Stories


ڈیسپرٹ رقم از رابعہ رابعہ 338

اس کہانی کے اہم کردار ہے رشم کھنہ جسے سب رقم کے نام سے ہی بلاتے تھے. وہ ایک چھوٹے سے شہر میں پیدا ہوئی تھی اور ایک درمیانے طبقے کے خاندان سے تھی. دسویں کلاس تک کی تعلیم کے بعد اسے آگے کی تعلیم کے لئے اپنے شہر سے دور دوسرے شہر میں جانا پڑا. ماں باپ کی خواہش تھی کہ ان کی بیٹی پڑھ لکھ کر کچھ بن جائے تاکہ کل جب اس کی شادی ہو تو کم جہیز سے کام چل جائے. رقم پڑھائی میں اچھی تھی پر جب وہ اپنے چھوٹے سے شہر سے نکل کر بڑے شہر میں گئی تو وہاں کی ہوا نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا. وہ سرکاری بس میں بیٹھ کر جاتی تھی. جو لوگ ایسی بسوں میں سفر کرتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ ان بسوں میں بھیڑ کتنی ہوتی ہے. انہی بسوں کی بھیڑ میں رقم کو اپنے بدن پر پرایے لوگوں کے ہاتھوں کا لمس پہلی بار محسوس ہوا تھا. کمسن جوان لڑکی کے بدن پر جب ان ہاتھوں کا لمس ہوا تو بدن ایک الگ سی اںگڑائی. لینے لگا تھا. شروع شروع میں تو رقم کو یہ عجیب لگا پر پھر دھیرے دھیرے اسے بھی ان سب میں مزہ آنے لگا. بس کی بھیڑ میں اکثر کوئی نہ کوئی مرد جب رقم سے چپک کے کھڑا ہوتا تو رقم میں بدن میں بے چینی ہونے لگتی. کبھی کبھی کوئی مجنو جب اس کی گاںڈ میں اوںگلی لگا دیتا تو وہ اچك پڑتی تھی. پہلے پہلے تو وہ اکثر ان سب حرکتوں سے بچنے کی کوشش کرتی رہتی تھی پر اب اسے یہ اچھا لگنے لگا تھا. اب جب کوئی مرد اس سے چپک کر اپنا لنڈ اسکی گاںڈ سے سٹا کر کھڑا ہو جاتا تو وہ اپنی گاںڈ پیچھے کر کے اس لنڈ کا پورا احساس اپنی گاںڈ پر محسوس کرنے کی کوشش کرتی. ان سب میں اسے اب بہت مزا آتا تھا. شہر میں بھی بہت سے لڑکے اس کے آگے پیچھے اس سے دوستی کرنے کے لئے گھومنے لگے تھے پر وہ کسی کو گھاس نہیں ڈالتی تھی. پر پھر اس کمسن كبوتري کی زندگی ایک مختلف موڑ لینے لگی. اور ایک دن ... وہ دن رقم کی زندگی بدل گیا. اس دن اس کا اٹھارهوا سالگرہ تھا. شہر میں اس کی ایک خاتون ٹیچر (جس کا نام ریکھا تھا) نے اپنے گھر پر رقم کی سالگرہ منانے کا انتظام کیا. اور پھر آدھی چھٹی کے بعد وہ رقم اور اس کی ایک دو دوسری سہیلیوں کو لے کر اپنے گھر چلی گئی. وہ ان سب نے مل کر رقم کے سالگرہ کا کیک کاٹا اور سب نے کھایا اور پھر ناچ گانا ہوا. اس کے بعد ریکھا نے ان سب کو ڈی وی ڈی پر ایک فلم دکھائی. فلم جیسے ہی شروع ہوئی سب لڑکیاں شرم کے مارے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگی. یہ ایک فحش فلم تھی جس میں دو ننگے بدن ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے ہوس کے سمندر میں غوطے لگا رہے تھے. ایک مرد جو بالکل ننگا ہو کر اپنے طویل سے اور موٹے سے لنڈ کو ایک بلکل نںگی لڑکی کی چوت میں ڈال کر بہت زور زور سے اندر-باہر کر رہا تھا. وہ لڑکی بھی مستی کے مارے آہیں بھر رہی تھی. یہ دیکھ کر سب لڑکیاں پانی پانی ہو رہی تھی. پر ریکھا نے ان کو سمجھایا کہ جس عمر میں وہ سب ہیں، انہیں اس سب کا علم ہونا بہت ضروری ہے. پھر ریکھا نے ان سب کو تفصیل سے لنڈ، چوت اور چدائی کے بارے میں بتایا. اس دن جب رقم اپنے گھر واپس آئی تو بہت بے چین تھی. رہ رہ کر اس کی آنکھوں کے سامنے فلم کے وہی چدائی کے منظر گھوم رہے تھے. سوچ سوچ کر اس کی چوت بار بار گیلی ہو رہی تھی. ایسا نہیں تھا کہ پہلے کبھی رقم کی چوت گیلی نہیں ہوئی تھی پر آج جتنی گیلی کبھی نہیں ہوئی تھی. رات کو سونے کے بعد بھی وہی سب کچھ آنکھوں کے سامنے گھومتا رہا اور نہ جانے کب رقم کا ہاتھ اپنی چوت پر چلا گیا اور وہ اس کو سہلانے لگی. چوت کو سہلانے میں اسے بہت مزا آ رہا تھا. کچھ ہی دیر بعد اسکی چوت میں كسمساهٹ سی ہونے لگی اور بدن اکڑنے لگا تو وو جور جور سے اپنی چوت کو اپنی انگلی سے رگڑنے لگی اور پھر پہلی بار رقم کی چوت سے مستی کا آبشار بہہ نکلا. بدن ایکدم سے ہلکا ہو گیا اور پھر وہ نیند کے آغوش میں کھو گئی. اس دن کے بعد سے رقم کی چوت میں بہت کھجلی ہونے لگی. اب اس کی نظریں لڑکوں کی پینٹ میں قید لنڈ کو تاكتي تھی. اس کا دل کرنے لگا تھا کہ کوئی آئے اور اپنا لنڈ فلم کی طرح سے اس کی چوت میں ڈال کر اس کی چوت کی کھجلی مٹا دے. پر دل کے کسی کونے میں ایک ڈر تھا جو اسے یہ سب کرنے سے روک رہا تھا. لائن میڈم اب بہت اچھی لگنے لگی تھی اور اب وہ لائن میڈم سے ہر بات کر لیتی تھی. ایک دن باتوں باتوں میں ہی رقم نے ریکھا کو بتا دیا کہ جب سے اس نے وہ فلم دیکھی ہے اس کے نیچے بہت کھجلی رہنے لگی ہے. ریکھا یہ سن کر بہت خوش ہو گئی. فائنل پیپر جلد ہی ہونے والے تھے تو ریکھا نے رقم کے پاپا کے پاس فون کر کے اس کو پیپر ہونے تک اپنے پاس رکھ کر پیپر کی تیاری کروانے کی بات کہی. روز آنے جانے کی دقت اور بغیر پیسے کی ٹیوشن دونوں ہی مطلب کی بات تھی. رقم کے پاپا نے ہاں کر دی. اور پھر رقم شہر میں لائن کے پاس ہی رہنے لگی. ریکھا ... وہ ایک تیس-بتيس سال کی طلاق یافتہ عورت تھی. ریکھا کا بدن ایکدم بھرا بھرا سا تھا. بڑے بڑے چوچے، نیچے پتلی کمر اور پھر نیچے مست گول گول گانڈ. خوبصورت بدن کی مالکن لائن کی شادی چھ سال پہلے ہوئی تھی پر چار سال کی شادی شدہ زندگی میں ریکھا نے کوئی سکھ نہیں دیکھا تھا. پھر دو سال پہلے اس کے شوہر نے ایک دوسری عورت کے لئے لائن کو طلاق دے دیا. تب سے ریکھا اکیلی ہی رہ رہی تھی اور اسکول میں نوکری کر کے اپنی گزارا کر رہی تھی. رقم کے آنے سے ریکھا کی تنہائی دور ہو گیا تھا. پہلی ہی رات ریکھا نے رقم کو پھر سے وہی بلیو فلم دکھائی اور پھر کپڑے اتار کر رقم کو باہوں میں بھر کر بستر پر لیٹ گئی. رقم کو تو کچھ پتہ نہیں تھا پر اس کی ماسٹرني لائن پوری ماہر تھی. بیڈ پر لیٹتے ہی ریکھا نے رقم کے بدن کو چومنا چاٹنا شروع کر دیا. لائن رقم کے بدن کو اپنی جیبھ سے چاٹ رہی تھی. اور رقم کے بدن میں کیڑے دوڑنے لگے تھے. بدن میں سرسراهٹ سی ہو رہی تھی. ریکھا نے رقم کے ہونٹ چومے، اسکی چوچیوں کو اپنے ہوںٹھو سے چوما اور اپنے دانتوں سے رقم کے چوچکوں کو کاٹا تو رقم کی چوت میں آتش فشاں بھڑک اٹھا. رقم کا بدن ابلنے لگا تھا. ایسا احساس کی چوت میں پانی کا دریا بہنے لگا تھا. ریکھا نے رقم کی ناف کو چومتے ہوئے جب زبان کو گول گول گھمایا تو رقم کی چوت بغیر لنڈ کے پھٹنے کو ہو گئی. ریکھا نے رقم کی ناف سے ہوتے ہوئے جب زبان نیچے رقم کی چوت پر لگائی تو رقم اپنے اوپر كٹرول نہیں رکھ پائی اور جھڑ گئی. اس کی چوت نے جوانی کا رس لائن کے منہ پر پھینک دیا. ریکھا کو جیسے بن مانگی مراد مل گئی. وہ زبان گھما گھما کر سارا بلوغت رس چاٹ گئی. ایسے ہی ایک ڈیڑھ مہینہ دونوں مزے کرتی رہی. ریکھا خود بھی رقم کی چوت چاٹ چاٹ کر اسکا رس نکالتی اور پھر رقم سے اپنی چوت چٹوا کر اپنا پانی نكلواتي. اب رقم کی چوت لنڈ کا مزہ لینے کے لئے بے چین ہونے لگی تھی. اس نے اپنے من کی بات لائن کو بتائی تو ریکھا اس سے ناراض ہو گئی. ریکھا مردجات سے نفرت کرتی تھی. طلاق کے بعد سے ہی لائن کو مرد دشمن جیسا نظر آنے لگا تھا. اس کو تو لےسبين جنسی تعلقات میں ہی لطف آتا تھا. رقم کو اس نے اسی کام کے لئے تیار کیا تھا. پر رقم کو تو اب اپنی چوت میں لنڈ لینے کی خواہش بڑھتی جا رہی تھی. جلد ہی رقم کے پیپر ہو گئے اور رقم پھر سے اپنے شہر آ گئی. آپ کے شہر میں آتے ہی رقم کو بے حد كھاليپن محسوس ہونے لگا. اس کو افلاس کے ساتھ کا مزا ستانے لگا. چوت کا کیڑا اس کو اب بے حد بے چین رکھتا تھا. اس کی نگاہیں اب صرف لنڈ دیکھنے کو بے چین رہتی تھی. وہ اس آگ میں جل رہی تھی جسے صرف اور صرف ایک مست لنڈ ہی ٹھنڈی کر سکتا تھا. وہ ہر رات اپنی پیںٹی اتار کر اپنی چوت رگڑتي اور اپنا پانی نکالتی ایسا کرنے پر اسے جانب اس کی چوت کو امن تو مل جاتی تھی پر لںڈ لینے کی کسک ابھی تک اس کے دل میں شامل پھنسی ہوئی تھی بار بار اس کے سامنے وہی فلم گھوم جاتی تھی. بار بار اس کی خواہش ہوتی تھی کی کوئی آئے جانب اس کی چوت میں شامل اپنا لںڈ مکمل ٹیم دے گرد اسے مست کر دے پر اپنے گاو میں شامل اسے یہ کام رسكي لگ رہا تھا. اس وجہ وہ کالج کے پھر سے چالو ہونے کا انتظار دیکھ رہی تھی. جیسے تیسے کرکے کالج کی چھٹیاں ختم ہوئی وہ پھر ایک بار سحر میں شامل تھی اور بس کے سفر نے پھر سے اس کے دل میں شامل لںڈ کی چاہ بڑھا دی تھی. کالج کے پہلے ہی دن اس کی ٹکر ایک لڑکے سے ہو گئی جو اپنے دوست کو کچھ بتاتا ہوا اس کے اندر ہی گھسا چلا آیا تھا. وہ خود بھی نیچی نظریں کئے ہوئے چل رہی تھی اس وجہ سے اسے وقت پر دیکھ نہیں سکی طرف دونو کی ٹکر ہو گئی. ٹکر لگنے کی وجہ وو دونو ہی سنبھال نہیں پائے طرف رقم نیچے گر پڑی طرف وہ لڑکا اس کے اپر آ گرا. گرنے سے خود کو بچانے کے چکر میں شامل لڑکے کے دونو ہاتھ سامنے آ گئے جانب براہ راست رقم کے چوچو پر آ گئے تھے. پہلے تو وہ بھوچككا رہ گیا پر پھر اس نے موقع دیکھتے ہوئے ہلکے سے ایک چوچي دبا دی. چوچي کے دبتے ہی رقم کے موہ سے ایک سشكاري نکل گئی. پر تبھی وہ سنبھال گئی طرف زیادہ آواز نہیں نکلی. طرف اس کو کھڑا ہونے کو کہنے لگی. وہ جب کھڑا ہونے لگا تو اس کی چوت پر اس کے لںڈ کی رگڑ لگ گئی. یعنی اس درمیان اسکا لںڈ کھڑا ہو گیا تھا. رقم کو لگا کے اگر كسش کی جائے تو اس لڑکے سے چود جا سکتا ہے. کھڑے ہوتے ہی رقم نے کہا ساری میرا دھیان کہی طرف تھا اس کرم میں آپ کو دیکھ نہیں سکا. نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے. میں خود ہی کہیں طرف دیکھ کر چل رہا تھا اس وجہ ٹکر ہو گئی آپ کیو ساری بول رہا ہے ساری تو مجھے بولنا چھايے. نہیں غلطی تو ہے ہی. خیر جانے دیجئے. ہی. میرا نام پاک ہے میں BA فائنل میں شامل پڑھتا ہو. ہی میرا نام رشم کھنہ ہے. میں B.A. سیکنڈ يےر میں شامل پڑھتی ہو. گڈ. یعنی ہم دونو ہی ایک ہی ندی کے ہے اور ہماری ملاكر آج ہو رہی ہے وہ بھی اس طرح. چلو کافی پیتے ہے. رشم تو چاہتی ہی یہ تھی کی وہ کسی طرح سے اس سے دوستی کر لے طرف جلد سے جلد چد لے جس سے اسے پتہ چل سکے کی لںڈ کا احساس کیسا ہوتا ہے. دونوں کالج کیںٹین میں شامل آ گئے جانب جے نے کافی کا آرڈر دے دیا اور ساتھ میں شامل سنكس کا بھی. دونوں بهوت دیر تک باتیں کرتے رہے. اس درمیان اس نے رقم سے پوچھا کی تم رہتی کہاں ہو تو رقم نے کہا کی میں تو گاو سے اپ ڈاؤن کرتی ہو. کیو یہی رہ جیا کرو نا. تمہارا گاو تو بہت دور ہے. نہیں پاپا اپھورڈ نہیں کر پاتے ہیں. اپ ڈاؤن ہی ٹھیک ہے. لاسٹ يےر کیا کیا تھا پورا سال اپ ڈاؤن کیا تھا کیا تھا کیا. نہیں لسٹ اےر ہاف سیشن تو اپ ڈاؤن کیا تھا پھر لائن میڈم نے اپنے پاس رکھ لیا تھا. وہ تو بہت چڈال اورات ہے تو کہاں پھنس گئی اس چگل میں شامل. کیو ایسا کیا ہے. کیو تجھے نہیں معلوم پاک نے رقم کو گھورتے ہوئے پوچھا اس نے تیرے ساتھ کچھ نہی کیا کیا. کیا نہیں کیا جے رقم کو ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا اس وجہ اس نے اسے زیادہ کریدنے کی جگہ لائن میڈم کی حقیقت بتانے میں ہی بھلائی سمجھی. ارے وہ میڈم تو لےذبيين ہے. لڑکیوں کے ساتھ پتہ نہیں کیا کیا کرتی رہتی ہے. پر میرے ساتھ تو کچھ نہیں کیا انہوں. ہو سکتا ہے تم یا تو میڈم کو پسند نہیں آئی ہوگی یا تمہیں ٹرین کرنے کی فرصت نہیں ملی ہوگی ورنہ ابھی تک وہ تمہیں بھی لےذبيين بنا چکی ہوتی. رقم نے سوچا کی جے کو کچھ اوپن کیا جائے. اس نے انجان بنتے ہوئے پوچھا "ویسے یہ لےذبيين کیا ہوتا ہے" پہلے تو جے بہت ہنسا پھر اس نے رقم کو اوسوسنييتا سے دیکھا جانب کہا جانے دے. نہیں یار مجھے سچ میں نہیں پتہ اب بتا نا کیا ہوتا ہے. ارے یار وہ لڑکی لڑکی کے ساتھ کرتی ہے نہ اسے لےذبيين کہتے ہے. لڑکی لڑکی کے ساتھ کیا کرتی ہے؟ اس نے پھر انجان بننے کی کوشش کی. وہی جو لڑکی کو لڑکے کے ساتھ کرنا چاہئے. یار پہیلی مت بجھاو ساپھ ساپھ بتاو. لڑکی لڑکے لے ساتھ کیا کرتی ہے؟ "ارے یار اب تو سننا ہی چاہتی ہے تو سن، جنس". چھ چھ کتنے گندے ہو تم لڑکی کے ساتھ ایسے بات کرتے ہے کیا. ارے اتنی دیر سے ڈھکے چھپے الفاظ میں شامل بتا رہا ہو تو سمجھتی نہیں ہے اور جب بتایا تو کہتی ہے ایسے کہتے ہے کیا. پر یار وہ کرنے کے لئے تو ل ..! کیا؟ کچھ نہی. "ارے تم کچھ کہہ رہی تھی" اب جے اس مزے لے رہا تھا. کہا نہ کچھ نہی. اب میں جا رہی ہو. ارے بیٹھو ایک بار. اگر میں تمہارے رہنے کا مسئلہ حال کر دو تو. کس طرح. رقم نے اٹےرےسٹ لیتے ہوئے اس کی طرف دیکھا. کرتا ہو کچھ. تم ایسا کرو اپنا موبائل نمبر مجھے دے دو. میں نے کچھ کرتا ہو. رقم سوچ رہی تھی سالے تو کچھ كرتتا ہی تو نہیں ہے. میری پٹي کب سے گیلی ہو رہی ہے. چل موبائل نمبر تو لے. کچھ گندے SMS ہی بھیجے گا رقم وہاں سے چل پڑی. دن بھر کلاسس میں شامل بزی رہی اور اس کے بعد واپس گھر کی طرف چل دی دن بھر کی گھاگ دور میں شامل اسے اس بات کا بھی دھیان نہی رہا کی اس نے جے کو کچھ کم بتایا تھا جانب اس کا فون یا سمس آ سکتا ہے. گھر پهچٹگے ہی ماں نے پچھ آگئی بیٹا. جی ماں آ گئی. چل بیٹا نہا دھو لے میں تیرے لئے کچھ پکا دیتی ہو تک گئی ہوگی میری بیٹی. نہیں مان بھوک نہیں ہے. کیو نہیں ہے بھوک کچھ کہا تو ہوگا نہیں تو نے وہاں پر آپ لوگ پرواہ کرتے ہے کیا میری. روز اتنی دور بس میں دھکے کھاتی ہوئی شہر جاتی ہو طرف آتی ہو. کیا کیا برداشت کرنا پڑتا ہے مجھے. بس کی بھیڑ. یہاں وہاں چھوتے ہوئے ہاتھو کا احساس. طرف دن بھر بھوکے رہنا. تو بیٹا کیا کر سکتے ہے یہاں ہمارے گاو میں شامل تو کالج ہے نہی. جو ہم تمہیں شہر نہ بھیجیں. طرف پڑھنے کی ضد بھی تو تمہاری ہی تھی ہم تو تمہیں خوش دیکھنا چاہتے ہیں. بولو تم کیا چاہتی ہو ہم تو ویسے ہی کر لیں گے آپ کو بتا کیا کرنا چاہتی ہو میں تمہارے والد صاحب کو مانا لوں گی. ماں میں شاهر میں شامل ہی رہ کر پڑھنا چاہتی ہو. روز اتنا لمبا سفر مجھ نہیں ہوتا. وہ بھی اتنی بھیڑ میں شامل. وہاں کہاں رہے گی. میری بیٹی رہنی کی سلیقے کی جگہ بھی تو ہونی چاہیے. میری ایک سہیلی رہتی ہے کمرہ لے کر اس کے والد صاحب بھی چاہتے ہے کی وہ کسی دوسری لڑکی کے ساتھ رہے. دونوں لڑکیاں ساتھ رہ لیں گی. میں نے آج پہلی بار ماں سے جھوٹ بولا کیوںکی میں ہر حالت میں شامل شہر میں رہنا چاہتی تھی. اگر لڑکی کا نام نہ لیتی تو گھر والے رہنے کی اجازت نہیں دیتے. پچھلی بار جب میں لائن میڈم کے ساتھ رہنے گئی تھی تب گھر سے کسی نے جا کر دیکھنے کی ضرورت نہیں سمجھی تھی. رقم نے سوچا کی لڑکی کا نام لوں گی تو گھر والے اس بار بھی بغیر دیکھے اسے رہنے کی اجازت دے گا. ویسے بھی جے نے کہا تو تھا ہی کی وہ کوئی جگاڑ لگائے گا. تو ہو سکتا ہے وہ کسی نہ کسی لڑکی کے ساتھ ہی رہنے کا جگاڑ لگائے. تو گھر پر پہلے بتانے میں شامل اعتراض ہی کیا ہے. ٹھیک ہے بیٹا میں تمہارے بابوجی سے بات کر لوں گی. پر بیٹی لڑکی تو اچھے گھر کی ہے نا. ہن ماں اچھے گھر کی ہی ہے میری تو اچھی سہیلی ہے ساتھ ہی پڑھتی ہے میری تييري بھی ہو جائے گی. شام کو جب رقم آرام کر رہی تھی تب اس نے ایسے ہی کھیلتے ہوئے موبائل اوتايا تو دیکھا اس میں ایک سمس نئے نمبر سے تھا. یہ کس کا سمس ہے. سوچتے ہوئے رقم نے سمس کھول لیا. ارے یہ تو پاک ہے کا سمس ہے. سمس میں لکھا پیغام پڑھ کر رقم کے پیشانی پر بل پڑ گئے. پیغام تھا "رقم میں بہت گھما یہاں وہاں پر آپ کے لئے کسی کمرے کا انتظام نہیں ہو سکا ہے. میں آپ کے رہنے کا انتظام میری کسی جاننے والی لڑکی کے ساتھ کرنا چاہتا تھا پر زیادہ تر لڑکیاں آج کل آزاد رہنا چاہتا ہے. سب کے بايپھرےڈ ہوتے ہے وہ وہ اپنی آزادی کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی. اگر تمہارے ارجےٹ ہے شہر میں رہنے کی تو مجھے ایک مس کال کرو ہم بات کر لیتے ہیں. پہلے تو میں نے سوچا کی کال کرو یا نہ کرو گھر سے ہی اپ ڈاؤن کر لو. پر اسی وقت چوت نے کہا سالی اپنا ہی سوچ رہی ہے میرا کیا ہوگا. چل شہر چل. کر کال. مینے بھی فون اٹھ کر فون کر دیا. اس نے تو لکھا تھا کی مس کال کر دینا پر مینے کال ہی کیا دوسری طرف سے جے کی مدماتي آواز آئی "ہیلو" "ہیلو، جے بول رہے ہو کیا" "ہاں، جے بول رہا ہو، بولو رقم" دوسری طرف سے آواز آئی. تم نے ص م س کیا تھا. ہاں دراصل آپ کے لئے روم کا انتظام نہیں ہو سکا ہے. اس لئے ہی میں نے تمہیں ص م س کیا تھا. ویسے کچھ دن تم میری ایک دوست کے پاس تمہارے رہنے کا انتظام کر سکتا ہو. اگر آپ چاہیں تو. پر اس سے کیا ہو گا. ارے ہوگا کیا ابھی کچھ دن تم اس کے ساتھ رہ لو پھر جب آپ کے لئے رہنے کی ويواستھا ہو جائے گی تو تم اس روم کو چھوڑ کر اپنے روم میں شامل رہنے لگنا. پر اس طرح تو گھر والے نہیں مانیں گے. کیا کہوں گی ان سے کی میرے پاس رہنے کا انتظام نہیں ہے پر پھر بھی میں ہر حال میں شامل شہر میں رہنا چاہتی ہو. میں ایسے نہیں کر سکتی. ارے تمہیں یہ سب کہنے کی اواسيكتا ہی کہاں ہے. تم وہاں اس وقت تک رہ سکتی ہو جب تک تم چاہو. جیتنے دن بھی تمہارے رہنے کا انتظام نہ ہو سکے اتنے دن تم آرام سے وہاں پر رہو. میری دوست شہر میں زیادہ رہتی ہی نہیں ہے. تو تمہے زیادہ تکلیف بھی نہیں ہوگی. پر ایسی کون دوست ہے تمہاری. ارے ہے یار. پکی دوست ہے تمہے رہنا ہو تو بتا دینا میں اس سے بات کر لوں گا. اچھا ٹھیک ہے تم اس سے بات کر لو اگر وہ ہاں کرتی ہے تو میں گھروالو سے بات کر لوں گی جانب وہاں پر سپھٹ ہو جاوںگی. میں من ہی من خوش ہو رہی تھی کی چلو اس کی کو زیادہ تر شاهر میں شامل نہیں رہتی ہے ورنہ مجھے تو لگ رہا تھا کی اگر اس کی دوست کے ساتھ رہی تو مجھے اس کے نزدیک آنے کا موقع ہی نہیں ملے گا. پر جب کو آتی جاتی رہتی ہے تب تو موقع ہی موقع ہے. کچھ دیر بعد میں نے مان کے پاس گئی طرف بولی ماں میں نے تمہیں کہا تھا نا کی پاپا سے بات کر لینا. بات کی کیا تم نے. ارے بیٹی تمہارے پاپا تو دن بھر کم کرکے اب گھر آئے ہے. تم بےفكر رہو میں ان سے رات میں شامل بات کر لوں گی. تم شہر میں رہ لینا پر اپنا خیال رکھنا طرف لڑکوں سے دور ہی رہنا یہ لڑکے لڑکیوں کو خراب کر دیتے ہیں. تم ابھی بچی ہو تمہے دنياداري کا کچھ پتہ نہیں ہے. ہمیشہ اپنی سہیلی کے ساتھ ہی رہنا. طرف ہاں تمہارے پاپا پہلے آپ کے ساتھ تمہاری سہیلی سے مل کر آئیں گے پھر اس کے بعد ہی بھیجیں گے تسلی کرکے. ویسے اچھی لڑکی تو ہے نا وہ تمہاری سہیلی. میں من ہی مان سوچ رہی تھی. ممی ہمیشہ رات میں ہی پاپا سے بات کیو کرتی ہے جب کوئی اپرٹےٹ بات کرنی ہوتی ہے. طرف ممی ہمیشہ ایسا کیو سمجھتی ہے کی مجھے دنیا داری کا پتہ نہیں ہے مجھے سب پتہ ہے اور اس دنياداري کو سيكھني ہی تو میں شہر جا رہی ہو. اگر ہو سکا تو جے سے میں دنياداري مکمل طور پر سیکھ کر ہی انگي. سہیلی کا انتظام تو جے کر ہی دے گا پھر چاہے پاپا دیکھ کر آئے یا ممی دیکھ کر آئے کیا فرق پڑتا ہے آرام سے تسلی کریں اس کے بعد مجھے کھلا چھوڑیں. پچھلی بار لائن میڈم کے ساتھ کچھ زیادہ مزہ نہیں آیا کیوںکی وو تو ہمیشہ چوت ہی چٹواتي رہتی تھی پر مجھے تو ایک كڑكڑاتا لیںڈ چاہئے. طرف اس بار مجھے لگتا ہے کی میری حسرت پوری ہوگی. کیوںکی اب میں شہر میں رہنے جا رہی ہو. بس میں تو لںڈ کو اپنی گاںد پر کپڑوں کے اپر سے ہی محسوس کرکے رہ جانا پڑتا تھا. اب آرام سے چوت کے اندر تک محسوس کروں گی. چل کھانا کھا لے. "ا کیا کہا." رقم ایک دم سے جیسے نیند سے جاگی. وہ جاگتے جاگتے پتہ نہیں کہاں کھو گئی تھی طرف مان کے کھانا کھانے کی بات پر واپس دھراتل پر آ گئی تھی. پر یہ سب سوچتے سوچتے اس نے محسوس کیا کی اس رانوں کے درمیان پھر ایک بار کچھ گیلا محسوس ہو رہا ہے. "ہائے کب تک اس گیلی چوت کو ترسنا پڑے گا" -------- اگلے دن اس نے ایک بار پھر سے بھیڑ سے بھاری بس کا الیکشن کیا شہر جانے کے لئے جس کے آس پاس کے زیادہ تر لوگ شہر جاتے تھے طرف کسی طرح وہ بس میں اندر گھسنے میں شامل کامیاب ہو گئی. اسے پتہ تھا کی سامنے سے تو کوئی چچھےڑنے کی ہمت کرے گا نہیں. سب اس کے پیچھے ہی ہاتھ گے تو انہیں مکمل موقع دینے کے لئے وہ ایک سیٹ پر بیٹھی لڑکی کے پاس اس کی طرف موہ کر کے کھڑی ہو گئی جس سے اسکی گاںد پیچھے والوں کے لئے ایک دم کھلا نظارہ پےشكر رہی تھی بس میں آس پاس کھڑے منچلوں کا دل اسکی گاںد پر ہاتھ پھرانے کو مچلنے لگا. ایک دو نے اس کی گاںد پر ہاتھ پر توبہ کر لی بھی مگر اس طرح جیسے غلطی سے ہاتھ لگ گیا ہو. اس نے کسی طرح کی پرتكاريا نہیں دی. پچچھلے دنو اس نے ایک لڑکے کو گاںد پر ہاتھ پھرانے کے لئے ڈانٹ دیا تھا تو کئی دينو تک کسی لڑکے نے اسکی گاںد پر ہاتھ نہیں توبہ کر لی. وہ ترستی ہی رہ گئی. اب کچھ دنو سے لڑکوں کی دوبارہ ہمت ہوئی تھی وہ انہیں دوبارہ ڈانٹ کر نقصان نہیں اٹھنا چاہتی تھی. اس لڑکے نے پھر سے اپنا ہاتھ اسکی گاںد پر توبہ کر لی جیسے تسلی کر لینا چاہتا ہو کی وہ داٹےگي یا نہی. جب اس نے دیکھا کی رقم نے اسے موڈ کر بھی نہیں دیکھا ہے تو اس کی ہمت بڑھی طرف اس نے اب اپنا ہاتھ اسکی گاںد پر مستقل طور پر رکھ دیا تھا پر ساتھ ہی وہ اس سے سٹ کر کھڑا ہو گیا تھا جس سے کسی کو یہ پتہ نہ چلے کی وہ اسکی گاںد پر ہاتھ پھرا رہا ہے. طرف اگر رقم بھی اسے کچھ کہنا چاہے تو وہ بھیڑ کا بہانہ کر سکے. کچھ دیر تک ایسے ہی کولہوں پر ہاتھ پھرنے کے بعد اس نے اپنے ہاتھو کو اس کی اسس كرك میں شامل پھرانا سرو کر دیا تھا رقم کو اس سے اتنی ہمت کی امید نہیں تھی. اب اس کی سانس بہت گہری ہو چلی تھی اسے لڑکے کا ہاتھ ایسے لگتا ہو رہا تھا جیسے اس کی ننگی گاںد کی درار میں شامل ہو. وہ گہری گہری سانس لینے لگی. پھر لڑکے نے ہمت کرکے اس کی درار میں شامل انگلی ڈال دی طرف سیدھا اسکی گاںد پر انگلی کا دباؤ دیا. اسے مزا تو بہت آیا پر ساتھ ہی اس کے موہ سے آواز نکل گئی او اب زیادہ تر مسافروں کی توجہ اس کی طرف ہو گیا تھا تو اسے اب کچھ نا کچھ کرنا ہی تھا اپنا دفاع کرنے کے لئے تو اس نے جھٹ سے پیچھے گھومتے ہوئے اس لڑکے کے گالپر ایک چاٹا رسید کر دیا. طرف اس کو گالیاں نکلتے ہوئے کہنے لگی کیا آپ کے گھر میں ماں بہنیں نہیں ہے جو اس طرح کی حرکت کرتے ہو. وہ لڑکا بھوچككا رہا گیا کی کہاں تو وہ مزے لے رہی تھی اور کہاں اس کے گال پر ایک چھاٹا رسید کر دیا. اتنے میں ایک انکل نے کہا ایسے بدمعاشوں کی وجہ ہماری بہو بیٹیوں کا باہر نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے. مارو سالے کو جانب بس کی بھیڑ نے اسے مارنا سرو کر دیا. رقم چپ چاپ اس کو پیٹتے ہوئے دیکھتی رہی. وہ اس پچدے میں شامل پڑنا نہیں چاہتی تھی. ویسے بھی اسے تو اب شہر میں رہنا تھا جہاں اس کے لئے لںڈ تقریبا تیار تھا اسے تو کچھ ہوا دینے کی ہی اواسيكتا تھی. کچھ ہی دیر میں شامل وہ بس سٹاپ پر اتےري طرف کالج کی طرف چل دی. کالج پہنچ کر اس کی نظریں پاک کو ہی تلاش کر رہی تھی
 کالج میں شامل بہت دیر تک ادھر ادھر ٹہلنے کے بعد آخر اس نے سوچا کی جے کو کال ہی کر لینا چاہئے وہ سوچ رہی تھی کی وہ کال کرے گی تو جے پتا نہی کیا سوچےگا. پر اب جب وہ مل ہی نہیں رہا تھا تو اسے کال کرنا ہی پڑے گا. کال لگانے پر جے کا موبائل پر رنگ جا رہی تھی پر وہ فون اٹھا لینا نہیں کر رہا تھا. پتگا نہیں کیا بات ہے فون کیو نہیں اٹھا رہا ہے. کیا کرو کیا نہ کرو. یہ سوچتے سوچتے اس نے سوچا کی چل کلاس ہی لے لو. وہ کلاس کی طرف چل پڑی. پر پھر اسے دوبارہ احساس ہوا کی اس کی پٹي تو صبح سے ہی گیلی ہو رہی ہے جب سے تھا اس نے سوچا تھا کی وہ پاک سے ملے گی جانب اسے پٹاےگي جس سے وہ کچھ آگے بڑھے طرف کچھ کرے طرف اسکی چوت کی کھجلی کا علاج ہو سکے پھر وہ بس کا واقعہ جس اس لڑکے نے اس کی گاںد کے چھید پر انگلی لگا کر اسے جانب هرني بنا دیا تھا. اس نے سوچا کیا کرو اسے کیسے شاںت کرو. چوت کو پرسکون کرنے کا کوئی ذریعہ نظر نہ آتا دیکھ اس نے سوچا کی طرف کچھ نہیں تو لوگوں کو اس کی چوت کے درشن ہی کروا دے جس سے ہو سکتا ہے اس کی چوت کچھ پرسکون ہوئی جائے. یہ سوچتے ہی اسکی چوت طرف پانی چھوڑنے لگی. وہ یہ سوچنے لگی کی کیا کیا جا سکتا ہے. اتنے مجھے کیا کرنا چاہیئے اسے خیال آیا کی چوت کو دکھانے کا سب سوٹبل آئیڈیا پیشاب کرنا ہو سکتا ہے. تو اس نے کیںٹین کے پاس ہی اپنی سلوار کا ناڈا کھولا طرف سلوار کے ساتھ پٹي کو نیچے کھینچتے ہوئے نیچے بیٹھ گئی. کیںٹین میں شامل اس وقت بہت بھیڑ تھی طرف جيداتر لوگ اسے ہی دیکھ رہے تھے. اسے کیا اس کی چوت کو دیکھ رہے تھے. جو پیچھے کی طرف تھے ان اس مستانی گاںد کے دونو گلوبے بهتےرين طریقے سے دکھائی دے رہے تھے. اس نے آپ کو ننگا تو کر دیا لوگوں کے درمیان میں شامل پر اب اسے بہت زیادہ شرم آنے لگی تھی. اس كرا اس نے اپنا موہ ایکدم نیچے جھکا لیا. اب وو درمیان میں اٹھ بھی تو نہیں سکتی تھی ورنہ اس کی پٹي طرف سلوار اس موت سے بھر جاتی. مکمل طور پر موتنے میں شامل اسے کوئی 2 منٹ لگ گئے تھے کیوںکی بہت دیر سے اس نے موتا جو نہی تھا اس وجہ سے اس کا بلڈڈر مکمل بھرا ہوا تھا. موتنے کے بعد وہ جھٹ سے کھڑی ہو گئی. تب تک وہاں پر اچھی خاصی بھیڑ لگ چکی تھی. اس نے جھٹ سے اپنی سلوار کا ناڈا بند کیا اور وہ پھٹاپھٹ وہاں سے بھاگ کر کلاس کی طرف چل دی. کلاس میں شامل اندر گھستے ہی اسے پھذكس کے پروفیسر نظر آئے. میں شامل ای کم ان سر. يےس کم ان. کلاس میں شامل ٹائم سے آیا کرو. ساری سر، صرف لیٹ ہو گئی تھی. اس نے بہانہ بنایا. کلاس میں شامل بیٹھنے کے بعد اس نے غور کیا کی آج تو اس سے بہت بڑی غلطی ہو گئی اسے اس طرح سے کالج كپس تمام لڑکوں کے سامنے اپنی چوت کی نمائش نہیں کرنی چايے تھے. وہ تو اس موہ دھوپ کی وجہ سے سکارف سے ڈھاکہ ہوا تھا ورنہ تمام لڑکے اس کی شناخت کر لیتے طرف سكا کالج میں شامل نکلنا مشکل ہو جاتا. آگے سے اس نے ایسا نہ کرنے کی قسم کھائی. وہ کلاس میں شامل آ تو گئی تھی پر دل اب بھی باہر جے کو ہی تلاش کر رہا تھا. اگر اسے پاک مل جاتا تو وہ کلاس میں شامل جھاكت بھی نہی. مان مسوس کر وہ کلاس میں شامل بیٹھی رہی. طرف ہر دو منٹ میں شامل وہ جے کا نمبر ٹرا کر رہی تھی. پر آج پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا وہ فون ہی نہیں اٹھا رہا تھا. اسی طرح کلاس ختم ہو گئی. کلاس کی گھنٹی بجنے پر پروفیسر کلاس سے چلا گیا طرف اسی وقت پاک نے فون اٹھا لینا کیا. کیا ہے یہ پاک. وہ پاک ہے پر بھڑک گئی. "میں كبسے تمہارا نمبر ملا رہی ہو پر ایک تم ہو کی فون اٹھا ہی نہیں رہے ہو ارے یار کلاس میں شامل تھا اور فون وابرٹ پر تھا. تمہاری گھنٹی کا پتہ نہیں چلا اب پیریڈ ختم ہوا تو دیکھا. میں تمہیں فون ملنے ہی والا تھا کی تمہارا فون دوبارہ آ گیا. ہن بتاو کیا بات ہے کس طرح فون کر رہی تھی. کہاں ہو تم اس وقت. میں تو کلاس کے باہر ہی ہو. ہال 21 پر. بلوط میں ابھی آتی ہو وہاں ارے یار یہاں آ کر کیا کرو گی. ایسا کرتے ہے کی کیںٹین میں شامل ملتے ہے. "کیںٹین. نہ بابا نہ وہاں نہیں وہاں پر تو بہت بھیڑ ہوتی ہے لڑکے ہر وقت لڑکیوں کو گھورتے رہتے ہیں." اس کی کیںٹین کے نام سے ہی گاںد پھٹ رہی تھی. کی لڑکے اسے شناخت لیں گے کیوںکی چاہے اس کا چهرا اس وقت سکارف سے ڈھاکہ ہوا ہو پر ڈریس کو تو سب شناخت ہی رہے ہوں گے. طرف لڑکے تو اب وہاں سے هلےگے بھی نہیں کی کیا پتہ کب کوئی جانب لڑکی وہاں پر آ کر موتنے کے بہانے اپنی چوت کو دکھانے لگے. تو کیںٹین جانا تو بہت رسكي تھا. تم ایسا کرو باہر گاتے پر ملو آج پڑھنے کا موڈ نہیں ہے. کہی باہر چلتے ہیں. وک آ جاؤ. میں گیٹ پر پہنچ جاتا ہو. جائی کی تو جیسے لاٹری لگ گئی تھی کی آج ایک لڑکی اس کے ساتھ باہر گھومنے جانا چاہ رہی تھی. وہ پھٹاپھٹ باہر کی طرف بھگا کیوںکی رقم کی کلاس تو گیٹ کے پاس ہی تھی پر اس کا ددےپرٹمےٹ كوللےگ کے لاسٹ میں شامل تھا اس کو ٹائم لگنے والا تھا. کسی طرح مرتے پڑتے وہ میں گاتے تک پہنچا طرف رقم کے ساتھ ساتھ گاتے پر پہچ گیا. رقم نے اس کی طرف دیکھ کر مشكرايا. وہ بھی مشكرايا. ہائے ہائے. کیسی ہو. اچھے ہو. بولو کہاں چلگي. تم نے اپنی فرینڈ سے بات کی تھی کیا. ارے یار کل رات ہی تو تم سے بات ہوئی تھی صبح کالج آ گیا تھا تو بات کب کرتا آج کر لوں گا. جے تم میرے رہنے کا انتظام کر دو گے نا. اس نے سشكت سی آواز میں اس سے پوچھا. ارے یار کروا دوں گا. وہ میری کوئی بات نہی ٹالتی ہے. آپ کو ایک بار توڑا روکو تو تم تو گھوڑے پر سوار ہو کر آتی ہو. "پاک ہے میں گاو سے نائب ڈاؤن نہیں کر سکتی." ٹان میں شامل جے نے ایک آٹو والے کو رکنے کا اشارہ کیا. دونوں آٹو میں شامل بیٹھ گئے. یار دو چار دن تو نائب ڈاؤن کر ہی سکتی ہو. تمہیں پتہ ہے میرے ساتھ بس میں شامل کیا کیا ہوتا ہے. کیا کیا جھےلتي ہوجن میں. وہ پاک ہے رجھا کی غرض سے اسے کھل کر بتانا چاہتی تھی جس سے وہ اس کی طرف کھینچ سکے. اسے کیا پتا تھا کی کل کی کال کے بعد ہی جے تو اس کے نام کی دو بار موٹھ مار چکا تھا. پر انجان بنتے ہوئے اس نے پوچھا "Q، کیا ہوا، مجھے بتاو اگر کوئی پریشانی ہے تو. آج صبح ایک لڑکا بس میں بھیڑ کا فايڈا اٹھتا ہوا میرے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا. تو؟ تو، کیا. اس نے اپنا میرے چوتدوں کے بيچے میں شامل لگانے کی کوشش کی جب کامیاب نہیں ہوا تو اس نے میرے چوتدوں پر ہاتھ پر توبہ کر لی اور پھر درمیان کی درار میں ہاتھ پھيرنے لگا. میں اس وقت بہت زیادہ شرح گئی تھی اس وجہ سے میں اس کی مخالفت بھی نهكار پائی. اس کا حوصلہ بڑھ گیا جانب اس نے میرے پیچھے کے سوراخ میں شامل کپڑوں کے اپر سے ہی انگلی ڈالنے کی كوششي کی. جے کی تو حالت ہی خراب ہو گئی تھی. اس نے اےكسپےكٹ ہی نہی کیا تھا کی رقم اسے یہ واقعہ بتاےگي طرف وہ بھی اتنے کھلے الفاظ میں شامل. اس کا لیںڈ تو ایک دم سے تن کر کھڑا ہو گیا تھا اور اب اس کے لئے پیںٹ میں شامل مشکلات کھڑی کر رہا تھا. وہ لںڈ کو اڈجسٹ کرنا چاہتا تھا پر رقم کے سامنے کس طرح کرے. وہی رقم نے اس کی پیںٹ میں شامل لںڈ کی وجہ بنے ابھر کو دیکھ لیا تھا اور وہ اس کی حالت کو سمجھ رہی تھی اس وجہ سے اسے اڈجسٹمےٹ کا موقع دینے کے کی غرض سے اس نے باہر دیکھنے کا ڈرامہ کیا جبکہ اس کی ترچھی نظر سے اسے لںڈ کو اڈجسٹ کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی. میرے پیچھے اس کے ہاتھ لگنے کی وجہ چھل بھی گیا ہے. طرف یہ کہہ کر وہ رونے کا ناٹک کرنے لگور جے کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا. تم جلد سے جلد میرے لئے مکان کا انتظام کرو نا. ارے اب وہی تو جا رہے ہے. کچھ ہی دیر میں ایک مکان کے سامنے اس نے آٹو کو رکنے کا اشارہ کیا. آٹو ویل کو کرایہ چكنے کے بعد جیسے ہی وہ گھر کی طرف مڑے تو انہوں نے دیکھا کی مکان کے تو تالا لگا ہوا ہے گھر پر تالا دیکھ کر رقم کی تو جیسے مےييا ہی چد گئی. اتنی مشکل سے تو اسے پاک ملا تھا اس نے سوچا تھا کی وہ کم سے کم اسے گھر تو دلا دے گا چد تو وہ جائے گی ہی. پر جب مکان دلانے کی باری آئی تو اس پر بھی تالا. نہ جانے کہا چلی گئی ہے اس کی دوست. پتہ نہیں کہاں چدت پھر رہی ہوگی. یہاں میری چوت کا تو اسے خیال ہی نہیں ہے. دوسری طرف پاک نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا طرف اسمے سے جھٹ سے ایک چابی نکلی طرف گھر کے تالے پر لگا دی طرف تالا بغیر کسی ہل حجت کے کھل گیا. "ابے تیری اس کے پاس تو چابی ہے گھر کی، آج تو عیش ہو گئی. گھر کی چابی ہے تب تو بہت سی سبھاوناے ہو سکتی ہے. چل رقم جلدی کر اندر چل" رقم یہ سوچتے ہوئے اس کے پیچھے اندر بھاگی. اندر جا کر اس نے دیکھا کی مکان بہت صفائی سزا رکھا تھا. بہترین داخلہ تھا اس مکان کا. یا رقم نے گاو کے سںپل مکان دیکھے تھے تو اسے یہ کچھ زیادہ پسند آ رہا تھا. اس نے پہلے حصہ حصہ کر مکمل مکان دیکھا اور پھر سے ڈريگ روم میں شامل آگئی. "جے مکان تو خوبصورت ہے" "پتہ ہے" پاک ہے صرف اتنا کہہ سکا. کیا تمہاری دوست مجھے اس مکان میں شامل رکھے گی. اسے رکھنا پڑے گا. تمہے میں جو لایا ہو. کیا؟ کچھ نہی. پتہ نہیں تم کبھی کبھی بڑی عجیب سی باتیں کرتے ہو. اب یہاں رہو گی تو مجھ ملنا تو ہوگا ہی تو تم سب سمجھ جاؤ گے. باتھ کہاں ہے. سامنے باے طرف. رقم باتھ دیکھنے چلی گئی. طرف جے اسے سارے مکان کو خوش ہو کر دیکھتے ہوئے دیکھتا رہا. ایک منٹ میں ہی رقم واپس آ گئی. "ارے یار باتھ تو بہت ہی خوبصورت ہے." "ہے تو" یار باتھ دیکھ کر میری تو نہانے کی خواہش ہونے لگی ہے. رقم نے اسے کچھ جلوہ دکھانے کی سوچی. "تو نہا لو". جے نے بھی سوچا کچھ موقع مل سکتا ہے چدے نہ چدے پر اس کے نازک اعضاء کے فلسفہ تو ہو ہی جائیں گے ہی. پر میرے پاس ٹوےل تو ہے نہیں. میں ناهوگي کیسے ارے یار تم نهاو تو صحیح. ٹول میں لا کر دیتا ہو نا. اوکے لا دو. تم جاؤ نهاو میں لے کر آتا ہو نہیں تم لے کر آ جاؤ میں نے اس کے بعد نہا لوں گی. ارے جاؤ نا یار مجھے پتہ ہے کیا ٹوےل کہاں رکھا ہے، اتنی دیر میں شامل تم نہا تو لوگ. نہیں تو تم کھڑی انتظار کرتی رہو گی جانب میں ٹوےل ڈھوںڈھتا رہونگا اوکے. جلدی تو جا تو صحیح یار. رقم دل میں شامل تو یہی چاہتی تھی کی وہ اسے ایک بار ننگا دیکھ لے پھر اس کے بعد وہ رکنا بھی چاہے گا تو بھی خود کو روک نہیں پائے گا. وہ چیز ہی ایسی تھی. یہ سوچتی ہوئی رقم باتھ میں شامل گھس گئی. طرف پاک ٹوےل تلاش کرنے کا بہانہ کرنے لگا. باتھ میں شامل گھس کر رقم نے اپنے آپ کو کپڑوں کی گرفت سے آزاد کر دیا اور برا پٹي میں شامل آگئی. طرف اپنے آپ كيو سامنے لگے ادمكد آئینے میں شامل دیکھنے لگی. ایسا کرتے ہوئے اس کا كھدكا دل خود پر آ گیا. طرف وہ اب اپنے آپ کو برا اتارنے سے روک نہیں پائی. طرف اس کے ہاتھ كھودبا خود پیچھے پیٹھ کی طرف چلے گئے اور اس دونو پنچھ آزاد ہو گئے. اس کی چوںچیاں اتنی بڑی تھی کی انہیں وہ بڑی مشکل سے 36ڈي سائیز کی برا میں شامل قید رکھ پاتی تھی. چوچيو کے آزاد ہوتے ہی وہ اچچھلنے لگی اور اس نے دونوں کو پکڑ لیا طرف انہیں خود ہی مسالنے لگی، صبح بس کے انسڈےٹ کے بعد اسے بہت جنسی چڑھا ہوا تھا اس وجہ وہ اپنی چوچيو سے کھیلنے لگی تھی.

Posted on: 07:01:AM 14-Dec-2020


1 0 98 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 63 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com