Stories


موقع از رابعہ رابعہ 338

میری بڑی دیدی کی شادی تھی، ہمارے پنجاب میں شادیاں کچھ زیادہ ہی لمبی چلتی ہیں، کئی سارے پروگرام ہوتے ہیں اور پھر شادی کے لئے پاپا نے بہت بڑا محل بک کروایا تھا جس کو دیکھنے کے لئے ایک گھنٹہ لگ جائے اگر کوئی مکمل دیکھنا چاہے تو . سردی کا موسم تھا، دھوپ کھلی ہوئی تھی اور مکمل پروگرام باہر کھلے باغات میں کیا گیا تھا. پھےرو کے بعد دولھے-دلہن کو باہر ہی سجائی گئی اسٹیج پر بیٹھنا تھا. وہیں دوسری اسٹیج پر جیجو نے مشہور پنجابی سنگر بببو قدر بک کیا تھا. سب جانتے ہیں اس کا کتنا بڑا سا اسٹیج لگتا ہے، ہر کوئی اس کا دیوانہ ہے، کیا بڑے، بچے، لڑکیاں! پھیرے پاس کے گردوارے میں پورے ہوئے! جب جیجو اپنے جوتے اتار کر گئے تو وہ جوتے ہم نے غائب کر لئے اور پھر جب باہر نکلے جوتے وہاں نہ پا کر سب سمجھ گئے کہ میں ایک اکیلی سالی تھی، جی ہاں چچےري تو بہت تھیں اور یہ سب ہم نے مل کر ہی کیا تھا. ہم شگن مانگنے لگے، کہا پھر ہی جوتے واپس ملیں گے! تبھی میری نظر جیجو کے پیچھے کھڑے دو انتہائی خوبصورت لڑکوں پر گئی. وو مجھے نہار رہے تھے، دونوں اےناراي تھے، جیجو کے دوست جو ان کے ساتھ آسٹریلیا میں تھے. پھر رسہ کشی ہونے لگی. شگن لے کر ہم نے جوتے پکڑے اور چڑانے کے لئے بھاگی. اب جیجو کے بھائی اور وہ دوست بھی شرارت پر اتر آئے اور ہمیں پکڑ لیا. ان دونوں نے میری کلائی پکڑ لی. خوشی کا موقع تھا، کسے شک پڑنے والا تھا، مذاق مذاق میں ہی سہی، چھیننے کے بہانے دونوں میں سے ایک نے مجھے اپنے اوپر گرا لیا پھر ایک دم چھوڑ دیا. خیر وہاں سے واپس محل پہنچے. مجھے بار بار اسکا اپنے اوپر گرنے کا احساس ہو ہوتا جا رہا تھا. وہاں ناچنے گانے کا ماحول تھا، سب جھوم رہے تھے، لڑکے والے تمام نشے میں بببو مان کے گانوں پر تھرک رہے تھے. تبھی جوڑی کو ساتھ ناچنے کے لئے گانا گایا گیا. میری دیدی کی نند نے مجھے بھی کھینچ لیا. وہ لڑکے میرے سامنے آ گئے اتنے قریب آ گئے کہ سانسوں کے آپس میں ملنے کا احساس ہوا. اس نے مجھے ایک ٹش پیپر دیا. میں نے ایک طرف گئی، کھولا تو اس پر اس کا موبائل نمبر تھا. وہاں بہت شور تھا، سب کا دھیان اسٹیج پر شگن پورے کرنے کا تھا. باقی سب بببو مان نے اپنے ساتھ لگا رکھے تھے. اندر مکمل حال خالی تھا. وہ اس طرف بڑھ گیا، میں پارکنگ میں گئی، اپنی کار میں بیٹھ اسکو کال کی. اس نے اپنا نام هےري بتایا، وہ جیجو کا دوست تھا. اس نے میرے حسن کی تعریف کی. اور کیا چاہئے ایک لڑکی کو؟ اس نے مجھے حال میں بلایا، میں وہاں پہنچ گئی، ہائے ہیلو ہوا. وہاں کوئی نہیں تھا، ہم چلتے چلتے اندر والی اسٹیج کے قریب پہنچ گئے. اس نے میری کمر میں ہاتھ ڈال میرے ساتھ سموچ شروع کر دی اور ایک ہاتھ اس نے میرے سوٹ میں ڈال میرا ممما دبا دیا. آاچ! چھوڑو، کوئی دیکھ لے گا! ہم بعد میں ملیں گے! ڈونٹ وري بیب! وو مجھے اسٹیج کے پیچھے آرٹسٹ روم، چینج روم میں لے گیا اور کنڈی لگا لی. وہاں پر اس کا دوسرا دوست پہلے ہی موجود تھا. اس کے ہاتھ میں پےگ تھا. تم یہاں؟ اوہ بیب کم اون! بی فرینک! وہ باہر سے آئے تھے، ایڈوانس تھے وہ، اور خوبصورت بھی. لیکن یہ جگہ صحیح نہیں ہے! اے! کون آئے گا؟ سب مست ہیں باہر! دونوں میرے پاس آئے، دونوں طرف سے باہوں میں جکڑ لیا. ایک پیچھے سے میرے چوتڑوں کو دبانے لگا، دوسرا ہونٹوں کو چومتا ہوا میرے چوچے مسلنے لگا. میں گرم ہونے لگی. میں نے پہلی بار دو لڑکوں کے ساتھ نہیں گئی تھی. ان کا جو اسٹائل تھا نہ وہ دیکھ مجھے بلیو فلم میں انگریزوں کے منظر یاد آ گئے. اس نے میرا قمیض اتار کر ایک طرف رکھ دیا اور پھر سلوار کھول دی. واو! وهٹ آ پھگر! دیکھو زیادہ کپڑے مت اتارو! سمیٹنے میں ٹائم لگے گا! میں سگی بہن ہوں، سب مجھے ڈھونڈ رہے ہوں گے. دونوں نے اپنی اپنی جپ کھول لؤڑے نکال لئے. کتنے موٹے لؤڑے تھے اور طویل بھی! میں نے دونوں کے لؤڑے پکڑ کر سہلا دیا. یہ دیکھ میری حالت پتلی ہونے لگی. وہ کیا جانتے تھے کہ میں کتنی چدکڑ ہوں. میری برا سرکا کر میرا چچوك چوسنا چالو کر دیا. اہ! اہ! نہیں! مجھے جانے دو! رات کو پارٹی میں کھیل لینا! پکڑ بھی اور منع بھی کر رہی ہو؟ چلو، صرف چوس دو! ٹھیک ہے، پہلے مجھے شلوار ڈالنے دو! او کے! میں نے شلوار ٹھیک کرکے ناڑا باندھا اور کرسی پر بیٹھ گئی، دونوں کے لؤڑے جی بھر کے چوسے! دل تو کر رہا تھا چدنے کا، لیکن سچ میں سب پریشان ہو گئے ہوں گے! کبھی سوچ سکیں کہ صرف ایک ایک بار چودنے دوں. جب ان کو لگا کہ وہ چھٹنے والے ہیں، انہوں نے میری برا اتار دی، مجھے پیچھے پڑے توشک پر لٹا دیا اور مٹھ مارنے لگے. پہلے ایک نے اپنا مال نکالا میری چوچیوں پر، دوسرے نے بھی اپنا مال میرے ہونٹوں پر، چہرے پر نکال دیا اور دونوں نے لؤڑوں سے لگا کر چٹوايا بھی! جلدی سے صاف صفائی کی، کپڑے پہنے، آئینے میں خود کو سنوارا جہاں ڈاسر اپنے کو تیار کرتی ہیں. پہلے میں نکلی، ادھر ادھر دیکھا، کوئی نہیں تھا! باہر پہنچی تو دیکھا کہ سب اپنی دھن میں لگے تھے. سوچا، شٹ! کیوں نہیں چدی؟پر آج کا موقع جا چکا تھا لیکن یہ تسلی تھی کہ جب دل چاہا فون نمبر پہ رابطہ ہے مل لوں گی

Posted on: 06:03:AM 14-Dec-2020


0 2 131 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 2 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com