ بہانے سے مجھے ایک طوائف کے پاس بھی لے گیا تھا کہ میں اپنی جھجھک پر قابو پا لوں مگر مجھے وہ سب اچھا نہیں لگا اور میں وہاں سے بھاگ آیا تھا۔۔۔۔۔ اس کے بعد شان مجھ سے کتنے دن ناراض بھی رہا تھا مگر میں نے اس کو منا لیا تھا یہ کہہ کہ جب تک میرا دل راضی نہیں ہوگا میں کچھ نہیں کروں گا اور جب دل راضی ہوگا تو بالکل پیچھے نہیں ہٹوں گا اور آج وہی وقت تھا وہ سب کچھ جو فلموں میں دیکھا تھا آج اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا بلکہ وہ سب کر بھی رہا تھا اور کروا بھی رہا تھا۔۔۔۔۔۔ فلموں میں نکلتی آوازیں آج میرے منہ سے نکل رہی تھیں۔۔۔۔۔۔رباب اپنی جگہ سے ہٹ کر میری سائیڈ پر آگئی اب وہ گھٹنوں کےبل کسی چوپائے کی طرح کھڑی تھی اور میرے عضو کو چوس رہی تھی جب میرا ہاتھ اس کے جسم پر رینگتا ہوا اس کے ہپس کی طرف آیا اور اس کے دونوں ہپس کے درمیان گھس گیا۔۔۔۔۔۔۔ پھر میری انگلیاں اس کی ہپس کی دراڑ سے ہوتے ہوئے اس کی چوت کی طرف آگئی اور پھر میری ایک انگلی اس کے اندر گھس گئ۔۔۔۔۔ رباب نے سسکاری بھری اور تھوڑے زور سے میرے عضو کو دبا دیا۔۔۔۔۔۔ مجھے لگا کہ میں چھٹ جاؤں گا مگر ایسا نہیں ہوا۔۔۔۔۔ رباب پیچھے ہٹ گئی۔۔۔۔۔ اور میں اپنی انگلی اس کے اندر باہر کرنے لگا۔۔۔۔۔۔ وہ مزے سے آہ بھرنے لگی اور پھر میرے پاس سے اٹھ کر وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف گئی اور پھر فورا ہی واپس آکر اس نے ایک کریم میرے ہتھیار پر لگائی اور کہا آو عاشر آو اور آج مجھے فتح کر لو میں فورا سیدھا ہو گیا۔۔۔۔۔ میرا ہتھیار مکمل لمبائ اور سختی کے ساتھ اور۔۔۔۔۔ پورا چکنا اندر جانے کو تیار تھا۔۔۔۔۔ رباب میرے سامنے لیٹ گئی دونوں ٹانگیں ممکنا حد تک کھول دیں۔۔۔۔ اس کی گلابی گلابی چوت میرے سامنے تھی۔۔۔۔۔جس کے دونوں لب میری انگلی باہر آنے کے بعد پھرمل گئے تھے۔۔۔۔۔ جن کو میں نے ہاتھوں سے کھولنے کی پھر ایک کوشش کی اور رباب سسک پڑی اور بولی عاشر تمہارا بھی یہ فرسٹ ٹائم ہے اور میرا بھی۔۔۔۔۔ پلیز آرام آرام سے کرنا۔۔۔۔۔ مزے لے کر اور مزے دے کر کرنا۔۔۔۔۔ میں نے سر ہلایا اور اس کی کھلی ٹانگوں کے بیچ میں آگیا۔۔۔۔۔۔ گھٹنوں کے بل جھک کر اس کو چہرے پر چومنے لگا۔۔۔۔ نیچے میرا ہتھیار اس کی چوت کو چھو رہا تھا۔۔۔۔پہلے اس کو چوت کے اوپر رگڑنے لگا اور پھر میں نے ہلکے ہلکے دھکے سے اس کو اندر کرنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ چکنا ہونے کی وجہ سے آرام سے تھوڑا اندر آگیا گو کہ تکلیف کی وجہ سے رباب کسمسائی مگر برداشت کر گئی۔۔۔۔۔ میں نے ایک جنون میں آکر اس کو مزید تیزی سے چومنا شروع کردیا وہ بھی میرے کس کا جواب اتنی ہی تندی سے دینے لگی۔۔۔۔۔۔ میں نے ہتھیار کو مزید اندر کرنا چاہا مگر ناکام رہا کوئی رکاوٹ تھی۔۔۔۔۔ میرے ذہن میں شان کی دی ہوئی معلومات گردش کرنے لگی کہ ہر کنواری لڑکی کی چوت میں ایک پردہ ہوتا ہے جو ہتھیار کو اندر نہیں جانے دیتا اور اس کو جھٹکا دے کر ہی پھاڑنا پڑتا ہے اور اس کی وجہ سے لڑکیوں کو درد بھی ہوتا ہے اور خون بھی نکلتا ہے مگر اس پردے کی موجودگی کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ لڑکی کنواری ہے اور پاکیزہ ہے۔۔۔۔۔ مجھے بھی رکاوٹ کا سامنا تھا اور صاف ظاہر تھا کہ رباب ان چھوئی اور کنواری تھی۔۔۔۔ اس لیے اس نے مجھ سے آرام سے کرنے کو کہا تھا کہ اس کو تکلیف نا ہو ۔۔۔۔۔ مجھے اس پر بہت پیار آیا کہ وہ میرے پیار میں اپنے کنوارپن کی قربانی دے رہی ہے اور تکلیف برداشت کرنے کو تیار ہے۔۔۔۔۔ میں نے دل میں سوچ لیا کہ میں کل ہی رباب سے شادی کر لوں گا۔۔۔۔ میں ہی اس کا شوہر بنوں گا آخر اس کی سیل میں ہی توڑ رہا ہوں اور اس کے کنوارے پن کو ختم کر رہا ہوں تو آگے بھی میں ہی اس کا سب کچھ ہوں گا۔۔۔۔۔ میں نے اپنے ہتھیار کو باہر نکالا اور پھر رباب کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں دبا کر ایک زوردار جھٹکے سے اپنے ہتھیار کو اندر کر دیا۔۔۔۔۔۔ رباب تڑپ گئی اور مچل گئی شائد چیخ بھی نکلی ہو جو میرے منہ میں ہی دب کر رہ گئی۔۔۔۔۔وہ مجھے اپنے اوپر سے ہٹانے لگی۔۔۔۔۔۔ میں رک گیا اس کے ہونٹ چھوڑ کر اس کی بریسٹ منہ میں لے کر چوسنے لگا۔۔۔۔۔ اس کی تکلیف تھوڑی کم ہوئی اور اس نے جسم کو بھی ڈھیلا چھوڑ دیا۔۔۔۔۔ میں نے آہستہ آہستہ اپنے ہتھیار کو ہلانا شروع کیا اور اندر باہر کرنا شروع کیا۔۔۔۔۔ تھوڑا سا کراہنے کے بعد وہ مزے میں سسکنے لگی اور پھر یہ سسکیاں بڑھتی چلی گئی اور میرے اندر بھی ایک آگ سی بھڑکانے لگی۔۔۔۔۔۔ میری رفتار تیز ہوتی گئی۔۔۔۔۔۔ سانسیں پھولتی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ ماحول ایک دم گرم ہوگیا۔۔۔۔۔ پسینہ پانی کی طرح بہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔ اور میں اس جگہ کو مزید تنگ پا کر اپنا پورا زور لگانے لگا۔۔۔۔ میرا عضو پھنس پھنس کر اندر جا رہا تھا۔۔۔۔۔ اور میں لذت کی اونچائیوں کو چھو رہا تھا۔۔۔۔۔ اتنا مزا آرہا تھا جو بیان سے باہر تھا۔۔۔۔۔۔ ساری توانائی سمٹ کر میرے عضو میں آگئی تھی خون کا بہاؤ بڑھ گیا اور پھر میرا ضبط۔ ختم ہو گیا اور میں ایک تیز سسکاری لے کر جھٹکےلینے لگا۔۔۔۔۔۔ اسی لمحے مجھے محسوس ہوا کہ رباب کا جسم بھی جو اکڑ گیا تھا اب ڈھیلا پڑ رہا ہے اور گرم گرم پانی چھوڑ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔ نڈھال ہو کر میں رباب پر گر گیا۔۔۔۔ اس نے بھی مجھے اپنے سے کس کر لپٹا لیا اور ہم تھوڑی دیر ایسے ہی لیٹے رہے۔۔۔۔۔ پھر میں اٹھ کر بیٹھا اور واش روم جاکر اپنے آپ کو صاف کر کے آیا اور رباب کو جانے کے لیے کہا رباب نے اٹھنے کی کوشش کی مگر کراہ کے رہ کئی۔۔۔۔ اس نے مجھ سے کمرے کی لائٹ جلانے کو کہا۔۔۔۔ میں نے لائٹ آن کی۔۔۔۔ کمرہ تیز لائٹ سے جگمگا اٹھا۔۔۔۔ اب میں رباب کے پاس آیا میں: جانو۔۔۔۔ اٹھو جاؤ۔۔۔ واش روم جاؤ رباب کمزور سی آواز میں بولی عاشر۔ ۔۔ بہت درد اور جلن ہو رہی ہے اور اٹھا نہیں جا رہا پلیز سہارا دو۔۔۔۔ اپنا ہاتھ میری طرف بڑھاتے ہوئے وہ بولی میں اس کے اور قریب آگیا اور اچاُنک میری نظر اس کی ٹانگوں پر پڑی اور میں نے اس کو وہیں روک دیا میں ؛ رباب جان ادھر ہی رک جاؤ ۔۔۔۔۔ مجھے دیکھنے دو۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔۔۔ میں اس پر جھک گیا اور اس کی ٹانگوں کو کھول کر دیکھا۔۔۔۔ خون اور سفید مادے سے اس کی رانیں اور چوت بھری ہوئی تھی رباب: کیا ہوا؟ اور پھر وہ بھی اٹھ کر دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔ میں نے روکا اور پوچھا۔۔۔۔ کوئی صاف کپڑا یا چھوٹا تولیہ دو رباب: وہاں باتھ روم کی کیبنٹ میں ہے میں اندر باتھ روم میں آیا۔۔۔۔ چھوٹا تولیہ اٹھایا اور پلاسٹک مگ میں گرم پانی بھرا ٹب میں گرم پانی کا نل کھول کر میں اندر آیا۔۔۔۔ اس کے پاس بیٹھ کر اچھی طرح گرم پانی سے چوت صاف کی اور پھر سہارا دے کر اس کو اٹھایا اور باتھ روم میں لے جاکر کموڈ پر بیٹھا دیا۔۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر میں اندر جا کر دیکھا وہ گرم پانی کے ٹب میں بیٹھی تھی اس کا تولیہ قریب رکھ کر میں اندر کمرہ میں آگیا۔۔۔۔۔ مجھے اس کو دیکھ کر افسوس ہو رہا تھا کہ میں نے اس کو اتنی تکلیف دی ۔۔۔۔۔ میں نے چادر کو بھی گیلے تولیے سے صاف کر دیا۔۔۔۔۔ رباب آہستہ سے چلتی ہوئی میرے پاس آگئی میں : درد زیادہ تو نہیں ہے۔۔۔ ڈاکٹر کے پاس لے چلوں اور وہ ہنس دی۔۔۔ میرے پاس بیٹھتے ہوئے بولی۔ میرے جانو۔۔۔۔۔ یہ نارمل ہے۔۔۔۔ تھوڑی جلن اور درد ہے ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔ تم نے تو پھر بھی آرام سے کیا ہے بعض لوگ تو جنگلی پنے سے کرتے ہیں کہ بچاری لڑکی کے ٹانکے لگانے پڑتے ہیں۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے سکون کی سانس لی اور اسے اپنی بانہوں میں اٹھا کر بیڈ پر لیٹا دیا۔۔۔۔ نیم دراز ہو کے اس کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔۔۔۔۔اور اس کے دودھ اپنے منہ میں لے کر آہستہ آہستہ چوسنے لگا اور بیچ بیچ میں ہم باتیں بھی کرتے رہے۔ رباب کمرے سے باہر نکل گئی اور میں ٹانگیں پھیلا کر اس کے جہازی سائز بیڈ پر آرام سے لیٹ گیا اور اپنے مرجھائے ہوئے عضو کو دیکھنے لگا جس نے آج زندگی میں پہلی بار جنس مخالف کےاندر جانے کا مزا چکھا تھا ۔۔۔۔ اس کو چیرا پھاڑا تھا اور اب سکون سے بےدم پڑا تھا۔۔۔۔۔۔ پھر سوچ کا رخ رباب کی طرف مڑ گیا اور میں اس کے بارے میں سوچنے لگا اتنے میں رباب کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔۔ اس کے ہاتھ میں اک ٹرے تھی جس میں دو مگ رکھے تھے۔۔۔۔۔ عاشر چلو دودھ پی لو۔۔۔۔۔ مجھے مخاطب کر کے اس نے سائیڈ ٹیبل پر ٹرے رکھ دی۔

Posted on: 04:37:AM 14-Dec-2020


0 1 216 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 63 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com