Stories


ملکہ،دوست کی شہوت انگیز بیوی از رابعہ رابعہ 338

تو یہ تب کی بات ہے جب ایک دن میرا دوست انل اپنی واف کے ساتھ میرے گھر آیا، انل اور میں ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں، انل کی واف ملکہ ٹیچر ہے. اس دن انل نے بتایا کہ اس کا پرنٹر اور یو پی ایس خراب ہو گیا ہے اور ملکہ کو اسکول کے کچھ کاغذ سیٹ کرکے اسکول میں جمع کرنے ہیں. اس لئے وہ میری مدد کرنا چاہتا تھا، میرے پاس پرنٹر اور پی سی دونوں ہیں. وہ جب شام کو قریب 8:00 بجے آیا تو میں تھوڑا سا گھبرا گیا تھا کہ اچانک دونوں کس طرح آ گئے. انل کو تھوڑا پینے لینے کی عادت ہے اور اس دن شاید ہفتہ تھا تو اس وقت وہ تھوڑا پینے شدہ ہوئے تھا. اس نے کہا کوئی بات نہیں میں ٹائپ کر دیتا ہوں اور آپ بولو تو ملکہ نے کہا کوئی بات نہیں میں بول دیتی ہوں، یہ میں نے ہی بنایا ہے تو گلتيا نہیں ہوں گی، کیونکہ اس کو اچھی ٹائپنگ نہیں آتی تو وہ ٹائپ نہیں کر پائے گی. ملکہ میرے ساتھ کرسی لگا کر بیٹھ گئی وہ اتنا نزدیک تھی کہ میں اس سانسیں محسوس کر سکتا تھا. کئی بار اس کے بوڈي سے میری بوڈي چھو رہی تھی اور اس کے لب بالکل میرے قریب تھے اس سنہرے بالوں والی رنگ اور دبلا پتلا جسم مجھے ڈسٹرب کر رہا تھا. انل بھی پیچھے بیٹھا تھا اور میں اپنے پر کسی طرح کنٹرول شدہ ہوئے تھا. پر ملکہ بالکل نورمل تھی، اسے شاید ہی میرے برے ارادوں کا احساس ہو رہا ہو. میں تھوڑا نروس سا بھی ہو رہا تھا. دل تو کر رہا تھا کہ اس کی ایک پپی لے لوں اور اس تھايس پر ہاتھ فےرو. اس میڈیم سائیز کے ٹائیٹ بوبس پر اپنے لپس سے چومو. پر یہ سب اس وقت ممکن نہیں تھا، اس چکر میں، میں نے ایک دو بار ٹائپنگ کرنا ہی بھول گیا. کبھی کبھی میں اس کے پورے بدن کو ہی دیکھتے رہ جاتا. تھوڑی دیر میں انل کو پھر پینے کی ضرورت محسوس ہوئی، تو وہ بولا ملکہ میں 10 منٹ میں آیا. ہم دونو سمجھ گئے تھے کہ وہ کہاں جا رہا ہے. دونوں ہی اس کی عادت جانتے تھے. انل کے جانے کے بعد ملکہ اور میں اپنا کام کرتے رہے اور میں درمیان درمیان میں ملکہ کے پورے بدن پر نظر مار لیتا تو ملکہ بھی مجھے دیکھ کر مسکرا دیتی. پھر جب کاغذ مکمل ہو گیا تو میں نے ایک پرنٹ آؤٹ چیکنگ کے لئے ملکہ کو دے دیا. ملکہ نے کچھ كوررےكشن کے بعد مجھے باہر پرنٹ دیا تو میں كوررےكشن کرکے دوبارہ فیئر باہر پرنٹ نکال کر ملکہ کو دے دیا. اس طرح ہمارا ٹائپنگ کا کام مکمل ہو گیا تو میں نے ملکہ کو بولا کہ کام تو مکمل ہو گیا پر انل نہیں آیا. میں ایسا کرتا ہوں تھوڑی چائے بناتا ہوں تب تک شاید انل آجائے پھر تینو چائے پييےگے. ملکہ بولی نہیں چائے میں بناگي، مجھے کل بھی تم تکلیف دینی ہے. یہ تو ایک ہی کاغذ ہوا ہے ابھی تین کاغذ اور ہیں، پرنٹر اور یو پی ایس شاید دو تین دن میں ٹھیک ہوں گے اور مجھے کاغذ پرسوں تک جمع کرنا ہے. میں کچھ کہتا اس سے پہلے ہی ملکہ کچن میں چلی گئی میں انکار نہیں کر پایا. اس کچن میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی اور اس نے چائے بنانے کو بھی رکھ دی. 5 منٹ کے بعد ملکہ دو کپ میں چائے لے کر آ گئی تو میں نے کہا کہ انل کو بھی آنے دو تو وہ بولی راج آپ کیا بات کر رہے ہو اس وقت وہ چائے پینے کی حالت میں ہوں گے کہاں. ان کے لئے چائے نے نہیں بنائی ہے ان کو چاہیے وہ اس کے لئے ہی گئے ہیں. میں تو انل کے پینے کے بارے میں جانتا تھا پر کسی کی برائی اور وہ بھی اس کی بیوی سے کرنا بڑی بیوقوفی ہوتی ہے آخر شوہر خدا جو ہوتا ہے. پھر اچانک وہ مجھ سے بولی راج تم بھی اب شادی کر ہی لو، ایسے کب تک چلے گا تو میں نے کہا ہاں انل کو دیکھ کر میرا بھی دل کرتا ہے اور اس مزے دیکھ کر کبھی جلن بھی ہوتی ہے. ملکہ بولی کیوں جلن کس بات کی، ارے وہ تو تمہاری بچولر زندگی کو اچھا بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ غلط فںس گئے. میں نے کہا میں سچ کہوں تو ایک بات کی جلن بڑی ہوتی ہے کہ اس (انل) کی بیوی بڑی خوبصورت ہے. میرا ایسا کہنے پر ملکہ پہلے تو شرما سا گئی پھر بولی اچھا جی تو آپ کے منہ میں کی زبان بھی رکھتے ہو. میں تو تم کو بڑا سیدھا شفل سمجھتی تھی، پر آپ بھی کم نہیں ہو باتیں بنانے. دوسرے کی ہری ہری نظر آتی ہے، میری بھی کچھ پریشانیاں ہیں، میں نے کہا کیوں خوش ایک اچھا خاندان ہے بچہ ہے. ایسی کوئی پروبلم تو نہیں لگتی آپ دونوں ٹھیک ٹھاک کماتے ہو. ملکہ بولی ہاں وہ سب تو ہے پر. بہت مس کرتی ہوں، پھر بھی ٹھیک ہی ہے. انل ابھی تک بھی نہیں آیا تو میں نے کہا پتہ نہیں کیا بات ہے، تو ملکہ بولی یہی تو بات ہے تو پینے کر لیا تو انہے کسی بات کا کوئی دھیان نہیں رہتا. اب گھر جا کر نہ طریقے سے کھائیں گے نہ کچھ کریں گے اور سو جائیں گے، کبھی کبھی تو روز ہی ایسا ہوتا ہے. مجھے ایسے شرابی سے نفرت ہوتی ہے اور پھر ہم دونو بہت دنوں تک ایک کمرے میں بھی مختلف ہوتے ہیں. بچہ تو بس اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم شوہر زوجہ ہیں پر شاید ایک شوہر زوجہ کی طرح محبت شدہ ہمیں سالوں گزر گئے. ملکہ بالکل جذباتی ہو گئی تھی، میں نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا سب ٹھیک ہو جائے گا آپ اس سے محبت سے وضاحت وہ سمجھے گا. وہ تم ڈرتا تو ہے پر شاید اپنی عادت نہیں چھوڑ پاتا اور اس کی وجہ بھی شاید اس کم آمدنی ہے، آپ اس سے زیادہ مطالبات نہ کیا کرو ملکہ نے اپنا کندھا میری گود میں رکھ دیا اور بولی راج تمہاری بھی تو پروبلمس ہوں گی تو کیا پینے میں ہی سب پروبلم حل ہے؟ وہ میری گود میں آ گئی تھی میں اس کی باہوں پر ہاتھ فےرنے لگا ویسے میں یہ کنسول کرنے کے لئے کر رہا تھا پر میرا شہوانی، شہوت انگیز دماغ پورا مزا لے رہا تھا. ملکہ کو بھی میرا ٹچ پسند آئے اور وہ کچھ نہیں بولی تو میں نے اسے اور اوپر کھینچ کر اپنی باہوں میں لے لیا. ملکہ نے کچھ نہیں کہا اور اپنا سر میرے کندھوں پر رکھ دیا. میں نے اس کی کمر سے پکڑ کر سوفے کی طرف لے گیا تو وہ میرے ساتھ چل دی. ملکہ ظہور میں بالکل کریکر ہے، سنہرے بالوں والی رنگ اور روشن ہموار جلد، پتلی کمر، قد 5 "/ 4" اس فگر 34-26-36 گے. ملکہ شاید چاہتی تھی کہ میں اس سے خوب باتیں کروں اور اس تعریف کروں پر میں ایسا نہیں کر پایا. میں نے اب تک ملکہ کے بدن کو دیکھ کر مست ہو چکا تھا اور میں نے سوچا بیٹا اس تصوراتی، بہترین موقع کسی عورت کے بدن سے کھیلنے کا ملنا مشکل ہے اس لئے میں بھی موقع کا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا. ملکہ کو کیا فرق پڑتا اگر میں وہاں نہیں ہوتا تو انل تو اس کے ساتھ روز ہی ایسا کرتا. میں عمر میں بڑا اور اس کو اپنی باہوں میں لے کر بولا سب ٹھیک ہو جائے گا آپ فکر مت کرو بس مست رہو، ابھی تو میں تجھے مایوس نہیں کروں گا، انل سے زیادہ مزہ دوں گا اور اتنا کہہ کر میں نے اس کے لب پر اپنے لپس رکھ اسکے لپس کو بند کر دیا. ملکہ سکپکا گئی اور کچھ بول نہیں پائی، میں نے اس کے لب جو بند کر دیے تھے. جیسے ہی میں آپ کے لب تصدیق وہ بولی راج آپ بہت گندی ہو، آپ نے ایسی گندی بات کس طرح سوچی. میں نے کہا جو انل نہیں کرتا وہ میں کرتا ہوں تو تم کیوں پریشان ہو، میں کون ہوں بھول جاؤ تھوڑی دیر کے لئے. میں بھی تمہاری نزدیک کا ہوں اور سوچو میں وہ تمام تمہیں دے رہا ہوں جو تم انل سے اس وقت چاہتی ہو، پھر میں پینے بھی نہیں کرتا. میری اس بات کا ملکہ پر اثر ہوا اور وہ بولی پر مجھے ڈر لگ رہا ہے، میں ان کے ساتھ کوئی غلط تو نہیں کر رہی. میں نے کہا سوچ لو یہ تمہارے اوپر ہے اور میں اس چومتا اور اس رانوں اور بیک پر مساج بھی کرتا رہا. ملکہ بولی پلیز جیسا تم چاہو پر پلیز میرے کپڑے مت خالی آپ باہر سے جو چاہے کر لو مجھے بڑی شرم آ رہی ہے. میرا تیر صحیح نشانے پر لگ گیا تھا اور میں نے ملکہ کو اپنی باہوں میں لے لیا. پھر میں نے بغیر وقت گوايے کئے ہوئے ملکہ کے بوبس پر اس قمیض کے باہر سے ہی ہلکا ہاتھ فےرنا شروع کر دیا. دوست یہ سب کس طرح ہو رہا تھا مجھے نہیں معلوم، میں اتنا ہمت والا نہیں ہوں. ملکہ مجھے ٹچ سے مست ہو رہی تھی، اسی درمیان میں نے موقع دیکھ کر رانی کی سلوار کا ناڑا چپکے سے کھول دیا اور اسے پتہ نہیں چلا. میں اس کے ہموار رانوں پر ہاتھ فےرنا چاہتا تھا جیسے میرا ہاتھ اس کے جاںگھیا پر ٹچ ہوا وہ ایک دم سے ناراض ہوتے ہوئے بولی راج نو چيٹگ اور اس نے اپنی سلوار ایک ہاتھ سے پکڑ لی پر اوپر سے وہ مست ہو چکی تھی پر اب بھی مجھ سے چدوانے میں وہ ہچکچا رہی تھی پر میرے ٹچ سے اس مزا آ رہا تھا. پر اسکی سلوار ابھی تک کھلی ہوئی تھی جس نے ایک ہاتھ سے پکڑ رکھا تھا. جیسے ہی میں نے اسے اپنی باہوں میں لیا تو اس کے ہاتھوں سے اسکی سلوار نیچے سرک گئی اور میں نے اوپر سے اسکی قمیض کی زپ پیچھے سے کھول دی اور اس نے اندر سے سیاہ چولی پہنی ہوئی تھی. میں تو اس کے گورے بدن پر سیاہ برا دیکھ کر مست ہو گیا . ویسے تو میں تو آرام سے مستی کے ساتھ مزا لینے والا ہوں پر سوفے میں كمپھرٹےبل نہ ہونے کی وجہ ایسا نہیں کر پایا. میں نے فوری طور پر رانی کی قمیض اتار دی اور اب وہ سوفے کے درمیان کالی برا اور لال جاںگھیا میں آدھی ننگی کھڑی تھی. پھر میں نے اسے کمر سے پکڑ کر اس کی برا کے باہر سے ہی اسکے بوبس پر کس کرنا شروع کر دیا وہ چلانے والی تھی پر میں نے اسے ڈراتے ہوئے کہا کہ کسی نے سن لیا تو تمہاری بہت بے اذذتي ہوگی اس لئے جیسے میں کرتا ہوں مجھے دو میں تو اس کے تمام جسم پر مستی سے مسلنا، کلیمپ، رب کرنا اور کس کرنا جاری رکھا. پھر میں نے اس کی برا کا ہک بھی کھول دیا اور اسکے بوبس کو رب کرنے لگا اب ملکہ مستی میں آنے لگی اور اس کو میرا ایسا کرنا اچھا لگنے لگا وہ مجھے درمیان میں پیار سے منع کرتی اور کبھی کبھی چومنے لگتی پر اسے اس بات کا ڈر لگتا تھا کہ کہیں انل آ نہ جائے. تھوڑی دیر کے بعد میں نے اس جاںگھیا کے اندر ہاتھ ڈال دیا تو وہ پریشان ہو گئی اور اس نے جلدی میں آپ کے جاںگھیا اپنے آپ اتار دی. واہ اس کی چوت بڑی مست تھی بالکل گلابی اور اس کے ارد گرد چھوٹے سے بھوری بال، مجھے لگتا ہے اس نے اپنی چوت ایک دو دن پہلے ہی صاف کی تھی. اس کی چوت کے بال بالکل نرم نرم تھے شاید ان کل پرسوں ہی کاٹا گیا تھا وہ زیادہ سے زیادہ طویل بھی نہیں تھے زیادہ سے زیادہ 1 -2 ملی میٹر تک ہوں گے. اس کی چوت دیکھ کر تو وہ 18-20 سال کی لگتی تھی اس بوبس بھی بالکل ٹائٹ اور چھوٹے چھوٹے تھے. جہاں تک چوت کی بات تھی شاید انل تو کبھی کبھی ہی اسکی چوت تک ہاتھ فیر پاتا تھا، اس کی چوت دیکھ کر لگتا نہیں تھا کہ وہ ابھی تک ایک بچہ نکال چکی تھی اور کئی بار ایک 6 پھٹے مرد کے لںڈ کی مار جھےلتي تھی. وہ ایک دم نرم گلابی مست گدگدی مکھن جیسی تھی. اس کی ایسی انچھي چوت دیکھ کر میں اپنے آپ کو روکے نہیں سکا اور میں سمجھ گیا کہ ایسی چوت دوبارہ چودنے کو شاید کب مل پائے. پھر میں نے اسے سوفے پر لٹا دیا اور اس کے اوپر چڑھ گیا میں نے اپنے کپڑے نہیں اتارے صرف پتلون کی زپ کھول کر پتلون نیچے کر دی اور اپنا لںڈ باہر نکال کر ملکہ کے اوپر چڑھ گیا میرے لںڈ کے ٹچ سے تو ملکہ پاگل ہو گئی اور اس بوڈي کے ٹچ سے میرا لںڈ بھی ٹائیٹ ہوتا چلا گیا میں اپنے لںڈ سے اس کی پوری بوڈي پر رب کرنے لگا اور وہ شرماتے ہوئے چیخنے لگی وہ مستی میں یہ سب کر رہی تھی. اچانک مجھے ایک مستی سوجھی اور میں نے اس کے دونوں بوبس کو دونوں ہاتھوں میں لے کر اس کے درمیان اپنا لںڈ رکھ دیا میرا لںڈ دیکھ کر شرماتے ہوئے ملکہ نے اپنی آنکھیں بند کر لی اور پھر میں اس کے دونوں بوبس کے درمیان لںڈ کو فٹ کر کے چدائی والی اسٹائل میں اسکے بوبس سے لںڈ کو رگڑنے لگا. اس میرا لںڈ اور ملکہ کے بوبس ٹائیٹ ہوتے چلے گئے اور دونوں اس اےنجي کرنے لگے. ملکہ تو میرے اس کارروائی مچل اٹھی تھی وہ 27-28 سال کی عورت تھی اس کے مقابلے میرا چدائی کا کوئی زیادہ تجربہ نہیں تھا. تھوڑی دیر میں میرا لںڈ اتنا تنگ ہو گیا کہ اس ہلانا بھی مشکل لگ رہا تھا. اب مجھے لگا کہ یہ ملکہ کی چوت میں جانے کے لیے بالکل فٹ ہے. ملکہ نے اپنی آنکھیں بھی بند شدہ ہوئی تھی. وہ میرا لںڈ دیکھ کر گھبرانے کا بہانہ کر رہی تھی جبکہ اس کا شوہر پورے 6 کا تھا اور اسکا لںڈ تو کم سے کم 7-8 کا ہوگا. پھر میں نے بغیر شرح شدہ رانی کی دونوں ٹانگوں کو فےلايا اور ایک دھکے کے ساتھ رانی کی چوت کو دونوں جانب سے فےلاكر اپنا کھڑا لنڈ اسکی چوت میں ٹھونک دیا اور ایک جھٹکے میں ہی مکمل اندر تک گھسیڑ دیا. ملکہ کی چوت بڑی ٹائیٹ تھی کسی 18 سال کی لڑکی جتنی ٹائیٹ اور انچھوي تھی اور مجھے اس کی چدائی کے آغاز میں ہی اتنی محنت کرنی پڑ رہی تھی. ملکہ تو میرے کارروائی مست ہوتی جا رہی تھی اور اس کی بھوک بڑھتی جا رہی تھی اور وہ مجھے اور اندر ڈالنے کے لئے کہہ رہی تھی. میں نے بھی پھر اور ایک دھکا لگایا تو میرا پورا لںڈ اسکی چوت میں سما گیا اور ملکہ اپنی گاںڈ اٹھا اور اپنی طرف سے دھکا لگا کر چدوانے کو بے تاب تھی اس سے مجھے بڑا مزا آ رہا تھا پر ملکہ کے دھکے سے میں مکمل ہی ہل رہا تھا اور میرا لںڈ اسکی چوت میں فںس گیا تھا. کیونکہ میری چدایی کا تجربہ بھی زیادہ نہیں تھا پر میں نے اپنی مردانگی دکھانے کے لئے ملکہ کو پکڑ لیا اور ایک زور کا دھکا آگے پیچھے لگایا تو ملکہ تو مستی میں اچھل پڑی اور درد کے باوجود مجھ سے بولی راز، دسمبر اس واٹ آئی وانٹ اههه! بس ایسے ہی آگے پیچھے کرو، درد کی پرواہ مت کرو چاہے میں کتنا چللاو. چاہے پھاڑ ہی ڈالو یار بڑا مزا آ رہا ہے ایسا پہلی بار ہے جب درد میں بھی مزا آ رہا ہے. میری حالت بھی خراب ہو گئی تھی اور میں نے اس کا منہ بند کر دیا تھا جس سے وہ چیخ نہ پڑے. پر لںڈ کے اندر جاتے ہی رانی کی مستی بڑھ گئی اب مجھے درد ہو رہا تھا پر وہ درد کے ساتھ مستی میں مون کر رہی تھی اور مجھے دھکا لگانے کو کہہ رہی تھی. ایک طرف وہ چللا رہی تھی اور دوسری طرف مجھ دھکا لگانے کو کہہ رہی تھی. راج جور سے دھکا لگاؤ ​​نہ اههه تیز، اور جوررر سی اے پپهپھاڑ دو یہ آج مزہ آ رہا ہے درد کی پرواہ نہیں پر دھکا لگاؤ ​​جلدی. راج پلیز تیزی سے دھکے لگانے نہ مممم. ااهههه اور جوور رر سی اے ارر تیز ممممم ممماذذا آا رها هےي. میں لںڈ کی رفتار سے ملکہ کی چوت میں پیلنے لگا اور وہ بھی چوتڑ اٹھا اٹھا کر چدوا رہی تھی. میں اسکے بوبس کو بھی مسلتا جاتا تھا، کبھی کبھی تو جوش میں میں نے اس چوچیوں کو پوری قوت سے دبا کر مسل دیا. پر اسکے بوبس حوصلہ افزائی میں اتنے تنگ ہو گئے تھے کہ بالکل پتھر سے لگتے تھے پر میں نے بھی ان ایسا مسئلہ کہ سالی کی حالت خراب ہو گئی. ایک تو اس کی چوت ویسے ہی فٹ رہی تھی اور اوپر سے میں نے اس کے نپل بھی پورے زور سے مسل دیا تو رانی کی مستی کے ساتھ درد کے مارے اتنی زور سے چیخ نکلی کہ میں ڈر گیا کہ کہیں پڑوس میں کسی کو پتہ نہ چل جائے، اگر کوئی اور وہاں ہوتا تو وہ بھی سمجھ گیا ہو گا کہ اس کی زبردست ٹھکائی چل رہی ہے. پر ملکہ کی یہ چدایی زیادہ دیر نہ چل سکی میری تھکاوٹ سے حالت خراب ہونے لگی اور میں نے اپنی رفتار تھوڑا کم کر دی. اسی درمیان میرے لںڈ میں لںڈ کا پریسر لیول سے اوپر تک پہنچ گئی اور اس میں سرسرانا سی ہونے لگی. میں سمجھ گیا کہ اب میں جھڑنے والا ہوں تو میں نے ملکہ کے دونوں چوتڑ پکڑ کر اپنے لںڈ کو اس کی چوت کے اندر مکمل داخل کر روکا تو ملکہ بھی سمجھ گئی کہ میں جھڑنے والا ہوں. ملکہ بولی راج پلیز پل اسے باہر فوری طور پر، میں نے ایسا ہی کیا اور جیسے ہی میں نے لنڈ کو باہر نکالا ملکہ نے جھپٹ کر اسے اپنے منہ کے اندر لے لیا. پھر میرے لںڈ کا سارا مال ملکہ کے منہ میں چلا گیا اور ایک ہی جھٹکے میں اس نے مکمل مال پی لیا اؤر میرے لںڈ کو ایسے چوسنے لگی جیسے میں اس کے نپل کو کر رہا تھا. میرے لںڈ کو مکمل طور پر چوسنے کی عادت اور چاٹنے کے بعد ملکہ اپنے کپڑے پہن لیے جب لاست میں وہ اپنی سلوار پہن رہی تھی تو ایک دم سے فٹافٹ اپنے کپڑے ٹھیک کرنے لگی وہ بڑا گھبرايي ہوئی تھی. میں نے بھی فوری طور پر آپ کی پتلون اور قمیض ٹھیک کی، میں سمجھ گیا تھا کہ اب وہ اےمبراس محسوس کر رہی تھی. اس نے کچھ بولا پر جیسی اس کی حالت تھی اس میں اس کا اتنی بے رخی سا نظر آنا مجھ سمجھ نہیں آیا. ملکہ نے مجھے دور کی طرف اشارہ سا کیا اور وہ فوری طور پر اپنی سلوار کا ناڑا باندھتے ہوئے فٹافٹ اپنے کپڑے ٹھیک کر دور کی طرف چلی گئی. تبھی بیل بجی اور ملکہ نے نورمل ہوکر دروازہ کھول دیا تو باہر انل تھا. اب میری سمجھ میں ملکہ کی گھبراہٹ کا مطلب سمجھ میں آیا. انل کچھ زیادہ پیے لگ رہا تھا پر وہ بولا دیر ہو گئی ہے گھر پر سب انتظار کر رہے ہوں گے. میں نے ایک بار انل کی حالت دیکھ کر ان کے گھر تک چھوڑنے کے لئے چاہتا تھا پر میں جانتا تھا کہ انل کے لئے ایسے میں ڈرائیو کرنا کوئی مشکل نہیں تھا. رات بھر میں اس واقعہ کے بارے میں سوچتا رہا کہ کیا یہ ٹھیک ہوا اور کیا یہ غلط تو نہیں اور کافی دیر بعد مجھے نیند آئی. صبح تک میں نے پہلے شام والی بات بھول گیا اور پھر مجھے ملکہ کے بدن کے بارے میں سوچ کر محرک ہونے لگی اور میں سوچنے لگا کہ ملکہ کو اب چودنے کا موقع کس طرح ملے گا. دن میں اوفس ملکہ کا فون آیا تو میں نے سوچا شاید وہ انل سے بات کرنا چاہتی ہے وہ مجھ سے ہی بات کرنے لگی تو میں نے ملکہ کو سوری بولا پہلی شام کے لئے. وہ بولی راج نے کل والی بات کے بارے میں سوچا تو ایسا لگتا ہے کہ اس میں ہماری کوئی غلطی نہیں. آپ اس بارے میں پریشان نہ ہو میں تم سے ناراض نہیں ہوں، ارے مجھے تو تمہارا شکریہ کرنا چاہیے تاکہ دنوں بعد مجھے واقعی محبت اور جنس کی ایک ساتھ تجربہ ہوا. ملکہ کہہ رہی تھی یہ ایک بھوک پسند ہے اور بھوک لگنے پر ہر کوئی جو اسے ملتا ہو اس کا ہی مزہ لیتا ہے. میں تو چاہتی ہوں کہ یہ موقع مجھے اور ملے ویسے میں نے فون اس لئے بھی کیا ہے کہ آج آپ کے گھر میں ہی رہنا مجھے آج تم 3 کاغذ ٹائپ کروانے ہیں. انل کا تو پتہ نہیں وہ کچھ مدد کریں یا نہ پر تم امید ہے. میں اب کافی نورمل ہو گیا تھا اور میں نے مذاق میں کہا ایک کاغذ کی ٹریٹ تو تجھے پتہ ہی ہے تو تین کے بارے میں سوچ لو تم مجھے تین ٹریٹ دینی ہوں گی. ملکہ بولی راج اس مذاق سمجھو یا سیریسلی لو پر مجھے بھی تمہاری ٹریٹ سے اتنا ہی مزہ آیا جتنا تجھے. اس لئے ٹریٹ کے لیے جگہ کا انتظام ہونا چاہیے اور میرے کو موقع ملے تو میں تو اور زیادہ ٹریٹ لینا چاهگي. میں نے کہا -اشا ہے آپ اپنے الفاظ یاد رکھوگی شام کو میں قریب 8:30 پر کھانا کھا کر فری ہوا اور ملکہ کے آنے کا انتظار کرنے لگا قریب 8:45 پر انل ملکہ کو لے کر آ گیا اور اسے چھوڑ کر چلا گیا اور بولا میں کام نبٹاكر فوری طور پر آتا ہوں اگر دیر ہو جائے تو میرا انتظار کرنا گھبرانا نہیں راجو شریف آدمی ہے. ملکہ نے آج پرٹےڈ بلوس، لائٹ کلر کی ساڑی اور اور اندر گہرے رنگ کی بلاز پہنا تھا. اس اندر کے کپڑے کا خیال مجھے نہیں لگ پایا. ملکہ اور میں فر کاغذ تیار کرنے میں لگ گئے، آج میں تھوڑا سا مذاق کے موڈ میں تھا تب بھی ہمارا کام ایک گھنٹے میں ہو گیا. میں آج درمیان میں دو تین بار رانی کی کبھی ران پر تو کبھی اس کی کمر پر اور کبھی اس کے بلاز کے باہر سے اسکے بوبس پر چھو رہا تھا. ملکہ مجھے روک دیتی اور کہتی ارے پہلے کام مکمل کرنے دو پھر اگر موقع ملا تو میں انکار تھوڑے ہی کر سکتی ہوں. جب کام مکمل ہو گیا تو میں اب ملکہ کے ساتھ مذاق کے موڈ میں تھا پر کوئی سگنل ملکہ نے نہیں دیا تو میں نے اس اےمبرس نہیں کرنا چاہتا تھا. ملکہ سے میں نے پوچھا آج جب انل تجھے چھوڑ کر گئے تو اس نے یہ کیوں بولا کی راج شریف آدمی ہے. تب ملکہ بولی کل انل مجھ بول رہے تھے کہ راجو بہت بیوکوف ہے اگر اسے موقع ملتا (کسی کی واف کے ساتھ اکیلے رہنے کا) تو وہ ضرور موقع کا فائدہ اٹھاتا. پھر ملکہ بولی، جب میں نے کہا کہ اگر عورت نے گڑبڑ کر دی تو وہ بول رہے تھے کہ اگر وہ کسی عورت کو مجا کرے تو وہ انکار کر ہی نہیں سکتی ہے. ملکہ پھر بولی یہی وجہ ہے کہ مجھے بھی ان کی بات سن کر مردو کی ذہنیت کے بارے میں پتہ چل گیا اور وہ کوئی غلطی نہیں کر رہی ہے اور میں نے بھی ایسا نہ کروں. اب میں نے کہا یہ بات تو ٹھیک ہے پر آپ کو تو معلوم ہے نہ میں بھی بڑا اتارنا fucking ہوں اور آج تو میں اب تجھ سے اس وقت نہیں چھوڑ سکتا ہوں جب دونوں فری ہیں. ملکہ کچھ زیادہ نہیں بولی تو میں نے کہا آج میں تجھے مکمل طور سے محبت کرنا چاہتا ہوں کیونکہ آج ہمارے پاس ٹائم کافی ہے. پھر میں ملکہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ پر لے آیا، اور اس آرام سے چومتے ہوئے اس کی مرضی جاننے کی کوشش کرنے لگا ملکہ بولی ہاں راج آج میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے ایسے محبت کرو جیسے انیل پہلے پہلے کیا کرتے تھے. میں بولا چلو پہلے ایسا کرتے هے ایک دوسرے کے کپڑے اتارتے ہیں مجھے مہابھارت کی دروپدي کی طرح اپنی پارٹنر کے کپڑے اتارنے میں بڑا مزہ آتا ہے اور اگر وہ مخالفت کرے تو اور مزہ آتا ہے. کیا میں سٹارٹ کروں، ملکہ بولی نہیں پہلے میں تمہارے کپڑے اتاروں گی، اگر میرے کپڑے پہلے اتر گئے تو تم مجھے موقع ہی کہاں دوگے، میں مردوں کی عادت جانتی ہوں. میں نے كرتا پاجاما پہنا تھا اور ملکہ نے ایک جھٹکے میرے كرتا اور بنیان گھسیٹنے کی طرف سے میرے پائجامہ کا ناڑا کھول دیا اور اس وقت تک میں نے بھی اپنا اںڈرویر نیچے کر دیا. ملکہ نے میرے لںڈ کو دیکھ کر تھوڑا سا حیران سی ہوئی میں جانتا تھا کہ اسے تو انل کے لمبے لنڈ کی عادت تھی نہ اور پھر میرا لںڈ اس وقت کھڑا بھی نہیں تھا. پھر میں نے ملکہ کے ساڑی کے پلو کو اپنی طرف متوجہ شروع کیا اور ملکہ گھوم گھوم کر اپنی ساڑی اتارنے لگی. جب ساڑی اتر گئی تو میں نے ملکہ کو پکڑ کر اس کے بلاز کے ہک ایک ایک کرکے کھول کر اس کا بلاز بھی اتار دیا. اسی وقت انل کا فون آیا تو میں سمجھا کہ آج تو کام ہلاک ہو گیا پر انل نے پوچھا کتنا کام باقی ہے تو نے کہا آدھے سے تھوڑا کم تو انل بولا آرام سے کام کر لو مجھے ابھی ایک گھنٹہ اور لگے گا میں 11:00 بجے تک اگا. ملکہ نے کہا ٹھیک ہے پر فوری کی کوشش کرنا زیادہ لیٹ سے تمام پریشان ہوں گے. اب تو ہم بھی رلےكس ہو گئے ملکہ نے اندر سفید برا پہن رکھی تھی اس کی برا بالکل ٹائٹ تھی اور اسکے بوبس اس کے اندر قید ہو گئے تھے. میں نے ایک دم سے ملکہ کو پکڑ کر اس کی ٹانگوں کو پیٹیکوٹ سمیت اپنی ٹانگوں کے درمیان فساكر اس جکڑ لیا اور پھر اس کی برا کا ہک کھول دیا جیسے ہی اس کی چولی سے اسکے بوبس آزاد ہوئے ایسا لگا جیسے کوئی دھماکہ ہوا اس کے بوب اچھل کر میرے سامنے آ گئے . کیا ٹائیٹ گول دم کرکٹ بال کی طرح ہی سرخ، دل تو کر رہا تھا کہ ایک جھٹکے میں دونوں کو مسل دوں پیر میں نے اس مکمل ننگا کرنا چاہتا تھا. اس کے بعد میں نے ملکہ کے پیٹیکوٹ کا ناڑا بھی کھول دیا پر اس کا پیٹیکوٹ نیچے نہیں آیا. اس پیٹیکوٹ میں لچکدار لگی ہوئی تھی اس لئے وہ نیچے نہیں گرا تو میں نے اس کے پیٹیکوٹ نیچے کو زور سے تیار تو اس کا سیاہ رنگ کا پیٹیکوٹ بالکل نیچے آ گیا. جیسے ہی ملکہ کا پیٹیکوٹ نیچے ہوا میری تو مستی کا ٹھکانا ہی نہیں رہا جب میں نے دیکھا کہ ملکہ نے تو جاںگھیا پہنی ہی نہیں تھی. اب ہم دونوں بالکل ننگی ہو گئے تھے، ملکہ نے آج شاید اپنی چوت صاف کی تھی یہی وجہ ہے کہ اس پوری بوڈي پر سر کے سوا کہیں ایک بال بھی نظر نہیں آ رہا تھا. جب تک میں ملکہ کے بدن پر نظریں فیر پاتا ملکہ میرے لںڈ کو دیکھ کر بولی ارے یہ تو بہت چھوٹا ہے چلو میں اب اس کے لئے تیار کرتی ہوں اور انہوں نے اس کو آہستہ سے پکڑے اور اس کے ٹوپے (ٹوپ) پر اپنی زبان سے لک کرنے لگی. مجھے بڑی سرسرانا سی ہونے لگی، ملکہ درمیان میں میرے لںڈ کے ٹوپے کو اپنے لپس سے بھی دبا دیتی. اس سے میرے لںڈ کا سائیز اب بڑھنے لگا تو ملکہ نے بھی اسے اپنے منہ کے اندر لینا شروع کر دیا اور مجھے یہ بڑا عجیب لگ رہا تھا. ایسا میں نے صرف چند بلیو فلمز میں ہی دیکھا تھا اور میں یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ کسی دن میرے ساتھ بھی ایسا ہوگا. میں یہ بھی یقین نہیں کر پا رہا تھا کہ ایک براہ راست سادھی عورت ملکہ ایسا کر سکتی ہے، پر اس کا شوہر انیل بڑا ہوشیار، ہینڈسم اور حرامی بھی ہے اس نے اس کو ٹرےڈ کر رکھا تھا. میں تو جنسی کا مطلب صرف چدایی تک سمجھتا تھا اور جب ایسا سین نے ایک بلیو فلم میں دیکھا تھا تو مجھے قے سی آنے لگی تھی. آج جب میرے ساتھ یہ ہو رہا تھا تو بڑا مزا آ رہا تھا یہاں تک کہ مجھے اس میں اب رانی کی چدایی سے زیادہ لطف آ رہا تھا بےسوسے اسمے مجھے کوئی طاقت نہیں لگانی پڑ رہی تھی. جیسے جیسے میرے لںڈ کا سائز بڑھها گیا ملکہ زیادہ مست ہونے لگی اور اب جب میرا لںڈ مکمل کھڑا ہو گیا تو وہ میرے لںڈ کو نیبو جوس والی ٹافی کی طرح چوسنے لگی. دوستوں جب وہ میرے لںڈ کو منہ میں لے کر آگے پیچھے کرتی تو مجھے تو اس میں اب تک کی گئی چدایی سے زیادہ مزہ آنے لگا تھا. میں جوش میں کبھی کبھی ملکہ کے منہ کو اس کی چوت سمجھ کر چدایی والے ایکشن میں اپنا لںڈ اسکے مںہ میں ڈال دیتا تھا. ملکہ میرے لںڈ کو پورا کھانے والی اسٹائل میں منہ میں لئے ہوئے تھی اور کبھی منہ سے باہر نکال دیتی اور پھر مکمل منہ میں لے لیتی. مستی میں وہ کبھی کبھی میرے لںڈ کو دانتوں سے بھی دبتا دیتی ایسے میں میری تو چیخ ہی نکل گئی تو گھبرا کر ملکہ تھوڑا ڈھیلی ہو گئی
. پھر ملکہ نے میرے لںڈ کو جڑ سے پکڑ کر کبھی چاٹنا اور کبھی منہ کے اندر لے کر چوسنا شروع کر دیا. تھوڑی دیر میں ملکہ نے میرے لںڈ کو منہ میں لے کر اس کو گببارے کی طرح fluff کے شروع کر دیا اور کبھی اس کے اندر کو چوسنے لگی. کبھی وہ اپنے منہ سے میرا لںڈ نکال کر میرے لںڈ کے ٹوپے پر لب رکھ کر اسے چوسنے لگی. ایسے میں تو مجھے ایسا لگتا جیسے میری سانسیں ہی بند ہو جائیں گی. پر ملکہ میرے لںڈ کو پورا منہ میں لے کر چاٹنے اور چوسنے کی عادت لگتی. میرے لئے جنسی یہ الگ اےكسپےرےس تھا پر تھا بڑا مزیدار اےكسپےرےس. رانی کی مستی بڑھتی ہی جا رہی تھی اور وہ میرے لںڈ کو کینڈی آئس کریم کی طرح اس کر رہی تھی مجھے بھی تھوڑا بہت ڈر کے باوجود بڑا مزا آ رہا تھا. یاروں، جنسی تعلقات میں پتہ نہیں کیوں درد میں ہی مزہ آتا ہے جیسے کسی کڑوی دوا سے آرام ملتا ہے. رانی کی مستی تو بڑھ رہی تھی پر اب میرے لںڈ کے اندر سے فلو باہر کو ہونے کا احساس سا ہوا تو میں نے چلا کر کہا ملکہ اب نہیں رکا ذرا ہے، انتظار کریں. ملکہ تو پرانی کھلاڑی تھی اس نے لںڈ سے منہ ہٹا لیا اور میرے لںڈ کے ٹوپے کو ہاتھ سے دبانے بولی لللا فکر نہ کریے میں تو تمہارا یہ آئس کریم کھانے کے لئے پوری طرح تیار ہوں اور اس کے بعد اس نے میرے لںڈ کو پورا منہ کے اندر لے لیا. اس کے فورا بعد میرے لںڈ سے ہوئی ساری برسات ملکہ کے منہ کے راستے اس کے پیٹ میں چلی گئی. جب میرا پورا کریم جھڑ گیا تو ملکہ پھر سے میرے لںڈ کو اچھی طرح سے چوسنے لگی. ملکہ نے میرے لںڈ کو احتیاط سے چاٹنا شروع کر دیا اور میرے لںڈ کے مال کا ایک ایک قطرہ بھی وہ چوس لینا چاہتی تھی. میرا لںڈ دوبارہ سے سکڑ کر چھوٹا ہو گیا تھا پر اتنا نہیں جتنا ملکہ کی چدایی کے بعد. ملکہ کو جب یہ لگا کہ اب میرے لںڈ کا سرا مال وہ چاٹ چکی ہے تو اس نے اپنا منہ میرے لںڈ سے ہٹا لیا. ملکہ کو شاید بڑا مزہ آیا تھا میری طرح ہی وہ بڑی خوش تھی جیسے کوئی اچھی چیز بہت دنوں کے بعد ملا ہو. ملکہ بولی لللا یہ میرا بھی پہلا تذربا ہے ایسے كےرنے پر بڑا مزہ دیا راج تو. میں نے تو ایک بار ٹی وی میں تیرے بھیا کے ساتھ دیکھی تھی تو تیرے بھیا مجھے چھیڑتے ہوئے بولے تھے کہ ان کا چوسےگي تو مینے انکار کر دیا تھا. آج تیرا لںڈ سے ہی میں مچل رہی تھی ایک بار ایسا کرکے دیکھوں، اذ راج بڑا مزہ آیا. میں بولا ہاں ملکہ مجھے بڑا اچھا لگا پر اب بہت دیر ہو گئی ہے اب ہمیں چلنا چاہیے. پھر ملکہ نے میرے لںڈ کو کبھی چاٹنا اور کبھی منہ کے اندر لے کر چوسنا شروع کر دیا اور کبھی ملکہ میرے لںڈ کو منہ میں لے کر اس کو گببارے کی طرح fluff کے شروع کر دیا اور کبھی اس کے اندر کو چوسنے لگی. پھر وہ اس کے منہ سے میرا لںڈ نکال کر میرے لںڈ کے اوپر لپس رکھ کر اسے چاٹنے لگی. ایسے میں تو مجھے ایسا لگتا جیسے کوئی میرے لںڈ کو سہلا رہا ہو اور اس کا سائز بڑھنے لگا. پر اگلے پل ملکہ میرے لںڈ کو پورا منہ میں لے کر چاٹنے اور چوسنے کی عادت لگتی اور میرا لںڈ ایکدم لوہے کی طرح سخت اور چدایی کے لئے تیار ہوتا چلا گیا. ملکہ نے مجھ لںڈ کو پکڑ کر لیٹ جانے کو کہا میں نے ایسا ہی کیا تو ملکہ نے کھڑے کھڑے ہی اپنی ننگی گوری ٹانگیں، چمکتا ہوا گوری گلابی جاںگھیں، مست دبر ان کی رانوں کے درمیان سے جھانکتی ه اس کی مست گنجی چوت دیکھ کر میں تو پاگل ہو گیا. میرا لںڈ تو اور بھی نکالا جا رہا تھا اور میرے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا تھا کہ اس کی چوت کا رس چوستے ہوئے اس کے رانوں کو کھا جاؤں. ملکہ کے گلابی بوب مجھ بے چین کر رہے تھے، اسی درمیان اس نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر کو کر دیے تو اسکے بوبس اور بغلوں مجھے اور حوصلہ افزائی کرنے لگے. مجھ کنٹرول نہیں ہوا اور اسکے بوبس دیکھ کر تو میں ایکدم بے چین سا ہو گیا اور میں نے ملکہ کے بوبس کو منہ میں لے کر ان چومنا اور چاٹنا شر کر دیا. ملکہ کبھی اپنے بوبس کو زور سے دبانے کو کہتی اور جب میں زور سے دباتا تو کہتی ارے آہستہ سے کیا مار ڈالوگے مجھے. ملکہ کے چوچیوں پر مساج میں بڑا مزا آ رہا تھا پر میں آج اس اتنی جلدی چھوڑنے والا نہیں تھا آج میں اس کے بدن کا ایک ایک پرذا مسل دینا چاہتا تھا جس سالی ملکہ میری چدائی کو یاد رکھے. میں ساے میں اس کے سوا اور کندھے پر بھی مساج کر رہا تھا. پھر میری توجہ رانی کی پتلی کمر پر گیا وہ اتنی پتلی تھی کہ جتنی شاید 15 سال کی کنیا کی بھی نہیں ہوگی. میں نے ملکہ کے ناف کے نیچے کے حصے میں مساج کرنے لگا. اس اےرا میں ماساج کرنے پر ملکہ کے محرک بڑھ گئی تھی اور وہ زور زور سے اپنے پاؤں پٹخنے لگی تو مجھے اپنے لںڈ کو کنٹرول کرنا پڑ رہا تھا جو میرے لئے تھوڑا مشکل ہو رہا تھا. میں نے اس کی چوت کے آس پاس ابدومےن کا ایریا تک جب اس ننگی تھايس پر زور سے مساج کیا تو اس نے اپنی دونوں تھايذ کو بند کر کے چسپاں دیا. میں نے بھی فوری طور پر اس کی چوت پر ہاتھ ڈال کر وہاں پر انگلی کرنے لگا تو ملکہ کا تو برا حال ہو گیا تھا وہ مستی میں چھٹپٹانے لگی اور اس نے اپنی دونوں تھايج کو کھول دیا تو میرے تو مزے ہی آ گئے اب میں اس کی چوت، تھايذ یا ابدومےن جہاں چاہے وہاں مسلنے لگا. میری انگلیوں کے حملے سے ملکہ کی حالت اب خراب ہو گئی تھی وہ اب میرے ایکشن کی مخالفت نہیں کر پا رہی تھی. میں جیسے مرضی آئے اس کے ہر حصہ کو مسلتا، رگڑتا اور مساج کر رہا تھا. جب میری مستی اور بڑھی تو میں نے ملکہ کی چوت پر انگلی ڈال کر اندر تک انگلی سے اس کی چوت کے سوراخ کے اندر تک مساج کرنے لگا. میرے اس کارروائی تو ملکہ مکمل طور پر چت ہو گئی اور بولی راجو پلیز اب بس کرو اور دم سے پلٹ گئی. اب ملکہ کے ننگی چوتڑ میرے سامنے تھے جس میں سے اس کا گاںڈ تو نظر نہیں آ رہا تھا پر پيچے سے بھی ملکہ کی چوت مجھ پھر نظر آنے لگی تو میں پھر اپنی انگلی سے اس کی چوت پر حملہ کر دیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کی رانوں کو پیچھے سے مسلنے لگا. جب ملکہ کی چوت میری انگلیوں کے حملے کو نہیں برداشت کر پائی تو ملکہ بولی راج پلیز ایسا مت کرو مجھے ایسے ہی گیلی کر دوگے کیا. میں اس کے بڑے بڑے دبر اور اس کے نیچے موٹی موٹی رانوں کو سارا کا سارا ایک بار میں ہی مسل دینا چاہتا تھا پر میرے دونو ہاتھوں میں انتا ایریا ایک بار میں احاطہ نہیں ہو رہا تھا. ملکہ ایکدم نںگی تھی تو میرے کو اپنے لںڈ پر کنٹرول نہیں ہو رہا تھا، میں نے اپنی توجہ ملکہ کے چوچیوں پر دیا پر وہ قے لیٹی ہوئی تھی اور اسکے بوبس طرف سے ہی نظر آ رہے تھے. پھر بھی میں نے سائیڈ سے ہی اس دونوں بوبس کو زور سے دبایا اور سہلانا شروع کر دیا. ملکہ کو تو میرا ہر ایکشن اےجويمےٹ دے رہا تھا اور اب وہ میرے ہر ایکشن پر صرف آہیں بھر رہی تھی. میں ملکہ کے چوتڑ پر مساج کرنے لگا تو اس کے چوتڑ بہت بڑے بڑے تھے اور ان دبانے میں بڑا مزا آ رہا تھا. پر میں اور مزہ لینے کے لئے اس کے چوتڑوں پر زور سے سلاپ بھی کر دیتا جس چٹاك! کی آواز آتی اور ملکہ کو بڑا مزہ آتا تھا اور وہ اپنے چوتڑ اوپر اٹھا کر جیسے اور سلاپ کرنے کو کہتی. رانی کی جاںگھیں مجھے سب سے زیادہ حوصلہ افزائی کر رہی تھی، میں نے وہاں پر پریس، مساج، کس، رب کر سکتا تھا. اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ جب میں اس کی چدائی کروں گا تو اس تھايذ جب میری تھائی کے ساتھ رب ہوں گی تو کتنا مزہ آئے گا. اگر رانی کی طرح ہموار باڈی ہو تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے چادریں پر سلپ ہو رہا ہو. جب میں نے اس چوتڈوں پر مساج کر رہا تھا تو مجھے بالکل ایسا ہی لگ رہا تھا. ملکہ ڈبل مزا آ رہا تھا ایک تو اس کی مساج ہو رہی تھی دوسرا ایک مرد کے ہاتھوں اس کے باڈی کے حصے کے رابطے دے رہا تھا اور جسے وہ پھللي اےنجي کر رہی تھی میں نے ملکہ کے دونوں چوتڑ کو چوڈا کر اسکی گاںڈ کو دیکھنے لگا اور مجھے ملکہ کی چوت پیچھے سے دکھائی دینے لگی اور میرا لںڈ پھر زور مارنے لگا. ادھر میرا لںڈ اب مکمل طور بیکابو ہو گیا تھا اور اس کو کنٹرول کرنا میرے لئے پوسسبل نہیں تھا. وہ اب ملکہ کی چوت میں جائے بغیر ماننے والا نہیں تھا .. ملکہ کی چوت کا برا حال ہو گیا تھا. میں نے اپنے انگوٹھے سے کو ملکہ کی چوت کے آس پاس رب کرنا شروع کر دیا اور موقع پاتے ہی اس کی چوت کے اندر مکمل انگوٹھا ڈال دیا. میرا انگوٹھا مکمل اسکی چوت میں گیا تو ملکہ کی کھجلی ذرا کم ہوئی اور اب وہ تھوڑا مزا لینے لگی. میرا انگوٹھا کاک کی طرح ملکہ کی چوت میں اندر باہر فسلنے لگا، ملکہ کو مزا تو آ رہا تھا پر اس کی چوت کی کھجلی مکمل طور پر دور نہیں ہو رہی تھی. وہ مستی مجھ سے چپٹ گیا جیسے کہنا چاہتی ہو کہ کب چودوگے پر وہ بولی کچھ نہیں. پہلے ملکہ کے ننگے بدن کی گرمی سے میرا لںڈ تو تنا ہوا تھا میں نے فوری طور پر ملکہ کو دباؤ لیا. ملکہ کی چوت میں تو پہلے سے ہی کھجلی تھی پر وہ جھوٹا غصہ دکھا رہی تھی اور انکار کر رہی تھی. میں نے اس کو کمر سے پکڑا اور اس کے چوچیوں کو اپنے لپس سے کس کرنے لگا جیسے ہی ملکہ نے منہ کھولا تو میں نے اس کے لب پر اپنے لپس رکھ دیا اور نیچے سے دوسرے ہاتھ کو اس کی تھايذ پر مساج کرنے لگا. اس تھايذ بڑی ٹائیٹ تھی، بچوں والی عورتوں کی طرح ڈھیلی نہیں تھی. میں تھائی ہاتھ فےرتے ہوئے اس کی چوت کی طرف بڑھنے چاہ رہا تھا. ملکہ کے بوبس بھی بالکل ٹائٹ ہو گئے تھے جس کا مطلب تھا کہ اس کو پوری محرک ہو رہی تھی. میں نے كے بر ملکہ کے بوبس کے نپل کو لپس میں لے کر زور سے پریس کیا جس دونوں کو بڑا مزہ آیا. جب مجھے زیادہ مزا آنے لگا تو میں نے ایک دو بار ملکہ کے نپل کو اپنے دانت سے ہلکا سا کاٹ بھی دیا جس ملکہ چیخ پڑی اور مجھے بڑا مزہ آیا. نیچے سے میرا ہاتھ رانی کی تھايذ سے ہوتا ہوا اس چوتڈوں اور رانو پر مساج کرنے لگا. اوپر سے میں نے رانی کی بیک، نیک، ویسٹ اور ناف کے آس پاس لپس اور زبان سے کس اور لک کرنا چال رکھا تھا. جب میرا ایک ہاتھ رانی کی رانو پر فسل رہا تھا تو ملکہ کی مستی کنٹرول سے باہر ہو گئی تو میں نے ملکہ کو بیڈ پر لٹا دیا اور اپنے آپ بھی سائیڈ بی سائیڈ لیٹ گیا. میں آرام سے اپنے دونو ہاتھوں اور لب سے ملکہ کے پورے بدن سے کھیلنے لگا. اب دونو بالکل گرم ہو گئے تھے رانی کی بھی ساری شرم دور ہو گئی تھی اور اس کا بدن کی ایک ایک حرکت مجھے محسوس ہو رہی تھی اس کی گرم، شہوت انگیز سانسیں مجھے بے چین کر رہی تھی. میں نے ملکہ کی چوت کے ٹھیک پاس اپنی انگلی سے رب کرنا شروع کر دیا جس سے مستی کے مارے ملکہ نے اپنی دونوں ٹاںگیں فیلا دی اور مجھے اس کی چوت پر اٹیک کا ایک موقع مل گیا یں نے اپنے آپ کو رانی کی دونوں ٹانگوں کے درمیان فكس کر لیا اور اس کی دونوں ٹانگوں کو اور فےلاكر اس کی چوت کو اور وسیع کر دیا مجھے اس کی چوت کا سوراخ صاف اتنا بڑا دکھ رہا تھا کہ اس میں میں اپنے تھمب کو سیدھا ڈال سکتا تھا. پر میں نے بغیر ٹائم گنوائے شدہ اپنے لںڈ کو براہ راست اس کی چوت کے سوراخ میں جھونک دیا اور میرا لںڈ ملکہ کی چوت میں نصف دھنس گیا. یہ شاید ایسا موقع تھا جب چدائی میں مجھے اتنی آسانی لںڈ ڈالنے کا موقع ملا ہو. میں نے ایک اور زور کا دھکا لگایا تو میرا پورا لںڈ ملکہ کی چوت میں ٹھك گیا. آج اس کی چوت پہلے ہی گیلی ہو رکھی تھی اس لئے اب میں اپنے لںڈ کو اوپر نیچے رگڑنے لگا تو ملکہ کی چوت میں سرسرانا ہونے لگی. ملکہ نے بھی نیچے سے حملہ کر دیا اور اپنی گاںڈ کا ایریا اوپر کو اٹھا کر خود بھی چدایی کروانے کے لئے مجھے انوايٹ کرنے لگی. آج مجھے اور ملکہ کو چدایی میں درد نہیں ہو رہا تھا اور دونوں ہی مست تھے وہ آج بڑی مستی میں لگ رہی تھی. میں نے ملکہ کی چوت میں اوپر نیچے رگڑم پریڈ شروع کر دی اور ملکہ بھی اپنی چدایی کروانے لگی. آہستہ آہستہ میری سپیڈ بڑھ گئی تو گنے کے کھیت میں جیسے طوفان سا آ گیا. میں نے چدایی کے ساتھ ساتھ ملکہ کے پورے بدن کو چومنا، چاٹنا، مسلنا اور مسح بھی چالو رکھا تھا. میرا ایسا کرنے پر ملکہ بھی جواب دے رہی تھی بس جواب کے لئے اس کے پاس لںڈ نہیں تھا نہیں تو وہ بھی پورے زور سے ہماری چدایی کی گاڑی کو دھکیل رہی تھی. میں نے پہلے کی طرح بستر پر لیٹ گیا اور ملکہ میرے اوپر آ گئی. مجھے تو اس سے بڑا فائدہ ہوا، میں مکمل طاقت سے چودنے کے چکر میں اپنی کافی توانائی واسٹ کر چکا تھا اور اس پوسشن میں مجھے ملکہ کی دوبارہ چدایی کے لئے ریچارج ہونے کا موقع مل گیا. ملکہ نے اب اوپر سے دھکا لگانا شروع کر دیا اور میں آرام سے اس چوچیوں اور نپپلو کو مسلنے لگا .. پر اسکے بوبس ہی میرے ہاتھوں کے میں ٹارگٹ تھے، جب مجھے زیادہ مزا آتا تو میں اس کے چوتڑ پر زور زور سے سلاپ کر دیتا جس ملکہ اور مجھے دونوں کو مزہ آتا. میں نے جیسے ہی ملکہ کی گاںڈ کے آس پاس سلاپ کرتا ملکہ اور زور زور سے اپنی چوت کو میرے لںڈ کی طرف اٹھا دیتی اور دونوں کا مزہ دوگنا ہو جاتا. اچانک ملکہ بولی راج اب جلدی کرو میں گیلی ہو گئی ہوں تو میں نے ملکہ کو پھر پہلے والی پوسشن میں کر اپنے آپ کو اس کے اوپر لے آیا. اب میں نے اوپر سے اپنی سپیڈ بڑاكر ملکہ کی چوت کو اپنے لںڈ سے پوری طاقت کے ساتھ ٹھوكنا شروع کر دیا. رانی اب زور زور سے آوازیں نکال رہی تھی پر اب وہ پہلے کی طرح خوش نظر نہیں آ رہی تھی پر اس آہیں مجھے اور حوصلہ افزائی کر رہی تھی اور میں نے اور زور سے اس کی چدائی کرنے لگا. مجھے ملکہ کی چیخ میں ایک الگ ہی مزہ کا آنے لگا اور میں زور سے اس کی چوت کو اپنے لںڈ سے ٹھونک رہا تھا. قریب 2-3 منٹ بعد ہی میری بھی حالت کچھ ڈھیلی ہونے لگی اور میں تھکنے لگا تو میں نے سپیڈ تھوڑا کم کر دی تو ملکہ بھی تھوڑا رلےكس لگنے لگی. اچانک مجھے ایسا لگنے لگا کہ میرے لںڈ کے جڑ سے اندر رگوں میں پانی نکلنے کو بیتاب ہے میں سمجھ گیا کہ اب میرا بھی جھڑنے والا ہے ملکہ تو شاید پہلے ہی جھڑ چکی تھی. میں نے ملکہ کی چوت میں اپنا پورا لںڈ اندر تک ٹھونک کر اپنے کو روک دیا. اور میرے لںڈ کے اندر سے سارا کریم آہستہ آہستہ ہوتا ہوا ملکہ کی چوت میں جاتا سا لگنے لگا. ادھر ملکہ بھی شاید اپنی چوت میں میرے لںڈ کا کریم فيل کر رہی تھی وہ ہلکی سی آہیں بھرتے ہوئے رلےكس اور خوش نظر آ رہی تھی. کچھ لمحات کے بعد میرے لںڈ کا سارا کریم ملکہ کی چوت کی گےهراي میں کہیں گم ہو گیا. میں ایکدم سست ہو گیا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی لمبی دوڑ دوڑی ہو اور میرا لںڈ بھی بالکل سکڑ گیا تھا میں اتنا سست ہو گیا کہ ویسے ہو ملکہ کے اوپر لیٹ گیا اور ملکہ نے بھی کوئی جاوب نہیں دیا اور ہم دونو ایسے ہی لیٹے رہے مطلب ملکہ نیچے بستر پر لیٹی ہوئی تھی اور میرا لںڈ اسکی چوت کے اندر ہی تھا. 5 منٹ بعد ہی مختلف ہوئے اور باتھ روم جاکر پہلے صاف کیا اور اپنے اپنے کپڑے پہن لیے. اس کے بعد ملکہ نے اپنی ساڑی اور پیٹیکوٹ ٹھیک کیا اور پھر ہم دونو بیڈروم سے دوبارہ کمپیوٹر ٹیبل پر آ گئے. اس وقت قریب 10:50 کا وقت تھا میں بولا چلو چائے پیتے ہیں تبھی انل کا بھی فون آیا کہ وہ 5 منٹ میں پہنچ رہا ہے. پھر 5 منٹ میں چائے بھی تیار ہو گئی اور پھر تینوں نے چائے پی، آج انل نے پینے بھی نہیں کیا تھا شاید اس موقع نہیں ملا پر میں ملکہ کو دیکھ کر اس کے بارے میں سوچنے لگا اور شاید انیل کے ارادے ہی آج کچھ ویسے ہی تھے . میں ملکہ کو دیکھ رہا تھا پر ملکہ شاید ہم دونوں کا مطلب سمجھ گئی تھی پر دونوں کو ہی کچھ بتانا نہیں چاہتی تھی.

Posted on: 06:26:AM 14-Dec-2020


0 0 127 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 2 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 73 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com