Stories


پی کے از رانا پردیسی

صبح کی سپیدی نمودار ہو رہی تھی۔یہ پاک بھارت کا سرحدی علاقہ تھا۔اچانک فضا میں ایک سپیس شپ نمودار ہوئی۔آہستہ آہستہ وہ زمین کے قریب آتی گئی اور صحرا میں اتر گئی۔ سپیس شپ کا دروازہ کھلا اور اس میں سے ایک گوری چمڑی والا آدمی نکلا جو بالکل ننگا تھا ۔اس کے گلےمیں ایک لاکٹ تھا۔ سپیس شپ دوبارہ ہوا میں بلند ہو گئی ۔یہ آدمی ارد گرد کی چیزوں کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔اس نے ایک طرف چلنا شروع کر دیا ۔وہ ایک ٹرین کے پاس پہنچ گیا۔اس نے ایک اور شخص کو دیکھا جو پٹری کے پاس کھڑا تھا۔جب زمینی باشندے نے ننگے شخص کو دیکھا توبہت حیران ہوا۔اسے وہ لاکٹ بہت قیمتی محسوس ہوا۔اس نے فوراً جھپٹا مار کر لاکٹ چھینا اور ٹرین کی طرف بھاگا جو چلنے والی ہی تھی ۔حیران پریشان خلائی باشندہ اس کے پیچھے بھاگا لیکن تب تک وہ چلتی ٹرین پر سوار ہو چکا تھا۔اس نے اُسے پکڑنے کی کوشش کی تو اس شخص کا ریڈیو پر ہاتھ پڑا جو خلائی آدمی کے ہاتھ میں رہ گئی۔جھٹکا لگنے کی وجہ سے وہ پشت کے بل گر پڑا۔ٹرین آگے بڑھ چکی تھی۔یہ ٹرین پاکستان سے سامان تجارت لے کر بھارت جاتی تھی۔یہ جگہ جہاں یہ واقعہ ہوا تھا پاکستاں کے صحرا تھر میں واقع تھی۔خلائی آدمی نے ایک طرف چلنا شروع کر دیا۔کافی دیر چلنے کے بعد اُسے کچھ مکانات نظر آے۔ (منظر دوم) جگت جننی عرف جگو کا تعلق انڈیا سے تھا۔وہ تعلیم کی غرض سے برمنگھم آئی ہوئی تھی۔ایک سال تو ٹھیک سے گزر گیا تھا۔اس کا ماسٹر میں آخری سال تھا جب اس کی ملاقات ایک پاکستانی لڑکے سے ہوئی۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک دن وہ رات کو مارکیٹ سے واپس آ رہی تھی کہ دو اوباش لڑکوں نے اس کاپیچھا کرنا شروع کر دیا۔ ایک سنسان گلی میں سے گزرتے ہوانہوں نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے۔ایک بولا:چکنی آج تو مزے آ جائیں گے۔بڑے عرصے بعد کوئی تگڑا پیس ملا ہے۔جگو نے مزاحمت کی کوشش کی لیکن انہوں نے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ لیا اور ایک طرف گھسیٹنے لگے۔وہ اسے گلی کی دوسری طرف کھڑی اپنی کار میں لے جانا چاہ رہے تھے۔ابھی انہوں نے آدھی گلی ہی پار کی تھی کے سامنے سے ایک لڑکا کانوں میں ہینڈفری لگائے گنگناتا ہوا نمودار ہوا۔یورپ کا اصول ہے کہ کوئی کسی کے معاملے میں ٹانگ نہی اڑاتا۔مگر اُن کی بدقسمتی کہ وہ لڑکا پاکستانی تھا۔وہ لڑکا جب پاس آیا تو جگو نے مدد کیلئےچلانا شروع کر دیا۔لڑکے نے پہلے تو اگنور کیا لیکن جب لڑکی زیادہ آواز سے چلائی تو لڑکے نے رک کر ان افراد سے پوچھ لیا کہ لڑکی کو کہاں لے جا رہے ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمہارا مسلہ نہی ہے۔لڑکا دو قدم آگے بڑھا،وہ لڑکے بھی ریلیکس ہو گئے،لڑکے نے یکدم پلٹ کر دونوں کی گردن پر زور سے ہاتھ مارا جس سے وہ زمین پر گر گئے اور جگو کو چھوڑ دیا۔لڑکے نے فوراً انہیں ایک اور زوردار کک لگائی اور جگو کا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف دوڑ لگا دی۔اُن میں سے ایک لڑکےنے فوراً ایک چاقو نکالا اور اسے ان کی طرف پھینکا ۔وہ چاقو سیدھا لڑکے کی ران پہ لگا۔ایک دفعہ تو وہ ڈگمگا گیا لیکن پھر اپنے آپ کو سنبھال کر دوڑنے لگ پڑا۔گلی کے اختتام پر ایک ٹیکسی کھڑی تھی ۔ دونوں اس میں بیٹھے اور ڈرئیور کو بھگانے کا کہا ۔ڈرئیور بھی صورتحال کو سمجھ چکا تھا۔اُس نے گاڑی بھگا دی۔لڑکے کی پینٹ خون سے سرخ ہو رہی تھی۔جگو نے ڈرئیور کو اپنے فلیٹ کا پتا بتایا۔فلیٹ پر پہنچ کر جگو نے کرایہ دیا اور لڑکے کو سہارا دے کر اندر لے گئی۔اندر جا کر لڑکے کہ ایک کرسی پر بٹھایا۔جگو فوراً میڈیکل ایڈ کا سامان لے آئی۔چاقو ابھی تک لڑکے کی پینٹ میں تھا جسے لڑکا نکالنےکی کوشش کر رہا تھا ۔اچانک اس نے ایک جھٹکا مارا اور چاقو نکال لیا۔خون کا بہاؤ تیز ہو گیا۔ یہ دیکھ کر جگو حرکت میں آئی اور لڑکے کو پینٹ اتارنے کا کہا۔لڑکا تھوڑا ہچکچایا پھر اس نے پینٹ اتار دی۔اب وہ صرف انڈروئیر میں تھا۔جگو نے فوراً اس کی بینڈیج کرنا شروع کر دی۔پٹی کرنے کے بعد جگو نے اسے دوا دی اور لیٹنے کو کہا ۔لڑکا لیٹ گیا۔جگو اس کیلئے اپنا ایک لوز ٹراؤزر لے آئی۔لڑکے نے وہ پہن لیا۔جگو بولی:تم آرام کرو۔میں تمہارے لیے کچھ کھانے کو لاتی ہوں۔جگو نے اس کا نام پوچھا تو اس نے اپنا نام سرفراز بتایا۔جگو باہر چلی گئی۔تقریباً ایک گھنٹے بعد اس کی واپسی ہوئی ۔اس کے ہاتھ میں دو شاپر تھے۔اس نے وہ میز پر رکھے اور کچن میں چلی گئی۔کچن سے پلیٹیں لا کر اس نے کھانا نکالا اور دونو ں نے کھانا شروع کر دیا ۔جگو: آپ کا بہت شکریہ سرفراز صاحب! اگر آپ نہ آتے تو پتہ نہی میرا کیا حال ہوتا۔ سرفراز:کوئی بات نہی یہ تو میرا فرض تھا ۔ جگو: آپ کو زیادہ چوٹ تو نہی لگی؟ سرفراز:چوٹ تو بہت لگی تھی پر آپ نے مرہم ایسا لگایا ہے کہ سارا درد ہی چوس لیا۔ جگو مسکرا دی۔آپ باتیں بہت اچھی کر لیتے ہیں ۔بائی دا وے آپ کیا کرتے ہیں ؟ سرفراز: شکریہ تعریف کا۔آپ بھی مرہم بہت اچھا لگا لیتی ہیں ۔ویسے میں ماسٹر کر رہا ہوں اور ساتھ پارٹ ٹائم جاب بھی۔اور آپ کیا کرتی ہیں؟ جگو: میں بھی بیلجیم یونیورسٹی سے ماسٹر کر رہی ہوں۔اچھا اب آپ آرام کریں صبح بات کریں گے۔سرفراز : میں پھر چلتا ہوں۔میرے دوست ہاسٹل میں میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ جگو: رات کے ایک بج گئے ہیں ۔ ویسے بھی آپ کو چوٹ لگی ہے۔آپ اپنے دوستوں کو فون کر کے بتا دیں۔ سرفراز: چلیں ٹھیک ہے۔سرفراز فون کر کے دوستوں کو بتا دیتا ہے کہ وہ صبح آئے گا۔جگو دوسرے کمرے میں سونے چلی جاتی ہے۔اگلی صبح جگو آٹھ بجے کے قریب اٹھی۔فریش ہونے کہ بعد جب وہ دوسرے کمرے میں گئی تو پتا چلا کہ سرفراز جا چکا تھا۔وہاں ٹیبل پر ایک کاغذ پڑا تھا۔جگو نے اٹھا کر پڑھنا شروع کیا ۔لکھا تھا:"ڈیر جگو !مجھے ذرا جلدی میں جانا پڑہ رہا ہے اس لئے بتائے بغیر جا رہا ہوں۔اس کیلئےپیشگی معافی۔ہاں دوبارہ کبھی بھی میری ضرورت پڑے تو آپ مجھے بلا جھجھک کال کر سکتی ہیں ۔اپنا نمبر لکھ دیا ہے۔بائے۔ سرفراز" جگو یہ پڑھ کر مسکرا دی۔اس نے فوراً اس نمبر پہ گڈمارننگ کا مسج کر دیا،اور کام کاج میں لگ گئی۔نو بجے وہ تیار ہو کر یونیورسٹی چلی گئی۔وہاں ایک خالی پریڈ میں اس نے موبائل چیک کیا تو سرفراز کے نمبر سے دو میسج آئے ہوئے تھےکہ کون۔جگو مسکراتے ہوئے لکھنے لگی۔اچھا تو اب ہم کون ہو گئے؟ تھوڑی دیر بعد ریپلائے آیا: جی ،دراصل پہچانا نہی۔جگو: اتنی جلدی بھول گئے؟ سرفراز : آپ کا نمبر سیو نہی اس لئے پتا نہی چل رہا۔ جگو: بس اتنا سمجھ لیں کہ آپ کے احسان مند ہیں ہم۔سرفراز: اوہ، جگو صاحبہ آپ ہیں ۔جگو : جی۔ شکر ہے پہچان لیا۔ سرفراز: آپ کو کیسے بھول سکتا ہوں۔فرمائیں کیسے یاد کیا؟ جگو : کیا کسی کام کے بغیر یاد نہی کیا جا سکتا؟ سرفراز : نہی نہی۔میں تو ویسے ہی کہ رہا تھا۔ جگو : پھر کب وقت دے رہے ہیں ہمیں؟ سرفراز: جب آپ کہیں۔ میں تو شام سات بجے کے بعد فری ہی ہوتا ہوں۔ جگو : تو پھر آپ آٹھ بجے سی ویز کافی شاپ پہ آ جایئے گا۔ سرفراز : او۔کے۔ ۔۔۔۔تین بجے کے قریب جگو یونیورسٹی سے اپنے فلیٹ چلی گئی۔ یہاں اس کے ساتھ انڈیا کی ایک اور لڑکی بھی رہتی تھی جو کسی نیوز چینل میں رپورٹر تھی۔اس کا نام نیہا تھا۔وہ بھی فلیٹ پر آ چکی تھی۔ جگو نے کل رات کا پوچھا کہ کل وہ کہاں تھی۔ اس نے بتایا کہ وہ کام کے سلسلے میں دوسرے شہر چلی گئی تھی۔۔جگو ریسٹ کرنے لیٹ گئی۔۔۔۔۔شام چھ بجے کے قریب جگو باٹھی۔نہانے کیلئے باتھ چلی گئی۔ اچھی طرح نہانے کے بعد اس نے نئی ٹی شرٹ پہنی۔ پھر اس نے باہر نکل کر ہلکا سا میک اپ کیا۔جب یہ سب نیہا نے دیکھا تو پوچھا کہ؛ جناب آج کس پی بجلی گرانے کا ارادہ ہے؟ جگو : ہنس پڑی۔ کسی پہ نہی۔پر تم کیوں جل رہی ہو۔ نیہا: جل کون رہا ہے، میں تو رشک کر رہی ہوں۔ وہ کون خوش نصیب ہو گا جس کی قسمت میں ہی ہیرا جائے گا۔ جگو سن کے مسکرا دی۔ٹھیک سات بجے وہ کافی شاپ پہنچ گئی۔ سرفراز پہلے ہی پہنچ چکا تھا۔جگو اس کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔رسمی کلمات کے بعد سرفراز نے کہا: آپ کیا پسند کریں گی؟ جو آپ پسند کریں۔ بہرحال سرفراز نے آرڈر دے دیا۔انہوں نے آپس میں بات چیت کرنا شروع کر دی۔ جگو نے پوچھا : آپ کی اور کیا کیا مصروفیات ہیں ۔ سرفراز : جی بس لائبریری چلا جاتا ہوں ۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بہت شوق ہے۔ اس کے علاوہ دوستوں کے ساتھ کبھی کبھار آؤٹنگ پر بھی چلا جاتا ہوں۔ جگو: واؤ، اگر میں آپ کی دوست بن گئی تو مجھے بھی لے جائیں گے گھمانے؟ سرفراز : جی بالکل۔ جگو: گڈ، چلو پھر آج سے ہم دوست ہیں ۔ سرفراز : ہم پہلے کون سا دشمن تھے؟ جگو : ہاہا۔ نہی ایسی تو کوئی بات نہی۔ اتنی دیر میں ویٹر کافی سرو کر دیتا ہے۔ جگو: آپ کو کس قسم کی کتابیں اچھی لگتی ہیں؟ سرفراز : مجھے شاعری بہت اچھی لگتی ہے۔ خاص طور پہ مرزا غالب کی۔ جگو : مجھے بھی بہت پسند ہے۔ تو کوئی شعر سنائیے نا۔۔۔ سرفراز : عرض کیا ہے،، ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی کچھ ہماری خبر نہی آتی جگو : واہ ، واہ ۔ کیا بات ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح کچھ دیر اور بات کرنے کے بعد وہ اٹھ گئے۔ اسی طرح دو تین ہفتے گزر گئے۔ دونوں ملتے ملاتے رہے۔ ایک دن اسی طرح ایک کیفے پر بیٹھے تھے اور گپ شپ کر رہے تھے۔ اب اکثر سرفراز جگو کو ٹچ بھی کر لیتا تھا۔کبھی ہاتھ پہ ہاتھ رکھ لیا۔کبھی کندھے پہ ہاتھ رکھ لیا۔جگو اس کا برا نہی مناتی تھی۔ اس دن بھی سرفراز جگو کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھا تھا۔ جگو: تم نے بتایا نہی کہ تم پارٹ ٹائم کہاں جاب کرتے ہیں؟ سرفراز : پاکستان ایمبیسڈی میں ۔ جگو : کیا ؟؟؟؟؟ سرفراز: پاکستانی ہوں تو پاکستان ایمبیسڈی میں ہی کام کرو گا۔ پر تم اتنا حیران کیوں ہو رہی ہو؟ جگو نے فوراً اپنا ہاتھ چھڑایا اور کھڑی ہو گئی۔ سرفراز : پر ہوا کیا ہے ؟ کیا پاکستانی ہونا کوئی جرم ہے ؟ جگو : تم نہی سمجھ سکو گے۔ جگو یہ کہ کر وہاں سے روانہ ہو گئی ۔ سرفراز بل پے کر کے اس کے پچھے بھاگا لیکن تب تک وہ جا چکی تھی۔ سرفراز کی سمجھ میں نہی آ رہی تھی کہ جگو کو پاکستاں کے نام سے کیا ہو گیا؟ بہرحال وہ اپنے ہاسٹل آ گیا ۔ جگو بھی اپنے فلیٹ پہنچ گئی تھی۔ نیہا نے پوچھا کہ کیا بات ہے آج کچھ پریشاں لگ رہی ہو۔۔ جگو : نہی کچھ نہی بس ویسے ہی۔۔۔۔ جگو سرفراز کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی۔ وہ جا کر اپنے کمرے میں لیٹ گئی۔ وہ اپنا ماضی سوچ رہی تھی۔ اپنے دیش کے بارے میں۔ اپنے خاندان کے بارے میں۔۔ جگو کے والد ایک بزنس میں تھے۔ یوں تو وہ بہت اچھے تھے پر ایک مسلہ تھا کہ وہ مذہب پہ اندھا اعتقاد رکھتے تھے۔۔ ان کے ایک خاندنی پنڈت تھے تپسوی جی۔ وہ ان کی ہر بات مانا کرتے تھے۔۔ ہر جگہ پہ تپسوی جی کا عمل دخل تھا۔ جگو جب چھوٹی تھی تب اکثر جگو کے ابو اسے تپسوی جی کے پاس لے جاتے تھے۔ اور اکثر اس سے تپسوی جی کے پاؤں دبانے کا کہا جاتا تھا۔ پاؤں دبا دبا کہ اس کے ہاتھ تھک جاتے تھے۔ بعض اقات اس کے ابو اسے تپسوی کے پاس چھوڑ کے چلے جاتے تھے کہ وہ اسے واپسی پر لیتے جائیں گے۔ اکثر تپسوی جی اسے اپنی گود میں بٹھا لیتے تھے کیونکہ وہ تو ایک بچی تھی اس وقت آٹھ نو سال کی۔ چیلے بھی سمجھتے کے مہاریج بچی کو پیار کر رہے ہیں۔ لیکن تپسوی اپنی شہوت بھی پوری کر رہا ہوتا تھا۔ جب تنہائی میسر ہوتی تو تپسوی اپنی بالوں سے بھری پنڈلیاں ننگی کر لیتا اورجگو کو دبانے کا کہتا۔ پھر وہ جگو کا ہاتھ پکڑ کر رانوں کے اوپر رکھ دیتا ور کہتا کہ یہاں بھی دباؤ ۔ جگو کو مجبوراً دبانا پڑتا ۔ اسے تپسوی کے پیٹ کے نیچے دو رانوں کے بیچ دھوتی کا ابھار واضح محسوس ہوتا تھا۔ ساتھ ساتھ تپسوی اس کی کمر اور گانڈ پر بھی ہاتھ پھیرتا رہتا تھا۔ لیکن بات اس سے آ گے نہ بڑھی کیونکہ تپسوی کو بھی پتہ تھا کہ ابھی یہ بچی ہے۔ پھر جب وہ بڑی ہوئی تو اس نے دوسرے شہر میں کالج میں داخلہ لے لیا ۔ اس طرح تپسوی سے بچ گئی۔ پھر بھی جب کبھی گھر کا چکر لگتا تو تپسوی کے پاس ضرور جانا پڑتا ۔ تپسوی اپنی حرکتوں سے باز نہ آتا۔کبھی اسے آشیرباد دینے کے بہانے اسے گلے سے لگا لیتا۔ کبھی اس کا ماتھا چوم لیتا۔ کبھی اس کی کمر پہ ہاتھ پھیر دیتا۔ جگو کا یہ سب برا نہی لگتا تھا کیونکہ یہ سب اس کے مذہب کا حصہ تھا۔ کسی کو اس سے اعتراض نہ تھا۔ پھر جب وہ کچھ اور بڑی ہوئی تو اس نے باہر جانے کی ضد کی۔ پاپا کی لاڈلی ہونے کی وجہ سے اجازت تو مل گئی پر اس شرط پر کے وہ مذہب کی پابندی کرے گی۔ اور ہر ہفتے بعد تپسوی جی سے آشیر باچ لیا کرے گی ویڈیو کال کے ذریعے سے۔ اس طرح وہ بیلجئم آ گئی۔ اس کی پوری زندگی میں اسے ایک ہی بات سکھائی گئی تھی اور وہ تھی پاکستان اور مسلمان سے نفرت۔ اور اب وہ ایک پاکستانی اور مسلمان کو دل میں بٹھا بیٹھی تھی۔ اب وہ کرے تو کیا کرے۔ یہی سب سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی۔ صبح اٹھنے پر جب اسن نے اپنا موبائل چیک کیا تو 20 مسکالیں اور 15 میسجز آئے ہوے تھے، اور سبھی سرفراز کے تھے۔ میسج میں یہی کہا گیا تھا کہ میرا کیا قصور ہے، کیا میں اب انسان نہی رہا۔ اور ایک غزل بھی تھی۔ بن پوچھے میرا نام اور پتہ رسموں کو رکھ کے پرے چار قدم بس چار قدم چل دو نا ساتھ میرے بن کچھ کہے بن کچھ سنے ہاتھوں میں ہاتھ لیے چار قدم بس چار قدم چل دو نا ساتھ میرے جگو ایک دفعہ تو مسکرا دی۔ پھر سر جھٹکا اور سرفراز کو میسج کر کے پوچھا کہ وہ کہاں ہے؟ فوراً جواب آیا کہ برج پہ۔ جگو فوراً بھاگی ۔ صبح صبح کا وقت تھا۔ جگو نے ایک ٹیکسی لی اور برج پر پہنچ گئی۔ وہاں پر پہنچی تو برج پر اسے سرفراز کھڑا نظر آ رہا تھا۔ اس نے ٹیکسی کا کرایہ ادا کیا اور سرفراز کی طرف دوڑی۔سرفراز نے بھی اسے آتا ہوا دیکھ لیا تھا۔ اس نے اپنی بانہیں کھول دیں۔ جگو بھاگی بھاگی آئی اور اس سے لپٹ گئی۔جگو: آئی لو یو سرفراز۔سرفراز : آئی لو یو ٹو جگو۔اور اس نے جگو کو بھینچ لیا اور اس کے سر پر ہونٹ رکھ دیےکچھ دیر بعد اس نے جگو کا چہر ہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر اٹھایا ۔جگو کی آنکھوں میں آنسو کے قطرے تیر رہے تھے۔سرفراز نے اپنے ہونٹوں سے چوم لیا۔ جگو کے سانسوں کی حرارت اسے اپنے بہت قریب محسوس ہوئی تو اسے بہت سکون ملا۔ اس نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور جگو کے شربتی گال چوم لیے۔ جگو کا سینہ اور تیز چلنے لگ پڑا تھا۔ اب سرفراز نے جگو کے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ گلاب کی پنکھڑیوں سے بھی نازک اور لطیف لب اسے شہد سے زیادہ مٹھاس دے رہے تھے۔ جگو نے بھی اپنے ہونٹوں کو اس کے حوالے کر دیا۔ کافی دیر کسنگ کرنے کے بعد دونوں جدا ہوئے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا دیے۔ جگو نے سرفراز کا ہاتھ تھام لیا اور دونوں ایک طرف چل دیے۔ سرفراز نے ایک مصرع پڑھا۔ بہت دیر کر دی مہرباں آتے آتے۔ جگو مسکرا دی۔دونوں نے اکٹھا ناشتہ کیا۔اور پھر دونوں اپنی اپنی یونیورسٹی چلے گئے۔ اگلے دن صبح کے وقت نیہا نے جاتے ہوئے کہا کہ میں آج رات نہی آ سکو گی،، آفس کام ہے۔ جگو نے کہا ٹھیک ہے۔جگو بھی تیار ہو کر یونیورسٹی چلی گئی۔ واپسی پر اس نے سرفراز کو میسج کیا کہ وہ اس کے فلیٹ پر آ جائے۔۔ فلیٹ پر پہنچ کر اس نے کچھ سپیشل ڈشز بنائیں ۔ بازار سے ایک کیک منگوایا۔ اور سرفراز کا انتظار کرنے لگی۔ کچھ دیر بعد بیل ہوئی۔ وہ بھاگ کے گئی اور دروازہ کھولا۔ آگے سرفراز ہی تھا۔ جگو اس کے گلےلگ گی۔ ایک ہلکی سی کس کے بعد دونوں علیحدہ ہوئے۔جگو اسے اندر لے کر آ گئی۔ اس نے سرفراز کو بیٹھنے کا کہا۔ کچھ دیر بعد وہ کھانا لے آئی۔ سرفراز اسے مسلسل دیکھے جا رہا تھا۔ آج جگو نےخاص انتظامات کیے تھے۔ ٹائٹ بلیو جینز سلیو لیس شرٹ جو اس کی ناف سے اوپر تک ہی تھی۔اسکا گورا گورا پیٹ چمک رہا تھا اور اس کی 28 کی پتلی کمر سرفراز کو دیوانہ بنا رہی تھی۔ جگو نے پوچھا کہ اوہ ہیلو مسٹر !!! کیا پہلے کبھی کوئی لڑکی نہی دیکھی ؟ سرفراز چونکا اور کہا۔ دیکھی تو بہت ہیں پر تم جیسی نہی دیکھی جو ہوش و حواس چھین لیتی ہے۔جگو مسکر ا دی۔ بہرحال اسی طرھ ہلکی پھلکی باتیں کرتے کرتے انہوں نے کھانا کھایا۔ جگو نے برتن سمیٹے اور کیک لے آئی۔ سرفراز بولا۔ آج تو بڑے خاص انتظامات کئے ہیں ۔ خیر تو ہے۔ جگو: خیر ہی ہے۔ بس دل کر رہا تھا، کچھ وقت ساتھ بتائیں۔ سرفراز : کیا بات ہے۔ دونوں صوفے پر بیٹھ گئے اور کیک اپنے سامنے رکھ کر ٹی وی آن کر دیا۔جگو نے ایک پیس کاٹا اور اپنے ہاتھ سے سرفراز کو کھلایا۔ سرفراز نے بھی پھر ایک پیس کاٹا اور جگو کو کھلایا۔ اسی طرح کچھ اور وقت گزر گیا۔ دونوں ساتھ ساتھ بیٹھے ٹی وی پر ایک گانا سن رہے تھے۔ گانا بہت سیکسی قسم کا تھا۔ سرفراز نے اپنا ایک ہاتھ جگو کی کمر کے پیچھے سے گزار کر اس کی ران پر رکھ لیا اور دوسرا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ کر سہلانا شروع کر دیا۔جگو کی سانسیں تیز ہو گئیں۔سرفراز کے ہاتھ گردش کرنے لگ گئے تھے ۔اب اس نے جگو کا سر اپنے کندھے پر رکھ لیا تھا۔کچھ دیر بعد سرفراز نے اپنے ہونٹ جگو کے سر پر رکھ دیے۔ ساتھ ساتھ جگو کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے سہلانا بھی جاری رکھا۔اب سرفراز نے جگو کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر اٹھا یا ۔جگو کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں اور ان میں شرم اور جزبات کے ملے جلے ڈورے تیر رہے تھے۔ سرفراز جگو کی اس ادا پہ قربان ہوا جاتا تھا۔ اس نے جگو کا چہرہ اوپر کر کے اس پہ بوسوں کی بوچھاڑ کر دی۔ پہلے اس کے کشادہ ، سرخ و سپید ماتھے کو چوما ، پھر اس کی آنکھوں کو چوما۔ پھر نرم و نازک گالوں کو انتہائی پیار سے چوما۔ پھر اس کے گلاب کی پتیوں جیسے ہونٹوں کو چوما۔ انہی ہونٹوں کے بارے میں شاعر نے کہا ہے: نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے سرفراز نے ہونٹوں کو پہلے اوپر سے چوما پھر اوپر والے ہونٹ کو اپنے منہ میں ڈال کے چوسنا شروع کر دیا۔ جگو کو تو جیسے کرنٹ سا لگ گیا۔ اس کا سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگا تھا۔ سرفراز کو اس کے ہونٹ شہد سے زیادہ میٹھے اور لذیذ لگ رہے تھے۔اس کا بس نہی چل رہا تھا کہ کس طرح ان کو کھا جائے۔ پھر کچھ دیر بعد دونوں نے فرنچ کسنگ شروع کر دی ۔ جگو بھی اب گرم جوشی دکھا رہی تھی۔ سرفراز مسلسل ہونٹ چوسے جا رہا تھا۔ اس نے ایک ہاتھ سے جگو کا سر پکڑ رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے جگو کی کمر سہلا رہا تھا۔ اب جگو نے سرفراز کے ہونٹ چوسنے شروع کر دیے۔سرفرازمزے کی نئی گہرائی میں ڈوب گیا ۔ اب سرفراز نے اپنے زبان جگو کے منہ میں داخل کر دی۔ جگو نے اسے چوسنا شروع کر دیا۔ دونوں کی زبانیں ٹکرا رہی تھیں ۔ جسمو ں میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ جگو نے آ ج تک یہ سب صرف فلموں میں ہی دیکھا تھا۔ مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اس کا کوئی بوائے فرینڈ نہی تھا۔ بس کبھی کبھار کسی سہیلی کے ساتھ عمران ہاشمی کی فلم دیکھ لیتی تھی ۔ جس میں یہ سب بھی ہوتا تھا۔ لیکن آج عملی طور پر یہ سب کرنے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ اب سرفراز نے اپنا ہاتھ جگو کی کمر سے ہٹا کراس کے پستانون کے ابھار پر رکھ دیا۔ جگو کا پھر انوکھے مزے کا احساس ہوا۔ کسنگ ابھی تک جاری تھی۔ سرفراز نے جگو کے سینے کو بھی مسلنا شروع کر دیا تھا۔ سرفراز کو اپنی پینٹ میں بھی اکڑاؤ سا محسوس ہو رہا تھا۔ کچھ دیر بعد سرفراز نے جگو کو کھڑا کیا ، اس کے ہاتھ پکڑ کر اوپر کیے اور اس کی شرٹ اتار دی۔ بے داغ ،گورا جسم دعوتِ نظارہ دے رہا تھا۔ اوپر سے ہلکے گلابی رنگ کے برا میں قید جگو کے 36 کے ممے قہر ڈھا رہے تھے۔ سرفراز تو یہ سب دیکھ کر پاگل ہو گیا اور جگو کے جسم پر ٹوٹ پڑا۔ پہلے اس کی خوبصورت صراحی دار گردن پر بوسے دیے۔ جگو کے منہ سے سسکاری نکل گئی۔ پھر اس طرح چومتے چاٹتے وہ نیچے آیا ۔ اس کے ابھاروں کو اوپر سے پیار کیا۔ پھر اس کے پیٹ پر زبان پھیری۔ پھر اس کی صاف شفاف ناف میں زبان داخل کر دی۔ جگو کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے اس کے پورے جسم میں بجلی کی لہر سی کوند گئی ہو۔ اس کے منہ سے پھر سسکاری نکل گئی۔ کچھ دیر بعد جگو نے سرفراز کی شرٹ بھی اتار دی ۔اب سرفراز کے کشاچہ سینہ ننگا تھا۔ جگو نے بھی اس پہ پیار کرنا شروع کر دیا۔ کچھ دیر بعد سرفراز نے جگو کو سینے سے لگا کر پیچھے ہاتھ لے جا کر اس کے برا کی ہکس بھی کھول دیں۔ برا نیچے ڈھلکنے لگا۔ سرفراز نے اسے پکڑ کر ایک طرف پھینک دیا۔ اب جگو کا اوپری بدن مکمل ننگا تھا۔ جگو نے شرم کے مارے اپنے ہاتھ اپنے پستانوں پر رکھ لیے تھے جو انھیں چھپانے میں ناکام رہے تھے۔ سرفراز کو اس کی یہ ادا بہت اچھی لگی۔ سرفراز نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ پرے کیے۔ کیا نظارہ تھا۔ دودھ سے زیادہ سفید گورے گورے ،گول ممے، جو بلکل تنے ہوئے تھے ، ان پر براؤن کلر کا دائرہ اور اس میں پھر ہلکے براؤن کلر کے چھوٹے چھوٹے تنے ہوئے نپلز۔ سرفراز نے یہ نظارہ کبھی نہ دیکھا تھا۔ پورن مویز میں بھی اسے کبھی ایسا قدرتی حسن نظر نہ آیا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر ان نسوانی حسن کی علامتوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔ جگو کی سسکاری نکل گئی۔ سرفراز کے پیار کرنے کا انداز اسے دیوانہ بنا رہا تھا۔ سرفراز کو وہ پستان انتہائی ملائم اور نرم معلوم ہو رہے تھے بالکل روئی کے گولوں کی طرح۔ سرفراز نے ان پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ پھر اس نے جگو کو صوفے پر بٹھا دیا اور اپنے منہ میں اس کا ایک مما لے لیا۔ جگو مزے کے نئے جہان میں ڈوب گئی۔ اس کیلئے بھی یہ سب بالکل نیا تھا۔ سرفراز نے ایک بوب کو منہ میں لے لیا اور اس پر زبان پھیرنی شروع کر دی اور دوسرے ہاتھ سے دوسرے بوب کو پکڑ کر اس کو سہلانا شروع کر دیا۔ جگو کے منہ سے آہ،آوچ ،اوئی آہ ،،،اوہ ،، کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں تھیں ۔۔ سرفراز نے اچھی طرح زبان پھیرنے کے بعد اس کے نپل کو چوسنا شروع کر ددیا تھا۔ جگو کی آوازیں مزید بلند ہو رہی تھیں جو سرفراز کو اور زیادہ گرم کر رہی تھیں ۔ نپل فل تناؤ میں تھے۔ سرفراز چوسنے کے دوران انہیں ہلکےسے کاٹ بھی لیتا تھا۔ جس سے جگو کی لذت آمیز سسکاری نکل جاتی تھی۔ ایک ممے سے اچھی طرح کھیلنے کے بعد سرفراز دوسرے ممے کی طرف گیا۔ اس کے ساتھ بھی وہی عمل دوہرایا۔ جگو کو محسوس ہوا کے اس کی پینٹ نیچے سے گیلی ہو رہی ہے۔ اب سرفراز کو بھی اپنے جسم پر لباس بوجھ لگ رہا تھا۔ اس نے جگو کو کھڑا کیا اور اس کی پینٹ کا بیلٹ کھولا۔ پھر زپ نییچے کی۔ پھر آہستہ آہستہ اسے اتار دیا۔ اب جگو صرف ایک پنک کلر کی پینٹی میں تھی۔ سرفراز نے اسے اپنی پینٹ کی طرف اشارہ کیا۔ جگو سمجھ گئی۔ وہ آگے بڑھی اور اس نے سرفراز کی پینٹ بھی اتار دی۔ اب سرفراز بھی صرف ایک سفید انڈرویئر میں تھا ۔ اس کے انڈرویر میں ابھار واضح طور پر نظر آ رہا تھا۔ اب سرفراز نے جگو کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور بیڈ پر لٹا دیا۔ پھر اس کی ٹانگیں اٹھا کر اس کی پینٹی بھی اتار دی۔ اب جگو الف ننگی بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی،، اور کچھ کچھ شرما بھی رہی تھی ۔ سرفراز بولا: جگو تم بہت حسین ہو۔ مجھے کچھ ہو نہ جائے۔ آئی لو یو، میری جان۔۔ جگو: آئی لو یو ٹو سرفراز، ۔۔۔ اب سرفراز نے پھر سے اس کے پورے جسم کو چومنا شروع کر دیا۔ گردن سے ہوتے ہوئے نیچے پیٹ تک آگیا۔ پھر اس نے پیٹ سے نیچے سفر شروع کیا۔ جگو کی بے چینی بڑھنا شروع ہو گئیپھر سرفراز نے اپنے لب جگو کی کنواری چوت پر رکھ دیے ،۔ جگو کو کرنٹ سا لگا۔ اس نے بے اختیار سرفراز کے سر پہ ہاتھ رکھ دیا۔ سرفراز کو وہ چوت بہت گرم گرم محسوس ہوئی، اس میں سے چکنا سا مادہ بھی نکل رہا تھا۔ جس کی خوشبو اسے دیوانہ بنا رہی تھی۔ انتہائی خوبصورت براؤن کلر کی چوت ،اس پہ ہلکےہلکے بال، ان کے جڑے ہوئے لب،ان کے اوپر ایک چھوٹا سا دانہ جو سرخ ہو رہا تھا
 یہ سب نظارہ سرفراز کے جزبات کو مزید ابھار رہا تھا۔ اس کو اپنا انڈروئر پھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے اپنے لب جگو کی چوت پہ پھیرنے شروع کر دیے۔ کچھ دیر بعد اس نے اپنی زبان نکالی اور اس کو جگو کی چوت پر پھیرنا شروع کر دیا۔ جگو تو مزے کی اک نئی دنیا میں پہنچ گئی۔ سرفراز کی زبان نے جب اس کے دانے کو ٹچ کیا تو وہ اپنی سسکاری کو نہ روک پائی۔ سرفراز نے اب اسی دانے کو پکڑ لیا اور اسے چوسنا شروع کر دیا اور اس پر اپنی زبان پھیرنا جاری رکھا۔ جگو اب مسلسل سسکاریاں لے رہی تھی۔ اور اپنا جسم بار بار ہلا رہی تھی۔کچھ دیر بعد اسے اپنی چوت میں بہت سی گرمی محسوس ہوئی اور یوں لگا جیسےپورے جسم میں چونٹیاں سی رینگ رہی ہوں۔ اس کے سسکاریوں کی آواز بلند ہو گئی۔ اس نے سرفراز سرفراز چلانا شروع کر دیا ۔ سرفراز فوراً اٹھا اور اس جگو کے اوپر لیٹ گیا اب اس اپنے ہاتھ سے اس کی چوت کو سہلانا جاری رکھا اور خود اس کے بوب کو چوسنا شروع کر دیا۔ جگو دوہرے مزے سے آشنا ہوئی۔ اسے سرفراز پر بے حد پیار آ رہا تھا۔ اچانک اسے لگے کے اس کی سانسیں اور تیز ہو گئیں ہیں۔ ۔۔۔۔۔ آہ، آؤچ ۔ سرفراز ،، میں گئی۔۔ آہ ۔ آ،،،،،ئی ۔۔لو ۔۔۔۔، یو ،، سرفراز،، اور اس کی چوت میں جیسے سیلاب آ گیا۔ سرفراز کو بھی اپنی رانوں کے پاس بہت پانی محسوس ہوا ۔ جگو نے اسے اچھی طرح بھینچ لیا۔ اس کے ساتھ ہی جگو شانت ہوتی چلی گئی۔جگو نے مزے سے آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں اور سرفراز کی طرف پیار سے دیکھا۔ پھر وہ اٹھی اور اس نے سرفراز کو نیچے لٹا کر اس پہ بوسوں کی بوچھاڑ کر دی۔ اب مزے لینے کی باری سرفراز کی تھی،۔ جگو اس کو چومتی ہوئی نیچے آئی۔ اس کے سینے کو چوما۔ نپلز کو چوما۔ پھر پیٹ کو چوما۔ سرفراز کا بدن بھی بہت حسین تھا۔ پھر جگو اس کی رانوں کے درمیاں آ گئی۔ اس نے انڈروئر کو اوپر سے ہی چومنا شروع کر دیا۔ پھر اس نے سرفراز کا انڈروئر اتار دیا۔ سرفراز کا 7 انچ کا لن ایک جھٹکے کے سیدھا کھڑا ہو گیا۔ایک دفعہ تو وہ اسے دیکھ کر حیران ہو گئی۔ پھر اسنے اسے ہاتھوں میں لے لیا اور ہلکا ہلکا مساج شروع کر دیا۔ اب سرفراز کی سسکاریاں نکل رہی تھیں۔ سرفراز : جگو میری جاں اس کو پیار تو کرو۔ جگو نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے لن کی کیپ پر ہونٹ رکھ دیے ۔ دراصل وہ یہ سب پورن موویز مین دیکھ چکی تھی اور اسے پتہ تھا کہ ایسا کرنے سے مرد کو بہت مزہ آتا ہے اور وہ اپنے محبوب کو بے حد مزہ دینا چاہتی تھی۔ پھر جگو نے اپنی زبان نکالی ور اس کے پورے لن پر گھمانی شروع کر دی۔ سرفراز کے چونکہ ختنے ہوئے ہوئے تھے اس لئے اس کے لن کی کیپ بہت گول تھی اور وہ جگو کو بھی بہت اچھی لگ رہی تھی۔ ابھی یہ سب ہو ہی رہا تھا کہ جگو کے موبائل کی بیل بجی۔ جگو نے اگنور کیا۔ اور اس کا لن چوسنا جاری رکھا ۔ لیکن جب کچھ دیر بعد پھر بیل بجی تو اس نے لن چھوڑ کر موبائل کو دیکھا تو نیہا کا نمبر شو ہو رہا تھا۔ جگو نے سرفراز کی طرف دیکھ کر کہا ، ایک منٹ میری روم میٹ کی کال آ رہی ہے پتہ نہی کیا بات ہے ۔ جب اس نے کال اٹینڈ کی تو نیہا کی آواز آئی۔ یار میرا پروگرام کینسل ہو گیا ہے۔ میں آ رہی ہوں پلیز میرے لیے کھانے کیلئے کچھ لے آؤ ۔ بہت بھوک لگی ہے۔ میں آدھے گھنٹے تک پہنچ رہی ہوں۔ اوکے بائے۔ جگو : نے فون بند کر کے سرفراز کی طرف دیکھا ۔ وہ بھی اپسیٹ دکھائی دیا۔ جگو نےاس کے لن کی طرف دیکھا جو اس دوران سو چکا تھا۔ جگو بولی: اوہ سو سور ی۔ میری روم میٹ آ رہی ہے۔ کوئی بات نہی پھر کبھی سہی۔ لیکن میں تمہیں تھوڑا سا مزہ ضرور دے سکوں گی۔ یہ کہ کر جگو جکھی اور سرفراز کے لن کو منہ میں ڈال لیا۔ تھوڑی دیر بعد سرفراز کا لنڈ اانگڑائیا ں لیتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ جگو نے اس لولی پاپ کی طرح چوسنا شروع کر دیا۔ وہ اپنی پوری زبان اس کے لنڈ کی کیپ پہ گھماتی اور پھر اچھی طرح اس منہ میں گہرائی تک لینے کی کوشش کرتی۔ سرفراز مزے کے ایک نئے جہان سے آشنا ہو رہا تھا، ۔ اس نے جگو کے سر کو اور نیچے دبانا شروع کر دیا۔ اور ساتھ ایک ہاتھ سے کا ایک پستان بھی پکڑ لیا۔ جگو مسلسل لنڈ چوسے جا رہی تھی۔ کچھ دیر بعد سرفراز کو اپنے جسم میں ہلچل کا احساس ہوا۔ اس لگا جیسے اس کا سارا جسم اس کے لنڈ کی طرف دوڑ رہا ہو۔ اس نے جگو کو بتایا کہ وہ آ رہا ہے ۔ جگو نے لنڈ میں سے نکال کر ہاتھ میں لے لیا اور ہاتھ سے مٹھ لگانی شروع کر دی۔ چند سیکنڈ بعد سرفراز کے لنڈ سے ایک جھٹکے سے منی کی پھوار نکلی۔کچھ دیر بعد سرفراز بھی شانت ہو گیا۔ پھر جگو جلدی سے اٹھی اور کپڑے پہنے۔ سرفراز بھی اپنے کپڑے پہننے واشروم چلا گیا۔ کپڑے پہننے کے بعد وہ باہر نکلا جگو جو ایک الوداعی کس دی آئی لو یو بولا اور چلا گیا۔ جگو جلدی سے نیہا کیلئے کھناے پینے کا سامان لینے بازار چلی گئی۔ خلائی باشندہ آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ آگے کچے مکا نات تھے۔کچھ بچے بھی وہاں کھیل رہے تھے۔ خلائی مخلوق مکمل ننگا تھا۔اس نے ریڈیو اپنے گلے میں پہن رکھا تھا۔وہ ایک درخت کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور چھپ کے دیکھنے لگا۔ اس نے دیکھا کہ کچھ بچوں کے اوپری بدن برہنہ تھے۔ بالکل اس کی طرح ۔کچھ نے صرف شلوار پہن رکھی تھی۔ خلائی مخلوق انہیں دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔ اس کو چونکہ ایک تلخ تجربہ ہو چکا تھا، اس لیے وہ ان کے پاس ناگیا۔ کچھ دیر بعد اسے قدموں کی آواز اپنی طرف آتی سنائی دی۔ وہ جلدی سے درخت پر چڑھ گیا۔ کیونکہ اس کے گولے پر یہ سب بہت آسان تھا۔ اتنے میں اسے ایک لڑکا اور ایک لڑکی درخت کی طرف آتی دکھائی دی۔ دونو ں ہنستے مسکراتے آ رہے تھے۔ کچھ دیر بعد وہ درخت کے نیچے آ گئے۔خلائی باشندے نے اپنے آپ کو اچھی طرح پتوں میں چھپا لیا۔ لڑکے نے فوراً لڑکی کو اپنی بانہون میں بھر لیا اور بوس و کنار شروع کر دیا۔لڑکی کسمائی اور بولی : نہ کرو جی، کوئی آ جا ئے گا۔لڑکا : کوئی نہیں آئے گا۔ کتنے عرصے بعد تو ہم ملے ہیں۔ لڑکی : ہم تو روزانہ ہی ملتے رہتے ہیں۔ لڑکا اس کی گال چومتے ہوئے بولا: خاک ملتے ہیں ۔ تم تو بس کام کرتی رہتی ہو۔ مجھے تو دور سے ترساتی ہو۔ اب لڑکے نے اس کے پستانوں کی بھی اوپر سے مسلنا شروع کر دیا تھا۔ لڑکی مزاحمت کرتے ہوئے: میں کیسے آپ سے مل سکتی ہوں آپ مالک ہیں میرے۔ لوگ کیا کہیں گے ۔وڈے چوہدری جی تو مار ہی ڈالیں گے۔ لڑکا : کچھ نہی ہومیں ہوں نہ تمہارا ساتھ۔ اب لڑکے نے لڑکی کے ہونٹوں کو چومنا شروع کر دیا تھا۔ خلائی مخلوق کیلئے یہ سب بالکل نیا تھا۔ اس کے پلینٹ پر یہ سب نہی ہوتا تھا۔بس ہر ہفتے بعد ایک اجتماع میں وہ سب اپنی منی نکالتے اور اس بڑے گرو کو دے دیتے۔ کچھ عرصے بعد بڑا گرو انہیں بتا دیتا کہ کس کا بچہ کس کے پیٹ میں ہے۔ اس طرح ان کی افزائش نسل ہو جاتی۔ پر اس دنیا کے منظر نے خلائی مخلوق کو حیران کر کے رکھ دیا تھا۔اس لگا جیسے اس کے نچلے حصے میں کوئی ہلچل سی ہو رہی ہے ۔اس نے دیکھا تو اس کو 10 انچ کا گورا لنڈ جو پہلے بامشکل ہی کھڑا ہوتا تھا اب مکمل جوبن پر تن گیا تھا۔ لڑکے لڑکی کی کسنگ جاری تھی۔ اچانک لڑکی نے اپنے آپ کو چھڑوایا اور کہا بس، چوہدری جی،، کوئی آ جائے گا۔چوہدری نے بھی صورتحال کو سمجھتے ہوئے اسے چھوڑ دیا۔ دونوں چلے گئے۔ لیکن خلائی مخلوق کو حیراں پریشاں چھوڑ کر۔ خلائی مخلوق کافی دیر تک وہاں بیٹھا رہا۔ اب لوگ گھروں سے نکلنا شرو ع ہو گئے تھے۔ اس لئے وہ وہیں چھپا رہا۔ اب اسے بھوک پیاس بھی لگ رہی تھی۔ جب دوپہر کی گرمی اپنے عروج پر پہنچی اور باہر سناٹا چھا گیا ، تو وہ باشندہ نیچے اترا۔ اس نے ایک طرف چلنا شروع کر دیا۔ کچھ دیر چلنے کے بعد اسے آگے ایک بڑے سا پانی کا ریلا ایک بڑے پائپ میں سے نکللتا دکھائی دیا۔ یہ دراصل ٹیوب ویل تھا۔ باشندے نے آگے بڑھ کر اپنا منہ اس پائپ پر رکھ دیا۔ٹھنڈا پانی پینے سے اس کی طبیعت میں بہتری آئی۔ اب اس کو بھوک لگ رہی تھی۔ اس نے پھر ایک طرف چلنا شروع کر دیا۔ اب وہ ایک گلی میں سے گزر رہا تھا۔ اگر اس وقت کوئی اسے دیکھ لیتا تو یقیناً بے ہوش ہو جاتا۔ جلد ہی وہ ایک فارم ہاؤس کے پاس پہنچ گیا۔ خلائی باشندے ہونے کی وجہ سے اس کی تمام حسیات عام انسانون سے کئی گنا زیادہ تھیں۔ اس نے دھیان لگا کہ سن گن لینے کی کوشش کی لیکن مکمل سناٹا تھا۔ وہ دروازے میں سے اندر داخل ہو گیا۔ سامنے برامدے میں ایک آدمی سویا ہوا تھا۔ پاس ہی ایک میز پر کچھ دودھ وغیرہ رکھا ہوا تھا۔ باشندے نے فوراً دودھ کا مگھ منہ سے لگا لیا اور غٹا غٹ سارا دودھ پی گیا۔ پھر اس نے دیکھا کہ دوسری طرف کافی ساری بھینسیں کھڑی تھیں۔ خلائی باشندہ ادھرچل پڑا۔ وہاں کوئی جگہ دیکھ کر وہ اپنے آپ کو چھپانا چاہتا تھا۔ آخرکار اسے ایک جگہ مل ہی گئی۔بھینسوں کے طبیلے کے ساتھ ہی ایک بڑا سا کمرہ تھا۔ باشندہ اس میں داخل ہو گیا۔ وہاں کافی سارا کاٹھ کباڑ پڑا تھا۔ وہاں ایک پرانا سا ٹریکٹر کھڑا تھا۔ ساتھ پرالی (بھوسہ) کا ایک بڑا ڈھیر۔ خلائی مخلوق اب تھوڑا آرام کرنا چاہتا تھا۔ وہ ٹریکٹر کے نیچے گھس کے لیٹ گیا۔ جلد ہی اس کی آ نکھ لگ گئی اور وہ اپنے گولے کے خواب دیکھتا سو گیا۔ کافی دیر بعد اچانک اس کی آنکھ کھلی۔ اس نے غور کیا تو پتا چلا کہ اندھیرا چھا چکا ہے۔ اس کے ارد گرد کچھ سرگوشیاں ہو رہی تھیں۔ کیونکہ اس کا حافظہ کافی تیز تھا اس لیئے اس نے پہچان لیا کہ یہ وہی صبح ولا پریمی جوڑا تھا۔ دونوں پرالی پر بیٹھے ہوئے تھا۔ لڑکا بولا : آہ کتنے عرصے بعد ایسی رات آئی ہے جب ہم دونوں ساتھ ساتھ ہیں ۔ لڑکی: جی۔ چوہدری جی۔ لڑکی کی آواز میں ہلکا سا خوف بھی تھا۔ لڑکا : کیا گی چوہدری جی لگا رکھی ہے۔ میرا اچھا بھلا نام ہے۔ نام سے پکارا کرو مجھے۔ کیا مجھ سے پیار نہیں تمھہیں۔ بہت ہے ؟ لڑکی : نہیں ندیم بابو ایسی کوئی بات نہیں ۔ پیار نہ ہوتا تو میں یہاں آپ کے ساتھ آتی۔ ندیم : چلو شکر ہے تم نے نام تو لیا۔ ویسے آ ج تم بہت پیاری لگ رہی ہو ۔ لڑکی شرما گئی۔ وہ پرالی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ لڑکی: اگر کوئی آ گیا تو بہت بدنامی ہو گی۔ آ پ کی عزت کا کیا ہو گا۔ ندیم: کو ئی فکر نہ کرو۔ بابو گی اور مما اپنے کمرے میں سو رہے ہیں۔ چھوٹا کامران بھی میرے روم میں سو رہا ہے۔ ہمارے منشی کی نیند کا تو تمہیں پتا ہی۔ لڑکی : کچھ نہ بولی۔ ندیم کے ہاتھو ں کی گردش بڑھ رہی تھی۔ اب اس نے لڑکی کا چہرہ اپنے قریب کیا اور اسے چومنا شروع کر دیا۔ وہ باشندہ (جس کا بعد میں نام پی کا رکھا جانا والا تھا اب اب اسے پی کے ہی لکھا جائے گا۔) ان کی آ واز نھی سمجھ سکتا تھا ۔ اسے بس کھسر پھسر سی سنائی دے رہی تھی۔ وہ بڑے شوق سے یہ نظارہ دیکھ رہا تھا۔ اب لڑکے لڑکی کے گال چوم رہا تھا۔ہلکی ہلکی روشنی موجود تھی۔ لڑکی کے سینے کا زیروبم تیز ہو گیا تھا۔ لڑکے نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیے۔ اس کے ہونٹوں کو پہلے چوما پھر چوسنا شروع کر دیا۔ لڑکی کو بھی مزہ آ رہا تھا۔ اس کے ہونٹ بلکل باریک اور نرم و نازک تھے۔ کڑکے نے غالباً کوئی سونف یا الائچی وغیرہ کھا رکھی تھی کیونکہ اس کے منہ سے بھت اچھی خشبو آ رہی تھی جو لڑکی کو اور بھی مزہ دے رہی تھی ۔ لڑکی کا نام نیلم تھا۔ سب نیلاں کہتے تھے کیونکہ وہ غریب تھی۔ لیکن ندیم اس پیار سے نیلو کہا کرتا تھا۔ اب لڑکے نے اپنی زبان نیلم کے منہ میں داخل کر دی جو اندر جا کر نیلم کی زبان سے ٹکرانے لگی۔ نیلم نے اسے چوسنا شروع کر دیا۔ ندیم مزے سے سرشار ہو گیا۔ اس نے ایک ہاتھ نیلم کی کمر پر رکھ دیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے پستان مسلنے شروع کر دیے۔ کچھ دیر بعد ندیم نے کسنگ چھوڑ کر نیلم کے بازو اوپر کیے اور اس کی سفید کلر کمیص اوپر کر کے اتار دی۔ نیلم کا سر شرم سے جھکا ہوا تھا، ۔ ندیم نے ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا منہ اوپر اٹھایا۔ اور پھر سے اسے چومنا شروع کر دیا۔ اب کی بار گردن پر بھی بوسے دیے۔ ندیم کے تپتے ہوئے ہونٹ جب نیلم کی گردن سے ٹکڑائے تو اس کی سسکاری سی نکل گئی۔ گردن پر چومنے اور اپنی زبان پھیرنے کے بعد ندیم نے نیچے کا سفر شروع کیا

Posted on: 06:28:AM 14-Dec-2020


0 0 172 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 1 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com