Stories


تنہائی کا علاج از رابعہ رابعہ 338

میں ایک انجینئر ہوں ... اچھی کمپنی میں اچھی نوکری کرتا ہوں .. میرا اچھا خاصا خاندان ہے، مجھ سے محبت کرنے والی پڑھی لکھی بیوی ہے، دو خوبصورت اور مجھے جان سے پیاری بیٹیاں ہیں ..اب تو دونوں کی شادی ہو چکی ہے نكا اپنا خاندان ہے ... یہ کہانی ان دنوں کی ہے جب میری بیٹیاں چھوٹی تھیں ... اور میری پوسٹنگ ایک ایسی جگہ ہو گئی جہاں اچھے اسکول نہیں تھے مےنے اپنے خاندان کو یعنی اپنی بیوی اور اپنے بچوں کو ان کے نانی کے یہاں، جو ایک بہت بڑے شہر میں ہے چھوڑ دیا اور خود واپس اپنے کام میں آ گیا! شروع کے کچھ دن تو نئی جگہ اور نئی پوسٹنگ میں آپ کو adjust میں نکل گئے! وقت کس طرح گزر گیا کچھ پتہ ہی نہیں چلا بيبي بچوں کی یاد تو آتی تھی پر اس کا کچھ خاص اثر نہیں ہوتا تھا .. کام کی مسروپھيت میں سب کچھ بھول جاتا تھا! تنہائی کبھی تکلیف دیتا نہیں .. صبح نکل جاتا تھا اور گھر واپس آتے کافی رات ہو جاتی تھی ... نوکر کھانا بنا کر ٹیبل پر لگا کر چلا جاتا تھا، پاس میں ہی servant quarter تھا، وہیں رہتا تھا، رامو، میرا نوکر ! تقریبا ایک ماہ تک ایسا ہی چلتا رہا ..اور پھر جب آہستہ آہستہ میں نے وہاں کام سنبھال لیا .. کام کم ہوتا گیا اور میرے پاس وقت کی کمی یا کام کا بوجھ نہیں رہا! شام کو اب میں گھر جلدی ع جاتا تھا ..پر تنہائی گویا پہاڑ جیسے لگتا تھا .. بی بی اور بچوں کی یاد آتی ... وقت بلی نہیں کٹتا .. ان دنوں موبائل اور std جیسی سودھاے بھی نہیں تھیں I گھر میں telephone تھا ، پر STD کی سہولت نہیں تھی اس trunk کال کرنا پڑتا تھا ..اور آپ کو معلوم گے trunk کال سے بات کرنا بھی اپنے آپ میں بڑی مصیبت ہوتی تھی ... ایسے میں تنہائی اور بھی تکلیف دیتا تھا ..! میں یہاں بتا دوں مجھے سب سمندر صاحب کہہ کر بلاتے ہیں ... میرا نام پریتم سمندر ہے! اور ہاں مجھے پان کھانے کا بڑا شوق ہے كھانا کھانے کے بعد کھانے یا رات کے کھانے مجھے پان ضرور چاہئے ..میرے پانوالے کو معلوم ہے مجھے کیسا پان پسند ہے .میرے جاتے ہی میرے پسند کا پان بڑے پیار سے لگا کر دیتا تھا .! اس سے بہت اچھی شناخت ہو گئی تھی اور ہم لوگ کافی گھول مل بھی گئے تھے ..اسے معلوم تھا کی میں یہاں اکیلا ہی رہتا ہوں I ایک دن کی بات ہے ... مجھے اپنی بی بی بچوں کی بهوت یاد آ رہی تھی ..میں کافی اداس تھا ... ڈنر کے بعد اسی اداس موڈ میں ہی پان کھانے نکلا سوچا باہر گھوم آؤں تھوڈا دل بہل جائے گا. . پانوالے نے مجھے دیکھ کر کہا: "لگتا ہے صاحب کا آج موڈ کچھ ڈھیلے ہے .." میں نے کہا "جی ہاں یار ڈھیلے تو ہے بس آپ آج ایسا پان بنائیں موڈ tight ہو جائے ...!" اس نے جواب دیا "صاحب کب تک صرف پان سے موڈ tight کرو گے .. ؟؟ موڈ تو آپ tight ہو بھی گیا تو کیا؟ آپ کے اندر والا تو ڈھیلے ہی رہے گا ..!" اور جوروں سے ہںس پڑا !! "کیا مطلب .. ؟؟ "میں ذرا serious ہوتا ہوا بولا! پانوالا کوئی خام کھلاڑی نہیں تھا، فوری ہار ماننے والا نہیں! اس نے کہا "کیوں بنتے ہو صاحب؟ آپ کہو تو آپ تنہائی کا علاج کر دوں ؟؟" تب تک میرا پان لگ گیا تھا يه تمام چیزیں اس نے پان لگاتے لگاتے ہی کہا .. میں نے اس کے ہاتھ سے پان لی مه میں ڈالا اور کہا "دیکھو یار میں سمجھتا ہوں آپ کیا کہنا چاہ رہے ہو .پر پھر بھی .." "سوچ لو صاحب كوي جلدی نہیں .. بس اتنا سمجھ لو میرے پاس شرتيا علاج ہے ..!" میں اس کی طرف پان چباتا ہوا دیکھا، مسکرایا اور کہا "ٹھیک ہے ٹھیک ہے ... اب میرا مرض لا علاج نہیں يار جب اس حالت پہ ہوگی تو دیکھا جائے گا." پانوالے نے بھانپ لیا ... اس نے پہلی بازی جیت لی تھی ان کا لطف لیتے ہوئے میں گھر واپس آ گیا تھوڑي دیر ٹی وی دیکھا، پھر بستر پر لیٹ گیا ... پر نیند تو آج کوسوں دور تھی ..میں کروٹیں لیتا رہا، پر سو نہیں پایا ےك عجیب بوجھ .. دماغ میں اداسی، بے چینی، تڑپ بڑا ہی عجیب ماحول تھا I کسی کو بانہوں میں لے کر، اسے اپنے سے چپکا کر ایک جوردار کس کرنے کو دل کرتا .. کبھی دل کرتا کسی کی چوت پھیلا کر اس گلابی پھاںکوں کو اپنے ہونٹوں سے چوس لوں .. ان کے اوپر نیچے چاٹتا رہوں، جب تک اس کی چوت سے پانی کی دھار نہ بہہ جائے ... پھر آپ تنے ہوے لںڈ کو اندر پیل دوں لگاتار، بار بار اس کی چوتڈوں کو اوپر اچھال اچھال کر چودتا رہوں .. یہ تمام سوچتے سوچتے میرا لؤڑا ایک دم ٹونن ہو گیا 7 انچ اور مٹھي بھر کا لؤڑا جو میری بی بی کے ہاتھوں میں بھی سماں نہیں پاتا، ووه دونوں هتےليو سے اسے سہلاتی تھی .. اور بڑے پیار سے اسے منہ میں لے کر چوستی تھی .. پر اب بے چارہ بینا کسی سہارے کے پھوپھكار رہا تھا، اس کی مجبوری کوئی سننے والا نہیں تھا .. میں نے اپنے لؤڑے اپنی مٹھي میں لیا اور سہلانے لگا تھوڈا اچھا لگا ... اور ٹننا گیا، جیسے اپنے جڑ سے اكھڈ ہی جائے گا ... مجھ سے رہا نہیں گیا مےنے اپنے تمام نرم تکیے سے اپنے لںڈ کو، کروٹ لے کر، بستر سے دبا دیا، اور اپنے کمر حیلہ حیلہ کر لںڈ کو تکیے اور بستر کے درمیان رگڑنے لگا .. ا كچھ راحت ملی، میں نے جوردار دھکے لگانے شروع کر دیے جےسے کسی کی چوت پھاڑنے جا رہا ہوں ... ا اوههه ووهه، حق میں بڑا مجا آ رہا تھا ... دھکے کی رفتار بڑھتی گئی .. میرا لؤڑا طرح چھیل ہی جانےوالا ہو. پر میں نے توجہ نہیں دی، مسلسل دھکے لگتا رہا لگاتا رہا اور پھر .... میرے لںڈ سے پچکاری کی ترےه منی نکل پڑا ... جھٹکے کے ساتھ میں جھاڑتا رہا .. شیٹ اور تکیا پوری ترےه گیلی ہو گئی چپچپي ہو گئی ..پر دماغ ٹھنڈا ہو گیا تھوڈا شكون ملا ،، چوت نہ حق پر لؤڑے کو کوئی جگہ تو ملی، رگڑنے کو! اور تھوڑی دیر ہاںفتے ہوئے لیٹ گیا ... نیند کب آ گئی مجھے پتہ ہی نہیں چلا ..! صبح اٹھتے ہی میری نظر گیلے جھلی اور شیٹ پر گئی ..جو اب سوکھ گیا تھا اور کرسٹ منجمد تھی وہاں .. پر آخر کب تک .. ؟؟ میں نے من بنا لیا اب کچھ کرنا ہے ... کچھ شرتيا علاج کرانی ہے لؤڑے کی بیماری کا .... اور آفس جاتے جاتے میں نے پانوالے کی طرف آپ کی گاڑی موڑ دی کار میں نے پان کی دکان کے پاس روک دی، اور اتر کر دوکان کے پاس گیا ... کچھ خاص بھیڑ نہیں تھی، پھر بھی کچھ لوگ وہاں تھے .. موہن نے (پانوالا) مجھے دیکھ سلام ٹھوكا اور کہا. "بس انہیں ذرا نمٹا لوں "، سامنے کھڑے گاہکوں کی طرف اشارہ کیا! "کوئی بات نہیں، آرام سے ..مجھے بھی آج جلدی نہیں. اور میں کھڑا رہا اپنی باری کی انتظار میں I چھوٹے سے شہر میں رہنے کے بهوت فوائد ہیں تو سب سے بڑا نقصان بھی ہے کے کوئی بھی بات بهوت جلدی پھیل جاتی ہے، سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں .لہذا موہن کے شرتيا علاج سے میں ذرا گھبڈا رہا تھا، کہیں بدنامی نہ ہو جائے. اور پتہ نہیں کیسی جگہ اور کس رنڈی کے یہاں مجھے بھیج دے .. بیماری کا ڈر بھی تھا، میں کافی ادھیڑ بون میں تھا، اس کہوں یا نہ کہوں .. ؟؟ کہیں ایک بیماری کے علاج میں دوسری کئی بیماریوں کا شکار نہ ہو جاؤں .. اور ادھر ہمارے موہن بھائی دنادن ہاتھ مارتے ہوئے اپنے تمام گاہکوں کو پھٹاپھٹ نبٹايا، پھر پانی سے اپنے ہاتھ دھوئے اور میرے لئے پان کے چار سب سے اچھے پتے چونے، انہیں کینچی سے بڑی احتیاط سے كترتے ہوئے مجھ سے کہا "سمندر صاحب، آپ میرے سپیشل گاہک ہو، آپ کو عوام تاثر پان کس طرح دوں .. ؟؟ آپ کے لئے ذرا صفائی سے ہی کام کرنا پڑتا ہے نہ .. اور سنائیے؟ كچھ علاج کے بارے سوچا آپ نے ؟؟ "اور یہ کہتے ہوئے اس نے آنکھ ماری اور جوروں سے ہںس پڑا !! "یار علاج تو چاہئے .. پر گرو آپ کو کچھ ایسی ویسی جگہ تو نہیں بھیج رہے مجھے .. ؟؟" یہ کہتے ہوئے میں نے اپنے اغل بغل دیکھا كوي نہیں تھا اس وقت وہاں .. اس نے پان لگاتے ہوئے کہا "کیا بات کر رہے ہو صاحب جےسے پان خوش سپیشل چھاٹتا ہوں میں .آپ لئے ویسی ہی اسپیشل چیز بھی منتخب کر رکھی ہے .. صرف ایک بار آزما کے تو دیکھو صاحب .. اپنا ہتھیار آپ کو اس کے اندر سے نکالنا ہی نہیں چاہوگے ... "اور پھر جوروں سے ہںس پڑا ... !! "ایسی بات ہے .. ؟؟" میں نے پوچھا. "بالکل ےك دم چمبك ہے سر، اس کے ساتھ آپ کو اس طرح چيپكوگے جیسے شہد سے مکھی .. پورے کا پورا چوس لو .. اس کی باتوں سے میرا دل بھی ڈول گیا ... اور میں میٹھی شہد کی تصور میں کھو گیا ... "یہ شالا بڑے موجودہ، لگتا ہے میری علاج کر کے رہے گا .." میں نے سوچا. شہد چوسنے کی بات سے میری پتلون کے اندر کچھ ہلچل سی ہوئی .. تب تک موہن پان لگا گیا اور ایک پان مجھے تھمایا اور باقی تین پیک کر دیا میرے آفس کے لئے! پان میں نے منہ میں دبایا اور بولا ... "دیکھ یار باتیں تو تو بڑی بڑی کر رہا ہے ..پر حق میں سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا تو بتا رہا ہے .. ؟؟" "آپ سے میں جھوٹی بات کیوں کروں گا سر .. ؟؟ مجھے کیا آپ اپنا رشتہ توڈنا ہے .. ؟؟ میں اتنا ناقص انسان نہیں ہوں سمندر صاحب ےك بار چیز کو چکھ تو بیشک صاحب گر پسند نہیں آئے تو چار جوتيا مارنا مجھے ... " اس ان باتوں سے میں بہت متاثر ہو گیا .. "چلو"، میں نے سوچا، "ایک بار ٹرائی مارنے میں کیا ہرز .. یہ شالا جھوٹ بول کر جائے گا مل .. ؟؟" "ٹھیک ہے .. بولو کیا کرنا ہے اور کب .. ؟؟" میں نے اپنی رضامندی دے دی !! موہن کی آنکھوں میں چمک آ گئی ... اس نے کہا "شبھ کام میں دیر کس بات کی ..میں آج شام کے لئے سب مقرر کر دیتا ہوں .. اگر پسند آ گئی تو بس رات بھر کا انتظام ہو جائے گا ... " "ٹھیک ہے." " اور میں پان کا پیکٹ لے کر آپ کی گاڑی کی طرف چل پڑا .. کار سٹارٹ کی اور آفس پہنچ گیا ..! دن بھر میں شام کی رگينيو کے بارے سوچتا رہا كےسي رہے گی .. ؟؟ اس ترےه کی چدائی کا یہ میرا پہلا موقع تھا ... میرا روم روم سيهر اٹھا .. ایک سنسنی سا دل میں ہونے لگا جےسے تیسے کام نمٹا قر گھر پہنچا. ہاتھ منہ دھو کر فریش ہوا تھوڈا ہلکا سا ناشتا کیا اور چل پڑا میرے ذہن میں لڈو پھوٹ رہے تھے اور ساتھ میں کچھ گھبڈاهٹ بھی تھی پتا نہیں شالا کیسی مال دكھايگا .. کوئی ایسی ویسی رنڈی ہوگی ..جو شالي اپنی چوت کھول اور پھیلا کے لیٹ جائے گی .. اور چوت کم بھوسڈا زیادہ گے. پھر مزہ کیا آئے گا س سے اچھا تو اپنا تکیا رگڑنا ہے .. ویسے اب جب اوكھل میں سر دیا تو موسل کا کیا ڈر چل بیٹا پریتم سمندر .. لگا شالي چوت کی سمندر میں غوطے ... کچھ موتی تو مل ہی جائیں گے ها ہا ہا !! انہی سب سوچ میں میری گاڑی دوکان کے پاس آ گئی مےنے دوکان سے تھوڑی دور پر کار روکی اور چل پڑا موہن کی طرف .. اس دوکان پر کچھ لوگ تھے .. تو میں وہاں پہنچتے ہی خاموشی سے ایک کونے میں کھڑا ہو گیا موهن نے مجھے دیکھ لیا اور ایک ہلکی مسکراہٹ دی اور کہا "بس سر تھوڈا ویٹ کیجئے نہ ..میں انہیں نبٹايا اور آپ پان کھلایا .. "اور اس نے آہستہ سے آنکھ بھی مار دی ... میں نے بھی اس کے جواب میں مسکرا دیا .. تھوڑی دیر بعد ایک شكھش کو چھوڑ باقی تمام چلے گئے .. تو میں آگے تو بڑھا پر اس شكھش کی طرف شک کی نگاہ سے دیکھا .. موہن میرے دل کی بات بھانپ گیا اور فوری طور پر بولا "سر یہ ہمارے قریبی گوپال سنگھ ہیں .. .آج آپ کے کام کی ذمہ داری انہی کی ہے .. "اور گوپال کی طرف مخاطب ہو کر اس سے کہا" ارے بھیا گوپال، یہ ہمارے سمندر صاحب ہیں همارے بهوت ہی خاص ،، آج ان خاطر داری میں کوئی کمی نہیں ہونا چاہئے بےٹا اگر ان سے کوئی شکایت ہوئی تو پھر تو جانتا ہے نہ تیرا کیا حشر کریں گے .. "اور جھولی سے ہنسنے لگا I موہن کا پان لگانا اور باتیں کرنا دونوں ہمیشہ ساتھ ہی ہوتے ہیں ... ہنستے ہوئے اس نے میری طرف پان بڈھایا اؤر کہا "ای پان بھی آج اسپیشل ہے صاحب، آپ بھی کیا یاد رکھیں گے .. پان کھائیے اور گوپال کے ساتھ جائیں. لوٹيے مزے .. بےپھكر .. "اور ایک اور جوردار قہقہہ ..! میں نے منہ میں پان ڈالا اور گوپال سے کہا "چلو بیٹھو میری گاڑی میں، کہاں جانا ہے .. ؟؟" پر گوپال نے میری گاڑی کی طرف ایسے دیکھا جیسے کوئی مال گاڑی ہو .. اور اس بیٹھنا اس کی عزت کے خلاف ہے I میں پوچھا "کیا ہوا، کار دیکھ کر گھبڈا کیوں گئے یار ..؟ چھوٹی ہے کیا .. ؟؟" "ارے نہیں نہیں، صاحب بات دراصل یہ ہے .. میں جہاں رہتا ہوں وہاں لوگ گاڑی میں کم ہی آتے ہیں ..اور آج تو کام کافی دیر تک چلے گا هے نہ ..؟ اور آپ کی گاڑی باہر کھڑی رہے گی .. لوگ بیکار میں شک کریں گے .. " "پھر کیا کیا جائے .. ؟؟" میں نے پوچھا I "میرے پاس موٹر سائیکل ہے، آپ کو اعتراض نہیں تو آپ اپنی گاڑی اپنے گھر چھوڑ دیں، آپ کا گھر تو پاس ہی ہے اور موٹر سائیکل پر چلتے ہیں .." مطلب گوپال نے میرے بارے سب کچھ معلوم کر لیا تھا I "تمہیں میرے گھر کے بارے کس طرح معلوم .. یار آپ تو بڑی چلائیں چیز ہو. ؟؟" میں نے کہا I "اب سر اس دھندے میں سالوں سے ویکسین ہوں چالو تو ہونا ہی پڑے گا .." "ٹھیک ہے یار میں سمجھتا ہوں، میں آگے کار سے جاتا ہوں، تو میرے پیچھے موٹر سائیکل لے کے آ .." اور میں کار آپ گیراج میں رکھا اور گوپال کی موٹر سائیکل کے پیچھے ہو گیا سوار اور چل پڑا جیسا کہ عام خیال ہے ایسی جگہوں کا ..میرے دماغ میں بھی یہی خیال تھا کہ گوپال مجھے تنگ اور بھیڑ بھری گلیوں سے ہوتا ہوا کسی چھوٹے سے دو یا تین مجلے مکان کے کسی اندھیرے بند کمرے میں لے آئے گا، پر یہ تو کوئی اور ہی راستہ تھا .. جہاں ہم پہنچے وہ ایک صاف ستھری کالونی تھی .. جیسا کہ ریاستی حکومت کے ہاؤسنگ بورڈ ہوتے ہیں ےك مختصر بگلےنوما بیرونی گاڑی رکی، گوپال نے مجھے اترنے کو کہا اور بولا "یہی ہے میرا گريبكھانا، سر. آج آپ میرے خاص مہمان ہیں " "پر یار ..." میں آگے کچھ بول پاتا کے سامنے دیکھنا میری بولتی بند ہو گئی، میں نے ایک ٹک دیکھتا ہی رہ گیا! سامنے ایک كھوسورت کالا لمبی نوجوان عورت گیٹ کھول رہی تھی .. جوان اس کے اس کی عمر کوئی 25 - 26 کی ہوگی اور عورت اس کے اس صحیح جگہ بالکل صحیح ابھار تھا جےسے کسی شادی شدہ عورت جو اپنی پھگر سنبھالنا جانتی ہو، کا ہوتا ہے .. نہ موٹی نہ دبلی .. صرف ایک دم اوپر سے نیچے بھری بھری l سانولا رنگ ہوتے ہوئے بھی ایک عجیب چمک تھی ..جو کسی کو اپنی اور کھینچ لے .. ہلکا سا میک اپ اور ہونٹوں پہ ہلکی ہونٹ چسپاں ... چہرہ كٹيلا، جیسا کسی ماڈل ہوتا ہے ... ناک تیکھے ... میں بس دیکھتا ہی رہا ..... "بھارتی .. یہ ہیں سمندر صاحب، آج ہمارے خاص مہمان ..." گوپال کی آواز سے میں نے اپنی چکاچوند سے واپس آیا اور بھارتی کی طرف مخاطب ہوا .. بھارتی نے مجھے مسکراتے ہوئے سلام کیا اور ہمیں اندر آنے کا اشارہ کیا، اور ہم تینوں گھر کی طرف چلے .. آگے آگے گوپال اس کے پیچھے بھارتی اپنی كلهے مٹكاتي، کمر لچكاتي چل رہی تھی طرف میں اسے دیکھتا ہوا دل ہی دل یہ دعا کرتا ہوا کے آج اگر یہ مل جائے تو صرف آپ لؤڑے قی تو چاندی ہی چاندی .. آگے بڑھ رہا تھا l اس نے ٹائیٹ سلوار قمیض پہن رکھی تھی، جس سے اس کے جوان بدن کا نکھار ابھر ابھر کر میرے دل ديماگ اور لؤڑے پر هتھوڑے مار رہا تھا ..! کیا گاںڈ تھی، اور کیا کمر کی لچک ..! ہم لوگ اندر آئے، یہ شاید ڈرائنگ روم تھا گوپال کی بڑے صفائی سزا تھا .. جیسے کسی درمیانے طبقے کے خاندان کا ہوتا ہے ... میں اور گوپال وہیں سوفی پر اغل بغل بیٹھ گئے اور بھارتی اندر چلی گئی l "ارے بھائی گوپال کیا یہی جگہ ہے .. ؟؟ چلو یار جلدی سے مال کے فلسفہ کراؤ ..." میں کہا l "ارے سر، ابھی تک جو آپ آنکھ پھاڑ تلاش کر رہے تھے ووہی تو ہے ... !!" "اےے .کیا بک رہے ہو گوپال، وہ تو تمہاری بی بی ہے نہ .. ؟؟ ...." "سر آپ آج زیادہ سوال نہ کریں آہستہ آہستہ آپ سب سمجھ جاؤ گے ... آج صرف آپ مستی لوٹے l ابھی وہ نہ کسی کی بی بی ہے نہ کسی کی ماں نہ کسی کی بهےنوو جتنی دیر آپ یہاں ہو آپ ہے، صرف آپ ..آپ جیسے چاہے اس سے مزے لو .. "اس نے سختی سے قہقہہ لگایا" آپ میری بات سمجھ رہے ہیں نہ ..؟ اب میں جاتا ہوں، بہت تھکا ہوا ہوں ارام کروں گا، بھارتی آتی ہی ہوگی اپكا خیال رکھنے ... "" اس نے مجھے آنکھ ماری اور جھٹ اندر چلا گیا ..! گوپال کی باتوں سے میں دنگ رہ گیا ... کہاں تو میں کسی ایسے ویسے جگہ اور لڑکی کے بارے سوچ رہا تھا، اور کہاں ایک دم ملکی، خوبصورت، سگھڑ اور سیکسی عورت ہاتھ لگ رہی ہے من میں جھورجھوري سی ہونے لگی .. بھارتی کسی بھی اینگل سے ایسی عورت نہیں لگتی تھی جو دھندہ کرتی ہو اكھر کیا مجبوری تھی اس کے ساتھ ... ؟؟ پھر میں نے سوچا "چھوڑ یار بھارتی کی مجبوری .. اب آپ لؤڑے کی مجبوری کا خیال کر اور آپ کے پیسے کی قیمت وصول، ایسی مال روزانہ ہاتھ نہیں لگتی ... بھارتی کی مجبوری آج نہیں تو کل معلوم کر ہی لیں گے ..." پر پھر بھی ... میرے ذہن میں بھارتی کا راز جاننے نے کی خواہش جاگ اٹھی .. اور راز تبھی جانا جا سکتا ہے جب اس کا دل جیت ور دل جیتنے کا سب سے آرام دہ طریقہ ہے اس کی چوت ... جو مجھے مل رہی ہے ... اور پھر بھارتی کو تابڑ توڑ چودنے کے خیال سے میرے ذہن میں لڈو پھوٹنے لگے پےٹ کے اندر حل چل ہونے لگی ... میں نے بے تابی سے اس کا انتظار کرنے لگا جب سے بھارتی کے دیدار ہوئے اور مجھے یہ پتہ چلا آج کی رات بھارتی کے ساتھ گجارني ہے سكي مست جوانی میرے قدموں پہ ہوگی ..اسے میں اپنی بانہوں میں لوں گا ... اس چوموگا، چوسوگا چاٹوگا اه اس تصور سے ہی میرا لںڈ پھوپھكار رہا تھا ..میں مستی کی عالم میں تھا کہ تبھی روم میں پردہ ہلنے کی سرسراہٹ ہوئی .. دیکھا سامنے آج رات کی رانی بھارتی ہاتھ میں ٹرے لئے اندر آ رہی ہے .. میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی ..... سانس اوپر کی اوپر ہی رہ گئی ..سامنے کا نظارہ ہی ایسا تھا .. بھارتی مسکراتے ہوئے اندر آ رہی تھی هاتھ میں ٹرے تھا اور بدن پہ ایک finer، شفاف نائیٹی .. رنگ سرخ، اس کے اندر اور کچھ نہیں .. صرف اس کی جوانی .. اس بھاری چوچیان سكي گدرايي جسم سكے کیلے کے تھمب جیسی جاںگھیں .. میں بس دیکھتا ہی رہا .. نائیٹی کا زپ سامنے تھا ... میں نے اسے ایک ٹک دیکھ رہا تھا، اس کی ہر قدم پہ اس چوچیان ملاتے ہوئے تھیں .. موٹے جاںگھیں تھرتھراتی تھیں اور میرے دل کی دھڑکن تیز اور تیز ہوتی جاتی تھی .... پورا کمرہ اس خوشبو کی خوشبو سے بھر اٹھا بهوت ہی ہلکی خوشبو تھی خوشبو کی، پر ہوش اڑانے کے لئے کافی. میں جیسے کسی اور ہی دنیا میں کھو گیا .. میرے ہوشوہواس گم تھے .... بھارتی میرے پاس آئی، میری طرف جھک کر ٹرے میز پر رکھا .. جھوكي بھی بلا جھجھک ... اس کی نائیٹی کا بالا حصہ چوچیوں سے سرک گیا .. چوچیان نںگی ہو گئی، اس نے انہیں سنبھالنے کی کوشش کئے بغیر میرے ساتھ بیٹھ گئی l ٹرے میں دو گلاس میں پانی تھا ... ایک پلیٹ میں کچھ بسکٹ اور نمکین تھے .. میں نے براہ راست پانی کا گلاس اٹھایا اور ایک ہی گھونٹ میں پورا گلاس خالی کر دیا مےرا گلا پہلے ہی بھارتی کہ دیدار سے سوکھ گئے تھے .... "لگتا ہے آپ کو پیاس جھولی کی لگی ہے .." بھارتی کے منہ سے یہ پہلے الفاظ تھے ... "آپ نے ٹھیک ہی کہا بھارتي جی، میں بهوت پیاسا ہوں ..." "یہ لو مل تو آپ میرے پاس اپنی پیاس بجھانے آئے ہو اور مجھ کو اور جی بول رہے ہو .." اور وہ جھولی سے کھلکھلا اٹھی .. اس كھلكھلاهٹ نے میری ساری ہچکچاہٹ دور کر دی .. میں نے دوسرا گلاس اٹھایا، اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ور کہا "چلو بھارتی، میرے ہاتھوں سے تم بھی اپنی پیاس بجھا لو ..." اور اس نے اپنے ہاتھ سے میرے ہاتھ پکڑ لئے اور گلاس اپنے منہ میں لگاتے ہوئے ایک گھونٹ میں پورا گلاس خالی کر دیا خالي گلاس ٹرے پر رکھ دیا اور پھر جھولی سے کھلکھلا اٹھی .. "کیوں کیا بات ہو گئی ... ذرا میں بھی سنو یہ کھنکتی ہنسی کس بات پر ہوئی .. ؟؟؟" "آپ بات تو بڑی مزیدار کرتے ہے .. کام بھی مزہ آئے گا .." اور ایک كھكھلاتي ہوئی ہنسی پھوٹ پڑی .. "دیکھو بھارتی تم اپنی پانی پینے کہ ہنسی کے بارے بتا نہ، کیا بات تھی ..؟ اور ہاں تم بھی مجھے تم ہی كهوگي ..." "ارے کچھ نہیں .. وہ آپ نے کہا نہ کہ تمہارے ہاتھ سے میں نے اپنی پیاس بجھاو ... ؟؟" "تو اس میں ہنسی کی کیا بات تھی .." میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا .. "ارے بھولے راجامےري پیاس آپ آج کیا اپنے ہاتھ سے ہی بجھاوگے .. ؟؟" اور پھر دل کھول کر کھلکھلا اٹھی .. میں نے بھی اس کی باتوں کہ گہرائی سمجھتے ہوئے ہنس پڑا اور کہا "تم بھی کم نہیں ہو باتیں بنانے میں اج تو مقابلہ سختی ہے ... رانی تمہاری پیاس تو میں اپنے کس کس چیز سے کروں گا بس دیکھتی جاؤ ..." "اچھا لگتا ہے آج تمہاری تےيياري پوری ہے بےٹري تمہاری مکمل چارج ہے ... ہی ... ہی ... ہی .." اور اس کی ہنسی کے ساتھ ساتھ اس کی چوچیاں بھی ایسی ہل رہی تھیں جیسے وہ بھی اس کی ہنسی میں شامل ہوں .. اس ہنسی مذاق نے ماحول کو ہلکا بنا دیا اور میری پوری ہچکچاہٹ دور کر دی بھارتی نے l اب میں اس کے بالکل قریب آ گیا، اس جاںگھیں اور میری جاںگھیں چپکی تھیں ..میں آہستہ آہستہ آپ کی ران سے اس موٹے ران کو رگڑ رہا تھا ... اور وہ بھی پورا ساتھ دے رہی تھی .. اب میں نے اپنے ایک ہاتھ سے اس کی دوسری ران تھام کر سہلانے لگا اور دوسرے ہاتھ سے ایک چوچی کہ knob کے ہلکے سے مسلنے لگا ... بھارتی مستی میں میں ڈوب گئی .اسکی آنکھیں بند ہو گئیں وو ہلکی ہلکی سسکاری لے رہی تھی .. میں نے بھی مستی میں تھا، میرا لؤڑا پتلون پھاڑ کر باہر آنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا ... اب میں اس کی دوسری چوچی اپنے منہ میں لے کر ہلکے ہلکے چوسنے لگا بھارتي کے منہ سے سسکی نکل گئی. "ہیلو ووه ... "اس نے اپنی اںگلیوں سے میرے لؤڑے کو پیںٹ کے اوپر سے سہلانا شروع کر دیا ... میں بھی بیکابو ہو رہا تھا، میں نے بھارتی کو اپنے ہاتھوں سے جكڈ لیا بری ترےه، اپنے سے چپکا لیا اور اس کے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دیئے ..اسے چوسنے لگا گنے اس طرح بھارتي سسکنے لگی .. "ہیلو اووهه س ي ماں ...." اس کی ناک پھڑک رہے تھے .... ہونٹ کانپ رہے تھے .. مجھے جكڈ لیا .. اور میری پتلون کہ زپ کھول دی اس نے .. اور ہاتھ اندر ڈال دیا، underwear کے اوپر سے لؤڑا مٹھی میں لیا اور ہلکے ہلکے دبانے لگی ... "آہ ...." .میں بھی مستی میں آ گیا. .. میں نے اس چوم رہا تھا، اس کے ہونٹ چوس رہا تھا اور وہ میرے لؤڑے سے کھیل رہی تھی، اسے بھینچ رہی تھی ..میرے موٹے لؤڑے کو بھیںچنے کا پورا مزا لے رہی تھی .. دونوں کراہ رہے تھے ... سسک رہے تھے. . کہ تبھی اس نے مجھے اٹھنے کو اشارہ کیا ..میرے لؤڑے کو جكڑتے ہوئے ... میں نے بھی اس کے ہونٹ چوستے اور چوچیوں کو مسلنا زری رکھا ... دونوں اٹھ گئے ... اور اس نے سامنے روم کہ طرف چلنے کا اشارہ کیا میں مسلسل اس کا نچلا ہونٹ چوس رہا تھا ..اور ووه میرے لؤڑے کو تھامے تھی، اپنی مٹھی سے جكڈ رکھا تھا، اور اس دباتي جا رہی تھی اور ساتھ میں مجھے لؤڑے کے ساتھ بےڑ روم کی اور ھیںچ رہی تھی ،، عجیب مذاق سے عالم تھا، دونوں هاپھ رہے تھے .. میں اسے اپنے سے چپكاے تھا ..میرے مسلسل ہونٹ چوسنے کی عادت سے بھارتی کی سانسیں اٹک رہی تھی، آپ کے چہرے کو میرے ہونٹوں سے چھڈاياور ایک لمبی سانس لے کر میرے نيچلے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں سے دبایا اور جھولی سے چوسنے لگی اور میں کھینچتے ہوئے بےڑ پر لیٹ گئی، میں اس کے اوپر تھا ،، میں اسے اس کی پیٹھ سے جکڑا تھا اور اپنے سینے سے چپکا رکھا تھا .. اس نے مجھے آہستہ سے دھکا دیتے ہوئے اوپر کیا اور اپنی نائیٹی کے زپ کو ایک جھٹکے میں کھول دیا، اپنے بدن سے الگ کرتے ہوئے بےڑ کے ایک کونے میں فیںک دیا، اور اس نے میرے پتلون کی طرف اشارہ کیا، میں نے اپنے ہاتھ اس کی چوچی سے ہٹا دیا اور کمر اٹھا کر اپنے پتلون کے بیلٹ کھول دیا، نیچے اور گھٹنوں کے نیچے کرتے ہوئے پاؤں باہر نکال لیا .... پتلون فرش پر ڈھیر ہو گیا بھارتي نے شرٹ کے بٹن کھولے اور میں نے اپنے آپ کو شرٹ سے آزاد کیا .. اب بھارتی بالکل ننگی تھی اور میں بنیان اور underwear میں تھا .. بھارتی نے کہا .. "جانو، میرے آج کے بادشاہ .. ہمارے درمیان کا پردہ تو ہٹاؤ نہ .." اور میں نے بنیان اتار دی اور اس نے میری چڈڈھي کمر سے کھینچ کر پیروں سے نیچے کر دیا ... اب دونوں بالکل ننگے تھے ےك دوسرے کو دیکھ رہے تھے ... مستی میں هاپھ رہے تھے ... بھارتی لمبی، لمبی سانسیں لے رہی تھی .. ناک پھڑک رہے تھے مےنے اسے پھر سے اپنے سینے سے چپکا لیا ..میرے ننگے سینے، بالوں سے بھرے سكي ننگی چوچیوں کو دبا رہے تھے سكے ہاتھ نیچے میرے تننايے لؤڑے کو سہلا رہے تھے ... اور میں پھر سے اس کے ہونٹ چوسنے لگا، اور اس کے اور جھولی سے اپنے سینے سے چپکا لیا "اااه .. اتنے جھولی سے نہ دباؤ بادشاہ، میں مر جاؤں گی .. اووه .. "بھارتی سسکاریاں لے رہی تھی ..میں نے اپنی جكڈ ڈھیلی کی، پر ہونٹ چوسنا چالو رکھا
 .. اس کے منہ سےلار میرے منہ میں مسلسل جا رہا تھا اور مےسمرت پورے کا پورا ڈکار رہا تھا ..اب میں نے اپنی جیبھ بھی اندر ڈال دی اس کے منہ میں، اس کی طالو، اس کے اندر کے گال، اس کے دانت چاٹنے لگا ... اس چاٹ رہا تھا بھارتی کو چاٹ رہا تھا بھارتي ایک دم مستی کے عالم تھا، اس نے اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ دیا تھا .. میری بانہوں میں ... دونوں هاپھ رہے تھے .. بھارتی آہستہ آہستہ کراہ رہی تھی ..اب میں نے اپنے گیلے اور اس تھوک سے بھری زبان اس کی چونچی کی knob پر گھمانے لگا، جو پہلے سے ہی مستی میں کڑک ہو گیا تھا بھارتي ایک دم دکھ درد اٹھی .. "ہیلو بادشاہ جانو ..." اس کا پورا بدن سيهر اٹھا كاپ اٹھا .. میری زبان کے رابطے سے .. اس knob اور بھی ٹائیٹ ہو گئی .. میری زبان بھی اس احساس ہوا .. میں اپنا ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر لے گیا، سہلانے لگا، بڑے گداز تھے ... میری پوری کھجور اس کے نرم پیٹ کو آہستہ آہستہ سہلانے لگی بھارتي اچھل پڑی ...... "ائی اه ... کیا کر رہے ہو میری جان ..میں تو مستی میں بغیر چودے ہی مر جاؤں گی ماا .. ا اوههه .." ووه هاپھ رہی تھی .. اور میں اس knob کے چوس رہا تھا ،، اس کے پیٹ سہلا رہا تھا، اس جكڈ رکھا تھا .. اور اس نے اب بھی میرا لؤڑا تھامے رکھا تھا اپنی مٹھی میں .. مستی میں اس کی چمڑی آگے پیچھے کر رہی تھی ... اس بڑا اچھا لگ رہا تھا مےرا لؤڑا سہلانا ... موٹے اور لمبے لؤڑے عورتوں کو روکنے میں بڑا مزہ آتا ہے .. ہم دونوں مستی کے بھرپور عالم میں تھے ... میرے لؤڑے سے مسلسل پانی نکال رہا تھا سكي چوت کا بھی یہی حال تھا .. میری جاںگھیں اس کی چوت کے پانی سے بھيگ گئے تھے ... اس بےڑ شیٹ گیلی ہو گئی تھی ... وہ سسکاریاں لے رہی تھی، هاپھ رہی تھی كراه رہی تھی ... آنکھیں بند شدہ دھیما دھیما مسکرا رہی تھی ..اور میں پاگل ہو رہا تھا .. پورے بےڑ روم میں اا اووهه هاي ما رے ماں كا عالم تھا .. " اب میں نے اپنا منہ اس کی چونچی کے knob کے الگ کیا .. پر اس کی چونچی پھڑک رہی تھی .. عجیب سماں تھا گ حصہ پھڑک رہے تھے .. پکار رہے تھے .ہماری جبانے بند تھیں، بدن، جسم سے باتیں ہو رہی تھیں، رابطے کی زبان چل رہی تھی ... جذبات کا طوفان امڈ رہا تھا ... ہم ایک دوسرے میں کھویے تھے ... اپنا منہ میں اس کے پیٹ پر لے گیا جيبھ سے چاٹنے لگا سكي ناف پر پھرایا بھارتي چللا اٹھی .. سيهر اٹھی ... کانپنے لگی .. ".: هااا. ... اوووووه ا اوههه آآ ... ائی ماں ..کیا ہو رہا ہے مر جاؤں گی آج میں ... .. ماااااا. " اس کمر نے اڑا کھایا .. چوت سے پانی کی دھار نکل پڑی ..میری جاںگھیں بھیگ گئیں .. میں پیٹ کا چوسنا جاری .. اب میری بھی بری حالت تھی .. اس کے ہاتھوں کی گرمی سے میرا لؤڑا مست تھا ... ایسا لگا میں بھی جھڈ گا مےنے اپنے کمر کو تھوڑا اوپر اٹھایا، کی طرف آپ کے لؤڑے کو اس کے ہاتھوں سے آزاد کیا ... لؤڑا میرا پھوپھكار رہا تھا جھٹكے کھا رہا تھا ... بھارتی سمجھ گئی میں نے بھی کیا چاہتا تھا .. اس نے اپنے پاؤں پھیلایا، مجھے اشارہ کیا، میں اس کے پاؤں کے درمیان آ گیا. اس نے میرا لںڈ بڑے پیار سے تھاما اوے اپنے چوت کے منہ پر ٹيكايا .. اس کی چوت کا منہ مکمل کھلا تھا سكي ملائم چوت کے رابطے پاتے ہی میں چلا اٹھا .. اااااااه بھارتي .. "میرے پورے بدن میں سيهرن بھر اٹھی دھر بھارتی بھی لںڈ کے سپاڑے کے رابطے اپنی چوت میں محسوس کرتے چللا اٹھی .. ہیلو ؛؛ آہ کتنا گرم ہے جانو ... "جانب پھر اس نے جو کمال کیا، اس کے برابر تجربہ کار ہی کر سکتا ہے. س نے میرا لںڈ تھامے اپنے کمر کو زور سے اوپر اچھالا .. اتنی زور سے کی میرا لںڈ اسکی گیلی چوت میں دھنس گیا ..میں ایک دم سيهر گیا اس اچانک کے دھکے سے .. اگر میں لںڈ اندر پیلتا تو بھی اتنا مزہ نہیں آتا .. اس اچانک کے جھٹکے نے ایک بالکل نیا ہی مزہ دیا .. میں مست ہو گیا .. طرف اب خود دھکے لگانے لگا .. بھارتی نے دونوں ٹاںگیں اوپر کر لی تھیں طرف میں اس چوتڑوں کو جكڑتے ہوئے مسلسل دھکے لگاي جا رہا تھا .. دھکے پہ دھکا هر دھکے پہ بھارتی شیخی جاتی گرد ہیلو "کر اٹھتی .. میں پاگل ہو اٹھا تھا .. میری پوری مستی اب لؤڑے پر تھی .. طرف بھارتی کی پوری مستی اس کی چوت میں سمايي تھی ..میں دھکے لگا کر مستی لے رہا تھا ووه کمر اچھال اچھال کر دونو مستی کے انتہائی حد کی طرف بڑھتے جا رہے تھے. .میرا دھکا لگانا طرف اس کا کمر سمتار سے فیںکنا دونوں میں ایک عجیب تال میل ہو گیا تھا هر دھکے میں میرا لؤڑا پورے جڑ تک اس کی چوت میں رشوت جاتا وو چللا اٹھتی .. "ہیلو .. بادشاہ واهجانو .. وووووووو ..... آپ تو نام کے نہیں کام بھی پریتم ہو پريت ... میرے چوت کے پريت ... اااااهه چودو ... بادشاہ چودو اج تو میں گييييييييييي .... ........ میں سمجھ گیا بھارتی اب جھڑنے والی ہے مےنے دھکے کی رفتار میں زور اور تیزی لایا .. بھارتی کے کمر اچھال بھی تیز ہو گئے .. پورے ماحول میں پھچ پھچ تھپ تھپ کی آواز گونج رہی تھی .. دونوں اپنے ہوشوہواس کھو بیٹھے تھے .... اور کچھ bumps کے بعد میں نے بھارتی کو جكڈ لیا اور جھولی سے اپنا لںڈ اسکی چوت میں ڈالے رکھا ... میں جھٹکے کھانے لگا .. میرا لؤڑا اسکی چوت میں جھٹکے کھانے لگا اور بھارتی بھی اپنی کمر اچھالتی رہی .. دونوں جھڑتے رہے جھڑتے رہے .. جھڑتے رہے .... اسکی چوت میں میرا لؤڑا سكوڈ کر پھک سے باہر آ گیا .اور اس کی چوت سے میرا سہ اور اس کا رس .دونوں مل کر رسنے لگے ... باہر آنے لگے .. مستی کی گنگا بہہ رہی تھی بھارتی کی چوت سے ... میں بھارتی کے اوپر ڈھیر ہو گیا سكے سینے پر اپنا سر رکھ کر لیٹ گیا هاپھنے لگا بھارتي بھی هاپھ رہی تھی ... اور اس کی چوت کانپ رہی تھی ... دونوں ایک دوسرے کی بانہوں میں کھو گئے اس کی چوت كپاي اور کاک گھسائی چوداي کے بعد کافی دیر تک ہم دونوں ایک دوسرے سے چپکی لیٹے رہے ... میں بھارتی کے بدن سے نکلتی اس پسینے اور پرپھيوم کی ملی جولی منشیات خوشبو سے لطف اندوز رہا تھا .. کھو تھا .. لمبی لمبی سانسیں لے رہا تھا جےسے پوری خوشبو میرے اندر سماں جائے .. بھارتی بھی میرے سینے سے سر چپكايے آنکھیں بند شدہ چوداي کا مزہ اپنے دل و دماغ میں جذب کر رہی تھی ... تھوڑی دیر بعد وہ اٹھی اور باتھ روم، جو کمرے سے attached تھا، گئی ،، پیشاب کیا اور اپنی چوت کو صاف کر پھر سے اپنی پتلی جھيني نائیٹی پہن کر میرے ساتھ لیٹ گئی .. میں نے بھی اپنے لںڈ کو وہاں پڑے ایک چھوٹے تولیے سے پونچھا اور اس کے رانوں پر اپنے پاؤں رکھ اس کی طرف منہ گھوما کر اور ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھ اسے اپنی طرف ہلکے سے نکالا .. اور کہا "بھارتی، کیسی رہی میری چوداي .. ؟؟" اس نے میری طرف اپنا سر اور میری آنکھوں میں ایک ٹک دیکھنے لگی .. اور تھوڑی سرس ہو گئی .. میں نے کہا .. "ارے کیا ہوا میری رانی چچھا نہیں لگا .. ؟؟" اس نے کہا "سچ کہوں ..؟" "جی ہاں، بالکل سچی کہو گر اچھا بھی نہیں لگا تو کوئی بات نہیں ..میں برا نہیں مانوں گا .. میں جانتا ہوں، میں ہی سب سے پہلے مرد نہیں جس نے تمہیں چودا ہے، ایک سے ایک لںڈ تم نے اپنی چوت میں لیا گے ... تو بے فکر ہو کر جو سوچ رہی ہو بول دو .. " نہ جانے مجھے کیوں اس کی مرضی جان نے کا من ہوا .. کیونکہ وہ تو ایک ہائی کلاس کال گرل تھی، اس پیسے سے مطلب اور مجھے چودنے سے، اسے اچھا لگے یا نہ لگے ... پر میں دل سے چاہتا تھا کہ اس کے پورا رکھوں ... اسے خوش رکھوں ... مجھے بھی اس سے خوشی ہوتی ... میں اس ٹھوڑی پکڑ کر کہا "بولو نہ میری جان ..." میرے بولنے میں اتنی ميٹھاس تھی، روح تھی اور سب سے زیادہ اس کی خواہش کا احترام تھا .. بھارتی جذباتی ہو اٹھی اور اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے .. گرم گرم قطرے میرے سینے پر ٹپکے .. "ارے کیا ہوا بھارتيمے کچھ غلط کہا .. ؟؟" "نہیں آپ نے ...." میں اسے فورا ٹوکا "آپ نہیں آپ ..." اس کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ آئی اور اس نے بولنا جاری رکھتے ہوئے کہا "تم نے کچھ غلط نہیں کہا جانو .. تمام صحیح کہا ..میں اس لئے رو پڑی كے آج تک کسی مادرچود نے میری پسند کا، کبھی خیال نہیں کیا سبھي سالے اپنا لںڈ نصف مکمل ڈال ماں کے لؤڑے نصف رستے میں میری چوت میں پانی seepage کے چل دیتے كسي کو مطلب نہیں تھا میرا کیا ہوتا ہے ..میں کتنا تڑپتی ہوں اپنی چوت قی بھوک مٹانے کے لیے، آپ پہلے مرد ہو جس نے میرا خیال کیا .. اور بھگون قسم چوداي بھی ایسی کی تم نے ..مجھے اتنا مزہ کبھی نہیں آیا ..میں شاید زندگی میں پہلی بار بارش ... " میں اس قی باتیں سن اواك رہ گیا ... گلاب کے پھول میں خوشبو تو ہے ..پر کانٹے بھی .اور کانٹے بھی ایسے جو پھول کو بھی چبھتے ہیں گر انہیں وقت پر نہیں كترا جائے .. "پر بھارتی تمہارا شوہر گوپال کیا تمہیں چودتا نہیں .." میں پوچھا .. "اس قی تو بات ہی مت کرو شالا بھڈوا ہے مادرچود، بی بی قی چوداي قی کمائی اکاؤنٹ ہے ... شالا مجھے کیا چودیگا ..؟ اس کا تو 3" کا لوڈا آج تک کبھی کھڑا ہی نہیں ہوا .. بس میرے سامنے موٹھ مار کے پانی چھوڑ دیتا ہے حرامی ... ایک دو بار گھوسانے قی کوشش کی بهےنچود نصف میں اس لؤڑے نے الٹی کر دی ... سسالا نامردی .. " میں نے دل ہی دل سوچا جو دیکھتا ہے سامنے سارا سچ ووہی نہیں ہے .. اور بھی بہت کچھ ہے ..میں تو سوچتا تھا قی یہ لڑکی روز ایک سے لںڈ لیتی ہوگی اور کتنا مزہ کرتی ہوگی ..پر یہاں تو بات بات ہی کچھ اور ہے .. مطلب یہ کہ اس کی کہانی کچھ اور ہی ہے كاپھي کچھ دیکھا ہوگا اس نے اپنی چھوٹی سی زندگی میں .اس طرح آدمی سے اس کی شادی کیسے ہوئی .. اس نے یہ سب باتیں اپنے ماں باپ کو کیوں نہیں کہا .. اس ماں باپ کہاں ہیں، کیا کرتے ہیں اد وغیرہ ن تمام سوالات کا جواب بھارتی کے پاس ہی تھا مےنے ٹھان لیا آج نہیں تو کل اس کی مکمل کہانی ضرور سنوں گا، اسی قی زبانی ..پر یہ یقینی تھا کے آج نہیں ... آج تو اس کا دل اور چوت کو پوری ترےه جیتنا تھا مجھے .. "هممم تو یہ بات ہے .. کوئی بات نہیں بھارتی، لو اب میں ہوں نہ تمہاری چوت کہ پیاس بجھانے .. اور میں بھی ایک بات بولوں میری رانی .. ؟؟ "ہاں ہاں، بادشاہ بولو نہ .." "ملکہ مجھے بھی آج تک اپنی بی بی کو چودنے میں اتنا مزہ نہیں آیا ..تم نے ایسے چدوایا جیسے اپنے آپ کو تم نے مجھے سونپ دیا. صرف تمہاری چوت ہی نہیں تمہارا مکمل جسم میرے لؤڑے سے چدوا رہا ہے .." "سچ .. ؟؟" "جی ہاں میری رانی .." میں نے اس کے گالوں کو چومتے ہوئے کہا، "بالکل سچ ...." ایسا سنتے ہی اس نے اپنا سر میرے سینے سے اور بھی چپکا لیا ..مجھے چومنے لگی مےر ہونٹوں کو، میرے گالوں کو l میرے بالوں سے بھرے سینے میں کھجور گھومانے لگی ..میں مستی میں کراہنے لگا ... ہماری آج کی چوداي کا دوسرا لیول اور دوسرا دور شروع ہو چکا تھا بھارتی میرے سینے میں ہاتھ پھراتے ہوئے مجھے چومنے لگی هم دونوں کروٹ لئے ایک دوسرے کی طرف منہ شدہ لیٹے تھے .. میرا ایک ہاتھ اس کی کمر کو جكڈتے ہوئے اپنی طرف چپكاے تھا ... میرا لؤڑا اسکی نائیٹی کے اوپر سے ہی اس کی چوت میں زوردار دستک دے رہا تھا .. میرا ایک پاؤں اس کی ران کے اوپر تھا ..اور اس جكڈ رکھا تھا .... اس کا چومنا جاری تھا .میرے ہونٹ ..میرے گال، ... باری باری چپ چپ چومے جا رہی تھی چوسے جا رہی تھی ... پھر اس نے اپنی زبان میرے منہ میں ایک بار ہی ڈال دیا لپ لپاتا ہوا اندر گیا اور اس نے میرے منہ کے اندر چاٹنا شروع کر دیا .. اور اب ووہ اپنی زبان اندر ڈالے  میرے اوپر آ گئی ... میں نیچے تھا

Posted on: 06:22:AM 14-Dec-2020


0 0 97 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com