Stories


بھیا سے ٹرین میں چدائی از رابعہ رابعہ 338

میں اپنے بارے میں شروع سے بتاتی ہوں. میں اپنے گھر میں اپنے بھائی بہنوں میں تیسرے نمبر، 20 سال کی ہوں. سب سے بڑے بھیا ہیں جو آرمی میں ہیں. ان کی شادی نہیں ہوئی ہے. مجھ چھوٹا ایک بھائی ہے. میں ہوسٹل میں رہ کر پڑھت ہوں. ایک دن میرے بھیا مجھ سے ملنے ہوسٹل آئے. میں انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئی. وہ براہ راست آرمی سے میرے پاس ہی آئے تھے. اور اب گھر جا رہے تھے. میں نے بھی ان کے ساتھ گھر جانے کا من بنا لیا اور کولیج سے 8 دن کی چھٹی لے کر میں اور بھیا کے گھر کے لیے روانہ ہو گئے. جس ٹرین سے ہم گھر جا رہے تھے اس ٹرین میں میرا رزرویشن نہیں تھا. صرف بھیا کا تھا. اس لئے ہم لوگوں کو ایک ہی برتھ ملی. ٹرین میں بہت بھیڑ تھی. ابھی رات کے 11 بجے تھے. ہم اس ٹرین سے صبح گھر پہنچنے والے تھے. میں اور بھیا اس اکیلی برتھ پر بیٹھ گئے. موسم سرما کے دن تھے. آدھی رات کے بد سردی بہت ہو جاتی تھی. بھیا نے بیگ سے کمبل ہٹا کر آدھا مجھے اڈھا دیا اور آدھا خود اوڈھ لیا میں مسکراتی ہوئی ان سے چپک کر بیٹھ گی. ساری سواریاں سونے لگی تھیں. ٹرین اپنی رفتار سے بھاگی جا رہی تھی. مجھے بھی نیند آنے لگی تھی اور بھیا کو بھی. بھیا نے مجھے اپنی گود میں سر رکھ کر سو جانے کے لئے کہا. بھیا کا اشارہ ملتے ہی میں نے ان کی گود میں سر ٹکا اور پیروں کو پھیلا لیا. میں ان کی گود میں آرام کے لیے اچھی طرح اوپر کو ہو گئی. بھیا نے بھی پیر سمیٹ کر اچھی تیرہ کمبل میں مجھے اور خود کو گے.ڈھک لیا اور میرے اوپر ایک ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئے. تب تک میں نے کبھی کسی مرد کو اتنے قریب سے ٹچ نہیں کیا تھا. بھیا کی موٹی موٹی رانوں نے مجھے بہت آرام پہنچایا. میرا ایک گال ان دونوں رانوں کے درمیان رکھا ہوا تھا. اور ایک ہاتھ سے میں نے ان کے پیروں کو كوليو میں بھر رکھا تھا. تبھی میرے سوتے ہوئے دماغ نے جھٹکا سا کھایا. میری آنکھوں سے نیند گھايب ہو گئی. وجہ تھی بھیا کے ران کے درمیان کا مقام پھولتا جا رہا تھا. اور جب میرے گال پر ٹچ کرنے لگا تو میں سمجھ گئی کہ وہ کیا چیز ہے. میری جوانی اگڑايا لینے لگی. میں سمجھ گئی کہ بھیا کا لںڈ میرے بدن کا لمس پا کر اٹھ رہا ہے. یہ خیال میرے ذہن میں آتے ہی میرے دل کی رفتار بڑھ گئی. میں نے گال کو دبا کر ان لںڈ کا جائزہ لیا جو زپ والے مقام پر تن گیا تھا. بھیا بھی تھوڑے كسمسايے تھے. شاید وہ بھی میرے بدن سے گرم ہو گئے تھے. تبھی تو وہ بار بار مجھے اچھی طرح اپنی ٹانگوں میں سمیٹنے کی کوشش کر رہے تھے اب ان کی کیا کہوں میں خود بھی بہت گرم ہونے لگی تھی. میں نے ان کے لںڈ کو اچھی طرح محسوس کرنے کی غرض سے کروٹ بدلی. اب میرا منہ بھیا کے پیٹ کے سامنے تھا. میں نے کروٹ لینے کے بہانے ہی اپنا ایک ہاتھ ان کی گود میں رکھ دیا اور سرکتے ہوئے پتلون کے ابھرے ہوئے حصے پر آکر رکی. میں نے اپنے ہاتھ کو وہاں سے ہٹایا نہیں بلکہ دباؤ دے کر ان کے لںڈ کو دیکھا. ادھر بھیا نے بھی میری کمر میں ہاتھ ڈال کر مجھے اپنے سے چپکا لیا. میں نے بغیر کچھ سوچے ان لںڈ کو انگلیوں سے ٹٹولنا شروع کر دیا. اس وقت بھیا بھی شاید میری حرکت کو جان گئے. تبھی تو وو میری پیٹھ کو سہلانے لگے تھے. هچكولے لیتی ٹرین جتنی طوفانی رفتار پکڑ رہی تھی اتنا ہی میرے اندر طوفان ابھرتا جا رہا تھا. بھیا کی طرف سے کوئی ردعمل نہ ہوتے دیکھ میری ہمت بڑھی اور اب میں نے ان کی رانوں پر سے اپنا سر تھوڑا سا پیچھے کھینچ کر ان کی زپ کو دھیرے دھیرے کھول دیا. بھیا اس پر بھی کچھ کہنے کہ بجائے میری کمر کو کس کس کر دبا رہے تھے. پتلون کے نیچے انہوں انڈرویر پہن رکھا تھا. میری ساری جھجھک نہ جانے کہاں چلی گئی تھی. میں نے ان کی زپ کے کھلے حصے سے ہاتھ اندر ڈالا اور انڈرویر کے اندر ہاتھ ڈال کر ان کے ہیوی لںڈ کو باہر کھینچ ليي. اندھیرے کی وجہ سے میں اسے دیکھ تو نہ سکی مگر ہاتھ سے پکڑ کر ہی اوپر نیچے کر کے اس کی لمبائی موٹائی کو ناپا. 7-8 انچ لمبا 3 انچ موٹا لںڈ تھا بجائے خوف کے، میرے دل کے سارے تار جھنجھنا گئے. ادھر میرے ہاتھ میں لںڈ تھا ادھر میری پتلون میں کسی بر بری طرح پھڑپھڑا اٹھی. اس وقت میرے بدن پر ٹائیٹ جینس اور ٹی شرٹ تھی. میرے اتنا کرنے پر بھیا بھی اپنے ہاتھوں کو بے جھجھک ہو کر حرکت دینے لگے تھے. وو میری شرٹ کو جینز سے کھینچنے کے بعد اسے میرے بدن سے ہٹانا چاہ رہے تھے. میں ان کے دل کی بات سمجھتے ہوئے تھوڑا اوپر اٹھ گئی. اب بھیا نے میری نںگی پیٹھ پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا تو میرے بدن میں كرےٹ دوڑنے لگا. ادھر انہونے اپنے ہاتھوں کو میرے انچھي چوچیوں پر پہنچایا ادھر میں نے سےسسکی لے کر جھٹکے اکاؤنٹ لںڈ کو گال کے ساتھ سٹاكر زور سے دبا دیا. بھیا میری چوچیوں کو سہلاتے سہلاتے آہستہ آہستہ دبانے بھی لگے تھے. میں نے ان کے لںڈ کو گال سے سہلایا بھیا نے ایک بر بہت زور سے میری چوچیوں کو دبایا تو میرے منہ سے کراہ نکل گيهم دونوں میں اس وقت اگرچہ بات چیت نہیں ہو رہی تھی مگر ایک دوسرے کے دلوں کی باتیں اچھی طرح سمجھ رہے تھے. بھیا ایک ہاتھ کو سركاكر پیچھے کی طرف سے میری پتلون کی بیلٹ میں اپنا ہاتھ گھسا رہے تھے مگر پتلون ٹائیٹ ہونے کی وجہ سے ان کی تھوڑی تھوڑی انگلیاں ہی اندر جا سکیں. میں نے ان کے ہاتھ کو سہولت مطابق چاہی جگہ پر پہنچنے دینے کے لیے اپنے ہاتھ نیچے ليي اور پتلون کی بیلٹ کو کھول دیا. ان کا ہاتھ اندر پہنچا اور میرے بھاری چوتڑوں کو دبوچنے لگا. انہوں میری گاںڈ کو بھی انگلی سے سہلایا. ان کا ہاتھ جب اور نیچے یعنی رانوں پر پتلون ٹائیٹ ہونے کی وجہ نہ پہنچ سکا تو وہ ہاتھ کو پیچھے سے کھینچ کر سامنے کی طرف لائے اس بار انہوں نے میری پیںٹ کی زپ خود کھولی اور میری بر پر ہاتھ پر توبہ کر لی. بر پر ہاتھ لگتے ہی میں بے چین ہو گئی. وو میری پھولی ہوئی بر کو مٹھی میں لے کر بھینچ رہے تھے. میں نے بے بسی سے اپنا سر تھوڑا سا اوپر اٹھا کر بھیا کا سپاڑا چوما اور اسے منہ میں لینے کی کوشش کی لیکن اس کی موٹائی کی وجہ سے میں نے اسے منہ میں لینا مناسب نہ سمجھا اور اسے زبان نکال کر چاٹنے لگی. میری گرم اور كھردري زبان کے رابطے سے بھیا بری طرح آویشت ہو گئے. انہوں اوےش میں بھر کر میری گیلی بر کو ٹٹولتے ہوئے ایک جھٹکے سے بر میں اںگلی گھسا دی. میں سےسسکی بھر کر ان کے لںڈ سمیت کمر سے لپٹ گی. میرا دل کر رہا تھا کہ بھیا فورا اپنی انگلی کو نکال کر میری بر میں اپنا لںڈ ٹھوس دیں. میری یہ خواہش بھی جلد ہی پوری ہو گئی. بھیا میری ٹاںگوں میں ہاتھ ڈال کر اپنی طرف کھینچنے لگے تھے. میں نے ان کی خواہش کو سمجھ کر اپنا سر ان کی رانوں سے اتارا اور کمبل کے اندر ہی اندر گھوم گئی. اب میری ٹاںگیں بھیا کی طرف تھیں اور میرا سر برتھ کے دوسرے طرف تھا. بھیا نے اب اپنی ٹانگوں کو میرے برابر میں پھیلایا پھر میرے کولہوں کو اٹھا کر اپنی ٹانگوں پر چڑھا لیا اور آہستہ آہستہ کر کے پہلے میری پیںٹ کھینچ کر اتار دی اور اس کے بعد میری پیںٹی کو بھی کھینچ کر اتار دیا اب میں کمبل میں مکمل طور پر نیچے سے نںگی تھی. اب شاید میری باری تھی میں نے بھی بھیا کے پتلون اور انڈر وير کو بہت پیار سے اتار دیا. اب بھیا نے تھوڑا آگے سرک کر میری ٹانگوں کو کھینچ کر اپنی کمر کے ارد گرد کرکے پیچھے کی طرف لپٹوا دیا. اس وقت میں پوری کی پوری ان کی ٹاںگو پر بوجھ بنی ہوئی تھی. میرا سر ان پنجوں پر رکھا ہوا تھا. میں نے ذرا سا کمبل ہٹا کر آس پاس کی سواریوں پر نظر ڈالی تمام نیند میں مست تھے. کسی کا بھی دھیان ہماری طرف نہیں تھا. پھر میری نظر بھیا کی طرف پڑی ان کا چہرہ اوےش کی وجہ لال بھبھوكا ہو رہا تھا وہ میری طرف ہی دیکھ رہے تھے نہ جانے کیوں ان کی نظروں سے مجھے بہت شرم آئی اور میں نے واپس کمبل کے اندر اپنا منہ چھپا لیا. بھیا نے پھر میری بر کو ٹٹولا. میری بر اس وقت مکمل طور پر رس سے بھری ہوئی تھی پھر بھی بھیا نے ڈھیر سارا تھوک اس پر لگایا اور اپنے لنڈ کو میری بر پر رکھا ان گرم سپاڑے نے میرے اندر آگ دهكا دی پھر انہوں ٹٹول کر میری بر کے دہانے کو دیکھا اور اچھی طرح سپاڑا بر کے منہ پر رکھنے کے بعد میری جاںگھیں پکڑ کر ہلکا سا دھکا دیا مگر لںڈ اندر نہیں گیا بلکہ اوپر کی طرف ہو گیا. بھیا نے اسی طرح ایک دو بار اور کوشش کیا وہ ارد گرد کی سواریوں کی وجہ سے بہت احتیاط سے کام لے رہے تھے. اس طرح جب وہ لںڈ نہ ڈال سکے تو كھيج کر اپنے لںڈ کو میری بر کے آس پاس مسلنے لگے. میں نے اب شرم ضائع کر منہ کھولا اور انہیں سوالیہ نگاہوں سے دیکھا. وہ بڑی بے بس نگاہوں سے مجھے دیکھ رہے تھے. میں نے سر اور آنکھوں کے اشارے سے پوچھا "کیا ہوا؟" تب وہ تھوڑے سے نیچے جھک کر آہستہ سے پھسپھسايے، "آس پاس سواریاں موجود ہیں گڈو اس لئے میں آرام سے کام کرنا چاہتا تھا مگر اس طرح ہوگا ہی نہیں، تھوڑی طاقت لگانی پڑے گی." "تو لگاؤ نہ طاقت بھیا" میں اکھڑے لہجے میں بولی. "طاقت تو میں لگا دوں گا لیکن تمہیں تکلیفیں ہوگا کیا برداشت لوگي؟" "آپ فکر نہ کریں کتنا ہی تکلیف کیوں نہ ہو میں نے ایک اف تک نہ کروں گی. آپ لںڈ ڈالنے میں چاہے پوری طاقت ہی کیوں نہ جھونک دیں." "تب ٹھیک ہے میں ابھی اندر کرتا ہوں" بھیا کو اطمینان ہو گیا. اور اس بار انہوں دوسری ہی ترکیب سے کام لیا. انہوں اسی طرح بیٹھے ہوئے مجھے اپنی ٹانگوں پر اٹھا کر بٹھایا اور دونوں کو اچھی طرح کمبل سے لپیٹنے کے بعد مجھے اپنے پےت سے چپکا کر تھوڑا سا اوپر کیا اور اس بار بالکل چھت کی سمت میں لںڈ کو رکھ کر اور میری بر کو ٹٹولكر اسے اپنے سپاڑے پر ٹکا دیا. میں ان کے لںڈ پر بیٹھ گئی. اب مینے اپنا بوجھ نیچے نہیں گرایا تھا. میں نے سہولت کے لئے بھیا کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھ لیے. بھیا نے میرے کولہوں کو کس کر پکڑا اور مجھ بولے، "اب ایک دم سے نیچے بیٹھ جاؤ" میں مسکرائی اور ایک تیز جھٹکا اپنے بدن کو دے کر ان کے لںڈ پر چپک سے بیٹھ گئی. ادھر بھیا نے بھی میرے بدن کو نیچے کی طرف زور دیا. اچانک مجھے لگا جیسے کوئی تیز دھار كھجر میری بر میں گھس گیا ہو. میں تکلیف سے بلبلا گئی. کیونکہ میری اور بھیا کی مشترکہ طاقت کی وجہ ان کا بہت بڑا لںڈ میری بر کے بڈ دروازے کو توڑتا ہوا اندر سما گیا اور میں سركتي ہیی بھیا کی گود میں جاکر رکیں. میں نے تڑپ کر اٹھنا چاہا لیکن بھیا کی گرفت سے میں آزاد نہ ہو سکی. اگر ٹرین میں بیٹھی سواریوں کی دیکھ نہ ہوتا تو میں بری طرح چیخ پڑتی. میں مچلتے ہوئے واپس بھیا کے پیروں پر پڑی تو بر میں لںڈ تننے کی وجہ مجھے اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑا. میں ان کے پیروں پر پڑی پڑی بن پانی مچھلی کی طرح تڑپنے لگی. بھیا مجھے ہاتھوں سے دلاسہ دیتے ہوئے میری چوچیوں کو سہلا رہے تھے. قریب 10 منٹ بعد میرا درد کچھ ہلکا ہوا تو بھیا کولہوں کو ہلکے ہلکے ہلا کر اندر باہر کرنے لگے. پھر درد کم ہوتے ہوتے بالکل ہی ختم ہو گیا اور میں لامحدود خوشی کے سمندر میں غوطے لگانے لگی. بھیا آہستہ سے لںڈ کھیںچ کر اندر ڈال دیتے تھے. ان لںڈ کے اندر باہر کرنے سے میری بر سے چپک چپک کی عجیب عجیب سی آوازیں پیدا ہو رہی تھیں. مینے اپنی كوهنيو کو برتھ پر ٹیک کر بدن کو اوپر اٹھا رکھا تھا اور خود تھوڑا سا آگے سرک کر اپنی بر کو واپس ان کے لںڈ پر دھکیل دیتی تھی. اس طرح سے آدھے گھنٹے تک آہستہ آہستہ سے چودا چادي کا کھیل چلتا رہا اور آخر میں میں نے جو سکھ پایا اسے میں بیان نہیں کر سکتی. بھیا نے ٹوول نکال کر پہلے میری بر کو پوچھا جو خون اور ہم دونو کے رج اور بیج سے سنی ہوئی تھی اس کے بعد میں نے ان کے لںڈ کو پوچھا اور پھر باری باری باتھ روم میں جا کر فریش ہیے اور کپڑے پہنے. میرے پورے بدن میں میٹھا میٹھا درد ہو رہا تھا. يهين سے ہم دونو بھائی بہن نہ ہوکر پریمی گرل فرینڈ بن گئے. اب جب بھی بھیا گھر آتے مجھے بغیر چودے نہیں مانتے ہیں مجھے بھی ان کا انتظار رہتا ہے. مگر ابھی تک کسی اور کو مینے اپنا بدن نہیں سونپا ہے اور نہ کوئی ارادہ ہے

Posted on: 07:09:AM 14-Dec-2020


3 0 223 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 1 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com