Stories


مہرین کی چدائی از ٹائیگر

دروازے پہ ہلکی سی دستک ہوئی تو مہرین نے لپک کر دروازا کھول دیا۔سردیوں کے دن تھے اور آنے والے نے خود کو ایک بڑی سی سرمئی رنگ کی چادر میں لپیٹا ہوا تھا۔مہرین نے جلدی سے دروازے کو کنڈی لگا دی۔اجنبی نے اس کا ہاتھ پکڑا اور دونوں مہرین کے کمرے کی جانب چل پڑے۔ اتنی دیر کیوں لگا دی زیشان۔کمرے میں پہنچ کر مہرین شکایت بھرے لہجے میں بولی۔ کب سے آپ کے انتظار میں سوکھ رہی ہوں۔اس نے شانی کے چوڑے سینے پہ مکا رسید کرتے ہوئے کہا۔اہو جان دفتر کا کچھ کام تھا اس لئے دیر ہو گئی۔ شانی نے اسے اپنے پاس بیڈ پہ کھینچتے ہوئے کہا۔مجھ سے زیادہ امپورٹنٹ تو آپ کے کام ہیں۔ گھر میں بھی آپکو دفتر کے کاموں کی پڑی رہتی ہے۔ وہ بدستور روٹھے ہوئے لہجے میں بولی۔ آئم سوری نہ جان۔ شانی اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولا۔خالہ اور کنول کب تک آئیں گیں۔وہ اس کےسلکی سیاہ بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوے بولا۔ابھی تو 11:30 ہوئے ہیں اور میرا نہیں خیال کے 3 بجے سےپہلے وہ آئیں گی۔ اوکے۔شانی ہنوز اس کے بالوں میں اپنے ہاتھو ں کی کنگی کرتے ہوئے بولا۔ شانی مہرین کی خالہ کا بیٹا تھا۔ مہرین شانی کی بچپن سے ہی دیوانی تھی۔ اسکی محبت میں اپنا سب کچھ اسے سونپ دیا ۔ کچھ سال پہلے شانی کی ایک اچھی فرم میں ملازمت ہو گئی تھی۔دن رات کی محنت کے بعد بالآخر وہ مینیجر بن گیا تھا۔مہرین کو پڑھنے لکھنے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ واجبی سی تعلیم کے بعد اس کی توجہ خانہ داری کی طرف ہی تھی۔اسکی بڑی بہن کنول ایک نجی یونیورسٹی میں پروفیسر تھی۔لیکن کنول کے مقابلے میں مہرین بلا کی خوبصورت تھی۔غضب کا گورا رنگ اور تیکھے نین نقش نے اسے ایک چلتی پھرتی قیامت بنا دیا تھا۔ آج مہرین کے ماموں زاد کی مہندی تھی جس میں کنول کی امی اور بڑی بہن دونوں گیہں ہو تھیں۔ زیشان کا سارا خاندان بھی وہی تھا۔اسکے ساتھ مہرین کے ابا جو دبئی میں ہوتے تھے وہ بھی صبح تک پہنچنے والے تھے۔ایسے میں دونوں لیلیٰ مجنوں نے ادھر نہ جا نے کے لئے مختلف بہانے بنا کر ایک موقع بنایا تھا تاکہ اس رات کو رنگین بنایا جا سکے۔ان دونوں کا تعلق ابھی تک پورے خاندان سے مخفی تھا۔حتیٰ کہ کنول بھی اس طوطا مینا کی رام کہانی سے نا آشنا تھی۔عشق اور مشق چھپائے نہ چھپے والی مثل کو ان دونوں نے غلط ثابت کیا ہوا تھا۔ مہرین نے اس وقت گلابی قمیض اور سفید شلوار پہن رکھی تھی۔ایک بڑی سی سیاہ چادر میں اسنے اپنے پریپکر وجودکو سمیٹا ہوا تھا۔ہلکے میک اپ میں اس کادمکتا چہرہ بہت بھلا لگ رہا تھا۔ شانی نے اسکو اپنے ساتھ لپٹااس کے گھنے بالوں میں ہاتھوں کی کنگی کر رہا تھا۔اس کے جسم سے بھینی بھینی خوشبو اُٹھ رہی تھی۔مہرین کی گدازجسم کی قربت ایسی تھی کہ شانی پگھل کر رہ جاتا تھا۔شانی کا لن اس وقت پوری طرح سے تنا ہوا تھا۔اس نے آئیستگی سے مہرین کے کان کی نرم لو کو اپنے منہ میں بھر لیا۔آہہہ۔مہرین سسک اٹھی۔ اور اپنے بانہیں شانی کے گلے میں ڈال کر اپنا سارا وزن اس پہ منتقل کر دیا۔شانی نےجوش سے اس کو خوش آمدید کہا۔شانی نے اسکے سلکی بالوں کو اپنے ہاتھوں سے پیچھے ہٹایا اور اس کے کمان کی طرح ترچھے لبوں کو اپنے ہونٹوں میں مقید کر لیا۔امممم۔ام ام۔دونوں کی لذت بھری سسکاریاں ایک دوسرے کے منہ میں ہی دم توڑ گئیں۔مہرین کی خوشبو دا ر سانسیں شانی کے وجود میں جھرجھریاں پھیلا رہی تھیں۔وہ مدہوش ہوتا اسکے لبوں کو چوسے جا رہا تھا۔ مہرین کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا۔شانی کے وجود کی قربت سے وہ نہال ہو رہی تھی۔فرطِ جذبات سے اس کا وجود ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔اتنی جاندار چسائی سے مہرین کا سانس پھول گیا۔اس یکدم اپنے ہونٹوں کو شانی کی گرفت سے آزاد کروایا اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔شانی کی بھی بس ہو چکی تھی۔اس کا لن انگڑائیوں پہ انگڑائیاں لے رہا تھا۔اس نے ایک جھٹکے سےمہرین کی چارد کھینچ لی۔ مہرین کا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا۔شانی نے اسے بیڈ پہ گرایا اور اس کی بڑی بڑی چھاتیوں کو قمیص کے اوپر سے ہی زور زور سے مسلنے لگا۔آہہہہ۔۔مہرین لذت سے کراہنے لگی۔اس کی پھدی میں ایک اندیکھی آگ لگ چکی تھی۔ادھر شانی کا لن بھی بیقرار کی حدود پار کر چکا تھا۔ اس نے بیغیر کسی تامل کے مہرین کی شلوار گھٹنوں تک نیچے کر دی اور تیزی سے اپنا ٹراؤزر نیچے کر دیا۔اس کا پھڑپھڑاتا لن باہر نکلا تو مہرین کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔اس نے بڑی بیدردی سے اپنے نچلے ہونٹ کو اپنے دانتوں میں کچل دیا۔شانی نے مہرین کی ٹانگیں اُٹھا دیں۔ تو اس کی نگاہیں مہرین کی دمکتی پھدی پہ پڑ کے خیزہ ہو گئیں۔ مہرین نے بری نفاست سے پھدی کے بالوں کو صاف کیا ہو ا تھا۔پھدی کی سطح خاصی اُبھری ہوئی اور درمیانے سائز کی تھی۔بھورے رنگ کی شبابی آب سے بھیگی اس پھدی کی کی ایسی کشش تھی کہ شانی کوئی موقع اس کی سیر کرنے کا جانے نہ دیتا تھا۔اس نے مہرین کی ٹانگوں کو مور کے اسکی چھاتیوں تک لگایا۔اس پوزیشن میں مہرین کی ابھری ہوئی پھدی مزید ابھر کر سامنے آ گئی۔زیشان نے اپنا منہ اسکی پھدی کے قریب کیا اور بہت سارا تھوک کر اپنے ہاتھ سے مسل دیا۔پھر اپنے لن کو بھی تھوک سے لتھیڑا اور ایک ہی جھٹکے میں اپنا لن مہرین کی پھدی میں گھسا دیا۔لن کے لئے یہ کویہ نیا راستہ نہئں تھا۔وہ اس ماہ رخ کے سر سبز باغ کی بہت دفعہ سیر کر چکا تھا۔ زیشان اس کے جھٹکے بہت تیز تھے۔اس کا لن تیزی سے مہرین کی پھدی کی دیواریں چیرتا ہوا اندر باہر ہو رہا تھا۔پچ پچ کی اور مہرین کے منہ سے نکلنے والی آوازوں سے کمرے کی ہر چیز مستی میں آ گئی تھی۔ ایسا لگ تہا تھا جیسے دنیا کا ہر زرہ اپنے مخالف جنس سے پیار و محبت کی داستان رقم کر رہا ہو۔زیشان کے تابڑ توڑ جھٹکوں سے مہرین کی پھدی نے اپنا آب شباب باہر کو انڈیل دیا تھا۔زیشان بھی چھوٹنے کے قریب تھا۔ چند مزید جھٹکوں میں اس کا لن مہرین کی پھدی میں ہی پچکاریاں چھوڑنے لگا۔وہ زور زور سے آہ آہ کر رہا تھا۔جب آخری قطرہ تک کل گیا تو وہ ایک سائیڈ پہ ڈھے گیا۔مہرین نےاُٹھ کر شلوار اوپر کی اور اس کے سر کو اپنی گود میں لے کر پیا ر سے سہلانا شروع کر دیا۔ جان۔اس نے پیار سے زیشان کو پکارتے ہوئے کہا۔ ام۔وہ ہنور آنکھیں بند کئے ہوئے بولا۔ جان کب آپ خالہ کو بھیجیں گے۔کب تک ہم یوں اس طرح چھپ چھپ کے ملتے رہیں گے۔وہ روہانسی ہو کر بولی۔دیکھو مجھ پہ رحم کرو میں اب ایک پل نہئں تمہارے بنا رہ پاتی۔ کیوں آپ ایسا کر رہے ہیں۔وہ تقریبن رو دینے والی ہو گئی تھی۔ زیشان نے اسکا سر نیچے جھکایا اور پیار سے اس کے ہونٹوں کو چوم لیا۔ وہ سٹپٹا گئی۔ جانم ۔اب تمہارا انتظار ختم سمجھو۔جلد ہی میں کوئی مناسب موقع دیکھ کر اماں جان کو آپ کی طرف بھیج دوں گا۔ وہ پر سوچ لہجے میں بولا۔ نا جانے وہ موقع کب آئیگا ۔وہ جھلاتے ہوئے بولی۔ جلد آئیگا میری جان۔ شانی مسکراتے ہوئے اس کے گال پہ چٹکی کاٹتے ہوئے بولا۔ مذاق نا کریں شانی۔وہ اسکا ہاتھ اپنے گال پر سے ہٹا کر سنجیدگی سے بولی۔ میری جان پہ بنی ہوئی ہے اور آپ کو مذاق سوجھ رہا ہے۔ تمہاری قسم جان ۔میں اب جلد ہی اماں کو تمہاری طرف بھیجوں گا۔ وہ سنجیدگی سے بولا تو وہ مسکر دی اور اس کے ہاتھ کو پیار سے چوم لیا۔ مزید کچھ دیر پیار بھری باتوں کے بعد شانی جانے لگا۔وہ گھر کے دروازے پہ آئی اور ایک نظر گلی میں دوڑائی۔گلی میں میں کوئی بھی نہیں تھا۔اس نے دروازا کھول دیا۔جاتے ہوئے شانی نے پیار کرنا چاہا مگر مہرین نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔ بچھڑتے ہوئے پیار نہیں کرتے پاگل۔وہ اداس مسکرہٹ کے ساتھ بولی۔ ٹیبلٹ لازمی کھا لینا جان۔وہ جاتے ہوئے اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ ہاں ہاں۔اس بات کی تم فکر نہ کرو۔وہ گھمبیر لہجے میں بولی۔اس نے ایک الوداعی نظر مہرین پہ ڈالی اور اپنے گھر کی جانب چل دیا جو دوسری گلی میں تھا۔ @@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@ کل کا دن مہرین کے لئے بہت مصروفیت کا تھا۔اس کے ابا دبئی سے واپس آئے تو گھر میں رونق لگ گئی۔ہر کوئی ان سے ملنے آ رہا تھا۔پھر بارات اور اگلے دن ولیمہ کی تقریبات میں وہ مصروف ہی رہی۔اس دوران زیشان سے دو بار ملاقات ہوئی جو صرف صلام دعا تک ہی محدود رہی۔اگلے دن وہ بازار سے کچھ شاپنگ کر کے لوٹی تو زیشان کے ابو کی گاڑی زن کر کے اس کے پاس سے گزر گئی۔ وہ الجھتی ہوئی گھرمیں داخل ہوئی تو اس کی بڑی بہن دوڑتی ہوئی آئی اور زور سے اس سے چمٹ گئی۔ او او مہر۔تو کہاں چلی گئی تھی۔جذبات سے اسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔تیرا فون بھی مسلسل بند جا رہا تھا۔وہ ہانپتے ہوئے بولی۔ آخر ہو ا کیا ہے کچھ بتاؤ تو سہی۔ مہرین الجھے لہجے میں بولی۔ یہ دیکھو۔ کنول اپنی انگلی دکھاتے ہوئے بولی جس میں ایک بہت خوبصورت انگوٹھی تھی۔ کک کیا ہے یہ۔ اینی گیس؟؟ وہ بولی۔ نن نیئں۔ مہرین نے کہا۔ آج سے میں مسز ذیشان ہوں۔ کنول نے فخریہ لہجے میں کہا۔ ابھی خالو اور خالہ آئے تھے۔ابا نے کل جانا تھا تو انھوں نے آج ہی منگنی کر دی۔چھ ماہ بعد شادی ہو جا ئے گی۔کنول بولتی ہی گئی۔مگر مہرین کچھ نہ سن رہئ تھی۔اس کے ذہن میں دھماکے ہو رہے تھے۔اسے اپنی سماعت پہ یقین نہیں آ رہا تھا۔تو چل اپنے کمرے میں میں تیرے لئے چائے بنا کر لاتی ہوں۔کنول نے خوشی سے بلکتے ہوئےکہا۔اور کچن کی جانب بھاگ گئی۔ مہرین خالی الزہن اپنے کمرے میں گئی اور بستر میں منہ چھپائے سسک سسک کے رونے لگی۔اپنے وجود پہ گزرنے والی قیامت وہ سہہ نہ پا رہی تھی۔ اس کے ارمان اس طرح پاش پاش ہو جایئں گے اس نے کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا۔ ذیشان۔بولو کب میں نے اپنی ذات سے بڑھ کر تمہیں نہیں چاہا۔ بولو ذیشان ۔میری محبت میں کیا کمی رہ گئی۔ جواب دو۔ وہ سسک اٗٹھی۔ آنسو متواتر اسکی آنکھوں سے امڈتے چلے آ رہے تھے۔ اچانک اسے کنول کی آواز سنائی دی تو وہ واش روم کی جانب بھاگ گئی۔ اپنا شکستہ اور ٹوٹا وجود وہ اپنی پیاری بہن کو کبھی بھی نہیں دکھانا چاہتی تھی۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ آج وہ اپنے سوالوں کے جواب لینے اس بیوفا کے گھر جا رہئ تھی۔ وہ محبت کی عدالت میں اپنے ساتھ ہوئے ظلم کا انصاف چاہتی تھی۔ اپنے محبوب کے گھر سامنے وہ رک گئی۔ ایک لمحے کے لئے اس کا دل بھر آیا۔ مگر اس نے خود کو سنبھال لیا۔ گھر کا دروازا کھلا ہوا تھا۔ وہ آئیستگی سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی زیشان کے کمرے میں کے پاس آ کر رک گئی۔ کمرے سے بہت ساری آوازیں گونج رہی تھیں۔ بھیا۔آپ کو کنول سے نہیں۔مہرین آپی سے شادی کرنے چاہیے۔زیشان کی چھوٹی بہن زروش بولی۔ وہ بہت پیاری ہیں۔ آپ کے ساتھ وہ بہت جچتی ہیں بھیا۔ چپ کر ری۔اب کی بار خالہ کی آواز ابھری۔ اس جاہل گنوار سے کیوں کرے گا میرا بیٹا شادی۔کیا اس کے لئے اتنا پڑھایا لکھایا ہے۔ کنول اتنی پڑھی لکھی اور اور ملازمت والی۔ ساری زندگی میرا بیٹا عیش کرے گا۔اس مہرین سے شادی کر کے کیا مل جانا تھا۔الٹا جنجال گلے پڑ جاتا۔ مہرین کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔ "میرے بیٹے نے ٹھیک فیصلہ کیا ہے"۔یہ آخری جملہ اس کی سماعت پہ بم بن کر گرا۔ اس یوں لگا جیسے اس کے جسم سے جان نکل گئی ہو۔وہ بت بنی کھڑی رہ گئی۔ مما یہ تو بچی ہے ابھی۔اس سے کیوں الجھ رہی ہیں آپ۔ ذیشان ہنستے ہوئے بولا۔ ہنہ۔سب کی اماں بنی ہوئی ہے یہ۔وہ زروش کو ڈانٹنے ہوئے بولیں۔(یہاں وجہ ایک تو اوپر آپ چکے ہیں دوسری آپ سب جانتے ہیں مردوں کا زہن کہ جس سے سیکس کرنا ہے شادی اس سے نہیں کرنا کیونکہ وہ دو نمبر لڑکی ہے اب کنول پہلے سے چدی ہوئی ہے یا نہیں یہ تو سہاگ رات کو وقت ہی بتائے گا) مہرین کی آنکھوں سے آنسوؤں کے دو قطرے چھلک کہ بہہ گئے۔اور اپنے ساتھ ساری امیدیں بھی بہا لے گئے۔ وہ بمشکل پلٹی اور لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے گھر کی جانب ہو لئی۔ ابھی اسے اپنی بہن کی شادی کی تیاریاں بھی کرنا تھیں۔

Posted on: 05:05:AM 14-Dec-2020


0 0 176 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 1 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com