Stories


سمجھدار بہو از رابعہ رابعہ 338

ویسے تو یہ عام سی بات ہے اور بہتوں کی زندگی باہمی سمجھ کی کمی سے کچھ اسی طرح کی ہو جاتی ہے اور تنہائی بڑھ جاتا ہے. پر پھر زندگی میں کوئی آ جاتا ہے تو دنیا مہک اٹھتی ہے رنگین ہو جاتی ہے. میری عمر اب تقریبا 46 سال کی ہو چکی ہے. میں اپنا ایک چھوٹا سا بزنس چلاتے ہوں. 20 سال کی عمر میں شادی کے بعد میری زندگی بہت خوبصورت رہی تھی، ایسا لگتا تھا کہ جیسے یہ رومانس بھری زندگی یوں ہی چلتی رہے گی. ان دنوں جب دیکھو تب ہم دونوں خوب چدائی کرتے تھے. میری بیوی سمن بہت ہی سیکسی لڑکی تھی. پھر وقت آیا کہ میں ایک لڑکے کا باپ بنا. اس کے تقریبا ایک سال گزر جانے کے بعد سمن نے پھر سے کالج جين کرنے کی سوچ لی. وہ گریجویٹ ہونا چاہتی تھی. حالیہ سیشن میں جولائی سے اس نے ایڈمشن لے لیا ... پھر چلا ایک كھاليپن کا دور ... سمن کالج جاتی اور آ کر بس بچے میں کھو جاتی. مجھے کبھی چودنے کی خواہش ہوتی تو وہ بہانہ کر کے ٹال دیتی تھی. ایک بار تو میں نے ہوس میں آکر اسے کھینچ کر باہوں میں بھر لیا ... نتیجہ ... گالیاں اور چڑچڑاپن. مجھے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ہم دونوں میں ایسا کیا ہو گیا ہے کہ چھونا تک اسے برا لگنے لگا تھا. اس طرح سالوں بیت گئے. اس کی مرضی کے بغیر میں نے سمن کو چھوتا بھی نہیں تھا، اس کے غصے سے مجھے ڈر لگتا تھا. میرا لڑکا بھی 21 سال کا ہو گیا اور اس نے اپنے لئے بہت خوبصورت سی لڑکی بھی منتخب کر لی. اس کا نام کومل تھا. بی کام کرنے کے بعد اس نے میرے بزنس میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا تھا. میری بیوی کے رویے سے دکھی ہو کر میرے لڑکے وجے نے اپنا الگ گھر لے لیا تھا. گھر میں زیادہ تنہائی ہونے سے اب میں اور میری بیوی مختلف کمرے میں سوتے تھے. ایکدم تنہائی ... سمن ایک پرائیویٹ اسکول میں ملازمت کرنے لگی تھی. اس کی اپنی سہیلیاں اور دوست بن گئے تھے. تب سے اس کے ایک اسکول کے ٹیچر کے ساتھ اس کی افواہیں اڑنے لگی تھی ... میں نے بھی انہیں ہوٹل میں، فلم میں، گارڈن میں کتنی ہی بار دیکھا تھا. پر مجبور تھا ... کچھ نہیں کہہ سکتا تھا. میرے بیٹے کی بیوی کومل دن کو اکثر مجھ سے بات کرنے میرے پاس آ جاتی تھی. میرا من ان دنوں بھٹکنے لگا تھا. میں دن بھر یا تو دیسی ماسلا لےو پر سیکسی کہانیاں پڑھتا رہتا تھا یا پھر پورن سائٹ پر چدائی کے ویڈیو دیکھتا رہتا تھا. پھر مٹھ مار کر قناعت کر لیتا تھا. نرم ہی ایک عورت کے طور پر میرے سامنے تھی، وہی آہستہ آہستہ میرے من میں چھانے لگی تھی. اسے دیکھ کر میں اپنی کام مذہبی احساسات بننے لگتا تھا. اس بات سے کوسوں دور کہ کہ وہ میرے گھر کی بہو ہے. کومل کو دیکھ کر مجھے لگتا تھا کہ کاش یہ مجھے مل جاتی اور میں اسے خوب چودتا ... پر پھر مجھے لگتا کہ یہ گناہ ہے ... پر کیا کرتا ... مرد کے دماغ تھا ... اور عورت کے نام پر نرم ہی تھی جو کہ میرے پاس تھی. ایک دن کومل نے مجھے کچھ خاص بات بتائی. اس سے دو چیزیں کھل کر سامنے آ گئی. ایک تو میری بیوی کا راج کھل گیا اور دوسرے نرم خود ہی چدنے تیار ہو گئی. کومل کے بتائے مطابق میں نے رات کو ایک بجے سمن کو اس کے کمرے میں کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو ... سب کچھ سمجھ میں آ گیا ... وہ اپنا کمرہ کیوں بند رکھتی تھی، یہ راز بھی کھل گیا. ایک شخص اسے گھوڑی بنا کر چود رہا تھا. سمن واسنا میں بےسدھ تھی اور اپنے چوتڑ ہلا ہلا کر اسکا پورا لنڈ لے رہی تھی. اس شخص کو میں پہچان گیا وہ اس کالج ٹائم کا دوست تھا اور اسی کے اسکول میں ٹیچر تھی. میں نے یہ بات کومل کو بتائی تو اس نے کہا میں نے کہا تھا نا، ماں جی کا سریش کے ساتھ چکر ہے اور رات کو وہ اکثر گھر پر آتا ہے. "جی ہاں نرم ... آج رات کو تو یہیں رہ جا اور دیکھنا ... تیری ساسو ماں کیا کرتی ہے." "جی، میں فتح کو بول کر رات کو آ جاؤں گی ..." شام کو ہی نرم گھر آ گئی، ساتھ میں اپنا نائیٹ سوٹ بھی لے آئی ... اس کا نائیٹ سوٹ کیا تھا کہ بس ... تھوڑا ٹاپ میں اس کے چھاتی اس میں آدھے باہر چھلک پڑ رہے تھے. اس کا گاؤن نیچے اس کے چوتڑوں کی درار تک کے فلسفہ کرا رہا تھا. پر وہ سب اس کے لیے عام تھا. اسے دیکھ کر تو میرا لؤڑا كلاچے بھرنے لگا تھا. میں کب تک اپنے لنڈ کو چھپاتا. کومل کی تیز نظروں سے میرا لنڈ بچ نہ پایا. وہ مسکرا اٹھی. کومل نے میری ہوس کو اور باہر نكالا- پاپا ... ممی سے دور رہتے ہوئے کتنا وقت ہو گیا ...؟ "بیٹی، یہی قریب 16-17 سال ہو چکے ہیں!" "کیا ؟؟ اتنا وقت ... ساتھ بھی نہیں سوئے ... ؟؟" "ساتھ سوئے؟ ہاتھ بھی نہیں لگایا ...!" "تبھی ...!" "کیا تبھی ...؟" میں نے حیرت سے پوچھا. "پاپا ... کبھی کوئی خواہش نہیں ہوتی ہے کیا؟" "ہوتی تو ہے ... پر کیا کر سکتا ہوں ... سمن تو چھونے پر ہی گندی گاليا دیتی ہے." "تو نہیں اور صحیح .... پاپا محبت کی ماری عورتیں تو بہت ہیں ..." "چل چھوڑ !!! اب آرام کر لے ... ابھی تو اسے آنے میں ایک گھنٹہ ہے ... چل لائٹ بند کر دے!" "ایک بات کہوں پاپا، آپ کا بیٹا تو مجھے گھاس ہی نہیں رکھتا ہے ... وہ بھی میرے ساتھ ایسے ہی کرتا ہے!" کومل نے دکھی دل سے کہا. "کیا تو ... تو بھی ... ایسے ہی ...؟" "جی ہاں پاپا ... میرے دل میں بھی تو خواہش ہوتی ہے نا!" "دیکھو تم بھی دکھی، میں بھی دکھی ..." میں نے اس کے من کی بات سمجھ لی ... اسے بھی چدائی چاہیے تھی ... پر کس سے چداتي ... بدنام ہو جاتی ... کہیں ؟؟؟ ... کہیں اسے مجھ چدنا تو نہیں ہے ... نہیں ... نہیں ... میں تو اس کا باپ کی طرح ہوں ... شٹ: ... پر دل کے کسی گوشے میں ایک ہوک اٹھ رہی تھی کہ اسے چدنا ہی ہے. کومل نے بتی بند کر دی. میں نے بستر پر لیتے لیٹے نرم کی طرف دیکھا. اس کی بڑی بڑی پیاسی آنکھیں مجھے ہی گھور رہی تھی. میں نے بھی اس کی آنکھوں سے آنکھیں ملا دی. نرم بغیر جھپک جھپكايے مجھے پیار سے دیکھے جا رہی تھی. وہ مجھے دیکھتی اور آہ بھرتی ... میرے مکھ سے بھی آہ نکل جاتی. آنکھوں سے آنکھیں چد رہی تھی. چكش-چودن کافی دیر تک چلتا رہا ... پر ضرورت تو لنڈ اور چوت کی تھی. آدھے گھنٹے بعد ہی سمن کے کمرے میں روشنی ہو اٹھی. کومل اٹھ گئی. اس کی ہوس بھری نگاہیں میں پہچان گیا. "پاپا وہ لائٹ دیکھو ... آؤ دیکھیں ..." ہم دونوں دبے پاؤں کھڑکی پر آ گئے. کل کی طرح ہی کھڑکی کا پٹ تھوڑا سا کھلا تھا. نرم اور میں نے ایک ساتھ اندر جھانکا. سریش نے اپنے کپڑے اتار رکھے تھے اور سمن کے کپڑے اتار رہا تھا. ننگے ہو کر اب دونوں ایک دوسرے کے اعضاء کو سہلا رہے تھے. اچانک مجھے لگا کہ نرم نے اپنی گانڈ ہلا کر میرے سے چپکا لی ہے. اندر کا منظر اور نرم کی حرکت نے میرا لؤڑا کھڑا کر دیا ... میرا کھڑا لنڈ اسکی چوتڑوں کی درار میں رگڑ کھانے لگا. ادھر سمن نے لنڈ پکڑ کر اسے مسلنا شروع کر دیا تھا اور بار بار اسے اپنی چوت میں گھسانے کی کوشش کر رہی تھی. اچانک میرا ہاتھ نرم کی چوچیوں پر گیا اور میں نے اس کی چوچیاں دبا دی. اس کے منہ سے ایک آہ نکل گئی. مجھے پتہ تھا کہ نرم کا من بھی بے چین ہو رہا تھا. میں نے نیچے لنڈ اور گڑا دیا. اس نے اپنے چوتڑوں کو اور کھول دیا اور لنڈ کو درار میں فٹ کر لیا. کومل نے مجھے مڑ کر دیکھا. فسفساتي ہوئی بولی، "پاپا ... پلیج ... اپنے کمرے میں!" میں دھیرے سے پیچھے ہٹ گیا. اس نے میرا ہاتھ پکڑا ... اور کمرے میں لے چلی. "پاپا ... شرم چھوڑو ... اور اپنے دل کی پیاس بجھا لو ... اور میری کھجلی بھی مٹا دو!" اس کی منت مجھے واسنا میں بہا لے جا رہی تھی. "پر تم میری بہو ہو ... بیٹی یکساں ہو ..." میرا مذہب مجھے روک رہا تھا پر میرا لؤڑا ... وہ تو سر اٹھا چکا تھا، بیکابو ہو رہا تھا. دل تو کہہ رہا تھا پیاری سی کومل کو چود ڈالوں ... "نہ پاپا ... ایسا کیوں سوچ رہے ہیں آپ؟ نہیں ... اب میں ایک مکمل عورت ہوں اور آپ کو ایک مکمل مرد ... ہم وہی کر رہے ہیں جو ایک مرد اور عورت کے درمیان میں ہوتا ہے." کومل نے میرا لنڈ تھام لیا اور مسلنے لگی. میری آہ نکل پڑی. جوانی لنڈ مانگ رہی تھی. میرا سارا جسم جیسے کانپ اٹھا، "دیکھا کیسا تننا رہا ہے ... بہو!" "بہو گھس گئی گانڈ میں پاپا ... رسیلی چوت کا لطف لو پاپا ...!" نرم مکمل طور پر ہوس میں ڈوب چکی تھی. میرا پجاما اس نے نیچے کھینچ دیا. میرا لؤڑا ففکار اٹھا. "سچ ہے نرم ... آجا اب جی بھر کے چدائی کر لے ... جانے ایسا موقع پھر ملے نہ ملے." میں نرم کو چودنے کے لیے بتاب ہو اٹھا. "میرا پجاما اتار دو نا اور یہ ٹاپ ... کھیچ دو اوپر ... مجھے ننگی کر چود دو ... ہاے ..." جوانی لنڈ مانگ رہی تھی. میرا سارا جسم جیسے کانپ اٹھا، "دیکھا کیسا تننا رہا ہے ... بہو!" "بہو گھس گئی گانڈ میں پاپا ... رسیلی چوت کا لطف لو پاپا ...!" نرم مکمل طور پر ہوس میں ڈوب چکی تھی. میرا پجاما اس نے نیچے کھینچ دیا. میرا لؤڑا ففکار اٹھا. "سچ ہے نرم ... آجا اب جی بھر کے چدائی کر لے ... جانے ایسا موقع پھر ملے نہ ملے." میں نرم کو چودنے کے لیے بتاب ہو اٹھا. "میرا پجاما اتار دو نا اور یہ ٹاپ ... کھیچ دو اوپر ... مجھے ننگی کر چود دو ... ہاے ..." میں نے اس کا گاؤن جو پہلے ہی چوتڑوں تک تھا اسے مکمل اتار دیا اؤر ٹاپ اوپر سے اتار دیا. اس کا سیکسی جسم جھیلنے کیلئے میرا لؤڑا تیار تھا. میں بہو بیٹی کا رشتہ بھول چکا تھا. بس لنڈ چوت کا رشتہ سمجھ میں آ رہا تھا. ہم دونوں آپس میں لپٹ پڑے اور بستر پر کود پڑے. اس نے میرے جسم کو نوچنا اور دبانا چالو کر دیا اور اور اپنے ہونٹوں کو میرے چہرے پر بری طرح رگڑنے لگی. اس کے دانت جیسے میرے گالوں پر گڑ گئے. اس کی نئی بیتاب جوانی، مجھ پر بھاری پڑ رہی تھی. اس کے اس قدر نوچنے كھروچنے سے میرے مکھ ایک سست سی چیخ نکل پڑی. میرا لنڈ افان پر آ گیا. وو میرے اوپر سوار تھی، اس کی چوت میرے لنڈ پر بار بار پٹكني کھا رہی تھی. مجھ سہا نہیں جا رہا تھا. "نرم ... چدوا لے نا اب ... دیکھ میری کیا حالت ہو گئی ہے." اس نے پیار سے میرے لنڈ کو دبا لیا اور چوت کو اوپر اٹھا کر سیٹ کر لیا اور لؤڑا چوت میں سما لیا. مجھے لگا جیسے برسوں کی خواہش پوری ہو گئی ہو. جو چیز مشکل سے ملتی ہے وہ انمول ہوتی ہے. اس لئے مجھے لگا کہ نرم کو ناراض نہیں کرنا چاہیے، ورنہ میرا لنڈ پھر سے لٹکا ہی رہ جائے گا. میں اسکی چوت میں لنڈ دھیرے دھیرے اندر باہر کرنے لگا. پر اس کی جوانی تو تیزی مانگ رہی تھی. اس نے اپنی چوت کس لی اور اوپر سے کس-کس کے چودنے لگی ... اور ... میری مشکل ہو گئی. سالوں بعد چدائی کو لنڈ شریک نہیں پایا اور ویرے چھوٹ پڑا. اس کی تازہ جوانی سچ میں مجھ سے کچھ زیادہ ہی مانگ رہی تھی. "نرم ... ہاے نکل گیا میرا مال تو ..." "پاپا ... نکال دو پلیج ... مکمل نکال دو ... پھر سے جمےگے ... نکال دو ..." کومل نے مجھے پیار سے سہارا دیا. میں ڈھیلا پڑ گیا، لنڈ باہر نکل آیا تھا. مجھے یہ سب بہت ہی سہانا لگ رہا تھا. کومل نے واپس آہستہ آہستہ مجھے چومنا چاٹنا شروع کر دیا. میرے لنڈ سے کھیلنے لگی. محبت سے اپنی اپنی چوت میرے چہرے پر لگا دی اور گیلی چوت کا رس پلانے لگی. اپنے بوبے پر میرے ہاتھ رکھ کر دبانے لگی. اپنی گانڈ کو میرے چہرے پر رکھ دیا ... میں نے بھی شوق سے جوان گانڈ کے چھید میں زبان گھسا کر چاٹ ڈالا. اتنی دیر میں میرا لنڈ پھر سے تننا اٹھا. "پاپا مجھے گھوڑی بنا کر چودو." "ہاں ایسے مجا تو آئے گا ... دیکھا نہیں سمن کیسے چدواتی ہے ..." میں بستر سے اتر کر اس کے پیچھے آ گیا. اس نے اپنے چوتڑوں کو پیچھے ابھار لیا. سامنے مجھے اس کی چکنی گانڈ اور اس کا پیارا سا سوراخ نظر گیا. "نرم گانڈ سے شروع کریں ...؟" "گانڈ کے بہت شوقین لگتے ہیں آپ پاپا ..؟" "وہ مرد ہی کیا جس نے گانڈ ہی نہ ماری!" "جی ہاں پاپا ... پھر گانڈ نرم کی ہو تو کیا بات ہے ... لنڈ گانڈ مارے بغیر چھوڑیگا نہیں ... ہے نا ... ہاے پاپا ... گیا اندر ..." "اب دیکھ دوسرے دور میں میرے لنڈ کا کمال ... تیری گانڈ اب گیٹ وے آف انڈیا بننے والی ہے ... اور چوت بھوسڑا بننے والی ہے" میں نے جوش میں کہا اور نرم ہنس پڑی ... اور سسکاریاں بھرنے لگی. ______________________________ "پاپا مار دو گانڈ ... ذرا زور سے مارنا ... میری گانڈ بھی بہت پیاسی ہے ... اههههه" میں نے لنڈ کھینچ کے نکالا اور دبا کر اندر تک گھسا ڈالا ... کومل نے اپنے ہونٹ بھینچ لیے ... اسے درد ہوا تھا ... "ہاے رام ... مر گئی ... ذرا نرمائی سے نا ..." "نہ اب یہ جوش میں آ گیا ہے ... مت روکو اسے ... مروا لو ٹھیک سے اب!" دوسرا جھٹکا اور تیز تھا. اس نے آنکھیں بند کر لی اور درد کے مارے اپنے ہونٹ کاٹ لیے. میں نے لنڈ نکال کر اس کی گانڈ کی چھید پر تھوک کا لوندا لگایا اور پھر سے لنڈ گھسا ڈالا. اس بار اسے نہیں لگی اؤر لنڈ نے پوری گہرائی لے لی. اس کی گانڈ کی دیواریں میرے لنڈ سے رگڑ کھا رہی تھی. مجھے مجا آنے لگا تھا. اس کی سیتکار بھری ہیلو نہیں رکی تھی. پر شاید درد تو تھا. مجھے گانڈ مارنے کا مزہ مکمل آ چکا تھا، میں نے اسے اور تکلیف نہ دے کر چوت چودنا ہی بہتر سمجھا. جیسے ہی لنڈ گانڈ سے باہر نکالا، نرم نے جیسے چین کی سانس لی. "نرم ... چل ٹاںگیں اؤر کھول دے ... اب چوت کا مزا لیں ..." کومل نے آنسو بھرے چہرے سے مجھے دیکھا اور ہنس پڑی. "بہت رلايا پاپا ... اب مستی دے دو نا ..." مجھے اس کی حالات نہیں دیکھی گئی. "ساری نرم ... آگے سے توجہ رکھوں گا!" "نہیں پاپا ... یہی تو گانڈ مرانے کا مزہ ہے ... درد اور چدائی ... نہ تو پھر کیا گانڈ مراي ..." اس کی ہنسی نے ماحول پھر سے واسنامي بنا دیا. میں نے اس کی چوت کے پٹ کھول ڈالے اور اندر گلابی چوت میں لنڈ کو گھسا ... اس کا دانا لنڈ کے سپاڑے سے رگڑ دیا. وہ کچھ ہی لمحوں میں كلكاريا بھرنے لگی. چوت کی گدگدی سے کھلکھلا کر ہنس پڑی. یہ ہوس بھری كلكاريا اور ہنسی مجھے اور اتیجیت کر رہی تھی. اس کی گلابی چوت پر لنڈ کا گھسنا اسے بھی سها رہا تھا اور مجھے بھی سها رہا تھا. بیچ بیچ میں میں اپنا لنڈ دھکا دے کر جڑ تک چود دیتا تھا. پھر واپس نکال کر اس کی رس بھری چوت کو لنڈ سے گھسنے لگتا تھا. اس کی چوت سے پانی ٹپکنے لگا تھا. اس نے میرا لؤڑا پکڑ پر اپنے دانے پر کئی بار رگڑا مارا اور پھر مست ہو اٹھتی تھی. وو میرے لنڈ کے پاس میرے ٹٹٹو کو بھی سہلا دیتی تھی. ٹٹٹو کو وہ آہستہ آہستہ سهلاتي تھی. اب مجھ سے رہا نہیں جا رہا تھا. مے اب چوت میں اپنا لنڈ اندر دبانے لگا، اور مکمل جڑ تک پہنچا دیا. لگا کہ ابھی اور گھس سکتا ہے. میں نے تھوڑا سا لنڈ باہر نکالا اور زور سے مکمل دم لگا کر لنڈ کو گھسیڑ مارا. اس کے منہ سے پھر ایک چیخ نکل پڑی، "آمدنی ہیلو پاپا ... فاڑ ہی ڈالوگے کیا؟" "ساری ... پر لنڈ تو مکمل گھسايے بغیر مزہ نہیں آتا ہے نا" "ساری ... چودو پاپا ... آپ کا لنڈ تو پرانا پاپی لگتا ہے ..." اور ہنس پڑی. چدائی جوروں سے چالو ہو گئی ... کومل مستی میں تڑپ اٹھی. وہ گھوڑی کی طرح هنهنانے لگی ... سسکاریاں بھرنے لگی. میری بھی سيتكارے نکل رہی تھی. "ہاے بٹیا ... چوت ہے یا بھوسڑي ... سالی ہے مزے کی ... کیا مزا آ رہا ہے ... چلا گانڈ ... جور سے ..." "پاپا ... زور سے چود ڈالو نا ... دے لنڈ ... فوڑ دو چوت کو ... مايي رے ... اههههه ... اوييي" اس کی سخت ہوئی نرم چوچیاں مسل مسل کر لال کر دی تھی. چچوك سخت ہو گئے تھے .... دونوں ستنوں کو بھینچ کر چدائی چل رہی تھی. چوچیوں کو ملنے سے وہ انتہائی اتیجت ہو چکی تھی. دانت بھيچ کر کس کر کمر ہلا کر چدوا رہی تھی. پاپا ... میں گئی ... ارے رے ... چد گئی ... وہ ... وہ ... نکلا ... ہاے رے ... ما" کہتے ہوئے نرم نے اپنا رس چھوڑ دیا. وہ جھڑنے لگی. میں نے اس کے بوبے چھوڑ دیئے اور لنڈ پر مرکوز. لنڈ کو جڑ تک گھسا کر دباؤ ڈالا ... اور دباتے ہی گیا. اسے اندر لگنے لگی. "پاپا ... بس نا ... اب نہیں ..." "چپ ہو جا رے ... میرا نکلنے والا ہے ..." "پر میری تو فٹ جائے گی نا ..." "آہ اههه رے ... میں آیا ... اهههه ... نکل رہا ہے ... كومليييي" میں نے اپنا لنڈ باہر نکال لیا. "نرم ... کومل ... ادھر ... آ ..." میں نے نرم کے بال پکڑ کر جلدی سے اس کے منہ کو میرے لنڈ پر رکھ دیا. نرم تب تک سمجھ گئی تھی. اس نے ویرے چھوٹتے ہی منہ میں لؤڑا گھسا لیا. میرا رس پچکاری کے طور پر نکل پڑا. نرم ویرے کو گٹاگٹ نگلنے لگی. پھر آخر میں گائے کا دودھ نکالنے کی طرح لنڈ دهنے لگی اور بچا ہوا مال بھی نکال کر چٹ کر گئی. "پاپا ... آپ رس سے تو پیٹ ہی بھر گیا." میں نے اسے ننگی ہی لپٹا لیا .... "نرم بیٹی ... شکریہ ... تو نے میرے دل کو سمجھا ... میری آگ بجھا دی." "پاپا ... میں تو بہت پہلے سے آپ کی خواہش کو جانتی تھی ... آپ کے پی سی میں ننگی تصاویر اور ڈاونلوڈ کی گئی دیسی ماسلا لےو کی کہانیاں تک میں نے پڑھی ہیں." "سچ ... تو پہلے کیوں نہیں بتایا ..." "شرم اور دھرم کے مارے ... آج تو بس سب کچھ اپنے آپ ہی ہو گیا اور میں آپ سے چد بیٹھی." کومل کے اور میرے ہونٹ آپس میں مل گئے ... عمر کا تقاضہ تھا ... مجھے تھکاوٹ چڑھ گئی اور میں سو گیا. صبح اٹھتے ہی نرم نے چائے بنائی ... میں نے اسے سمجھایا، "نرم دیکھو، آپس میں چودا-چادي کرنے سے گھر کی بات گھر میں ہی رہتی ہے ... پلیج کسی سہیلی سے بھی اس بات کا ذکر نہیں کرنا. سب کچھ ٹھیک چلتا رہے تو ایسے خفیہ رشتے مستی سے بھرے ہوتے ہیں. " "پاپا، میری ایک اٹي کو چودوگے ... بیچاری کا مرد بہت پہلے ہی پرسکون ہو گیا تھا." "ٹھیک ہے تو مال لا اور مجھے مست کر دے ... صرف ..." ہم دونوں ایک دوسرے کا راج لیے مسکرا اٹھے. اب میں اسے میرے دوستو سے چدواتا ہوں اور وہ میرے لیے نئی نئی اٹيا چودنے کے لیے دوستی کراتی ہے. ... دكھيا کی رفتار دكھيا جانے ... اور نا جانے كوي ...

Posted on: 07:05:AM 14-Dec-2020


0 0 222 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 2 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 73 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com