Stories


شادی شدہ عورت کی سوانح عمری از رابعہ رابعہ 338

ایک دن، جب سب کو ماہ کی تنخواہ دی جا رہی تھی، باس نے سب کو جلدی چھٹی دے دی. سب پیسے لے کر گھر چلے گئے، صرف ترقی حساب کے کاغذات پورے کرنے کے لئے رہ گئی تھی. جب یہ کام ختم ہو گیا تو وہ باس کی کیبن میں اس کے دستخط لینے گئی. باس، جس کا نام شیکھر ہے، اس کا انتظار کر رہا تھا. اس نے اسے بیٹھنے کو کہا اور اس کا تنخواہ اسے دیتے ہوئے اس کے کام کی تعریف کی. ترقی نے جھکی آنکھوں سے شکریہ کیا اور جانے کے لئے اٹھنے لگی. شیکھر نے اسے بیٹھنے کے لئے کہا اور اٹھ کر اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا. اس نے پیار سے اس سے پوچھا کہ وہ اتنی گمسم کیوں رہتی ہے؟ کیا آفس میں کوئی اسے تنگ کرتا ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے؟ ترقی نے سر ہلا کر منا کیا پر بولی کچھ نہیں. شیکھر کو لگا کہ ضرور کوئی آفس کی ہی بات ہے اور وہ بتانے سے شرما یا گھبرا رہی ہے. اس نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھراتے ہوئے کہا کہ اسے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور وہ پاگل اسے سچ سچ بتا سکتی ہے. ترقی کچھ نہیں بولی اور سر جھکائے بیٹھی رہی. شیکھر اس کے سامنے آ گیا اور اس کی ٹھوڈي پکڑ کر اوپر اٹھائی تو دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے. شیکھر نے اسکے گالوں پر آنسو پوچھے اور اسے پیار سے اپنے سینے سے لگا لیا. اس وقت ترقی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی اور شیکھر اس کے سامنے کھڑا تھا. اس لئے ترقی کا سر شیکھر کے پیٹ سے لگا تھا اور شیکھر کے ہاتھ اس کی پیٹھ اور سر کو سہلا رہے تھے. ترقی اب ایک بچے کی طرح رونے لگ گئی تھی اور شیکھر اسے رونے دے رہا تھا جس سے اس کا دل ہلکا ہو جائے. تھوڑی دیر بعد وہ پرسکون ہو گئی اور اپنے آپ کو شیکھر سے الگ کر لیا. شیکھر اس کے سامنے کرسی لے کر بیٹھ گیا. پاس کے جگ سے ایک گلاس پانی ترقی کو دیا. پانی پینے کے بعد ترقی اٹھ کر جانے لگی تو شیکھر نے اسے بیٹھے رہنے کو کہا اور بولا کہ اپنی کہانی اسے سنائے. کیا بات ہے؟ کیوں روئی؟ اسے کیا تکلیف ہے؟ ترقی نے تھوڑی دیر ادھر ادھر دیکھا اور پھر ایک لمبی سانس لے کر اپنی کہانی سنانی شروع کی. اس نے بتایا کس طرح اس کی شادی اس کی مرضی کے خلاف ایک گنوار، ظالمانہ، شرابی کے ساتھ کرادی تھی جو عمر میں اس سے 15 سال بڑا تھا. اس کے گھروالوں نے سوچا تھا کہ پولیس والے کے ساتھ اس کی زندگی آرام سے بيتےگا اور وہ محفوظ بھی رہے گی. انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اگر وہ خراب نکلا تو اس کا کیا ہوگا؟ ترقی نے تھوڑی ہچکچاہٹ کے بعد اپنے دامپتي زندگی کی کڑواہٹ بھی بتا ڈالی. کس طرح اس کا شوہر اس کے جسم کو صرف اپنے سکھ کے لئے استعمال کرتا ہے اور اس کے بارے میں کچھ نہیں سوچتا. کس طرح اس کے ساتھ بغیر کسی محبت اس کی خشک یون بسم کرتا ہے، کس طرح اس کا ازدواجی زندگی جہنم بن گیا ہے. جب اس نے اپنے 13 سال کے بیٹے کے مرنے کے بارے میں بتایا تو وہ پھر سے رونے لگی. کس طرح سے اس کے گھر والے اسے ہی اس کے بیٹے کے مرنے کے لئے ذمہ دار کہنے لگے. کس طرح اس کا شوہر ایک اور بچے کے لئے اس کے ساتھ زبردستی سمبھوگ کرتا تھا اور اس کے دوستوں کے سامنے اس کی كھللي اڑاتا تھا. شیکھر آرام سے اس کی باتیں سنتا رہا اور درمیان درمیان میں اس کا سر یا پیٹھ سہلاتا رہا. ایک دو بار اس کو پانی بھی پلایا جس سے ترقی کا رونا کم ہوا اور اس کی ہمت بڑھی. آہستہ آہستہ اس نے ساری باتیں بتا ڈالي جو ایک عورت کسی غیر مرد کے سامنے نہیں بتاتی. ترقی کو ایک آزادی سی محسوس ہو رہی تھی اور اس کا برسوں سے بھرا ہوا دل ہلکا ہو رہا تھا. کہانی ختم ہوتے ہوتے ترقی یکایک کھڑی ہو گئی اور شیکھر کے سینے سے لپٹ گئی اور پھر سے رونے لگی مانو اسے یہ سب بتانے کی گلان ہو رہی تھی. شیکھر نے اسے سینے سے لگائے رکھا اور پیٹھ سہلاتے ہوئے اسکو تسلی دینے لگا. ترقی کو ایک محبت سے بات کرنے والے مرد کا ٹچ اچھا لگ رہا تھا اور وہ شیکھر کو زور سے پکڑ کر لپٹ گئی. شیکھر کو بھی اپنے سے 15 سال چھوٹی لڑکی سی عورت کا آلںگن اچھا لگ رہا تھا. ویسے اس کے دل کوئی کھوٹ نہیں تھی اور نہ ہی وہ ترقی کی مجبوری کا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا. پھر بھی وہ چاہ رہا تھا کہ ترقی اس سے لپٹی رہے. تھوڑی دیر بعد ترقی نے تھوڑی ڈھیل دی اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے ہوںٹ شیکھر کے ہوںٹوں پر رکھ دئے اور اسے پیار سے چومنے لگی. شاید یہ اس کے شکریہ کرنے کا طریقہ تھا کہ شیکھر نے اس کے ساتھ اتنی سهانبھوت برتی تھی. شیکھر تھوڑا حیرت تھا. وہ سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کرے! جب ترقی نے اپنی جیبھ شیکھر کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کی اور کامیاب بھی ہو گئی. اب تو شیکھر بھی اتیجت ہو گیا اور اس نے ترقی کو کس کر پکڑ لیا اور زور سے چومنے لگا. اس نے بھی اپنی زبان کی ترقی کے منہ میں ڈال دی اور دونوں جيبھو میں دود ہونے لگا. اب شیکھر کی کامکتا جاگ رہی تھی اور اس کا جنس اںگڈائی لے رہا تھا. ایک شادی شدہ لڑکی کو یہ بھاپنے میں دیر نہیں لگتی. سو ترقی نے اپنا جسم اور پاس میں کرتے ہوئے شیکھر کی جنس کے ساتھ سٹا دیا. اس طرح اس نے شیکھر کو اگلا قدم اٹھانے کے لئے مدعو کیا. شیکھر نے ترقی کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر کہا کہ اس نے پہلے کبھی کسی پراي عورت کے ساتھ ایسا نہیں کیا اور وہ اس کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا. اب تو ترقی کو شیکھر پر اور بھی پیار آ گیا. اس نے کہا آپ تھوڑے ہی میرا فائدہ اٹھا رہے ہو. میں ہی آپ کو اپنا پیار دینا چاہتی ہوں. آپ ایک اچھے انسان ہو ورنہ کوئی اور تو خوشی خوشی میری عزت لوٹ لیتا. شیکھر نے پوچھا کہ وہ کیا چاہتی ہے، تو اس نے کہا پہلے آپ کے گیسٹ روم میں چلتے ہیں، وہاں بات کریں گے. آفس کا ایک کمرہ بطور گیسٹ روم استعمال ہوتا تھا جس میں باہر سے آنے والے کمپنی افسر رہا کرتے تھے. ادھر رہنے کی سب خصوصیات دستیاب تھیں. ترقی، شیکھر کا ہاتھ پکڑ کر اسے گیسٹ روم کی طرف لے جانی لگی. کمرے میں پہنچتے ہی اس نے اندر سے دروازہ بند کر لیا اور شیکھر کے ساتھ لپٹ گئی. اس کی جیب شیکھر کے منہ کو ٹٹولنے لگی. ترقی کو جیسے کوئی چنڈی چڑھ گئی تھی. اسے تیز انماد چڑھا ہوا تھا. اس نے جلدی سے اپنے کپڑے اتارنے شروع کئے اور تھوڑی ہی دیر میں نںگی ہو گئی. ننگی ہونے کے بعد اس نے شیکھر کے پاؤں چھوئے اور کھڑی ہو کر شیکھر کے کپڑے اتارنے لگی. شیکھر هككابككا سا رہ گیا تھا. سب کچھ بہت تیزی سے ہو رہا تھا اور اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے. وہ منتر-مسحور سا کھڑا رہا. اس کے بھی سارے کپڑے اتر گئے تھے اور وہ پورا نںگا ہو گیا تھا. ترقی گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور شیکھر کی جنس کو دونوں ہاتھوں سے سجدہ کیا. پھر بغیر کسی انتباہ کے جنس کو اپنے مںہ میں لے لیا. حالانکہ شیکھر کی شادی کو 20 سال ہو گئے تھے اس نے کبھی بھی یہ تجربہ نہیں کیا تھا. اس کے بہت اصرار کرنے کے باوجود بھی اس کی بیوی نے اسے یہ خوشی نہیں دیا تھا. اس کی بیوی کو یہ گندا لگتا تھا. یعنی، یہ شیکھر کا پہلا تجربہ تھا اور وہ ایک دم مشتعل ہو گیا. اس کا جنس جلد ہی وكارال شکل اختیار کرنے لگا. ترقی نے اس کے جنس کو پیار سے چوسنا شروع کیا اور زبان سے اس کے سرے کو سہلانے لگی. ابھی 2 منٹ بھی نہیں ہوئے ہوں گے کہ شیکھر اپنے پر قابو نہیں رکھ پایا اور اپنا جنس ترقی کے منہ سے باہر کھینچ کر زوردار طریقے سے سکھلت ہو گیا. اس کا سارا کام-شہد ترقی کے سینوں اور پیٹ پر برس گیا. شیکھر اپنی جلد بازی سے شرمندہ تھا اور ترقی کو ساری کہتے ہوئے باتھ چلا گیا. ترقی ایک سمجھدار لڑکی تھی اور آدمی کی طاقت اور کمزوری دونوں سمجھتی تھی. وہ شیکھر کے پیچھے باتھ روم میں گئی اور اس کو ہاتھ پکڑ کر باہر لے آئی. شیکھر شرمیلا سا کھڑا تھا. ترقی نے اسے بستر پر بٹھا کر دھیرے سے لٹا دیا. اس کی ٹاںگیں بستر کے کنارے سے لٹک رہی تھیں اور جنس مرجھايا ہوا تھا. ترقی اس کی ٹانگوں کے درمیان زمین پر بیٹھ گئی اور ایک بار پھر سے اس کے جنس کو اپنے مںہ میں لے کر چوسنے لگی. مرجھايے جنس کو مکمل طور پر منہ میں لے کر اس نے جیب سے اسے مسلنا شروع کیا. شیکھر کو بہت مزا آ رہا تھا. ترقی نے اپنے منہ سے جنس اندر باہر کرنا شروع کیا اور درمیان درمیان میں رک کر اپنے تھوک سے اسے اچھی طرح گیلا کرنے لگی. شیکھر خوشی کے مارے پھولا نہیں سما رہا تھا. اس کے ہاتھ ترقی کے بالوں کو سہلا رہے تھے. آہستہ آہستہ اس کے جنس میں پھر سے جان آنے لگی اور وہ بڑا ہونے لگا. اب تک ترقی نے پورا جنس اپنے منہ میں رکھا ہوا تھا پر جب وہ بڑا ہونے لگا تو منہ کے باہر آنے لگا. وہ اٹھ کر بستر پر بیٹھ گئی اور جھک کر جنس کو چوسنے لگی. اس کے کھلے بال شیکھر کے پیٹ اور رانوں پر گر رہے تھے اور اسے گدگدی کر رہے تھے. اب شیکھر کا جنس بالکل تن گیا تھا اور اس کی چوڑائی کی وجہ ترقی کے دانت اس کے جنس کے ساتھ رگڑ کھا رہے تھے. اب تو شیکھر کی جھینپ بھی جاتی رہی اور اس نے ترقی کو ایک منٹ رکنے کو کہا اور بستر کے پاس کھڑا ہو گیا. اس نے ترقی کو اپنے سامنے گھٹنے کے بل بیٹھنے کو کہا اور اپنا جنس اس کے منہ میں ڈال دیا. اب اس نے ترقی کے ساتھ ادارتی-میتھن کرنا شروع کیا. اپنے جنس کو اس کے منہ کے اندر باہر کرنے لگا. شروع میں تو آدھا جنس ہی اندر جا رہا تھا پر آہستہ آہستہ ترقی اپنے سر کا زاوےے بدلتے ہوئے اس کا مکمل جنس اندر لینے لگی. کبھی کبھی ترقی کو ایسا لگتا گویا جنس اس کے حلق سے بھی آگے جا رہا ہے. شیکھر کو بہت زیادہ مزا آ رہا تھا. اس نے اپنے دھکے تیز کر دئے اور مانو بھول گیا کہ وہ ترقی کے منہ سے میتھن کر رہا ہے. ترقی کو جنس کہ بڑی سائیز سے تھوڑی تکلیف تو ہو رہی تھی پر اس نے کچھ نہیں کہا اور اپنا منہ جتنا زیادہ کھول سکتی تھی کھول کر شیکھر کے لطف میں لطف لینے لگی. شیکھر اب دوسری بار سربراہی پر پہنچنے والا ہو رہا تھا. اس نے ترقی کے سر کو پیچھے سے پکڑ لیا اور زور زور سے اس کے منہ کو چودنے لگا. جب اس کے لاوے کا اپھان آنے لگا اس نے اپنا جنس باہر نکالنے کی کوشش کی پر ترقی نے اسے ایسا نہیں کرنے دیا اور دونوں ہاتھوں سے شیکھر کے چوتڈ پکڑ کر اس کا جنس اپنے منہ میں جتنا اندر کر سکتی تھی، کر لیا. شیکھر اس کے لئے تیار نہیں تھا. اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ کسی لڑکی کے منہ میں اپنے لاوے کا فاؤنٹین چھوڑ پائے گا. اس خوشی سے گویا اسکا لںڈ ڈیڑھ گنا اور بڑا ہو گیا اور اس کا نقشہ ایک زلزلے کے برابر آیا. ترقی کا منہ مکھن سے بھر گیا پر اس نے باہر نہیں آنے دیا اور مکمل پی گئی. شیکھر نے اپنا جنس ترقی کے منہ سے باہر نکالا اور جھک کر اسے اوپر اٹھایا. ترقی کو کس کر آلںگن میں بھر کر اس نے اس کا زور دار بوسہ لیا جس آبار بھری ہوئی تھی. ترقی کے منہ سے اس کے لاوے کی عجیب سی مہک آ رہی تھی. دونوں نے دیر تک ایک دوسرے کے منہ میں اپنی زبان سے گہرائی سے پیمانے پر تفتییش کی اور پھر تھک کر لیٹ گئے. شیکھر کئی سالوں سے ایک وقت میں دو بار سکھلت نہیں ہوا تھا. اس کا جنس دوبارہ کھڑا ہی نہیں ہوتا تھا. اسے بہت اچھا لگ رہا تھا. دن کے ڈیڑھ بج رہے تھے. دونوں کو گھر جانے کی جلدی نہیں تھی کیونکہ آفس شام 5 بجے تک کا تھا اور ویسے بھی ان کو آفس میں دیر ہو ہی جاتی تھی. عام طور پر وہ 6-7 بجے ہی نکل پاتے تھے. دونوں ایک دوسرے کی باہوں میں لیٹ گئے اور نہ جانے کب سو گئے. تقریبا ایک گھنٹہ سونے کے بعد شیکھر کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا ترقی دونوں کے ٹفن کھول کر کھانا ٹیبل پر لگا رہی تھی. اس نے اپنے کو تولیے سے ڈھک رکھا تھا. شیکھر نے اپنے آفس کی الماری سے رم کی بوتل اور منجمد سے کوک کی بوتلیں نكالي اور دونوں کے لئے رم-کوک کا گلاس بنایا. ترقی نے کبھی شراب نہیں پی تھی پر شیکھر کے اصرار پر اس نے لے لی. پہلا نگلنا اسے کڑوا لگا پر پھر عادت ہو گئی. دونوں نے رم پی اور گھر سے لایا کھانا کھایا. کھانے کے بعد دونوں پھر لیٹ گئے. شیکھر کو اچانک توجہ آیا کہ اب تک اس نے ترقی کو ٹھیک سے چھوا تک نہیں ہے. ساری پہل ترقی نے ہی کی تھی. اس نے کروٹ بدل کر ترقی کی طرف رخ کیا اور اس کے سر کو سہلانے لگا. ترقی نے تولیہ لپیٹا ہوا تھا. شیکھر نے تولیے کو ہٹانے کے لئے ترقی کو کروٹ دلا دی جس سے اب وہ الٹی لیٹی ہوئی تھی. شیکھر نے اس کے ہاتھ دونوں طرف پھیلا دیے اور اس کی ٹاںگیں تھوڑی کھول دیں. اب شیکھر اس کی پیٹھ کے دونوں طرف ٹاںگیں کر کے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور پہلی بار اس نے ترقی کے جسم کو چھو لیا. اس کے لئے کسی پراي عورت کو چھونے کا یہ پہلا تجربہ تھا کچھ گناہ بڑا لطف دیتے ہیں. اس کے ہاتھ ترقی کے پورے جسم پر پھرنے لگے. ترقی کا ٹچ اسے اچھا لگ رہا تھا اور اس کی پیٹھ اور چوتڑ کا منظر اس میں جوش پیدا کر رہا تھا. ترقی ایک مليالي لڑکی تھی جو نہانے کے لئے صابن کا استعمال نہیں کرتی تھی. اسے روایتی ملتاني مٹی کی عادت تھی جس سے اس کی کایا بہت ہموار اور صحت مند تھی. وہ بالوں میں روز ناریل تیل سے مساج کرتی تھی جس سے اس کے بال سیاہ اور گھنے تھے. ان معاملات میں وہ پرانے خیالات کی تھی. اس کے پرانے خیالات میں اپنے شوہر کے حکم ماننا اور اس کی خواہش پورا کرنا بھی شامل تھا. یہی وجہ تھی کی اتنے دنوں سے وہ اپنے شوہر کا ظلم سہ رہی تھی. شیکھر ترقی کے جسم کو دیکھ کر اؤر چھو کر بہت خوش تھا. اسے اس کے شوہر پر رشک بھی ہو رہا تھا اور غصہ بھی آ رہا تھا کہ ایسی خوبصورت بیوی کو پیار نہیں کرتا تھا. شیکھر نے ترقی کے کندھوں اور گردن کو ملنا اور ان کی مساج کرنا شروع کیا. کہیں کہیں گاٹھے تھی تو انہیں مسل کر نکالنے لگا. جب ہاتھ خشک لگنے لگے تو باتھروم سے تیل لے آیا اور تیل سے مالش کرنے لگا. جب کندھے ہو گئے تو وہ تھوڑا پیچھے کھسک گیا اور پیٹھ پر مساج کرنے لگا. جب وہ مساج کے لئے اوپر نیچے ہوتا تو اسکا لںڈ ترقی کی گاںڈ سے ہلکے سے چھو جاتا. ترقی کو یہ رابطے گدگداتا اور وہ کراہ اٹھتے اور شیکھر کو محرک ہونے لگتی. تھوڑی دیر بعد شیکھر اور نیچے کھسک گیا جس سے لںڈ اؤر گاںڈ کا رابطہ تو ٹوٹ گیا پر اب شیکھر کے ہاتھ اسکی گاںڈ کی مالش کرنے لگے. اس نے دونوں چوتڈوں کو اچھے سے تیل لگا کر مسئلہ اور مساج کرنے لگا. اسے بہت مزا آ رہا تھا. ترقی بھی لطف لے رہی تھی. اسے کسی نے پہلے ایسے نہیں کیا تھا. شیکھر کے مردانے ہاتھوں کا دباؤ اسے اچھا لگ رہا تھا. شیکھر اب اسکی جاںگھوں تک پہنچ گیا تھا. شیکھر کی انگلیاں اسکی جاںگھوں کے اندرونی حصے کو ٹٹولنے لگی. ترقی نے اپنی ٹاںگیں تھوڑی اور کھول دیں اور خوشی سے دھیما دھیما كرهانے لگی. شیکھر نے ہلکے سے ایک دو بار اس کی اندام نہانی کو چھو بھر دیا اور پھر اس کے گھٹنوں اور پنڈلیوں کو مساج کرنے لگا. ترقی چاہتی تھی کہ شیکھر اندام نہانی سے ہاتھ نہ هٹايے پر کسمسا کر رہ گئی. شیکھر بھی اسے جان بوجھ کر چھیڑ رہا تھا. وہ اسے اچھی طرح اتیجیت کرنا چاہتا تھا. تھوڑی دیر بعد ترقی کے پاؤں اپنے گودی میں رکھ کر سہلانے لگا تو ترقی دم اٹھ گئی اور اپنے پاؤں سکوڑ لئے. وہ نہیں چاہتی تھی کہ شیکھر اس کے پاؤں دبایے. پر شیکھر نے اسے پھر سے لٹا دیا اور دونوں پاؤں کے تلووں کی اچھی طرح سے مساج کر دی. ترقی کو بہت آرام مل رہا تھا اور نہ جانے کتنے برسوں کی تھکاوٹ دور ہو رہی تھی. اب ترقی آبار محسوس کر رہی تھی. شیکھر نے ترقی کو سیدھا ہونے کو کہا اور وہ ایک فرمانبردار لونڈی کی طرح الٹ کر سیدھی ہو گئی. شیکھر نے پہلی بار غور سے ترقی کے ننگے جسم کو سامنے سے دیکھا. جو اس نے دیکھا اسے بہت اچھا لگا. اس کے چھاتی چھوٹے پر بہت گٹھيلے اور گولنما تھے جس سے وہ ایک 16 سال کی کمسن لگتی تھی. چوچیاں ہلکے كتتھي رنگ کی تھی اور چھاتی پر تن کر گویا راج کر رہی تھی. شیکھر کا من ہوا وہ ان کو ایک دم اپنے منہ میں لے لے اور چوستا رہے پر اس نے آہستگی سے کام لیا. ہاتھوں میں تیل لگا کر اس نے ترقی کی بھجاو کی مالش کی اور پھر اس کے چھاتی پر مساج کرنے لگا. یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ کس کو مزہ زیادہ آ رہا تھا. تھوڑی دیر مزے لینے کے بعد شیکھر نے ترقی کے پیٹ پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا. اس کے پتلے پیٹ پر تیل کا ہاتھ آسانی سے پھسل رہا تھا. اس نے ناف میں اوںگلی گھما کر مساج کیا اور پھر ہولے ہولے شیکھر کے ہاتھ اس کے مرکزی توجہ کی طرف بڑھنے لگے. ترقی نے پیش گوئی سے اپنی ٹاںگیں اور چوڑی کر لیں. شیکھر نے ہاتھوں میں اور تیل لگا کر ترقی کی اندام نہانی کے ارد گرد سہلانا شروع کیا. کچھ دیر تک اس نے جان بوجھ کر اندام نہانی کو نہیں چھوا. اب ترقی کو تڑپن ہونے لگی اور وہ كسمسانے لگی. شیکھر کے ہاتھ ناف سے لے کر رانوں تک تو جاتے پر اندام نہانی اور اس کے بھاگ کو نہیں چھوتے. تھوڑی دیر تڑپانے کے بعد جب شیکھر کی انگلیاں پہلی بار یون کی پلکوں کو لگیں تو ترقی انماد سے كوك گئی اور اس کا مکمل جسم ایک بار لہر گیا. مساج ہی شاید اس کا انزال ہو گیا تھا، کیونکہ اس کی اندام نہانی سے ایک دودیا دھار بہہ نکلی تھی. شیکھر نے زیادہ تڈپانا ٹھیک نہ سمجھتے ہوئے اس کی اندام نہانی میں انگلی سے مساج شروع کیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کی بھگناسا کو سہلانے لگا. ترقی کی اندام نہانی مانو سمبھوگ کی بھیک مانگ رہی تھی اور ترقی کی آنکھیں بھی شیکھر سے یہی درخواست کر رہی تھیں. ادھر شیکھر کا جنس بھی اںگڈائی لے چکا تھا اور آہستہ آہستہ اپنے پورے بلوغت میں آ رہا تھا. شیکھر نے ترقی کو بتایا کہ وہ سمبھوگ نہیں کر سکتا کیونکہ اس کو پاس کنڈوم نہیں ہے اور وہ بغیر کنڈوم کے ترقی کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا، اس لئے وہ ترقی کو انگلیوں سے ہی مطمئن کر دے گا. پر پیش رفت نے شیکھر کو بغیر کنڈوم کے ہی سمبھوگ کرنے کو کہا. اس نے کہا اگر کنڈوم ہوتا بھی تو بھی وہ اسے استعمال نہیں کرنے دیتی. جب سے اس کے بیٹے کی موت ہوئی ہے اسے بچے کی لالسا ہے اور اگر بچہ ہو بھی جاتا ہے تو اس کے گھر میں سکھ آ جائیں گی. اس نے یقین دلایا کہ وہ کبھی بھی شیکھر کو اس کے لئے ذمہ دار نہیں ٹھہرائے گی اور نہ ہی کبھی اس کا نقصانات ماگےگي. اس نے شیکھر کو کہا کہ اگر اسے ترقی پر بھروسہ ہے تو ہمیشہ بغیر کنڈوم کے ہی سمبھوگ کریں گے. اس نے یہ بھی کہا کہ جتنا سکھ اسے آج ملا ہے اسے 14 سال کی شادی میں نہیں ملا اور وہ چاہتی ہے کہ یہ سکھ وہ مستقبل میں بھی لیتی رہے. اس نے کہا کہ شاید وہ ایک کم کردار کی عورت جیسی لگ رہی ہوگی پر ایسی ہے نہیں اور اس کے لئے کسی غیر مرد سے ساتھ ایسا کرنا پہلی بار ہوا ہے. شیکھر نے اسے سمجھایا کہ کئی بار جلدی میں لئے ہوئے فیصلہ بعد میں پچھتاوے کا سبب بن جاتے ہیں اس لئے اچھے سے سوچ لو. ترقی نے کہا کہ کوئی بھی عورت ایسے فیصلے بغیر سوچے سمجھے نہیں لیتی. وہ پورے هوشو-هواس میں ہے اور اپنے فیصلے پر فیصلہ پر قائم ہے اور شرم نہیں ہے. شیکھر کو ترقی کے اس عہد اور اعتماد پر فخر ہوا اور اس نے تیل سے سنی ہوئی ترقی کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا. اس دوران شیکھر کا جنس مرجھا گیا تھا. ترقی نے جنس کی طرف دیکھتے ہوئے شیکھر کو آنکھوں ہی آنکھوں میں یقین دہانی دلایا کہ وہ اس جنس میں جان ڈال دے گی. اس نے شیکھر کو لٹا دیا اور اس کے اوپر ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل آ گئی. پہلے اس نے اپنے بالوں کی لٹو سے اس کے مرجھايے جنس پر لہرا کر گدگدی کی اور پھر اپنے سینوں سے لںڈ کو مسلنے لگی. آپ کی ابھری ہوئی چوچیوں سے اس نے لںڈ کو اوپر سے نیچے تک گلگلي کی. شیکھر کا بے چارہ جنس اس طرح کے لبھانے کا وغیرہ نہیں تھا اور جلد ہی مرے سے ادھ مرا ہو گیا. ترقی نے شیکھر کے لںڈ کی بنیاد کے چاروں طرف زبان پھرانا شروع کیا اور اس کی سلاخوں چاٹنے لگی. ایک ایک کرکے اس نے دونوں اڈو کو منہ میں لے کر چوس لیا. آپ کی گیلی زبان کو لنڈ کے ٹوپے پر گھمانے لگی اور پھر اس کے ادھمرے لںڈ کو پورا مںہ میں لیکر چوسنے لگی. اس بار چوستے وقت وہ لںڈ کو نگلنے کی کوشش کر رہی تھی اور ہاتھوں سے اس کے اڈو کو گدگدا رہی تھی. شیکھر کو اتنا مزہ پہلے کبھی نہیں آیا تھا. اسکا لںڈ ایک بار پھر اپنی ذمہ داری نبھانے کے لئے تیار ہو گیا. اس کے پورے طرح سے تنے ہوئے لنڈ کو ترقی نے ایک بار اور پچچي دی اور شیکھر کو بغیر بتائے اس کے لںڈ پر اپنی یون رکھ کر بیٹھ گئی. شیکھر کا مشتڈ لںڈ اسکی گیلی چوت میں آسانی سے گھس گیا. ترقی نے اپنے کولہوں کو گول گول گھما کر شیکھر کے لںڈ کی چکی چلائی اور پھر اوپر نیچے ہو کر میتھن کے مزے لوٹنے لگی. شیکھر بھی اپنی گاںڈ اوپر اچھال اچھال کر ترقی کے دھکوں کا جواب دینے لگا. ترقی کے چھاتی مستی میں اچھل رہے تھے اور اس کے چہرے پر ایک منشیات مسکراہٹ تھی. تھوڑی دیر اس طرح کرنے کے بعد شیکھر نے ترقی کو اپنی طرف کھینچ کر الگنبددھ کر لیا اور اسے پکڑے ہوئے اور بغیر لںڈ باہر نکالے ہوئے پلٹ گیا. اب شیکھر اوپر تھا ترقی نیچے اور چدائی مسلسل چل رہی تھی. ترقی اس پرهارو کا جم کر جواب دے رہی تھی اور اپنی طرف سے شیکھر کے لںڈ کو مکمل طور پر اندر لینے میں مدد کر رہی تھی. دونوں بہت مست تھے. یکایک ترقی کے منہ سے آوازیں آنے لگي- .. "اواوہ ا ہاں ہاں .. اور زور سے ... ہاں ہاں .. چلتے رہو ... اور .. اور .... مجھے مار ڈالو ... میرے ممے نوچو .... اووي ... " شیکھر یہ سن کر اور اتیجت ہو کر زور زور سے چودنے لگا. چار پانچ چھوٹے دھکوں کے بعد لںڈ پورا باہر نکال کر پیلنے لگا. جب وہ ایسا کرتا تو ترقی خوشی سے چلاتی "ہاں ایسے ... اور کرو .... اور کرو .." شیکھر کا انزال عام طور پر 4-5 منٹ میں ہو جایا کرتا تھا پر آج چونکہ یہ اس کا تیسرا وار تھا اور اسے ترقی جیسی لڑکی کا سکھ حاصل ہو رہا تھا، اس کا لنڈ جیسے انزال تک پہنچنا ہی نہیں چاہتا تھا. یہ جان کر شیکھر کو اپنے مردانگی پر نیا فخر ہو رہا تھا اور وہ دگنے جوش سے چود رہا تھا. اس نے ترقی کو اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں پر ہو جانے کو کہا اور پھر پیچھے سے اسکی چوت میں داخل کر کے چودنے لگا. اس کے ہاتھ ترقی کے مموں کو گوتھ رہے تھے. اب ہر بار اسکا لںڈ مکمل باہر آتا اور پھر ایک ہی جھٹکے میں پورا اندر چلا جاتا. شیکھر نے ایک اوںگلی ترقی کی اندام نہانی-مٹر کے آس پاس گھماني شروع کی تو ترقی ایک گیند کی طرح اوپر نیچے پھدكنے لگی. اس سے اتنا سارا مزہ نہیں سہا جا رہا تھا. اس کی انماد میں اوپر نیچے ہونے کی رفتار بڑھنے لگی تو اچانک لںڈ پھسل کر باہر آ گیا. اس سے پہلے کہ شیکھر لںڈ کو پھر سے اندر ڈالتا ترقی نے کروٹ لے کر اس کو اپنے منہ میں لے لیا اور اپنے تھوک سے اچھے سے گیلا کر دیا. اور پھر اپنی چوت لںڈ کی سيدھ میں کرکے چدنے کے لئے تیار ہو گئی. شیکھر نے ترقی کو پھر سے پیٹھ کے بل لےٹنے کو کہا اور آسانی سے گیلے لںڈ کو پھچ سے اندر ڈال دیا. ترقی آرام سے لیٹ گئی اور شیکھر بھی اس کے اوپر مکمل لیٹ گیا. لںڈ پورا اندر تھا اور شیکھر کا وزن تھوڑا ترقی کے بدن پر اور تھوڑا اپنی كوهنيو پر تھا. شیکھر کے سینے کے نیچے ترقی کے سخت بوبے پچك رہے تھے اور تنی ہوئی چوچیاں شیکھر کو چھیڑ رہی تھیں. رہ رہ کر شیکھر اپنے ہپ اوپر اٹھا کر اپنے لںڈ کو اندر باہر کرتا رہتا پر زیادہ تر بس ترقی پر لیٹا رہتا. وہ بس اتنی ہی حرکت کر رہا تھا جس سے اس کا لنڈ شتل نہ ہو. اس نے ترقی سے پوچھا کہ وہ ٹھیک ہے یا اسے تکلیف ہو رہی ہے؟ جواب میں ترقی نے اوپر ہو کر اس کے ہوٹوں پر پچچي دے دی. شیکھر اب بہت آرام سے سمبھوگ کا مزا لے رہا تھا. اس نے ترقی کی بھجاو کو پورا پھیلا دیا تھا اور اس کی ٹانگوں کو جوڑ دیا تھا جس سے اس کے لنڈ کو یون نے اور کس لیا. جب شیکھر میتھن کا دھکا مرتا تو اسے تنگ اور کسی ہوئی یون ملتی. شیکھر کو ایسا لگ رہا تھا گویا وہ کسی کنواری بالا کا پہلا پیار ہو. ادھر ترقی کو ٹاںگیں بند کرنے سے شیکھر کا لںڈ اور بھی موٹا لگنے لگا تھا. دونوں کے مزے بڑھ گئے تھے. کچھ دیر اسی طرح مگرمچرچھ کی طرح میتھن کرنے کے بعد شیکھر نے ترقی کہ ٹاںگیں ایک بار پھر کھول دیں اور نیچے کھسک کر اس کی اندام نہانی مٹر پر زبان پھیرنے لگا. ترقی کو گویا کرنٹ لگ گياوه اچھل گئی. شیکھر نے اس کے مٹر کو خوب چکھا. ترقی کی چوت میں پانی آنے لگا اور وہ آپے سے باہر ہونے لگی. یہ دیکھ کر شیکھر پھر پورے جوش کے ساتھ چودنے لگا. پانچ چھ چھوٹے دھکے اور دو لمبے دھکوں کا سلسلہ شروع کیا. ایک اوںگلی اس نے ترقی کی گاںڈ میں گھسا دی ایک انگوٹھا مٹر پر جمع کردیا. شیکھر کو یہ اچھا لگ رہا تھا کہ اسے انزال کا اشارہ اب بھی نہیں ملا تھا. اسے ایک نئی جوانی کا احساس ہونے لگا. اس احساس کے لئے وہ ترقی کا شکریہ ادا مان رہا تھا. اسی نے اس میں یہ جادو بھر دیا تھا. وہ پاگل اسکی چدائی کر رہا تھا. ترقی اب انزال کی طرف بڑھ رہی تھی. اس کا بدن اپنے آپ ڈولے لے رہا تھا اس کی آنکھیں سرخ ڈورے دکھا رہی تھی، سانس تیز ہو رہیں تھیں. چھاتی افن رہے تھے اور چوچیاں نئی اوچايا چھو رہی تھیں. اس کی كلكاريا اور سسکیاں ایک ساتھ نکل رہیں تھیں. ترقی نے شیکھر کو کس کے پکڑ لیا اور اس کے ناخن شیکھر کہ پیٹھ میں گھس رہے تھے. وہ زور سے چللاي اور ایک بلند دھکا دے کر شیکھر سے لپٹ گئی اور اس کے لںڈ کو چودنے سے روک دیا. اس کا جسم مروڑ لے رہا تھا اور اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے. تھوڑی دیر میں وہ نڈھال ہو گئی اور بستر پر گر گئی
. شیکھر نے اپنا لںڈ باہر نکالنے کی کوشش کی تو ترقی نے اسے روک دیا، بولی کہ تھوڑی دیر رک جاؤ. میں تو جنت پا چکی ہوں پر تمہیں مکمل لطف لئے بغیر نہیں جانے دوں گی. تم نے میرے لئے اتنا کیا تو میں بھی تمہیں نقشہ تک دیکھنا چاہتی ہوں. شیکھر نے تھوڑی دیر انتظار کیا. جب ترقی کی اندام نہانی تھوڑی ٹھنڈی ہو گئی تو اس نے پھر سے چودنا شروع کیا. اسکا لںڈ تھوڑا آرام کرنے سے شتل ہو گیا تھا تو شیکھر نے اوپر سرک کر اپنا لںڈ ترقی کے مموں کے درمیان میں رکھ کر رگڑنا شروع کیا. کچھ دیر بعد ترقی نے شیکھر کو اپنے طرف کھینچ کر اسکا لںڈ لیٹے لیٹے اپنے منہ میں لے لیا اور زبان سے اسے سہلانے لگی. بس پھر کیا تھا. وہ پھر سے جوش میں آنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنا بھیانک شکل اختیار کر لیا. شیکھر نے منہ سے نکال کر نیچے کھسکتے ہوئے اپنا لںڈ ایک بار پھر ترقی کی چوت میں ڈال دیا اور آہستہ آہستہ چودنے لگا. اس کی رفتار آہستہ آہستہ تیز ہونے لگی اور وار بھی مکمل لمبا ہونے لگا. ترقی بھی ساتھ دے رہی تھی اور درمیان درمیان میں اپنی ٹاںگیں جوڑ کر چوت تنگ کر لیتی تھی. شیکھر نے اپنے جسم کو ترقی کے سر کی طرف تھوڑا بڑھا لیا جس سے اسکا لںڈ رگڑ کے دوران ترقی کے مٹر کے ساتھ رگڑ رہا تھا. یہ ترقی کے لئے ایک نیا اور مزہ تجربہ تھا. اس نے اپنا تعاون اور بہتر اور گاںڈ کو زور سے اوپر نیچے کرنے لگی. اب شیکھر کو انماد آنے لگا اور وہ کنٹرول کھونے لگا. اس کے منہ سے اچانک گالیاں نكلني لگیں، "سالی اب بول کیسا لگ رہا ہے؟ ... ااهههها اب کبھی کسی اور سے مراےگي تو تیری گاںڈ مار دوں گا .... اهها کیسی اچھی چوت ہے !! ..... مزا آ گیا .... سالی گاںڈ بھی مراتي ہے کیا؟ ..... مجھ مرواےگي تو تجھے پتہ چلے گا ..... اووه. " کہتے ہیں جب انسان انزال کو پاتا ہے تو جانور ہو جاتا ہے. کچھ ایسا ہی حال شیکھر کا ہو رہا تھا. وہ ایک بھدر افسر سے ان پڑھ جانور ہو گیا تھا. تھوڑی ہی دیر میں اس کے ویرے کا غبارہ پھٹ گیا اور وہ زور سے گررا کے ترقی کے بدن پر گر گیا اور هاپھنے لگا. اسکا ویرے ترقی کی اندام نہانی میں پچکاری مار رہا تھا. شیکھر نقشہ کے سکھ میں كپكپا رہا تھا اور اس کا سوتا اب بھی یون کو سيچ رہا تھا. کچھ دیر میں وہ پرسکون ہو گیا اور لاش کی طرح ترقی کے اوپر پڑ گیا. شیکھر نے ایسا مےتھني زلزلے پہلے نہیں دیکھا تھا. وہ مکمل طور پر نڈھال اور نہال ہو چکا تھا. ادھر ترقی بھی مکمل طور پر سیر تھی. اس نے بھی اس طرح کا بھونچال پہلی بار تجربہ کیا تھا. دونوں ایک دوسرے کو مرہون منت نگاہوں سے دیکھ رہے تھے. شیکھر نے ترقی کو پیار بھرا لمبا چمبن دیا. اب تک اس کا جنس شتل ہو چکا تھا لہذا اس نے باہر نکالا اور اٹھ کر بیٹھ گیا. ترقی بھی پاس میں بیٹھ گئی اور اس نے شیکھر کی جنس کو جھک کر سجدہ کیا اور اس کے ہر حصہ کو پیار سے چوما. شیکھر نے کہا- اور مت چومو نہیں تو تمہیں ہی مشکل ہوگی. ترقی بولی کہ ایسی مشکلات تو وہ روز جھیلنا چاہتی ہے. یہ کہہ کر اس نے لنڈ کو پورا منہ میں لے کر چوسا گویا اس کی آخری بوںد نکال رہی ہو. اس نے لںڈ کو چاٹ کر صاف کر دیا اور پھر کھڑی ہو گئی. گھڑی میں شام کے چھ بج رہے تھے. انہوں نے قریب چھ گھنٹے رت-رس بھوگ کیا تھا. دونوں تھکے بھی تھے اور چست بھی تھے. ترقی شیکھر کو باتھ روم میں لے گئی اور اس کو پیار سے غسل دیا، پوچھا اور تیار کیا. پھر خود نہائ اور تیار ہوئی. شیکھر کی جنس کو پچچي کرتے ہوئے اس نے شیکھر کو کہا کہ اب یہ میرا ہے. اس کا خیال رکھنا. اسے کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہئے. میں چاہتی ہوں کہ یہ سالوں تک میری طرح آگ بجھايے. شیکھر نے اسی انداز میں پیش رفت کی چوت اؤر گاںڈ پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ یہ اب میری امانت ہیں. انہیں کوئی اور ہاتھ نہ لگائے. ترقی نے یقین دلایا کہ ایسا ہی ہوگا پر پوچھا کی گاںڈ سے کیا لینا دینا؟ شیکھر نے پوچھا کہ کیا اب تک اس کے شوہر نے اس کی گاںڈ نہیں لی؟ ترقی نے کہا- نہیں! ان کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ یہ کس طرح کرتے ہیں. شیکھر نے کہا کہ اگر تمہیں اعتراض نہ ہو تو میں تمہیں سكھاوگا. ترقی راضی راضی مان گئی. شیکھر نے اگلے جمعہ کے لئے تیار ہو کر آنے کو کہا اور پھر دونوں اپنے اپنے گھر چلے گئے. شیکھر اب اگلے جمعہ کی تیاری میں لگ گیا. وہ چاہتا تھا کہ اگلی بار جب وہ ترقی کے ساتھ ہو تو وہ اپنی سب سے پرانی اور شدید خواہش کو پورا کر پائے. اس کی خواہش تھی گاںڈ مارنے کی. وہ بہت سالوں سے اس کی کوشش کر رہا تھا پر کسی وجہ بات نہیں بن رہی تھی. اسے ایسا لگا کہ شاید ترقی اسے خوش کرنے کے لئے اس بات کے لئے راضی ہو جائے گی. اسے یہ بھی پتہ تھا کہ اس کی یہ مراد اتنے سالوں سے پوری اس لئے نہیں ہو پائی تھی کیونکہ اس عمل میں لڑکی کو بہت درد ہو سکتا ہے اس لئے زیادہ تر لڑکیاں اس کے خلاف ہوتی ہیں. ان کے اس درد کی وجہ بھی خود آدمی ہی ہوتے ہیں، جو اپنے مزے میں اندھے ہو جاتے ہیں اور لڑکی کے بارے میں نہیں سوچتے. شیکھر کو وہ دن یاد ہے جب وہ ساتویں جماعت میں تھا اور ایک ہاسٹل میں رہتا تھا. تبھی ایک گیارہویں کلاس کے بڑے لڑکے، ہرش نے اس کے ساتھ ایک بار باتھ روم میں زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی تو شیکھر کو کتنا درد ہوا تھا وہ اسے آج تک یاد ہے. شیکھر چاہتا تھا کہ جب وہ اپنی دل کی اتنی پرانی مراد پوری کر رہا ہو تب ترقی کو بھی مزہ آنا چاہئے. اگر ایسا ہوا تو نہ صرف اس کا مزہ دگنا ہو جائے گا، ہو سکتا ہے ترقی کو بھی اس میں اتنا مزہ آئے کی وہ مستقبل میں بھی اس سے گاںڈ مروانے کی خواہش جتاے. شیکھر کو معلوم تھا کہ گاںڈ میں درد دو وجوہات سے ہوتا ہے. ایک تو چوت کے مقابلے اس کا سوراخ بہت چھوٹا ہوتا ہے جس سے لنڈ کو داخل کرنے کے لئے اس کے گھیرے کو کافی کھولنا پڑتا ہے جس میں درد ہوتا ہے. دوسرا، چوت کے مقابلے گاںڈ میں کوئی قدرتی رساو نہیں ہوتا جس سے لنڈ کے دخول میں آسانی ہو سکے. اس سوكھےپن کی وجہ بھی لنڈ کے دخول سے درد ہوتا ہے. یہ درد آدمی کو بھی ہو سکتا ہے پر لڑکی (یا جو گاںڈ مروا رہا ہو) کو تو ہوتا ہی ہے. خدا نے یہ سوراخ شاید مروانے کے لئے نہیں بنایا تھا !!! شیکھر یہی سوچ رہا تھا کہ اس فعل کو کس طرح ترقی کے لئے بغیر درد یا کم از کم درد والا بنایا جائے. اسے ایک خیال آیا. اس نے ایک بڑے سائز کی موم بتی خریدی اور چاقو سے شلپكاري کرکے اسے ایک مرد کے جنس کا سائز دے دیا. اس نے یہ دیکھ لیا کہ اس موم کی جنس میں کہیں کوئی كھردراپن یا چھبنے والا حصہ نہیں ہو. اس نے جان بوجھ کر اس جنس کی لمبائی 9-10 انچ رکھی جو کہ عام لںڈ کی لمبائی سے 3-4 انچ زیادہ ہے اور اس کا گھیرا عام لںڈ کے برابر رکھا. اس نے موم کی جنس کا نام بھی سوچ لیا. وہ اسے "بلرام" بلاےگا! اس نے بازار سے ایک کے-وائی جیلی کی ٹیوب خرید لیا. ویسے تو ترقی کے بارے میں سوچ کر شیکھر کو جوانی کا اہساس ہونے لگا تھا پھر بھی احتیاط کے طور پر اس نے ایک پتی تڈالفل کی گولیوں کی خرید لی جس سے اگر ضرورت ہو تو لے سکتا ہے. وہ نہیں چاہتا تھا کہ جس خواہش کی تکمیل کے لئے وہ اتنا شوقین ہے اسی کی وصولی کے دوران اسکا لںڈ اسے دھوکہ دے جائے. ایک گولی کے استعمال سے وہ پورے 24 گھنٹے تک "بلرام" کی برابری کر پائے گا. اب اس نے اپنے ہاتھ کی تمام انگلیوں کے ناخن کاٹ لئے اور انہیں اچھے سے فائل کر لیا. ایک بیگ میں اس نے "بلرام"، کے-وائی جیلی کی ٹیوب، ایک چھوٹا تولیہ اور ایک ناریل تیل کی شیشی رکھ لی. اب وہ ترقی سے ملنے اور آپ کی خواہش پوری کرنے کے لئے تیار تھا. بے صبری سے وہ اگلے جمعہ کا انتظار کرنے لگا. ادھر ترقی بھی شیکھر کے كھيالو میں گم تھی. اسے رہ رہ کر شیکھر کے ساتھ بتايے ہوئے لمحے یاد آ رہے تھے. وہ جلد سے جلد پھر سے اس کی باہوں میں جھولنا چاہتی تھی. شیکھر سے ملے دس دن ہو گئے تھے. اس سنہری دن کے بعد سے وہ ملے نہیں تھے. شیکھر کو کسی کام سے کانپور جانا پڑ گیا تھا. پر وہ کل دفتر آنے والا تھا. ترقی سوچ نہیں پا رہی تھی کہ اب دفتر میں وہ شیکھر سے کس طرح بات کرے گی یا پھر شیکھر اس سے کس طرح پیش آئے گا. کہیں ایسا تو نہیں کہ عام آدمیوں کی طرح وہ اس کی خلاف ورزی کرنے لگے گا. کئی مرد جب کسی لڑکی کی عصمت پا لیتے ہیں تو اس میں سے ان کی دلچسپی ہٹ جاتی ہے اور کچھ تو اسے نیچا سمجھنے لگتے ہیں ..... ترقی کچھ تذبذب میں تھی ..... لالسا، ہوس، خوف، اندیشے، خوشی اور تجسس کا ایک عجیب مرکب اس کے دل میں هڈولے لے رہا تھا. ترقی نے صبح جلدی اٹھ کر خاص طور پر ابٹن لگا کر دیر تک غسل کیا. بھوری رنگ کی سیکسی پیںٹی اؤر برا پہنا جسے پہن کر ایسا لگتا تھا گویا وہ ننگی ہے. اس کے اوپر ہلکے جامنی رنگ کی چولی کے ساتھ پیلے رنگ کی شپھون کی ساڑی پہن کر وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی. بالوں میں چمےلي کا گجرا اور آنکھوں میں ہلکا سا سرمہ. چوڑیاں، گلے کا ہار، کانوں میں مکئی اور اگوٹھيا پہن کر ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ دفتر جانے کے لئے تیار ہو رہی ہو. ترقی مانو دفتر بھول کر اپنی سہاگ رات کی تیاری کر رہی تھی. سج دھج کر جب اس نے اپنے آپ کو شیشے میں دیکھا تو خود ہی شرما گئی. اس کے شوہر نے جب اسے دیکھا تو پوچھ اٹھا کہاں کہ تیاری ہے ...؟ ترقی نے بتایا کہ آج دفتر میں گروپ تصویر کا پروگرام ہے اس لئے سب کو تیار ہو کر آنا ہے !! روز کی طرح اس کا شوہر اسے موٹر سائیکل پر دفتر تک چھوڑ کر اپنے کام پر چلا گیا. ترقی نے چلتے وقت اسے کہہ دیا ہو سکتا ہے آج اسے دپھٹر میں دیر ہو جائے کیونکہ گروپ تصویر کے بعد چائے پانی کا پروگرام بھی ہے. دفتر 10 بجے شروع ہوتا تھا پر ترقی 9.30 بجے پہنچ جاتی تھی کیونکہ اسے چھوڑنے کے بعد اس کے شوہر کو اپنے دفتر بھی جانا ہوتا تھا. ترقی نے خاص طور سے شیکھر کا کمرہ ٹھیک کیا اور گزشتہ 10 دنوں کی تمام رپورٹیں اور فائل صفائی لگا کر شیکھر کی میز پر رکھ دی. کچھ دیر میں دفتر کے باقی لوگ آنے شروع ہو گئے. سب نے ترقی کی ڈریس کی تعریف کی اور پوچھنے لگے کہ آج کوئی خاص بات ہے کیا؟ ترقی نے کہا کہ ابھی اسے نہیں معلوم پر ہو سکتا ہے آج کا دن اس کے لئے نئے دروازے کھول سکتا ہے !!! لوگوں کو اس سکویڈ کا مطلب سمجھ نہیں آ سکتا تھا !! وہ دل ہی دل مسکرائی .... ٹھیک دس بجے شیکھر دفتر میں داخل ہوا. سب نے اس کا استقبال کیا اور شیکھر نے سب کے ساتھ ہاتھ ملایا. جب ترقی شیکھر کے آفس میں اس سے اکیلے میں ملی شیکھر نے ایسے برتاؤ کیا جیسے ان کے درمیان کچھ ہوا ہی نہ ہو. وہ نہیں چاہتا تھا کہ دفتر کے کسی بھی ملازم کو ان پر کوئی شک ہو شیکھر 2-3 منٹ میں ہی بے حال ہو گیا اور اس کی پچکاری ترقی کی اندام نہانی میں چھوٹ گئی. شیکھر کی یہی ایک کمزوری تھی کہ پہلی بار اس کا کام بہت جلد تمام ہو جاتا تھا. پر دوسری اور تیسری بار جب وہ سمبھوگ کرتا تھا تو کافی دیر تک ڈٹا رہ سکتا تھا. اس نے لںڈ باہر نکالا اور ترقی کو پیشانی پر پچچي کرکے باتھ چلا گیا. اپنا لںڈ دھو کر وہ واپس آ گیا. ترقی جب کچھ دیر کے لئے باتھ روم گئی تو شیکھر نے ایک گولی کھا لی. شام کے 6 بج رہے تھے. اب بھی اس کے پاس قریب 2 گھنٹے تھے. جب ترقی واپس آئی تو شیکھر نے اس سے پوچھا کہ وہ کتنی دیر اور رک سکتی ہے. ترقی نے بھی اپنے شوہر سے دیر سے آنے کی بات کہہ دی تھی سو اسے بھی کوئی جلدی نہیں تھی. تو شیکھر نے سوچا کی شاید آج ہی اس کی برسوں کی خواہش پوری ہو جائے گی. اس نے ترقی سے پوچھا وہ اس سے کتنا پیار کرتی ہے. ترقی نے کہا- امتحان لے کر دیکھ لو !

Posted on: 06:11:AM 14-Dec-2020


0 0 181 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 63 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com