Stories


بھاگتے چور کی از رابعہ رابعہ 338

میں شروع سے ہی چودو قسم کا انسان ہوں. چھوٹی چھوٹی لڑکیاں مجھے بہت پسند ہیں. کالج کی لڑکیوں کو چودنے میں مجھے بہت مجا آتا ہے. مجھے مہر مال چودنا بھی بہت پسند ہے. میری شادی بھی ہو چکی ہے پر شادی کے ایک سال تو ٹھیک تھا اس کے بعد پھر وہی پھٹی بور! مجا نہیں آتا یار! میں نے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا ہوں، شہر نزدیک ہی ہے، ہمیں کچھ بھی ضرورت پڑے تو شہر ہی لانا پڑتا ہے کیونکہ شہر صرف دس کلومیٹر دور ہے. یہ بات گزشتہ سال کے موسم گرما کی ہے، میں نے ایک دن اپنی موٹر سائیکل پر شہر سے واپس آ رہا تھا. تبھی ایک لڑکی جو 18 سال کی ہوئی ہوگی، اس نے مجھ سے لفٹ مانگی. لڑکی اتنی خوبصورت تھی کہ کیا بتاؤں! میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو اسے لفٹ دے دیتا. میں نے گاڑی روکی اور اسے بٹھا لیا. لڑکی میرے ہی گاؤں کی تھی، میں نے اسے پوچھا کہا گیا تھا؟ وو بولی- کالج! میںنے پوچھا- کس کلاس میں پڑھتی ہو؟ اس نے کہا + 2 کے پہلے سال میں! میرے مںہ سے نکل گیا- سائیز تو بی اے کے آخری سال والا ہے. وو بولی- کیا بولے آپ؟ میں نے بات گھما دیا اور بولا کچھ نہیں. کچھ دور جانے کے بعد مجھے میری پیٹھ پر کسی گببارے کا احساس ہونے لگا گویا کوئی گببارے سے میرے پیٹھ پر ہولے ہولے مساج کر رہا ہو. تبھی میں نے جان بوجھ کر ایک زوردار بریک ماری، وہ لڑکی میری پیٹھ سے ایک ہی جھٹکے میں چپک گئی اور اس کے دودھ کا سائز مجھے احساس ہو گیا. پھر میں نے اس سے پوچھا تمہارا کوئی بائی فرینڈ ہے؟ وو بولی- نہیں! مجھے یہ سب جھوٹے رشتے لگتے ہیں! میں تو ويوهارك چیزوں پر یقین کرتی ہوں. او کے! پھر اس نے کہا آپ نے یہ سب کیوں پوچھ رہے ہو؟ میں نے بات کو ٹالنا چاہا، کہا- چھوڑو نا! تب وہ خود بولی- اصل میں آج کل کے لڑکے مجھے پسند نہیں! میں نے پھر چسكي لیتے ہوئے کہا تو کیا میرے جیسے بڈڈے پسند ہیں؟ اس نے کہا آپ بھی نہ! بہت بدمعاش ہیں؟ گھر پر اپنی بیوی کو بھی ایسے ہی ستاتے ہو کیا؟ میںنے کہا- گھر کی بات چھوڑو یار! گھر کی مرغی تو دال برابر ہوتی ہے. اس نے جھٹ سے کہا تو باہر کی مرغی ڈھونڈ لو. میں اسکا اشارا کچھ کچھ سمجھ رہا تھا، میںنے کہا- تلاش تو میں بھی کر رہا ہوں! پر آج کل ملتی کہاں ہیں یہ مرگیاں! اور مجھے چھوٹی چھوٹی مرگیاں زیادہ پسند ہیں. اتنا بولنا ہی تھا کہ اس نے کہہ دیا: کہیں آپ مجھ پر ڈورے تو نہیں ڈال رہے ہو؟ میںنے کہا- ڈورے ڈال کر کیا ہوگا؟ ڈالنے دو تو کچھ اور ڈالوںگا؟ بولو ڈالنے دوگی؟ اس نے کہا بہت زیادہ پیاس ہے آپ کو؟ گھر میں مزا نہیں ملتا کیا؟ میںنے کہا- گھر کی بات چھوڑو! تم بتاؤ کیا ارادہ ہے؟ اس نے کہا یہ بات؟ چلو دیا ڈالنے! اب کیا؟ میںنے کہا- میں مذاق نہیں کر رہا ہوں؟ وہ بھی بولی- میں بھی مذاق نہیں کر رہی! پھر کیا تھا، مجھے سمجھ میں آ گیا کہ آج مجھے ایک کنواری بور چودنے کو مل سکتی ہے. اب میں محسوس کرنے لگا تھا کہ میرے پیٹھ میں وہ اپنے دودھ کو رگڑ رہی ہے، اس کے چچوكو کا احساس مجھے ہو رہا تھا، میرا لںڈ تن چکا تھا. میں نے پھر کہا تم مذاق تو نہیں کر رہی ہو نہ؟ اس نے کہا نہیں، آج میں بھی دیکھوںگی کہ آپ کے ہتھیار میں کتنا دم ہے. اتنا کہہ کر وہ اپنے ہاتھ کو میرے لںڈ پر لے آئی، میرا لںڈ اور تن گیا، گویا اب پتلون پھاڑ کر باہر آ جائے گا. جب اس نے میرے لںڈ کو پکڑ لیا، اس نے کہا واہ، آپ کا ہتھیار تو بہت بڑا ہے؟ میںنے کہا- اس کا مطلب ہے کہ تم نے چھوٹا بھی دیکھا ہے؟ کسکا دیکھا ہے بتاو؟ اس نے شرماتے ہوئے کہا میرے پاپا کا! ایک بار میں بیمار تھی اور ممی کے پاس سو گئی. آدھی رات کو میں نے کچھ كھسر-پھسر کی آواز سنی، آنکھ کھولی تو دیکھا کہ ممی کتیا اور پاپا کتے بن کر اپنے چار انچ کے چھوٹے لںڈ سے ممی کی چوت مار رہے ہیں اور ممی جور جور سے کراہ رہی ہیں، آہ ... او ... اوهه ... اؤر جور سے کرو ...... اتنے میں پاپا جھڑ گئے اور لیٹ گئے. ممی کی پیاس شاید ادھوری رہ گئی. اور ممی غصے سے پاپا کو بول رہی تھی اب تم بوڑھے ہو گئے ہو! مجھے اپنا کچھ بندوبست کرنا پڑے گا! تبھی دیکھا تھا اب بات کرتے کرتے کب ہم اپنے گھر پہنچ گئے ہمیں پتہ بھی نہیں چلا. اس کا گھر میرے گھر سے کچھ دور تھا اس لیے میں نے اپنے گھر پر موٹر سائیکل روکی اور اسے اپنے گھر کے اندر بلا لیا. میں نے اسے سوفی پر بیٹھنے کے لئے کہا اور میں اس کے لئے ٹھنڈی لسی لایا. لسی دیکھتے ہی اس کے منہ میں پانی آ گیا، وو بولی- واہ لسی! آئی لو لسی! اتنے میں میں نے کہا اصلی لسی اور بھی مزہ ہوتی ہے. وو بولی- وہ کیسی ہوتی ہے؟ میںنے کہا- اس کے لئے محنت کرنی پڑے گی، تب جا کر ملے گی. وو بولی- منظور ہے! میںنے کہا- ایک شرط بھی ہے! وو بولی- سب منظور ہے، صرف لسی چاہئے، بكذ آئی لو لسی! میںنے کہا- ٹھیک ہے، اپنے سارے کپڑے اتار دو! وو بولی- کیا؟ میںنے کہا- گھبراو نہیں! میری بیوی گھر پر نہیں ہے، وہ مایکے گئی ہے. اور میں باتھ جا کر پیشاب کرنے لگا. آکر دیکھا تو وہ صرف شمیج اور پینٹی میں کھڑی تھی. میںنے کہا- مان گئے یار لسی کو! بہت طاقت ہے اس میں! اب میں نے بھی اپنی قمیض اور پتلون اتار دی اور سوفی پر بیٹھ گیا اور اسے ہاتھ پکڑ کر صوفے پر بٹھا لیا. اب میں نے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا. اس نے اپنی آنکھیں بند کر لی اور گویا مجھ سے کہہ رہو ہو کہ جو جی چاہے کر لو! میں نے دھیرے سے اس کی شمیج میں اپنا ہاتھ ڈال دیا اور اس کے دودھ کو دھیرے دھیرے دبانے لگا، ایک دم نرم اور گول گول اتنا نرم تو میری بیوی کے بھی نہیں ہیں. جیسے ہی میں دودھ دباتا گیا، اس کی سانسیں گرم ہو گئی اور وہ بھی اپنے آپ کو روک نہ سکی اور اپنے ہاتھ میرے لںڈ پر لے گئی اور اسے سہلانے لگی. پہلے تو اوپر سے ہی کیا، پھر تنوں کے اندر ہاتھ ڈال دیا اور زور زور سے سہلانے لگی. اب مجھ سے بھی رہا نہ گیا اور میں نے اس کی سميج اتار کر اس کے دودھ کو چوسنا شروع کر دیا. چوستے چوستے اس دودھو کا سائز گویا بڑھ گیا ہو اور فول گیا ہو. اس کے چچوك کھڑے ہو گئے تھے، وہ بھی آنکھیں بند کرکے گرم گرم سانسیں لئے جا رہی تھی اور مجھے اپنی بانہوں میں جكڑنے لگی تھی. اچانک اس نے کہا مجھے ایک نشانی دے دو! میں نے زور سے اس کے دودھ کو کاٹ لیا. اس نے ایک تھپڑ مارا اور ہٹ گئی. وو پھر پاس آئی اور بولی جانو، اب میری باری ہے! اب اس نے میرے لںڈ کو چوسنا شروع کر دیا، چوس چوس کر میرے لنڈ کو لال کر دیا. میں تو سمجھا کہ یہ بھی مجھے كاٹےگي. لیکن نہیں! اس نے بڑے پیار سے چوس چوس کر میرے لںڈ کو اور لمبا کر دیا! میرا لںڈ بھی مانو اتنے پیار سے پیش آ رہا تھا کہ کیا بتاؤں دوستو! قریب دس منٹ چوسنے کے بعد مجھے ایسا لگنے لگا کہ میں جھڑنے والا ہوں تو میں نے اس کے سر کو زور سے پکڑ لیا اور پورے لںڈ کو اس کے گلے تک ڈال دیا اور زور زور سے جھٹکے دینا شروع کر دیا. وہ چھڑانا چاہ رہی تھی پر میں چھوڑو پھر نہ! پوری کی پوری لسی اس کے گلے میں ڈالنے کے بعد میں نے اپنا لںڈ باہر نکالا. باہر نکلتے ہی وہ كھاسنے لگی اؤر بولی- جان لوگے کیا؟ میںنے کہا- جان کو چھوڑو! لسی کیسی لگی؟ وہ مجھ سے چپک گئی. میں نے اسے سوفی پر بٹھایا اور آہستہ آہستہ اس کی بر کو سہلانے لگا. اب وو بھی جوش میں آ رہی تھی، میں نے اس کی چڈی اتار دی اور اس کی بر کو چوسنے لگا. بر ایسی مانو بڑا سارا گندم کا دانا! میں نے اسے چاٹنا شروع کیا، چاٹ-چاٹ کر اسے سرخ کر دیا. اب میں اپنی جیبھ کو اس کی بور میں ڈالنے کی کوشش کرنے لگا. تبھی وہ میرے سر کے بالوں کو زور سے پکڑ کر مجھے اپنی بر میں زور زور سے رگڑنے لگی اور کچھ لمحے کے بعد وہ بھی جھڑ گئی. پھر آدھے گھنٹے ہم ننگے ہی سوپھے پر پڑے رہے. پھر اس نے گھڑی دیکھتے ہوئے اس نے کہا اب مجھے جانا ہوگا! میںنے کہا- ابھی تو اصل کام باقی ہے جانو! وو بولی- نہیں! وہ سب میں اپنے شوہر کے ساتھ کروں گی! تم کسی اور کے شوہر ہو! اتنا کہہ کر اس نے پھٹاپھٹ اپنے کپڑے پہن لیے اور پھر مسکراتے ہوئے مجھے اپنی بانہوں میں بھرا اور میرے ماتھے پر ایک میٹھا سا بوسہ دے دیا. میں نے بھی اسے کس کر اپنی بانہوں میں بھر لیا گویا پہلا پہلا پیار ہو! اب میں اسے اپنی موٹر سائیکل پر اس کے گھر تک چھوڑ آیا اور اپنے گھر لوٹ آیا. مانا اس نے چودنے نہیں دیا پر پھر بھی اس سے زیادہ مزہ دیا تو بس یہی سوچ لیا کہ بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی

Posted on: 06:04:AM 14-Dec-2020


0 0 137 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 1 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com