Stories


سیائے بابا کا معجزہ از رابعہ رابعہ 338

مینے اپنا ہر طرح سے علاج کروا لیا لیکن کہیں سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا. میرا گھر بکھر سا گیا تھا. مے ہر وقت بیمار ہونے لگی، میرے پتی کو شراب کی لت لگ گئی، میرا اےكلوتا بیٹا سات ماہ قبل گھر سے بھاگ گیا جس کا ابھی تک کوئی عطا پتہ نہیں چلا. ایک بار کسی بابا نے بتایا تھا کہ میرا پاؤں کسی چوراہے پر اس جگہ پڑا ہے جهاپر کسی نے کچھ کیا ہوا تھا، اس نے جو اقدامات بتایا تھا وہ کر کے بھی کوئی آرام نہیں ملا. مے ان سب کے بارے میں سوچ ہی رہی تھی کہ دروازے پر دستک سنائی دی. میں نے دروازہ کھولا تو سامنے میرے محلے کی (پانچ گھر چھوڑ کر) بندنا کھڑی تھی جو مولته روہتک ہریانہ کی رہنے والی تھی. اس کا پتی سی آر پی ایف. میں شامل نوکری کرتے تھے جن کی پوسٹنگ اکثر دوسرے علاقوں میں ہی رہتی تھی. فی الحال وہ اپنے آٹھ سال کے بیٹے کے ساتھ اکیلے ہی رہتی تھی. اندر آنے پر اس نے میرے اداس چہرے کو دیکھ کر کہا --- بہن میری ایک بات مان ..... تو کسی سياے کو کیوں مفت دکھاتی ..؟ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا - کہ سياا سب کچھ بتا دیتا ہے کہ کسی نے تیرے خاندان یا تجھ پر جادو کیا ہے یا کسی کی نظر لگی ہے یا کسی نے کچھ کھلایا ہے یا تیرے گھر کے دیوی دیوتا روٹھ گئے ہے وغیرہ وغیرہ. سچ کہوں سو بہن بھوت مشور سياا ہے ... کتے لوگوں کا بھلا کیا ہے اس نے. بہن ایک بھی پیسا نی لےمتا وہ ... جو سامان اوےگا وو تو تنے خرچ كرا پڑےگا ... جے فائدہ هوگيا تو اسی مسجد میں شامل جاکے اگروتتي جلاكے ایک چادر، ایک پاكےٹ سگریٹ ہور ماڈي سی لونگ چڑھا دینا. دیکھ بہن تنے سارا علاج تو کروا لیا اور بابا سے بھی کچھ نہ هويا .... اب تو ایک بیری سياے تے بھی بوجھ کے دیکھ ... میری روح کہے سے تھارے کو فايادا ضرور ہوگا بہن. وقت نکال کر مے بندنا کے ساتھ سياے کے پاس گئی، وہاں گیٹ سے اندر گھستے ہی دو مزار تھی، کچھ میٹر کے بعد ایک هالنما کمرے میں شامل پہلے ہی بیس پچیس لوگ بیٹھے تھے اور کچھ لوگ ہمارے بعد بھی آ رہے تھے. لوگ باری باری حال کے بعد بنے اندر والے کمرے میں شامل جا رہے تھے اور کوئی دس تو کوئی آدھے گھنٹے میں شامل باہر آ رہے تھے. میری باری آنے پر بندنا کے ساتھ مے اندر گئی، بندنا نے پہلے سياے کے سوا میں شامل بنی چوکی پر ماتھا ٹےكا اور پھر مینے. سياے نے مور پنکھ سے باری باری ہمدونوں کے سر پر کچھ کیا. پھر سياے نے بندنا سے پوچھا - بیٹی وہ تیرے گاؤں والی اب ٹھیک ہے نا ... دوبارہ آئی نہیں. بندنا نے کہا بابا و تو ٹھیک سیکڑوں .. اب یا بھوت پریشانی میں شامل سیکڑوں بیچاری .... سارے فراق کر لئے، فائدہ کوئی نی ہوتا .... سياا درمیان میں میری طرف دیکھ کر بولا-- کوئی بات نہیں بیٹا .. ذرا آگے آ. مے تھوڈا كھسككر اس کے آگے گئی .... اس نے میرے سر پر ہاتھ رکھا ... تھوڑی دیر میں شامل میرا بدن کانپنے لگا. وہ زور زور سے میرے چہرے پر پھونک مارنے لگا. میرے سر سے ہاتھ ہٹا کر اس نے مجھے واپس پیچھے کھسکنے کا اشارہ کیا اور بولا --- چار سال سے بھگت رہی ہے ... تیری گرستھي بھی ٹھیک نہیں ہے اپنی آنکھیں بندكر زور کی سانس لے کر پھر بولا - تیرا پتی ........ کچھ دیر رک کر بولا - بیٹی، برا مت ماننا، میرے سوال کا سچ-سچ جواب دے گی ..؟ میں نے دھڈكتے دل سے كامپتے ہوئے جواب دیا --- جی بابا. بابا - دیکھ میں نے پہلے ہی کہا کہ برا مت ماننا ... کیونکہ ہم کچھ بھی چھپا نہیں رہ سکتا ... تو بتا تیری ٹاںگوں کے بیچ میں شامل تل ہے .... ؟؟ سچ-سچ بتانا ......... میری حالت ایسی ہو گئی جیسے کاٹو تو خون نہیں .... اس کی آنکھیں بند تھی ... میں نے بندنا کی طرف دیکھا تو اس نے پھسپھساكر کہا --- بتادےنا ہے یا نہیں .... میں نے کاںپتے ہوئے جواب دیا - نہیں. بابا اردو میں شامل کچھ بڈبڈانے لگا اور بولا-- غلط ... غلط .... غلط جواب ..... بیٹا اس کو لےجا ..... مجھے جھوٹا بنارهي ہے ...... لے جا اس کو ... يا تو یہ میری بات سمجھ نہیں پارهي ہے یا یہ کسی وجہ سے جھوٹ بول رہا ہے. بندنا نے مجھے سمجھایا کہ بہن سچ بتا دے نا ... بابا کی گت گلت نی ہو سکتی .... مے جاو سو. میں نے پھر سے کہا کہ مجھے معلوم ہے، کوئی تل ہے ہی نہیں. بابا اپنے آسن سے اٹھ کھڑا ہوا اور، اس کو لےجا بیٹی ..... کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا. پیچھے -پيچھے ہم دونوں بھی باہر نکل گئے. باہر حال میں شامل چھے سات لوگ ابھی انتظار میں شامل بیٹھے تھے. بابا مزار کے پاس جا کر سگریٹ پینے لگا. بندنا اس کے پاس گئی اور کچھ باتكر اس کے پاؤں چھوئے اور ہم دونو وہاں سے نکل گئے. راستے میں شامل بندنا اور میرے میں شامل کافی بحث ہوئی، وو بولی کہ میرے گھيان سے اب تک سياے کی کوئی بات گلت نہ ہوئی بہن ..... مے بھی اپنی بات پر ایک دم فیصلہ پر قائم تھی کہ میری ٹاںگوں کے بیچ میں کوئی تل ہے ہی نہیں. بندنا نے مجھے ٹانگوں کے درمیان کا مطلب سمجھانے کی كوشس کی بابا صاف صاف کیسے کہتے .. ان کا مطلب شاید میری چوت پر تل سے تھا .... میں نے بندنا سے کہا کہ میں بابا کی بعد سمجھ گئی تھی ... لیکن میرے وہاں بھی تل نہیں ہے .. لیکن بابا کی طرح بندنا بھی میری بات پر یقین نہیں کر رہی تھی. گھر پہنچنے کے بعد میں نے ساڈی-پیٹیکوٹ اوپر اٹھا کر بندنا کو کہا کہ ---- دیکھ، تو ہی دےكھلے کہاں ہے تل ...؟ دیکھنے کے بعد وہ بولی - یار بہن، میرے سگھيان میں شامل بابا کی بات پےلي بار گلت ہوگی. آج تاي ہر بات سچ نکلی نوكر کیسے هوگيا دوسرے دن نہاتے وقت اچانک میرے ذہن میں کچھ خیال آیا، نہانے کے بعد صرف مےكسي پہن کر بیڈروم میں شامل آئی، وال مرر کو بیڈ کے پاس دیوار کے ساتھ ٹےڈھا رکھ، اپنی ٹاںگیں چوڈي کر اپنی چوت کے لپس کو پھیلا کر دیکھا تو میں حیران رہ گئی ..... لپس کی اندر کی طرف بڑا سا تل تھا. مجھے حیرانی جادا اس بابا کے كانپھڈےنس پر ہوئی جو اپنی بات پر اڈا ہوا تھا کہ میری ٹاںگوں کے بیچ میں شامل تل ہے اور مےتل ہوتے ہوئے بھی آج تک انجان تھی. کچھ عجیب بھی لگا کہ کیا یہ بابا یا سياے لوگ سب کچھ دیکھ سکتے ہیں وہ بھی اندر تک ...... دوپہر کو مے بندنا کے گھر گئی اور اس کو حیرانی سے بتایا کہ لفظی میں شامل میرے جننانگوں کے اندر تل ہے جس کا مجھے پتہ ہی نہیں تھا. وہ بالکل بھی حیران نہیں ہوئی بلکہ كوتهلوس بولی - دیکھا، مے بولی تھی نا کہ یہ کوئی عشاء-ويشا سياا نی ہے، بھوت پہنچا هيا سیکڑوں. ارے بہن وو تو تیرے آگے پیچھے کی ساری باتا نے جاگيا گا. اوسكے سامے جانے کے بعد کوئی بات اوستے سےچھپی نہ رہ سکتی. بہن میری بات مان لے، جے ایک بار اس نے تھاري سعی بات پكڈلي، تھارے سارے تکلیفیں مٹ جاگے، تھارا خاندان سکتی سکھی ہو جاگيا بہن. مے سوچنے لگی کہ جو میرے بارے میں اتنی معلومات رکھتا ہے جس کی مجھے بھی نہیں ہے، اس کے پاس کچھ تو شكتي ہوگی اور ضرور وہ میری مدد کر سکتا ہے. میرے پتی کی طبیعت ٹھیک ہو جائے گی یا میرا بیٹا واپس لوٹ سکتا ہے. بندنا نے بتایا کہ کل بدھ ہے اور بدھ کو سياے کا دربار نہیں لگتا. کچھ گنے چنے لوگ ہی آتے ہیں. ہمارے لئے کل جانا صحیح رہے گا بھیڑ نہ ہونے کی وجہ طریقے سے سمجھ سکتے ہیں. اگلے دن گیارہ بجے کے تقریبا بندنا اور میں سياے کے پاس گئے، وہ مزار کے پاس پھولوں کی كياري میں شامل بنیان اور لںگی پہن کر کھرپی سے نراي کا کام کر رہا تھا. ہم دونو نے جھک کر اس کو سلام کیا اور سلام کا جواب دینے کے بعد وہ بولا-- بھئی، جب تمہیں مجھ پر وسواس ہی نہی ہے تو پھر کیوں آئی ہو ... مے کچھ نہیں کر سکتا. اور بہت سے لوگ ہے بتانے والے ان کے پاس چلے جاؤ بندنا نے بابا سے کہا بابا، جو بات آپ نے بوجھي تھی، اوسكا گيان تو اس بیچاری کو بھی کوئی نی تھا، يسنے تو گھر جاکے بےرا پاٹيا (گھر جا کر پتہ چلا). بابا اب تو تھاري سر میں شامل آئی ہے، بھوت دکھی ہے، کے پتہ اس کا قسمت اسے لوٹاكر آپ کے پاس لایا ہے. بابا نے ہمیں وہیں رکنے کو کہا اور کمرے میں شامل جاکر اگربتتي کا پیکٹ لایا، میرے ہاتھ میں دے کر بولا جلا کر سامنے (مزار کے ایک کونے میں شامل) رکھ کر اندر آنا اور وہ لوٹ کر کمرے میں شامل چلا گیا. اگروتتي جلا کر مے اور بندنا کمرے میں شامل ہوگئے. بابا اپنی گدی پر بیٹھا، آنکھیں بندكر من ہی من کچھ بڈبڈا رہا تھا. بندنا نے بیٹھتے ہوئے مجھے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا. تھوڑی دیر کے بعد بابا نے ہاتھ میں مورپكھ لیا اور باری باری ہم دونوں کے سر پر رگڈنے لگا. پھر وہ میری طرف دیکھ کر بولا-- تیرا پاؤں نادانستہ میں شامل غلط جگہ پڑا ہے .... کسی نے جادو کیا تھا .... اس کے اولاد نہیں ہو رہی تھی ....... ....... پر تو نے بہت دیر کردی ...... مشکل ہے ........ بابا لمبی لمبی سانس لینے لگا ... پھر زور زور سے اپنی چھاتی کو اتنا پیٹا کہ اس کی بنیان شاید خون سے لال ہونے لگی ...... اچانک اس نے دیوار سے اپنی پیٹھ کو سٹايا اور پرسکون ہو گیا. پانچ منٹ کے بعد بابا نے ضمنی میں شامل رکھے ریک سے ایک سیاہ دھاگے نکال کر ناپا اور چاقو سے کاٹ کر اسپر سات جگہ پر ایک ایک لونگ باندھكر میرے گلے میں شامل باندھا. ایک پڈيا میں شامل کچھ بھبھوتي (راکھ جیسا کچھ) ریپنگ مجھے دی اور کہا کہ اسے اپنے پتی کے سرہانے کے نیچے چھپا کر رکھوں .... ان کو پتہ نہیں چلنا چاہیے. ایک ہفتے کے اندر اگر کچھ فرق پڑے تو میرے پاس آنا ورنہ مت آنا. اپنا اور میرا وقت برباد مت کرنا ... جاوور کمرے سے نکلنے کے بعد مجھ سے کہا کہ آپ کے گھر کے اندر گھسنے تک پیچھے مڈكر بالکل مت دیکھنا ... چاہے کوئی تمارا کوئی خاص جاننے والا ہی کیوں نہ ہو ... ورنا کچھ ہو گیا تو میری کوئی ذمہ داری نہیں ہو گی اور جاتے ہی بھبھوتي کو اپنے پتی کے سرہانے اس طرح سے رکھنا کہ اس کو بالکل بھی پتہ نہ چلے. آپ کے گھر کے اندر پہنچنے تک مے بہت گھوراي ہوئی تھی. بندنا کے سمجھانے پر میں نے تکیے کو اوپر کا احاطہ نکال کر تکیے کے اندر کے کپڑے کی سلائی ادھےڈكر روئی کے درمیان میں بھبھوتي کی پڈيا کو چھپا کر رکھا اور پہلے کی طرح احاطہ چڈھاكر رکھ دیا. چائے پیتے پیتے بندنا نے کہا کہ ... بہن اب تیرے حصہ کھل جاگے .... بھائی ساب (میرے پتی) سکتی ٹھیک ہو جاگے ہور تیرا چھورا بھی لوٹ جاگا .... منے تو سياے پر خدا کے بروبر بسواس. رات کو میرے پتی ہمیشہ کی طرح پی کر آئے اور کھانا کھا کر سو گئے. آدھی رات کو اچانک ان کو بستر پر ہی الٹی ہو گئی. میں نے پہلے ان کو بستر سے اتار کر ان کے کپڑے بدلے اور پھر بیڈ شیٹ. ان کی پیشانی پر پشينا ٹپک رہا تھا تو میں نے اپنی مےكسي کے کونے سے صاف کیا. اچانک میرے پتی رونے لگے اور بولے ....... میں نے تجھے بہت دكھ دیا پھر بھی تو میرا اتنا خیال رکھتی ہے. میں نے ان کو سمجھایا کہ مے تمہاری بیوی ہوں، کیوں نہ كروگي خدمت. کچھ دیر ہماری اسی طرح کی باتیں چلتی رہی اور ہم دونوں سو گئے. صبح جب میری آنکھ کھلی تو میں بھوچككي رہ گئی. قریب چار سال کے بعد آج پہلی بار ان کا ہاتھ میری مےكسي کے اندر میرے جننانگوں کے اوپر تھا. عجیب سا مهشوس ہو رہا تھا ...... آخر چار سال کے بعد پہلی بار میرے اپنے ہاتھ کے علاوہ دوسرا ہاتھ میرے جننانگوں پر تھا. چار سال پہلے کئے گئے سبھوگو کی سخت سی جهن میں شامل اترنے لگی ساتھ ہی ساتھ بندنا اور بابا کی باتوں کے بارے میں بھی سوچنے لگی. میرا من انندمي سا ہونے لگا اور میں آنکھیں کھول کر لیٹی رہی اور تبھی اٹھی جب انہوں نے کروٹ بدلی. ہمیشہ کی طرح اپنے معمول کرم سے فارغ ہو نہانے کے بعد اپنے گھر کے عبادت کی جگہ پر انعقاد جلانے کے بعد چائے لے کر ان کے پاس گئی اور اٹھا کر ان کو چائے پینے کو کہا تو وہ بولے ...... اپنی چائے بھی یہیں لے آ نا . اتنو سال کے بعد ہم نے ایک ساتھ چائے پی اور وہ باتھ میں شامل چلے گئے. آج ہم نے ایک ساتھ ناستا بھی کیا. شام کو وے صحیح وقت پر گھر بھی لوٹ گئے اور وہ بھی پنا شراب پیے ......... میں نے من ہی من بابا اور بندنا کا شکریہ ادا کیا. آج سب کچھ ویسے ہی چل رہا تھا جیسے چار سال پہلے چلتا تھا. رات کا کھانا کھانے کے بعد انہی کے کہنے پر ہم دونوں باہر كلوني میں شامل گھومنے نکل گئے. گھومتے-گھومتے انہوں نے بتایا کہ وے شراب کی دکان میں شامل گئے تھے کہ آج باہر سے پیکر جانے کے بجائے گھر لےجاكر پيےگے لیکن پتہ نہیں دماغ میں شامل کیا آیا کہ آج نہیں کل پيےگے اور ان کے پاؤں اپنے آپ گھر کی طرف چل پڑے. وہ اپنی آپ بیتی سنا رہے تھے لیکن میرا دماغ میں شامل بندنا اور بابا ہی گھوم رہے تھے. گھر لوٹ کر میں نے جیسے ہی دروازہ اندر سے بند کیا انہوں نے مجھے اپنی باہوں مے لیا اور اب تک ریٹویٹ اپنی حرکتوں کیلئے معافی مانگنے لگے اور میں نے ان کو سمجھایا کہ شاید وہ ہمارا برا وقت تھا جو اب ختم ہورہا ہے. گھر کے باقی کام نپٹاكر جب مے بیڈ پر پہنچی تو انہوں نے مجھے اپنی طرف کھینچ کر میرا ماتھا چومكر بولے ....... تو کتنی اچھی ہے ... اتنا برا سلوک کرنے پر بھی تو ہمیشہ میری خدمت کرتی رہی .... .... کبھی بھی کوئی جھگڑا نہیں کیا .... وغیرہ .. وغیرہ ..... میرے سمجھاتے سمجھاتے پہلے تو وے میری چھاتیوں کو مسلنے لگے اور پھر مےكسي کے اندر ہاتھ ڈالنے لگے تو مینے جان بوجھ کر کہا کہ ... یہ کیا کر رہے ہو .......... تو وے بولے .... ...... وہی جو مجھے کرنا چاہیئے ...... پر پتہ نہیں کب سے نہیں کیا ... اور میرے جننانگوں پر ہاتھ رکھتے ہی زور سے بھینچ لیا. میرا حال میں بیاں نہیں کر سکتی ..... ایسا لگرها تھا جیسے کوئی پرایا مرد مجھے چھو رہا ہو ..... اوپر سے کچھ گھبراہٹ جیسا اور اندر ہی اندر میرے جننانگوں کے اندر سرسرهاٹ سی ہونے لگی. مے نروس سی ہو گئی. انہوں نے میری مےكسي مکمل طور اوپر سركاي اور اپنا انڈروير نکال کر میرے اوپر لیٹ گئے. ان کا مرجھايا لنڈ میرے جننانگوں کو چھو کر رہا تھا. پتہ نہیں پچاسو بار اپنے ہاتھ سے پکڑ پکڑ کر وہ اپنے لنڈ کو میرے جننانگوں پر سٹاتے اور دھاككا مارتے لیکن وہ اندر ہی نہیں گھس پا رہا تھا. میری حالت بہت كھاراب ہو چلی تھی ..... سچ بتاوں غصہ آ رہا تھا ..... کیونکہ کئی بار میں نے بھی نیچے سے هلتے ہوئے اپنے کو ایڈجسٹ کیا کہ مختصر سا تو اندر گھس جائے ...... پر ...... میں نے شرم ہو کر ان مرجھايے لنڈ کو اپنے ہاتھوں سے پکڑا اور اپنے يوني میں شامل سٹاكر نیچے سے اچھلي ..... شاید لنڈ کا ٹوپا اندر گیا ہوگا کہ میری يوني پھک ... پھک .... پھک ... پھک کر بیٹھی اور ان کا لنڈ پھر سے باہر نکل گیا. میری يوني اکیلے ہی اپنے آپ ترپت ہو گئی. وہ بیچارے بہت دیر تک کوشش کرتے رہے ... نہ ہی ان کے لنڈ میں کوئی كڈاپن آیا اور نہ ہی میری يوني میں گھس پایا. وہ زور سے غصے میں شامل چلائے ..... بھےنچود اس کو کیا ہو گیا .......... میں ڈر گئی کہ کہیں ان کو اپنی نامردانگي کا احساس ہو گیا تو پھر سے پینے نہ لگے .... میں نے ان کو سمجھایا کہ اتنے سالوں سے تم دن رات شاراب پیتے رہے ہو تو شاید اس کا اثر ہو سکتا ہے ...... میری بات اقدار کچھ دن شراب کی انٹیک بند کردو، سب اپنے آپ ٹھیک ہو جائے گا. وہ بہت جھلا گئے تھے، میں نے کسی طرح سمجھابجھاكر ان کو شانت کیا. اگلے دن وہ آفس نہیں گئے، شام کے وقت ہم دونوں پلكا مارکیٹ گھومنے گئے، وہیں سے کھانا کھا کر رات دس بجے گھر پہچے. گھر کے سارے کام نپٹاكر بستر پر پهچكر میں نے ہی پهلكر ان لنڈ سے کھیلنا شروع کیا، کھیلتے کھیلتے میری يوني اندر سے كلبلانے لگی تھی. بہت وقت گزر جانے کے بعد بھی ان کے لنڈ میں شامل کشیدگی پیدا نہیں ہوا تو وہ بڑے مایوس ہو کر بولے چھوڑ یار اب میں بیکار ہو گیا ہوں ...... اس دارو نے تو مجھے نامرد ہی بنا دیا. میں نے تپاک سے جواب دیا - ایسا کچھ بھی نہیں ہے، یہ بات اپنے دل سے نکال دو. اگلے تین - چار راتوں کو ہمارا یہی سلسلہ چلتا رہا، کبھی وہ تو کبھی مے ان لنڈ میں شامل کشیدگی لانے کی کوشش کرتے رہے پر کامیاب نہیں ہوئے اچانک مجھے بابا (سياے) کی یاد آئی، جن کو میں نے ایک دم ہی بھول گئی تھی، انہی کی بھبھوتي اور سیاہ دھاگے کی وجہ سے میرے پتی میں اتنی تبدیلی آئی تھی. اگلے دن پتی کے آفس جانے کے بعد میں نے بندنا کے گھر گئی اور تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد میں نے بابا (سياے) کا ذکر کیا تو وہ جھٹ سے بولی --- کچھ پڈيا کے ..؟ میں نے اس سے کہا کہ شاید انہوں نے پینا چھوڑ دیا ہے اور وقت پر گھر بھی آ جاتے ہیں. اس دن بندنا کو دن میں کسی کے گھر جانا تھا اس لئے اگلے دن ہم دونوں بابا کے پاس گئے، اس دن وہاں بہت بھیڑ تھی جسكار چار بجے شام کو ہمارا نمبر آیا. جیسے ہی ہم دونوں بابا کے سامنے بیٹھے، اس نے ہم دونوں کو مورپكھ سے سہلانا شروع کیا اور بولا - دھن بیٹا ..... کچھ فرق سمجھا ..... یا پھر سے مجھے اجمانے آئی ہے .....؟ میں نے ڈرتے ہوئے بتایا کہ کافی فرق پڑا ہے .......... وہ درمیان میں ہی بول پڑا --- لیکن سبندھ نہیں بن پا رہا ہے نا .......... میں پھٹی آنکھوں سے اس کو دیکھنے لگی ....... کیا کمال کا بابا ہے ...... اس کو اس بات کا بھی پتہ ہے .......... وو پھر بولا --- میں نے کہا تھا نہ کہ ہم سے کچھ بھی چھپا نہیں رہ سکتا ..... دیکھ بیٹا ... مے سیدھے سیدھے اور صاف صاف بولتا ہوں ..... پھر چاہے کوئی آگے علاج کروائے یا نہ کروائے اس کی مرضی ...... تیرا کیس بہت ٹےڈھا ہے ...... تھوڈا وقت لگے گا .... کچھ سامان لانا پڑے گا اور تجھے کچھ چکانا بھی پڑےگا ........ بول کیا بولتی ہے .......؟ اچھا چل پہلے بتا .... مجھ پر وسواس ہوا کہ نہیں ... تبھی آگے کی بات کروں گا ........... بتا ......؟ . گھبراتے ہوئے مینے کہا کہ مجھے مکمل وسواس ہو گیا ہے پر میں ادا والی بات نہیں سمجھ پائی بابا ....... وہ بھی سمجھا دوں گا وقت آنے پر .... پہلے تو تو پرسوں ويروار کو سوا گز سیاہ كپڈا، 50 گرام رائی، 50 گرام سندور، 7 لونگ، سوا میٹر سیاہ دھاگے، 3 نیبو گھر سے نہا کر میرے پاس لے کر آنا .. . آگے کی بات اس کے بعد بتاوںگا. اس نے چاول کے کچھ دانے اپنے ہاتھ میں لے کر سات بار پھونک مارنے کے بعد مجھے دیئے اور کہا کہ ان کو گھر جاکر کھانے کے ساتھ بنا کر دونوں جھنے کھائیں گے تو کچھ معجزات ہوگا لیکن پتی کو اس کی اطلاع نہیں ہونے دینا. میں نے رات کو کھیر کے ساتھ بابا کے دیے چاولو کو پکایا اور کھانے کے بعد ہم دونو گھر سے باہر سیر پر نکل گئے. واپس لوٹتے وقت انہوں نے کس کے میرا ہاتھ پکڑا اور پوچھا --- تونے آج کھیر میں شامل کیا ملایا تھا .....؟ میں نے سكپكاتے ہوئے کہا --- کچھ بھی تو نہیں .... میں کیا ملاوگي ....... اور کیوں ملاوگي .... انہوں نے درمیان میں ہی روک کر کہا ---- ارے نہیں ... تو کچھ اور سمجھ رہی ہے ... میں نے اس لئے پوچھا کہ چلتے چلتے میرا کھڑا ہوگیا ہے یار ..... پتا ہوتا تو پہلے ہی کھیر نہ بنا دیتے میں بتا نہیں سکتی میرے دل میں شامل کیا چل رہا تھا - ایک طرف بابا کے کارنامے کے بارے میں سوچتی تو دوسری طرف یہ کہ کہیں ان کو بعد میں شامل بابا کے بارے میں پتہ چلے گا تو کیا ہوگا پھر ان کھڑے ہونے کی بات پر سوچتے ہی عجیب سا سنسنی پیدا ہونے لگا کہ کیا آج کچھ کر پاےگے کہ نہیں. گھر کے اندر پہنچتے ہی وہ مجھے پكڈكر کمرے میں لے گئے اور میرا ہاتھ پكڈكر اپنے پجامے کے اوپر رکھ کر بولے --- دیکھ ٹننننن ہو رہا ہے. گھر کے كھڈكي دروازے اور لائیٹیں بند کر، ذہن میں مستی کا عالم لے کر جب تک بیڈ پر لیٹے تب تک ميا جی سرد ہو چکے تھے اور بولے - یار اس نے تو وقت پر دھوکہ دے دیا ...؟ میرے دماغ میں شامل پھر سے بابا کا خیال آنے لگا ...... کیا یہ بابا کی چالاکی تو نہیں ..... اور اس نے کیا ادا کرنے کی بات کہی تھی .... کہیں وہ بابا میرے ساتھ ..... ..... نہیں ایسا نہیں ہو سكتاوو تو بھكتي والے لوگ ہوتے ہیں ... وہ اس طرح کی حرکت کبھی نہیں کر سكتےبس اسی ادھےڈبن میں کب نیند آگئی پتہ ہی نہیں چلا ويروار کو مے بابا کی طرف سے بتائی مواد لے کر ان کے پاس گئی، بندنا بخار کی وجہ سے میرے ساتھ نہیں آ پائی. بابا کے پاس میرا نمبر آنے کے بعد ہمیشہ کی طرح انہوں نے پہلے مورپكھ سے میرے سر اور کندھوں کو منتروں کے ساتھ سہلایا اس کے بعد مواد کو ہاتھوں میں شامل لیکر کافی دیر تک منتر پڑھنے کے بعد میرے سامنے رکھا اور بولا ------- --- کام نہیں ہو پایا نا ...؟ میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا تو میں نے اس کے چہرے پر دیکھنے لگی ....... بیٹا تو بہت بھولی ہے جب تک تجھے صاف صاف نہ بتاؤ تیری سمجھ میں کچھ آتا ہی نہیں. میرا مطلب تھا کہ تیرا اپنے پتی سے جسمانی تعلقات ابھی تک نہیں بن پایا .... اب سمجھی سن کر میرا دل دھک-دھک کرنے لگا ....... یہ بابا کتنا پہنچا ہوا ہے اس کو اس بات کا بھی پتہ ہے ...... میں نے کچھ سكچا سی گئی ... کہیں یہ اپنی کسی وددھيا سے مجھے کپڈوں کے اندر تو نہیں دیکھ رہا ....... تبھی اس کی آواز سے میں اور چونک گئی، وہ بولا --- جیسا تو سوچ رہی ہے ویسا نہیں ہیں .... تو آرام سے بیٹھ ..... کوئی بھی آر پار نہیں دیکھ سکتا ....... میں اور بھی چونک گئی ... اس نے تو میرے دل کی بات بھی جان لی ... تب تو پکا یہ مجھے کپڈوں کے اندر بھی دیکھ رہا ہے ..... مےنے اپنی ساڈی کا پلو کھینچ کر اپنی چھاتی کو صاف کی كوشس کی. میری اس حرکت پر وہ تھوڑا مسکرایا اور بولا --- دیکھ میرے پاس کتنی بھیڑ لگی رہتی ہے ... میں کسی سے ایک پیسہ بھی نہیں لیتا اور نہ ہی کسی سے کوئی زبردستی کرتا ہوں، ایک بار اپنے دل کی بات سامنے والے کو بتا دیتا ہوں پھر اس کی مرضی وہ مانے یا نہ مانےور جو مان جاتا ہے اس کا بےڈا پار ہو جاتا ہے ..... تیری مرضی ہے تو اس کے مواد اٹھا کر اب جا سکتی ہے ........ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے جتنا لگتا ہے .... ہماری ودھيا ہی ایسی ہے کہ دوسرے کا تکلیف مٹانے کے لئے ہمیں اپنے جسم پر تکلیفیں جھیلنا پڑتا ہے ... مشکل تپسیا کرنی پڑتی ہے .... اپنا خاندان اور گرهستھ کی قربانی دینا پڑتا ہے تب جاکر کچھ حاصل ہوتا ہے. اس نے میری مواد کا بیگ میری گود میں شامل ڈالا اور بولا - جا مجھے اور لوگوں کو بھی دیکھنا ہے ... جا. پہلے تو میں هككي بككي رہ گئی، پھر میں نے من ہی من میں سوچا کہ اس کی بھبھوتي، سیاہ دھاگے اور چاولو سے جب اتنا فرق پڑا ہے تو یہ میرے پتی کو ٹھیک بھی کر سکتا ہے اور میرے کھوئے بیٹے کو بھی لوٹا سکتا ہے تو مینے بغیر وقت گوايے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ بابا جی میں بہت پریشان ہوں، میرے پتی کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی اور بیٹا بھی گھر سے غائب ہے، میرا تو دماغ کام نہیں کرتا بابا نے درمیان میں ٹوک کر کہا - سن ... جتنا تیرا خرچ ہونا تھا وہ تیری اس مواد پر ہو گیا ہے اس سے زیادہ اب نہیں ہوگا .... ہاں آگے تیرے اوپر ہے اگر تو میری بات مانےگي تو تیرا پتی بھی ٹھیک ہو جائے گا اور اوپر والے نے چاہا تو تیرا بیٹا بھی لوٹے گا. میں نے دونوں ہاتھ جوڑے اور اپنا سر اس کے قدموں میں شامل رکھ کر بولی - آپ سے بڑا احسان ہوگا بابا جی. بابا نے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا اس کے لیے تیری رجامندي بھی چاہئے، بغیر اس کے تیرا پہلا کام یعنی تیرے پتی کا ٹھیک ہونا ناممکن ہے. کس بات کی رجامندي بابا --- میں نے پوچھا بابا بولا - تیرے پتی کو ٹھیک کرنے کے لئے اس کے (میرے پتی) جننانگوں (لنڈ) پر تیرے اور میرے پانی کو لگانا پڑے گا. میں سمجھ نہیں پائی اور اس کے چہرے کو تکنے لگی میری آنکھوں میں شامل تاکتے ہوئے بابا بولا - ارررے میں بھول ہی گیا کہ تجھے اس طرح سے سمجھ میں نہیں آتا، صاف صاف ہی کہنا ہوگا تو سن - مجھے تیرے ساتھ جماع کرنا پڑےگا، اس کے بعد ہم دونوں کا جو پانی (ویرے ) نکلے گا اس پانی کو تیرے پتی کے جننانگوں (لنڈ) کے اگلے حصہ پر لگانا پڑے گا پھر دیکھنا کیسے تیری گرهستھي بہتر ہوگی ...... اب سمجھ میں آیا. میری حالت کاٹو تو خون نہیں جیسی ہو گئی. دل دھک-دھک کر منہ کی طرف آنے لگا. دماغ پھٹنے لگا بابا نے میرے چنتن کو توڑتے ہوئے کہا --- اب تو اپنی اس مواد لے کر گھر جا ..... اچھی طرح سوچ لینا ..... اگر راضی ہو تو آنے والے پیر کو نہا کر، سیاہ کپڑے پہننا اور یہ مواد لے کر دن کے 12 بجے اس پچھلے دروازے سے اندر آنا میں دروازہ کھلا رکھوں گا اور نہ راضی ہو تو اس مواد کو زمین میں شامل كھڈڈھا کھود کر کہیں دبا دینا .... اب تو جا. میں نے مواد کا بیگ اٹھایا اور اس کو ہاتھ جوڑ کر اپنے گھر آ گئی. اس وقت سے لے کر اتوار تک کوئی فیصلہ نہیں لے پائی. میری پریشانی شاید میرے چہرے پر اجاگر ہونے کی وجہ میرے پتی نے کئی بار مجھے پوچھا بھی کہ کیا بات ہے طبیعت تو ٹھیک ہے، کوئی پریشانی تو نہیں ہے ...؟ یہ بھی سچ تھا کہ بابا کے رابطے میں آنے کے بعد سے میرے پتی کے ورتاو میں شامل بہت فرق آیا ہے ..... انہوں نے شراب پيني ایک دم بند کر دی، وقت پر آفس سے گھر آنے لگے .... میرے ساتھ مدھر تعلق بنانے لگے ... میری فکر كرےنے لگے ....... اب کیا کروں، بابا کی بات نہیں مانتی تو شاید حالات پہلے سے بھی بدتر ہو سکتے ہے اور مانتی ہوں تو اپنی عزت بابا کو ................ اور میں نے فیصلہ کیا کہ اس پیر کو تو نہیں جاؤں گی، کچھ گڈبڈ ہوئی تو اگلے پیر کو جاوںگی
 پیر کو 10 بجے پتی کے آفس جانے کے بعد سارا کام نپٹانے کے بعد نہانے گئی. اس دن پتا نہیں کیا ہوا کہ نہانے جاتے وقت پہننے کے لئے سوائے تولیے کے کوئی كپڈا اپنے ساتھ نہیں لے گئی نسكا احساس مجھے نہانے کے بعد ہی ہوا. تولیہ لپیٹ کر مے کمرے میں شامل آئی، الماری سے سیاہ سوٹ (سلوار اور قمیض) نکال کر پہنا. مکمل طور پر تیار ہو کر اچانک مجھے احساس ہوا کہ کس طرح میں نے آج انجانے میں ہی سیاہ کپڑے پہن لئے. ایک دم سے دماغ میں شامل جیسے جھٹکا سا لگا اور میں نے طے کیا کہ عزت تو کیا چاہے مجھے اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے پر میں اپنے خاندان پر آئے تکلیفیں کو ضرور دور کروں گی اور پتہ نہیں کس طرح مے صحیح وقت پر بابا کے دربار کے پیچھے کے دروازے سے ایک کمرے میں جا کر چارپائی پر بیٹھ گئی. ایسا لگرها تھا جیسے میں اڈكر یہاں پهوچي ہوں. کچھ ہی دیر کے بعد بابا کمرے میں آکر میرے سامنے کھڑے ہو کر بولے --- تو تو راضی ہو گئی ....... پھر بھی اب بھی تجھے لگتا ہے کہ میں کوئی زبردستی کر رہا ہوں تو تم واپس جا سکتی ہے. كيوك اگر تو نے دل سے میرا ساتھ نہیں دیا تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا ... تیری قربانی بھی بیکار جائے گی. بتا تو دل سے تیار ہے نہ جی بابا جی میں نے کافی سوچ سمجھ کر آئی ہوں. میں نے جواب دیا. بابا نے دروازہ اندر سے بند کرنے کے بعد زمین پر ایک چٹائی بچھائی اور میرے سے مواد کا بیگ لے کر ایک ایک کر مواد زمین پر سجانے لگا. مجھے یہ کہہ کر کہ سارے کپڑے اتار کر زمین پر بیٹھوں، بابا دوسرے کمرے میں شامل چلا گیا. میں نے پھٹاپھٹ اپنے کپڑے اتار کر چارپائی پر رکھے اور زمین پر اپنی عزت (چوت) کو ایڈی اور ہتھیلی سے ڈھک کر بیٹھی ہی تھی کہ بابا ہاتھ میں ایک کٹوری میں شامل دودھ اور دوسرے ہاتھ میں ایک کاغذ کی پڈيا لے کر کمرے میں شامل آیا. میرے ٹھیک سامنے بیٹھنے کے بعد بابا نے اپنی آںکھے بند کی اور کچھ دیر تک منتر پڑھنے کے بعد اٹھ کر پھر سے دوسرے کمرے سے ایک لوہے کی كرچھي جیسی چیز لے کر آیا جس میں لکڑی کا برادہ جیسا کچھ رکھا تھا. ایک نیبو لے کر اس کے اوپر تین لونگ کو گاڈا پھر منتر پڑھتے-پڑھتے ہاتھ سے مجھے کھڑا ہونے کا اشارہ کیا. بابا نے اب كرچھي رکھے برادے پر آگ لگائی اور مجھے ٹاںگے پھیلانے کو کہا. جب كرچھي کی آگ بجھ گئی تب بابا كرچھي ٹھیک میری چوت کے نیچے لایا اور اس میں ایک لونگ اور کچھ دانے سرسوں کے ڈالے جس سے اس کا دھوا نکلنے لگا. اس کے بعد بابا میری چوت کی طرف اشارہ کرکے بولا - اس کو اپنے دونوں ہاتھوں سے چوڈا کرو. میرا ایسا کرنے کے بعد بابا نے كرچھي میں شامل رکھی راکھ پر ایک اور لونگ، کچھ سرسوں کے دانے اور پڈيا سے سیاہ پاؤڈر کی ایک چوٹکی ڈال کر چوت کے نیچے بہت قریب لے کر آیا. اس بار عجیب سی گندھ نکل رہی تھی. چوت کے اندر کھجلی سی مچنے لگی تھی. یہ فعل کرنے کے بعد بابا نے مجھے چٹائی کے اوپر پیٹھ کے بل لٹايا، میری ٹاںگے چوڈي کر میری چوت کے اوپر نیبو رکھ کر اس پر چاقو سے چيرے لگائے اور نچوڈا. نیبو کا میری چوت میں شامل لگتے ہی چرمراهٹ مچنے لگی. میں نے کھجانے کے لئے اپنا ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ بابا نے روک کر کہا --- جب تک میں نہ بولوں اس پر ہاتھ مت لگانا. کھجلی اور چرمراهٹ کی وجہ سے میں زمین پر اپنے چوتڈ رگڈكر پرسکون کرنے کی كوشس کرنے لگی. بابا نے اب مجھے وہیں چٹائی پر بٹھایا اور اپنے جسم پر لپیٹ سفید لںگی نما کپڑے کو ہٹا کر ننگا میرے سامنے بیٹھا اور دودھ کا کٹورا اپنے مرجھاے لنڈ کو اس میں ایک بار ڈباكر کٹورا نیچے رکھ کر بولا --- میرے منتر پڑھتے وقت جب میں ہاتھ سے اشارہ کروں، اپنی انگليو سے دودھ کے چہیتے اس پر مارنا اور آنکھیں بند کر وہ منہ کے اندر ہی منتر پھسپھسانے لگا. ادھر میں نے اس کے ہر اشارے پر میں نے اس کے لنڈ پر دودھ کے چہیتے مارتی رہی دوسری طرف میری چوت کے اندر اور باہر برداست کے باہر زبردست کھجلی اور چرمراهٹ مچنے لگی. آہستہ آہستہ اس کے لنڈ میں شامل کشیدگی آنے لگا. قریب آدھے گھنٹے تک یہ سلسلہ جاری رہا. کٹوری میں شامل تھوڈا ہی دودھ بچا تھا کہ بابا نے آنکھیں کھولی اور بولا اب تو كھجانا چاہے تو کر لے. میرا ہاتھ بجلی کی طرح چوت پر گیا اور کھجانے لگی. بابا میری بغل میں شامل آکر بیٹھا، مجھے اپنی گودی میں لٹاكر مجھے چومنے لگا، میری چھاتیوں کو مسلنے لگا. اس کی آنکھیں سرخ ہو گئی، وہ وهسي جیسی حرکتیں کرنے لگا، کبھی مجھے زور سے اپنی چھاتی سے چپكاتا، کبھی پوری قوت سے میری چھاتی بھيچتا، میری آنکھوں میں جھانک کر مسکراتا اور هوهوهو ....... کرتے ہوئے میرے ہوںٹھوں کو چومتا. ایک جھٹکے میں شامل بابا نے مجھے چٹائی کے اوپر چت کر لٹايا، دونوں نیبو اٹھا کر چوت کے چھید پر رکھ کر منتروں کے ساتھ ساتھ گھماتا رہا. بھےن چود .... سالی رنڈی ... تیری ماں کا بھوشڑا مارو ........... کہتے ہوئے بابا نے میری جاںگھوں کو اپنی باہوں میں پھنسا کر اپنا تمتمايا لںڈ میری چوت پر رکھتے ہی اتنی زور کا دھکا مارا کہ میں تقریبا آدھا فٹ پیچھے کھسک گئی. اس نے میری جاںگھو کو پکڑ کر ایک بار زور سے اپنی طرف کھینچا اور پہلے کی طرح رکھتے ہی میرے کندھے پكڈكر کرارا دھکا مارا. وہ کسی پاگل کی طرح زور زور سے مسلسل دھکے مارنے لگا بابا نے مجھے پوچھا ....... کچھ درد ..... یا مزہ .... یا کچھ ہو رہا ہے. مجھے صرف اتنا ہی مهشوس ہو رہا تھا کہ میری چوت میں کچھ اندر باہر آ جا رہا ہے ... نہ کوئی درد اور نہ ہی کوئی مزا آ رہا تھا. یہی بات میں نے بابا کو بتائی. بابا نے میرے اوپر سے اترکر ایک بار پھر سے دونوں نیبو اٹھا کر ان پر ایک ایک لونگ اور گھساكر ان کو ماچيس کی تيلي سے جلا کر منتروں کے ساتھ میری چوت کے اوپر کافی دیر تک گھماتا رہا. پھر سیاہ دھاگے اٹھا کر اسپر منتر پڑھتے-پڑھتے کچھ گاٹھے مار کر میری کمر میں بادھنے کے بعد میری چوت کو مسلتے ہوئے پوچھا ... اب کچھ فرق پڑا ....؟ هوووو ...... بابا --- هووو کیا ہوتا ہے ....؟ میرا مطلب درد ہو رہا ہے یا اچھا لگ رہا ہے ...؟ اچھا چل اب آئے گا چودنے کا مزہ كگتے ہوئے بابا میرے اوپر آیا اور پہلے کی ہی طرح ٹكاتے ہی زور کا دھکا مارتے ہی مے ايييي ماااااا چلا پڑی .... اس بار زور کا درد ہوا تھا. بابا نے میری ٹانگوں کو چوڑا کر آہستہ آہستہ چودتے ہوئے جو سپیڈ پکڑی، پٹھا سانس لینا ہی بھول گیا تھا. ایک بار تو وہ عالم آیا کہ ایک ساتھ نیچے سے میں زور سے اچھلتی اور اوپر سے وہ کس کے دھاككا مارنے لگا اور اسی وقت وہ شاباس ... ایسے ہی، شاباس ایسے ہی ..... بڈبڈانے لگا. میں جھڈ چکی تھی .... لیکن وہ نانسٹاپ لگا رہا. کچھ دیر کے بعد بابا اپنے دونوں ہاتھ میرے چوتڑوں کے نیچے لے گیا اور ایک بار پھر سے چالو ہو گیا، ایسا کرنے سے اس کا پورا کا پورا لنڈ میری چوت میں شامل سما رہا تھا. آہستہ آہستہ مجھے پھر سے مزا آنے لگا. کسی کسی دھکے میں تو غضب کا ہی مزا آ رہا تھا. میرے ہاتھ خود بخود اس کی کمر پر چلے گئے اور جب بھی مزا آتا میرے ہاتھ اس کی کمر کو جکڑ لیتے. بابا پسینے سے تربتر ہو گیا تھا اور اس کے پسینے سے میرا پیٹ بھی. جیسے جیسے دھکے پڑتے ویسے ویسے مختلف اواجے نکلنے لگی. کبھی لنڈ کے اندر باہر آنے جانے کی، کبھی نابھي کے نیچے کے حصہ کے ٹکرانے کی تو کبھی پسینے سے بھری نابھي پر اس کے پیٹ کے چپکنے اور چھوٹنے کی میں شامل بابا کی ه ..... اور میری ssssss. میں تو اب بھول ہی گئی تھی کہ میں کہاں ہوں .... اور کس کے نیچے ہوں ....... اس کی کمر کو جكڑتے ہوئے بار بار sssss يييي ... اس کو پوری قوت سے بھيچتے ہوئے نیچے سے جور کا دھکا مارتے ہوئے ........ هااااا جورررر سے ........ اوووووووووو اوررررر ...... او ماااااا کے ساتھ پرسکون ہو گئی. دس بارہ دھکوں کے بعد بابا بھی میرے اوپر نڈھال ہو گیا کچھ سےكےڈ کے بعد بابا یہ بول کر کہ چوتڑ اٹھاکر رکھنا ... مال باہر نہ نکلے .... میرے اوپر سے اترا اور تھوڑی دور رکھے دودھ کے پیالے کو خالی کر میری گاںڈ کے نیچے رکھنے کے بعد بولا سارا پانی اسمے نکالنا. کٹورا پکڑکر میں دھیرے سے اٹھ کر پنجوں کے بل بیٹھی اور زور لگا کر سارا پانی (اپنے اور بابا کا ویرے) کٹوری میں نکالا. بابا اتنی دیر میں ایک اجےكسن کی ربڑ کے ڈھکن والی شيسي لے کر آیا اور مجھے دونوں کے ویرے کو شيسي میں بھرنے کو کہا. اس کے کہنے پر میں باتھروم سے اپنے آپ کو صاف کر کمرے میں آئی اور اپنے کپڑے پہن کر تیار ہو گئی. بابا نے بھی اپنی سفید لںگی پہنی اور کہا کہ شيسي میں شامل رکھے پانی (منی) کو کسی بھی طرح میں اپنے پتی کے لنڈ پر لگاو لیکن ان کو پتہ نہیں چلنا چاہئے، یہ بھی کہا کہ میں آج ہی اپنے پتی کے ساتھ جماع کرنے کی كوشس کروں کسی بھی حالت میں. میرے ہاتھ میں دونوں نیبو رکھ کر بولا ---- ایک نیبو جاتے ہوئے کسی چوراہے یا تراهے پر چلتے چلتے چھوڑ دینا، اس کے بعد پیچھے مڑ کر مت دیکھنا اور دوسرا نیبو کے گھر کے باہر (آگے یا پیچھے) اندھیرا ہونے پر زمین میں شامل گاڑ دینا. ایک ہفتے میں تیرا سب کچھ ٹھیک ہو گیا تو اپنے بھاگے بیٹے کا کوئی بھی ایک بار پہنا ہوا كپڈا لے کر میرے پاس آنا اگر بغیر دھلا ہو تو اور بھی اچھا رہے گا. اور ایک بات، تیرے جیسی کوئی اور ہو جس کو کوئی بھی مسئلہ ہو تو میرے پاس بھیجنا لیکن جو میں نے اب تیرے ساتھ کیا، اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتانا بابا کے حکم کے مطابق ایک نیبو میں نے چلتے چلتے راستے میں تعلق پر چھوڑا اور دوسرا گھر کے پچھواڈے گملے میں رکھا اور ویرے کی شيسي بیڈ پر گددے کے نیچے چھپا کر رکھ دی. موقع دیکھ کر اندھیرے میں میں نے نیبو گملے سے نکال کر كياري میں شامل گاڑ دیا. اب میرے دماغ میں شامل یہ اتھل پتھل چل رہی تھی کہ کس طرح آپ کے پتی چدائی کے لیے تیار کروں پھر بابا اور میرے ویرے کو ان لنڈ پر کیسے لگاو ...؟ کھانا کھاتے کھاتے میں نے ان کو جماع کے لئے اكسانا چالو کر دیا. سارے وقت ان کے سامنے بلاج اور پےٹكوٹ میں گھومتی رہی ..... جان بوجھ کر آتے جاتے کبھی پےٹكوٹ گھٹنوں سے اوپر سركاكر جاںگھوں کو کھجاتی تو کبھی پےٹكوٹ کے اوپر سے ہی چوت کو رگڑتي ..... اس طرح آخر کار میں نے ان کی جناسا کو بھڈكانے میں کامیاب ہو ہی گئی. باتوں ہی باتوں مے مینے ان سے request کی کہ آج اندھیرے میں شامل کرتیں ہیں (تاکہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکوں). اور بستر پر لےٹنے پر میں نے ان کو دوسرے کمرے سے ڈریسنگ پر رکھی تیل کی بوتل لانے کے لئے بھیجا، موقع لگتے ہی میں نے بابا اور میرے ویرے کی بھری شيسي کا ڈھکن کھول کر آدھی شيسي اپنی چوت میں شامل گھسےڑي، شيسي کو الٹاكر سارا ویرے چوت میں خالی کر چوت کو بھینچ لیا اور شيسي کو واپس اسی جگہ چھپا دیا. ان بستر پر آنے کے بعد اندھیرے مے مینے ان سے تیل کی بوتل مانگی اور تھوڑا سا تیل نکال کر اپنی چوت پر اور کچھ ان کے لنڈ پر لگایا تاكي ان کو میری ویرے سے بھری چوت کا پتہ نہ چلے. ان لنڈ کو سہلاتے-سہلاتے میں نے ان سے کہا کہ آج میرا بہت دل کر رہا ہے ...... کیسے بھی کرکے كرلو نہ ....... اوپر آتے ہی میں نے ایک ہتھ سے ان کے آدھے تنے آدھے مرجھاے لنڈ کو پکڑ کر اپنی چوت پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اپنی چوت کی دونوں لپس کو پھیلا کر نیچے سے اچھلي ..... لنڈ کا سرا ہی اندر گھسا تھا کہ میں نے ڈرامہ کرتے ہوئے اوپر کو چپكتے ہوئے کہا کہ میرا ہو گیا (مطلب میں جھڑ گئی). چوت میں شامل بھرا ویرے باہر نکلنے لگا اور ساتھ ہی ساتھ ان کا لنڈ بھی باہر فسل گیا. پھر مینے ان کو بغل میں شامل لٹايا اور چوت میں شامل باقی ویرے سے اپنی انگلیوں کو گیلا کیا اور ان کے لنڈ پر ملكر ان کی مٹھی مارنے لگی اور اس طرح مے اپنے اور بابا کے مکس ویرے کو اپنے پتی کے لنڈ پر لگانے میں شامل کامیاب ہو پائی. کافی مسككت کرنے کے بعد اس رات میرے پتی میری چوت میں شامل لنڈ ڈال ہی پائے تھے کہ جھڑ گئے لیکن تیسرے دن مجھے کچھ حد تک مزا دے سکے. بابا کے کرم كاڈ سے بہت فرق پڑ گیا تھا! اس کے اگلے ہفتے میں اپنے بیٹے کی ایک نےكر (half pant) لے کر بابا کے پاس گئی، بابا نے نےكر پر کچھ منتر پڑھے اور بولا ---- وہ (میرا بیٹا) جادا دور نہیں ہے ... کہیں ہوٹل میں شامل کام کر رہا ہے میرے آنکھوں میں شامل آنسو آ گئے. بابا نے مجھے ٹھنڈا کرتے ہوئے کہا کہ تھوڑا وقت لگے گا لیکن وہ گھر ضرور آ جائے گا لیکن میری وہی ایک شرط ہے ایک بار پھر سے تجھے میرے ساتھ جماع کرنا پڑے گا پر ..... اس بار تیرے گھر میں ...... . میں نے ٹوكتے ہوئے بتایا کہ یہ نہیں ہو سکتا، میں سرکاری مکان میں شامل رہتی ہوں وہاں کوئی نہ کوئی آپ کو آتے جاتے دیکھ لے گا تو اس نے کہا - یہ تیری (یعنی میری) سردردي ہے، کیسے ہونا ہے، کب ہونا ہے تو جان، اس کے بعد ہی میں تیرے بیٹے کو واپس لانے کا کام شروع کروں گا. میرے بہت کہنے پر بھی وہ نہیں مانا اور میں اس سے کچھ وقت ماگكر گھر آ گئی. تقریبا تین ہفتے کے بعد میرے پتی کو کسی کی مرتيو پر دو دن کے لئے ہردوار جانا پڑ گیا سو بابا سے مل کر ایک مکمل رات کا پروگرام بن گیا. جس شبه میرے پتی ہردوار کے لئے نکلے اسی رات نو بجے کے آس پاس بابا میرے گھر کے پیچھے کے دروازے سے اندر آیا. رات دس بجے سے شبه چار بجے تک بابا نے تین بار جم کر چودا ....... سچ میں میری ساری پیاس بجھ گئی تھی. اس رات بابا نے بتایا کہ اس کو یاد بھی نہیں ہے کہ اب تک وہ کتنی عورتوں کو چود چکا ہے لیکن جس کو بھی چودا اس کی پریشانی کو بھی ہمیشہ کے لئے دور بھی کیا. جاتے وقت بابا یہ بول کر گیا کہ جس دن تیرا بیٹا گھر آئے گا ایک ہفتے کے اندر اسے میرے دربار میں شامل ضرور لے کر آنا اور ہاں اس کے بعد تو بھول جانا کہ ہم دونوں کے درمیان کیا کیا ہوا. ہم دونوں ایک دوسرے کو نہیں جانتے سمجھی. کوئی اور تیری جیسی سندر مورت کسی پریشانی میں ہو تو میرے پاس ضرور بھیج دینا قریب دو یا ڈھائی ماہ کے بعد ایک دن میرا بیٹا گھر لوٹ آیا. پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ رڑكي میں شامل کسی ہوٹل میں شامل کام کر رہا تھا. پہلے تو میں اس سے چپككر خوب روئی پھر ڈانٹا بھی. خیر میرے تمام دكھ ساری پریشانی دور ہو گئی، بیٹا گھر واپس آیا، میرے پتی کی شاراب چھوٹ گئی اور گھر بھی سنبھل گئی. وعدے کے مطابق ایک دن میں اپنے بیٹے کو لے کر بابا کے پاس گئی. بابا نے اس کو برکت اور ایک تابیج باناكر اس کے گلے میں شامل باندھا. اس کے بعد میں اس بابا کے پاس کبھی نہیں گئی لیکن میں اب بھی سوچتی ہوں کہ کیا میں نے بابا کو اپنی عزت بیچ کر اپنے خاندان کو سبھالكر نیک کام کیا یا اپنے پتی سے دھوکہ کیا، کبھی پہلی بات درست لگتی ہے لیکن دوسرے ہی پل دوسری بات صحیح لگتی ہے. کیا تنتر ودھيا میں لفظی اتنی شكتي ہوتی ہے .......... میرے تجربے سے تو جی ہاں ہوتی ہے

Posted on: 04:59:AM 14-Dec-2020


1 0 151 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com