Stories


جوانی چار دن کی از رابعہ رابعہ 338

نومبر کی رات کو میں نے دہلی سے جالندھر جانے کے لئے بس پکڑی. رات کا سفر تھوڑا آسان بھی تھا کیوںک لمبا سفر تھا. دہلی بس اسٹینڈ سے نکلنے کے بعد قریب آدھے گھنٹے میں بس کرنال بائی پاس پر پہنچی تو کچھ سواريا بس میں چڑھی. میں نے دیکھا کے ان سواریوں میں دو خواتین تھی. میرے سوا ایک سیٹ خالی تھی تو دل میں سوچا کہ ان میں سے اگر ایک میرے پاس بیٹھ جائے تو سفر کا لطف آجائے. خدا نے میری مراد پوری کی اور وہ قریب پچیس چھبیس سال کی گدراے بدن کی مالکن میرے پاس آکر بیٹھ گئی. میں تو اس کو دیکھتا ہی رہ گیا. کیا فرصت سے گھڑا تھا اوپر والے نے اس کو. ایک ایک عضو جیسے سانچے میں ڈھال کر چسپاں گیا تھا. سب سے پہلے نظر چہرے پر گئی. ایکدم گورا رنگ، بڑی بڑی گول گول آنکھیں، ستوا ناک اور گلاب کی پنکھڑیوں جیسے گلابی گلابی ہونٹ جو اس کی خوبصورتی کو چار چار چند لگا رہے تھے. نظر جیسے ہی تھوڑا اور نیچے گئی تو دل دھاڑ-دھاڑ بجنے لگا. دل کےدھڑکنےکی تیز ہو گئی جب میری نظر اس حسینہ کی چھاتی کی زینت بڑھاتی اسکی چوچیوں پر گئی. آپ تو جانتے ہی ہیں کہ میں نے پہلے ہی بہت سی چوتو اور چوتواليو کو چکھا ہوا ہے پر یقینا یہ ان سب سے اوپر کے درجے کی خوبصورت قیامت تھی. ابھی میں اس کی خوبصورتی میں ہی کھویا ہوا تھا کہ ٹکٹ كڈےكٹر ٹکٹ کاٹنے آ گیا. میرے اندر یہ خواہش جاگ گئی کہ دیکھوں یہ قیامت کب تک میرے ساندھي کو سجانا کرے گی. اور جب اس نے جالندھر کے دو ٹکیٹ مانگے تو میں اوپر والے کی مہربانی پر خوش ہو گیا سفر شروع ہوا، صرف اپنی رفتار سے چل رہی تھی پر میرے دل کی دھڑکن اس سے کہیں زیادہ تیز چل رہی تھی. میں تو اس حسینہ کی خوبصورتی میں کھویا ہوا تھا، تبھی وہ مجھ سے مخاطب ہو کر بولی آپ کہاں تک جا رہے ہیں؟ "میں جالندھر تک جا رہا ہوں!" میں نے جواب دیا. پھر تو جیسے بات چیت کا سلسلہ چل نکلا. باتوں ہی باتوں میں اس نے بتایا کہ وہ بھی جالندھر ایک شادی میں شامل ہونے جا رہی ہے. باتوں باتوں میں کب پانی پت آ گیا پتا ہی نہیں چلا. پانی پت سے بس چلی تو رات کے قریب گیارہ بج چکے تھے. تبھی اس نے مجھ میرا موبائل مانگا کیوںک اسکے موبائل کی بیٹری ختم ہو گئی تھی. اس نے ایک نمبر ملا کر بات کی اور بتایا کہ وہ صبح چار بجے تک رسائی جائے گی. اس نے مجھے میرا فون واپس کیا اور بولی آپ کا نام راج ہے؟ "جی ہاں .. آپ کو کیسے پتہ؟" "کیا آپ وکرم کی شادی میں جا رہے ہیں؟" "جی ہاں .. پر آپ کو یہ سب کیسے پتہ؟" میں حیران تھا کہ تبھی میں نے فون میں ڈائل کیا ہوا نمبر دیکھا تو اس حسینہ نے وکرم کا ہی نمبر ڈائل کیا ہوا تھا. مجھے سارا ماجرا سمجھ میں آ گیا تھا. "آپ وکرم کی کیا لگتی ہیں؟" "وکرم میرے ماما جی کا بیٹا ہے" اس نے جواب دیا. "اوہ ... تو آپ وکرم کے پھوپھی کی بیٹی مہک ہیں؟" "نہیں ... مہک میری چھوٹی بہن کا نام ہے .. میں پائل ہوں ... مہک وہ آگے بیٹھی ہے." اس نے اپنا تعارف کرایا پھر کافی دیر تک ہم باتیں کرتے رہے اور قریب ساڑھے بارہ بجے بس اسٹینڈ پر رکی اور ڈرائیور چائے پینے چلا گیا. پائل اٹھی اور مجھے بولی- پلیج، میرے ساتھ چلو، مجھے ٹایلیٹ جانا ہے. باہر اندھیرا تھا تو میں اس کے ساتھ چل دیا. باتھ کی طرف گئے تو دیکھا اس پر تالا لٹکا ہوا تھا. میں نے اسے کہا کہ وہ ادھر اندھیرے میں جا کر پھریش ہو لے. پہلے تو وہ ڈر کے مارے منع کرتی رہی پر پھر وہ مجھ سے تھوڑی دوری پر ہی اپنی شلوار اور پیںٹی نیچے کرکے پیشاب کرنے لگی. ہلکی ہلکی روشنی میں اس کے گورے گورے ہپ ماربل کی طرح چمک اٹھے جنہیں میں دیکھتا ہی رہ گیا. پیشاب کرنے کے بعد میں نے پانی کی بوتل سے اس کے ہاتھ دھلواے. اس کی گوری گوری گاںڈ دیکھ کر میرے لنڈ میں بھی کشیدگی آ گیا تھا اور مجھے بھی پیشاب کا زور ہو گیا تھا سو میں نے اسے بس میں جانے کو کہا اور ٹھیک اسی جگہ پر جا کر لنڈ باہر نکال کر پیشاب کرنے لگا. جب پیشاب کرکے واپس مڑا تو دیکھا وہ وہیں پر کھڑی تھی. "گئی نہیں ابھی تک ...؟" "نہیں ... بس تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی." "کیوں ...؟" "تم نے بھی تو میرا انتظار کیا تھا ...!" میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تو وو ہلکے سے مسکرائی. اس کی مسکراہٹ دیکھ کر میں بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکا. پھر ساتھ ساتھ چلتے چلتے ہم دونوں چائے کے اسٹال پر گئے اور تین چائے لے کر بس میں چڑھ گئے. بس میں بھیڑ اب بھی کم نہیں ہوئی تھی. اکثر دیر رات والی بسوں میں لمبی دوری کی سواريا ہی ہوتی ہیں. قریب بیس منٹ کے بعد بس ایک بار پھر چل پڑی کچھ دور چلنے کے بعد پائل نیند کی جھپکی لینے لگی اور بار بار آگے کی طرف گر رہی تھی. میں نے تھوڑا حوصلہ دکھاتے ہوئے اس کا سر پکڑ کر اپنے کندھے پر رکھ لیا. اس نے ایک بار آنکھ کھول کر میری طرف دیکھا اور پھر مسکرا کر آنکھیں بند کر لی. بس اپنی رفتار سے چلتی جا رہی تھی. باہر کا موسم ٹھنڈا ہو گیا تھا پر پائل کا ٹچ میرے اندر گرمی بھرتا جا رہا تھا. میں نے ایک بار مہک کی طرف دیکھا. وہ بھی نیند کے آغوش میں جا چکی تھی. تقریبا آدھی سے زیادہ سواريا اب تک یا تو سو چکی تھی یا پھر نیند کی جھپكيا لیتے ہوئے جھول رہی تھی. شاید میں ہی اکیلا ایسا تھا جس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی. میں نے پائل کے نیند میں کھویے معصوم سے چہرے کو دیکھا تو میرا من ہوا کہ میں ابھی ایک پیارا سا بوسہ دے دوں، پر جلدی ٹھیک نہیں تھی. پھر بھی میں نے تھوڑا حوصلہ اور کیا اور اپنا ہاتھ پائل کے کندھے پر رکھ کر اس کو تھوڑا سا اپنی اور کھیںچا تو پائل بھی مجھ سے لپٹتي چلی گئی. کچھ دیر بعد بس امبالا رکی. پائل نے آنکھیں کھولی اور باہر دیکھنے لگی پر میں نے دیکھا کہ اس نے میرا ہاتھ نہیں ہٹایا تھا. بس دوبارہ چلی تو اس نے پھر سے اپنا سر میرے کندھے پر رکھ لیا اور آنکھیں بند کر لی پر پھر اچانک اٹھی اور بولی راج، مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے. اس کے بیگ میں شال تھی تو اس نے وہ نکال کر اپنے اوپر اوڑھ لی اور پھر سے میرے کندھے پر سر رکھ کر بیٹھ گئی. "راج ... تمہیں نیند نہیں آ رہی ہے ...؟" "آپ جیسی خوبصورت اور حسین لڑکی اگر بغل میں ہو تو کس کو نیند آئے گی." اس نے ایک چھدرت اور میرے کان کے پاس پھسپھساتے ہوئے بولی، "شیطان!" میری بات سن کر اس کے ہونٹوں پر جو مسکان آئی اس نے میرے حوصلے بلند کو کئی گنا بڑھا دیا. معاملہ تقریبا پٹ چکا تھا اور اب تو مجھے جلدی سے جالندھر پہنچنے کا انتظار تھا. میرے ہاتھوں کا دباؤ اب پائل کے کندھے پر تھوڑا اور زیادہ بڑھ گیا تھا اور کچھ ہی دیر میں میرا ہاتھ نیچے کے طرف سركنے لگا جسے شاید پائل نے بھی محسوس کر لیا تھا. "لگتا ہے تمہے بھی ٹھنڈ لگ رہی ہے ...!" وہ میرے کان میں پھسپھسائی اور بغیر مجھ پوچھے ہی اس نے اپنی شال مجھ پر بھی اوڑھا دی. میں نے ہاتھ بڑھا کر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا تو اس نے بھی میرا ہاتھ پکڑ لیا. اب کوئی گنجائش نہیں بچی تھی. میں کچھ دیر اس کا ہاتھ سہلاتا رہا اور پھر میرا ہاتھ آگے بڑھنے لگا اور اس کے گول گول مست ملائم برا میں کسی ہوئی چوچیوں پر پہنچ گیا وہ کچھ نہیں بولی. میں بھی برا کے اوپر سے ہی اس کے پہاڑوں کی اوچاييا ناپنے لگا اور ہلکے ہلکے دبانے لگا. اس کے بدن کی سرسراهٹ مجھے محسوس ہو رہی تھی. وہ بھی کسمسا کر مجھ سے لپٹتي جا رہی تھی. میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لنڈ پر رکھ دیا تو پہلے تو اس نے ہاتھ ایسے ہی رکھے رکھا اور پھر دھیرے دھیرے لنڈ کو پیںٹ کے اوپر سے ہی سہلانے لگی. میں اسکی چوچیاں مسل رہا تھا اور وہ میرے کندھے پر سر کو رکھے میرے لنڈ کو سہلاتے ہوئے مزا لے رہی تھی. میں نے بس میں چاروں طرف دیکھا، سب سو رہے تھے. میں نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور شال کے اندر سر کرکے پائل کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے. پہلے تو وہ گھبرائی پر پھر جب میں نے بتایا کہ سب سو رہے ہیں تو وہ بھی چمی میں میرا ساتھ دینے لگی. رات کے تقریبا تین بج چکے تھے اور ہم لدھیانہ پہنچ چکے تھے. بس میں تھوڑی ہلچل ہوئی تو ہم بھی الگ ہو کر بیٹھ گئے. اب تقریبا ایک گھنٹے بھر کا سفر ہی باقی تھا. بس میں اس سے زیادہ کچھ ہو بھی نہیں سکتا تھا. سو بس ایسے ہی شال میں لپٹی ہوئے سفر کا مزا لے رہے تھے. من ہی من پروگرام بنا رہا تھا کہ جالندھر پہنچ کر کیسے پائل کی چوت کو اپنے لنڈ کی گرمی سے مست پانی پانی کرنا ہے. بس جالندھر پہنچ گئی تھی، بس اسٹینڈ پر اتر کر پائل نے مجھ سے میرا موبائل مانگا. وہ وکرم کو فون کرنا چاہتی تھی. پر میں کچھ دیر اور پائل کے ساتھ اکیلا رہنا چاہتا تھا کیوںک شادی والے گھر میں تو جاتے ہی پائل رشتہ داروں کی بھیڑ میں کھو جاتی. موسم میں صبح صبح کی ٹھنڈک اور تراوٹ بھری ہوئی تھی. بس اسٹینڈ پر ہی ایک چائے والے کی دکان کھلی ہی تھی تو ہم تینوں دکان پر پہنچ گئے اور چائے آرڈر کر دی. مہک پھریش ہونا چاہتی تھی تو وہ بس اسٹینڈ پر ہی بنے قابل رسائی ٹوائلٹ میں چلی گئی. پائل اور میں ایک ہی بینچ پر بیٹھے تھے "پائل ... تم نے تو مجھے اپنا دیوانہ بنا دیا ہے ... آئی لو یو پائل ..." پائل میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرائی اور پھر لو ي ٹو راج ... پر! اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑی تو میں نے پوچھا پر کیا ....؟ "راج ... میں شادی شدہ ہوں ... اور آپ کو سمجھ سکتے ہو کہ ایک شادی شدہ کو کسی پرایے مرد سے محبت کرنے کا کوئی حق نہیں ہوتا." "پر تم میرے دل میں بس گئی ہو پائل اور اب تمہارے بغیر رہنا میرے لئے مشکل ہوگا ... اور پھر خدا نے بھی کچھ سوچ کر ہی ہم دونوں کو ملوایا ہوگا!" "تم بہت اچھے ہو راج ..." وو کہہ کر مسکرائی اور پھر سے میرے کندھے سے لگ گئی. تبھی مہک اور چائے دونوں ایک ساتھ آ گئی. پائل براہ راست ہو کر بیٹھ گئی. پورے سفر میں مہک اپنے آپ میں ہی مست تھی. اس نے صرف ایک بار پائل سے میرے بارے میں پوچھا تھا اور اس کے بعد اب وہ میرے سامنے تھی. اس نے بھی شال اوڑھ رکھی تھی. وہ ہمارے سامنے بیٹھ کر چائے پینے لگی. میں نے تب پہلی بار مہک کو غور سے دیکھا. وہ منہ ہاتھ دھو کر آئی تھی اور بال بھی ٹھیک کر لئے تھے تو ایک چمک سی تھی چہرے پر. میں نے مہک کو دیکھا تو محسوس کیا کہ مہک پائل سے کسی بھی معنوں میں کم نہیں تھی. وہ بھی بہت خوبصورت تھی اور جوانی کی نشانیاں اس کی بھی غضب کی تھی. چائے پینے کے بعد میں نے وکرم کو فون کیا تو دو تین بار میں اس نے فون اٹھایا. جب میں نے اسے بتایا کہ ہم جالندھر بس اسٹینڈ پر ہے تو اس نے گاڑی بھیجنے کا بول کر فون کاٹ دیا. گاڑی قریب آدھے گھنٹے بعد آئی. تب تک پائل میرے کندھے پر سر رکھے بیٹھی رہی. مہک خاموشی بیٹھی پائل کی طرف دیکھتی رہی. میں تھوڑا حیران تھا کہ پائل کیسے اپنی بہن کے سامنے ہی ایک پرایے مرد کے ساتھ لپٹ کر بیٹھی ہوئی تھی. جب ہم وکرم کے گھر پہنچے تو صبح کے تقریبا ساڑھے پانچ بج چکے تھے اور گھر کے بہت سے لوگ جاگ چکے تھے. وکرم نے سو رہا تھا. وہ کام کی وجہ رات کو دیر سے سویا تھا. میں نے اس کو جا کر اٹھایا تو وہ خوش ہو گیا اور پھر میں بھی وہی اس کے بیڈ پر لیٹ گیا اور ساری رات کی نیند سے تھکی آنکھیں کب بند ہو گئی پتہ ہی نہیں چلا جب اٹھا تو دوپہر کا تقریبا ایک بج رہا تھا. مجھے کسی نے پکڑ کر ہلایا تو میری نیند کھلی اور آنکھ کھولتے ہی سامنے میری نئی محبوبہ پائل کھڑی تھی. "اٹھو میرے بادشاہ جی ... شادی میں آئے ہو یا نیند پوری کرنے ...؟" کہہ کر وہ ہنس پڑی. میں هڑبڑا کر اٹھا تو دیکھا کہ کمرے میں پائل اور میں ہی تھے. میں اٹھ کھڑا ہوا اور ایک ہی جھٹکے میں پائل کو اپنی باہوں میں لے کر اس کے ہونٹوں پر ایک زوردار کس کر دیا. پائل مجھ سے چھڑوا کر الگ ہو گئی- تم پاگل ہو کیا ...؟ یہ شادی والا گھر ہے مسٹر ...! میں نے اس کو ایک پلائینگ کس کیا اور پھر باتھ روم میں گھس گیا. باتھ کا دروازہ بند کرتے ہوئے میں نے دیکھا پائل وہیں کھڑی مسکرا رہی تھی. اس کے بعد شادی کی رسمیں شروع ہو گئی اور پھر پائل اور میں اکیلے نہیں مل پائے. پائل میرے ارد گرد ہی منڈلا رہی تھی اور جب وہ آنکھوں سے اوجھل ہوتی تو میں بھی اس کو تلاش کرنے کے لئے بے چین ہو اٹھتا. ایسے ہی سارا دن نکل گیا. ہم دونوں شادی کی بھیڑ میں بھی ایک دوسرے میں کھویے ہوئے تھے. میں تو موقع کی تلاش میں تھا کہ کب مجھے موقع ملے اور میں پائل کے مست بدن کا مزا لے سکوں. پائل کو چودنے کے لئے میرا لنڈ بیکرار تھا. رات کو بارات تھی. پروگرام وکرم کے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر ایک میرج-محل میں تھا. شام کو قریب سات بجے سب سجدھج کر ناچتے جمپنگ گھر سے نکلے. میں نے بھی مستی میں تھا. پنجابی شادی میں شراب-كواب کی کوئی کمی نہیں ہوتی. میں نے بھی دو تین پےگ چڑھا لیے تھے اور میں بھی پوری مستی میں ناچ رہا تھا اور اس کے دوست کی شادی کو اےنجي کر رہا تھا. پائل بھی دوسری عورتوں کے ساتھ الگ ناچ رہی تھی. بھیڑ میں میری نظر پائل پر ہی ٹکی ہوئی تھی. بارات کچھ آگے بڑھی تو آدمی اور عورتیں سب ایک ساتھ ناچنے لگے. بس اسی درمیان مجھے بھی موقع مل گیا اپنی نئی محبوبہ سنگ ناچنے کا. پائل اور میں دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ ہاتھ میں لے کر ناچنے لگے. "پائل ... اس ڈریس میں تو قیامت لگ رہی ہو۔ تم بھی بہت هےڈسم لگ رہے ہو ... دیکھو تو شادی میں کتنی لڑکیوں کی نظر صرف آپ پر ہی ہے." کہہ کر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی. بارات اپنے مقررہ مقام پر پہنچ گئی تھی. پھر گیٹ پر ربن کا پروگرام ہوا اور سب نے خوب مستی کی. اندر جا کر ڈيجے پر خوب مستی ہوئی. خوب دل کھول کر ناچے اور پیسے لٹائے. تھک ہار کر پھر کھانا کھانے لگے. وکرم پھیرے لینے کے لئے چلا گیا اور میں پائل سنگ کھانا کھانے چلا گیا. "پائل ... تمہیں چومنے کا بہت دل کر رہا ہے ... پلیج ایک کس دو نا ..!" "تم پاگل ہو ... سب لوگوں کے درمیان میں کس ...؟ مسٹر ہوش کرو ..." تبھی مجھے یاد آیا کہ وکرم کی گاڑی کی چابی میرے پاس ہے. میں نے پائل کو باہر گیٹ پر آنے کو کہا اور خود گاڑی نکالنے چل پڑا. جب پارکنگ سے گاڑی نکل کر باہر آیا تو دیکھا پائل گیٹ پر ہی کھڑی تھی. میں نے اس کو گاڑی میں بلایا تو وہ آکر بیٹھ گئی اور میں نے بھی گاڑی سڑک پر دوڑا دی. "راج ... سب لوگ کیا سوچیں گے یار ... اگر کسی کو پتہ لگ گیا تو کہ میں آپ کے ساتھ ایسے اکیلی گاڑی میں گھوم رہی ہوں تو ...؟" "پازیب، یہ رات پھر نہیں ملے گی میری جان ... بس اب کچھ نہ کہو!" "پر ہم جا کہاں رہے ہیں؟ "دیکھتے ہیں کوئی تو جگہ مل ہی جائے گی دو دیوانوں کو پیار کرنے کے لئے!" میں گاڑی ہائی وے پر لے آیا اور سامنے ہی مجھے ایک گیسٹ ہاؤس نظر آیا. رات کے دو بج رہے تھے. میں نے گاڑی روکی تو چوکیدار دوڑ کر آیا. میں نے اس کو پچاس کا نوٹ دیا اور کمرے کے بارے میں پوچھا تو اس نے اندر آنے کو کہا. اندر جا کر بولا سر ... کمرہ تو کوئی خالی نہیں ہے. "تو سالے تو نے باہر کیوں نہیں بتایا ...؟" "سر وہ ایسا ہے کہ ایک کمرہ ہے تو پر وہ گیسٹ ہاؤس کے مالک کا ہے ... اگر آپ لوگ صبح پانچ بجے سے پہلے خالی کر دو تو وہ کمرہ میں نے آپ کی علامت کے لئے کھول سکتا ہوں پر پانچ سو روپے لگیں گے میں نے بغیر دیر ریٹویٹ گاندھی چھاپ پانچ سو کا نوٹ نکل کر اس کے ہاتھ پر رکھا اور اس نے بغیر دیر ریٹویٹ کمرہ کھول دیا. پائل خاموشی یہ سب دیکھ رہی تھی پر بول کچھ نہیں رہی تھی. کمرہ شاندار تھا. آخر گیسٹ ہاؤس کے مالک کا تھا. بالکل صاف ستھرا. ایک سائیڈ میں سوفی اور میز لگی تھی اور دوسری سائیڈ میں ایک بڑے والا سنگل بیڈ تھا. پر ہمیں کون سا یہاں سونا تھا. چوکیدار کے جاتے ہی میں نے دروازہ اندر سے بند کیا اور پکڑ کر پائل کو اپنی باہوں میں بھر لیا. "بہت بیتاب ہو مجھے چودنے کے لیے ...؟" پائل کے مکھ سے یہ چودنا لفظ سن ایک لمحے کو تو میں حیران رہ گیا لیکن میں بولا میری جان کل رات سے تڑپ رہا ہوں تمہیں حاصل کرنے کے لئے ... اب تو بیتابی کی حد ہو گئی ہے. میں نے پائل کو اپنی باہوں میں اٹھایا اور بیڈ پر لیٹا دیا. اس نے مجھے دو منٹ رکنے کے لیے کہا اور پھر اپنی ساری زیورات وغیرہ اتار کر ایک طرف رکھ دی اور پھر خود ہی آ کر میری گود میں بیٹھ گئی. میں اب اور انتظار نہیں کر سکتا تھا. میں نے بغیر دیر ریٹویٹ اپنے ہونٹ پائل کے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور میرے ہاتھ سیدھا پائل کی مست چوچیوں کو دبانے لگے تھے. پائل بھی جیسے محبت کے لئے تڑپ رہی تھی. وہ بھی پوری مستی میں میرے کس کا جواب دے رہی تھی. قریب پانچ منٹ تک کس کرنے کے بعد میرے ہاتھ پائل کے بدن سے کپڑے کم کرنے میں مصروف ہو گئے. پائل نے لهگا-چولی پہنا ہوا تھا. میں نے پہلے اس کی چولی کی ڈور ڈھیلی کرکے اسے اس کے بدن سے الگ کیا. برا میں کسی اس کی بڑی بڑی چوچیاں ہمالیہ کو بھی نیچا دکھا رہی تھی. میں پائل کی چوچیوں پر ٹوٹ پڑا اور مست ہو کر اسکی چوچیوں کو اسکی برا کے اوپر سے ہی چومنے چاٹنے لگا. پائل کی سسکاریاں کمرے میں گوجنے لگی تھی. تبھی میں نے پیچھے ہاتھ لے جا کر برا کا ہک کھول دیا تو دونوں بڑے بڑے كھربوجو جیسے چوچیاں اچھل کر میرے سامنے لہرانے لگی. پائل کی چوچیاں ایکدم کھڑی کھڑی اور تنی ہوئی تھی. چوچیوں کے چچوك بھوری تھے اور گوری گوری چوچیوں پر اتنے مست لگ رہے تھے کہ میں اپنے آپ کو روک نہیں پایا اور میں نے جھٹ سے اس کے بائیں چچوك کو اپنے ہونٹوں میں دبا لیا اور چوسنے لگا. میں بے رحمی سے پائل کی چوچیاں مسل رہا تھا اور اس کے چچوك کو دانتوں سے کاٹ رہا تھا .آہ ... کھا جاؤ راج .... آہ ... اوهه ... پی جاؤ میری چوچیوں کو ..." پائل مستی میں بڑبڑا رہی تھی. میرا لنڈ بھی اب پتلون سے باہر نکلنے کے لئے اچھل کود مچا رہا تھا. پائل نے جیسے اس کی پریشانی کو سمجھ لیا تھا تبھی تو اس نے ہاتھ بڑا کر پیںٹ کے اوپر سے ہی سہلانا شروع کر دیا تھا. پر اب تو لنڈ پتلون سے باہر آکر اپنا جلوہ دکھانا چاہتا تھا. میں نے جھٹ سے اپنی پتلون کھولی اور انڈرویر سمیت دم سے نیچے کر دی. لنڈ شیف پتلون سے نکل کر توپ کی طرح تن کر کھڑے ہو گئے. میں نے پائل کا ہاتھ پکڑا اور لنڈ پر رکھ دیا. لنڈ ہاتھ میں آتے ہی پائل اچھل پڑی اور وہی لفظ جو میں پہلے بھی کئی لڑکیوں اور عورتوں کے منہ سے سن چکا تھا پائل کے منہ سے نکلے. "ہاے راج ... تمہارا تو بہت موٹا ہے!" لنڈ بھی اپنی تعریف سن کر پائل کے ہاتھوں میں ہی خوشی سے اچھلنے لگا. کچھ دیر ہاتھ سے سہلانے کے بعد پائل گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور اگلے ہی پل میں جنت میں تھا کیوںک پائل نے میرا لنڈ اپنے کومل کومل ہونٹوں میں جو دبا لیا تھا. پائل مست ہو کر میرا لنڈ چوسنے اور چاٹنے لگی. میرے مںہ سے بھی مستی بھری آہیں نکل رہی تھی. میں پائل کے بال پکڑ کر لنڈ کو پورا اس کے منہ میں ڈال رہا تھا اور پائل بھی زبان گھما گھما کر میرا لنڈ چوس رہی تھی. کچھ دیر بعد میں نے پائل کو کھڑا کیا اور پھر ہم دونوں نے ایک دوسرے کے باقی کپڑے بھی اتار دئے. اب ہم دونوں کمرے میں بالکل ننگے تھے. دونوں کے ننگے بدن پھر سے ایک دوسرے سے لپٹ گئے. میں نے اس کو بستر پر لیٹایا اور اس کی کلین شیو چوت کے اوپر زبان رگڑنے لگا. پائل مست ہو اٹھی اور اس کی چوت جو پہلے ہی گیلی ہو چکی تھی ایک بار پھر سے پانی پانی ہو گئی. پائل میرے لنڈ کو پکڑ پکڑ کر کھینچ رہی تھی. میں بستر کے اوپر آ گیا اور پھر ہم 69 کی حالت میں آ گئے. اب پائل میرا لنڈ چوس رہی تھی اور میں پائل کی چوت چاٹ رہا تھا. پائل کی چوت مسلسل پانی چھوڑ رہی تھی اور اب میرا لنڈ بھی جھڑنے کے کگار پر تھی. میں ابھی جھڑنا نہیں چاہتا تھا. اسی لئے میں نے لنڈ پائل کے منہ سے نکال لیا اور اس کی ٹانگوں کے درمیان میں آ کر بیٹھ گیا. پائل کی چوت کمرے کی دودیا روشنی میں چمک رہی تھی. میں نے دیر نہ کرتے ہوئے لنڈ کو پائل کی چوت کے چھید پر لگایا تو پائل نے بھی اپنے چوتڑ اوپر اٹھا کر میرے لنڈ کا استقبال کیا. میں لنڈ کو چوت کے سوراخ رگڑ رہا تھا. تبھی میں نے ایک زور دار دھکے کے ساتھ نصف سے زیادہ لنڈ پائل کی چوت کی گہرائی میں اتار دیا. پائل کی چیخ نکل گئی. وہ تو میں نے اس کی منہ پر ہاتھ رکھ دیا نہیں تو مکمل گیسٹ ہاؤس جاگ جاتا. "راج ... آہستہ آہستہ کرو ... تمہارا لنڈ بہت موٹا ہے." میں نے لنڈ کو باہر کھیںچا اور اس بار تھوڑا آرام سے لنڈ کو اندر ڈالا. پائل کی چوت بہت کسی تھی. چوت کی دیواریں لنڈ کو جکڑے ہوئے تھی. لگتا نہیں تھا کہ یہ کسی شادی شدہ عورت کی چوت ہے. میں نے لنڈ ایک بار پھر باہر نکالا اور پھر ایک زوردار دھکے کے ساتھ پورا لنڈ پائل کی چوت میں گھسا دیا. لنڈ سیدھا پائل کی بچہ دانی سے ٹکرایا تھا. پورا لنڈ چوت میں ڈالنے کے بعد میں کچھ دیر پائل کے اوپر لیٹا اس کے ہونٹ اور چوچیوں کو چومتا رہا. پائل نے بھی اب اپنے ہپ اچھالنے شروع کر دیئے تھے. میں نے بھی اب پائل کی گرم گرم چوت میں لنڈ کو اندر-باہر کرنا شروع کر دیا اور پھر آہستہ آہستہ سپیڈ بڑھاتے ہوئے پائل کی چوت چودنے لگا. پائل بھی گانڈ اچھال اچھال کر میرا لنڈ اندر تک لے رہی تھی. "چود ... چود میرے بادشاہ ... چود مجھے ... جور جور سے چود .... پھاڑ دے میری چوت ... چود مجھے ... سالی کو پہلی بار کوئی مست لنڈ ملا ہے ... آج تو پھاڑ ڈال میرے بادشاہ ... " "کل سے میرے لنڈ کی حالت خراب کر رہی تھی ... چد اب میری جان چد ... پھڑوا لے اپنا بھوسڑا!" چدائی اپنے پورے شباب پر تھی. دھکے درتو کی رفتار سے میں چل رہے تھے. پائل کی چوت پانی پانی ہو رہی تھی. دس منٹ کی چدائی میں دو بار جھڑ چکی تھی پائل. کمرے میں اب پھچچ پھچچ کا منشیات موسیقی گونج رہا تھا. کچھ دیر ایسے ہی چودنے کے بعد میں نے پائل کو گھوڑی بنایا اور پیچھے سے لنڈ اسکی چوت کی گہرائی میں اتار دیا اور پورے جوش کے ساتھ پائل کی چدائی کرنے لگا. بیس منٹ تک بستر پر بھونچال آیا رہا اور پھر میرا لنڈ بھی پائل کی چوت کو پرےمرس سے بھرنے کے لئے تیار ہو گیا. میں نے پائل سے پوچھا میں جھڑنے والا ہوں تو؟ اس نے مجھے چوت میں ہی جھڑنے کے لئے کہا. پھر میں زیادہ دیر اپنے آپ کو روک نہیں پایا اور تیز تیز دھکے لگاتے ہوئے پائل کی چوت میں جھڑنے لگا. ڈھیر سارا محبت رس یعنی ویرے میں نے پائل کی چوت میں بھر دیا. پائل لنڈ اندر لئے لئے نیچے لیٹ گئی اور میں بھی اس کے اوپر لیٹ گیا. ہم دونوں ہی لمبی لمبی سانسیں لے رہے تھے. کچھ دیر ایسے ہی لیٹے رہنے کے بعد ہم دونوں الگ ہوئے. پائل کے چہرے پر اطمینان کی کیفیت واضح پڑھے جا سکتے تھے. وہ آنکھیں بند ریٹویٹ کچھ دیر پہلے ہوئی چدائی کے خوشی سمندر میں غوطے لگا رہی تھی. میں نے پائل کو ہلا کر اٹھایا. وہ اٹھی اور میز پر سے نےپكن اٹھا کر میرا لنڈ اور اپنی چوت صاف کرنے لگی. یہ پائل کے ہاتھوں کا ہی جادو تھا کہ پائل کے ہاتھ میں جاتے ہی لنڈ ایک بار پھر سے سر اٹھانے لگا. پائل میری طرف دیکھ کر مسکرائی اور بولی تمہارا لنڈ بہت شیطان ہے ... ابھی ابھی میری منیا کی کٹائی کی ہے اور اب دیکھو پھر سے کس طرح اںگڈائی لے رہا ہے. "تو پکڑ کر سالے کے بل نکال دو نہ میری جان ..." پائل مسکرائی اور پھر کچھ سوچ کر لنڈ کو اپنے منہ میں بھر لیا. لنڈ نے کھڑا ہونے میں بالکل بھی دیر نہیں لگائی اور کچھ ہی دیر میں ایک بار پھر سے چدائی کے لیے تیار ہو گیا. پائل نے مجھے نیچے لیٹایا اور خود اوپر آکر میرے لنڈ پر اپنی چوت رکھ کر بیٹھ گئی. لنڈ پائل کی چوت میں ایسے گھس گیا جیسے ماکھن میں چاقو. پورا لنڈ اندر لینے کے بعد پائل اوپر نیچے ہو کر لنڈ اندر-باہر کرنے لگی اور میں اس کے اپنے سینے پر جھولتے موٹے موٹے كھربوجو کو مسلنے اؤر چوسنے لگا اگلے آدھے گھنٹے تک مست چدائی چلی. کبھی پائل اوپر کبھی میں اوپر. پائل تین بار اور جھڑ چکی تھی اور اب اس میں اٹھنے کی بھی طاقت نہیں بچی تھی. میں نے بھی ایک بار پھر سے پائل کی چوت کو اپنے گرم گرم ویرے سے بھر دیا اور ایک دوسرے کو باہوں میں لئے لیٹے رہے. تبھی گھڑی پر نظر گئی تو پانچ بجنے میں دس منٹ باقی تھے. میں نے پائل کو اٹھایا اور تیار ہونے کے لئے کہا. پائل باتھ روم میں جا کر پھریش ہو کر آئی اور پھر میرے سامنے ہی کھڑی ہو کر تیار ہونے لگی. میں نے بھی اپنے کپڑے پہن لیے تھے. ساڑھ پانچ بجے ہم دونوں تیار ہو کر نکلے. جب ہم محل پر پہنچے تو الوداعی کا پروگرام چل رہا تھا. ہم دونوں نے بھی گاڑی ڈولی کی گاڑی کے پیچھے پیچھے لگا دی اور بارات کے ساتھ ساتھ گھر پہنچ گئے. مہک کو چھوڑ کر کسی کو بھی شک نہیں ہوا تھا. اگلے دن دن بھر سونے کے بعد رات کو میں واپس دہلی کے لئے تیار ہو گیا تو پائل بھی میرے ساتھ ہی تیار ہو گئی. وکرم سے رخصت لے کر میں بس اسٹینڈ پر جانے کے لئے نکلا تو وکرم اپنی گاڑی میں مجھے اور پائل کو چھوڑنے ہمارے ساتھ آیا. بس اسٹینڈ پر چھوڑ کر وکرم واپس چلا گیا. میں نے پائل سے پوچھا کیا پروگرام ہے؟ تو وو بولی- بس پکڑ کر چلنا ہے اور کیا؟ پر میرے ہونٹوں کی مسکان دیکھ کر وہ میرا ارادہ سمجھ گئی. پھر ہم دونوں بس اسٹینڈ کے قریب کے ہی ایک ہوٹل میں چلے گئے اور رات کو دو بجے تک دو بار چدائی کا لطف لیا اور پھر اڑھاي بجے رات کو ہم دہلی کی بس میں سوار ہو گئے. اس کے بعد پائل مجھے دہلی میں بہت بار ملی اور ہم دونوں نے چدائی کا بھرپور لطف لیا.

Posted on: 06:59:AM 14-Dec-2020


1 0 96 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com