Stories


دیوانے تو دیوانے ہیں از رابعہ رابعہ 338

ان دنوں میں بنارس میں اپنی دکان پر بھی بیٹھنے لگی تھی. محض ساڑيا و عورتوں کے ہی کپڑے تھے. کچھ رےڈيمےڈ، کچھ تھان، پھر تنوں برا وغیرہ. مزے کی بات تو یہ تھی کہ میرے جس حصہ میں چڈی برا بکتی تھی وہاں لڑکے بہت آتے تھے، اپنی گرلفرےنڈ کیلئے مہنگی سے مہنگی تنوں اور برا خریدتے تھے. میں بھی مؤکا دیکھ کر ان چوتيو کو دام بڑھا چڑھا کر بیچتی تھی. ان هراميو کو تو دیکھ کر ہی دم سمجھ جاتی تھی کہ لڑکے جب شفاف تنوں یا برا خریدتا تھا تو یہ ضرور ہی اسے چودنے کے وقت پهناتا گا. میرا پڑوسی رشید جو میرا دوست بھی تھا، ایک دن میری دکان پر آیا اور بولا بانو، تم کب فری رہتی ہے؟ "کیو کیا بات ہے؟" "بس تجھسے بات کرنی تھی!" "بھوسڑي کے، اب سالا اشكي جھاڑےگا!" "بانو، تو تو نہ جانے کیو مجھ اکھڑی اکھڑی سی رہتی ہے، میرا قصور کیا ہے؟" "بھڑوے، یہ دیکھ، تمام آپ کی کو لیے کتنی اچھی اچھی برا اور چڈڈيا لے جاتے ہیں، اور تیری تو بھےن کی، میرے لیے کبھی کچھ لایا ہے؟" "سچ بانو، یہ لے پانچ سو روپیہ، اور لے لے اپنے لئے ایک مست سی برا اؤر چڈی، بس اب تو خوش ہے نا؟" "بس ایک ہی؟ مادرچود، چوت تو تیری ہے نہیں، اپنی گانڈ میں گھسا لے اسے. ایسے فوكٹيے تو اللہ کسی کے پاس نہ بھیجے!" رشید کا ہوم لٹک سا گیا. "میرے پاس تو ابھی اتنے ہی ہیں!" "ارے رے رے ... رشید بھايجان، یہ برا اؤر چڈی لے لے بس ... پر یہ گانڈ جیسا منہ مت بنا، اب ماں چدا تو اپنی!" میں نے اسے اپنی پسند کی چار سو کی ایک چڈی اور ایک برا دے دی. رشید نے شام کو مجھے فون كيا- بانو، آج گھر میں کوئی نہیں ہے، اپنا گفٹ تو لے جا! میرے من میں کھلبلی سی مچنے لگی. سالا چار سو کا گفٹ بھی تو لایا ہے ... ہاے میرا عاشق دیوانہ ... میرا کیا جاتا ہے اگر میں اسے خوش کر دیتی ہوں تو. بیچارا مجھے اب تو گفٹ بھی تو دینے لگا ہے. میں نے اپنا آج کل کے فیشن والا اونچا سا سلوار کرتا پہنا اور رشید کے گھر چلی آئی. گھر کے باہر سے ہی مجھے تیز الگ کی مہک آئی. اوہ، لگتا ہے للو پوری تیاری میں ہے. "ارے بانو، تو تو سچ میں آ گئی؟" "اب چل مجھے چوتيا مت بنا. میرا گفٹ مجھے دے!" "نہ نہ ... ایسے نہیں ... اسے پہننا پڑے گا ... بول کیا کہتی ہے؟" "ارے حرامی ... تو تو سالے ... تیری اماں کی ... لا مجھے دے ... کیا کرے گا، مجھے ننگی دیکھے گا بھوسڑي کے؟" "تیری باتوں سے دل مچل جاتا ہے یار ..." "لا ادھر دے ... تیرے سامنے تبدیل کروں یا کمرے میں جانا پڑے گا؟" رشید تو یہ سب سن کر تھرا سا گیا. اسے کیا معلوم تھا کہ میں تو اس کے سامنے ہی کپڑے بدل سکتی ہوں. میں نے اپنا کرتہ اتارا. اندر میں نے برا نہیں پہنی تھی. پہننے کی ضرورت بھی نہیں تھی. وہ تو ویسے بھی براہ راست اور تنے ہوئے تھے. مجھے دیکھ کر رشید تو پگلا ہی گیا. پھر میں نے اپنا پائجامہ اتار دیا. اندر چڈی بھی نہیں پہنی تھی. میری چوت اور گانڈ دیکھ کر اس کے پسینے چھوٹنے لگے. میں نے اس کی چڈی اور برا پہن لی. اور ویسے ہی کھڑی ہو کر اسے گھوم گھوم کر دکھانے لگی. "اب بتا کیسی ہے؟" "آ ... ا ... تو کیا چیز ہے بانو ..." "مادرچود، میں چڈی برا کے لئے پوچھ رہی ہوں!" "بس ایک بار میرے گلے سے لگ جا!" میں من ہی من مسکرا اٹھي- تو آ جا ... لگ جا گلے سے! اوہ حرامی سالا ... لؤڑا دیکھو تو کیسے تننا رہا ہے، یہ آج مجھے چودے بغیر مانے گا نہیں. وو میرے پاس آیا اور مجھے للچائی نظروں سے اوپر سے نیچے دیکھتا ہی رہا. پھر ہاتھ بڑھا کر میرے جسم کو چھونے لگا، میری پیٹھ کو سہلانے لگا، میری تنی ہوئی سخت ہوئی چوچیوں کو سہلانے لگا. پھر میری کمر اور پھر چوتڑوں کو اپنے ہاتھوں سے سہلا-سہلا کر دیکھتا رہا. پھر دھیرے سے اس نے میری چوت پر ہاتھ رکھ کر سہلایا. آخر میں بھی تو جوان تھی. میری چوت گیلی ہونے لگی. پھر اس نے مجھے زور سے اپنی باہوں میں لپٹا لیا. میرا دم گھٹنے لگا ارے مادرچود، مجھے مار ڈالے گا کیا؟ "بانو، صرف تجھے چودنا ہے ... ایک بار چدا لے!" "ارے جا، باپ کا مال ہے کیا جو چدا لے؟ هارامي سالا!" "پلیج بانو، صرف ایک بار تو مان جا ... دیکھ تیری چوت بھی تو گیلی ہو گئی ہے." "تو ... تو کیا ... بول چودیگا مجھے، بھڑوا سالا ...... اچھا چل، ادھر بیڈروم میں چل!" "ےييي یا ...... میری بانو ... چل چل یار جلدی چل!" رشید تو جیسے اچھل ہی پڑا. اب میں بھی کیا کرتی چدے ہوئے بھی بہت ماہ ہو گئے تھے. اب لنڈ مل رہا ہے تو کیوں چھوڑنا اسے. "چل اتار دے اپنی چڈی بنیان!" میں نے رشید کو کہا. "اوہ میری بانو، تجھ پر میری جان نچھاور ... یہ لے اب اتاری!" وو تو جھٹ سے ننگا ہو گیا. اس کا کھلا ہوا سپاڑا بہت خوبصورت لگ رہا تھا. کڑک لنڈ! آہ! یہ تو کافی لمبا ہے ... موٹا نہیں ہے تو کیا ہوا، لمبا تو مست ہے، دور تک جائے گا. میری چوت گدگدا اٹھی. "آ تیرا لنڈ مل دوں، پھر چوسوگي!" رشید تو خوشی کے مارے پاگل ہآ جا رہا تھا. میں نے اسے بستر کے پاس کھڑا کر دیا. میں خود بستر پر بیٹھ گئی اور اس کا لنڈ سہلانے لگی. لمبا تھا شاید آٹھ انچ سے زیادہ ہی ہوگا. میں نے پہلے تو اسے ملتی رہی. آہ! کیا سختی تھی لؤڑے میں ... جوان جو تھا ... اس میں سے اب تھوڑا تھوڑا رس ٹپکنے لگا تھا. میں اپنی جیبھ سے اسے چاٹتي بھی جا رہی تھی. میں جتنی سختی سے اسے چوستی تھی اتنا ہی وہ اپنا محبت رس چھوڑتا جا رہا تھا. میں اسے باكھشي زبان میں اتار کر مزے سے اس کا ذائقہ لیتی تھی. "رشید بھائی، میری چوت چوسے گا؟" "ارے یہ تنوں اور برا تو اتار، مجا آ جایگا تیری چوت کا تو!" "سن رے کتے، میری چوت کو کاٹنا نہیں، صرف لپ لپ کرکے چاٹ لینا!" "تو گھوڑی بن جا ... پیچھے سے کتے ہی کی طرح چاٹوگا." میں گھوڑی بن گئی. پھر وہ میرے پیچھے آ گیا. مجھے اپنی گانڈ پر ٹھنڈک سی لگی. وو میری گانڈ سونگھ رہا تھا، پھر وہ میری گانڈ چاٹنے لگا آ تیرا لنڈ مل دوں، پھر چوسوگي! "رشید تو خوشی کے مارے پاگل ہآ جا رہا تھا. میں نے اسے بستر کے پاس کھڑا کر دیا. میں خود بستر پر بیٹھ گئی اور اس کا لنڈ سہلانے لگی. لمبا تھا شاید آٹھ انچ سے زیادہ ہی ہوگا. میں نے پہلے تو اسے ملتی رہی. آہ! کیا سختی تھی لؤڑے میں ... جوان جو تھا ... اس میں سے اب تھوڑا تھوڑا رس ٹپکنے لگا تھا. میں اپنی جیبھ سے اسے چاٹتي بھی جا رہی تھی. میں جتنی سختی سے اسے چوستی تھی اتنا ہی وہ اپنا محبت رس چھوڑتا جا رہا تھا. میں اسے باكھشي زبان میں اتار کر مزے سے اس کا ذائقہ لیتی تھی. "رشید بھائی، میری چوت چوسے گا؟" "ارے یہ تنوں اور برا تو اتار، مجا آ جایگا تیری چوت کا تو!" "سن رے کتے، میری چوت کو کاٹنا نہیں، صرف لپ لپ کرکے چاٹ لینا!" "تو گھوڑی بن جا ... پیچھے سے کتے ہی کی طرح چاٹوگا." میں گھوڑی بن گئی. پھر وہ میرے پیچھے آ گیا. مجھے اپنی گانڈ پر ٹھنڈک سی لگی. وو میری گانڈ سونگھ رہا تھا، پھر وہ میری گانڈ چاٹنے لگا. "یہ کیا کر رہا ہے بھڑوے ...؟" "ارے، کتے کی طرح پہلے گانڈ سوںگھا اور پھر اسے چاٹ لیا ... کیا غلط کیا؟" "پاگل ہے سالا!" میں ہنس پڑی. میری چوت بہت گیلی ہونے لگی تھی. پر اس کا گانڈ کے چھید کو چاٹنا بند ہی نہیں ہو رہا تھا. اههه! میں تو تڑپ اٹھی تھی اسکا لنڈ کھانے کے لیے .... تبھی اس کی لمبی زبان میری چوت پر چپک گئی. مجھے بہت خوشی آیا. وہ میری چوت کا رس پی رہا تھا- بانو، سالی مزہ آ گیا ... چھنال، کیا ذائقہ ہے تیری چوت کا! "تو حرامی رگڑ دے نا! دیکھ کیا رہا ہے؟ "میرا لنڈ! آہ اتنا سخت ہو گیا ہے کہ بس!" رشید اپنے لنڈ کی طرف دیکھ رہا تھا. تبھی اس کا لنڈ میری چوت سے ٹکرایا. "ہاے اللہ، گھسیڑ دے نا میرے مولا!" تبھی اس کا سپاڑا میری چوت میں گھس گیا. مجھے لگا اهههه ہاے رے امی، یہ تو گھستا ہی جا رہا ہے. "بھائی جان، کتنا لمبا ہے رے تیرے لنڈ؟" "بس گیا ہی سمجھو!" "ارے بس، بہت ہو گیا ..." پھر میں چیخ سی اٹھی. "بابا رے، یہ تو بہت گہرائی میں چلا گیا ہے، کہیں منہ سے باہر تو نہیں آ جائے گا؟" تبھی اس کا لنڈ گدگداتا ہوا باہر نکلا اور پھر گہرائی میں جانے لگا. ہیلو، اب تو میں مزے کے مارے مر ہی گئی. "سالے تیرا لنڈ ہے یا مزے کی خان ... بہت اندر تک جا کر چودتا ہے سالا. بس جور جور سے چود دے!" "یہ لے میری بانو، آج تو بھی رشید کا لنڈ یہ لے، سالی ... چھنال ... لے کھا میرا لؤڑا ..." اتنی مستی لمبے لنڈ سے ملتی ہے، ہای، میں تو اس کی مرید ہو گئی. اس کے کچھ ہی دھکوں نے مجھے چرمسیما تک پہنچا دیا. پھر مجھے پوری اطمینان کا احساس ہوا اور میں جور سے جھڑ گئی. "بس بس کر رشید ... میں تو بری طرح سے چد گئی ... اب چھوڑ دے!" "ارے بانو میرا کیا ہوگا ..." "اوہ تو کیا کروں میں، چل تو میری گانڈ چود دے نا ... بس؟" اس نے جب لنڈ باہر نکالا تو لگا کہ جیسے اندر سے کوئی جادوگر رسی کھینچ کر نکال رہا ہو. پھر مجھے ایک طرف مست گدگدی سی اور ہوئی اور اس کا لنڈ میری سینکڑوں بار چدی چدائی گانڈ میں گھس گیا. پر آپ کیا جانیں، ہر گانڈ چدائی اپنا ایک مزہ ہوتا ہے، ہر لنڈ ایک پیارا سا ذائقہ. "اوهه ... ارے بس کر ... کیا پیٹ میں ہی گھسا دے گا." پھر سے میں چللا اٹھی. پر اسکا لنڈ پیار سے گھستا ہی چلا جا رہا تھا. "ارے یہ جانے کہاں گھسا جا رہا ہے ماں کے لؤڑے ... بس بہت ہو گیا." پر اس نے اپنا پورا لنڈ گھسا کر ہی دم لیا. مجھے لگا کہ جیسے کسی نے میری گانڈ میں كيلا ٹھوک دیا ہو. پھر سهسا مجھے آرام سا ملا اور گدگدی سی بھی ہوئی. اس نے اپنا لنڈ باہر نکال لیا. میری گانڈ کو راحت سی ملی. پر پھر میری آنکھیں ابل پڑی. وہ تیز رفتار سے پھر مکمل گھس گیا. اسی طرح کئی بار اسکا لنڈ میری گانڈ میں گھستا نکلتا رہا. اس طرح میری گانڈ مستی سے چدنے لگی. مجھے اب مزا آنے لگا تھا. پھر مجھے لگا کہ رشید کا مال نکلنے والا ہے. اسکے دھکے بہت تیز ہو گئے تھے، میری چوت بھی پھر سے جھڑنے کو تھی. تبھی رشید جور سے جھڑ گیا. اس کا رس میری گانڈ میں بھرنے لگا. مجھے اسکا ویرے گانڈ میں بہت بھلا لگا. اسکا لنڈ ویرے کی چکنائی سے فسلتا ہوا. بہر آ گیا. "رشید اب تو براہ راست لیٹ جا ... میں بھی اپنے آپ کو جھاڑ لوں!" وہ هافتا ہوا براہ راست ہو گیا اور میں نے اپنی نرم سی چوت اس کے ہونٹوں سے لگا دی. "زور سے چوس لے میری جان، میرے بھائی جان!" اس نے زور سے چاٹنا اور چوسنا شروع کر دیا. کنارے لگتی ہوئی نیا سہارا پا کر جھڑنے لگی. اوههه کتنا لطف آ رہا تھا. تھوڑی سی دیر میں میں کئی بار جھڑ چکی تھی. سو میں نڈھال ہو کر لیٹ گئی. "بانو اٹھ، اب دیر نہ کر، دس بجے رات تک تو ابو آ جائیں گے!" میں نے جلدی سے اٹھ کر چڈی برا سمیت اپنے کپڑے پہنے اور جانے کے لئے تیار ہو گئی. مجھے کوئی لفڑا نہیں چاہیے تھا، کسی کے بھی آنے کے پہلے مجھے چلے جانا چاہیے تھا. "تو رشید بھائی جان، اب مجھے اگلا تحفہ کب دے رہے ہو؟" میں نے مسكراتي ہوئی بولی. مجھے تو وہ بھا گیا تھا، سالے کو یوں کس طرح چھوڑ دوں. پر ساتھ میں کچھ مال تال بھی گفٹ میں مل جائے تو کیا برا ہے. رشید تو یہ سن کر پاگل سا ہو گیا. اسے تو کانوں پر جیسے یقین ہی نہیں ہو رہا تھا. بانو میرے سے اور چدیگی. "بانو جان، بس جلدی ہی، جیسے ہی پیسے آ جائیں گے ... تمہارا گفٹ تیار ... پر بانو تم میرے گھر آ جاؤ گی نا؟" پہلے تو میں نے اپنی نظریں جھكاي، پھر دھیرے سے مسکرا کر نجرے اٹھا کر رشید کو دیکھا. پھر میری ایک آنکھ بند ہوئی اور وہ خوشی کے مارے اچھل پڑا

Posted on: 06:57:AM 14-Dec-2020


2 0 92 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 2 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 73 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com