Stories


پاس ہونے کے لئے گانڈ مروائی از رابعہ رابعہ۔بوائے سیکس

یہ قصہ جب کا اے جب میری بہن خواب 18 سال کی اور میں 19 سال کا تھاهم دونوں ایک ہی سکول میں اور ایک ہی کلاس میں پڑتے تھےهم دونوں پڑھنے لکھنے میں زیادہ ہوشیار نہیں تھے بس اےورےج تھے ہمارے ایک استاد تھے پال سر، ان کے لئے مشہور تھا کی وہ بڑے پیمانے کرکے اپنے سٹوڈنٹ کو فیل کر دیا کرتے تھے تاکہ وہ ان کے پاس جائے اور وہ پھر اس کا فائدہ اٹھا سکے اسے سکول میں کئی قصے تھے جس پہلے فیل ہوئے طالب علم، طالبہ پال سر سے ملنے کے بعد پاس ہو گئے اس بار ہمیں بھی پتہ چلا کی ہم دونوں بھائی بہن بھی فیل ہو گئے اے اور ہمیں اگر کے پاس ہونا ہی اے تو پال سر سے ملنا پڑے گا .. مینے خواب سے کہا کی ہم دونوں کو شام کو پال سر کے پاس چلنا پڑے گا تاکہ ہم پاس ہو سكےلےكن پال سر پاس کرنی کی کیا قیمت لیں گے یہ ہمیں پتہ نہیں تھاشام کو ہم دونوں پال سر کے گھر گئے تو وہ کمرے میں لںگی پہنے اکیلے ہی بیٹھے ہوئے تھےنهونے ہم دونوں کو آنے کا کارن پوچا تو ہم نے بتايامےنے دیکھا کی بات چیت کے دوران پال سر کی نگاہ خواب پر ہی لگی رهينهونے پوری بات سن نے کا ڈرامہ کیا اور کہا کی پاس تو میں کروا دوں گا پر اس کے لئے تمہیں قیمت دینی هوگيهمنے کہا کی ہمارے پاس دینے کو کوئی پیسہ نہیں اے تو انہوں نے کہا کی ان کو پےسے نہیں بلکہ جو چاہئے وہ ہمارے پاس اے. ہم دونوں بھائی بہن نے ایک دوسرے کی اور دیکھا پھر اتفاق میں گردن ہلا ديپال سر نے مجھ سے کہا کی میں کل اکیلے آکر ان سے مل، پھر وہ بتائیں گے کی ہم کیسے پاس ہو سکتے اے اگلے دن میں پال سر کے پاس گیا تو وہ جیسے میرا ہی انتظار کر رہے تھے، انہوں نے مجھ سے کہا کی وہ میرے ساتھ جو اس کا میں برا تو نہیں مانگا، مینے نہ میں اپنا سر ہل دي. ، پال سر نے مجھے اپنے پاس بلایا اور وہ میرے نكر کے اپر سے ہی میرے چتڈو کو سہلانے لگے، میں سمجھ گیا کی آج پال سر میرے ساتھ کیا کریں گے نهونے میرا نكر اتارا اور مجھے بستر پر سلا کر میرا لںڈ سر نے پیار سے منہ میں لیا اور چوسنے لگے. ایک ہاتھ بڑھا کر انہوں نے تھوڑا ناریل تیل اپنی انگلی پر لیا اور میرے مقعد پر چپڑا. فر میرا لںڈ چوستے ہوئے آہستہ سے اپنی انگلی میری گاںڈ میں آدھی ڈال دی. "اوہ ... اوہ .." میرے منہ سے نکلا. "کیا ہوا، دكھتا ہے؟" سر نے پوچھا. "ہاں سر ... کیسا تو بھی ہوتا ہے" "اس کا مطلب ہے کہ دکھنے کے ساتھ مزہ بھی آتا ہے، ہے نا؟ یہی تو میں سکھانا چاہتا ہوں اب تجھے. گاںڈ کا مزہ لینا ہو تو تھوڑا درد بھی سہنا سیکھ لے" کہہ کر سر نے پوری انگلی میری گاںڈ میں اتار دی اؤر ہؤلے ہولے گھمانے لگے. پہلے درد ہوا پر فر مجا آنے لگا. لںڈ کو بھی عجیب سا جوش آ گیا اور وہ کھڑا ہو گیا. سر اسے فر سے بڑے پیار سے چومنے اور چوسنے لگے "دیکھا؟ تو کچھ بھی کہے یا نخرے کرے، تیرے لںڈ نے تو کہہ دیا کہ اسے کیا لطف آ رہا ہے" پانچ منٹ سر میری گاںڈ میں انگلی کرتے رہے اور میں مست ہو کر آخر ان کے سر کو اپنے پیٹ پر دبا کر ان کا منہ چودنے کی کوشش کرنے لگا. سر میرے بازو میں لیٹ گئے، ان کی انگلی برابر میری گاںڈ میں چل رہی تھی. میرے بال چوم کر بولے "اب بتا انیل بیٹے، جب عورت کو محبت کرنا ہو تو اس کی چوت میں لںڈ ڈالتے ہیں یا اسے چوستے ہیں. ہے نا؟ اب یہ بتا کہ اگر ایک مرد کو دوسرے مرد سے محبت کرنا ہو تو کیا کرتے ہیں ؟ " "سر ... لںڈ چوسكر محبت کرتے ہیں؟" میں نے کہا. "اور اگر اور کس کر پیار کرنا ہو تو؟ یعنی چودنے والا پیار؟" سر نے میرے کان کو دانتوں سے پکڑ کر پوچھا. مجھے بڑا اچھا لگ رہا تھا. "سر، گاںڈ میں انگلی ڈالتے ہیں، جیسا میں نے کیا تھا اور آپ ہیں" "ارے وہ آدھا محبت ہوا، کروانے والے کو مزا آتا ہے. پر لںڈ میں ہوتی گدگدی کو کیسے ٹھنڈا کریں گے؟" میں سمجھ گیا. ہچکچاتا ہوا بولا "سر ... گاںڈ میں .... لںڈ ڈال کر سر؟" "بہت اچھے میری جان. تو سمجھدار ہے. اب دیکھ، تو مجھے اتنا پیارا لگتا ہے کہ میں تجھے چودنا چاہتا ہوں. تو بھی مجھے چودنے کو لںڈ مٹھيا رہا ہے. اب اپنے پاس چوت تو ہے نہیں، پر یہ جو گاںڈ ہے وہ چوت سے زیادہ سکھ دیتی ہے. اور چودنے والے کو بھی جو آند آتا ہے وہ .... بیان کرنا مشکل ہے بیٹے. اب بول، اگلا لےسن کیا ہے؟ تیرے سر اپنے پیارے اسٹوڈنٹ کو کیسے محبت کرے گا؟ " "سر ... میری گاںڈ میں اپنا لںڈ ڈال کر .... اوہ سر ..." میرا لںڈ مستی میں کھل کیونکہ سر نے اپنی انگلی سهسا میری گاںڈ میں گہرائی تک اتار دی. "سر درد ہوگا سر .... پلیز سر" میں منت کرتے ہوئے بولا. میری آنکھوں میں دیکھ کر سر میرے من کی بات سمجھ گئے "تجھے کروانا بھی ہے ایسا محبت اور ڈر بھی لگتا ہے، ہے نا؟" "ہاں سر، آپ کا بہت بڑا ہے" میں نے جھجھکتے ہوئے کہا. "ارے اس کی فکر مت کر، یہ تیل کس لئے ہے، آدھی شیشی ڈال دوں گا اندر، فر دیکھنا ایسے گا جیسے مكھكھن میں چھری. اور تجھے معلوم نہیں ہے، یہ گاںڈ لچکدار ہوتی ہے، آرام سے لے لیتی ہے. اور دیکھ، میں نے پہلے ایک بار اپنا جھڑا لیا تھا، نہیں تو اور سخت اور بڑا ہوتا. ابھی تو بس پیار سے کھڑا ہے، ہے نا؟ اور چاہے تو تو بھی پہلے میری مار سکتا ہے. " میرا من للچا گیا. سر ہنس کر بولے "مارنا ہے میری؟ ویسے میں تو اس لئے پہلے تیری مارنے کی کہہ رہا تھا کہ تیرا لںڈ اتنا مست کھڑا ہے، اس وقت تجھے اصلی مجا آیگا اس لےسن کا. گاںڈ کو پیار کرنا ہو تو اپنے ساتھی کو مست کرنا ضروری ہوتا ہے، ویسے ہی جیسے چوت چودنے کے پہلے چوت کو مست کرتے ہیں. لںڈ کھڑا ہے تیرا تو مروانے میں بڑا مجا آیگا تیرے کو " "ہاں سر." سر مجھے اتنے پیار سے دیکھ رہے تھ کہ میرا من ڈولنے لگا "سر ... آپ ... ڈال دیجئے سر اندر، میں سنبھال لوں گا" "ابھی لے میرے بادشاہ. ویسے تمہیں قائد سے کہنا چاہیے کہ سر، مار لیجیے میری گاںڈ!" "ہاں سر .... میری گاںڈ ماريے سر .... مجھے .... مجھے چودئے سر سر مسكرايے "اب ہوئی نہ بات. چل پلٹ جا، پہلے تیل ڈال دوں اندر. تجھے معلوم ہے نہ کہ کار کے اےجن میں تیل سے پسٹن سٹاسٹ چلتا ہے؟ بس ویسے ہی تیرے سلینڈر درکار ہوں میں میرا پسٹن ٹھیک سے چلے اس لئے تیل ضروری ہے. اچھا پلٹنے کے پہلے میرے پسٹن میں تو تیل لگا " میں نے مٹھی میں ناریل کا تیل لیا اور سر کے لںڈ کو چپڑنے لگا. ان کا کھڑا لنڈ میرے ہاتھ میں شہ جیسا مچل رہا تھا. تیل چپڑ کر میں پلٹ کر سو گیا. ڈر بھی لگ رہا تھا. تیل لگاتے وقت مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ سر کا لںڈ فر سے کتنا بڑا ہو گیا ہے. سر نے بھلے ہی دلاسہ دینے کو یہ کہا تھا کہ ایک بار جھڑكر ان کا ذرا نرم کھڑا رہے گا پر اصل میں وہ لوہے کی سلاكھ جیسا ہی ٹنٹنا گیا تھا. سر نے تیل میں انگلی ڈبو کے میرے مقعد کو چیکنا کیا اور ایک انگلی اندر باہر کی. فر ایک ہاتھ سے میرے چوتڈ فےلايے اور كپپي اٹھا کر اس کی نلی آہستہ سے میری گاںڈ میں اندر ڈال دی. میں سر کی طرف دیکھنے لگا. وہ مسکرا بولے "بیٹے، اندر تک تیل جانا ضروری ہے. میں تو بھر دیتا ہوں آدھی شیشی اندر جس تجھے کم سے کم تکلیف ہو." وہ شیشی سے تیل كپپي کے اندر ڈالنے لگے. مجھے گاںڈ میں تیل اترتا ہوا محسوس ہوا. بڑا عجیب سا پر مذاق تجربہ تھا. سر نے میری کمر پکڑ کر میرے بدن کو ہلایا "بڑی ٹائیٹ گاںڈ ہے رے تیری، تیل آہستہ آہستہ اندر جا رہا ہے" میری گاںڈ سے كپپي نکال کر سر نے فر ایک انگلی ڈالی اور گھما گھما کر گہرے تک اندر باہر کرنے لگے. میں نے دانتوں تلے ہونٹ دبا لیے کہ سسکاری نہ نکل جائے. فر سر نے دو انگلیاں ڈالی. اتنا درد ہوا کہ میں چهك پڑا. "اب پلٹ کر لیٹ جا، آرام سے. ویسے تو بہت سے آسن ہیں اور آج تجھے سب اسنو کی پریکٹس كراوگا. پر پہلی بار ڈالنے کو یہ سب سے بہتر ہے" میرے پیچھے بیٹھتے ہوئے سر بولے. سر نے میرے چہرے کے نیچے ایک تکیا دیا اور اپنے گھٹنے میرے بدن کے دونوں جانب ٹیک کر بیٹھ گئے. "اب اپنے چوتڑ پکڑ اور کھول، تجھے بھی آسانی ہوگی اور مجھے بھی. اور ایک بات ہے بیٹے، گدا ڈھیلا چھوڑنا نہیں تو تجھے ہی درد ہوگا. سمجھ لے کہ تو لڑکی ہے اور اپنے سےيا کے لیے چوت کھول رہی ہے، ٹھیک ہے نا؟ " میں نے اپنے ہاتھ سے اپنے چوتڑ پکڑ کر فےلايے. سر نے میرے مقعد پر لںڈ جمایا اور پیلنے لگے "ڈھیلا چھوڑ انیل، جلدی!" میں نے اپنی گاںڈ کا چھید ڈھیلا کیا اور اگلے ہی پل سر کا سپاڑا پكك سے اندر ہو گیا. میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی. میں نے منہ میں بھری چپل دانتوں تلے دبا لی اور کسی طرح چیخ نکلنے نہیں دی. بہت درد ہو رہا تھا. سر نے مجھے شاباسي دی "بس بیٹے بس، اب درد نہیں ہوگا. بس پڑا رہ خاموشی" اور ایک ہاتھ سے میرے چوتڑ سہلانے لگے. دوسرا ہاتھ انہوں نے میرے بدن کے نیچے ڈال کر میرا لںڈ پکڑ لیا اور اسے آگے پیچھے کرنے لگے. دو منٹ میں جب درد کم ہوا تو میرا کسا ہوا بدن کچھ ڈھیلا پڑا اور میں نے زور سے سانس لی. سر سمجھ گئے. جھک کر میرے بال چومے اور بولے "بس انیل، اب دھیرے دھیرے اندر ڈالتا ہوں. ایک بار تو مکمل لے لے، فر تجھے سمجھ میں آئے گا کہ اس لےسن میں کتنا لطف آتا ہے" فر وہ ہولے ہولے لںڈ میرے چوتڑوں کے درمیان پیلنے لگے . دو تین انچ بعد جب میں فر سے تھوڑا تڑپا تو وہ رک گئے. میں جب سبھلا تو فر شرو ہو گیے. پانچ منٹ بعد ان کا پورا لںڈ میری گاںڈ میں تھا. گاںڈ ایسے دکھ رہی تھی جیسے كسينے هتھوڑے سے اندر سے ٹھوكي ہو. سر کی جھاٹے میرے چوتڑوں سے بھڑ گئی تھیں. سر اب مجھ پر لیٹ کر مجھے چومنے لگے. ان کے ہاتھ میرے بدن کے ارد گرد بندھے تھے اور میرے نپلو کو ہولے ہولے مسل رہے تھے. سر بولے "درد کم ہوا انیل بیٹے؟" میں نے مںڈی ہلا کر ہاں کہا. سر بولے "اب تجھے محبت کروں گا، مردوں والا محبت. تھوڑا درد بھلے ہو پر سہ لینا، دیکھ مجا آیگا" اور وہ آہستہ آہستہ میری گاںڈ مارنے لگے. میرے چوتڑوں کے درمیان ان کا لںڈ اںدر باہر ہونا شروع ہوا اور ایک عجیب سی مستی میری رگ رگ میں بھر گئی. درد ہو رہا تھا پر گاںڈ میں اندر تک بڑی میٹھی کسک ہو رہی تھی. ایک دو منٹ دھیرے دھیرے لںڈ اںدر باہر کرنے کے بعد میری گاںڈ میں سے سپ سپ سپ کی آواز نکلنے لگی. تیل مکمل میرے سوراخ کو چکنا کر چکا تھا. میں کسمسا کر اپنی کمر ہلانے لگا. سر ہنسنے لگے "دیکھا، آ گیا راستے پر. مجا آ رہا ہے نا؟ اب دیکھ آگے مزہ" فر وہ کس کے لںڈ پیلنے لگے. سٹا سٹ سٹا سٹ لںڈ اندر باہر ہونے لگا. پھر اپنے چوتڑ اچھال کر سر کا ساتھ دینے لگا. انیل. بتا .... لطف آیا یا نہیں؟ " "ہاں .... سر ... آپ کا ... لے کر بہت .... مزہ .... آ .... رہا .... ہے ...." سر کے دھکے جھےلتا ہوا میں بولا "سر .... آپ ... کو .... کیسا .... لگا .... سر؟ " "ارے راجا تیری مخملی گاںڈ کے آگے تو گلاب بھی نہیں ٹكےگا. یہ تو جنت ہے جنت میرے لیے ... لے ... لے ... اور زور .... سے کروں ...." وہ بولے. "ہاں .... سر ... زور سے .... ماريے .... سر .... بہت .... اچھا لگ ... رہا ہے .... سر" سر میری پانچ منٹ مارتے رہے اور مجھے بیتہاشا چومتے رہے. کبھی میرے بال چومتے، کبھی گردن اور کبھی میرا چہرہ موڈ کر اپنی طرف کرتے اور میرے ہونٹ چومنے لگتے. فر وہ رک گئے. میں نے اپنے چوتڑ اچھالتے ہوئے شکایت کی "ماريے نہ سر ... پلیز" "اب دوسرا آسن. بھول گیا کہ یہ لےسن ہے؟ یہ تو تھا گاںڈ مارنے کا سب سے سيدا سادہ اور مزہ آسن. اب دوسرا دکھاتا ہوں. چل اٹھ اور یہ سوفے کو پکڑ کر جھک کر کھڑا ہو جا" سر نے مجھے بڑی احتیاط سے اٹھایا کہ لںڈ میری گاںڈ سے باہر نہ نکل جائے اور مجھے سوفے کو پکڑ کر کھڑا کر دیا. "جھک انیل، ایسے براہ راست نہیں، اب سمجھ کہ تو کتیا ہے .... یا گھوڑی ہے ... اور میں پیچھے سے تیری ماروںگا" میں جھک کر سوفے کے سہارے کھڑا ہو گیا. سر میرے پیچھے کھڑے ہو کر میری کمر پکڑ کر فر پیلنے لگے. آگے پیچھے آگے پیچھے. سامنے آئینہ میں دیکھ سکتے تھے کہ کس طرح ان کا لںڈ میری گاںڈ میں اندر باہر ہو رہا تھا. دیکھ کر میرا اور زور سے کھڑا ہو گیا. مستی میں آ کر میں نے ایک ہاتھ سوفے سے اٹھایا اؤر لںڈ پکڑ لیا. سر پیچھے سے پیل رہے تھے، دھکے سے میں گرتے گرتے بچا. "چل .. جلدی ہاتھ ہٹا اور سوفا پکڑ نہیں تو طمانچہ ماروںگا" سر پیچھے سے پیل رہے تھے، دھکے سے میں گرتے گرتے بچا. "چل .. جلدی ہاتھ ہٹا اور سوفا پکڑ نہیں تو طمانچہ ماروںگا" سر چللايے. "سر ... پلیز ... رہا نہیں جاتا ..... مٹھٹھ مارنے کا من .... ہوتا ہے" میں بولا. "ارے میرے بادشاہ منا، یہی تو مزہ ہے، ایسی جلدی نہ کر، مکمل لطف اٹھا. یہ بھی اس لےسن کا ایک حصہ ہے" سر محبت سے بولے. "اور اپنے لںڈ کو کہہ کہ صبر کر، بعد میں بہت مزہ آئے گا اسے" سر نے کھڑے کھڑے میری دس منٹ تک ماری. ان کا لنڈ ایک دم سخت تھا. مجھے تعجب ہو رہا تھا کہ وہ کس طرح جھڑے نہیں. درمیان میں وہ رک جاتے اور فر کس کے لںڈ پےلتے. میری گاںڈ میں سے فچ فچ فچ کی آواز آ رہی تھی. فر سر رک گئے. بولے "تھک گیا بیٹے؟ چل تھوڑا سستا لے، آ میری گود میں بیٹھ جا. یہ ہے تیسرا آسن، آرام سے پیار سے چوماچاٹي کرتے ہوئے کرنے والا" کہہ کر وہ مجھے گود میں لے کر سوفے پر بیٹھ گئے. لںڈ اب بھی میری گاںڈ میں دھسا تھا. مجھے باںہوں میں لیکر سر چوما چاٹی کرنے لگے. میں نے بھی مستی میں تھا، ان کے گلے میں باہیں ڈال کر ان کا منہ چومنے لگا اور زبان چوسنے لگا. سر آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہو کر اپنا لںڈ نیچے سے میری گاںڈ میں اندر باہر کرنے لگے. پانچ منٹ آرام کرکے سر بولے "چل انیل، اب مجھ سے بھی نہیں رہا جاتا، کیا کروں، تیری گاںڈ ہے ہی اتنی لاجواب، دیکھ کس طرح محبت سے میرے لںڈ کو کس کے جکڑے ہوئے ہے، آ جا، اسے اب خوش کر دوں، بیچاری مروانے کو بے تاب ہو رہا ہے، ہے نا؟ " میں بولا ہاں سر میری گاںڈ اپنے آپ بار بار سکڑ کر سر کے لںڈ کو گائے کے تھن جیسا ده رہی تھی.چلو، اس دیوار سے سٹ کر کھڑے ہو جاؤ سر مجھے چلا کر دیوار تک لے گئے. چلتے وقت ان کا لںڈ میری گاںڈ میں رول ہو رہا تھا. مجھے دیوار سے سٹا کر سر نے کھڑے کھڑے میری مارنا شروع کر دی. اب وہ اچھے طویل سٹروک لگا رہے تھے، دے دنادن دے دنادن ان کا لںڈ میرے چوتڑوں کے درمیان اندر باہر ہو رہا تھا. تھوڑی دیر میں ان کی سانس زور سے چلنے لگی. انہوں نے اپنے ہاتھ میرے کندھے پر جمع دیئے اور مجھے دیوار پر دبا کر کس کس کے میری گاںڈ چودنے لگے. میری گاںڈ اب پچاك پچاك پچاك کی آواز دے رہی تھی. دیوار پر بدن دبنے سے مجھے درد ہو رہا تھا پر سر کو اتنا مجا آ رہا تھا کہ میں نے منہ بند رکھا اور خاموشی مرواتا رہا. سر اچانک جھڑ گئے اور اوہ ... اوہ ... ا ... آہ .. "کرتے ہوئے مجھ چپٹ گئے. ان کا لںڈ کسی جانور جیسا میری گاںڈ میں اچھل رہا تھا. سر هافتے هافتے کھڑے رہے اور مجھ پر ٹک کر میرے بال چومنے لگے. مکمل جھڑ کر جب لںڈ سکڑ گیا تو سر نے لںڈ باہر نکالا. فر مجھے کھینچ کر بستر تک لائے اور مجھے باںہوں میں لیکر لیٹ گئے اور چومنے لگے "انیل بیٹے، بہت خوشی دی تو نے آج مجھے بہت دنوں میں مجھے اتنی متوالي كواري گاںڈ مارنے ملی ہے، آج تو دعوت ہو گئی میرے لیے. اب سے تیری روز گانڈ مارا کروں گا

Posted on: 06:05:AM 14-Dec-2020


0 0 198 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com