Stories


کھیت میں از رابعہ رابعہ 338

میں شمالی بھارت میں ایک زمیندار خاندان کا ہوں. ہماری بہت بڑی کھیتی ہے. ہمارے خاندان میں تمام مرد اور عورتیں اچھے اونچے پورے ہیں. ہمارے خاندان میں میری ماں، ماماجي، میں اور میری چھوٹی بہن پریٹی ہے. والد صاحب بچپن میں ہی گزر گئے تھے، اس کے بعد سے ہم لوگ ماماجي کے ساتھ رہتے ہیں. ماماجي بھی اکیلے ہیں، شادی نہیں کی. گھر کے کام کے علاوہ میری ماں کھیتوں میں بھی کام کرتی ہے اس لئے اس کا جسم بڑا تندرست اور گٹھا ہوا ہے. اس کا اچھا کسا ہوا پیٹ ہے، لمبی لمبی مضبوط ٹاںگیں ہیں اور بڑے بڑے چوڑے ہپ ہیں. ممے تو اچھے بھراودار اور موٹے ہیں. جب میں نے اماں کے سجيلے بدن کو ایک مرد کی نگاہ سے دیکھنا شروع کیا تب میں انیس برس کا تھا. اپنی ماں کو میں بہت محبت کرتا تھا اور اس کے طور کو اپنی رانوں اور باںہوں میں بھر لینا چاہتا تھا. ہمارا گھر کھیتوں کے درمیان تھا اور چاروں طرف اونچی ديوالے تھیں جس سے کوئی اندر نہ دیکھ سکے. اس لئے ماں اور پریٹی گرمی کے موسم میں زیادہ کپڑے پہنے بغیر ہی گھومتي تھیں. باریک کپڑے پہن کر دونوں بغیر برےسير یا جاگھيے کے ہی رہتی تھیں. میری اماں کو جسم کافی مانسل اور بھرا مکمل ہے اور وہ بڑی ٹائیٹ اور باریک کپڑے کی شلوار قمیض پہنتی ہے. جب ماں گرمی میں باورچی خانے میں بیٹھ کر کھانا بناتی تھی، تب مجھے ماں کے سامنے بیٹھ کر اس کی طرف دیکھنا بہت اچھا لگتا تھا. اماں بالکل پتلی ٹائیٹ پاردرشك کپڑوں میں چولہے کے سامنے بیٹھ جاتی تھی. گرمی سے اسے جلد ہی خوب پسینہ چھوٹنے لگتا تھا. ماں کی بڑی بڑی چونچیاں اس لو کٹ کی قمیض کے اوپر ابھر آتیں تھیں. پسینے سے بھیگی قمیض میں سے اس کے مانسل چھاتی صاف نظر آنے لگتے تھے. میں نظر گڑا کر پسینے کی بہتی دھارو کو دیکھتا تھا جو اس کے گلے سے چوچيو کے درمیان کی گہری کھائی میں بہنے لگتی تھیں. اب تک پسینے سے گیلے باریک کپڑے میں سے اس کے ابھرے ہوئے نپل بھی نظر آنے لگتے تھے اور ماں کے متوالے اروجوں کا پورا فلسفہ مجھے ہونے لگتا تھا. پہلے اماں مجھے اس گرمی میں بیٹھنے کے لیے ڈاٹتي تھی پر میں اسے پیار سے کہتا. "ممی جب آپ اتنی گرمی میں بیٹھ سکتی ہیں ہمارے لئے تو میں بھی آپ کی گرمی میں مکمل ساتھ دوں گا". ماں اس بات پر مسکرا بولتی "بیٹا میں تو گرم ہو ہی گئی ہوں، میرے ساتھ تو بھی گرم ہو جائے گا". اب اصلی ڈرامہ شروع ہوتا تھا. ماں میری طرف بڑے پیار سے دیکھتے ہوئے کہتی "دیکھ کتنا پسینہ آ گیا ہے" اور آپ کی قمیض کا کنارہ اٹھا کر مجھے وہ اپنا پسینے سے تربتر تھوڑا فولا ہوا نرم نرم پیٹ دکھاتی. وہ ایک پٹے پر پشاب کرنے کے انداز میں اپنی جاںگھیں کھول کر بیٹھتی اور فٹافٹ چپاتی بناتی جاتی. میں سیدھا اس کے سامنے بیٹھ کر اس کی رانوں کے باچ ٹك لگا کر دیکھتا تھا. میری نظر خود پر دیکھ کر اماں اپنا ہاتھ پیچھے چوتڑ پر رکھ کر اپنی سلوار ھیںچتی جس سے ٹائیٹ ہو کر وہ سلوار اس مست فولي فددي پر سٹ کر چپک جاتی. اماں کی فددي كمےشا صاف رہتی تھی اور جھاٹے نہ ہونے سے سلوار اس ہموار بر پر ایسی چپكتي تھی کہ فددي کے درمیان کی گہری لکیر صاف نظر آتی تھی. اس کے پیٹ سے بہہ کے پسینہ جب فددي پر کا کپڑا گیلا کرتا تو اس پاردرشك کپڑے میں سے مجھے ماں کی بر صاف نظر آتی. اس کا کھڑا باہر نکلا کلٹورس بھی مجھے صاف نظر آتا اور میں نظر جمع کر صرف وہیں دیکھتا رہتا. اب تک ماں کی چوت میں سے چپچپا پانی نکلنے لگتا تھا اور وہ اتیجت ہو جاتی تھی. بر کی مہک سے میرا سر گھومنے لگتا. ہم دهرے مطلب کی باتیں کرنے لگتے تھے. ممی میری پلیٹ پر ایک چپاتی رکھ کر پوچھتي "بیٹا تیل لگا کے دوں؟". میں کہتا "ممی بغیر تیل کی ہی لے لوں گا، تم دے تو". رات کو یہ باتیں یاد کرکے میں بستر میں بیٹھ کر اپنا لںڈ ہاتھ میں لیکر ماں کے بارے میں سوچتا اور اس کی چوت چودنے کا تصور کرتے ہوئے مٹھٹھ مارتا. اب میں اصل بات بتاتا ہوں کہ ہمارا آپس کا كامكرم کیسے شروع ہوا. ماماجي بیج خریدنے کو باہر گئے تھے، قریب ایک ہفتے کے لیے. ویسے پہلے بھی ماماجي ایسے جاتے تھے لیکن اس بار پہلی بار میں نے غور کیا کہ ایک دو دن میں ہی ماں چھٹپٹانے سی لگی. گائں جیسی گرم ہو کر کرتی ہیں بس ویسا ہی سلوک ماں کا ہو گیا. ایک چھوٹے کھیت کی جتاي بچی تھی. صبح میں نے ماں سے کہا "ممی میں وہ چھوٹا کھیت ہولڈنگز کے آتا ہوں". ماں بولی "بیٹا، ابھی تو بہت گرمی ہوتی ہے، وہاں کوئی بھی تو نہیں آتا ہے، آج کل تو کوئی بھی کھیتوں میں نہیں جاتا ہے، مکمل ويرانا ہوگا." میں نے اس کے بولنے کی طرف توجہ نہیں دی اور ٹریکٹر تیار کرنے لگا. جب میں نکلنے ہی والا تھا تو اماں نے پیچھے سے کہا "بیٹا میں دوپہر کا کھانا لے کے آؤں گی". میں بولا "ٹھیک ہے ممی پر دیر مت کرنا". میں فر کھیتوں پر نکل گیا. ہمارے کھیت بہت بڑے ہیں اور اس دن کافی گرمی تھی. کوئی بھی وہاں نہیں تھا. میں جہاں کام کر رہا تھا وہاں چاروں بازو باجرے کی اونچی فصل تھی. میں نے کافی دیر کام کیا اور فر بیٹھ کر سستانے لگا. گھڑی میں دیکھا تو دوپہر ہو گئی تھی. مجھے سهسا یاد آیا کہ ماں دوپہر کا کھانا لے کر آ رہی ہوگی. ماں کا خیال آتے ہی میرا لںڈ کھڑا ہونے لگا اور رونگٹے کھڑے ہو گئے. میں نے مستی سے مچل کر دھیرے سے کہا "ماں تیری چوت." اپنے منہ سے یہ لفظ سن کر مجھے اتنا مہم جوئی ہوا کہ میں نے اپنا ہاتھ پتلون کے اوپر سے ہی اپنے لںڈ پر رکھا اور زور سے بولا "ممی آج کھیت میں چدوا لے اپنے بیٹے سے." اب میں اور اتیجت ہو اٹھا تھا اور چلایا "ماں آج چوت لے کے آ میرے پاس دیکھ ممی آج تیرا بیٹا ہاتھ میں لںڈ لے کے بیٹھا ہے". اب میں مکمل طور پر اتیجت ہو چکا تھا اور ایسے گندے لفظ اپنی ماں کے لیے بول کر اپنے آپ کو اور جم کے گرم کر رہا تھا. اپنی ماں کی چوت کا تصور کر کر کے میں پاگل ہوا جا رہا تھا. میرا لںڈ تنناكر مکمل طور پر کھڑا ہو گیا تھا. سنسان جگہ کا فائدہ لے کر میں نے زور زور سے خود سے باتیں کرتا ہوا اپنی ماں کی چوت کی خوبصورتی کا تعریفیں کرنے لگا. پانچ دس منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ مجھے دور سے اپنی ماں آتی دکھائی دی. اس کے ہاتھ میں کھانے کا ڈبہ تھا. میں نے ٹریکٹر چالو کیا اور پھر کام کرنے لگا. کچھ دیر بعد ماں میرے پاس پہنچی اور ٹریکٹر کی آواز کے اوپر چلا کر مجھے اترنے کو کہا. میں نے ٹریکٹر بند کیا اور اس کی طرف بڑھا. دل میں ماں کے تئیں اٹھ رہے گندے خیالات کی وجہ سے مجھے اس سے آنکھیں ملانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی. ماں نے کھیت کے درمیان کے درخت کی طرف اشارہ کیا اور ہم چل کر وہاں پہنچے. وہاں پہنچ کر ماں بولی "بیٹا تو کتنا گرم ہو گیا ہے. دیکھ کیسا پسینہ آ گیا ہے. لا میں تیرا پسینہ پونچھ دوں." میرے پاس آ کر اس نے محبت سے میرا پسینہ پوچھا. فر ہم کھانے بیٹھے. میں تو ماں کی طرف زیادہ نہیں دیکھ پا رہا تھا پر وہ نظر جمع کر میری طرف دیکھ رہی تھی. کھانے کے بعد میں نے ہاتھ دھوئے اور پھر ٹریکٹر کی طرف چلا، اتنے میں ماں پیچھے سے بولی. "بیٹا ایک ضروری بات کرنی ہے" میں واپس آ کر اس کے پاس بیٹھ گیا. ماں کافی پریشان دکھائی دے رہی تھی. سهسا وہ بولی "بیٹا باجرہ بڑا ہو گیا ہے کوئی چوری تو نہیں کرتا." میں بولا "نہیں ممی اب کون لے گا اسے." ممی بولی "نہیں کوئی چوری کر سکتا ہے تو دیکھ آس پاس کوئی ہے تو نہیں. ایسا کر تو درخت پہ چڑھ جا اور سب طرف دےخ" میں نے درخت پر چڑھ کر سب طرف دیکھا اور اتر کے بولا "ممی آس پاس تو کوئی بھی نہیں ہے، ہم دونوں بالکل اکیلے ہیں. دور تک کوئی نہیں دکھتا " ماں نے میری آنکھوں سے نظر بھڑا کر پوچھا "ہم دونوں اکیلے ہیں کیا؟" میں نے سر ہلا کر حامی بھری تو وہ بولی "تو مجھے باجرے کے کھیت میں لے چل" میں کھیت کی سب گھنی اور اونچی جگہ کی طرف چل دیا، اماں میرے پیچھے پیچھے آ رہی تھی. جیسے ہی ہم کھیت میں داخل ہو گئے، ہم مکمل طور پر باہر والوں کی نظروں سے چھپ گئے، اگر کوئی دیکھ بھی رہا ہوتا تو کچھ نہ دیکھ پاتا. میں نے ماں کا ہاتھ پکڑا اور اسے کھینچ کر اور گہری لے جانے لگا. اماں دھیرے سے میرے کان میں بولی "بیٹا کوئی دیکھے گا تو نہیں ہمیں یہاں." میں نے ایک جگہ رک گیا اور اس کی طرف مڑ کر بولی "یہاں کون دیکھے گا ہمیں، دیکھنا تو دور کوئی ہماری آواز بھی نہیں سن سکے گا". میں ماں کی طرف دیکھ کر بولا "ممی میرے ساتھ گندا کام کرے گی؟" فر اور پاس جا کر بولا "ما چل گندی گندی بات کر نا؟" ماں میری طرف دیکھ کر بولی "اچھا، تو اب مجھے گندی عورت بننے کو بول" میں اب اتیجت ہو رہا تھا اور میرا لںڈ فر کھڑا ہونے لگا تھا. میں نے ادھر ادھر دیکھا، ہم لوگ بالکل اکیلے تھے میں فر بولا. "ممی میں آدمی والا کام کروں گا تیرے ساتھ." ماں میری طرف دیکھ کر بولی. "ہاے میرے ساتھ گندی بات کر رہا ہے تو." میں نے اس کی طرف دیکھ کر کہا "چل اب اپنے کپڑے اتار کے نںگی ہو جا." ماں کا چہرہ اس پر شرم سے سرخ ہو گیا اور وہ شرماكر بولی "نہیں پہلے تو اپنا لںڈ دکھا". میں نے اپنی زپ کھولی اور پھر اپنی انڈرویر نکالی. اندر ہاتھ ڈال کر میں نے اپنا طویل تگڑا لںڈ باہر نکالا اور اماں کے ہاتھ پکڑ کر انگلیاں کھول کر ان میں تھما دیا "لے میرا لںڈ پکڑ" میرے ہی لںڈ پر میری خود کی ماں کے نرم ہاتھوں کا لمس مجھے پاگل بنا رہا تھا. میں نے اب دھیرے دھیرے اماں کے کپڑے اتارنے شروع کر دیے. اس کی قمیض کے دونوں سرے پکڑ کر میں نے اوپر كھيچے اور اس نے بھی دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر مجھے قمیض نکال لینے دی. اب وہ میرے سامنے صرف برےسير اور سلوار میں کھڑی تھی. میں نے اس کی شلوار کی پلس کھینچ دی اور سلوار کو کھیںچ کر اسکے پیروں میں نیچے اتار دیا. ماں نے پیر اٹھا کر شلوار پوری طرح سے نکال دی. اب میری ماں سرف برا اؤر پینٹی میں میرا لںڈ پکڑ کر میرے سامنے کھڑی تھی. میں نے اس کا بوسہ لیتے ہوئے اپنے ہاتھ اس کے ننگے کندھوں پر رکھ کر کہا "اماں، تجھے ننگی کر دوں؟" ماں کچھ نہ بولی پر میرے لںڈ کو پیار سے دباتي اور سهلاتي رہی جو اب کھڑا ہوکر خوب بڑا اور موٹا ہو گیا تھا. میں نے ماں کو باںہوں میں لیا اور اس کی برا کے ہک کھول دیے. برا نیچے گر پڑی اور ماں کے خوبصورت موٹے چھاتی میرے سامنے ننگی ہو گئے. ماں نے فوری طور شرما کر مجھے پاس کھیںچ لیا جس سے اس کی چونچیاں نہ نظر آئیں. یہ دیکھ کر میں نے اس کے کان میں شرارت سے کہا "ماں، اپنے بیٹے کو چوچي دکھانے میں اتنا شرما رہی ہے تو تو اپنی چوت کیسے كھولےگي میرے سامنے؟" ممی اب بولی "چل اب زیادہ باتیں مت کر، میرے ساتھ کام کر" مجھے اب بڑا مجا آ رہا تھا اور ماں کی شرم کم کرنے کو میں اس سے اور گندی گندی باتیں کرنے لگا. میں نے دبی آواز میں پوچھا "مرواےگي؟" ماں بولی "اتنی دور سے مروانے کے لیے ہی تو آئی ہوں، باجرے کے کھیت میں نںگی کھڑی ہوں تیرے سامنے اور تو پوچھ رہا ہے کہ مرواےگي؟" میں نے اسے اور چڑھاتے ہوئے پوچھا "كچچھي اتار دوں کیا" ماں اب تک میرے آہستہ آہستہ ستانے والے سلوک سے چڑھ گئی تھی. وہ مجھے الگ کر کے پیچھے سرکی، ایک جھٹکے میں اپنی پیںٹی اتار کے فےك دی، اپنے کپڑوں کو نیچے بچھايا اور ان پر لیٹ گئی. اپنے گھٹنے موڑ کر اپنی جاںگھیں اس نے فےلايي اور اپنی چوت کو میرے سامنے کھول کر بولی "اور کچھ كھولو کیا؟ اب جلدی سے اپنا لںڈ ڈال!" میں نے اپنے کپڑے اتارے اور ماں کی ٹانگوں کے درمیان گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گیا. میری ماں آپ کی نظریں گڑا کر میرے مست تننايے ہوئے لنڈ کو دیکھ رہی تھی. میں نے ہاتھ میں لؤڑا لیا اور دھیرے سے چمڑی پیچھے کھینچی. لال لال سوجے ہوئے سپاڑے کو دیکھ کر ماں کی جاںگھیں اپنے آپ اور فیل گئیں. ہم دونوں اب ناقابل برداشت ہوس کے شکار ہو چکے تھے. ممی بھررايي آواز میں بولی "اب دیر مت کر بیٹے، اپنا لںڈ میرے اندر کر دے جلدی سے". میں نے لنڈ پکڑ کر سپاڑا ماں کی چوت کے دروازے پر رکھا. پھر اس گھٹنے پکڑ کر اس کی رانیں اور فےلاتے ہوئے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا "چود دوں تجھے؟" ماں کا پورا جسم مستی سے کانپ رہا تھا. اس نے اپنا سر ہلا کر خاموش جواب دیا ہاں، میں نے گھٹنوں پر بیٹھے بیٹھے جھک کر ایک دھکا دیا اور لنڈ کو اسکی بر میں گھسیڑ دیا. جیسے ہی موٹا تازہ سپاڑا اسکی گیلی بر میں گھسا، ممی کی چوت کے پپوٹے پوری تن کر چوڑے ہوگئے. ماں سسک کر بولی "آ بیٹے میرے اوپر چڑھ جا." یہ سن کر لںڈ کو ویسا ہی گھسايے ہوئے میں آگے جھکا اور اپنے كوهنيا اس کے سینے کے دونوں جانب ٹیک دیں. پھر اپنے دونوں ہاتھوں میں میں نے اماں کی چونچیاں پکڑ لیں. ہم دونوں اب ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہے تھے. میں نے اب ایک کس کر دھکا دیا اور میرا پورا لںڈ ماں کی چوت کی گہرائی میں سما گیا. طویل انتظار اور چاہت کے بعد لںڈ کو شامل کرنے کا کام آخر ختم ہوا اور ہماری توجہ اب چدائی کے اصل کام پر گیا. میں ماں کو چودنے لگا. ہم دونوں ہوس میں ڈوبے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کی كامپيڑا کو سمجھتے ہوئے پورے زور سے ایک دوسرے کو حاصل کرنے میں لگ گئے. ماں کی متوالي چوت بری طرح سے چو رہی تھی اور میرا لںڈ اسکی بر کے رس سے مکمل طور پر ہموار اور چپچپا ہو گیا تھا. میں پورے زور سے دھکے مار مار کر ممی کو چود رہا تھا. اپنی والدہ کو چودتے ہوئے مجھے جو خوشی مل رہا تھا وہ اورنيي ہے. میں نے اس کے گداج بڑے بڑے ستن اپنے پنجوں میں جکڑ رکھے تھے اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے طویل طویل جھٹکوں کے ساتھ اس کی چوت میں اپنا لںڈ اندر باہر کر رہا تھا. اماں کا چہرہ اب كامواسنا سے تمتما کر لال ہو گیا تھا اور گرمی سے پسینے کی بوندیں اس کے ہونٹوں پر چمکنے لگی تھیں. اب جیسے میں لںڈ اسکی چوت میں جڑ تک اندر گھسےڑتا، وہ جواب میں اپنے چوتڑ اچكا کر الٹا دھکا مارتی اور اپنی چوت کو میری جھانٹوں پر دبا دیتی. میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تو اس نے نظر پھیر لی اور بدبدايي، "اب تو بچہ نہیں رہا، تو تو مکمل انسان ہو گیا ہے." میں نے پوچھا "ماں، تم چد تو رہی ہے نا اچھی طرح؟" ماں کچھ نہ بولی، بس چوتڑ اچكا اچكا کر چداتي رہی. اس دوپہر میں نے اپنی ماں کو اچھا گھنٹے بھر چودا اور چود چود کر اسکی چوت کو ڈھیلا کر دیا. آخر پوری طرح سیر ہو کر اور جھڑ کر جب میں اس کے بدن پر سے اترا تو میرا جھڑا لںڈ پچچ سے اس کی گیلی چپچپي بر سے نکل آیا. اماں چد کر جاںگھیں فیلا کر اپنی اپنی چدی بر دکھاتے ہوئے هافتے ہوئے پڑی تھی. وہ آہستہ سے اٹھی اور کپڑے پہننے لگی. میں نے بھی اٹھ کر اپنے کپڑے پہن لیے. ہم کھیتوں کے باہر آ کر ٹریکٹر تک آئے اور اماں برتن اٹھانے میں لگ گئی. برتن جماعت جماعت بولی "رات کو میرے کمرے میں ایک بار آ جانا." میں نے پوچھا "ماں رات کو پھر چوت مرواےگي؟" ماں نے جواب دیا، بولی "پریٹی کو تو تو چودتا ہو گا؟" پریٹی میری چھوٹی بہن ہے، مجھ کو ایک سال چھوٹی ہے. میں نے آنکھیں نیچی کر لیں. ممی بولی "ٹھیک سے بتا نا. بہن کو تو بہت لوگ چودتے ہیں." میں سست آواز میں بولا "نہیں ممی ابھی تک تو نہیں" ماں میرے پاس آکر بولی "بیٹے، اپنی بہن کو نہیں چودا تو نے آج تک؟ بہن کو تو سب سے پہلے چودنا چاہیے، بیٹے، بھائی کا لنڈ سب سے پہلے بہن کی چوت کھولتا ہے. بیٹے پتہ ہے؟ گاؤں میں جتنے بھی گھر ہیں، سب گھروں میں بہن بھائیوں کی چوت نںگی کر کے ان میں لںڈ دیتے ہیں. "مجھے یقین ہی نہیں ہوا کہ میری ماں خود مجھے اپنی بہن کو چودنے کو کہ رہی تھی. "مجھے ہی دیکھ، تیرے ماماجي روز چودتے ہیں مجھے، دو دن نہیں چدی تو کیا حالت ہو گئی میری. پریٹی کو مت ستا، چود ڈال ایک بار" ماں نے فر کہا. مجھے کوئی تعجب نہیں ہوا. ہمارے گاؤں کی یہ رسم ہی ہے. ماماجي کو شادی کی ضرورت کیوں نہیں پڑی یہ مجھے معلوم تھا. برتن جمع کر کے ماں کے گھر کی طرف چل پڑی. چد کر اس کے چلنے کا انداز ہی بدل ہی گیا تھا، تھوڑے پیر فیلا کر وہ چل رہی تھی. پیچھے سے اس کی چال دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں تیز چلنے لگا کہ اس کے کانوں میں کچھ گندی گندی باتیں کہوں. تبھی میں نے ہماری نوکرانی پارو کو ہماری طرف آتے دیکھا. وہ ہمارے یہاں کئی سالوں سے کام کر رہی تھی اور ممی کے بہت قریب تھی. مجھے لگتا ہے ممی اس سے کچھ بھی چھپاتی نہیں تھی. اس کے کئی بزرگوں سے وہاں کی عورتیں ہمارے یہاں کام کرتی تھیں. قریب قریب وہ ماں کی ہی عمر کی تھی. ماں کی طرف وہ بڑی پینی نگاہ سے دیکھ رہی تھی. پاس آنے پر اس نے ماں سے پوچھا "کیوں مالکن، چھوٹے مالک کو کھانا کھلانے کر آ رہی ہیں؟" ماں نے ہاں کہا. وہ دونوں ساتھ ساتھ چلنے لگیں. میں اب بھی ان کی آواز سن سکتا تھا. پارو سهسا ماں کی طرف جھکی اور نیچے لہجے میں کہا "مالکن آپ کی چال بدلی ہوئی ہے." ماں نے آہستہ سے اسے ڈاٹكر کہا "چپ چاپ نہیں چل سکتی ہے کیا". پارو کچھ دیر تو خاموش رہی اور پھر بڑی تجسس سے سہیلی کی طرح ماں کو پوچھا "مالکن آپ کھیت میں مروا کے آ رہی ہو؟" ماں نے اسے سنی کر آگے جانے کے لیے قدم بڑھائے پر پارو کہاں ماں کو چھوڑنے والی تھی. ماں نے اس سے آنکھیں چراتے ہوئے کہا "اچھا اب چھوڑ بعد میں بات کریں گے" پارو نے ماں کے کندھوں کو پکڑ کر بڑی تجسس سے پوچھا "مالکن کس کا لںڈ ہے کہ آپ کی چال بدل گئی ہے". ماں نے اسے چپ کرانے کی کوشش کی. "کیا بیکار کی بات کرتی ہے، چل ہٹ." پر ماں کے چہرے نے ساری پول کھول دی. اچانک پارو نے مڑ کر ایک بار میری طرف دیکھا اور پھر اس کا چہرہ حیرت اور ایک شہوانی، شہوت انگیز اتیجنا سے کھل اٹھا اور اس نے دھیمی آواز میں ماں سے پوچھا "ہیلو مالکن آخر آپ نے بیٹے کا لے لیا؟" ماں نے بڑی مستی سے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا. نوکرانی خوشی سے ہنس پڑی اور ماں کو لپٹ کر اس کے کان میں فسفسانے لگی "مالکن میں کہتی تھی نہ کہ بیٹے کا لو تبھی سکھ ملتا ہے." فر ماں کے چوتڑ پیار سے سہلاتے ہوئے اس نے کہا "لگتا ہے پوری فكلا کر دی ہے. مالکن میں کہتی تھی نا، اپنے بیٹے کو چوت دے دو تو چوت کا بھوسڑا بنا دیتے ہیں" ماں نے پہلی بار تسلیم کیا کہ وہ کھیت میں مروا کر آئی ہے "میرا تو پورا بھوسڑا ہو گیا ہے ری." فر اتیجیت ہوکر اس نے پارو کے کانوں میں کہا "ہاے پارو میں بھی اب بھوسڑي والی ہو گئی ہوں." دونوں اب بڑی مستی میں باتیں کر رہی تھیں "مالکن اب تو تم روز رات بیٹے کے کمرے میں اپنا بھوسڑا لے کے جاؤ گی" ماں نے اسے ڈانٹا "سالی اپنے بیٹے سے تو گاںڈ بھی مرواتي ہے اور مجھے بول رہی ہے." پارو نے جواب دیا "مالکن میں تو ایک بیٹے کا گاںڈ میں لیتی ہوں اور دوسرے کا چوت میں اور پھر رات بھر دونوں بیٹوں سے چدواتی ہوں" فر اس نے کہا "مالکن چھوٹے مالک کا لںڈ کیسا ہے؟" میری ماں نے کہا "چل کھیت میں چل کے بولتے ہیں، میری پھر چو رہی ہے." میں سمجھ گیا کہ ماں بھی پارو کے ساتھ گندی گندی باتیں کرنا چاہتی ہے. دونوں عورتیں کھیت میں چلی گئیں. میں ان کے پاس تھا، پر کھیت کی میڑ کے پیچھے چھپا ہوا تھا. ماں اور پارو ایک دوسرے کے سامنے کھڑی تھیں. پارو ماں کو اکسا رہی تھی کہ گندا بولے. ماں نے آخر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا "ہاے میرا بھوسڑا، دیکھ پارو میرے بیٹے نے آج میرا بھوسڑا مار دیا، ہای میرے پیارے بچے نے آج مار مار کے میری فددي کو بھوسڑا بنا دیا. پارو، میرے بیٹے نے چود دی میری . میرا بھائی تو روز چودتا ہے، آج بیٹے نے چود دیا پارو "پارو اماں کو اور باتیں بتانے کو اکسا رہی تھی" مالکن آپ اپنے بیٹے کے سامنے ننگی ہو کے لیٹی تھی؟ مالکن جب آپ کے بیٹے نے اپنا لںڈ پکڑ کے آپ دکھایا تھا تو آپ شرما گئی تھی کیا؟ بھائی سے تو آپ مست ہو کر چداتي ہو " پارو اب ماں کو تفصیل سے مجھ چدنے کا قصہ سنانے کی ضد کر رہی تھی. ماں بولی "پارو میری چوت چو رہی ہے، پارو کچھ کر." پارو بولی "مالکن چھوٹے مالک کہوں؟ وہ اپنا لؤڑا نکال کے آ جائیں اور اپنی ماں کی چوت میں ڈال دیں". ماں بولی "ہائے پارو اس کو بلا کے لا، مجھے اس کا موٹا لںڈ چاہیے." میں یہ سن کر میڑ کے پیچھے سے نکل کر ان کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا. دونوں مجھے دیکھ کر سکتے میں آ گئیں. میں نے انہیں کہا کہ میں نے ان کی ساری باتیں سن لی ہیں اور میں فر سے ماں کو چودنا چاہتا ہوں. ماں تھوڑی تاخیر کر رہی تھی کہ کوئی دیکھ نہ لے. پر پارو نے میرا ساتھ دیا "مالکن جلدی سے اپنا بھوسڑا آگے کرو" اور پھر مجھے بولی "بیٹے جلدی سے اپنا لںڈ باہر کر". ماں نے اپنی سلوار اؤر چڈی اپنے گھٹنوں تک نیچے کی اور اپنی چوت آگے کر کے کھڑی ہو گئی. میں نے بھی اپنا کھڑا لنڈ باہر نکال لیا. پارو نے ماں کو جلد کرنے کو کہا "مالکن جلدی سے اپنا بھوسڑا آگے کرو." اور مجھے بولی "اب جلدی سے اپنا لںڈ اپنی ممی کے بھوسڑے میں ڈال دے." ماں کی جاںگھیں اب مستی سے کانپ رہی تھیں اور اس کی بر بری طرح پانی چھوڑ رہی تھی. پارو نے میری طرف دیکھا اور کہا "بیٹے دیکھ تیری ماں کی کیسے چو رہی ہے، اب جلدی سے اپنا لںڈ اندر کر دے." کچھ ہی لمحوں میں میرا لؤڑا ماں کی بر میں تھا اور میں نے اسے کھڑے کھڑے ہی چود رہا تھا. پارو کے سامنے ماں کو چودنے میں جو مجا آ رہا تھا وہ میں کہہ نہیں سکتا. ممی بھی اب واسنا کی حد سے گزر چکی تھی. هافتي ہوئی بولی "ہائے پارو دیکھ اس کا لنڈ میری چوت میں ہے، پارو میرا بیٹا میری چوت مار رہا ہے. پارو میری گاںڈ بھی لںڈ مانگ رہی ہے." پارو نے پاس آکر دبی آواز میں مجھے مشورہ دیا "بیٹا، موقع ہے اپنی ماں کی گاںڈ مار لے." میں نے اماں کے چہرے کی طرف دیکھ کر کہا "ممی گاںڈ لے لوں تیری؟" ماں بولی "ہائے بیٹا .... میں تیرے سامنے جھک کے اپنے چوتڑ کھول کے اپنی گاںڈ کا چھید تجھے دكھاوگي، اوہ ... بیٹے .... میرے چوتڑ کے اندر تو اپنا لںڈ ڈالے گا؟" مینے اپنا لںڈ ماں کی چوت میں سے نکالا اور ہاتھ میں لے کر کہا "چل اب کتیا کی طرح کھڑی ہو جا اور اپنے ہاتھ پیچھے کر کے اپنے چوتڑ پکڑ کر کھینچ اور گاںڈ کھول." ماں میرا کہنا مان کر ماں گھوم کر میری طرف پیٹھ کر کے جھک کر کھڑی ہو گئی. پھر اپنے ہی ہاتھوں سے اس نے اپنے چوتڑ پکڑ کر زور سے فےلايے جس سے اس کی گاںڈ کا کھلا سوراخ مجھے صاف نظر آنے لگا. میں اپنا کھڑا موٹا لںڈ پکڑ کر ماں کے پیچھے کھڑا ہو کر بڑی گرسنہ نظروں سے اس کے گاںڈ کے چھید کو دیکھ رہا تھا. ماں کے نتب اس کے ہاتھوں نے فےلايے ہوئے تھے اور گاںڈ کا چھید مستی سے کھل اور بند ہو رہا تھا. ہوس سے ہم دونوں کی ٹاںگیں تھرتھرا رہی تھیں. میں نے زور کی آواز میں پوچھا "ممی تیری گاںڈ مار لوں؟" ممی کی جھکی مانسل کایا کانپ رہی تھی اور سهسا اسکی بر نے بہت سا پانی چھوڑ دیا. میں سمجھ گیا کہ وہ بس گاںڈ چدانے کے نام سے ہی جھڑ گئی ہے اور گاںڈ مرانے کو تیار ہے. وہ بولی "بیٹا میں تو کتیا ہو گئی ہوں، میری گاںڈ مار دے جلدی سے." پارو نے اپنی چوت کو پکڑے پکڑے مجھ سے کہا "دیکھ کیا رہا ہے، چڑھ جا سالی پہ اور مار سالی کی گاںڈ." میں نے ہاتھ میں لںڈ پکڑ کر آگے ایک قدم بڑھایا اور ماں کی پیٹھ پر دوسرا ہاتھ ٹکا کر میرا تننايا ہوا لنڈ ماں کی گاںڈ میں اتار دیا. جیسے لںڈ اندر گیا، ماں کی گاںڈ کھولتا گیا. آدھا لںڈ اندر گھس چکا تھا. اب میں نے اپنے دونوں ہاتھ ماں کی کمر پر رکھے اور کمر کو زور سے پکڑ کر اس کے کولہوں کو اپنی طرف کھینچا، ساتھ ہی سامنے جھکتے ہوئے میں نے اپنا لںڈ پورے زور سے آگے پےلا. لںڈ جڑ تک ماں کے چوتڑوں کے درمیان کی گهرايي میں سما گیا. میں نے اب ماں کا گدا چودنا شروع کر دیا. میں اور اماں دونوں اب بری طرح سے اتیجت تھے. میں نے اسے آہستہ سے پوچھا "بھوسڑي کی، مجا آ رہا ہے نا؟" ماں بولی "ہائے تو چپ چاپ چود رے حرامی، سالا کتنا موٹا لؤڑا ہے تیرا. میری فاڑ رہا ہے، تیرے ماماجي جیسا ہی ہے" اب میرا پورا لںڈ ماں کی گاںڈ میں گڑا ہوا تھا. میرے لںڈ کا موٹا ڈنڈا اسکی گاںڈ میں ٹائیٹ فسا ہوا تھا اور ماں کے گدا کی پےشيا اسے كسكے پکڑے ہوئے تھیں. ماں کے چھاتی لٹک رہے تھے اور جب جب میں گاںڈ میں لںڈ کو گھسےڑتا تو دھکے سے وہ ہلنے لگتے. کچھ دیر مرانے کے بعد ماں اٹھ کر سیدھی کھڑی ہونے کی کوشش کرنے لگی. میں نے اسے پوچھا کہ سیدھی کیوں ہو رہی ہے. میرا لںڈ اب بھی اس کی گاںڈ میں تھا اور جیسے ہی وہ سیدھی ہوئی، اس کی پیٹھ میری چھاتی سے چپک گئی. میں نے اس کی كاكھو کے نیچے سے اپنے ہاتھ نکال کر اسکے ممے پکڑ لیے اور دباتے ہوئے اسے جکڑ کر باہوں میں بھینچ لیا. میرا لںڈ اب بھی اس کی گاںڈ میں اندر باہر ہو رہا تھا. میں نے پوچھا "ممی مجا آ رہا ہے نا؟" ماں نے گردن هلايي اور آہستہ سے کہا "بیٹا میرا چما لے لے کے چود." مینے اسے اپنا سر گھمانے کو کہا اور پھر ماں کے ہونٹوں کو اپنے منہ میں لے کر چومتا ہوا کھڑے کھڑے اسکی گاںڈ مارتا رہا. بیس منٹ کی مست چدائی کے بعد میں نے اپنا ویرے ماں کی گاںڈ کے اندر جھڑا ڈالا. اپنا لںڈ میں نے باہر نکالا اور ماں نے کپڑے پہننا شروع کر دیا. اپنی انگلی سے اس نے اپنے چدے ہوئے گدا دروازے کو ٹٹولا. اب تک پارو آگے جا چکی تھی. ماں نے ترپت نگاہوں سے میری طرف دیکھا اور کہا "بیٹا آج رات کو پریٹی کی گاںڈ پوری لوذ کر دے." میں بہت اتیجیت تھا. میں نے کہا "ممی آج کی رات میں اپنی بہن کو نںگی کر کے اپنے لںڈ کے نیچے کر کے اس کی گاںڈ میں لںڈ دوں گا." ماں بھی مست تھی اور آگے جھک کر میرے ہونٹ چومنے لگی، بولی "بیٹا میرے چوتڑوں میں بھی لںڈ ڈال کے میری گاںڈ مارے گا نا؟" میں نے کہا "ممی تیری گاںڈ تو میں پوری کھول دوگ." ماں میری طرف دیکھ کر پیار سے بولی "سالا مادرچود!" میں نے اس کے گال سہلا کر کہا "سالی چدیل رنڈي!" ماں کے گھر کی طرف چل دی اور میں نے اپنے لںڈ کی طرف نیچے دیکھا. ماں کی گاںڈ کے اندر کی ٹٹٹي کے کترے اسپر لپٹے ہوئے تھے. مجھے تو ایسا لگا کہ میں خود اپنا لںڈ چوم لوں یا اسے ماں یا پارو کے منہ میں دے دوں
. میں خوشی خوشی فر کام پر نکل گیا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ آج رات مجھے ماں کے ساتھ ساتھ اپنی ہی بہن کو چودنے کا موقع ملے گا. اپنی چھوٹی بہن پریٹی کو چودنے کا تصور ہی میرا لںڈ فر کھڑا ہو گیا. میں نے ہمارے نوکرانی کو کئی بار اس کے خاندان میں ہونے والی بھائی بہن کی چدائی کے قصے سناتے ہوئے سنا تھا. مجھے یہ بھی پتہ تھا کہ ہمارے گاؤں میں بہت سے گھروں میں رات کو بھائی اپنی بہنوں کے کمرے میں جا کر ان کی شلوار اور تنوں نکال کر چودتے ہیں. ماماجي کو ماں کو چودتے ہوئے کبھی دیکھا تو نہیں تھا پر مکمل اندازہ تھا مجھے. اس شام میں ایک دوست کے ساتھ کھیتوں میں گھومنے گیا. سنسان جگہ تھی اور ارد گرد کوئی نہیں تھا. میںنے مؤکا دیکھ کر اس سے پوچھا. "یار ایک بات بتا، جب تیرا لںڈ کنٹرول میں نہیں رہتا ہے تو تو کیا کرتا ہے؟" اس نے میری طرف شکایت کی نظر سے دیکھا اور کہا "تو نے جوان ہونے کے بعد ہم دوستوں کے بیچ میں بیٹھنا بند کر دیا ہے" میں نے گزارش کی "بتا نا یار." وہ بولا "میں اور میری دونوں بہنیں ساتھ میں سوتے ہیں، رات کو دونوں کو نںگی کر دیتا ہوں. جب گھر میں ہی مال ہے تو لںڈ کیوں بھوکا رہے." فر وہ بولا "ہمارے گروپ میں سب دوست یہی کرتے ہیں. میں تو اپنی ماں کو بھی چودتا ہوں. یار گھر میں اپنی ماں بہنوں کو چود کے تو ہم لوگ اپنے لڈو کی گرمی دور کرتے ہیں." فر اسنے اپنا لںڈ نکال کر مجھے دکھایا "دیکھ میرا لںڈ، دیکھ رات کو میں ننگا ہو کے گھر میں گھومتا ہوں اور رات کو میری ممی اور بہنیں لیٹ کر اپنی چوت سے پانی چھوڑتی ہیں تو میں ان سب کی چوت مار کے ٹھنڈي کرتا ہوں . تجھے تو پتہ ہے میری ماں کیسی ہے اور میری بہنیں بھی ماں جیسی ہی ہیں، رات کو سب اپنی اپنی چوتیں نںگی کر کے لیٹ جاتی ہیں اور چوت کی کھشبو سارے گھر میں فیل جاتی ہے. " فر اسنے بھی مجھے گھر جاکر اپنی ماں اور بہن کو چودنے کی صلاح دی. تبھی کھیت میں سے اس کی ماں کی آواز سنائی دی. میں گھبرا گیا اور جانے لگا پر اسے کوئی شرم نہیں لگی. وہ مجھے بھی ساتھ لے جانا چاہتا تھا پر میں گھر جانے کا بہانہ کر کے وہاں سے چل پڑا. میں کچھ دیر چلنے کے بعد چپ چاپ واپس آیا کیونکہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کیا کرتے ہیں. چھپ کر میں جوار کی بالیاں میں سے انہیں دیکھنے لگا. وہ پاس ہی تھے. شام ہو چکی تھی پر اب بھی دیکھنے کے لیے کافی روشنی تھی. میں نے دیکھا کہ ماں اور بیٹے آپس میں لپٹ گئے اور آلںگن میں بندھے ہوئے چوما چاٹی کرنے لگے. دونوں بہت گرمی میں تھے. آس پاس کوئی نہیں تھا. اس کی ماں بولی "بیٹا، ہم اکیلے ہی ہیں نا یہاں؟" وہ بولا "ہاں ممی، کوئی نہیں ہے، مجا آیگا ماں، چلو شروع کریں؟" فر وہ کچھ شرما کر سست آواز میں بولا "ممی، آج تیری گاںڈ کھانے کا من کر رہا ہے، کھانا کھلانے دے نا." اس کی ماں نے گھبرا کر آس پاس دیکھا اور کہا "بیٹے، آہستہ بولو، کوئی سن لے گا، كسيكو پتہ نہ چلے کہ ہم آپس میں کیا کرتے ہیں." فر اسنے ہولے سے میرے دوست سے پوچھا "میری گاںڈ کھاتا بیٹا؟" "ہاں اماں ایک ہفتے سے زیادہ ہو گیا. میرا بس چلے تو روز كھاو" میرا دوست بولا. اس نے کپڑے اتارے اور زمین پر بیٹھ گئی. میرا دوست اس کے پیچھے جا کر لیٹ گیا اور اپنا منہ اس کی ماں کی گاںڈ کے نیچے رکھ دیا. اس کی ماں اس کے منہ پر بیٹھ گئی. مجھے کچھ نظر نہیں رہا تھا. بیچ بیچ میں وہ زور لگاتی تو تو اس کے پیٹ کی کسی گوشت پےشيا دكھتي. میری دوست ماں کی گاںڈ سے منہ لگا کر کچھ کھا رہا تھا. اس کا منہ چل رہا تھا، بیچ بیچ میں وہ نگل لیتا. کچھ دیر بعد اس کی ماں گھوم کر بیٹھ گی اور اپنے بیٹے کے منہ میں موتنے لگی. اس نے خاموشی سے ماں کا موت پی لیا. اس کے بعد دونوں چودنے میں لگ گئے جس کے دوران مشتعل ہو کر اس کی ماں کہنے لگی "بیٹا، اپنا بیج اپنی ماں کے پیٹ میں ڈال دے، اسے حاملہ کر دے، بیٹا، میں تمہارے بچے کی ماں بننا چاہتی ہوں، اپنی ماں کو چود کر اسے بچہ دے گا نا؟ " وہ بولا، "ہاں ماں، میں تجھے چود کر اب اپنا بیج تیرے پیٹ میں بو دیتا ہوں، تجھے ماں بنا دیتا ہوں. اپنا بھائی پیدا کروں گا تیرے پیٹ سے وہ بڑا ہوگا تو وہ بھی اپنی بڑھیا ماں کو چودیگا" فر وہ هچك هچك کر ساڑ کی طرح اپنی ماں کو چودنے لگا. میں بہت اتیجت ہو چکا تھا اور وہاں سے گھر کی طرف چل پڑا. جب میں گھر پہنچا تو دروازہ اندر سے بند تھا. میں گھر کے پچھواڑے سے دھیرے سے اندر گیا تو دیکھا کہ ماں گاؤں کی ایک خاتون، اپنی سہیلی کے ساتھ بیٹھی چیٹ کر رہی تھی. میں اسے جانتا تھا، ہم اسے چاچی کہتے تھے. پلنگ پر بیٹھ کر وہ کسی بات پر ہنس رہی تھیں. میں نے اسے کہتے سنا "میں تو رات کو اپنی چوت نںگی کر کے ورانڈے میں لیٹ جاتی ہوں. رات کو جس کا بھی دل کرتا ہے، آ کے میری چوت مار جاتا ہے." ماں ہنس رہی تھی، بولی "تیری چوت کا تو صبح تک مکمل بھوسڑا بن جاتا ہوگا؟" چاچی بولی "ہاں میرا جو دوسرا لڑکا ہے، وہ بھی کوشش کرتا ہے پر اسکا لںڈ میری چوت میں پھنستا ہی نہیں." ماں بولی "اس کو گاںڈ دے دیا کر." چاچی بولی "اس کا تو میں چوس دیتی ہوں." اس رات کھانے کے بعد میں نے گھر کے پچھواڑے گیا. کچھ کھیتوں کے بعد ہماری نوکرانی پارو کی جھوپڑی ہے. رات کافی ہو گئی تھی. چاروں طرف سناٹا تھا. میں نے پارو کو جھونپڑی کے باہر آتے دیکھا. شاید وہ موتنے آئی تھی. اس کے پیچھے پیچھے میں نے کسی اور کو بھی باہر آتے دیکھا. دیکھا تو اس کا بیٹا تھا. پارو کھیت کی میڑ کے پیچھے گئی تھی. اس کے پیچھے پیچھے اس کا بیٹا بھی اپنا لںڈ شلوار کے اوپر سے ہی پکڑ کر ہلاتا ہوا گیا، وہ بڑی مستی میں لگ رہا تھا. ہماری نوکرانی پارو ایک مقام پر کھڑی ہو گئی اور اپنی سلوار کی پلس کھولی. فر دونوں کو نیچے کرکے پیروں میں سے نکال کر وہ ٹاںگیں فیلا کر موتنے کے انداز میں بیٹھ گئی. اس کا لڑکا اس کے پاس کھڑا ہو کر للچايي نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا. بیٹے کی طرف دیکھ کر پارو نے اسے ساتھ میں بیٹھنے کو کہا. وہ بیٹھ گیا. پارو ڈانٹ کر بولی "اپنا لںڈ نکال کے بیٹھ." ماں کا کہا مان کر اس نے لنڈ نکال کر ہاتھ میں لے لیا. فر ہاتھ اپنی ماں کی رانوں کے درمیان بڑھا کر اس نے براہ راست اس کی بر کو چھو لیا. پارو نے اپنے پاؤں اور دور کر لیے اور آپ کی جاںگھیں پوری فیلا دیں. اس کی چوت کے پپوٹے اب بالکل کھلے تھے. اس کے بیٹے نے فر چوت چھو کر کہا "ماں تیری چوت پوری چوڑی ہو گئی ہے." پارو نے ہاتھ بڑھا کر اس کا لنڈ پکڑ لیا فر اس کی طرف دیکھ کر بولی "چل اب موت لینے دے." بیٹے نے ماں کی طرف دیکھ کر کہا "ماں آج اپنا موت پلا دے نا." پارو یہ سن کر اتیجت ہو گئی اور اس کی طرف منہ کر کے بولی "سالا حرامی مادرچود." اس کے پاؤں مستی سے تھرتھرا رہے تھے. اس نے اپنے بیٹے کے گلے میں باہیں ڈالي اور اس کے کان میں پوچھا "بیٹے، میرا موت پيےگا؟" فر کھڑی ہوکر اس نے ادھر ادھر دیکھا اور آپ کی ٹاںگیں فیلا کر بیٹے سے کہا "بیٹا میری چوت کے منہ میں لے." لڑکے نے فوری طور ماں کی مان کر اپنا منہ کھولا اور پارو کی بر پر رکھ دیا. پارو اب اس کے منہ میں موتنے لگی. وہ اپنی ماں کا موت پینے لگا. پارو اتیجیت ہوکر گندی گندی گالیاں دینے لگی. "سالے مادرچود لے پی اپنی ماں کا موت. بھوسڑي کے ماں کی پشاب پی لے." موتنا ختم ہونے پر وہ کھڑا ہو گیا، اسکا لںڈ تننا کر اس کی رانوں کے درمیان کھڑا تھا. اس کی ماں اس کے سامنے پاؤں فیلا کر کھڑی تھی اور اس کی رانوں کے درمیان کا چھید پكپكا رہا تھا. وہ بولی. "بیٹا اپنی ماں کا چھید بھر دے." لڑکے نے اپنے ہپ آگے ریٹویٹ اور ماں سے کہا "ماں اپنا سوراخ آگے کر." پارو نے پیر اور فےلايے اور چوت آگے کرکے اپنی بر کا چھید اپنے بیٹے کے لیے مکمل کھول دیا. میں اب ماں کی چوت میں شامل بیٹے کا لںڈ ڈلتا دیکھ اتیجیت تھا. لڑکے نے لںڈ اندر گھسیڑا اور اپنی ماں کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے جسم سے چپکا لیا. ماں کو دبوچے ہوئے وہ بولا "سالی ذرا پاس آ. بدن سے بدن چپکا." پارو نے بھی اسے آلںگن میں بھر کے کہا. "ہاے ذرا لںڈ پورا اندر دے کے چود." میں بھی اب اپنی ماں بہن کو چودنے کے لیے اتاولا تھا. میں جانتا تھا کہ کچھ ہی دیر میں میرا لںڈ میری ماں کی چوت میں ہو گا. پر گھر جانے کے پہلے میں اپنے دوسرے دوست سے ملنا چاہتا تھا جو کھیتوں کے پاس ہی رہتا تھا. رات بہت ہو گئی تھی پر مجھے پتہ تھا کہ وہ مجھے ضرور کچھ بتائے گا. اس کے گھر کے پیچھے ایک گودام تھا جہاں وہ اناج رکھا کرتے تھے. ھلہان میں سے روشنی آ رہی تھی. مجھے ایک چھوٹی سی ونڈو نظر آئی. میں دیکھنا چاہتا تھا کہ وہاں کون ہے اس لئے ایک پتھر پر چڑھ کر اندر جھانکنے لگا. اندر دو كھٹيا تھیں. میرے دوست کی اماں ایک کھاٹ پر پیر لٹکا کر بیٹھی تھی اور میرا دوست اس کے سامنے زمین پر ماں کے گھٹنوں کو پکڑا ہوا بیٹھا تھا. وہ باتیں کر رہے تھے جو مجھے صاف سنائی دے رہی تھیں. میرا دوست بولا. "ممی تھوڑی ٹاںگیں کھول نا." اس کی ماں نے ذرا سی ہچکچاہٹ سے اپنی جاںگھیں تھوڑی سی فیلا دیں. ایسا لگتا تھا کہ وہ ماں کو شلوار اتارنے کو منا رہا تھا. "ممی شلوار اتار دے نا." شاید اس کی ماں چدنے کو ابھی تیار نہیں تھی، مجھے معلوم تھا کہ شروع میں ایسا ہوتا ہے. میرا دوست ماں کو منا رہا. وہ آہستہ آہستہ راستے پر آ رہی تھی اور چدنے کی اس کی ہچکچاہٹ کم ہو رہی تھی. وہ بولی "بیٹا دیکھ کوئی دیکھ تو نہیں رہا ہے." وہ اٹھا اور آنگن میں دیکھنے کے بعد دروازے کی سٹكني لگا کر واپس آ گیا. بولا "ممی سب دروازے بند ہیں. ہم دونوں اکیلے ہیں." اس کی ماں نے فر پوچھا "ٹھیک سے دیکھا ہے نا؟" وہ بولا "ہاں ممی سب طرف دیکھا ہے چل اب اپنی شلوار اتار." ماں کو ننگا کرنے کو وہ مچل رہا تھا. اس کی ماں کھڑی ہو گئی اور اس کی قمیض اوپر اٹھا کر سلوار کا ناڑا کھول دیا. سلوار اب ڈھیلی ہو کر اس کے پاؤں میں گر پڑی اور اس میں سے پیر نکال کر وہ آکر فر کھاٹ پر بیٹے کے سامنے بیٹھ گئی. میرا دوست اب اتاولا ہو رہا تھا. اپنی ماں کی رانوں کے درمیان ہاتھ ڈال کر اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور پیںٹی کے اوپر سے ہی ماں کی چوت سہلانے لگا. اس کے چھونے سے مست ہو کر اس کی ماں نے بھی ٹاںگیں اور فیلا دیں. دونوں اب جم کے اتیجیت تھے. وہ بولا "ممی كچچھي بھی اتار دے." وہ اس کی طرف دیکھ کر بولی "تو اپنا لںڈ باہر نکال." وہ بولا "ٹھیک ہے، تو میرا لںڈ دےخ" اس نے پھر اپنے پتلون کی زپ کھولی اور اپنا ایک فٹ لمبا موٹا لںڈ باہر نکال لیا. اس کا مست لنڈ دیکھ کر اس کی ماں نے ہاتھ بڑھا کر لںڈ ہاتھ میں لے لیا اور بولی "بڑا بھاری لؤڑا ہے تیرا. دیکھ کیسا توپ کی نال کی طرح کھڑا ہے" وہ بولا "ممی اس کو اپنی چوت تو دکھا." اس کی ماں کھڑی ہو گئی اور اپنی پیںٹی بھی اتار دی. اس کی فولي سوجی ہوئی چوت اب اس کے بیٹے کی آنکھوں کے سامنے تھی اور وہ اسے بڑی گرسنہ نظر سے دیکھ رہا تھا. اس کی رانوں کے درمیان اسکا لںڈ اب اور تننا رہا تھا. ماں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر کہا "ہیلو بیٹے تیرا لںڈ کھڑا ہو گیا ہے." اس نے اپنے مچلتے لںڈ کو دیکھا اور پھر ماں کے چہرے کو تکنے لگا. فر بولا "ممی میرے لںڈ کو تیری چوت چاہیے." ماں کی کلائی پکڑ کر کھینچ کر اس نے اپنی ماں کو گود میں بٹھا لیا اور فر اس کا بايا چھاتی پکڑ کر دباتے ہوئے بولا "ممی مرواےگي؟" اس کی ماں ہلکے سے بولی "اپنی ماں کی چوت ماریگا؟" میرے دوست نے اپنی ماں کی بر میں شامل انگلی کرنی شروع کر دی. فر اسے کھاٹ پر پٹک کر اس کی رانیں کھولیں اور اپنا منہ ماں کی بر پر رکھ دیا. فر منہ کھول کر ماں کی چوت چوسنے لگا. کچھ ہی دیر میں ماں مست ہو گئی اور اسے بولی "رک بیٹے، میں تیرے لیے چوت ٹھیک سے کھولتی ہوں، ذرا کھاٹ کے کنارے مجھے بیٹھنے دے." وہ زمین پر بیٹھ گیا اور ماں کھاٹ پر چڑھ کر موتنے کے انداز میں جاںگھیں فیلا کر بیٹھ گی. فر اسنے اپنے بیٹے کے کندھے سہارے کے لیے پکڑ لیے اور اس کا منہ کھینچ کر اپنی چوت پر دبا لیا. وہ زور زور سے ماں کی کھلی ہوئی چوت چوسنے لگا. كھچھ دیر بعد بتی بند ہو گئی. سب طرف اندھیرا اور سناٹا تھا. میں نے اس کی ماں کی سست آواز سنی

Posted on: 05:07:AM 14-Dec-2020


1 0 167 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com