Stories


گھر کا دودھ از رابعہ رابعہ 338

بابوجی، کاٹو مت، کتنی زور سے کاٹتے ہو؟ کھا جاؤ گے کیا میری چوچي؟" غصے سے منجو بائی چللاي اور فر ہنسنے لگی. میں نے اس پر چڑھ کر اسے چود رہا تھا اور اس کی ایک چوچي منہ میں لے کر چوس رہا تھا. اس کا حسین ساںولا جسم میرے نیچے دبا تھا اور اس کی مضبوط ٹاںگیں میری کمر کے ارد گرد لپٹی ہوئی تھیں. میں اتنی مستی میں تھا کہ ہوس برداشت نہیں ہونے سے میں نے منجو کے نپل کو دانتوں میں دبا کر چبا ڈالا تھا اور وہ چللا اٹھی تھی. میں نے اس کی بات کو ان سنی کر کے اس کی نصف چوچي منہ میں بھر لی اور فر سے اسے دانتوں سے کس کر کاٹنے لگا. اس کے فر سے چيكھنے کے پہلے میں نے اپنے منہ سے اس کی چوچي نکالی اور اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں دبا کر اس کی آواز بند کر دی. اس کے ہونٹوں کو چوستے ہوئے میں اب اسے کس کر چودنے لگا. وہ بھی ا ا کی دبی آواز نکالتے ہوئے مجھ چپٹ کر چھٹپٹانے لگی. یہ اس کے جھڑنے کے قریب آنے کی نشانی تھی. جب وہ منہ ہٹانے کی کوشش کرنے لگی تو میں نے اپنے دانتوں میں اس کے ہونٹ دبا لیے، آنکھوں سے انکہی دھمکی دی کہ کاٹ كھاوگا تو وہ چپ ہو گئی. دو تین اور دھکوں کے بعد ہی اس کے بند منہ سے ایک دبی چیخ نکلی اور اس نے اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی. اس کا جسم سخت ہو گیا اور وہ تھرتھرانے لگی. اس کی چوت میں سے اب ڈھیر سا پانی بہہ رہا تھا. میں نے بھی تین چار اور کرارے دھکے لگائے اور اپنا لںڈ اسکی بر میں مکمل اندر پیل کر جھڑ گیا. تھوڑی دیر بعد میں نے لڑھک کر اس کے اوپر سے الگ ہوا اور لیٹ کر سستانے لگا. منجو بائی اٹھ کر اپنے کپڑے پہننے لگی. اس کی چوچي پر میرے دانتوں کے گہرے نشان بن گئے تھے، ہونٹ چوس چوس کر کچھ سوج سے گئے تھے، ان پر بھی دانتوں کے ہلکے نشان بن گئے تھے. اپنے مموں کو سہلاتے ہوئے وہ مجھ شکایت کرتی ہوئی بولی. "بابوجی، کیوں کاٹتے ہو میری چوچي کو بار بار، مجھے بہت دكھتا ہے، پرسوں تو تم نے تھوڑا خون بھی نکال دیا تھا!" اس کی آواز میں شکایت کے ساتھ ساتھ ہلکا سا نكھرا بھی تھا. اسے درد تو ہوا ہوگا پر میری اس ظالم حرکت پر مجا بھی آیا تھا. میں نے کوئی جواب نہیں دیا، صرف مسکراتے ہوئے اسے باںہوں میں کھینچ کر اس کے ساولے ہونٹوں کا بوسہ لیتے ہوئے سوچنے لگا کہ کیا میری تقدیر ہے جو اتنی گرم چدیل عورت میرے پلے پڑی ہے. ایک نوکرانی تھی پہلے، اب میری گرل فرینڈ بن گئی تھی منجو بائی! یہ افسانہ کیسے شروع ہوا اسے میں یاد کر رہا تھا میں نے کچھ ہی مهنے پہلے یہاں نوکری پر آیا تھا. بی ای کے بعد یہ میری پہلی نوکری تھی. فےكٹري ایک چھوٹے شہر کٹائی کے باہر كےمور گاؤں کے پاس تھی، وہاں کوئی آنا پسند نہیں کرتا تھا اس لئے ایک تگڑی سیلری کے ساتھ کمپنی نے مجھے کالونی میں ایک بنگلہ بھی رہنے کو دے دیا تھا. کالونی شہر سے دور تھی اور اس لئے نوکروں کے لیے چھوٹے کوارٹر بھی ہر بنگلے میں بنے تھے. میں اکیلا ہی تھا، ابھی شادی نہیں ہوئی تھی. میرے بنگلے کے کوارٹر میں منجو بائی پہلے سے رہتی تھی. اس بنگلے میں رہنے والے لوگوں کے گھر کا سارا کام کاج کرنے کے لیے کمپنی نے اسے رکھا تھا. وہ پاس کے ہی گاؤں کی تھی پر اسے فری میں رہنے کے لیے کوارٹر اور تھوڑی تنكھا بھی کمپنی دیتی تھی اس لئے وہ بنگلے پر ہی رہتی تھی. ویسے تو اس کا شوہر بھی تھا. میں نے اسے صرف ایک دو بار دیکھا تھا. شاید اس کا اور کہیں لفڑا تھا اور شراب کی لت بھی تھی، اس لئے منجو سے اس کا خوب جھگڑا ہوتا تھا. وہ منجو کی گالی گلوج سے گھبراتا تھا اس لئے اکثر گھر سے مهنو غائب رہتا تھا. منجو میرے گھر کا سارا کام کرتی تھی اور بڑے پیار سے دل لگا کر کرتی تھی. کھانا پکانا، کپڑے دھونا، صفائی کا کام کرنا، میرے لیے مارکیٹ سے ضرورت کی سب چیزیں لے آنا، یہ سب وہی کرتی تھی. مجھے کوئی تکلیف نہیں ہونے دیتی تھی. اس کی امانداري اور میٹھے مزاج کی وجہ اسپر میرا پورا بھروسہ ہو گیا تھا. میں نے گھر کی پوری ذمہ داری اس پر ڈال دی تھی اور اسے اوپر سے تین سو روپے اور دیتا تھا اس لئے وہ بہت خوش تھی. اس کے کہنے سے میں نے بنگلے کے باتھ روم میں اسے نہانے دھونے کی اجازت بھی دے دی تھی کیونکہ نوکروں کے کوارٹر میں باتھ ڈھنگ کا نہیں تھا. غربت کے باوجود صاف ستھرا رہنے کا اسے شوق تھا اور اسيليے بنگلے کے باتھ روم میں نہانے کی اجازت ملنے سے وہ بہت خوش تھی. دن میں دو بار نهاتي اور ہمیشہ ایک دم صاف ستھری رہتی، نہیں تو نوکرانیاں اکثر اتنی صفائی سے نہیں رہتیں. مجھے وہ بابوجی کہہ کر بلاتی تھی اور میں اسے منجو بائی کہتا تھا. میرا برتاؤ اس سے ایک دم اچھا اور مہذب تھا، نوکروں جیسا نہیں. یہاں آئے دو مهنے ہو گئے تھے. ان دو مهنو میں میں نے منجو پر ایک عورت کے طور پر زیادہ دھیان نہیں دیا تھا. مجھے اس کی عمر کا بھی ٹھیک انداز نہیں تھا، ہاں مجھ سے کافی بڑی ہے یہ معلوم تھا. اس طبقے کی عورتیں اکثر تیس سے لے کر پینتالیس تک ایک سی نظر آتی ہیں، سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کی اصلی عمر کیا ہے. کچھ جلدی بوڑھی لگنے لگتی ہیں تو کچھ پچاس کی ہو کر بھی تیس پینتیس کی دکھتی ہیں. منجو کی عمر میرے خیال سے سینتیس اڑتيس کی ہوگی. چالیس بھی ہو سکتی تھی پر وہ اتنی بڑی نظر آتی نہیں تھی. لگتی تھی جیسے تیس کے ارد گرد کی نوجوان عورت ہو. جسم ایک دم مضبوط، حسین اور کسا ہوا تھا. کام کرنے کی اس کی فرتي دیکھ کر میں من ہی من اس کی داد دیتا تھا کہ کیا توانائی ہے اس عورت میں. کبھی کبھی وہ پان بھی کھاتی تھی اور تب اس کے ساولے ہونٹ سرخ ہو جاتے. مجھے پان کا شوق نہیں ہے پر جب وہ پاس سے گزرتے تو اس کے کھائے پان کی خوشبو مجھے بڑی اچھی لگتی تھی. اب اتنے قریب رہنے کے بعد یہ ہونا ہی تھا کہ دھیرے دھیرے میں اس طرف ایک نوکرانی ہی نہیں، ایک عورت کی طرح دیکھنے لگ جاؤں. میں بھی تےيس سال کا جوان تھا، اور جوانی اپنے رنگ دکھائے گا ہی. کام ختم ہونے پر گھر آتا تو کچھ کرنے کے لیے نہیں تھا سوائے ٹی وی دیکھنے کے یا پڑھنے کے. کبھی کبھی کلب ہو آتا تھا پر میرے اکیلیپن کے مزاج کی وجہ سے اکثر گھر میں ہی رہنا پسند کرتا. جب گھر پر ہوتا تو اپنے آپ نظر منجو بائی پر جاتی. منجو کام کرتی رہتی اور میری نظر بار بار اس فرتيلے بدن پر جا کر ٹک جاتی. رات کو پلے دیکھ کر مٹھٹھ مارتے مارتے کبھی دل میں ان گوری گوری عورتوں کے بجائے مجوباي آ جاتی پر میں کوشش کرکے جھڑتے وقت اور کسی کو یاد کر لیتا. منجو بائی کے نام سے جھڑنے کی نوبت تک ابھی میں نہیں پہنچا تھا. ایک بار ایسا ہو جاتا تو دن میں اسے دیکھنے کا میرا انداز بدل جائے گا یہ میرے کو پتا تھا. ایسا شاید چلتا رہتا پر تبھی ایک واقعہ ایسی ہوئی کہ منجو کے تئیں میری روح اچانک بدل گئی. ایسا شاید چلتا رہتا پر تبھی ایک واقعہ ایسی ہوئی کہ منجو کے تئیں میری روح اچانک بدل گئی. ایک دن بےڈمنٹن کھیلتے ہوئے میرے پاؤں میں موچ آ گئی. پہلے لگا تھا کہ معمولی چوٹ ہے پر شام تک پاؤں سوج گیا. دوسرے دن کام پر بھی نہیں جا سکا. ڈاکٹر کی لکھی دوا لی اور مرہم لگایا. پر درد کم نہیں ہو رہا تھا. منجو میری حالت دیکھ کر مجھ سے بولی. "بابوجی، پاؤں کی مالش کردوں؟" میں نے منع کیا. مجھے بھروسہ نہیں تھا، ڈرتا تھا کہ پاؤں اور سوج نہ جائے. اور ویسے بھی ایک عورت سے پیر دبوانا مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا تھا. وہ ضد کرنے لگی، میرے اچھے برتاؤ کی وجہ سے مجھ کو اب وہ بہت مانتی تھی اور میری خدمت کا یہ موقع نہیں چھوڑنا چاہتی تھی "ایک دم آرام ہو جائے گا بابوجی، دیکھو تو، میں بہت اچھا مساج کرتی ہوں، گاؤں میں تو کسی کو ایسا کچھ ہوتا ہے تو مجھے ہی بلاتے ہیں " اس کے چہرے کے جوش کو دیکھ کر میں نے ہاں کر دی، کہ اسے برا نہ لگے. اس نے مجھے پلنگ پر لٹايا اور جا کر گرم کرکے تیل لے آئی. فر پاجامہ اوپر کرکے میرے پاؤں کی مالش کرنے لگی. اس کے ہاتھ میں سچ میں جادو تھا. بہت اچھا لگ رہا تھا. کام کرکے اس کے ہاتھ ذرا سخت اور كھردرے ہو گئے تھے فر بھی ان کا دباؤ میرے پاؤں کو بہت آرام دے رہا تھا. پاس سے میں نے پہلی بار منجو کو ٹھیک سے دیکھا. وہ مالش کرنے میں لگی ہوئی تھی اس لئے اس کا دھیان میرے چہرے پر نہیں تھا. میں خاموشی اسے گھورنے لگا. سادہ کپڑوں میں لپٹی اس سیدھے سادھے طور کے نیچے چھپی اس مادكتا مجھے محسوس ہونے لگی. دیکھنے میں وہ عام تھی. بال جوڑے میں باندھ رکھے تھے ان میں ایک فولو کی وےي تھی. تھی وہ سانولی پر اس کی چمڑی ایکدم ہموار اور دمکتی ہوئی تھی. پیشانی پر بڑی بدي تھی اور ناک میں نتھ پہنے تھی. اس نے گاؤں کی عورتوں جیسے دھوتی کی طرح ساڑی لپےٹي تھی جس سے اس کے چکنے سڈول ٹانگوں اور مانسل پنڈلیاں نظر آرہی تھیں. چولی اور ساڑی کے درمیان نظر آتی اس کی پیٹھ اور کمر بھی ایکدم سپاٹ اور ملائم تھی. چولی کے نیچے شاید وہ کچھ نہیں پہنتی تھی کیونکہ کٹوری سے تیل لینے کو جب وہ مڑتي تو پیچھے سے اس کی چولی کے پتلے کپڑے میں سے برا کا کوئی سٹرےپ نہیں دکھ رہا تھا. اچل اس نے کمر میں كھوس رکھا تھا اور اس کے نیچے سے اس کے سینے کا ہلکا ابھار نظر آتا تھا. اس کے چھاتی زیادہ بڑے نہیں تھے پر ایسا لگتا تھا کہ جتنے بھی ہیں، کافی سخت اور کسے ہوئے ہیں. اس کے اس دبلے پتلے چھرهرے پر دم صحت مند اور کسے ہوئے چکنے جسم کو دیکھ کر پہلی بار مجھے سمجھ میں آیا کہ جب کسی عورت کو تنوگي کہتے ہیں، یعنی جس کا بدن کسی درخت کے تنے جیسا ہوتا ہے، تو اس کا کیا مطلب ہے. اس کے ہاتھوں کے لمس اور پاس سے نظر آتے اس سادہ پر تندرست بدن نے مجھ ایسا جادو کیا کہ جو ہونا تھا وہ ہو کر رہا. میرا لںڈ سر اٹھانے لگا. میں پریشان تھا، اس کے سامنے اسے دبانے کو کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا. پس پلٹ کر پیٹ کے بل سو گیا. وہ کچھ نہیں بولی، پیچھے سے میرے ٹخنوں کی مالش کرتی رہی. اب میں اس کے بارے میں کچھ بھی سوچنے کو آزاد تھا. میں من کے لڈو کھانے لگا. منجو بائی نںگی کیسی نظر آئے گی! اسے بھینچ کر اسے چودنے میں کیا مجا آیگا! میرا لںڈ تننا کر کھڑا ہو گیا. دس منٹ بعد وہ بولی. "اب براہ راست ہو جاؤ بابوجی، پاؤں موڑ کر مساج کروں گی، آپ ایک دم براہ راست چلنے لگوگے" میں آنا کانی کرنے لگا. "ہو گیا، بائی، اب اچھا لگ رہا ہے، تم جاؤ." آخر کھڑا لنڈ اسے کیسے دکھاتا! پر وہ نہیں مانی اور مجبور ہو کر میں نے کروٹ بدلی اور کرتے سے لںڈ کے ابھار کو گے.ڈھک کر دل ہی دل دعا کرنے لگا کہ اسے نہ نظر آئے. ویسے کرتے میں بھی اب خیمہ بن گیا تھا جو چھپنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی. وہ کچھ نہ بولی اور پانچ منٹ میں مساج ختم کرکے چلی گی. "بس ہو گیا بابوجی، اب آرام کرو آپ" کمرے سے باہر جاتے جاتے نےمسکرا بولی "اب دیکھو بابوجی، تمہاری ساری پریشانی دور ہو جائے گی، منجو ہے آپ کی ہر خدمت کرنے کے لئے، صرف آپ حکم کرو" اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی تھی. میں سوچتا رہا کہ اس کے اس کہنے میں اور کچھ مطلب تو نہیں چھپا. اس کی مالش سے میں اسی دن چلنے فرنے لگا. دوسرے دن اس نے فر ایک بار مساج، اور میرا پیر مکمل طور پر ٹھیک ہو گیا. اس بار میں مکمل ہوشیار تھا اور اپنے لںڈ پر میں نے مکمل کنٹرول رکھا. نہ جانے کیوں مجھے لگا کہ جاتے جاتے منجو بائی کچھ مایوس سی لگی، جیسے اسے جو چاہیے تھا وہ نہ ملا ہو. اب اس کو دیکھنے کی میری نظر بدل گئی تھی. جب گھر میں ہوتا تو اس کی نظر بچا کر اس کے جسم کو گھورنے کا میں کوئی موقع نہیں چھوڑتا. کھانا بناتے وقت جب وہ کچن کے چبوترے کے پاس کھڑی ہوتی تو پیچھے سے اسے دیکھنا مجھے بہت اچھا لگتا، اس کی چولی میں سے نظر آتی ہموار پیٹھ اور نازک لمبی گردن مجھ پر جادو سا کر دیتی، میں بار بار کسی بہانے سے کچن کے دروازے سے گزر جاتا اور دماغ بھر کر اسے پیچھے سے دیکھتا. جب وہ چلتی تو میں اس کے چوتڑوں اور ہموار پنڈلیوں کو گھورتا. اس کے چوتڑ چھوٹے تھے پر ایک دم گول اور سخت تھے. جب وہ اپنے پنجوں پر کھڑی ہو کر اوپر دیکھتے ہوئے کپڑے خشک کرنے والی کو ڈالتی تو اس کے چھوٹے ممے تن کر اس کے اچل میں سے اپنی مستی کو دکھانے لگتے. رات کو میں اب کھل کر اس کے بارے میں سوچتے ہوئے مٹھٹھ مارتا. اس کو چود رہا ہوں، اس کے ممے چوس رہا ہوں، یا اس کے اس میٹھے منہ سے لںڈ چسوا رہا ہوں وغیرہ وغیرہ. اب تو مٹھٹھ مارنے کے لیے مجھے پلے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی تھی، صرف منجو بائی کو یاد کرتا اور شروع ہو جاتا. اسے بھی میری اس حالت کا اندازہ ہو گیا ہو گا، آخر مساج کرتے وقت کرتے کے نیچے سے میرا کھڑا لنڈ اس نے دیکھا ہی تھا. پر ناراض ہونے اور برا ماننے کے بجائے وہ بھی اب میرے سامنے کچھ کچھ نخرے دکھانے لگی تھی. بار بار آکر مجھ سے باتیں کرتی، کبھی بےمتلب میری طرف دیکھ کر ہلکے سے ہنس دیتی. اس کی ہنسی بھی ایکدم کے مست تھی، ہنستے وقت اس کی مسکراہٹ بڑی میٹھی ہوتی اور اس کے سفید دانت اور گلابی مسوڑے نظر آتے کیونکہ اس کا اوپری ہونٹ ایک خاص انداز میں اوپر کی طرف مڑکر اور کھل جاتا. میں سمجھ گیا کہ شاید وہ بھی چداسي کی خشک تھی اور مجھے اپنی جانب مائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی. آخر اس جیسی غریب نوکرانی کو میرے جیسا اعلی طبقے نوجوان کہاں ملنے والا تھا؟ اس کا شوہر تو نالائق شرابی تھا ہی، اس سے تعلق تو منجو نے کب کے توڑ لیے تھے. مجھے پورا یقین ہو گیا کہ بس میرے پہل کرنے کی دیر ہے، یہ شکار خود میرے پنجے میں آ فسےگا. پر میں نے کوئی پہل نہیں کی. ڈر تھا کچھ لفڑا نہ ہو جائے، اور اگر میں نے منجو کو سمجھنے میں بھول کی ہو تو پھر تو بہت تماشا ہو جائے گا. وہ چللا کر پوری کالونی سر پر نہ اٹھا لے، کمپنی میں منہ دکھانے کی جگہ نہ ملے گی، نوکری بھی چھوڑنا پڑے گی . پر منجو نے میری نظر کی بھوک شناخت لی تھی. اب اس نے آگے قدم بڑھانا شروع کر دیا. وہ تھی بڑی ہوشیار، میرے خیال سے اس نے دل میں ٹھان لی تھی کہ مجھے فسا کر رہے گی. اب وہ جب بھی میرے سامنے ہوتی، تو اس کا اچل بار بار گر جاتا. خاص کر میرے کمرے میں جھاڑو لگاتے ہوئے تو اس کا اچل گرا ہی رہتا. ویسے ہی مجھے کھانا پروستے وقت اس کا اچل اکثر کھسک جاتا اور ویسے میں ہی وہ جھک جھک کر مجھے کھانا پروستي. اںدر برا تو وہ پہنتی نہیں تھی اس لئے ڈھلے اچل کی وجہ اس کی چولی کے اوپر کے کھلے حصے میں سے اس کے چھوٹے کڑے مموں اور ان کی گھڈيو کا سائز صاف صاف دکھائی دیتا. بھلے چھوٹے ہوں پر بڑے خوبصورت ممے تھے اسکے. بڑی مشکل سے میں نے اپنے آپ کو سنبھال پاتا، ورنہ لگتا تو تھا کہ ابھی ان کبوتروں کو پکڑ لوں اور مسل ڈالو، چوس لوں. میں اب اس کے اس موہ جال میں مکمل فںس چکا تھا. اس کی نظروں سے نظر ملانا میں نے چھوڑ دیا تھا کہ اسے میری نظروں کی ہوس کی پیاس نہ دکھ نہ جائے. بار بار لگتا کہ اسے اٹھا کر پلنگ پر لے جاؤں اور كچاكچ چود ماروں. اکثر کھانا کھانے کے بعد میں دس منٹ بیٹھا رہتا، اٹھتا نہیں تھا کہ میرا تن کر کھڑا لنڈ اسے نہ دکھ جائے. یہ زیادہ دن چلنے والا نہیں تھا. آخر ایک ہفتہ کو چھٹی کے دن کی دوپہر میں باندھ ٹوٹ ہی گیا. اس دن کھانا پروستے ہوئے منجو چیخ پڑی کہ چیونٹی کاٹ رہی ہے اور میرے سامنے اپنی ساڑی اٹھا کر اپنی ٹانگوں میں چیونٹی کو ڈھونڈنے کا ڈرامہ کرنے لگی. اس کی بھری بھری سانولی ہموار جاںگھیں پہلی بار میں نے دیکھیں. اس نے سادی سفید پیںٹی پہن ہوئی تھی. اس تنگ پیںٹی میں سے اس کی فولي بر کا ابھار صاف دکھ رہا تھا. ساتھ ہی پیںٹی کے درمیان کے سكرے لیز کے دونوں جانب سے گھنی کالی جھاٹے باہر نکل رہی تھیں. ایکدم دیسی نظارہ تھا. اور یہ نظارہ مجھے پورے پانچ منٹ منجو نے دکھایا. اوئی اوئی کرتی ہوئی میری طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے وہ چیونٹی ڈھوڈھتي رہی جو آخر تک نہیں ملی. میں نے کھانا کسی طرح ختم کیا اور آرام کرنے کے لئے بیڈروم میں آ گیا. دروازہ اڑھكاكر میں سیدھا پلنگ پر گیا اور لنڈ ہاتھ میں لے کر ہلانے لگا. منجو کی وہ ہموار جاںگھیں میری آنکھوں کے سامنے تیر رہی تھیں. میں مٹھی میں لںڈ پکڑ کر اسے مٹھيانے لگا، گویا منجو کی ان ٹانگوں پر اسے رگڑ رہا هوو. اتنے میں بیڈروم کا دروازہ کھلا اور منجو اندر آئی. اس کے ہاتھ میں میرا كرتا پجاما تھا. شاید مجھے دینے کو آئی تھی. مجھے مٹھٹھ مارتے دیکھ کر وہیں کھڑی ہو گئی اور مجھے دیکھنے لگی. فر مجھے یاد آیا کہ دروازے کی سٹكني میں لگانا بھول گیا تھا .میں سکتے میں آ کر رک گیا. اب بھی میرا تننايا لںڈ میری مٹھی میں تھا. سوچنے لگا کہ اب منجو بائی کو کیا کہوں گا! پر منجو کے چہرے پر شکن تک نہیں آئی، شاید وہ ایسا موقع کب سے ڈھونڈ رہی تھی. میری طرف دیکھ کر کانوں پر ہاتھ رکھ کر تعجب کا ڈھونگ کرتے ہوئے بولی "ہیلو بابوجی ... یہ کیا بچپنا کر رہے ہو ... آپ کی عمر کا نوجوان اور .... گھر میں پراي عورت اور آپ یہ ایسے ..." میں چپ تھا، اس کی طرف دیکھ کر شرما کر بس ہنس دیا. آخر میری چوری پکڑی گئی تھی. "وو منجو بائی ... اصل میں ... دیکھو سٹكني لگانا بھی بھول گیا میں ... اور آپ بھی اچھی ہو ... بغیر دستک دیئے گھس آئیں!" "اب میں تو ہمیشہ پورے گھر میں گھومتی ہوں. تمہارا سب کام بھی میں ہی کرتی ہوں، ایسے گھر میں کہیں جانے کے پہلے میں کیوں دروازہ كھٹكھٹاوگي؟ ... آپ ہی یہ سمجھنا چاہیے کہ کب کیا ..." وو میری طرف گھورتے ہوئے بولی. میں چپ تھا. میری حالت دیکھ کر منجو نے تانے مارنا بند کر دیا. بولی "اب گھر کا سارا کام میرے پہ چھوڑا ہے تو بولو بابوجی یہ کام بھی کر دوں تمہارا؟" "اب منجو بائی .." منجو کا اشارہ میں سمجھ گیا. پر کیا کہوں یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا. منجو کی آنکھیں چمک اٹھے "میرے نام سے سڑكا لگا رہے تھے بابوجی؟ میں یہاں ہوں آپ کی ہر خاطر کرنے کو پھر بھی ایسا بچپنا کرتے ہو! مجھے معلوم ہے تمہارے دل میں کیا ہے. میرے کو کیسے چھپ چھپ کے دیکھتے ہو وہ کیا میرے کو لگتا نہیں؟ بولو بولو ... صاف کیوں نہیں کہتے کہ منجو کے جوبن پر للچا گئی تمہاری نیت " "مج بائی ... اب کیا کہوں ... تمہارا یہ طور کچھ ایسا ہے ..." میں دھیرے سے بولا. "تو کھل کے سامنے کیوں نہیں آتے بابوجی؟ بالکل اناڑی ہو آپ، اتنے دنوں سے اشارے کر رہی ہوں پر پھر بھی بھاگتے پھرتے ہو. اور کوئی ہوتا تو کب کا چڑھ جاتا میرے اوپر. آپ جوان حسین ہو تو میرا بھی جوبن کوئی کم نہیں ہے، سمجھے؟ " میں چپ رہا. منجو بائی نے میرے کپڑے رکھے اور آکر میرے پاس بیٹھ گئی "میرے بھودو بادشاہ، اب چپ چاپ بیٹھو اور منجو بائی کرتب دیکھو" میرا لںڈ اس نے اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے کھجوروں کے درمیان رگڑنے لگی. اب تک میں سنبھل گیا تھا. ان كھردري کھجوروں کے رگڑنے سے میرا لںڈ فر كسكے کھڑا ہو گیا. میں نے منجو کی طرف دیکھا. اس کا دھیان میرے لںڈ پر تھا. پاس سے اس کا وہ مانسل چھرہرا بدن دیکھ کر مجھے ایسا لگا کہ منجو کو باںہوں میں بھینچ لوں اور اس پر چڑھ جاؤں، پر تبھی اس نے میری طرف دیکھا. میرے چہرے کے انداز سے وہ سمجھ گئی ہو گی کہ میرے دل میں کیا چل رہا ہے. میں نے کچھ کروں، اس کے پہلے ہی اس نے اچانک میری گود میں سر جھکا میرا سپاڑا منہ میں لے لیا اور چوسنے لگی. اس کے گیلے تپتے منہ اور مچھلی سی فدكتي زبان نے میرے لںڈ کو ایسا تڑپايا کہ میں جھڑنے کو آ گیا. پہلے میں اس کو روکنا چاہتا تھا، کم سے کم روکنے کا ڈرامہ کرنا چاہتا تھا. پر لںڈ میں جو مستی چھا گئی تھی اس کی وجہ سے میں چپ رہا اور مزہ لینے لگا. سوچا اب جو ہو گا دیکھا جائے گا. ہاتھ بڑھا کر میں نے اسکے ممے پکڑ لیے. کیا مال تھا! سیب سے سخت تھے اس کے چھاتی. سپاڑا چوستے چوستے وہ اپنی ایک موٹھٹھي میں لںڈ کا ڈنڈا پکڑ کر سڑكا لگا رہی تھی، درمیان میں آنکھیں اوپر کرکے میری آنکھوں میں دیکھتی اور پھر چوسنے لگ جاتی. اس کی آنکھوں میں اتنی شیطانی کھلکھلا رہی تھی کہ دو منٹ میں میں همك کر جھڑ گیا. جھڑنے کے پہلے میں نے اسے انتباہ بھی دی "منجو بائی ... منہ ہٹا لو ... میں گیا کام سے .... اوہ ... اوہ" پر اس نے تو میرا لںڈ اور گہرا منہ میں لے لیا اور تب تک چوستی رہی جب تک میرا پورا ویرے اسکے حلق کے نیچے نہیں اتر گیا. جب وہ منہ پوچھتی ہوئی سیدھی ہوئی تو میں نے هافتے ہوئے اس سے پوچھا "کیسی ہو تم بائی، ارے منہ بازو میں کیوں نہیں کیا، میں نے بولا تو تھا جھڑنے کے پہلے!" "ارے میں کیا پگلی ہوں بابوجی اتنی مست ملائی چھوڑ دینے کو؟ تمہارے جیسا خوبصورت لؤڑا کہاں ہم غریبوں کو نصیب ہوتا ہے! یہ تو خدا کا پرشاد ہے ہمارے لئے" وہ بڑی شوكھي سے بولی. اس کی اس ادا پر میں ایکدم فدا ہو گیا، رہی سہی شرم چھوڑ کر میں نے اسے باہوں میں جکڑ لیا اور چومنے کی کوشش کرنے لگا پر وہ چھوٹ کر کھڑی ہو گئی اور مسکرا کر بولی "ابھی نہیں بابو جی، بڑے آئے اب چوما چاٹی کرنے والے اتنے دن تو کیسے مٹی کے مادھو بنے گھومتے تھے، میں اشارے کرتی تھی تو منہ پھرا کر نکل جاتے تھے، اب چلے آئے چپکنے. چلو مجھے جانے دو " "منجو ... رک نہ تھوڑی دیر اور ... ارے میری تو کب سے تمنا تھی کہ تیرے کو ایسے پكڑو اور چڑھ جاؤں پر ... آخر میری بھی تو پہلی بار ہے نا کسی عورت کے ساتھ ..." "وہ پہلے کہنا تھا نا بابوجی. اب میں نہیں رکنے والی. وہ تو تمپر ترس آ گیا اس لئے سوچا کہ کم سے کم اس بار تو تمہاری تڑپ مٹا دوں" کپڑے ٹھیک کرتے ہوئے منجو بولی. فر مڑ کر کمرے سے نکل گئی. دروازے پر رک کر مڑ کر اس نے میری طرف دیکھا، میرے چہرے کے بھاو دیکھ کر ہنسنے لگی "بھودو کے بھودو ہی ہو تم بابوجی. ایسے منہ مت لٹكاو، میں کوئی ہمیشہ کے لیے جا رہی ہوں کیا؟ اب رکنا ٹھیک نہیں ہے، دوپہر ہے ، کوئی آ جائے گا تو؟ اب ذرا صبر کرو، میں رات کو آؤں گی، دس بجے کے بعد. دیکھنا کیسی خدمت کروں گی آپ کی. اب مٹھٹھ نہیں مارنا آپ میری قسم! " میں مسرور ہو کر لڑھک گیا اور میری آنکھ لگ ايي. یقین نہیں ہو رہا تھا کہ اس متوالي عورت نے ابھی ابھی میرا لںڈ چوسا ہے. سیدھا شام کو اٹھا. دل میں خوشی کے لڈو فوٹ رہے تھے. کیا عورت تھی! اتنا مست لنڈ چوسنے والی اور ایکدم تیکھی كٹاري. کمرے کے باہر جا کر دیکھا تو منجو غائب تھی. اچھا ہوا کیونکہ جس موڈ میں میں تھا، اس میں اسے پکڑ کر ضرور اسے زبردستی چود ڈالتا. ٹائم پاس کرنے کو میں کلب میں چلا گیا
. جب رات نو بجے واپس آیا تو کھانا ٹیبل پر رکھا تھا. منجو اب بھی غائب تھی. میں سمجھ گیا کہ وہ اب براہ راست سونے کے وقت ہی آئے گی. آخر اسے بھی احساس ہوگا کہ کوئی رات کو اسے میرے گھر میں دیکھ نہ لے. دن کی بات اور تھی. ویسے گھر کی چابی اس کے پاس تھی ہی. میں جا کر نہایا اور فر کھانا کھاکر اپنے کمرے میں گیا. اپنے سارے کپڑے نکال دیے اور اپنے کھڑے لنڈ کو پچكارتا ہوا منجو کا انتظار کرنے لگا. ساری لائٹس آف کر دیں، صرف ٹیبل لیمپ آن رہنے دیا. ساڑھے دس بجے دروازہ کھول کر منجو بائی اندر آئی. تب تک میرا لںڈ سوج کر سوٹا بن گیا تھا. بہت میٹھی تکلیف دے رہا تھا. منجو پر جھللهٹ ہو رہی تھی کہ کہاں رہ گئی. پر اس کو دیکھ کر میرا لںڈ اور تھرک اٹھا. اس کی ہمت کی میں نے من ہی من داد دی. میں یہ بھی سمجھ گیا کہ اسے بھی کتنی تیز چداسي ستا رہی ہوگی! منجو بائی باہر کے کمرے میں سارے کپڑے اتار کر آئی تھی. ایکدم مادرجات ننگی تھی. ٹیبل لیمپ کی روشنی میں پہلی بار اس کا ننگا کسا دےسا بدن میں نے دیکھا. سانولی چھرہری کایا، صرف ذرا سی لٹکی ہوئیں چھوٹے سیب جیسی ٹھوس چوچیاں، مضبوط جاںگھیں اور گھنی جھاٹ سے بھری بر، میں تو پاگل سا ہو گیا. اس کے جسم پر کہیں چربی کا ذرا سا قطرہ بھی نہ تھا، بس ایک دم کڑک دبلا پتلا سیکسی جسم تھا. وہ میری طرف بغیر جھجھک دیکھ رہی تھی پر میں تھوڑا شرما سا رہا تھا. پہلی بار کسی عورت کے سامنے میں ننگا ہوا تھا اور کسی عورت کو پورا نںگا دیکھ رہا تھا. اور وہ آخر عمر میں مجھ سے کافی بڑی تھی، قریب قریب میری خالہ کی عمر کی ہے. پر منجو کو ذرا شرم نہیں لگ رہی تھی. وہ بڑے آرام دہ انداز میں مٹك مٹك کر چلتی ہوئی میرے پاس آکر بیٹھ گئی. میرا لںڈ ہاتھ میں پکڑ کر بولی "و بابوجی، کیا کھڑا ہے! میری یاد آ رہی تھی؟ یہ منجو بائی پسند آئی لگتا ہے آپ کے اس لؤڑے کو." اب مجھ سے نہیں رہا گیا. "تو نے تو مجھ جادو کر دیا ہے منجو، سالی جادو کرتی ہے کیا تو؟" کہہ کر اسے باںہوں میں بھینچ کر میں اس کو چومنے لگا. اس کے ہونٹ بھی تھوڑے كھردرے تھے پر تھے ایکدم میٹھے، ان میں سے پان کی بھینی خوشبو آ رہی تھی. منجو بولی "ہاں بابوجی، یہ جادو ہے عورت مرد کا اور جوانی کا. اور میرا یہ جادو اب دیکھنا تمپے کیسے اضافہ ہے" پھر اپنی باہیں میرے گلے میں ڈال کر اتراتي ہوئی وہ میرے چبنو کا جواب دینے لگی، میرے ہوںٹھ چوسنے کے بعد اس نے اپنی زبان سے دھکا دے کر میرا منہ کھلوایا اور اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی. میں اسے چوسنے میں لگ گیا. بڑا منشیات بوسہ تھا، اس نوکرانی کا منہ اتنا میٹھا ہو گا، میں نے سوچا بھی نہیں تھا. میرا لںڈ اب ایسا فنفنا رہا تھا کہ مجھ رکا نہیں جا رہا تھا. میں اسے پٹككر اسپر چڑھنے کی کوشش کرنے لگا. "ارے کیا بھوکے بھےڑيے جیسے کر رہے ہو بابوجی، ذرا ہولے ہولے مزہ لو، ابھی تو بس ایسے ہی چممے لو منجو بائی، ایکدم میٹھے چممے دوں گی میرے بادشاہ" بہت دیر ہماری چوما چاٹی چلی. منجو بھی میرا منہ ایسے چوس رہی تھی جیسے سب رس نچوڑ لینا چاہتی ہو. میرے ہاتھ برابر اس کے ننگے بدن پر گھوم رہے تھے، کبھی ممے مسلتا، کبھی پیٹھ پر ہاتھ پھےرتا، کبھی جاںگھیں ٹٹولتا اور کبھی چوتڑ دبانے لگتا. "اب آپ آرام سے لےٹو، میں کروں گی جو کرنا ہے" کہہ کر اس نے مجھے پلنگ پر دھکیل دیا. مجھے لٹاكر وہ فر میرا لںڈ چوسنے لگی. پہلے بس سپاڑا چوسا اور پھر پورا لںڈ منہ میں لے لیا. اسکی جیبھ میرے لںڈ سے چمٹی ہوئی تھی. مجھے مجا آ رہا تھا پر اسے کس کے چودنے کی خواہش مجھے پرسکون نہیں لےٹنے دے رہی تھی. "منجو بائی، چلو اب چدوا لو، ایسے نہ ستاو. دیکھو، فر چوس کر نہیں جھڑانا، آج میں تجھے خوب چودوںگا" میں نے اس کی ایک چوچي ہاتھ میں لے کر کہا. اس کی سخت نپل كچے جیسا میری ہتھیلی میں چبھ رہا تھا. اب آپ آرام سے لےٹو، میں کروں گی جو کرنا ہے" کہہ کر اس نے مجھے پلنگ پر دھکیل دیا. مجھے لٹاكر وہ فر میرا لںڈ چوسنے لگی. پہلے بس سپاڑا چوسا اور پھر پورا لںڈ منہ میں لے لیا. اسکی جیبھ میرے لںڈ سے چمٹی ہوئی تھی. مجھے مجا آ رہا تھا پر اسے کس کے چودنے کی خواہش مجھے پرسکون نہیں لےٹنے دے رہی تھی. "منجو بائی، چلو اب چدوا لو، ایسے نہ ستاو. دیکھو، فر چوس کر نہیں جھڑانا، آج میں تجھے خوب چودوںگا" میں نے اس کی ایک چوچي ہاتھ میں لے کر کہا. اس کی سخت نپل كچے جیسا میری ہتھیلی میں چبھ رہا تھا. اس نے ہنس کر مںڈی هلايي کہ سمجھ گیی پر میرے لںڈ کو اس نے نہیں چھوڑا، مکمل جڑ تک نگل لیا اور زبان رگڑنے لگی. شاید فر سے میری ملائی کے پیچھے تھی یہ بلی! میں طیش میں آ گیا، یہ نہیں مانے گی، مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا سوچ کر میں اٹھا، اس کے منہ سے لںڈ زبردستی باہر کھیںچا اور اسے بستر پر پٹک دیا. وہ کہتی رہ گئی "ارے رکو بابوجی، ایسے نہیں" پر میں نے اس کی ٹاںگیں الگ کر کے اپنا لںڈ اسکی بر کے منہ پر رکھا اور پیل دیا. بر اتنی گیلی تھی کہ لںڈ آرام سے اندر چلا گیا. میں اب رکنے کی حالت میں نہیں تھا، ایک جھٹکے سے میں نے لنڈ جڑ تک اس کی چوت میں اتار دیا اور پھر اسپر لیٹ کر اسے چودنے لگا. منجو ہنستے ہوئے مجھے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی "بابوجی انتظار، ایسے نہیں چودو، ذرا مزا کرکے چودو، میں کہاں بھاگی جا رہی ہوں؟ ارے آہستہ بابوجی، ایسے جانور جیسے نہ دھکے مارو! ذرا ہولے ہولے محبت کرو میری بر کو" میں نے اس کے منہ کو اپنے ہونٹوں میں دبا لیا اور اس کی بكبك بند کر دی. فر اسے بھینچ کر کس کے هچك هچك کر اسے چودنے لگا. اس کی چوت اتنی گیلی تھی کہ میرا لںڈ سپاسپ اندر باہر ہو رہا تھا. کچھ دیر اور چھوٹنے کی کوشش کرنے کے بعد منجو بائی نے ہار مان لی اور مجھ چپٹكر اپنے چوتڑ اچھال اچھال کر چدوانے لگی. اپنے پاؤں اس نے میری کمر کے ارد گرد کس رکھے تھے اور اپنی باںہوں میں مجھے بھینچ لیا تھا. اتنا لطف ہو سکتا ہے چدائی میں نے سوچا بھی نہیں تھا. منجو کا منہ چوستے ہوئے میں نے اس کی چوت کی کٹائی چالو رکھی. یہ سکھ کبھی ختم نہ ہو ایسا مجھے لگ رہا تھا. پر میں نے بہت جلد کی تھی، منجو بائی کی اس منشیات دیسی کایا اور اس کی تاپدیپت چپچپي چوت نے مجھے ایسا بهكايا کہ میں دو منٹ میں جھڑ گیا. پڑا پڑا میں نے اس خوشی میں ڈوبا مزہ لیتا رہا. منجو بائی بیچاری اب بھی گرم تھا اور نیچے سے اپنی چوت کو اوپر نیچے کرکے چدانے کی کوشش کر رہی تھی. مستی اترنے کے بعد مجھے اب تھوڑی شرم آئی کہ بغیر منجو کو جھڑايے میں جھڑ گیا. کچھ دیر پڑا رہا پھر بولا "معاف کرنا منجو بائی، تجھے جھڑانے کے پہلے ہی میں بہک گیا." میری حالت دیکھ کر مجوباي مجھ چپٹكر مجھے چومتے ہوئے بولی "کوئی بات نہیں میرے بادشاہ بابو. آپ جیسا گرم نوجوان ایسے نہیں بهكےگا تو کون بهكےگا. اور میرے بدن کو دیکھ کر ہی آپ ایسے مست ہوئے ہو نا؟ میں تو نہال ہو گئی کہ میرے بابوجی کو یہ گاؤں کی عورت اتنی اچھی لگی. آپ مجھ کتنے چھوٹے ہو، پر پھر بھی آپ کو میں بھا گئی، گزشتہ جنم میں میں نے ضرور اچھے کرم ریٹویٹ ہوں گے. چلو، اب بھوک مٹ گئی نا؟ اب تو میرا کہنا مانو. آرام سے پڑے رہو اور مجھے اپنا کام کرنے دو. " منجو کے کہنے پر میں نے اپنا جھڑا لںڈ ویسے ہی منجو کی چوت میں رہنے دیا اور اسپر پڑا رہا. مجھے باںہوں میں بھر کر چومتے ہوئے وہ مجھ طرح طرح کی اکسانے والی باتیں کرنے لگی "بابوجی مزا آیا؟ منجو بائی کی چوت کیسی لگی؟ گاؤں کا مال ہے بابوجی، ملائم ہے نا؟ مخمل جیسی ہموار ہے یا ریشم جیسی؟ یا كھردري ہے؟ کچھ تو بولو، شرماو نہیں! " میں نے اسے چوم کر کہا کہ دنیا کے کسی بھی مخمل یا ریشم سے زیادہ ملائم ہے اس کی بر. میری تعریف پر وہ فول اٹھی. آگے پٹر پٹر کرنے لگی. "پر میری جھاٹے تو نہیں چبھي آپ کے لنڈ کو؟ بہت بڑھ گئی ہیں اور گھگھرالي بھی ہیں، پر میں کیا کروں، کاٹنے کا من نہیں ہوتا میرا. ویسے آپ کہو تو کاٹ دوں. مجھے بڑی جھاٹے اچھی لگتی ہیں. اور میرا چما کیسا لگتا ہے، بتاو نا؟ میٹھا ہے کہ نہیں؟ میری جیب کیسی ہے بتاو. میں نے کہا کہ جلےبي جیسی. میں سمجھ گیا تھا کہ وہ تعریف کی خشک ہے. وہ مستی سے بہک سی گی. "کتنا میٹھا بولتے ہو، جلےبي جیسی ہے نا؟ لو چوسو میری جلےبي" اور میرے گال ہاتھوں میں لے کر میرے منہ میں اپنی زبان ڈال دی. میں نے اس دانتوں کے درمیان پکڑ لیا اور چوسنے لگا. وہ ہاتھ پیر فےكنے لگی. کسی طرح چھوٹ کر بولی "اب اس جلےبي کو سچ میں کھا جاؤ گے کیا؟ کس طرح ظالم ہو بابوجی! اب تم دیکھو میں تم کو کیسے چودتي ہوں. اب میرے پلے پڑے ہو، روز اتنا چودوگي تجھے کہ میری چوت کے غلام ہو جاؤ گے" ان گندی باتوں کا اثر یہ ہوا کہ دس منٹ میں میرا فر کھڑا ہو گیا اور منجو کی چوت میں اندر گھس گیا. میں نے فر اسے چودنا شروع کر دیا پر اب آہستہ آہستہ اور پیار سے مزے لے لے کر. منجو بھی مزے لے لے کر چدواتی رہی پر درمیان میں اچانک اس نے پلٹکر مجھے نیچے پٹک دیا اور میرے اوپر آ گی. اوپر سے اس نے مجھے چودنا چالو رکھا. "اب چپ چاپ پڑے رہو بابوجی. آج باقی چدائی مجھ چھوڑ دو." اس کا یہ حکم مان کر میں چپ چاپ لیٹ گیا. وہ اٹھ کر میرے پیٹ پر بیٹھ گئی. میرا لںڈ اب بھی اس کی چوت میں اندر تک گھسا ہوا تھا. وہ آرام سے گھٹنے موڑ کر بیٹھ گئی اور اوپر نیچے ہو کر مجھے چودنے لگی. اوپر نیچے ہوتے وقت اس کے ممے اچھل رہے تھے. ان کے درمیان اس کا سیاہ ميو والا سيدا سادہ مگلسوتر بھی ادھر ادھر ڈول رہا تھا. میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کے چھاتی پکڑ لیے اور دبانے لگا. اس کی گیلی چوت بڑی آسانی سے میرے لںڈ پر فسل رہی تھی. اس مخملی میان نے میرے لںڈ کو ایسا سخت کر دیا جیسے لوہے کا ڈنڈا ہو. منجو من لگا کر مزہ لے لے کر مجھے ہؤلے ہؤلے چود رہی تھی. چوت سے پانی کی دھار بہہ رہی تھی جس سے میرا پیٹ گیلا ہو گیا تھا. میں نے اپنا پورا زور لگا کر اپنے آپ کو جھڑنے سے روکا اور کمر اوپر نیچے کرکے نیچے ہی منجو کی بر میں لںڈ پیلتا رہا. وہ فر مجھے بولی "بابوجی بولو نا، میں کیسی لگتی ہوں آپ کو" میں نے اس کی تعریف کے پل باندھ دیے. اور جھوٹے نہیں سچ، منجو بائی اب مجھے اپسرا جیسی لگ رہی تھی "بائی تم یعنی بادشاہ اںدر کے دربار کی اپسرا ہو، ان سے بھی اچھی ہو، ایسا طور میں نے آج تک نہیں دیکھا، کیا ممے ہیں تیرے منجو، ایکدم کشمیری سیب جیسے، لگتا ہے کھا جاؤں، اور یہ بر، میرے لںڈ کو مار ڈالےگي آج بائی تیری یہ چوت. اور یہ تیرا بدن کیا حسین ہے، لگتا ہے بڑے جتن سے رکھا ہے اپنے اس سونے سے جوبن کو، ایسا لگتا ہے جیسے نوجوان چھوكري ہو، لگتا نہیں کہ شادی شدہ عورت ہو " منجو بائی میری تعریف سن سن کر اور مست ہوتی جاتی اور مجھے چودتي جاتی. میرے ہاتھ اس نے اپنی چوچيو پر رکھ لیے تھے اور دبا رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو کہ ٹھیک سے مسلو. میں نے اس کی چونچیاں کس کے مسلنا شروع کر دیا. آخر آخر میں تو وہ ایسے بهكي کہ زور زور سے اچھلنے لگی. میرا لںڈ قریب قریب مکمل اسکی بر کے باہر نکلتا اور پھر سپ سے جڑ تک اندر گھس جاتا. آخر منجو بائی ایک ہلکی سےسسکی کے ساتھ جھڑ ہی گئی. اس وقت اس کی آنکھوں میں جھلک آئے سکون کو دیکھ کر مجھے سنسنی ہو آیا. آخر میرے لںڈ نے پہلی بار کسی عورت کو اتنا سکھ دیا تھا. جھڑ کر بھی وہ زیادہ دیر رکی نہیں، پانچ ایک منٹ مجھے کس کس کے چومتی رہی اور پھر سیدھی ہو کر شروع ہو گئی
پڑے رہو بابوجی، ابھی تھوڑے چھوڑوگي تجھے، گھنٹہ بھر چودوگي، بہت دن بعد لںڈ ملا ہے اور وہ بھی ایسا شاہی لؤڑا. کتنا جھوٹ بولتے ہو پر میٹھا بولتے ہو، ارے میں کہاں کی جوان ہوں، میری تو اتنی بڑی جوان بیٹی ہے، میں تجھ پسند آ گئی یہ تو حصہ ہیں میرے. اور دیکھو میں کہوں تب تک جھڑنا نہیں، نہیں تو میں آپ کی ملازمت چھوڑ دوں گی، فر اکیلے میں مٹھٹھ مارا کرنا " اس میٹھی دھمکی کے بعد میری کیا مجال تھی جھڑنے کی. گھنٹے بھر تو نہیں، پر بیس ایک منٹ منجو بائی نے مجھے خوب چودا، اپنی ساری ہوس پوری کر لی. چودنے میں وہ بڑی استاد نکلی، مجھے برابر میٹھی چھری سے حلال کرتی رہی، اگر میں جھڑنے کے قریب آتا تو رک جاتی. مجھے اور مست کرنے کو وہ بیچ بیچ میں خود ہی اپنی چونچیاں مسلنے لگتی. کہتی "چوسوگے بابوجی؟ کشمیری سیب کھاتے؟" اور خود ہی جھک کر اپنی چوچي کھینچ کر نپل چوسنے لگتی. میں اٹھ کر اس کی چوچي منہ میں لینے کی کوشش کرتا تو ہنس کر مجھے واپس پلنگ پر دھکیل دیتی. ترسا رہی تھی مجھے! دو بار جھڑنے کے بعد وہ مجھ پر ترس کھا کر رکی. اب میں ہوس سے تڑپ رہا تھا. مجھ سانس بھی نہیں لی جا رہی تھی. "چلو پیچھے كھسككر براہ راست ہو کر بیٹھ جاؤ بابوجی، آپ بڑے اچھے سےيا ہو، میری بات مانتے ہو، اب ثواب دوں گی" میں سرکا اور پیچھے سرہانے سے ٹک کر بیٹھ گیا. اب وہ میری طرف منہ کرکے میری گود میں بیٹھی تھی. میرا اچھلتا لںڈ اب بھی اس کی چوت میں قید تھا. وہ اوپر ہونے کی وجہ اس کے سینے میرے منہ کے سامنے تھی. پاس سے اس کے سیب سے ممے دیکھ کر مزہ آ گیا. كسمس کے دانوں جیسے چھوٹے نپل تھے اس کے اور تن کر کھڑے تھے. منجو میرے لاڑ کرتے ہوئے بولے "منہ کھولو بابوجی، اپنی منجو اماں کا دودھ پیو. دودھ ہے تو نہیں میری چوچي میں، جھوٹ موٹ کا ہی پیو، مجھے مزہ آتا ہے" میرے منہ میں ایک دانہ دے کر اس نے میرے سر کو اپنی چھاتی پر بھیںچ لیا اور مجھے زور زور سے چودنے لگی. اس کی نصف چوچي میرے منہ میں سما گئی تھی. اسے چوستے ہوئے میں نے بھی نیچے سے اچك اچك کر چودنا شروع کر دیا، بہت دیر کا میں اس چھری کی دھار پر تھا، جلد ہی جھڑ گیا. پڑا پڑا منجو کی چوچي چوستا ہوا میں اس مست انزال کا لتف لینے لگا. میرے پورے جھڑنے تک منجو رکی اور محبت سے میرے ماتھے کو چومتی رہی. آخر جب میں سبھلا تو منجو نے میرے لںڈ کو اپنی چوت سے نکالا اور اٹھ بیٹھی. ایک تولیے سے اس نے میرا لںڈ اؤر اپنی بر پوچھی. فر مجھے پیار بھرا ایک چما دے کر جانے کے لیے اٹھنے لگی. اس کی آنکھوں میں اسیم محبت اور ترپت کی روح تھی. میں اسکا ہاتھ پکڑ کر بولا. "اب کہاں جاتی ہو منجو بائی، یہیں سو میرے پاس، ابھی تو رات باقی ہے" وہ ہاتھ چھڑا کر بولی "نہیں بابو جی، میں کوئی آپ کی لگاي تھوڑے ہی ہوں، کوئی دیکھ لے گا تو آفت ہو جائے گی. کچھ دن دےكھوگي. اگر کسی کو پتہ نہیں چلا تو آپ کے ساتھ رات بھر سویا کروں گی" مجھے پکا یقین تھا کہ اس کالونی میں جہاں دن میں بھی کوئی نہیں ہوتا تھا، رات کو کوئی دیکھنے والا کہاں ہوگا! اور اس کا گھر بھی تو بھی میرے بنگلے سے لگا ہوا تھا. پر وہ تھوڑی گھبرا رہی تھی اس لئے ابھی میں نے اسے جانے دیا دوسرے دن سے میرا كامجيون ایسے نكھر گیا جیسے خود خدا کامدیو کی مجھ پر مہربانی ہو. منجو صبح صبح چائے بنا کر میرے بیڈروم میں لاتی اور مجھے جگاتی. جب تک میں چائے پیتا، وہ میرا لںڈ چوس لیتی. میرا لںڈ صبح تن کر کھڑا رہتا تھا اور جھڑ کر مجھے بہت اچھا لگتا تھا. فر نہا دھو کر ناشتہ کرکے میں آفس کو چلا جاتا. دوپہر کو جب میں گھر آتا تو منجو ایکدم تیار رہتی تھی. اسے بیڈروم میں لے جا کر میں نے فٹافٹ دس منٹ میں چود ڈالتا. کپڑے اتارنے کا وقت نہیں رہتا تھا، صرف آپ کی زپ سے لںڈ نکالتا اور اس کی ساڑی اوپر کرکے پیل دیتا. کبھی کبھی اسے کھڑے کھڑے چود دیتا، دیوار سے سٹا کر، پلنگ پر بھی نہیں لٹاتا. وہ بھی ایسی گرم رہتی تھی کہ فوری طور جھڑ جاتی تھی. اس جلدی کی چدائی کا لطف ہی کچھ اور تھا. اب مجھے پتہ چلا کہ كوكي کس چیز کا نام ہے. چدنے کے بعد وہ مجھے خود اپنے ہاتھوں سے محبت سے کھانا کھلاتی، ایک بچے کی طرح. میں فر آفس کو نکل جاتا. شام کو ہم ذرا احتیاط برتتے تھے. مجھے کلب جانا پڑتا تھا. کوئی ملنے بھی اکثر گھر آ جاتا تھا. اس لئے شام کو منجو بس کچن میں ہی رہتی یا باہر چلی جاتی. پر رات کو دس بجے میں اسے لے کر لیٹ جاتا، ایسی زبردست چدائی ہوتی کہ دن کی ساری کسر پوری ہو جاتی. سونے کو تو رات کے باڑہ بج جاتے. اب وہ میرے ساتھ ہی سوتی تھی. ایک ہفتہ ہو گیا تھا اور رات کو ماحول اتنا ویران ہوتا تھا کہ کسی کو کچھ پتہ چلنے کا سوال ہی نہیں تھا. ویک اینڈ میں جمعہ اور سنیچر کی رات تو میں اسے رات بھر چودتا، تین چار بج جاتے سونے کو. میں نے اس کی تنكھا بھی بڑھا دی تھی. اب میں اسے ہزار روپے تنكھا دیتا تھا. پہلے وہ نہیں مان رہی تھی. ذرا ناراض ہو کر بولی "یہ میں نے پیسے کو تھوڑے کرتی ہوں بابوجی، آپ مجھے اچھے لگتے ہو اس لئے کرتی ہوں. رنڈی تھوڑے ہوں، تیری سجني ہوں

Posted on: 07:06:AM 14-Dec-2020


0 0 243 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com