Stories


ماتر پریم از رابعہ رابعہ 338

میں جنوبی ہندوستان میں ستر کی دہائی میں پیدا ہوا. میرے والد مل میں کام کرنے والے ایک براہ راست سادھے آدمی تھے. ان میں بس ایک خرابی تھی، وہ بہت شراب پیتے تھے. اکثر رات کو بیہوشی کی حالت میں ان کو اٹھا کر بستر پر لٹانا پڑتا تھا. پر ماں کے تئیں ان کا رویہ بہت اچھا تھا اور ماں بھی انہیں بہت چاہتی تھی اور ان کا احترام کرتی تھی. میں نے بہت پہلے ماں پر ہمیشہ چھائی اداسی محسوس کر لی تھی پر بچپن میں اس کی اداسی کی وجہ سے میں نہیں جان پایا تھا. میں ماں کی ہمیشہ مدد کرتا تھا. سچ بات تو یہ ہے کہ ماں مجھے بہت اچھی لگتی تھی اور اس لئے میں ہمیشہ اس کے پاس رہنے کی کوشش کرتا تھا. ماں کو میرا بہت بنیاد تھا اور اس کا دل بہلانے کے لیے میں اس سے ہمیشہ طرح طرح کی گپپے لڑایا کرتا تھا. اسے بھی یہ اچھا لگتا تھا کیونکہ اس کی اداسی اور بوریت اس سے کافی کم ہو جاتی تھی. میرے والد صبح جلدی گھر سے نکل جاتے تھے اور دیر رات لوٹتے. فر پینا شروع کرتے اور ڈھیر ہو جاتے. ان کی شادی اب صرف برائے نام کو رہ گئی تھی، ایسا لگتا تھا. بس کام اور شراب میں ہی ان کی زندگی گزر رہی تھی اور ماں کی باقی ضروریات کو وہ نظرانداز کرنے لگے تھے. دونوں ابھی بھی باتیں کرتے ہیں، ہنستی پر ان کی زندگی میں اب محبت کے لیے جیسے کوئی مقام نہیں تھا. میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم کام کرتا تھا. اس سے کچھ اور آمدنی ہو جاتی تھی. پر یار دوستوں میں اٹھنے بیٹھنے کا مجھے وقت ہی نہیں ملتا تھا، محبت وار تو دور رہا. جب سب سو جاتے تھے تو میں اور ماں کچن میں ٹیبل کے پاس بیٹھ کر گپپے لڑاتے. ماں کو یہ بہت اچھا لگتا تھا. اسے اب بس میرا ہی سہارا تھا اور اکثر وہ مجھے پیار سے باںہوں میں بھر لیتی اور کہتی کہ میں اس کی زندگی کا چراغ ہوں. بچپن سے میں کافی سمجھدار تھا اور دوسروں سے پہلے ہی جوان ہو گیا تھا. سولہ سال کا ہونے پر میں دھیرے دھیرے ماں کو دوسری نظروں سے دیکھنے لگا. بالغ میں داخل کے ساتھ ہی میں یہ جان گیا تھا کہ ماں بہت کشش اور منشیات ناری تھی. اس کے طویل گھنے بال اس کی کمر تک آتے تھے. اور تین بچے ہونے کے باوجود اس کا جسم بڑا کسا ہوا اور جوان عورتوں سا تھا. اپنی بڑی کالی آنکھوں سے جب وہ مجھے دیکھتی تو میرا دل دھڑکنے لگتا تھا. ہم ہر موضوع پر بات کرتے. یہاں تک کہ انفرادی باتیں بھی ایک دوسرے کو بتاتے. میں اسے اپنی عزیز ابینےتریوں کے بارے میں بتاتا. وہ شادی کے پہلے کے آپ کی زندگی کے بارے میں بات کرتی. وہ کبھی میرے والد کے خلاف نہیں بولتا کیونکہ شادی سے اسے کافی مدھر چیزیں بھی ملی تھیں جیسے کہ اس کے بچے. ماں کے تئیں بڑھتے توجہ کی وجہ سے میں اب اسی انتظار میں رہتا کہ کس طرح اسے خوش کروں تاکہ وہ مجھے باںہوں میں بھر کر لاڑ دلار کرے اور پیار سے چومے. جب وہ ایسا کرتی تو اس کے اعلی درجے سینوں کا دباؤ میری چھاتی پر محسوس کرتے ہوئے مجھے ایک عجیب گدگدی ہونے لگتی تھی. میں اس نے پہنی ہوئی ساڑی کی اور اس کی خوبصورتی کی تعریف کرتا جس سے وہ کئی بار شرما کر لال ہو جاتی. کام سے واپس آتے وقت میں نے اس کے لیے اکثر چاکلیٹ اور فولو کی وےي لے آتا. ہر اتوار کو میں نے اسے سنیما اور فر ہوٹل لے جاتا. سنیما دیکھتے ہوئے اکثر میں بڑے معصوم انداز میں اس سے چپک کر بیٹھ جاتا اور اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیتا. جب اس نے کبھی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا تو ہمت کر کے میں اکثر اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھ کر اسے پاس کھیںچ لیتا اور وہ بھی میرے کندھے پر اپنا سر رکھ کر پکچر دیکھتی. اب وہ ہمیشہ اتوار کی راہ دیکھتی. خود ہی اپنی پسند کی پکچر بھی منتخب کر لیتی. پکچر کے بعد اکثر ہم ایک باغ میں گپپے مارتے ہوئے بیٹھ جاتے. ایک دوسرے سے مذاق کرتے اور كھلكھلاتے. ایک دن ماں بولی. "خوبصورت اب تو بڑا ہو گیا ہے، جلد ہی شادی کے قابل ہو جائے گا. تیرے لئے اب ایک لڑکی تلاش کرنا شروع کرتی ہوں." میں نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے فوری طور جواب دیا. "اماں، مجھے شادی وادی نہیں کرنی، میں تو بس آپ کے ساتھ ہی رہنا چاہتا ہوں." میری بات سن کر وہ حیرت حیران ہو گئی اور اپنا ہاتھ کھینچ کر سهسا چپ ہو گئی. "کیا ہوا اماں؟ میں نے کچھ غلط کہا؟" میں نے گھبرا کر پوچھا. وہ چپ رہی اور کچھ دیر بعد روكھے سورو میں بولی. "چلو، گھر چلتے ہیں، بہت دیر ہو گئی ہے." میں نے من ہی من اپنے آپ کو ایسا کہنے کے لیے كوسا پر اب جب بات نکل ہی چکی تھی تو ہمت کرکے آگے کی بات بھی میں نے کہہ ڈالی. "اماں، تمہیں برا لگا تو معاف کرو. پر سچ تو یہی ہے کہ میں تمہیں بہت پیار کرتا ہوں. تمہاری خوشی کے لیے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں." کافی دیر ماں چپ رہی اور پھر اداسی کے لہجے میں بولی. "غلطی میری ہے بیٹے. یہ سب پہلے ہی مجھے بند کر دینا تھا. لگتا ہے کہ اکیلیپن کے احساس سے بچنے کیلئے میں نے تجھے زیادہ چھوٹ دے دی اس لئے تیرے دل میں ایسے خیالات آتے ہیں." میں بولا. "غلط ہو یا صحیح، میں تو یہی جانتا ہوں کہ تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو." وہ تھوڑا ناراض ہو کر بولی. "پاگلپن کی باتیں مت کرو. سچ تو یہ ہے کہ تو میرا بیٹا ہے، میری کوکھ سے جنما ہے." میں نے ادیر ہوکر کہا. "اماں، جو ہوا سو ہوا، پر مجھ ناراض مت ہو. میں اپنا پیار نہیں دبا سکتا. تم بھی ٹھنڈے دماغ سے سوچو اور پھر بولو." ماں بہت دیر چپ رہی اور پھر رونے لگی. میرا بھی دل بھر آیا اور میں نے اسے تسلی دینے کو کھینچ کر اپنی باںہوں میں بھر لیا. وہ چھوٹ کر بولی. "چلو، رات بہت ہو گئی ہے، اب گھر چلتے ہیں." اس کے بعد ہمارا گھومنے جانا بند ہو گیا. میرے بہت اصرار کرنے پر بھی وہ میرے ساتھ نہیں آتی تھی اور کہتی تھی کہ میں کسی اپنی عمر کی لڑکی کے ساتھ پکچر دیکھنے جاؤں. مجھ وہ اب بھی دور رہتی تھی اور بولتی کم تھی. پر جیسے میرے دل میں ہلچل تھی ویسی ہی اس کی بھی دل میں ہوتی مجھے صاف نظر آتی تھی. ایک دو ماہ ایسے ہی گزر گئے. اس درمیان میرا ایک چھوٹا بذنےس تھا، وہ کافی کامیاب ہوا اور میں پیسہ کمانے لگا. ایک کار بھی خرید لی. ماں مجھ سے دور ہی رہتی تھی. میرے والد نے بھی ایک بار اس سے پوچھا کہ اب وہ کیوں میرے ساتھ باہر نہیں جاتی تو وہ ٹال گئی. ایک بار اس نے ان سے کہا کہ وہ کیوں نہیں اسے گھمانے لے جاتے تو کام زیادہ ہونے کا بہانہ کر کے وہ مکر گئے. شراب پینا ان کا ویسے ہی چالو تھا. اس دن ان میں خوب جھگڑا ہوا اور آخر ماں روتے ہوئے اپنے کمرے میں گئی اور دھاڑ سے دروازہ لگا لیا. دوسرے دن بدھ کو جب میرے بھائی بہن باہر گئے تھے، میں نے ایک بار پھر ہمت کرکے اسے اتوار کو پکچر چلنے کو کہا تو وہ خاموشی مان گئی. میری خوشی کا ٹھکانا نہ رہا اور میں اس سے لپٹ گیا. اس نے بھی میرے سینے پر سر ٹکاکر آنکھیں بند کر لیں. میں نے اسے کس کر باںہوں میں بھر لیا. یہ بڑا مدھر لمحہ تھا. ہمارا تعلق گہرا ہونے کا اور مکمل بدل جانے کا یہ نشان تھا. میں نے پیار سے اس کی پیٹھ اور کندھے پر ہاتھ فےرے اور آہستہ سے اس کے کولہوں کو سہلایا. وہ کچھ نہ بولی اور مجھ اور کس کر لپٹ گی. میں نے اس کی ٹھڈڈي پکڑ کر اس کا سر اٹھایا اور اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا. "اماں، میں تجھے بہت پیار کرتا ہوں، جو بھی ہو، میں تجھے اکیلا نہیں رہنے دوں گا." فر جھک کر میں نے اس کے گال اور آنکھیں چومي اور جرات کر کے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیے. ماں بالکل نہیں مشغول ہوئی بلکہ میرے بوسہ کا میٹھا پرتساد اس نے مجھے دیا. میری ماں کا وہ پہلا بوسہ میرے لیے امرت سے زیادہ میٹھا تھا . اس کے بعد تو اس میں بہت تبدیلی آ گیا. ہمیشہ وہ میری راہ دیکھا کرتی تھی اور میری لائی ہوئی وےي بڑے پیار سے اپنے بالوں میں پہن لیتی تھی. جب بھی ہم اکیلے ہوتے، ایک دوسرے کے آلںگن میں بندھ جاتے اور میں اس کے جسم کو سهلاكر اپنی کچھ پیاس بجھا لیتا. ماں کا یہ بدلہ طور سب نے دیکھا اور خوش ہوئے کہ ماں اب کتنی خوش نظر آتی ہے. میری بہن نے تو مذاق میں یہ بھی کہا کہ اتنا بڑا اور جوان ہونے پر بھی میں چھوٹے بچے جیسا ماں کے پیچھے گھومتا ہوں. میں نے جواب دیا کہ آخر اماں کا تنہائی کچھ تو دور کرنا ہمارا بھی فرض ہے. اس اتوار کو اماں نے ایک بہت خوبصورت باریک شفان کی ساڑی اور ایکدم تنگ بلاز پہنا. اس کے سینوں کا ابھار اور کولہوں کی گولائی ان میں نكھر آئے تھے. وہ بالکل جوان لگ رہی تھی اور سنیما ہال میں کافی لوگ اس کی طرف دیکھ رہے تھے. وہ مجھ بس سات آٹھ سال بڑی لگ رہی تھی اس لئے لوگوں کو یہی لگا ہوگا کہ ہماری جوڑی ہے. پکچر بڑی رومانٹك تھی. ماں نے ہمیشہ کی طرح میرے کندھے پر سر رکھ دیا اور میں نے اس کے کندھوں کو اپنی بانہہ میں گھیر کر اسے پاس کھیںچ لیا. پکچر کے بعد ہم پارک میں گئے. رات کافی سہانی تھی. ماں نے میری طرف دیکھ کر کہا. "خوبصورت بیٹے، تو نے مجھے بہت خوشی دی ہے. اتنے دن تو نے صبر رکھا. آج مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے." میں نے ماں کی طرف دیکھ کر کہا. "اماں، آج تم بہت حسین لگ رہی ہو. اور صرف خوبصورت ہی نہیں بلکہ بہت سیکسی بھی." اماں شرما گئی اور ہنس کر بولی. "خوبصورت، اگر تو میرا بیٹا نہ ہوتا تو میں یہی سمجھتی کہ تو مجھ پر ڈورے ڈال رہا ہے." میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا. "ہاں اماں، میں یہی کر رہا ہوں." ماں تھوڑا پیچھے ہٹی اور کاںپتے لہجے میں بولی. "یہ کیا کہہ رہا ہے بیٹا، میں تمہاری ماں ہوں، تو میری کوکھ سے پیدا ہؤا ہے. اور پھر میری شادی ہوئی ہے تیرے والد سے" میں بولا "اماں، انہوں نے تمہیں جو سکھ دینا چاہیے وہ نہیں دیا ہے، مجھے آزما کر دیکھو میں تمہیں بہت پیار اور سکھ دوں گا." ماں کافی دیر چپ رہی اور پھر بولی. "خوبصورت، اب گھر چلنا چاہیئے نہیں تو ہم کچھ ایسا کر بیٹھیں جو ایک ماں بیٹے کو نہیں کرنا چاہیے تو زندگی بھر ہمیں پچھتانا پڑے گا." میں تڑپ کر بولا "اماں، میں تمہیں دکھ نہیں پہنچانا چاہتا پر تم اتنی خوبصورت ہو کہ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ کاش تم میری ماں نہ ہوتیں تو میں فر تمہارے ساتھ چاہے جو کر سکتا تھا." میری اس محبت اور چاہت بھری بات پر ماں کھل اٹھی اور میرے گالوں کو سہلاتے ہئے بولی. "میرے بچے، تو بھی مجھے بہت پیارا لگتا ہے، میں تو بہت خوش ہوں کہ تیرے ایسا بیٹا مجھے ملا ہے. کیا واقعی میں اتنی خوبصورت ہوں کہ میرے جوان بیٹے کو مجھ پر محبت آ گیا ہے؟" میں نے اسے باںہوں میں بھرتے ہوئے کہا. "ہاں اماں، تم سچ میں بہت خوبصورت اور سیکسی ہو." اچانک میرے صبر کا باندھ ٹوٹ گیا اور میں نے جھک کر ماں کا بوسہ لے لیا. ماں نے عذاب تو نہیں کیا پر ایک بت جیسی خاموشی میری باںہوں میں بندھے رہی. اب میں اور زور سے اسے چومنے لگا. سهسا ماں نے بھی میرے بوسہ کا جواب دینا شروع کر دیا. اس کا ضبط بھی کمزور ہو گیا تھا. اب میں اس کے پورے چہرے کو، گالوں کو، آنکھوں کو اور بالوں کو بار بار چومنے لگا. اپنے ہونٹ فر ماں کے نرم ہونٹوں پر رکھ کر جب میں نے اپنی جیبھ ان پر لگائی تو اس نے منہ کھول کر اپنے چہرے کو میٹھا خزانہ میرے لیے کھلا کر دیا. کافی دیر کی چوماچاٹي کے بعد ماں الگ ہوئی اور بولی. "خوبصورت، بہت دیر ہو گئی بیٹے، اب گھر چلنا چاہیئے." گھر جاتے وقت جب میں کار چلا رہا تھا تو ماں مجھ سے چپک کر میرے کندھے پر سر رکھ کر بیٹھی تھی. میں نے كنكھيو سے دیکھا کہ اس کے ہونٹوں پر ایک بڑی مدھر مسکراہٹ تھی درمیان میں ہی میں نے ایک گلی میں کار روک کر حیران ہوئی ماں کو فر آلںگن میں بھر لیا اور اسے بیتہاشا چومنے لگا. اس بار میں نے اپنا ہاتھ اس کے چھاتی پر رکھا اور ان سے محبت سے ٹٹولنے لگا. ماں تھوڑی گھبرائی اور اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی. "خوبصورت، ہمیں یہ نہیں کرنا چاہیئے بیٹے." میں نے اپنے ہونٹوں سے اس کا منہ بند کر دیا اور اس کا گہرا بوسہ لیتے ہوئے ان مانسل بھرے ہوئے ستنوں کو ہاتھ میں لے کر ہلکے ہلکے دبانے لگا. بڑے بڑے مانسل ان اروجوں کو میرے ہاتھ میں رابطے مجھے بڑا منشیات لگ رہا تھا. انہی سے میں نے بچپن میں دودھ پیا تھا. ماں بھی اب اتیجت ہو چلی تھی اور سسکاریاں بھرتے ہوئے مجھے زور زور سے چومنے لگی تھی. فر کسی طرح سے اس نے میرے آلںگن کو توڑا اور بولی. "اب گھر چل بیٹا." میں نے چپ چاپ کار سٹارٹ کی اور ہم گھر آ گئے. گھر میں اندھیرا تھا اور شاید سب سو گئے تھے. مجھے معلوم تھا کہ میرے والد اپنے کمرے میں نشے میں دھت پڑے ہوں گے. گھر میں اندر آ کر وہیں ڈرائنگ روم میں میں فر ماں کو چومنے لگا. اس نے اس بار احتجاج کیا کہ کوئی آ جائے گا اور دیکھ لے گا. میں دھیرے سے بولا. "اماں، میں تمہیں بہت پیار کرتا ہوں، ایسا میں نے کسی اور عورت یا لڑکی کو نہیں کیا. مجھ سے نہیں رہا جاتا، سارے وقت تمہارے ان رسیلے ہونٹوں کا بوسہ لینے کی خواہش ہوتی رہتی ہے. اور پھر سب سو گئے ہیں، کوئی نہیں آئے گا. " ماں بولی "میں جانتی ہوں بیٹے، میں بھی تجھے بہت پیار کرتی ہوں. پر آخر میں آپ کے والد کی بیوی ہوں، ان کا باندھا مریخ فارمولا اب بھی میرے گلے میں ہے." میں دھیرے سے بولا. "اماں، ہم تو صرف بوسہ لے رہے ہیں، اس میں کیا پریشانی ہے؟" ماں بولی "پر خوبصورت، کوئی اگر نیچے آ گیا تو دیکھ لے گا." مجھے ایک ترکیب سوجھی. "اماں، میرے کمرے میں چلیں؟ اندر سے بند کر کے سٹكني لگا لیں گے. باپو تو نشے میں سوئے ہیں، انہیں خبر تک نہیں ہوگی." ماں کچھ دیر سوچتی رہی. صاف دکھ رہا تھا کہ اس کے دل میں بڑی ہلچل مچی ہوئی تھی. پر جیت آخر میرے پیار کی ہوئی. وہ سر ڈلا کر بولی. "ٹھیک ہے بیٹا، تم اپنے کمرے میں چل کر میری راہ دیکھ، میں ابھی دیکھ کر آتی ہوں کہ سب سو رہے ہیں یا نہیں." میری خوشی کا اب اختتام نہ تھا. اپنے کمرے میں جا کر میں نے ادھر ادھر گھومتا ہوا بے چینی سے ماں کا انتظار کرنے لگا. کچھ دیر میں دروازہ کھلا اور ماں اندر آئی. اس نے دروازہ بند کیا اور سٹكني لگا لی. میرے پاس آکر وہ كاپتي آواز میں بولی. "تیرے والد ہمیشہ جیسے پی کر سو رہے ہیں. پر خوبصورت، شاید ہمیں یہ سب نہیں کرنا چاہیے. اس کا اختتام کہاں ہوگا، کیا پتا. مجھے ڈر بھی لگ رہا ہے." میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے دلاسہ دیا. "ڈر مت اماں، میں جو ہوں تیرا بیٹا، تجھ پر آنچ نہ آنے دوں گا. میرا یقین کرو. کسی کو پتہ نہیں چلے گا" ماں سست آواز میں بولی "ٹھیک ہے خوبصورت بیٹے." اور اس نے سر اٹھا کر میرا گال پیار سے چوم لیا. میں نے اپنی قمیض اتاری اور اماں کو باںہوں میں بھر کر بستر پر بیٹھ گیا اور اس کے ہونٹ چومنے لگا. ہمارے چبنو نے جلد ہی شدید شکل لے لیا اور زور سے چلتی سانسوں سے ماں کی اتیجنا بھی واضح ہو گئی. میرے ہاتھ اب اس کے پورے بدن پر گھوم رہے تھے. میں نے اس کے اروج دبایے اور کولہوں کو سہلایا. آخر مجھ سے اور نہ رہا گیا اور میں نے ماں کے بلاز کے بٹن کھولنے شروع کر دیے ایک لمحہ کو ماں کا جسم سهسا سخت ہو گیا اور پھر اس کا آخری ضبط بھی ٹوٹ گیا. آپ کے جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر اس نے اپنے آپ کو میرے حوالے کر دیا. اس سے پہلے کہ وہ فر کچھ آنا کانی کرے، میں نے جلدی سے بٹن کھول کر اس کا بلاز اتار دیا. اس سارے وقت میں مسلسل اس کے ملائم ہونٹوں کو چوم رہا تھا. برےسير میں بندھے ان ابھرے سینوں کی بات ہی اور تھی، کسی بھی عورت کو اس طرح سے نیم برہنہ دیکھنا کتنا متحرک ہوتا ہے، اور یہ تو میری ماں تھی. بلاز اترنے پر ماں فر تھوڑا هچكچاي اور بولنے لگی. "ٹھہر بیٹے، سوچ یہ ٹھیک ہے یا نہیں، ماں بیٹے کا ایسا تعلق ٹھیک نہیں ہے میرے لال! اگر کچھ ..." اب پیچھے ہٹنے کا سوال ہی نہیں تھا اس لئے میں نے اس کا منہ اپنے ہوںٹھوں سے بند کر دیا اور اسے آلںگن میں بھر لیا. اب میں نے اس کی برےسير کے ہک کھول کر اسے بھی نکال دیا. ماں نے خاموشی ہاتھ اوپر کرکے برا نکالنے میں میری مدد کی. اس کے ننگے چھاتی اب میری چھاتی پر ملحق تھے اور اس کے ابھرے نپلو کا لمس مجھے مدہوش کر رہا تھا. اروجوں کو ہاتھ میں لے کر میں ان سے کھیلنے لگا. بڑے ملائم اور مانسل تھے وہ. جھک کر میں نے ایک نپل منہ میں لے لیا اور چوسنے لگا. ماں اتیجنا سے سسک اٹھی. اس کے نپل بڑے اور طویل تھے اور جلد ہی میرے چوسنے سے سخت ہو گئے. میں نے سر اٹھا کر کہا "اماں، میں تجھے بہت پیار کرتا ہوں. مجھے معلوم ہے کہ اپنے ہی ماں کے ساتھ رت کرنا ٹھیک نہیں ہے، پر میں کیا کروں، میں اب نہیں رہ سکتا." اور فر سے ماں کے نپل چوسنے لگا. اس کے جسم کو چومتے ہئے میں نیچے کی طرف بڑھا اور اپنی زبان سے اس کی ناف چاٹنے لگا. وہاں کا تھوڑا نمکین ذائقہ مجھے بہت منشیات لگ رہا تھا. ماں بھی اب مستی سے ہنکار رہی تھی اور میرے سر کو اپنے پیٹ پر دبایے ہوئی تھی. اس کی ناف میں زبان چلاتے ہوئے میں نے اس کے پاؤں سہلانا شروع کر دیے. اس کے پاؤں بڑے چکنے اور بھرے ہوئے تھے. اپنا ہاتھ اب میں نے اس کی ساڑی اور پیٹیکوٹ کے نیچے ڈال کر اس کی مانسل موٹی جاںگھیں رگڑنا شروع کر دیں. میرا ہاتھ جب رانوں کے درمیان پہنچا تو ماں فر سے تھوڑی سمٹ سی گئی اور رانوں میں میرے ہاتھ کو پکڑ لیا کہ اور آگے نہ جاؤں. میں نے اپنی جیبھ اس کے ہونٹوں پر لگا کر اس کا منہ کھول دیا اور زبان اندر ڈال دی. اماں میرے منہ میں ہی تھوڑی سےسسکی اور فر میری جیب کو چوسنے لگی. اپنی جاںگھیں بھی اس نے الگ کر کے میرے ہاتھ کو کھلا چھوڑ دیا. میرا راستہ اب کھلا تھا. مجھے کچھ دیر تک تو یہ یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ میری ماں، میرے خوابوں کی رانی، وہ عورت جس نے مجھے اور میرے بھائی بہنوں کو اپنی کوکھ سے پیدا ہؤا تھا، وہ آج مجھ سے، اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ رت كريڑا کرنے کی اجازت دے رہی ہے. ماں کے پیٹیکوٹ کے اوپر سے ہی میں نے اس کے فولے جننانگوں کو رگڑنا شروع کر دیا. اماں اب كامواسنا سے کراہ اٹھی. اس کی اندام نہانی کا گیلاپن اب پیٹیکوٹ کو بھی بھیگی رہا تھا. میں نے ہاتھ نكلاكر اسکی ساڑی پکڑ کر اتار دی اور پھر کھڑا ہو کر اپنے کپڑے اتارنے لگا. کپڑوں سے چھوٹتے ہی میرا بری طرح تننايا ہوا لوہے کے ڈنڈے جیسا عضو تناسل اچھل کر کھڑا ہو گیا. میں فر پلنگ پر لیٹ کر اماں کی کمر سے لپٹ گیا اور اس کے پیٹیکوٹ کے اوپر سے ہی اس کے پیٹ کے نچلے حصہ میں اپنا منہ دبا دیا. اب اس کے جننانگوں اور میرے منہ کے درمیان صرف وہ پیٹیکوٹ تھا جس سے ماں کی اندام نہانی کے رس کی بھینی بھینی منشیات خوشبو میری ناک میں جا رہی تھی. اپنا سر اس کے پیٹ میں گھساكر رگڑتے ہوئے میں اس خوشبو سے لطف اٹھانے لگا اور پیٹیکوٹ کے اوپر سے ہی اس کے جننانگوں کو چومنے لگا. میرے ہوںٹھوں کو پیٹیکوٹ کے کپڑے میں سے ماں کے جننانگوں پر اوگے گھنے بالوں کا بھی تجربہ ہو رہا تھا. اس منشیات رس کا ذائقہ لینے کو مچلتے ہوئے میرے من کی تسلی کے لیے میں نے اس کے کپڑے کو ہی چوستے اور چاٹنا شروع کر دیا آخر اتاولا ہوکر میں نے اماں کے پیٹیکوٹ کی پلس کھولی اور اسے کھینچ کر اتارنے لگا. ماں ایک بار پھر کچھ هچكچاي. "او میرے پیارے بیٹے، اب بھی وقت ہے ... رک جا میرے بیٹے .... یہ کرنا ٹھیک نہیں ہے رے ..." میں نے اس کا پیٹ چومتے ہوئے کہا "اماں، میں تجھ سے بہت محبت کرتا ہوں، تم میرے لیے دنیا کی سب سے خوبصورت عورت ہو. ماں اور بیٹے کے درمیان کام تعلق نامناسب ہے یہ میں جانتا ہوں پر دو لوگ اگر ایک دوسرے کو بہت چاہتے ہوں تو ان میں رت كريڑا میں کیا حرج ہے؟ ہے " ماں سسکاریاں بھرتی ہوئی بولی. "پر خوبصورت، اگر کسی کو پتہ چل گیا تو؟" میں نے کپڑے کے اوپر سے اسکی بر میں منہ رگڑتے ہوئے کہا. "اماں، ہم چپ چاپ محبت کیا کریں گے، کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی." وہ فر کچھ بولنا چاہتی تھی پر میں نے ہاتھ سے اس کا منہ بند کر دیا اور اس کے بال اور آنکھیں چومنے لگا. بھاو وبھور ہوکر اماں نے آنکھیں بند کر لیں اور میں پھر اس منشیات رسیلے ہوںٹھ چومنے لگا. اچانک ماں نے نڈھال ہو کر آگے ہتھیار ڈال دئے اور بیتہاشا مجھے چومنے لگی. اس کی بھی ہوس اب قابو سے باہر ہو گئی تھی. منہ کھول کر جيبھے لڑاتے ہوئے اور ایک دوسرے کا مكھرس چوستے ہوئے ہم چوماچاٹي کرنے لگے. میں نے فر اس کا پیٹیکوٹ اتارنا چاہا تو اب اس نے عذاب نہیں کیا. پیٹیکوٹ نکال کر میں نے فرش پر فیںک دیا. ماں نے کسی نئی دلہن جیسے شرم سے اپنے ہاتھوں سے اپنی بر کو ڈھک لیا. اپنے اس خزانے کو وہ اپنے بیٹے سے چھپانے کی کوشش کر رہی تھی. میں نے اس کے ہاتھ پکڑ کر الگ کئے اور اس انمول چیز کو من بھر کر دیکھنے لگا. سیاہ گھنے بالوں سے بھری اس موٹی فولي ہوئی بر کو میں نے دیکھا اور میرا لںڈ اور اچھلنے لگا. اسی میں سے میں پیدا ہؤا تھا! ماں نے شرما کر مجھے اپنے اوپر کھینچ لیا اور چومنے لگی. اسے چومتے ہوئے میں نے اپنے ہاتھوں سے اس کی بر سہلائی اور پھر اس کی اروجوں کو چومتے ہوئے اور نپلو کو ایک چھوٹے بچے کی طرح چوستے ہوئے اپنی انگلی اس کی بر کی لکیر میں گھمانے لگا. بر ایکدم گیلی تھی اور میں نے فوری طور اپنی بیچ کی انگلی اس تپي ہوئی نرم رستي ہوئی چوت میں ڈال دی. مجھے لگ رہا تھا کہ میں جنت میں ہوں کیونکہ خواب میں بھی میں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ میری ماں کبھی مجھے اپنا پیٹیکوٹ اتار کر اپنی چوت سے کھیلنے دے گی. میں اب ماں کے جسم کو چومتے ہوئے نیچے کھسکا اور اس کی رانیں چومنے اور چاٹنے لگا. جب آخر اپنا منہ میں نے ماں کی گھنی جھانٹوں میں چھپا کر اس کی چوت کو چومنا شروع کیا، تو کملا، میری ماں، مستی سے همك اٹھی. جھانٹوں کو چومتے ہوئے میں نے اپنی انگلی سے اس کے بھگوشٹھ کھولے اور اس مخملی چوت کا نظارہ اب بالکل پاس سے میرے سامنے تھا. ماں کی چوت میں سے نکلتی منشیات خوشبو سوگھتے ہوئے میں نے اس کے لال مخملی سوراخ کو دیکھا اور اس کے چھوٹے سے گلابی موترچھدر کو اور اس کے اوپر دکھائی دے رہے انار کے دانے جیسے کلٹورس کو چوم لیا. اپنی زبان میں نے اس خزانے میں ڈال دی اور اس میں سے بہتے خوشبودار امرت کا پان کرنے لگا. جب میں نے ماں کے کلٹورس کو جیبھ سے رگڑا تو وہ تڑپ اٹھی اور ایک اسفٹ كلكاري کے ساتھ اپنی ہاتھوں سے میرا سر اپنی بر پر زور سے دبا لیا. میں نے اب ایک انگلی اماں کی چوت میں ڈالی اور اسے اندر باہر کرتے ہوئے چوت چوسنے لگا. ماں کی سانس اب رک رک کر زور سے چل رہی تھی اور وہ ہوس کے فالتوپن سے هاف رہی تھی. میں نے خوب چوت چوسی اور اس انار کے دانے کو جیبھ سے گھستا رہا. ساتھ ہی انگلی سے اماں کو مشت زنی بھی کرتا رہا. سهسا اماں کا پورا جسم جکڑ گیا اور وہ ایک دبی چیخ کے ساتھ سکھلت ہو گئی. میں اسکا كلٹ چاٹتا رہا اور چوت میں سے نکلتے رس پان کرتا رہا. بڑی سهاوني گھڑی تھی وہ. میں نے ماں کو اس کا پہلا انزال دلایا تھا. شاد کام ہونے کے بعد وہ کچھ سنبھلی اور مجھے اٹھا کر اپنے اوپر لٹا لیا. میرے سینے میں منہ چھوپاكر وہ شرماتی ہوئی بولی. "خوبصورت بیٹے، نہال ہو گئی آج میں، کتنے دنوں کے بعد پہلی بار اس مستی سے میں جھڑی ہوں." "اماں، تم خوبصورت اور سیکسی کوئی نہیں ہے اس دنیا میں. کتنے دنوں سے میرا یہ خواب تھا تم سے میتھن کرنے کا جو آج مکمل ہو رہا ہے." ماں مجھے چومتے ہوئے بولی. "سچ میں میں اتنے خوبصورت ہوں بیٹے کہ اپنے ہی بیٹے کو رجھا لیا؟" میں نے اس کے چھاتی دباتا ہوا بولا. "ہاں ماں، تم ان سب ابینےتریوں سے بھی خوبصورت ہو." ماں نے میری اس بات پر خوشی سے وبھور ہوتے ہوئے مجھے اپنے اوپر کھینچ کر میرے منہ پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور میرے منہ میں زبان ڈال کر اسے گھمانے لگی؛ ساتھ ہی ساتھ اس نے میرا لںڈ ہاتھ میں پکڑ لیا اور اپنی یون پر اسے رگڑنے لگی. اس کی چوت بالکل گیلی تھی. وہ اب كامواسنا سے سسک اٹھی اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مجھ سے خاموش یاچنا کرنے لگی. میں نے ماں کے کانوں میں کہا. "اماں، میں تجھے بہت پیار کرتا ہوں، اب تجھے چودنا چاہتا ہوں." اماں نے اپنی ٹاںگیں پسار دیں. یہ اس کی خاموش رضامندی تھی. ساتھ ہی اس نے میرا لںڈ ہاتھ میں لیکر سپاڑا خود ہی اپنی چوت کے منہ پر جما دیا. اس کا منہ چوستے ہوئے اور اس کی کالی مدبھری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے میں نے لںڈ پیلنا شرو کیا. میرا لںڈ کافی موٹا اور تگڑا تھا اس لئے آہستہ آہستہ اندر گیا. اس کی چوت کسی گلاب کے فول کی پنکھڑیوں جیسی چوڑی ہو کر میرا لںڈ اندر لینے لگی
 اماں اب اتنی كاماتر ہو گئی تھی کہ اس سے یہ سست کا عضو تناسل داخل برداشت نہیں ہوا اور مچل کر سهسا اس نے اپنے نتب اچھال کر ایک دھکا دیا اور میرا لںڈ جڑ تک اپنی چوت لے لیا. ماں کی چوت بڑی ٹائیٹ تھی. مجھے تعجب ہوا کہ تین بچوں کے بعد بھی میری دق کی اندام نہانی اتنی تنگ کیسے ہے. اس کی اندام نہانی کی طاقتور پیشیوں نے میرے عضو تناسل کو گھوسے جیسا پکڑ رکھا تھا. میں نے لنڈ آدھا باہر نکالا اور پھر مکمل اندر پیل دیا. گیلی تپي اس بر میں لںڈ ایسا مست سرک رہا تھا جیسے اس میں مکھن لگا ہو. اس کے بعد میں پورے زور سے ماں کو چودنے میں لگ گیا. میں اتنا اتیجیت تھا کہ جتنا کبھی زندگی میں نہیں ہوا. میرے تن کر کھڑے لنڈ میں بہت خوشگوار احساس ہو رہی تھی اور میں اس کا مزہ لیتا ہوا اماں کو ایسے هچك هچك کر چود رہا تھا کہ ہر دھکے سے اس کا جسم ہل جاتا. ماں کی چوت کے رس میں سرابور میرا عضو تناسل بہت آسانی سے اندر باہر ہو رہا تھا. ہم دونوں مدہوش ہو کر ایسے چود رہے تھے جیسے ہمیں اسی کام ایک کیلئے بنایا گیا ہو. ماں نے میری پیٹھ کو اپنی باںہوں میں کس رکھا تھا اور میرے ہر دھکے پر وہ نیچے سے اپنے نتب اچھال کر دھکا لگا رہی تھی. ہر بار جب میں اپنا عضو تناسل اماں کی اندام نہانی میں گھساتا تو وہ اس کے بچہ دانی کے منہ پر پہنچ جاتا، اس ملائم اندر کے منہ کا ٹچ مجھے اپنے سپاڑے پر صاف محسوس ہوتا. اماں اب جور جور سے سانسیں لیتے ہوئے جھڑنے کے قریب تھی. جانوروں کی طرح ہم نے پندرہ منٹ زوردار جماع کیا. فر اچانک ماں کا جسم جکڑ گیا اور وہ کانپنے لگی. ماں کے اس شدید انزال کی وجہ اس کی اندام نہانی میرے لںڈ کو اب پکڑنے چھوڑنے لگی اور اسی وقت میں نے بھی کسمسا کر جھڑ گیا. اتنا ویرے میرے لںڈ نے اس کی چوت میں اگلا کہ وہ باہر نکل کر بہنے لگا. کافی دیر ہم ایک دوسرے کو چومتے ہوئے اس سورگك لطف کو بھوگتے ہوئے ویسے ہی لپٹے پڑے رہے. ماں کے میٹھے چبنو سے اور میری چھاتی پر دبے اس نرم اروجوں اور ان کے درمیان کی سخت نپلو کی چبھن سے اب بھی اندام نہانی میں گھسا ہوا میرا عضو تناسل فر آہستہ آہستہ کھڑا ہو گیا. جلد ہی ہمارا جماع فر شروع ہو گیا. اس بار ہم نے مزے لے لے کر بہت دیر كامكريڑا کی. ماں کو میں نے بہت پیار سے ہؤلے ہؤلے اسکے بوسہ لیتے ہوئے قریب آدھے گھنٹے تک چودا. ہم دونوں ایک ساتھ سکھلت ہوئے. اماں کی آنکھوں میں ایک مکمل ترپت کے بھاو تھے. مجھے پیار کرتی ہوئی وہ بولی. "خوبصورت، تیرا بہت بڑا ہے بیٹے، بالکل مجھے پورا بھر دیا تو نے." میں بہت خوش تھا اور فخر محسوس کر رہا تھا کہ پہلے ہی میتھن میں میں نے اماں کو وہ سکھ دیا جو آج تک کوئی اسے نہیں دے پایا تھا. میں بھرے لہجے میں بولا. "یہ اس لئے ماں کہ میں تجھپر مرتا ہوں اور بہت محبت کرتا ہوں." ماں سہر کر بولی. "اتنا لطف مجھے کبھی نہیں آیا. میں تو بھول ہی گئی تھی کہ انزال کسے کہتے ہیں" میں ماں کو لپٹا رہا اور ہم محبت سے ایک دوسرے کے بدن سہلاتے ہوئے چومتے رہے. آخر ماں مجھے الگ کرتے ہوئے بولی "سندر، میرے بادشاہ، میرے لال، اب میں جاتی ہوں. ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے، کسی کو شک نہ ہو جائے." اٹھ کر اس نے اپنا بدن پوچھا اور کپڑے پہننے لگی. میں نے اس سے دھیمے لہجے میں پوچھا. "اماں، میں تمہارا پیٹیکوٹ رکھ لوں؟ آپ کی پہلی رات کی نشانی؟" وہ مسکرا کر بولی. "رکھ لے بادشاہ، پر چھپا کر رکھنا." اس نے ساڑی پہنی اور مجھے ایک آخری بوسہ دے کر باہر چلی گئی. میں جلد ہی سو گیا، سوتے وقت میں نے اپنی ماں کا پیٹیکوٹ اپنے تکیے پر رکھا تھا. اس میں سے آ رہی ماں کے بدن اور اس کے رس کی خوشبو سوگھتے ہوئے کب میری آنکھ لگ گئی، پتہ ہی نہیں چلا . اگلے دن ناشتے پر جب سب جمع ہوئے تو ماں چپ تھی، مجھ بالکل نہیں بولی. مجھے لگا کہ لو، ہو گئی ناراض، کل شاید مجھ جيادتي ہو گئی. جب میں کام پر جا رہا تھا تو اماں میرے کمرے میں آئی. "بات کرنا ہے تجھسے" سنجیدہ لہجے میں وہ بولی. "کیا بات ہے اماں؟ کیا ہوا؟ میں نے کچھ غلطی کی؟" میں نے ڈرتے ہوئے پوچھا. "نہیں بیٹے" وہ بولی "پر کل رات جو ہوا، وہ اب کبھی نہیں ہونا چاہیے." میں نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا تو اس نے مجھے چپ کر دیا. "کل کی رات میرے لیے بہت متوالي تھی سندر اور ہمیشہ یاد رہے گی. پر یہ مت بھولو کہ میں شادی شدہ ہوں اور تیری ماں ہوں. یہ تعلقات غلط ہے." میں نے فوری طور اس کی مخالفت کی. "اماں، رکو." اس کی طرف بڑھ کر اسے باںہوں میں بھرتے ہوئے میں بولا. "تمہے معلوم ہے کہ میں تمہیں کتنا پیار کرتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ تم بھی مجھے اتنا ہی چاہتی ہو. اس محبت کو ایسی آسانی سے نہیں ختم کیا جا سکتا." میں نے اس کا بوسہ لینے کی کوشش کی تو اس نے اپنا سر ہلا کر نہیں کہتے ہوئے میری باںہوں سے اپنے آپ کو چھڑا لیا. میں نے پیچھے سے آواز دی. "تو کچھ بھی کہہ ماں، میں تو تجھے چھوڑنے والا نہیں ہوں اور ایسا ہی محبت کرتا رہوں گا." روتی ہوئی ماں کے کمرے سے چلی گئی. اس کے بعد ہمارا تعلق ٹوٹ سا گیا. مجھے صاف نظر آتا تھا کہ وہ بہت دکھی ہے فر بھی اس نے میری بات نہیں سنی اور مجھے ٹالتی رہی. میں نے بھی اس کے پیچھے لگنا چھوڑ دیا کیونکہ اس سے اس کے اور دکھ ہوتا تھا. ماں اب میرے لیے ایک لڑکی کی تلاش کرنے لگی کہ میری شادی کر دی جائے. اس نے سب داروں سے پوچھ گچھ شروع کر دی. دن بھر وہ بیٹھ کر آئے ہوئے رشتوں کی كڈليا مجھ ملایا کرتی تھی. زبردستی اس نے مجھے کچھ لڑکیوں سے ملوایا بھی. میں بہت دکھی تھا کہ میری ماں ہی میرے اس محبت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے مجھ پر شادی کی زبردستی کر رہی ہے. آخر میں نے ہار مان لی اور ایک لڑکی پسند کر لی. وہ کچھ کچھ ماں جیسی ہی نظر آتی تھی. پر جب شادی کی تاریخ پکی کرنے کا وقت آیا تو ماں میں اچانک ایک تبدیلی آیا. وہ بات بات میں جھللاتي اور مجھ پر برس پڑتی. اس کی یہ چڑچڑاهٹ بڑھتی ہی گئی. مجھے لگا کہ جیسے وہ میری ہونے والی بیوی سے بہت پانی رہی ہے. آخر ایک دن اکیلے میں اس نے مجھ سے کہا. "خوبصورت، بہت دن سے پکچر نہیں دیکھی، چل اس اتوار کو چلتے ہیں." مجھے خوشی بھی ہوئی اور تعجب بھی ہوا. "ہاں ماں، جیسا تم کہو." میں نے کہا. میں اتنا اتیجیت تھا کہ باقی دن کاٹنا میرے لیے مشکل ہو گیا. یہی سوچتا رہا کہ معلوم نہیں اماں کےدل میں کیا ہے. شاید اس نے صرف میرا دل بہلانے کو یہ کہا ہو. اتوار کو ماں نے فر ٹھیک وہی شفان کی سیکسی ساڑی پہنی. خوب بنٹھن کر وہ تیار ہوئی تھی. میں بھی اس کا وہ منشیات طور دیکھتا رہ گیا. کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ میرے پاس بیٹھ کر پکچر دیکھتی وہ سندری میری ماں ہے. پکچر کے بعد ہم اسی باغ میں اپنے عزیز مقام پر گئے. میں نے ماں کو باںہوں میں کھینچ لیا. میری خوشی کا پاراوار نہ رہا جب اس نے کوئی مخالفت نہیں کی اور خاموشی میرے آلںگن میں سما گئی. میں نے اس کے بوسہ پر بوسہ لینا شروع کر دیے. میرے ہاتھ اس کے پورے بدن کو سہلا اؤر دبا رہے تھے. ماں بھی اتیجت تھی اور اس چوماچاٹي میں مکمل تعاون دے رہی تھی. آخر ہم گھر لوٹے. آدھی رات ہو جانے سے سناٹا تھا. ماں بولی. "تو اپنے کمرے میں جا، میں دیکھ کر آتی ہوں کہ تیرے باپو سو گئے یا نہیں." میں نے اپنے پورے کپڑے نکالے اور بستر میں لیٹ کر اس کا انتظار کرنے لگا. دس منٹ بعد ماں اندر آئی اور دروازہ اندر سے بند کر کے دوڑ کر میری باںہوں میں آ سماي ۔ ایک دوسرے کے بوسہ لیتے ہوئے ہم بستر میں لیٹ گئے. میں نے جلدی اماں کے کپڑے نکالے اور اس کے ننگے موہک جسم کو پیار کرنے لگا. میں نے اس کے اںگ اںگ کو چوما، ایک انچ بھی جگہ کہیں نہیں چھوڑی. اس کے مانسل چکنے نتب پکڑ کر میں اسکے جننانگوں پر ٹوٹ پڑا اور ذہن بھر کر اس میں سے بہتے امرت کو پیا. دو بار ماں کو سکھلت کر کے اس کے رس کا من بھر کر پان کرکے آخر میں نے اسے نیچے لٹايا اور اسپر چڑھ بیٹھا. اماں نے خود ہی اپنی ٹاںگیں فیلا کر میرا لوہے جیسا سخت عضو تناسل اپنی یون کے بھگوشٹھو میں جمع لیا. میں نے بس ذرا سا پےلا اور اس ہموار نرم چوت میں میرا لںڈ مکمل سما گیا. ماں کو باںہوں میں بھر کر اب میں چودنے لگا. اماں میرے ہر وار پر لطف سے سسکتی. ہم ایک دوسرے کو پکڑ کر پلنگ پر لوٹ پوٹ ہوتے ہوئے میتھن کرتے رہے. کبھی وہ نیچے ہوتی، کبھی میں. اس بار ہم نے ضبط رکھ کر خوب جم کر بہت دیر كامكريڑا کی. آخر جب میں اور وہ ایک ساتھ جھڑے تو اس انزال کی میٹھی شدت اتنی تھی کہ ماں رو پڑی "ه خوبصورت بیٹے، مر گئی" وہ بولی "تو نے تو مجھے جیتے جاگتے جنت پہنچا دیا میرے لال." میں نے اسے کس کر پکڑتے ہوئے پوچھا. "اماں، میری شادی کے بارے میں کیا تم نے ارادہ بدل دیا ہے؟" "ہاں بیٹا" وہ میرے گالوں کو چومتے ہوئے بولی. "تجھے نہیں معلوم، یہ مهنا کیسے گزرا میرے لیے. جیسے تیری شادی کی بات پکی کرنے کا دن قریب آتا گیا، میں تو پاگل سی ہو گئی. آخر مجھ سے نہیں رہا گیا، میں اتنی جلتی تھی تیری ہونے والی بیوی سے مجھے احساس ہو گیا کہ میں تجھے بہت پیار کرتی ہوں، صرف بیٹے کی طرح نہیں، ایک ناری کی طرح جو اپنے پریمی کی دیوانی ہے. " میں نے بھی اس کے بالوں کا بوسہ لیتے ہوئے کہا. "ہاں ماں، میں بھی تجھے اپنی ماں جیسے نہیں، ایک ابھساركا کے طور پر محبت کرتا ہوں، میں تجھ سے الگ نہیں رہ سکتا." ماں بولی. "میں جانتی ہوں سندر، تیری باںہوں میں نںگی ہوکر ہی میں نے جانا کہ محبت کیا ہے.

Posted on: 07:03:AM 14-Dec-2020


2 0 108 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 46 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 1 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com