Stories


میری سیکسی دیدی از رابعہ رابعہ 338

میری بيے کا امتحان ختم ہو گئی تھی. مے اپنی چچےري دیدی کے یہاں گھومنے نینی تال گیا. ان سے ملے ہوئے مجھے کئی سال ہو گئے تھے. جب میں ساتویں میں پڑھتا تھا تبھی ان کی شادی فوج کے رنویر سنگھ کے ساتھ ہو گئی. اب وہ لوگ نینی تال میں رہتے تھے. مےنے سوچا چلو دیدی سے ملنے کے ساتھ ساتھ نینی تال بھی گھوم لوںگا. وہاں پہنچنے پر دیدی بهوت خوش ہوئی. بولی - ارے تم اتنے بڑے ہو گئے. میں نے تمہیں جب اپنی شادی میں دیکھا تھا تو تم صرف 11 سال کے تھے. میں نے کہا - جی دیدی اب تو میں بیس سال کا ہو گیا ہوں. دیدی نے مجھے خوب کھلایا پلایا. جیجا جی ابھی پچھلے تین ماہ سے کشمیر میں اپنی ڈیوٹی پر تھے. دیدی کی شادی ہوئے آٹھ سال ہو گئے تھے. دیدی کی اکلوتی اولاد تین سال کی جوہی تھی جو بهوت ہی نٹكھٹ تھی. وہ بھی مجھ بهوت ہی گھل -مل گئی. شام کو جیجا جی کا فون آیا تو میں نے ان سے بات کی. وہ بھی بهوت خوش تھے میرے آنے پر. بولے - ایک ماہ سے کم رہے تو کورٹ مارشل کر دوں گا. رات کو یوں ہی باتیں کرتے کرتے اور پرانی یادوں کو تازہ کرتے کرتے مے اپنے کمرے میں سونے چلا گیا. دیدی نے میرے لئے بستر لگا دیا اور بولی - اب آرام سے سو جاؤ. مے آرام سے سو گیا. لیکن رات کے ایک بجے نینی تال کی ٹھنڈی ہوا سے میری نیند کھل گئی. مجھے ٹھنڈ لگ رہی تھی. حالانکہ اب مئی کو مهنا تھا لیکن مے ممبئی کا رہنے والا آدمی بھلا نینی تال کی مئی مہینے کی بھی ہوا کو کیسے برداشت کر سکتا. میرے پاس چادر بھی نہیں تھا. میںنے دیدی کو آواز لگائی. لیکن وہ شاید گہری نیند میں سو رہی تھی. تھوڈی دیر تو میں چپ رہا لیکن جب بهوت ٹھنڈ لگنے لگی تو میں اٹھ کر دیدی کے کمرے کے پاس جا کر انہیں آواز لگائی. دیدی میری آواز سن کر هڈبڈي سے اٹھ کر میرے پاس چلی آئی اور کہا - کیا ہوا گڈو؟ وہ صرف ایک گنجی اور چھوٹی سی پینٹ جو کی عورتوں کی پیںٹی سے تھوڑی ہی بڑی تھی. گنجی بھی صرف چھاتی کو پردہ ڈالنے کی ادھوری سی کوشش کر رہی تھی. میں ان کی ڈریس کو دیکھ کے دنگ رہ گیا. دیدی کی عمر اب انتيس یا تیس کی ہی ہوتی رہی ہوگی. سارا بدن سونے کی طرح چمک رہا تھا. میں ان کے بدن کو ایکٹک دیکھ ہی رہا تھا کی دیدی نے پھر کہا- کیا ہوا گڈو؟ میری تدرا تحلیل ہوئی. میں نے کہا -ديدي مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے. مجھے چادر چاہئے. دیدی نے کہا - ارے مجھے تو گرمی لگ رہی ہے اور تجھے ٹھنڈی؟ میں نے کہا -مجھے یہاں کے ہواؤں کی عادت نہیں ہے نا. دیدی نے کہا -چچھا تو روم میں جا، میں تیرے لئے چادر لے کر آتی ہوں. مے کمرے میں آ کر لیٹ گیا. میری آنکھوں کے سامنے دیدی کا بدن اب بھی گھوم رہا تھا. دیدی کا اںگ اںگ تراشا ہوا تھا. تھوڑی ہی دیر میں دیدی ایک کمبل لے کر آئی اور میرے بستر پر رکھ دی. بولی - پتہ نہیں کس طرح تمہیں ٹھنڈ لگ رہی ہے. مجھے تو گرمی لگ رہی ہے. ٹھیک ہے، کچھ اور چاہئے تمہے؟ میںنے کہا- نہیں، لیکن کوئی جسم درد کی گولی ہے کیا؟ دیدی بولی- کیوں کیا ہوا؟ میں نے کہا - لمبی سفر سے آیا ہوں. بدن ٹوٹ سا رہا ہے. دیدی نے کہا گولی تو نہیں ہے. رک میں تیرے لئے کافی بنا کے لاتی ہوں. اس سے تیرا بدن درد دور ہو جائے گا. میںنے کہا- چھوڑیں دیدی، اتنی رات کو کیوں تکلیف کروگی؟ دیدی نے کہا -سمے تکلیفیں کیسا؟ تم میرے یہاں آئے ہو تو تمہیں کوئی تکلیف تھوڑے ہی ہونے دونگی. کہہ کر وہ چلی گئی. تھوڑی ہی دیر میں وہ دو کپ کافی بنا لائی. رات کے ڈیڑھ باز رہے تھے. ہم دونوں کافی پینے لگے. کافی پیتے پیتے وو بولی - لا، میں تیرا بدن دبا دیتی ہوں. اس سے تمہیں آرام ملے گا. میں نے کہا - نہیں دیدی، اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے. صبح تک ٹھیک ہو جائے گا. لیکن دیدی میرے بستر پر چڑھ گئی اور بولی - تم آرام سے لیٹا رہ مے اب تیری بدن کی مالش کر دیتی ہوں. کہتے کہتے وہ میرے جاںگھوں کو اپنی جاںگھوں پے رکھ کر اسے اپنے ہاتھوں سے دبانے لگی. میں نے پےجاما پہن رکھا تھا. وہ اپنی ننگی جاںگھوں پر میرے پاؤں کو رکھ کر اسے دبانے لگی. دباتے ہوئے بولی - ایک کام کر، پےجاما کھول دے، سارے پاؤں میں اچھی طرح سے تیل مالش کر دوں گی. . اب میں کسی بات کا انکار کرنے کا خیال چھوڑ دیا. میں نے جھٹ اپنا پےجاما کھول دیا. اب میں اںڈرویر اؤر بنیان میں تھا. دیدی نے پھر سے میرے پاؤں کو اپنی ننگی جاںگھوں پے رکھ کر تیل لگا کر مساج کرنے لگی. جب میرے پاؤں ان کی ننگی اور ہموار جاںگھوں پے رکھی تھی تو مجھے بهوت لطف آنے لگا. دیدی کی چوچی ان کی ڈھیلی ڈھیلی گنجی سے باہر دکھ رہی تھی. اس کی چونچی کی نپل ان کی پتلی گنجی میں سے ساف دکھ رہی تھی. مے انکی چوچی کو دیکھ دیکھ کے مست ہوا جا رہا تھا. ان کی ران اتنی ہموار تھی کی میرے پاؤں اس پر پھسل رہے تھے. ان کا ہاتھ دھيري آہستہ میرے انڈرویر تک آنے لگا. ان کے ہاتھ کے وہاں تک پہنچنے پر میرے لںڈ میں کشیدگی آنے لگا. میرا لںڈ اب مکمل طور پر پھنپھنانے لگا. میرا لںڈ انڈرویر کے اندر قریب چھ انچ اونچا ہو گیا. دیدی نے میری ٹانگوں کو پکڑ کر مجھے اپنی طرف کھینچ لائی اور میرے دونوں پیر کو اپنے کمر کے دونوں جانب کرتے ہوئے میرے لںڈ کو اپنے چوت میں سٹا دی. مجھے دیدی کی منشا گڑبڑ لگنے لگی. لیکن اب میں بھی چاہتا تھا کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہو جانے دو. دیدی نے کہا - گڈو، تو آپ کی بنیان اتر دو نہ. چھاتی کی بھی مالش کر دوں گی. میں نے بغیر وقت گواے بنیان بھی اتر دیا. اب میں صرف انڈرویر میں تھا. وہ جب بھی میری چھاتی مساج کے لئے میرے سینے پر جھکتی ان کا پیٹ میرے کھڑے لںڈ سے چپک رہا تھا. شاید وہ جان بجھ کر میرے لںڈ کو اپنے پیٹ سے دبانے لگی. ایک نوجوان عورت میری تیل مالش کر رہی ہے. یہ سوچ کر میرا جنس شیف ایک انچ اور بڑھ گیا. اس سے تھوڑا تھوڑا رس نکلنے لگا جس سے کی میرا انڈرویر گیلا ہو گیا تھا. اچانک دیدی نے میرے جنس کو پکڑ کر کہا - یہ تو کافی بڑا ہو گیا ہے تیرا. دیدی نے جب مجھ یہ کہا تو مجھے شرم سی آ گئی کہ شاید دیدی کو میرا لںڈ بڑا ہونا اچھا نہیں لگ رہا تھا. مجھے لگا شاید وہ میرے سکھ کے لئے میرا بدن مالش کر رہی ہے اور میں ان کے بدن کو دیکھ کر مست ہوا جا رہا ہوں اور گندے گندے خیال سوچ کر اپنا لںڈ کو کھڑے ریٹویٹ ہوا ہوں. اس لئے میں نے دھیمے سے کہا- یہ میں نے جان بجھ کر نہیں کیا. خود بخود خود ہو گیا ہے. لیکن دیدی میرے لںڈ کو دباتے ہوئے مسکراتے ہوئے كهي- بچہ بڑا ہو گیا ہے. ذرا دیکھوں تو کتنا بڑا ہے میرے بھائی کا لںڈ. یہ کہتے ہوئے اس نے میرا انڈرویر کو نیچے سرکا دیا. میرا سات انچ کا لهلهاتا ہوا لںڈ میری دیدی کی ہاتھ میں آ گیا. اب میں مکمل طور پر ننگا اپنی دیدی کے سامنے تھا. دیدی نے بڑے پیار سے میرے جنس کو اپنے ہاتھ میں لیا. اور اس میں تیل لگا کر مساج کرنے لگی. دیدی نے کہا - تیرا جنس طویل تو ہے مگر تیری طرح دبلا پتلا ہے. مساج نہیں کرتا ہے اس کی؟ میں نے پچھا - جیجا جی کا جنس کیسا ہے؟ دیدی نے کہا مت پوچھو. ان کا تو تیرے سے بھی لمبا اور موٹا ہے. وو بولی- کبھی کسی لڑکی کو ننگا دیکھا ہے؟ میں نے کہا - نہیں. اس نے کہا - مجھے ننگا دیکھے گا؟ میں نے کہا - اگر تم چاہو تو. دیدی نے اپنی گنجی ایک جھٹکے میں اتار دی. گنجی کے نیچے کوئی برا نہی تھی. ان بڑی بڑی چوچی میرے سامنے کسی پہاڑ کی طرح کھڑے ہو گےنكي دو پیاری پیاری چوچی میرے سامنے تھی. دیدی پوچھي- مٹھ مارتے ہو؟ میں نے کہا - جی ہاں. ديدي- کتنی بار؟ میں نے - ایک دو دن میں ایک بار. ديدي- کبھی دوسرے نے تیری مٹھ ماری ہے؟ میں نے -ها. ديدي- کس نے ماری تیری مٹھ؟ مےنے- ایک بار میں اور میرا ایک دوست نے ایک دوسرے کی مٹھ ماری تھی. دیدی - کبھی اپنے جنس کو کسی سے چسوا کر مال نکالا ہے تنے؟ مےنے- نہی. دیدی - رک، آج میں تمہیں بتاتی ہوں کی جب کوئی جنس کو چوستا ہے تو چسوانے والے کو کتنی مزہ آتا ہے. اتنا کہہ کے وہ میرے جنس کو اپنے مںہ میں لے لی. اور پورے جنس کو اپنے مںہ میں بھر لی. مجھے ایسا لگ رہا تھا کی وو میرے جنس کو کچا ہی کھا جائے گی. اپنے دانتوں سے میرے جنس کو چبانے لگی. تقریبا تین چار منٹ تک میرے جنس کو چبانے کے بعد وہ میرے جنس کو اپنے منہ سے اندر باہر کرنے لگی. ایک ہی منٹ ہوا ہوگا کی میرا مال باہر نکلنے کو بیتاب ہونے لگا. مےنے- دیدی، چھوڑیں، اب مال نکلنے والا ہے. دیدی - نکلنے دو نا. انہوں نے میرے جنس کو اپنے منہ سے باہر نہیں نکالا. لیکن میرے مال باہر آنے لگا. دیدی نے سارا مال پی جانے کے پوری کوشش کی لیکن میرے جنس کا مال ان کے منہ سے باہر نکل کر ان کے گالوں پر بھی بہنے لگا. گال پہ بہہ رہے میرے مال کو اپنے ہاتھوں سے پوچھ کر ہاتھ کو چاٹتے ہوئے بولی - ارے، تیرا مال تو ایک دم سے میٹھا ہے. کیسا لگا آج کا مٹھ مروانا؟ میں نے - اچھا لگا. دیدی - کبھی کسی بر کو چودا ہے تنے؟ میں نے - نہیں، کبھی موقع ہی نہیں لگا. پھر بولی- مجھے چودیگا؟ میں نے - جی ہاں. دیدی - ٹھیک ہے. کہ کر دیدی کھڑی ہو گئی اور اس کی چھوٹی سی پتلون کو ایک جھٹکے میں کھول دیا. اس کے نیچے بھی کوئی پیںٹی نہیں تھی. اس کے نیچے جو تھا وہ میں نے آج تک حقیقت میں نہیں دیکھا تھا. ایک دم بڑا، چیکنا، بغیر کسی بال کا، حسین سا بر میری آنکھوں کے سامنے تھا. اپنی بر کو میری منہ کے سامنے لا کر بولی - یہ رہا میرا بر، کبھی دیکھا ہے ایسا بر؟ اب دیکھنا یہ ہے کی تم کس طرح مجھے چودتے ہو. سارا بر تمہارا ہے. اب تم اس کا چاہے جو کرو. میںنے کہا- دیدی، تمہارا بر ایکدم چیکنا ہے. تم روز شیو کرتی ہو کیا؟ ديدي- تمہے کیسے پتا کی بر چیکنا ہوتا ہے کی بال والا ؟؟ میںنے کہا- وہ میں نے اپنی نوکرانی کو بر تین چار بار دیکھا ہے. اس کے بر میں ایکدم سے گھنے بال ہیں. اس کی بر تو کالی بھی ہے. تمہاری طرح سفید بر نہیں ہے اس کی. ديدي- اچھا، تو تم نے اپنی نوکرانی کی بر کیسے دیکھ لی ہے؟ میں نے کہا - وہ جب بھی میرے کمرے میں آتی ہے نہ تو اگر مجھے نہیں دیکھتی ہے تو میرے شیشے کے سامنے دم سے نںگی ہو کر اپنے آپ کو نهارا کرتی ہے. اس کی یہ عادت میں نے ایک دن جان لیا. تب سے میں تین چار بار جان بجھ کر چھپ جاتا ہوں اور وہ سوچتی تھی کی میں یہاں کمرے نہیں ہوں، وہ وہ ننگی ہو میرے شیشے کے سامنے اپنے آپ کو دیکھتی تھی. ديدي- بڑے شرارتی ہو تم. میںنے کہا- وہ تو میں نے دور سے کالی سی گندی سی بر کو دیکھا تھا جو کی گھنے بال کی وجہ ٹھیک سے دکھائی بھی نہیں دیتے تھے. لیکن آپ کی بر تو ایک دم سے ماربل کی طرح چمک رہی ہے. ديدي- وہ تو میں ہر سنڈے کو اسے صاف کرتی ہوں. کل ہی نہ سنڈے تھا. کل ہی میں نے اسے صاف کیا. اب مجھ سے رہا نہیں جا رہا تھا. سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کی کہاں سے شروع کیا جائے؟ مجھے کچھ نہیں سوجھا تو میں نے دیدی کو پہلے اپنی باہوں سے پکڑ کر بستر پر لٹا دیا .اب وہ میرے سامنے بالکل ننگی پڑی تھیں. پہلے میں نے ان حسین جسم کا جائزہ کیا دودھ سا سفید بدن. چچیوں کی کایا دیکھتے ہی بنتی تھی. لگتا تھا ماربل کے پتھر پہ کسی نے گلاب کی چھوٹی کلی رکھ دیا ہو. ان کی نپل ایکدم لال تھی. سپاٹ پیٹ. پیٹ کے نیچے کریمی سینڈوچ کی طرح پھولی ہوئی بر. بر کا رنگ ایکدم سونے کے طرح تھا. ان بر کو ہاتھ سے پھاڑ کر دیکھا تو اندر لال لال تربوز کی طرح نظارہ دکھا. کہی سے بھی شروع کروں تو بغیر سب جگہ ہاتھ مارے اقدامات نہیں دکھا. سوچا اوپر سے ہی شروع کیا. جائے. میں نے سب سے پہلے ان کے رسیلے سرخ اوٹھو کو اپنے اوٹھو میں بھر لیا. جی بھر کے چوما. اس دوران میرے ہاتھ دیدی کے چچیوں سے کھیلنے لگے. دیدی نے بھی میرا کس کا پورا جواب دیا. پھر میں ان کے اوٹھو کو چھوڑ ان کے گلے ہوتے ہوئے ان کی چوچی پر آ رکا. کافی بڑی اور سخت چوچیاں تھی. ایک بار میں ایک چوچی کو منہ میں دبایا اور دوسرے کو ہاتھ سے مسلتا رہا. تھوڑی دیر میں دوسری چوچی کا ذائقہ لیا. چچیوں کا جی بھر کے رسوسودن کے بعد اب باری تھی ان کے عظیم بر کے فلسفہ کا. جوں ہی میں ان کے بر پاس اپنا سر لے گیا مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے اپنی جیبھ کو ان بر کے منہ پر رکھ دیا. ذائقہ لینے کی کوشش کی تو ہلکا سا نمکین سا لگا. مذاق ذائقہ تھا. اب میں پوری بر کو اپنے مںہ میں لینے کی کوشش کرنے لگا. دیدی مست ہو کر سسکاری نکالنے لگی. میں سمجھ رہا تھا کہ دیدی کو مزہ آ رہا ہے. میں اور زور زور سے دیدی کا بر کو چسنا شروع کیا. قریب پندرہ منٹ تک میں دیدی کا بر کا ذائقہ لیتا رہا. اچانک دیدی زور سے آنکھ بند کر کے كراهي اور ان کے بر سے مال نکل کر ان کے بر کے درار ہوتے ہوئے گاںڈ کی درار کی اور چل دیئے. میں نے جہاں تک ہو سکا ان بر کا رس پان کیا. میں نے دیکھا اب دیدی پہلے کے برعکس پرسکون ہیں. لیکن میرا جنس شیف دم سے تنتنا گیا. میں نے دیدی کے دونوں پیروں کو مختلف سمت میں کیا اور ان بر کی ڈال پر اپنا جنس رکھا اور آہستہ آہستہ دیدی کے بدن پر لیٹ گیا. اس سے میرا جنس دیدی کے بر میں داخل کر گیا. جوں ہی میرا جنس دیدی کے بر میں داخل دیدی تقریبا چھٹپٹا اٹھی. میں نے کہا - کیا ہوا دیدی، جیجا جی کا جنس تو مجھ سے بھی موٹا ہے نہ تو فر تم چھٹپٹا کیوں رہی ہو؟ دیدی - تین ماہ سے کوئی جنس بر میں نہیں لی ہوں نہ اس لئے یہ بر تھوڑا سکڑ گیا ہے ف، لگتا نہیں ہے کی تمہے چدائی کے بارے میں پتہ نہیں ہے. كتنو کی لی ہے تنے؟ میں بولا- کبھی نہی دیدی، وو تو میں فلموں میں دیکھ کے اور کتابوں میں پڑھ کر سب جانتا ہوں. دیدی بولی- شاباش گڈو، آج پرےكٹكل بھی کر لو. کوئی بات نہیں ہے. تم اچھا کر رہے ہو. چالو رہنا. مزہ آ رہا ہے. میںنے دیدی کو اپنے دونوں ہاتھوں سے لپیٹ لیا. دیدی نے بھی اپنی ٹانگوں کو میرے اوپر سے لپیٹ کر اپنے ہاتھوں سے میری پیٹھ کو لپیٹ لیا. اب ہم دونوں ایک دوسرے سے بلكول گتھے ہوئے تھا. میں نے اپنی کمر دھیرے سے اوپر اٹھایا اس سے میرا جنس دیدی کے بر سے تھوڑا باہر آیا. میں نے پھر اپنا کمر کو نیچے کیا. اس سے میرا جنس دیدی کے بر میں مکمل طور پر سماں گیا. اس بار دیدی تقریبا چیخ اٹھی. اب میں نے دیدی کی چيكھو اور درد پر توجہ دینا بند کر دیا. اور ان کو پوری محبت سے چودنا شروع کیا. پہلے نو - دس دھکے میں تو دیدی ہر دھکے پر كراهي. لیکن دس دھکے کے آڑ ان کی بر چوڈي ہو گئی. تیس پینتیس دھکے کے بعد تو ان کا بر مکمل طور پر پھیل گیا. اب ان کو لطف آنے لگا تھا. اب وو میرے چتد پر ہاتھ رکھ کے میرے دھکے کو اور بھی زور دے رہی تھی. چونکہ تھوڑی دیر پہلے ہی ڈھیر سارا مال نکل گیا تھا اس لئے جلدی مال نکالنے والا تو تھا نہیں. مے انکی چدائی کرتے کرتے تھک گیا. قریب بیس منٹ تک ان کی بر چدائی کے بعد بھی میرا مال نہیں نکل رہا تھا. دیدی بولی - تھوڑا رک جاؤ. میں نے دیدی کے بر میں اپنا سات انچ کا جنس ڈالے ہوئے ہی تھوڑی دیر کے لئے رک گیا. میری ساںسے تیز چل رہی تھی. دیدی بھی تھک گئی تھی. میں نے ان کی چوچی کو مںہ میں بھر کر چسنا شروع کیا. اس بار مجھے شرارت سوجھی. میں نے ان کی چوچی میں دانت گڈا دئے. وہ چيكھي. بولی- کیا کرتے ہو؟ پھر میں نے ان اوٹھو کو اپنے مںہ میں بھر لیا. دو منٹ کے آرام کے بعد میں نے اپنے کمر کو دوبارہ حرکت میں لایا دیدی بولی - تھوڑا رک جاؤ. میں نے دیدی کے بر میں اپنا سات انچ کا جنس ڈالے ہوئے ہی تھوڑی دیر کے لئے رک گیا. میری ساںسے تیز چل رہی تھی. دیدی بھی تھک گئی تھی. میں نے ان کی چوچی کو مںہ میں بھر کر چسنا شروع کیا. اس بار مجھے شرارت سوجھی. میں نے ان کی چوچی میں دانت گڈا دئے. وہ چيكھي. بولی- کیا کرتے ہو؟ پھر میں نے ان اوٹھو کو اپنے مںہ میں بھر لیا. دو منٹ کے آرام کے بعد میں نے اپنے کمر کو دوبارہ حرکت میں لایا. اس بار میری سپیڈ کافی بڑھ گئی. دیدی کا پورا بدن میرے دھکے کے ساتھ آگے پیچھے ہونے لگا. دیدی بولی اب چھوڑیں گڈو. میرا مال نکل گیا. میں نے ان کی چدائی جاری رکھتے ہوئے کہا رکو نب میرا بھی نکل جائے گا. چالیس -پچاس دھکے کے بعد میں جنس کے منہ سے گنگا جمنا کی دفعہ بہہ نکلی. ساری دفعہ دیدی کے بر کے وسیع کنویں میں سما گئی. ایک بوند بھی باہر نہیں آئی. بیس منٹ تک ہم دونوں کو کچھ بھی ہوش نہیں تھا. مے اسی طرح سے ان کے بدن پہ پڑا رہا. بیس منٹ کے بعد وہ بولی -گڈڈو، آپ ٹھیک تو ہو نہ؟ میں نے بولا -ها. دیدی - کیسا لگا بر کی چدائی کر کے؟ میں نے - مزا آ گیا. ديدي- اور کروگے؟ میں نے - اب میرا مال نہیں نکلے گا. دیدی ہنسی اور بولی دھت پگلے. مال بھی کہیں ختم ہوتا ہے. رکو میں تمہارے لئے کافی بنا کے لاتی ہوں. دیدی ننگے بدن ہی کچن گئی اور کافی بنا کر لائی. کافی پینے کے بعد پھر سے تازگی چھا گئی. دیدی کے جسم دیکھ دیکھ کے مجھے پھر گرمی چڑھنے لگی. دیدی نے میرے جنس کو پکڑ کر کہا کیا حال ہے جناب کا؟ میں نے کہا - کیوں دیدی، پھر سے ایک راؤنڈ ہو جائے؟ دیدی - کیوں نہی. اس بار آرام سے کریں گے. دیدی بستر پر لیٹ گئی. پہلے تو میں نے ان کے بر کو چاٹ چاٹ کے پنيا دیا. میرا جنس شیف بڑی ہی مشکل سے دوبارہ تیار ہوا. لیکن جیسے ہی میں نے ان کو دیدی کے بر دیوی سے ملاقات کروایا وہ تںرت ہی جاگ گئے. صبح کے چار بج گئے تھے. اسی وقت اپنے جنس شیف کو دیدی کے بر دیوی کہہ داخل کرایا. پورے پےتالس منٹ تک دیدی کو چودتا رہ. دیدی کی بر نے پانچ چھ بار پانی چھوڑ دیا. وہ مجھ بار بار کہتی رہی -گڈڈو چھوڑ دو. اب نہیں. کل کرنا. لیکن میں نے کہا نہی دیدی اب تو جب تک میرا مال نہیں نکل جاتا تب تک تمہارے بر کا بہبود نہیں ہے. پےتالس منٹ کے بعد میرے جنس شیف نے جو دفعہ نکالی تو میرے تو جیسے جان ہی نکل گئے. جب دیدی کو پتہ چلا کی میرا مال نکل گیا ہے تو جیسے تیسے اپنے اوپر سے مجھے رہیں اور اپنے کپڑے لئے کھڑی ہو گئی. میں تو بلكول نڈھال ہو بستر پہ پڑا رہا. دیدی نے میرے اوپر کمبل رکھا اور بغیر کپڑے پہنے ہی ہاتھ میں کپڑے لئے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی. آنکھ کھلی تو دن کے بارہ بج چکے تھے. میں ابھی بھی نںگا صرف کمبل اوڈھے ہوئے پڑا تھا. کسی طرح اٹھ کر کپڑے پہنا اور باہر آیا. دیکھا دیدی كچےن میں ہے. مجھے دیکھ کر مسکرائی اور بولی - ایک رات میں ہی یہ حال ہے، جیجاجی کا آرڈر سنا ہے نا پورے ایک ماہ رہنا ہے. ہاں ہاں ہاں ہاں !!!! اس طرح دیدی کی چدائی سے ہی میرا بلوغت کا آغاز ہوا. میں وہاں ایک ماہ سے بھی زیادہ رکا جب تک جیجا جی نہی آ گئے. اس ایک ماہ میں کوئی بھی رات میں نے بغیر ان کی چدائی کے نہیں گزاریں، دیدی نے مجھ کو اتنی زیادہ پریکٹس کروائی کی اب ایک رات میں پانچ بار بھی ان کی بر کی چدائی کر سکتا تھا. انہوں نے مجھے اپنی گاںڈ کے فلسفہ بھی کئی بار کروائی. کئی بار دن میں ہم دونوں نے ساتھ غسل بھی کیا. آخر ایک دن جیجاجی بھی آ گئے. جب رات ہوئی اور جیجاجی اور دیدی اپنے کمرے میں گئے تو تھوڑی ہی دیر میں دیدی کی چیخ اور کراہنے کی آواز زور زور سے میرے کمرے میں آنے لگی. میں تو ڈر گیا. آواز کی دیدی کی چدائی کا بھید کھل گیا ہے اور جیجا جی دیدی کی پٹائی کر رہے ہیں. رات دس بجے سے صبح چار بجے تک دیدی کی کراہنے کی آواز آتی رہی. صبح جیسے ہی دیدی سے ملاقات ہوئی تو میں نے پچھا - کل رات جیجاجی نے تمہیں مارا پیٹا؟ کل رات بھر تمہارے کراہنے کی آواز آتی رہی. دیدی بولی- دھت پگلے. وہ تو رات بھر میری چدائی کر رہے تھے. چار ماہ کی گرمی تھی اس لئے کچھ زیادہ ہی اچھل کود ہو رہی تھی. میںنے کہا- دیدی اب میں جاؤں گا. دیدی نے کہا - کب؟ میں نے کہا - آج رات ہی نکل جاؤں گا. دیدی بولی- ٹھیک ہے. چل رات کی كھماري تو نکال دے میری. میں نے کہا - جیجاجی گھر پہ ہیں. وہ جان جائیں گے تو. دیدی بولی- وہ رات کو اتنی بیئر پی چکے ہیں کی دوپہر سے پہلے نہیں اٹھنے والے. دیدی کو میں نے اپنے کمرے میں لے جا کر اتنی چدائی کی کی آنے والے دو - تین ماہ تک مجھے مٹھ مارنے کی بھی ضرورت نہیں ہوئی. جیجا جی نے جب دیدی کو آواز لگائی تبھی دیدی کو مجھ نجات ملی. آخری بار میں نے دیدی کے بر کو کس کیا اور وہ اپنے کپڑے پہنتے ہوئے اپنے کمرے میں جیجا جی سے چدوانے پھر چلی گئی. اسی رات کو میں نے اپنے گھر کی ٹرین پکڑ لی

Posted on: 06:07:AM 14-Dec-2020


0 0 167 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 1 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com